Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان نےسینیٹ کا ٹکٹ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کودے کرباغی ٹی وی کے دعوے کی تصدیق کردی

    عمران خان نےسینیٹ کا ٹکٹ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کودے کرباغی ٹی وی کے دعوے کی تصدیق کردی

    اسلام آباد:مولانا دیکھتے رہ گئے:عمران خان نے سینیٹ کا ٹکٹ اہم مذہبی شخصیت کو دے دیا،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے علما سے اپنی محبت اوروابستگی کا عملی اظہارکردیا

     

     

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے سینیٹ کا ٹکٹ معروف عالم دین مولانا سمیع الحق کے فرزند ارجمند جمعیت علمائے اسلام س کے سربراہ  مولانا حامد الحق کودے کرمولانا فضل الرحمن کی خوشیوں کو غموں میں تبدیل کردیا ہے

     

     

    ادھر اس حوالے سے اس وقت پاکستان میں اس ٹکٹ کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے اورکہا جارہا ہے کہ خیبر پختونخواہ سمیت ملک بھر میں مولانا سمیع الحق بہت زیادہ اثررکھتے ہیں

    دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مولاناحامد الحق نہ صرف پاکستان میں بلکہ افغانستان میں بھی بہت زیادہ اثرورسوخ رکھتے ہیں اورکہا جاہارہا ہے کہ عمران خان نے بہت درست فیصلہ کیا ہے

     

    https://مولانا دیکھتے رہ گئے، تحریک انصاف کا مذہبی جماعت کے سربراہ کو سینیٹ ٹکٹ دینے کا فیصلہ

     

     

    واضح رہے کہ اس اہم ملاقات کی خبربریک کرتے ہوئے باغی ٹی وی نے دعویٰ کیا تھا کہ علی محمد خان اورپرویزخٹک کووزیراعظم عمران خان نے خصوصی طورپربھیجا ہے اورسینیٹ کے ٹکٹ کی پیشکش بھی کی ہے

     

     

    ٹھیک ایک ہفتے کے بعد آج باغی ٹی وی کا وہ دعویٰ سچ ثابت ہوگیا جب پاکستان تحریک انصاف نے مولاناحامد الحق کو کے پی سے سینیٹ کا ٹکٹ جاری کرکے باغی ٹی وی کے دعوے کی تائید کردی ہے

  • بھارتی حکومت نےسکھوں کے لئے اٹاری بارڈر کھولنے سے انکار کردیا

    بھارتی حکومت نےسکھوں کے لئے اٹاری بارڈر کھولنے سے انکار کردیا

    بھارتی حکومت نے مذہبی رسومات ادا کرنے کے لئے پاکستان آنے والے سکھوں کے لئے اٹاری بارڈر کھولنے سے انکار کردیا ہے اور انہیں آخری لمحات میں پاکستان جانے سے روک دیا ہے۔ ساکہ ننکانہ صاحب کی 100 سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت کے مختلف شہروں سے 600 سکھوں کا جتھہ آج واہگہ کے راستے پاکستان آرہا تھا۔ 17 فروری کی شام کو نئی دہلی میں وزارت داخلہ کی طرف سے امرتسر شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی صدر بی بی جاگیر کور بھیگووال کے نام لکھے گئے متضاد دعووں سے بھر پور خط میں دعوی کیا گیا ہے کہ پاکستان جانے والے بھارتی شہریوں کی جان کو خطرہ ہے اور اس بارے میں بھارتی حکومت کے پاس مصدقہ اطلاعات موجود ہیں جس کے پیش نظر حکومت 600 بھارتی شہریوں کی جان داو پر نہیں لگا سکتی۔ خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے پاک بھارت سرحد بند ہے جو اس وقت کھولنا مناسب نہیں اس لئے بھارتی حکومت سکھوں کے جتھے کو پاکستان جانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

    دریں اثنا پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی اور شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی امرتسر نے بھارتی حکومت کے اقدام پر احتجاج کیا ہے۔ شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی صدر بی بی جاگیر کورکا کہنا ہے کہ ان کی اپنی حکومت نے سکھوں کے ساتھ دھوکا کیا یے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی مرکزی حکومت کی اس حرکت سےسکھوں کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔ حکومت کا سکھوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا ایک اور ہتکھنڈا سامنے آگیا۔ انہوں نے کہا کہ جتھے کوپاکستان آنے سے روکنا انتہائی ماہوس کن ہے۔ مختلف ریاستوں سے یاتری شری دربارصاحب امرتسرپہنچ چکے ہیں اور آج انہوں نے بارڈرکراس کرنا تھا لیکن بدھ کی شام کو بھارت کی ہوم منسٹری کی طرف سے پیٍغام آگیا کہ یاتری پاکستان نہیں جاسکتے.

