Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • الٹے بھی لٹک جائیں تو این آر او نہیں،وزیراعظم کا لانگ مارچ کی مدد کا اعلان

    الٹے بھی لٹک جائیں تو این آر او نہیں،وزیراعظم کا لانگ مارچ کی مدد کا اعلان

    الٹے بھی لٹک جائیں تو این آر او نہیں،وزیراعظم کا لانگ مارچ کی مدد کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن سے ہر قسم کی بات چیت کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن کبھی ڈاکوں اورچوروں کو این آر او کسی صورت نہپں دوں گا

    پی‌ڈی ایم کی جانب سے لانگ مارچ کی تاریخ کے اعلان پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آپ نے لانگ مارچ کرنا ہے آپ کریں آپ کی مدد کروں گا لیکن آپ الٹے بھی لٹک جائیں تو بھی آپ کو این آر او نہیں دوں گا

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا نے کشمیریوں کے لوگوں سے ایک وعدہ کیا تھا، کشمیریوں سے جووعدہ کیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا،اقوام متحدہ نے اپنا حق ادانہیں کیا،کشمیر کے لوگ پاکستان کے حق میں فیصلہ کریں گے،پاکستان کشمیریوں کو حق دیگا کہ آپ آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں،ساراپاکستان آج مقبوضہ کشمیر کے عوام کےساتھ کھڑا ہے،دنیا کے تمام مسلمان ممالک مقبوضہ کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ سب سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے لوگوں کو وہ حق دینا چاہیے جو اقوام متحدہ نے وعدہ کیا تھا،مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ظلم ہورہے ہیں،مسلم دنیا مقبوضہ کشمیر کے ساتھ کھڑی ہے ،مجھ میں جتنی بھی ہمت ہوئی، ہر فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ سے تین بار بات کی کہ کشمیر کا مسئلہ حل کریں،سفیر بن کر کشمیریوں کی آواز پوری دنیا میں بلند کروں گا،حکومت میں آتے ہی کوشش کہ بھارت کو سمجھائیں کہ کشمیر کا مسئلہ ظلم سے حل نہیں ہوگا،بھارت 9 لاکھ فوج لے آئے لیکن کشمیری غلامی قبول نہیں کریں گے،جدوجہد آزادی کیلئے ایک لاکھ سے زائد کشمیری قربانی دے چکے ہیں

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نریندر مودی سے کہتا ہوں طاقت کسی مسئلے کا حل نہیں ہے،پاکستان پلوامہ کے پیچھے نہیں تھا،ڈس انفولیب کے ذریعے پتہ چلا کہ بھارت نے 600جعلی اکاوَنٹ بنائے ہوئے تھے، آر ایس ایس نے ہمیشہ اپنے ہی ملک کا نقصان کرایا ،بھارت میں آج کسان احتجاج کررہے ہیں ،آج پھر سے مودی سے کہتا ہوں کہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے،بھارت سے کہتا ہوں آپ نہیں جیت سکتے، بھارت میں اقلیتیں اورکسان ڈرے ہوئے ہیں ،بھارت میں مسلمانوں کے حالات سب کے سامنے ہیں،مسئلہ کشمیر پر بھارتی وزیراعظم سے پھر سےبات کرنے کو تیار ہیں،مودی 5 اگست کا اقدام واپس لے کرہم سے مذاکرات کرو،مودی،کشمیرکا مسئلہ ہمارے ساتھ مل کرحل کرو،

  • مودی، ٹرمپ، نیازی نے ملکر  معصوم کشمیریوں کا سودا کیا ،مولانا فضل الرحمان

    مودی، ٹرمپ، نیازی نے ملکر معصوم کشمیریوں کا سودا کیا ،مولانا فضل الرحمان

    مودی، ٹرمپ، نیازی نے ملکر معصوم کشمیریوں کا سودا کیا ،مولانا فضل الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مودی، ٹرمپ، نیازی نے ملکر معصوم کشمیریوں کا سودا کیا ہے.کشمیر ہمارا شہ رگ ہے.دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کشمیریوں سے الگ نہیں کر سکتا،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان میں عوام کی نمایندہ حکومت تھی کسی مودی کویہ جرات نہیں ہوئی ،الیکشن سے پہلےعمران خان نے کہا تھا کہ مودی کامیاب ہو تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا،یہ واحد آدمی تھا جس نے اقتدار میں آنےسےپہلے کشمیر کو 3 حصوں میں تقسیم کرنیکا فارمولا پیش کیا تھا

