Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • حکومت کےخلاف مارچ 26 مارچ سےشروع،سینیٹ میں شوآف ہینڈ نامنظور:پرانی روایات ہی چلیں گی :پی ڈی ایم

    حکومت کےخلاف مارچ 26 مارچ سےشروع،سینیٹ میں شوآف ہینڈ نامنظور:پرانی روایات ہی چلیں گی :پی ڈی ایم

    لائیو:حکومت کےخلاف مارچ 26 مارچ سےشروع،سینیٹ میں شوآف ہینڈ نامنظور،اب چلنےدیں عمران پرانی روایات:پی ڈی ایم کااعلان ،اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم نے حکومت پاکستان کیخلاف 26 مارچ سے لانگ مارچ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    حکومت پاکستان کے خلاف اس حوالے سے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا سربراہ اجلاس ہوا۔

    اس اہم اجلاس میں ن لیگ کی مریم نواز، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، امیر حیدر ہوتی، آفتاب شیرپاؤ، محمود خان اچکزئی اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔

    ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کو منہگائی مارچ کا نام دینے کا فیصلہ کیا جبکہ منہگائی مارچ کی تاریخ سے متعلق مشاورت کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کے رہنماوں نے بلاول بھٹو کو بختاور بھٹو کی شادی کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم اتحاد نے حکومت کیخلاف لانگ مارچ کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ سینیٹ الیکشن اکٹھے لڑنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

     

    ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم نے 26 مارچ سے لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر پیپلز پارٹی پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کو قائل نہ کرسکی۔ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد اور استعفوں پر سینیٹ الیکشن کے بعد دوبارہ غور ہوگا۔

    لانگ مارچ کے مجوزہ شیڈول کے مطابق ملک بھر سے قافلے 20 سے 25 مارچ کو نکلنا شروع ہوں گے، فیض آباد پہنچنے کی تاریخ یکم اپریل مقرر ہوگی، فیض آباد میں تمام قافلے اکٹھے ہوکر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔

    اجلاس سے قبل گفتگو میں مریم نواز نے کہا کہ استعفے یا تحریک عدم اعتماد سے متعلق پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی،حکومت کے ایم این ایز اورایم پی ایزان کا ساتھ چھوڑنے کو تیار ہیں، جس پر حکومت کو شو آف ہینڈ یاد آ گیا۔

    مریم نواز نے اس موقع یہ تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اب عمران خان کو ڈر ہے کہ اس کے اراکین خرید نہ لیئے جائیں اس لیے وہ شوآف ہینڈ کے لیے قانون سازی کررہا ہے جوکہ نامنظورہے پہلے کی انتخابات کی طرف ہی یہ انتخاب ہوگا

  • سعودی عرب اورعرب امارات کپتان کے موڈ کوبرداشت نہ کرسکے:پاکستان کوہاتھوں سے جاتا دیکھ کربڑااعلان کردیا

    سعودی عرب اورعرب امارات کپتان کے موڈ کوبرداشت نہ کرسکے:پاکستان کوہاتھوں سے جاتا دیکھ کربڑااعلان کردیا

    اسلام آباد:سعودی عرب اورعرب امارات کپتان کے موڈ کوبرداشت نہ کرسکے:پاکستان کوہاتھوں سے جاتا دیکھ کربڑااعلان کردیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے لگے۔دونوں عرب ممالک نے پاکستان کے لیے 2 ارب ڈالر کی امداد بر قرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے قرض کی مد میں پاکستان کو دی گئی 2 ارب ڈالرز کی امداد برقرار رکھتے ہوئے رقم ابھی تک واپس نہیں لی ہے جو کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان سرد مہری کا شکار تعلقات میں بہتری کی جانب اہم اقدام ہے۔

    حکومتی عہدایدار کے مطابق سعودی عرب نے ایک ارب ڈالرز کی رقم پاکستان کے پاس رکھی ہوئی ہے جب کہ متحدہ عرب امارات نے ایک ارب ڈالرز کی امدادی رقم آئندہ سال کے لیے بھی پاکستانی بینک میں برقرار رکھنے کی تصدیق کی ہے

    ۔واضح رہے پاکستان نے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر چند ماہ قبل واپس کیے۔سعودی عرب نے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کا قرضہ نرم شرائط پر دیا تھا۔سعودی عرب کو قرضے کی دوسری ادائیگی کے لیے دوست ملک چین نے پاکستان کی مدد کی اور پاکستان کو کمرشل قرضہ دیا۔ بتایا گیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کا سارا قرضہ جلد از جلد ادا کرنے کا فیصلہ کیا ۔اس حکمت عملی کے تحت سعودی عرب کو آخری قسط کی ادائیگی کے لیے بھی کوششوں کا آغاز کر دیا گیا تھا

    دوسری طرف اس سرد مہری کے حوالے سے باغی ٹی وی پہلے ہی حقائق بیان کرچکا ہے کہ پاکستان کی طرف سے برادرعرب ملکوں کو اسرائیل کوتسلیم نہ کرنے کیہ نصیحت پسند نہ آئی اوراسے اپنے معاملات میں‌ مداخلت قراردیا