    انہوں نے کہا کہ نومبر میں یاتری پاکستان گئے تھے اس وقت سیکیورٹی کا کوئی مسلہ نہیں تھا جب کہ کورونا کے باوجود اٹاری بارڈر بھی کھولا گیا لیکن اس وقت جب کہ ساکہ ننکانہ صاحب کی تقریبات میں شرکت کے لیے آنیوالے 730 بھارتی سکھ یاتریوں کو پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی کی طرف سے ویزے جاری کیے گئے انہیں روکنا مناسب نہیں۔ بی بی جاگیرکور کے مطابق پاکستان جانے والے یاتریوں نے مکمل تیاری کرلی تھی لیکن اب ہماری ہی حکومت نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔

    دوسری طرف پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی طرف سے 27 لاکھ روپے سے 20 بسوں کی بکنگ کروائی گئی تھی جب کہ آج واہگہ بارڈر پر بھرپور استقبال کیا جانا تھا لیکن بھارتی حکومت نے آخری وقت پر سکھ یاتریوں کوپاکستان آنے سے روکنے سے تمام انتظامات دھرے رہ گئے۔ پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سیکرٹری سردار امیر سنگھ نے بھارت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سرکار کی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھوں کے ساتھ دشمنی کھل کرسامنے آرہی ہے۔ شری اکال تخت صاحب کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ ساکہ ننکانہ صاحب پوری دنیا میں بسنے والے سکھوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔

  • لندن سے پھرپریشان کردینےوالی خبرآگئی:ایم کیوایم قائد پرکرونا کا شدید حملہ:سانس اکھڑگیاہسپتال منتقل

    لندن سے پھرپریشان کردینےوالی خبرآگئی:ایم کیوایم قائد پرکرونا کا شدید حملہ:سانس اکھڑگیاہسپتال منتقل

    لندن :لندن سے پھرپریشان کردینے والی خبرآگئی:ایم کیوایم قائد پرکرونا کا شدید حملہ:ہسپتال منتقل،اطلاعات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کو سانس میں تکلیف کے باعث دوبارہ ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    گزشتہ دنوں لندن میں مقیم بانی ایم کیو ایم میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انہیں علاج کیلئے برنیٹ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

    دوران علاج الطاف حسین کی حالت تشویشناک تھی تاہم گزشتہ ہفتے ہی وہ کورونا سے صحتیاب ہوگئے تھے اور انہیں 13 فروری کو گھر منتقل کیا گیا تھا۔

    تاہم بانی ایم کیو ایم کی طبیعت ایک بار پھر خراب ہوگئی جس پر انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔جہاں ان کی حالت انتہائی خراب بتائی جارہی ہے

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں25 فیصد اضافےکی منظوری:یکم مارچ سےمعاشی سرگرمیاں مکمل بحال کرنےکا اعلان

    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں25 فیصد اضافےکی منظوری:یکم مارچ سےمعاشی سرگرمیاں مکمل بحال کرنےکا اعلان

    اسلام آباد:سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں25 فیصد اضافےکی منظوری:یکم مارچ سےمعاشی سرگرمیاں مکمل بحال کرنےکا اعلان ،اطلاعات کے مطابق آج وفاقی کابینہ نے وفاقی حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کے ساتھ ساتھ یکم مارچ سے تمام معاشی سرگرمیوں کو مکمل طور پر بحال کرنے اور مختلف تقرریوں کی منظوری دیدی ہے۔

    تفصیل کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کورونا وائرس کی صورتحال اور پھیلاؤ کی شرح کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

    کابینہ کو بتایا گیا کہ ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد اور پھیلاؤ کی شرح میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ کورونا ویکسین فرنٹ لائن ورکرز کو لگائی جا رہی ہے۔ اب تک تقریباً پچاس ہزار فرنٹ لائن ورکرز کو ویکسین لگائی جا چکی ہے اور اس عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔

    کابینہ کو بتایا گیا کہ 65 سال سے زائد عمر کے افراد کے لئے 1166 نمبر فراہم کیا گیا جہاں ویکسین کے لئے وہ اپنے شناختی کارڈ کا اندراج اور رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔

    کابینہ کو بتایا گیا کہ نجی شعبے کی جانب سے ویکسین کی درآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کر دیا گیا ہے۔ یکم مارچ سے تمام معاشی سرگرمیوں کو مکمل طور پر بحال کر دیا جائیگا۔

    وزیرِاعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیئے جانے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی تنصیب کے حوالے سے پیشرفت دریافت کی۔

    وزیرِاعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ وزیرِاعظم نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کو ہدایت کی کہ صدر مملکت کی مشاورت سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی تنصیب کے لئے درکار تمام انتظامی اقدامات اور مراحل کی نشاندہی کی جائے

    جبری گمشدگیوں کے معاملے کے حوالے سے کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ موجودہ حکومت مکمل طور پر شفافیت اور قانون کی عمل داری پر پختہ یقین رکھتی ہے۔

    وزیرِاعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں قانون لانے کے عمل کو تیز کیا جائے۔ کابینہ نے جنسی جرائم کے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا

    کابینہ نے موجودہ حکومت کی جانب سے خواتین کو جائیداد میں ان کا حق دلوانے کے قانون کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیداد کے معاملات کے فوری حل کے حوالے سے قانون لانے کے عمل کو بھی تیز کیا جائے۔

    کابینہ کو قبضہ مافیا سے سرکاری زمینوں کو واگذار کرانے کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔کابینہ کو اسلام آباد میٹرو بس پراجیکٹ کی فعالی کے حوالے سے پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔