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ26 مارچ کو پورے ملک سے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہونگے۔ آج پاکستان میں کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا جارہا ہے اور پی ڈی ایم کی قیادت براہ راست یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے لیے مظفر آباد میں موجود ہے۔ ہر کشمیری پاکستان کے ساتھ ہے، اس کا دل اور جذبات پاکستان سے وابستہ ہیں اورجو لوگ کشمیریوں کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں آنے والی تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا اور آج بھی اس پر قائم ہیں لیکن جب تک پاکستان میں عوام کی نمائندہ حکومت تھی تو کسی مودی کو یہ جرات نہیں ہوسکی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اس کو بھارت کا صوبہ بنا سکے۔ آج عمران خان اور اس کی لابی کشمیر کی تقسیم کا سوچ رہی ہے، اسی سوچ کی بنیاد پر آج مودی نے موقع پا کر کہ پاکستان کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آئے گا تو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کہ ناجائز اور نااہل حکومت کو کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ،

  • بھارت پھرشرارت کرگیا:کوئٹہ میں دھماکہ کروا کرکشمیریوں سے اظہاریکجہتی کوروکنے کی ناکام کوشش

    بھارت پھرشرارت کرگیا:کوئٹہ میں دھماکہ کروا کرکشمیریوں سے اظہاریکجہتی کوروکنے کی ناکام کوشش

    کوئٹہ:بھارت پھرشرارت کرگیا:کوئٹہ میں دھماکہ کروا کرکشمیریوں سے اظہاریکجہتی کوروکنے کی ناکام کوشش ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ دھماکے سے لرز اٹھا۔

    تفصیلات کے مطابق مبینہ طور پر دہشت گردوں کی جانب سے بلوچستان کو آج ہی کے دن دوسری مرتبہ دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے انسکب روڈ پر زور دار دھماکہ ہوا ہے۔ ددھماکے کے نتیجے میں کئی افراد نشانہ بنے ہیں جبکہ متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر نکالی جانے والی کشمیر ریلی میں دھماکہ ہو گیا جس سے دو افراد جاں بحق جبکہ شدید زخمی ہو گئے۔

    ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی عوام سے یکجہتی کے لیے سریاب روڈ سے ریلی نکالی گئی ،جیسے ہی یہ ریلی کمشنر آفس کے قریب پہنچی تو ساونڈ والے ٹرک میں دھماکہ ہو گیا جس سے دو افراد جاں بحق جبکہ تین زخمی ہو گئے

    دہشت گردوں کی جانب سے سبی کے علاقے میر چاکر روڈ پر موٹرسائیکل میں نصب بم کو ریموٹ کنٹرول سے تباہ کیا گیا۔

    دھماکے کے نتیجے میں آس پاس موجود لوگ نشانہ بنے۔ آخری اطلاعات تک دھماکے کے نتیجے میں 16 افراد شدید زخمی ہوئے۔ واضح رہے کہ آج پورے ملک میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔

    ایسے موقع پر دہشت گردوں کی جانب سے ایک مرتبہ پھر ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    دوسری طرف وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پھربھارت کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے بات چیت کی پیشکش کی ہے

  • کشمیر کے لئے بھارت سے بات کرنے کو تیار ہوں ،وزیراعظم

    کشمیر کے لئے بھارت سے بات کرنے کو تیار ہوں ،وزیراعظم

    سفیر بن کر کشمیریوں کی آواز بلند کروں گا،بھارت سے بات کرنے کو تیار ہوں ،وزیراعظم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کوٹلی میں یکجہتی کشمیر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاندار استقبال پر شکریہ اداکرتاہوں،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا نے کشمیریوں کے لوگوں سے ایک وعدہ کیا تھا، کشمیریوں سے جووعدہ کیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا،اقوام متحدہ نے اپنا حق ادانہیں کیا،کشمیر کے لوگ پاکستان کے حق میں فیصلہ کریں گے،پاکستان کشمیریوں کو حق دیگا کہ آپ آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں،ساراپاکستان آج مقبوضہ کشمیر کے عوام کےساتھ کھڑا ہے،دنیا کے تمام مسلمان ممالک مقبوضہ کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ سب سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے لوگوں کو وہ حق دینا چاہیے جو اقوام متحدہ نے وعدہ کیا تھا،مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ظلم ہورہے ہیں،مسلم دنیا مقبوضہ کشمیر کے ساتھ کھڑی ہے ،مجھ میں جتنی بھی ہمت ہوئی، ہر فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ سے تین بار بات کی کہ کشمیر کا مسئلہ حل کریں،سفیر بن کر کشمیریوں کی آواز پوری دنیا میں بلند کروں گا،حکومت میں آتے ہی کوشش کہ بھارت کو سمجھائیں کہ کشمیر کا مسئلہ ظلم سے حل نہیں ہوگا،بھارت 9 لاکھ فوج لے آئے لیکن کشمیری غلامی قبول نہیں کریں گے،جدوجہد آزادی کیلئے ایک لاکھ سے زائد کشمیری قربانی دے چکے ہیں