    اس کے بعد عرب ممالک خصوصا سعودی عرب نے پاکستان کوبلیک میل کرنے کی کوشش کی اورجو3ارب ڈالرزقرض دیا تھا وہ جلد واپس لینے کا اعلان کیا

    سعودی عرب اس مطالبے کے پس منظرمیں سمجھتا تھا کہ پاکستان کے پاس پیسے نہیں ہیں اورپاکستان اس مجبوری کے تحت سعودی عرب کی خواہش کے مطابق فیصلے کرے گا جسے عمران خان نے بڑے ہی دلیرانہ فیصلے سے ناکام بنادیا

    دوسری طرف عمران خان نے سعودی عرب کی اس چال کوبھانپتے ہوئے جلد قرض ادا کرنے کی ٹھان لی اورچین نے ایک ارب ڈالرز قرضہ دے کرسعودی عرب کی دوسری ایک ارب ڈالرکی قسط ادا کرنے میں مدد کی

    اس عمل کے بعد ایرانی وزیرخارجہ بھی پاکستان آئے اورپاکستان اورسعودی عرب کے درمیان خلا پرکرنے کی کوشش کی مگرعمران خان نے اس کو بھی جلد بھانپ لیا اورسعودی عرب کی تیسری آورآخری قسط اداکرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد سعودی عرب کو جلد احساس ہوگیا کہ صورت حال تو ہاتھ سے نکل گئی پھرا س کے بعد سعودی عرب نے کپتان کو اپنا اعتماد ظاہرکرنے کے لیے اپنے ساتھ عرب امارات کو لیا اورجو تازہ پیشکش ہےیہ کرکے اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے کی ایک کوشش کی گئی ہے

  • اسرائیلی وزیراعظم نے اچانک دوعرب ممالک کا دورہ کیوں منسوخ کردیا کہ ہلچل مچ گئی

    اسرائیلی وزیراعظم نے اچانک دوعرب ممالک کا دورہ کیوں منسوخ کردیا کہ ہلچل مچ گئی

    تل ابیب :اسرائیلی وزیراعظم نے اچانک دوعرب ممالک کا دورہ کیوں منسوخ کردیا کہ ہلچل مچ گئی ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے دو عرب ممالک کے دورے اچانک منسوخ کردیے

    اسرائیلی وزارت خارجہ کی طرف سے مختصر سا پیغام جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزیراعظم بن یامن نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے دورے ملتوی کردیے۔

    عرب میڈیا کے مطابق دورےکورونا کی وجہ سےعائد سفری پابندیوں کے باعث ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ہے۔اسرائیلی وزیراعظم آفس کے مطابق یواےای اور بحرین سےسفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد نیتن یاہو کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہونا تھا

  • بڑے فیصلے کریں اورپاکستان کے بڑوں‌ کوٹارگٹ کریں‌ بیرونی امداد ملے گی :نوازشریف کی مریم اورمولانا فضل الرحمن کونصیحت

    بڑے فیصلے کریں اورپاکستان کے بڑوں‌ کوٹارگٹ کریں‌ بیرونی امداد ملے گی :نوازشریف کی مریم اورمولانا فضل الرحمن کونصیحت

    اسلام آباد:بڑے فیصلے کریں بیرونی امداد ملے گی :نوازشریف کی مریم اورمولانا فضل الرحمن کونصیحت،اطلاعات کے مطابق آج پی ڈی ایم کے اجلاس کی اندورنی کہانی کی کچھ ایسی باتیں منظرعام پرآئی ہیں کہ اب کوئی بھی پاکستانی باآسانی یہ اندازہ لگاسکتا ہے کہ نوازشریف کن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں

    ذرائع کے مطابق نوازشریف نے مریم نوازاورمولانا فضل الرحمن کو نصیحت کی کہ وہ بڑے فیصلے کریں اورپاکستان کے بڑوں کوٹارگٹ کریں بیرونی امداد ضرور ملے گی

    نوازشریف نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام کو توبالکل احساس نہیں کہ عمران خان کیا چاہتا ہے اس لیے اب عوام پرتوجہ دینے کی بجائے بڑوں بڑوں کوٹارگٹ کریں گے تو بات بنے گی

    نوازشریف نے اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بڑے اداروں کوہدف تنقید کا نشانہ بنائیں اوربیرونی مدد پائیں اب یہ شرط عائد کی گئی ہے لٰہذا اب بڑے فیصلوں کے ذریعے بڑوں کوٹارگٹ کریں‌

  • کشمیر سمیت خطے کے عوام دیرپا امن کا حق رکھتے ہیں: آرمی چیف

    کشمیر سمیت خطے کے عوام دیرپا امن کا حق رکھتے ہیں: آرمی چیف

    لاہور:کشمیر سمیت خطے کے عوام دیرپا امن کا حق رکھتے ہیں،پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی ار کی طرف سے کہا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج لاہورگیریزن کا دورہ کیا اوروہاں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر سمیت خطے کے عوام دیرپا امن کا حق رکھتے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور گریژن کا دورہ کیا۔ کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل محمد عبد العزیز نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پیشہ ورانہ امور، داخلی اور خارجی صورتحال پر اظہار خیال کیا اور گریژن کے افسران سے خطاب کیا جبکہ خطے میں دیرپا امن سے متعلق پاکستانی وژن پر روشنی ڈالی۔ آرمی چیف نے مشرقی سرحد اور کشمیر کی صورتحال پر بھی بات کی۔