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نریندر مودی سے کہتا ہوں طاقت کسی مسئلے کا حل نہیں ہے،پاکستان پلوامہ کے پیچھے نہیں تھا،ڈس انفولیب کے ذریعے پتہ چلا کہ بھارت نے 600جعلی اکاوَنٹ بنائے ہوئے تھے، آر ایس ایس نے ہمیشہ اپنے ہی ملک کا نقصان کرایا ،بھارت میں آج کسان احتجاج کررہے ہیں ،آج پھر سے مودی سے کہتا ہوں کہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے،بھارت سے کہتا ہوں آپ نہیں جیت سکتے، بھارت میں اقلیتیں اورکسان ڈرے ہوئے ہیں ،بھارت میں مسلمانوں کے حالات سب کے سامنے ہیں،مسئلہ کشمیر پر بھارتی وزیراعظم سے پھر سےبات کرنے کو تیار ہیں،مودی 5 اگست کا اقدام واپس لے کرہم سے مذاکرات کرو،مودی،کشمیرکا مسئلہ ہمارے ساتھ مل کرحل کرو،

  • خان صاحب، اجازت ہو تو گھبرا لیں،پانی سر سے گزرنے والا ہے، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    خان صاحب، اجازت ہو تو گھبرا لیں،پانی سر سے گزرنے والا ہے، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    خان صاحب، اجازت ہو تو گھبرا لیں،پانی سر سے گزرنے والا ہے، مبشر لقمان پھٹ پڑے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت ہر شخص ایک دوسرے یہ سوال کر رہا ہے کہ کیا پی ڈی ایم کی کشتی ڈوب چکی ہے؟کیا اپوزیشن بکھر چکی ہے۔؟کیا عمران خان اس بحران سے زیادہ طاقتور ہو کر نکلیں گے۔؟کیا عمران خان اور حکومت پی ڈی ایم کو شکست دے چکے ہیں۔۔؟اگر میں کہوں نہیں تو بہت سے لوگ کہیں گے کہ یہ کیا بات کر رہا ہے۔۔؟پیپلز پارٹی نے استعفے دینے سے انکار کر دیا ہے، لانگ مارچ کی دور دور تک کوئی خیر خبر نہیں، اکتیس جنوری گزرے کئی دن ہو چکے ہیں اور پی ڈی ایم استعفے، لانگ مارچ اور دھرنے کی بات کرنے کی بجائے سینٹ الیکشن کی تیاری کر رہی ہے۔پی ڈی ایم نے تو طاقت ور حلقوں کو بے نقاب کرنا تھا ان کا سیاست سے کردار ختم کرنا تھا۔ اب مولانا کہتے ہیں ہماری فوج سے کوئی لڑائی نہیں، مریم خاموش ہیں، نواز شریف نے کرداروں کے نام لینے کی بجائے گونگلوں سے مٹی جھاڑنا شروع کر دی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تو ابھی بھی پی ڈی ایم ناکام نہیں ہوئی تو اور کیا ہوا ہے۔اس بات کو سمجھنے کے لیئے ضروری ہے کہ ہم اس بات کا مشاہدہ کریں کہپی ڈی ایم کی تحریک سے پہلے عمران خان کہاں کھڑے تھے، آج کہاں کھڑے ہیں اور کل کہاں کھڑے ہوں گے؟میری نظر میں پی ڈی ایم اپنا کام کر چکی ہے۔ آج تک کسی بھی تحریک سے نہ حکومت گری ہیں اور گرتی ہیں بلکے اس کا مقصد حکومت کو کمزور کرنا، اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور اس کے عزم کو متزلز کرنا ہے۔؟کل تک لوگ پوچھتے تھے کہ کہاں ہے اپوزیشن، عمران خان کی حکومت کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں، اپوزیشن زمیں بوس ہو چکی ہے اس کے لیڈران مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں شریفوں کی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے اب ن لیگ کئی حصوں میں تقسیم ہو جائے گی، پیپلز پارٹی کا سندھ سے خاتمہ کر کے سندھ حکومت چھین لی جائے گی۔نیب احتساب کرے گی، ملک کی لوٹی دولت واپس لائی جائے گی، ملک خوشحال ہو گام پاکستان کے پاسپورٹ کی دنیا پھر میں عزت ہو گی، امریکی صدر ہمارے احترام میں سجدہ ریز ہو جائے گا۔اور عمران خان نہ صرف یہ پانچ سال بلکہ اگلے پانچ سال بھی پورے کریں گے۔لیکن آج عمران خان کہاں کھڑے ہیں۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سینٹ الیکشن میں اس وقت حکمران جماعت کو یہ شک ہے کہ ان کے لوگ شائد ووٹ نہ ڈالیں اور کئی سیٹیں اپوزیشن لے اڑے۔ ترجمانوں کی فوج ظفر موج ہونے کے باوجود عمران خان کو ہر روز اپنے دفاع کے لیئے آنا پڑتا ہے۔ مارچ میں سیںٹ الیکشن کے بعد حکومت کا گھر بھیجنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، سندھ میں تحریک انصاف اپنی ہی جیتی سیٹ ضمنی الیکشن میں ہار چکی ہے۔ ہر طرف مہنگائی کا رونا ہے، لوگ شک میں پڑ چکے ہیں کہ کیا عمران خان میں قوم کو اس بحران سے نکالنے کی قابلیت ہے۔؟یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ طاقتور حلقے عمران خان کو اس طرح آنکھیں بند کر کے سپورٹ نہیں کر رہے جیسے پہلے کر رہے تھے، ورنہ سندھ کی سیٹ تحریک انصاف نہ ہارتی۔اس وقت اپوزیشن یہ کوشش کر رہی ہے کہ عمران خان پر گند اچالنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے مگر انہیں سیاسی شہید نہ بننے دیا جائے ورنہ یہ اپوزیشن کے لیئے ڈراونا خواب بن جائیں گے۔؟شریفوں کے بغیر ن لیگ کے وجود کا مفروضہ دم توڑ چکا ہے۔پیپلز پارٹی سندھ تو کیا پنجاب اور وفاق میں بھی حصہ مانگنے جا رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے وفاق میں اتحادی اب سودے بازی کر رہے ہیں اور صرف بہانے کئ انتظار میں ہیں۔بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ تحیک انصاف کا کوئی بندہ اس قابل نہیں کہ جہانگیر ترین کی جگہ لے لے، جو ہیں ان پر خان صاحب اعتبار نہیں کر رہے۔ چوہدری پرویز الہی کو پنجاب میں سینٹ الیکشن کے معاملات دیکھنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ابھی جوتیوں میں دال بٹے کی تو ہر طرف سے شور مچے گا۔ عمران خان کے مشیر اس حد تک تیزی دیکھا رہے ہیں کہ اجھے بھلے لیڈر جو کسی بھی مشکل سوال سے کبھی نہیں گھبرایا اسے پبلک کال میں پہلا کالر ہی ایسا دیتے ہیں جو کاغذ سے دیکھ کر سوال پڑھ رہا تھا، ہم نے ساری زندگی پراگراموں مین لائیو کال لی ہیں ہمیں پتہ ہے کہ کون سا کالر اصلی اور کون سا تیار کیا گیا ہے۔مہنگائی پر خان صاحب ٹویٹ کر کے خوشخبری دیتے ہیں کہ ہماری مہنگائی کم کرنے کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں، ہمارے حکومت بننے سے پہلے Consumer price index اورCore inflation کے جو اعداد و شمار تھے آج یہ اس سے کم ہو چکے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کو عمران خان اور مجھ سے زیادہ کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ دو ہزار چودہ کے عمران خان کے ناکام دھرنا ہی اس کی کامیابی کی اہم وجہ تھا جس نے انہیں وزیر اعظم بنایا۔ آج اپوزیشن وہی کھیل کھیل رہی ہے، وہ اگلے پانچ سال تو دور کی بات ان پانچ سالوں کو بھی عمران خان کے لیئے ڈراونا خواب بنانا چاہتی ہے، ہر موڑ پر رکاوٹ ہر موڑ پر مشکل۔خان صاحب نے تو مہنگائی کنٹرول کرنے کی خوشخبری سنا دی۔ لیکن کچھ حقیت میں بھی بتا دیتا ہوں، عوام تو کیا مجھ جیسے بندے کو بھی یہ اکنامک ٹرمز سمجھ نہیں آتی۔ خان صاحب جب آپ آئے تھے اس وقت
    Cooking oil کا پیکٹ ایک سو اسی روپے کا تھا آج دو سو اسی روپے کا ہے۔آپ کو بتایا گیا ہے کہ ڈالر کی وجہ سے قیمتیں بڑھتی ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے ڈالر ایک سو اڑسٹھ سے ایک سو ساٹھ پر آ چکا ہے، کار مافیا چھ دفعہ قیمتیں بڑھا چکا ہے، کوئی ہے انہیں پوچھنے والا، چلیں یہ تو امیروں کا شوق ہے، غریبوں کی بات کر لیتے ہیںہر غریب کا خواب اپنا گھر ہوتا ہے۔؟جو گھر تیس کا بن رہا تھا آج پچاس لاکھ کا بن رہا ہے۔ آپ کو میں Lesco کی ویب سائٹ پر دو سو یونٹ کے بل کی Calculationبتاتا ہوں جو 1771 روپے بن رہی ہے یہ وہ ہے جو آپ کو بتائی جاتی ہے لیکن جو بل آ رہا ہے زرا وہ بھی دیکھ لیں دو سو یونٹ کا بل ایک سو اڑسٹھ یونٹ Off peak time اوربتیس ہونٹ Peak time کل دو سو یونٹ کا بل4540روپے اب کون سا ایسا غریب ہے جو دو سو یونٹ سے بھی کم بجلی استعمال کرتا ہو گا۔