     

    اس موقع پر آرمی چیف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر سمیت خطے کے عوام دیرپا امن کا حق رکھتے ہیں۔ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق کشمیر کے حل کے لیے پر عزم ہیں۔ تنازع کشمیر کا حل کشمیریوں کے امنگوں کے مطابق ضروری ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ہائبرڈ جنگ کے چیلنجز میں مزید چوکنا اور تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

    یاد رہے کہ دو روز قبل پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ہماری امن کی خواہش کوکمزوری نہ سمجھاجائے، مسلح افواج ہر طرح کےخطرات سےنمٹنےکی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پی اے ایف اکیڈمی اصغرخان میں مختلف کورسز کی گریجویشن تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے۔آرمی چیف نے پاس آؤٹ کیڈٹس کومبارکباد دی۔

  • اوورسیزپاکستانیوں کے گھروں ، پلاٹوں ، زمینوں کوقبضہ مافیا سے جلد چھڑاکرمجھے رپورٹ دی جائے ،وزیراعظم آئی جیزکوحکم

    اوورسیزپاکستانیوں کے گھروں ، پلاٹوں ، زمینوں کوقبضہ مافیا سے جلد چھڑاکرمجھے رپورٹ دی جائے ،وزیراعظم آئی جیزکوحکم

    اسلام آباد :اوورسیزپاکستانیوں کے گھروں ، پلاٹوں ، زمینوں کوقبضہ مافیا سے جلد چھڑاکرمجھے رپورٹ دی جائے ،وزیراعظم سخت غصے میں ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آئی جی پنجاب پولیس اور چیف سیکرٹری پنجاب کو حکم دیا ہے کہ اورسیز پاکستانیوں کی زمینوں سے ناجائز قبضے فوری ختم کروائیں،

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ساری زندگی کی جمع پونجی پاکستان لانے والوں کی داد رسی کریں گے، قبضہ مافیا معاشرے کا ناسور بن چکا ہے، پنجاب میں قبضہ مافیا کیخلاف جامع آپریشن کیا جائے۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قبضہ مافیا سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں آئی جی پنجاب پولیس نے غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کیخلاف کاروائی کی رپورٹ پیش کی۔ آئی جی پنجاب نے بریفنگ میں بتایا کہ 906 ریفرنسز اور ایف آئی آر کا اندراج رکا ہوا تھا، جس میں 895 ایف آئی آر فوری درج کرلی گئی ہیں،ایک کیس میں حکم امتناعی ہے باقی درخواستیں واپس لی جاچکی ہیں۔

    اجلاس میں وزیراعظم نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو صوبے بھر میں بلاامتیاز آپریشن کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قبضہ مافیا معاشرے کا ناسور بن چکا ہے،ساری زندگی کی جمع پونجی پاکستان لانے والوں کی داد رسی کی جائے، اورسیز پاکستانیوں کی زمینوں سے ناجائز قبضہ فوری ختم کروائیں۔ قبضہ مافیا کیخلاف انکوائری کی رپورٹ ہر ہفتے پیش کی جائے۔

  • پاکستانیوں کا کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی،SignForKashmir ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    پاکستانیوں کا کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی،SignForKashmir ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے اور اس دن کشمیرمیں بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے-

    باغی ٹی وی : 1846 میں تقسیم ہند کے بعد فیصلہ ہو چکا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو دیئے جائینگے مگر 26 اکتوبر 1947 کو اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمان جموں و کشمیر اور معائدہ تقسیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف الحاق بھارت کا اعلان کیا جسے غیور کشمیریوں نے ناقبول کیا مسلمانان جموں و کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کے خلاف سیخ پا ہو گئے کیونکہ وہ شروع سے ہی نعرہ لگاتے آئے تھے کشمیر بنے گا پاکستان اور قیام پاکستان کیلئے غیور کشمیریوں نے بے شمار قربانیاں بھی دیں جو کہ تاریخ میں سنہری حروف کیساتھ رقم ہیں-

    مسلمانان مقبوضہ جموں و کشمیر کا مہاراجہ کے فیصلے کے خلاف غصہ بڑھتا گیا اور انہوں نے فیصلے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مظاہرے کئے اور اپنی آزادی کیلئے پاکستان کے مسلمانوں کو پکارا اور یوں پاکستان و ہندوستان کے مابین پہلی جنگ قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی لڑی گئی اکتوبر 1947 سے 1 جنوری 1949 تک کی اس جنگ میں بھارت کو پاکستانی قبائلیوں اور فوج کے علاوہ غیور کشمیریوں سے منہ کی کھانی پڑنی اور اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا قیام عمل میں آیا آج جس کا دارالحکومت مظفر آباد ہے جہاں اس کی اپنی آزاد سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہے ان کا اپنا علیحدہ صدر و وزیراعظم ہے-