پٹرول کی بات کی جائے تو آج 57 $ per barrel پرپٹرول اس قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے جو 88 $ پر کئی سال پہلے پاکستان میں ہو رہا تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے۔۔؟قرضوں کی واپسی میں ۔۔ تو قرضوں میں کمی آئی یا اضافہ ہوا۔۔؟؟کیا تعلیم میں کوئی تبدیلی آئی؟کیا لا اینڈ آرڈر میں کوئی بہتری آئیکیا صحت کے شعبے میں کوئی تبدیلی آئی کیا سرکلر ڈیبٹ میں کوئی کمی آئی کیا بے روزگاری میں کوئی کمی آئی کیا کرپشن میں کوئی کمی آئی کیا پاکستان کے سفید ہاتھی سمجھے جانے والے کسی ایک بھی ادارے کو بہتر کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔؟کیا لوگ آج اتنے ہی خوشحال ہیں جتنے تین سال پہلے تھے۔؟اگر نہیں آئی تو پھر کہیں نہ کہیں خرابی ضرور ہے اور میں اس قوم کو جانتا ہوں یہ بہت بے صبری قوم ہے یہ اپنا فیصلہ سنانے میں دیر نہیں لگائے گی۔اگر احساس پروگرام چل رہا ہے تو بتائیں اس قوم کے کتنے لوگ لائن میں لگ کر روٹی کھائیں گے یا وظیفہ لینے کے لیئے لائن میں لگیں گے۔؟ہم دیکھتے آ رہے ہیں کہ جب حکمران ایوان اقتدار میں بیٹھتے ہیں تو وظیفہ خور مشیر اپنی نوکریاں پکی کرنے کے لیئے خوشامد میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔لیکن زمین پر صورتحال مختلف ہوتی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لیئے اس وقت اس چیز کی اشد ضرورت ہے کہ تنقید کرنے والوں کو اپنا دشمن سمجھنے کی بجائے ان کی باتوں پر کان دھریں اور لوگوں کی زندگیاں آسان کریں ورنہ آج مجھ سے کوئی پوچھے گا کہ کل عمران خان کہاں کھڑے ہوں گے تو اس کا جواب بہت سادہ ہے۔بنی گالہ میں۔۔ وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔اگر مہنگائی واقعی کم کرنی ہے تو فوری ایک کمیشن بنائیں، صرف حقائق جاننے کے لیئے۔۔کہ دوہزار آٹھارہ سے آج تک کتنی مہنگائی ہوئی ہے جو کئی سو فیصد بنتی ہے۔ اس کی وجہ جاننے کی کوشش کریں۔ اس کا جواب ڈالر نہیں بلکہ مافیا کی من مانیاں اور انتظامیہ کی کھلی چھٹی ہےجس سے پوچھو بھائی یہ چیز کل تو اتنے کی تھی اگے سے جواب آتا ہے عمران خان۔نمک جیسی پتلی چینی کی قیمت کم ہونے اور سیزن میں الو کی قیمت کم ہونے سے ہم یہ
    نہیں کہہ سکتے کہ مہنگائی کم ہو گئی ہے۔اپوزیشن کا ماضی جتنا داغدار ہے آپ کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں اگر خطرہ ہے تو معیشت اور مہنگائی سے جو لوگوں کی زندگی پر ڈائریکٹ اثر انداز ہوتی ہے۔ یہاں کوئی کرپٹ اور ایماندار نہیں دیکھتا بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ ہمیں فائدہ کس نے پہنچایا۔ہماری زندگی میں آسانیاں کس نے پیدا کی، ٹیکس بھی عوام کے لیئے جمع کیا جاتا ہے انہیں سکون اور تحفط کے لیئے سب کچھ کیا جاتا ہے لیکن کیا عوام مظئن ہے۔۔؟ اگر مجھ سے پوچھیں تو نہیں۔۔ عوام چاہتی ہے کہ آپ کامیاب ہو جائیں لوگ آپ کو پاکستان کی آخری امید سمجھتے ہیں، آپ کی ناکامی اس قوم کے ان نوجوانوں کی ناکامی ہے جنہوں نے آپ کی صورت میں روشن مستقبل کا خواب دیکھا تھا۔یہاں پاکستان کی اکشریت کو نہیں پتا تھا کہ دنیا پھر میں کیا ہوتا ہے، آُ نے انہیں بتایا تھا کہ دنیا کیسے چل رہی ہے۔۔۔ لیکن کیا کوئی ایک بھی چیز یہاں تک کہ ماڈل پرجیکٹ ہی لے لیں کچھ شروع ہوا یا مکمل ہوا۔؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے پتا ہے آُپ بہت سے ایسے کام کر رہے ہیں جو ووٹ کے لیئے نہیں قوم کے لیئے ہیں۔ لیکن سب سے پہلے بنیادی ضروریات اور قوم کی زندگی میں آسانی ہے اس کے بعد سب کچھ آئے گا۔۔اللہ ہمیں حق سننے اور حق بولنے کی طاقت عطا فرمائے۔ آمین پاکستان زندہ باد

  • مولانا "گھیرے” میں آ گئے، وہ سلوک کروں گا کہ دنیا یاد رکھے گی، شیخ رشید

    مولانا "گھیرے” میں آ گئے، وہ سلوک کروں گا کہ دنیا یاد رکھے گی، شیخ رشید

    مولانا "گھیرے” میں آ گئے، وہ سلوک کروں گا کہ دنیا یاد رکھے گی، شیخ رشید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کوسلام پیش کرتے ہیں،

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کیساتھ ظلم ہورہا ہے ،ہم کشمیریوں کی آزادی کیلئے ہمہ وقت تیارہیں ،تسلیم کرتاہوں کہ آج مہنگائی ہے مہنگائی اس لیے ہے کہ چوروں نے ملک کو لوٹا ہے ،پہلے کہا تھا یہ استعفے نہیں دیں گےاورسینیٹ الیکشن لڑیں گے،جس اسمبلی پرفضل الرحمان نے لعنت بھیجی آج اسی سے اپنے ممبرز کیلئے ووٹ مانگ رہاہے

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اگرآپ پرامن طریقے سے آئیں گے تو استقبال کریں گے،اگر قانون کو ہاتھ میں لیا توآپ سے وہ سلوک کروں گا کہ دنیا یاد رکھے گی،باچہ خان ،مفتی محمود کیساتھ وقت گزارا ہے ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا حامی ہوں،

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ مولانافضل الرحمان بچوں کے گھیرےمیں آ گئے ہیں،آصف زرداری بہت بڑے گرونکلے،اگر زرداری کےکیسزکراچی جائیں گے توکون ان کیخلاف شہادت دے گا، شہباز شریف کا کیس سنجیدہ ہے لیکن وہ بھی کوششوں میں لگے ہیں یو ٹرن کا طعنہ دینے والوں نے اباؤٹ ٹرن لیا ہے پوری کوشش ہو گی آپ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی نہ کریں ہم اپوزیشن کے لیے رکاوٹ نہیں بننا چاہتے،جو تم کروگے وہ ہم کریں گے، یہ پنڈی کا نعرہ ہے،مریم کو بیرون ملک جانے کی اجازت مل جائے تو پی ڈی ایم ختم ہو جائے گی

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ لال حویلی کا لال چوک سے رشتہ مودی کو پتا ہے، کشمیر کی جدوجہد آزادی میں لال حویلی کا کردار ہے، راولپنڈی کشمیر کی آزادی کیلئے ہمہ وقت تیار ہے، عمران خان کی کوشش ہے کہ ملک کو مشکلات سے نجات دلائی جائے،

  • یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم عمران خان نے جاری کیا کشمیریوں کیلئے خصوصی پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم عمران خان نے جاری کیا کشمیریوں کیلئے خصوصی پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم عمران خان نے جاری کیا کشمیریوں کیلئے خصوصی پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں پر بہیمانہ جبر بند کرے اور انسانی حقوق کے حوالہ سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت دینے کے لئے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ استصواب رائے کے انعقاد کا وعدہ پورا کرے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں کے مطابق ناقابل تنسیخ اور جائز حق خود ارادیت کے حصول تک کشمیریوں سے یکجہتی میں غیر متزلزل رہے گا اور یہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور سلامتی کے لئے ناگزیر ہے