    عنقریب تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے شروع ہونے والی یہ جنگ پورے بھارت کو اپنی لپٹ میں لے لیتی اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل میں جاکر منت سماجت کی کہ جنگ بندی کروائی جائے کیونکہ نہرو جان چکا تھا کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے قیام کے بعد اب یہ جنگ نہیں رکنے والی اور یہ جنگ پوری مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کروا کے بھارت تک پہنچ جائے گی اسی لئے نہرو سلامتی کونسل پہنچا جس کے باعث سلامتی کونسل میں بیٹھے انسان نما جانوروں سے ساز باز کرکے جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا اور اس کیساتھ نہرو و سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا کہ ریفرنڈم کروایا جائیگا جس میں مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو حق دیا جائے گا کہ وہ انتخاب کر سکیں کہ انہوں نے الحاق ہندوستان کرنا ہے یا پاکستان یا کہ آزاد خود مختار کشمیر-

    اب تک مقبوضہ کشمیر کو عالمی متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے کل 18 قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں جن میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے اور سلامتی کونسل و بھارت کے وعدے کیمطابق ریفرنڈم کروانے کا کہا جا چکا ہے تاکہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کا انتخاب کر سکیں مگر ہر بار بھارت انکاری رہا مگر افسوس کہ سلامتی کونسل و عالمی برادری اب تک کچھ بھی نہیں کر پائیں-

    سلامتی کونسل و بھارت کو اس کا کیا گیا وعدہ یاد کرواتے ہوئے 5 فروری کو پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق رائے شماری دے مگر بھارت و تمام عالم کفر جانتا ہے کہ 1947 سے اب تک سخت بھارتی پہرے و ظلم و جبر میں رہتے ہوئے کشمیری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ اور اسی نعرے پر عمل پیرا ہو کر کشمیری اب تک 1 لاکھ سے زائد شہادتیں ہزاروں ماءوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری ہونے کے باوجود اسی نعرے پر قائم ہیں
    ویسے تو ہر وقت پاکستانی پرچم مقبوضہ وادی کشمیر کے گلی محلوں و گھروں میں لہراتا ہے مگر 5 فروری کو بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور انڈین فوج کی ایک سپیشل ونگ ان پرچموں کو اتارتی ہے مگر کشمیری پھر اس سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہیں
    جہاں 5 فروری کو کشمیری غیور مسلمان بھارت و سلامتی کونسل کی وعدہ خلافی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کرتے ہیں وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ سلامتی کونسل و بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی صدا سنواتے ہیں اور دنیا کو باور کرواتے ہیں کہ کشمیریوں کا نعرہ تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ کے تحت ہم یک دل یک جان ہیں اور جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرنے گا وہاں پاکستانیوں کا خون گرے گا-

    اسی حوالے سے پاکستان ٹوئٹر پینل پر #SignForKashmir ٹوئٹر فہرست میں ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں پاکستانیوں سمیت دنیا بھر سے مسلمان حصہ لیتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں –


    کشمیری ٹوئٹر نامی ٹوئٹر ہینڈلر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ سییکڑوں اور ہزاروں بے گناہ کشمیریوں نے اپنے کشمیری شناخت کے تحفظ کے لئے حتمی قربانی ادا کی ہے۔ آئیے اپنی آواز بلند کریں اور لاکھوں کی تعداد میں شامل ہوکر کشمیریوں کی آزادی اور حقوق کے لئے آواز بُلند کریں-
    https://twitter.com/Arslan_Sadiq/status/1357220129734594561?s=20
    https://twitter.com/faujkashaheen/status/1357294872806440960?s=20
    اویس نامی صارف نے لکھا کہ کشمیریوں کے حق کے لئے آواز بُلند کرو-


    عزیزالرحمن نامی صارف نے حافظ محمد سیعد کے الفاظ لکھے کہ کشمیریوں کو آزادی دی جانی چاہئے ، انہیں فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا چاہئے اور اگر آج بھی بھارت ماننے کو تیار نہیں ہے تو پھر پاکستانی اور کشمیری ایک ہیں قوم میں آزادی کی راہ شہادت ہے-


    https://twitter.com/AhsanAliButtPTI/status/1357283483467599873?s=20


    ایک صارف نے کہا کہ کشمیر ہمارے لئے ہمارے جسم کے ایک حصے کی طرح ہے اور ہم کشمیر کے لئے آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑیں گے-