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    یوم یکجہتی کشمیر، پاک فوج نے جاری کیا کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے ملی نغمہ "کشمیر ہوں میں”

    یوم یکجہتی کشمیر پر علی امین گنڈا پور نے کی قوم سے بڑی اپیل، کیا کہا؟

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    کشمیری اکیلے نہیں،ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، غیر متزلزل حمایت جاری رہے گی،آرمی چیف

    مسلح افواج کشمیریوں کے ساتھ ہیں، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا پیغام

    خون کے آخری قطرے تک کشمیریوں کے ساتھ، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    یوم یکجہتی کشمیر، سربراہ پاک فضائیہ نے دیا کشمیریوں کو پیغام

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    یکجہتی کشمیر،جماعت اسلامی کی ہوں گی ملک بھر میں ریلیاں، شیڈول جاری

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر منانے کی تیاریاں ، وزیراعظم عمران خان کہاں کریں گے خطاب؟

  • آرمی چیف کا کشمیریوں کی  جدوجہد کو سلام, یوم یکجہتی پر اہم پیغام

    آرمی چیف کا کشمیریوں کی جدوجہد کو سلام, یوم یکجہتی پر اہم پیغام

    آرمی چیف کا کشمیریوں کی جدوجہد کو سلام
    باغی ٹی وی : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کشمیری عوام بدترین ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی برداشت کر رہے ہیں، ان کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں، وقت آ گیا ہے کہ انسانی المیے کو ختم کیاجائے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ کشمیری عوام قابض بھارتی فوج کے لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں، مسئلہ کشمیرکو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہوناچاہیے ۔

    آئی ایس پی آر کے ٹوئٹر پیغام کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے شہری بھارتی افواج کے بہیمانہ مظالم، انسانی حقوق کی پامالی اور بھارتی فورسز کے لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اس انسانی المیے کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے، جموں و کشمیر کے مسئلے کو عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔

    خیال رہے کہ آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد بھارتی مصائب و مظالم کے خلاف کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔

    آج پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ ایک جان ہو کریوم یکجہتی کشمیر منارہی

  • آج پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ ایک جان ہو کریوم یکجہتی کشمیر  منارہی

    آج پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ ایک جان ہو کریوم یکجہتی کشمیر منارہی

    آج پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ ایک جان ہو کریوم یکجہتی کشمیر منارہی

    باغی ٹی وی : پانچ فروری کشمیریوں سے یکجہتی کا دن ہے۔

    یوم یکجہتی کشمیر منانے کا بنیادی مقصد مقبوضہ وادی کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اورریاستی تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ اس طرح اپنے مظلوم و نہتے کشمیری بہن بھائیوں کو پاکستانی یقین دلاتے ہیں کہ حق خود ارادیت کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

    پانچ فروری کے دن یوم یکجہتی کشمیر کے ذریعے پاکستانی قوم اس عزم کا اعادہ بھی کرتی ہے کہ وہ حق خود ارادیت کے حصول تک ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

    پاکستان کی شہہ رگ کشمیر کی تاریخ میں 21 جنوری 1990 سیاہ دن کے طور پر رقم کیا گیا ہے۔ اس دن جب بھارتی جبر و تشدد اور مظالم کے خلاف مظلوم کشمیری اپنے حق کی خاطر احتجاج کررہے تھے تو بھارتی افواج نے حسب روایت ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 51 معصوم و نہتے کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا۔

    بے گناہوں کے خون ناحق پر بلاشبہ پوری دنیا کے اصحاب دل کانپ اٹھے تھے۔ اس وقت مرحوم امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے مطالبہ کیا کہ ایک ایسا دن منایا جائے جو صرف کشمیریوں کے ساتھ تجدید عہد کے لیے مختص ہو۔

    قاضی حسین احمد نے جس وقت یہ مطالبہ کیا اس وقت مرکز میں بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں تو پنجاب میں میاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب پہ فائز تھے لیکن وفاق سمیت تمام صوبوں نے یک زبان ہو کر اس مطالبے کی حمایت کی اور پھر پہلی مرتبہ پانچ فروری 1990 کو یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور ہر سال اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔

    اس دن کی مناسبت سے جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ سرکاری و نجی سطح پرتقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اور پورے ملک میں عام تعطیل ہوتی ہے۔

    مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں لیکن آج تک ان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے جب کہ پاکستان تسلسل کے ساتھ تمام عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتا آیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے 2019 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کشمیر دو ٹوک مؤقف اختیار کیا تھا۔

    بھارت نے پانچ اگست 2019 کو کشمیریوں پرمظالم کی انتہا کرتے ہوئے کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کردی۔ مودی سرکار نے لاکھوں غیرکشمیریوں کو وادی میں بسانے کے ناپاک منصوبے پرعمل بھی شروع کردیا جس کےخلاف پوری دنیا میں حق و انصاف کے علمبرداروں کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
    پاکستانی قوم 31 برسوں سے یوم کشمیر منا رہی ہے جس کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا اور یہ باور کرانا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ شہرِ قائد میں عوام کی بڑی تعداد نے اس موقع پر کشمیری بھائیوں کو یاد رکھا اور اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ کسی نے اپنی نیک تمناوُں کا اظہار کیا تو کسی نے بھارتی مظالم کو بزدلی قرار دیا، شہرقائد کے باسی کہتے ہیں بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا، اسے آج یا کل کشمیر سے خوار ہو کرنکلنا پڑے گا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب جنت سا کشمیر پاکستان بن کر سرخرو ہو گا۔

    لاہور عجائب گھر میں کشمیری ہنرمندوں کے بنائے ہوئے فن پاروں کی نمائش کا انعقاد کیا گیا جس کا افتتاح وزیر ثقافت پنجاب خیال احمد کاسترو نے کیا۔کشمیری ہنرمندوں کے بنائے مختلف نمونوں کی نمائش نے اپنا رنگ جمایا۔ حسن لکیریں کھینچ رہا تھا سادہ سے کاغذ پر، آزادی کا لفظ لکھا، کشمیر کی شکل بنا دی۔

    نمائش میں کشمیری شال، قرآن پاک کے خوب صورت قلمی نسخے اورظروف رکھے گئے ہیں جو کشمیری ہنرمندوں کی مہارت کا کھلا ثبوت دکھائی دیتے ہیں۔ مقصد وہی ،اِس عزم کا اظہار کرنا کہ حالات چاہے کیسے ہی کیوں نہ ہوں، اہل پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے شانہ بشانہ رہیں گے۔ یہ شاندار نمائش 15فروری تک دیکھنے والوں کے ذوق کی تسکین کا باعث بنی رہے گی۔

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جناح انٹرنیشنل، علامہ اقبال، باچا خان سمیت تمام ایئرپورٹس پر کشمیر ڈے کے موقع پربینرز آویزاں، کشمیر اور پاکستان کے جھنڈے بھی لہرا دیئے گئے۔ پشاور کے باچاخان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر سری نگر کے نام سے منسوب گھڑی آویزاں کی گئی۔ ایئرپورٹس پر کشمیر سے متعلق دستاویزی فلم بھی چلائی جارہی ہے

  • *کراچی باغی ٹی وی ٹیم اور بنی پاکیزہ فاؤنڈیشن کے باہمی اشتراک سے کل 5 فروری کشمیر ڈے ریلی انعقاد*

    *کراچی باغی ٹی وی ٹیم اور بنی پاکیزہ فاؤنڈیشن کے باہمی اشتراک سے کل 5 فروری کشمیر ڈے ریلی انعقاد*

    بنی پاکیزہ مینجمنٹ ٹیم کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کل مورخہ 5 فروری 2021 نماز جمعہ کے بعد بنی پاکیزہ فائڈیشن کے رضاکار اور باغی ٹیم کراچی کے باہمی اشتراک سے اظہار یوم تکجہتی کشمیر ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔ تفصیل کے مطابق کل بعد نماز جمعہ ریلی کے شراکا کراچی باغی ٹی وی آفس سائٹ ایریا سے دو بجے روانہ ہونگے اور مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے کراچی ساحل سمندر پر اختیام ہوگی مزید اسکول،کالج، یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ بھی بڑی تعداد میں شرکت کرے گے ریلی کی قیادت چئیرمین بنی پاکیزہ، ریزیڈنٹ ایڈیٹر باغی ٹی وی ملک ضمیر الرکن اور بیورو چیف کراچی باغی ٹی وی فیضان رضا کرے گے۔ اور کل دن کی نسبت سے انڈیا کو باور کروائے گے کہ کشمیر بنے گا پاکستان انشاءاللہریلی کی نمایاں خصوصیات میں ساحل سمندر کی صفائی مہم اور شجرکاری مہم بھی ہوگی معزز مہانوں میں انچارج بنی پاکیزہ قائدہ آباد یونٹ شمیم احمد ،شاہراہ فیصل یونٹ اسد احمد خان اور ناظم آباد یونٹ مرزا زبیر بیگ بھی شامل ہونگے۔