  • چین کا خفیہ منصوبہ اور برما میں فوجی انقلاب، امریکہ پریشان،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    چین کا خفیہ منصوبہ اور برما میں فوجی انقلاب، امریکہ پریشان،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت خطے کے حالات یہ ہیں کہ میانمار میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور آنگ سان سوچی سمیت کئی سیاسی رہنماوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اور اس اقدام کی وجہ جمہوری حکومت اور فوج میں بڑھتی کشیدگی بتائی جا رہی ہے۔ دراصل معاملہ یہ ہے کہ آنگ سان سوچی کی حکمران جماعت این ایل ڈی نے گزشتہ سال آٹھ نومبر کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ جس کے بعد میانمار کی فوج کی حمایت یافتہ جماعتUnion, solidarity and development party نے دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے فوج کی نگرانی میں نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔ جس کے بعد اب میانمارکی فوج نے گزشتہ سال کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے ملک میں ایک سال کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے اور سابق فوجی جنرل کو صدر کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میانمار وہ ملک ہے جہاں تقریبا پچاس سال تک فوجی حکومت قائم رہی اور اب سے کوئی دس سال پہلے 2011 میں اس ملک نے جمہوریت کی طرف سفر کا آغاز کیا۔ اور اس حوالے سے ایک باضابطہ معاہدہ بھی طے پایا گیا تھا۔ پچھلے پانچ سالوں سے میانمار میں سوچی اور اس کی جماعت National league for democracy (NLD)کی حکومت تھی۔ 2015 میں ہونے والے الیکشنزمیں کو پچھلے 25 سالوں کے انتہائی شفاف اور آزادانہ انتخابات قراردیا گیا تھا۔ لیکن یکم فروری کو جب اس پارٹی نے اقتدار میں اپنی دوسری مدت کا آغاز کرنا تھا تو ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ اس ملک میں مارشل لا کے حوالے سے ایک دلچسپ بات میں آپ کو بتاوں کہ وہاں کے آئین میں ہی دراصل مارشل لا کو تحفظ حاصل ہے۔ کیونکہ وہاں کے آئین کے مطابق پارلیمان اور ملک کی طاقتور ترین وزارتوں کا ایک چوتھائی حصہ فوج کو جاتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جس کی وجہ سے اس وقت ہر ایک کو تشویش ہے کہ اتنا کچھ ملنے کے باوجود فوج نے اس وقت کیوں اقتدار پر قبضہ کیا، اور اب آگے کیا ہونے والا ہے؟خاص طور پر عالمی سیاست کے تناظر میں اس تمام پیش رفت کو بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ جغرافیائی لحاظ سے میانمار ایک بہت اہم ملک ہے۔ اقوام متحدہ نے اس حوالے سے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی کیا ہے۔ امریکا، برطانیہ، انڈیا، آسٹریلیا، کینیڈا سمیت عالمی برادری سخت الفاظ میں اس کی مذمت کر رہی ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اس فوجی بغاوت کو جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی جانب گامزن ملک پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جمہوری نظام کو پلٹنے کی وجہ سے پابندی سے متعلق امریکی قوانین کا نفاذ لازمی ہے اور حکام کی جانب سے اس پر غور کے بعد میانمار کے خلاف جو بھی ضروری ہو گا کارروائی کی جائے گی۔ جہاں کہیں بھی جمہوریت پر حملہ ہو گا امریکا وہاں جمہوریت کے لیے کھڑا ہو گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا موقف تو صاف پتہ چل گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس تمام پیش رفت پر سکیورٹی کونسل میں چین اور روس کیا موقف اختیار کریں گے۔ کیونکہ 2017 میں بھی جب میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی جس کے نتیجے میں سات لاکھ سے بھی زیادہ روہنگیا مسلمان جان بچانے کے لیے بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے اس وقت بھی انہی دو ممالک نے سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں میانمار کا ساتھ دیا تھا۔چین نے ابھی تک حالیہ فوجی بغاوت کی مذمت بھی نہیں کی ہے البتہ اپنے ایک بیان میں دونوں فریقین پر باہمی اختلافات حل کرنے پر ضرور زور دیا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کی طرف سے بھی یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان نے حالات پر نظر رکھی ہوئی ہے اور ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں تمام stake holdersامن قائم کریں اور امن سے معاملات کو حل کریں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں میانمار کے معاملات کو لیکر امریکہ کو اس لئے بھی پریشانی ہے کیونکہ میانمار کی سرحد ایک جانب چین کے ساتھ لگتی ہے اور دوسری جانب امریکہ کے حلیف ملک بھارت کے ساتھ ملتی ہے۔ میانمار میں جو سوچی کی حکومت تھی اس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اس کے امریکہ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔ امریکہ کا وہاں کافی اثرورسوخ بھی تھا۔ جس کی وجہ سے ان کے تعلقات بھارت کے ساتھ بھی کافی بہتر ہو گئے تھے۔ لیکن اب جو تبدیلی آئی ہے اس پر امریکہ اور بھارت کو دراصل ڈر یہ ہے کہ ان فوجی حکمرانوں کے چین کے ساتھ کافی اچھے تعلقات ہیں جبکہ چین نے میانمار میں کافی انویسٹمنٹ بھی کی ہوئی ہے۔گزشتہ سال جب چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی شروع ہوئی تھی وہ ابھی تک برقرار ہے بلکہ حالات دن بہ دن مزید کشیدہ ہی ہو رہے ہیں۔ اور اگر یہ معاملات ایسے ہی چلتے رہتے ہیں تو خطے میں موجود تین ممالک کا کردار آنے والے دنوں میں بہت اہم ہو گا اور وہ ممالک ہیں بنگلہ دیش، بھوٹان اور میانمار۔۔۔ کسی بھی جنگ کی صورت میں یہ ممالک اس جنگ سے براہ راست متاثرہونگے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ بنگلہ دیش نے چین کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان آنے والی درویوں کی وجہ بھی یہ ہی معاہدے ہیں۔ اگر آپ چین کی اسلحہ کی سپلائی کی ساوتھ ایشیاء کی لسٹ اٹھا کر دیکھیں تو چین سب سے زیادہ اسلحہ بنگلہ دیش کو سپلائی کرتا ہے۔چند ہفتے پہلے جو سکم میں جھڑپیں ہوئیں تھیں وہ علاقہ بھوٹان اور نیپال کے بیچ میں واقع ہے۔ وہاں پر چین نے بھارت کو جو مزا چکھایا تھا وہ بھی ہم نے دیکھا تھا۔اور اب جو معاملہ ہے میانمار کا تو اس بارے میں ۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ جب سے چین اور بھارت میں کشیدگی شروع ہوئی ہے بھارتی حکام نے میانمار کے کافی دورے کئے تھے یہاں تک کہ انڈیا کے سیکریٹری خارجہ اور آرمی چیف ایک ساتھ میانمار کے دورے پر گئے ہیں۔ تاکہ وہ میانمار کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کر سکیں۔ کیونکہ میانمار ،بنگلہ دیش اور بھوٹان کے زمینی راستے بھارت کے ان سات صوبوں کیساتھ ملے ہوئے ہیں جہاں اگر سلی گوڑی کے بائیس میل کے علاقہ کو چین اگر بھارت سے کاٹ دیتا ہے اور اس کی چکن نیک پر قبضہ کر لیتا ہے تو ان سات صوبوں میں سے کئی صوبے اپنی آزادی کا اعلان کر دینگے۔یعنی اگر چین چاہے تو اب اس کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے کہ وہ بہت آسانی کے ساتھ بھارت کو توڑ سکتا ہے۔ اور اگر کہیں ان صوبوں نے آزادی کے بعد چین کیساتھ فوجی الحاق یا معاہدہ کر لیا تو پھر تو یہ مودی کی موت ہو گی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت بھارت ہر طرف سے گھر چکا ہے خاص کر میانمار میں اب جو صورتحال ہے وہ مکمل طور پر چین کے حق میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور بھارت سمیت تمام وہ بڑے ممالک جو کہ چین کے خلاف ہیں وہ اس معاملے ہر اکھٹے ہو گئے ہیں۔ تاکہ میانمار میں چین کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ روک کر بھارت کو مضبوط کیا جائے۔ میانمار میں اپنی مرضی کی حکومت بحال کروائی جائے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ چین کوئی عام ملک نہیں ہے وہ کبھی ایسا نہیں ہونے دے گا اس لئے یہ حالات کسی وقت بھی مزید خراب ہو سکتے ہیں، میانمار میں تبدیلی کے بعد بھارت کا نیا نقشہ کیا ہو گا یہ کہنا ابھی ممکن نہیں ہے لیکن اب تباہی اور بربادی بھارت کا مقدر بن چکی ہے۔

  • کسان بپھر گئے ،بھارت پوری دنیا میں جھوٹا ثابت، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    کسان بپھر گئے ،بھارت پوری دنیا میں جھوٹا ثابت، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    کسان بپھر گئے ،بھارت پوری دنیا میں جھوٹا ثابت، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مودی سرکار ہٹ دھرمی سے باز نہ آئی اور زراعت کے بجٹ میں بھی کمی کر دی ۔ جس پر بھارتی پارلیمنٹ خوب ہنگامہ اور شور شرابہ بھی ہوا ۔ مگر آپ کو پتہ ہے مودی ہے تو سب ممکن ہے ۔ مودی کا ایجنڈا اس وقت بالکل واضح ہے وہ کسی صورت کسانوں کے سامنے جھکنے کو راضی نہیں چاہے اسکی قیمت بھارت کی سلامتی ہی کیوں نہ ہو ۔ ان خدشات کا اظہار تو اب بھارت کی سیاسی جماعتیں بھی کرنا شروع ہو چکی ہیں ۔ جس میں کانگریس پیش پیش ہے ۔ ان کو نظر آرہا ہے کہ اگر مودی نہ ٹلا تو بھارت ٹوٹ بھی سکتا ہے ۔ جس کا برملا سونیا گاندھی اظہار کر چکی ہیں ۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ بھارت میں مظاہرہ کرنے والے ہزاروں مظاہرین نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ حکومت نے موجودہ بجٹ میں کسانوں کو بری طرح نظر انداز کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت میں کسانوں کے مظاہرے مزید سخت ہونگے۔ اب بھارت کے احتجاجی کسانوں نے 6 فروری کو ملک گیر پہہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے ۔ ہائی ویز اور سڑکیں بلاک کرکے اب پورے کے پورے بھارت کو بند کیا جائے گا ۔ کسانوں کے مطابق کالے قوانین بنا کر مودی نے ان کی آنے والی نسلوں پر حملہ کیا ہے۔کسان رہنماوں نے کہا ہے کہ قوانین کی واپسی نہیں تو گھروں کو واپسی بھی نہیں ہو گی۔ دلی کے ارد گرد جاری دھرنوں کے علاوہ بھی مختلف شہروں میں کاشتکاروں نے ریلیاں نکالیں جس میں خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ جبکہ حکومت نے ہائی الرٹ کرتے ہوئےفوج بھی طلب کر لی ہے جبکہ دہلی کے اطراف کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی ہے۔ دوسری جانب آزادی اظہارکے فروغ کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی سوشل میڈیا ایپس بھی مودی کی آلہ کار بن گئی ہیں ۔ جیسا کہ ٹویٹر نے دہرا معیار اپناتے ہوئے مودی سرکار پر تنقید کرنے والے درجنوں اکاؤنٹ بھارت میں بند کردیے ہیں ۔ٹویٹر کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے قانونی درخواست کی بنیاد پر اکاؤنٹ بندکئے گئے ہیں۔جن اہم اکاونٹس کو بھارت میں بند کیا گیا ان میں احتجاج کرتے کسانوں کا آفیشل اکاؤنٹ اور معروف دانشور ارون دتی رائے کے میگزینthe carvanکا ٹویٹر ہینڈ ل بھی شامل ہے۔اسکے علاوہ درجنوں صحافیوں کے بھی اکاؤنٹ بند کر دیے گئے ہیں جو مودی سرکار کو بے نقاب کرنے میں مصروف تھے ۔ بھارتی وزارت داخلہ نے ٹویٹر کو 250 اکاؤنٹس اور ٹویٹس بلاک کرنے کا کہا تھا۔ یہ صرف دس برس پہلے کی بات ہے جب عالمی ذرائع ابلاغ Shining India کے گیت گانے میں مصروف تھا ۔ بھارت کو دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت اور جنوبی ایشیاء کی سب سے بڑی فوجی قوت کے طور پر تعارف کرایا جارہا تھا ۔پر آپکو یہاں یاد کروادوں ایک مرد قلندر نے مودی کے حوالے سے پیشن گوئی بھی کی تھی جو کہ موجودہ حالات میں سچ ثابت ہوتی دیکھائی دے رہی ہے ۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کو یاد ہو تو سابق سربراہ آئی ایس آئی سربراہ جنرل حمید گل مرحوم نے نریندر مودی کے بارے میں کہا تھا کہ یہ خود اپنے ہاتھوں سے بھارت کو تباہ کرے گا اور آج بھارت میں حالات اس نہج پر آ گئے ہیں۔ ۔ کیونکہ اس وقت چین ہو یا پاکستان ۔ نیپال ہو یا بنگلہ دیشں ۔ ایران ہو یا افغانستان۔۔ دی اکانومسٹ ہو یا فارن پالیسی میگزین ۔ ۔ برطانیہ کی پارلیمینٹ ہو یا اقوام متحدہ انسانی حقوق رپورٹ ۔۔ یورپی یونین کی ڈس انفولیب رپورٹ ہو یا پھر ارناب گوسوامی کی لیک واٹس ایپ چیٹ ۔ عالمی سطح پر واضح ہو چکا ہے بھارت دہشت گردی کی سرپرستی سے عالمی امن کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ بھارت کی نام نہاد جمہوریت سے اقلیت سے وابستہ ہر شخص واقف ہے وہ اس بات کو پوری طرح سمجھتاہے اورخوب جانتاہے کہ جمہوریت کانعرہ جھوٹ تھا اورحقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کی ڈفلی کی آڑمیں عملی طور پر بھارت میں فسطائیت نافذ کردی گئی ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تعصب ،نفرت اور امتیازی سلوک میں اس قدر شدت آچکی ہے کہ اس کا پورا ڈھانچہ زیر وزبر ہوکر رہ گیا ہے۔ بھارت میں آرایس ایس کے نظریہ نافذ ہوگیا ہے اور ہر ہندو برہمن نازی ازم کے خاکے میں رنگ بھرنے میں سرگرم ہو گیا ہے ۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ سکھ اس وقت بھارت سے پوری طرح بدزن ہوگئے ہیں اور بھارت سے علیحدگی کیلئے آزاد خالصتان کا قیام ان کی زندگی کا مقصد بن گیا ہے ۔ کینیڈا ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں سکونت اختیار کرنے والے سکھ بڑے منظم طریقے سے تحریک کو چلا رہے ہیں ۔ وجہ میں آپکو بتا دیتا ہوں ۔ ۔ سنت جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کی خالصتان تحریک جو پہلے صرف گرنتھی سکھوں کی تحریک سمجھی جاتی تھی اب اُس میں سکھوں کے سارے مِثل اور مونے سکھ بھی شامل ہوگئے ہیں۔ اُن کے دو نعرے مودی راج کے اعصاب پر چھائے ہوئے ہیں۔ان میں سے پہلا نعرہ ہے ۔۔۔ کشمیر بنے گا پاکستان ۔۔۔اور دوسرا نعرہ ہے۔۔۔ پنجاب بنے گا خالصتان ۔۔۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت میں سکھوں کا دل جیتنے کی کوشش کی جاتی لیکن ہندوئوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس کے برعکس سکھوں کو دبانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ ۔ کیونکہ جھوٹ ،فریب ،مکاری ،عیاری اور دھوکہ آخر کب تک چلتا رہے گا۔ بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پرسکھوں نے خالصتان کاجھنڈا لہرا کر بھارت کوپیغام دیاکہ وہ خالصتان کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے۔ ۔ اب یہ بات بھارت میں بسنے والے 25کروڑ سے زیادہ مسلمانوں کے سوچنے کی ہے کہ اگر اس طرح کا مظاہرہ مسلمان کرتے جو بھارت کی بہت بڑی اقلیت ہیں تو دہلی کی سڑکیں ان کے خون سے سرخ کی جاچکی ہوتیں ۔ لیکن کیوں ؟ ۔ کیا اس کی وجہ بھارتی مسلمانوں میں پائی جانے والی آپس کی تقسیم ہے یا مسلمان خود کو سکھوں کی طرح ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے کے قابل نہیں سمجھتے ؟ سوچنے کی بات ہے ۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وی لاگ کا اختتام ایک سچی تاریخی کہانی سنا کر کرتا ہوں ۔ ۔ معروف بھارتی صحافی سردار خشونت سنگھ کے والد سردار سوبھا سنگھ قائداعظم کے ذاتی دوست تھے۔ قائد اعظم ان سے ملاقات کے لیے۔ اگست 1947کے شروع میں ان کے گھر دہلی تشریف لائے۔ دورانِ گفتگو ۔ ۔ قائداعظم نے کہا ۔۔۔ Sardar Bahadur you know that Hindu only as your co-slave. Now, you will know the real Hindu when he became your master, and you become his slave
    ۔ قائداعظم کا یہ بڑا واضح موقف تھا کہ سکھوں نے اپنا راج نہ لے کر بڑی غلطی کی ہے۔ اس پر سردار بہادر سرسوبھا سنگھ نے جواب دیا کہاب ہم نے ہندوؤں پر اعتبار کرکے۔ ان سے اپنی قسمت وابستہ کرلی ہے ۔ جو کہ یقینا ہمارا ایک اچھا فیصلہ ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہندؤ ہمارے ساتھ دھوکہ دہی ۔ وعدہ خلافی یا احسان فراموشی نہیں کریں گے۔ ۔ پھر ایک وقت آیا اس صورتحال پر کپورتھلہ ایم این اے سردار آتما سنگھ نے لکھا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہندو ذہنیت اور تعصب کا نقشہ سکھوں نے 1947ء کے بعد دیکھا۔ وہ ہندو جب غلام تھا تو وہ بڑا تابعدار تھا۔ جو ہمیشہ سکھوں کی برتری اور فوقیت تسلیم کرتا تھا۔ حکومت کی طاقت ملتے ہی یکدم بدل گیا۔ خود کو بھارت کا حاکم اور سکھوں کو اپنی رعایا اور غلام کہنے اور سمجھنے لگ گیا۔

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہندو ذہنیت کے بارے میں قائد اعظم کے سیاسی تجربات اور ذاتی مشاہدات ان کی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ جو سکھوں کو تقسیم ہندکے برسوں بعد یاد آئے اور یوں قائداعظم کا ارشاد اور ہندو ذہنیت کے بارے میں ان کا تبصرہ اور تاثر ایک شہادت بن چکا ہے ۔۔ حقیقی لیڈر شپ کا یہی خاصہ ہوتا ہے کہ وہ برسوں اور صدیوں بعد آنے والے حالات و واقعات کا ادراک کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتی ہے ۔ اللہ پاک سے دعا کے پاکستان کو ایسی ہی حقیقی لیڈر شپ عطا فرمائے ۔

  • ُٰپی ڈی ایم کے جاری اجلاس میں‌ مقبوضہ کشمیر سے ایک بڑی خبرسن کر قائدین غمگین ہوگئے

    ُٰپی ڈی ایم کے جاری اجلاس میں‌ مقبوضہ کشمیر سے ایک بڑی خبرسن کر قائدین غمگین ہوگئے

    سرینگر:ُُٰٰپی ڈی ایم کے جاری اجلاس میں‌ مقبوضہ کشمیر سے ایک بڑی خبرسن کر قائدین غمگین ہوگئے،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں‌جاری اہم اجلاس میں اس وقت ایک غمگین کردینےوالا موڑآیا جب مقبوضہ کشمیر سے آنے والی خبرنے پی ڈی ایم قائدین کی امیدوں پرپانی پھیردیا

    یہ خبرپی ڈی ایم کی قیادت کے حریف عمران خان کے بارے میں ہے جس میں‌کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں شکریہ پاکستان، شکریہ عمران خان کے پوسٹر لگ گئے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ خبرقیادت کوبتائی گئی جس پرنہ صرف پشیمانی کا اظہارکیا گیا بلکہ اسے عمران خان کے حق میں‌ بڑی خبربھی قراردیا گیا

    ریڈیو پاکستان کے مطابق سرینگر میں پوسٹرز لگے ہوئے ہیں، ان پوسٹرز پر عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اٹھانے پر شکریہ پاکستان اور شکریہ عمران خان کے پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ پی ڈی ایم قیادت کسی صورت میں بھی عمران خان کی مقبولیت کوبرداشت کرنے کے لیے تیار نہیں

    ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور شکریہ پاکستان کے پوسٹر جموں کشمیر لبریشن الائنس کی طرف سے لگائے گئے ہیں۔اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ کشمیری عوام بھارتی مظالم سے آزادی کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