    کابینہ نے وفاقی حکومت کے مختلف محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں میں پائے جانے والے فرق کو کم کرنے اورسرکاری ملازمین کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے 2017کی بنیادی تنخواہوں پر پچیس فیصد اضافے ( Disparity Reduction Allowance) کی منظوری دی۔

    اس کے ساتھ ساتھ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومتوں کو بھی یہ ہدایت کی جائے گی کہ وہ بھی اپنے محکموں میں تنخواہوں میں پائے جانے والے فرق کو کم کرنے کے حوالے سے اقدامات لیں۔

    کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کی طرز پر ایک گریڈ سے سولہ گریڈ تک کو ٹائم سکیل پروموشن دی جا رہی ہے۔

    کابینہ کو بتایا گیا کہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس کو یکم جولائی سے بنیادی تنخواہ میں ضم کیا جا رہا ہے جس کا اصل فائدہ پینشنرز کو میسر آئے گا۔تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی کی بد انتظامی اور مشکل معاشی صورتحال سے ملک بھر کی عوام مشکلات کا شکار ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملکی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت نے کفایت شعاری کی مہم کا آغاز کیا اور اسکی ابتدا وزیرِ اعظم آفس سے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ غیر ضروری اخراجات میں کمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کے ٹیکسوں کے پیسے کو بچایا جا سکے۔

    وزیرِ اعظم نے سیکرٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ خسارہ کرنے والے تمام سرکاری اداروں اور اس خسارے کا حجم عوام کے سامنے رکھا جائے تاکہ عوام کو ملکی معاملات کا مکمل علم ہو۔اس کے ساتھ ساتھ ان اداروں میں اصلاحات متعارف کرانے اور اس میں ہونے والی پیش رفت سے بھی عوام کو آگاہ کیا جائے۔

    کابینہ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ کراچی کے بورڈ آف گورنرز کی تشکیل نو کی منظوری دی۔ کابینہ نے فیڈرل سروس ٹربیونل کراچی کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایف ایس ٹی کی موجود عمارت سے متصل چار سو مربع گز زمین ایف ایس ٹی کو الاٹ کرنے کی منظوری دی تاکہ اس آفس کی دفتری ضروریات کو با احسن پورا کیا جا سکے۔

    کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے4 فروری 2021کے اجلاس میں لئے گئے فیصلے کی توثیق کی گئی۔ جس میں پانچ وزارتوں میں اکاونٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کے ماتحت دفاتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کابینہ نے الیکشن کمیشن کی سفارشات پر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 221 تھرپارکر – I میں ضمنی الیکشن کے دوران پاکستان رینجرز (سندھ) کے دستوں کی تعیناتی کی منظوری دی۔

    کابینہ نے جاوید قریشی کو چیئرپرسن بورڈ آف ڈائریکٹرز، سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ تعینات کرنے کی منظوری بھی دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ماضی میں خواتین کو وراثت میں حصہ نہیں ملتا تھا ، وراثتی سرٹیفکیٹ ملنے میں تاخیر ہوتی تھی ،اس نظام کو تبدیل کر کے تمام حقداروں کو 15دنوں میں وراثنی سرٹیفکیٹ مل سکے گا ۔

  • کراچی بحریہ ٹاؤن رہائشوں کے لیے بری خبر

    کراچی بحریہ ٹاؤن رہائشوں کے لیے بری خبر

    بحر یہ ٹاؤن کراچی انتظامیہ نے اپریل 2020 سے آپ کو متعر دبار بذریعہ نوٹسز اور ٹیلی فون کالز آگاہ کیا ہے کہ آپ آپنی پراپرٹی کا قبضہ (possession) حاصل نہیں کیا ہے بحر یہ ٹاؤن انتظامیہ نے possion charges اور utility connecion charges میں ٪20 (فی صد) اضافہ کردیا ہے جو کہ 15فروری 2021 سے لاگو ہونا تھا لیکن بحر یہ ٹاؤن نے اپنے معزز صارفین کی سہولت کے لیے واجبات جمع کروانے کی آخری تاریخ میں 01 مارچ 2021 تک توسیع کردی ہے لہزا آپ اپنے پلاٹ کا قبضہ 01 مارچ 2021 سے پہلے موجودہ واجبات ادا کر کے حاصل کر لیں ، تاکہ ٪20 اضافے سے بچ سکیں

  • پورے ملک کی قسمت آپکے ہاتھ میں ہے،چیف جسٹس کا مکالمہ

    پورے ملک کی قسمت آپکے ہاتھ میں ہے،چیف جسٹس کا مکالمہ

    پورے ملک کی قسمت آپکے ہاتھ میں ہے،چیف جسٹس کا مکالمہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس گلزاراحمدکی سربراہی میں5رکنی لارجربینچ سماعت کررہا ہے ،چیف الیکشن کمشنر دیگرممبران کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو گئے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تفصیلی جواب جمع کرادیا،جواب میں کرپٹ پریکٹس روکنے کیلئے خصوصی اقدامات کا بتایا ہے،آن لائن شکایت سننے کا سسٹم شروع کررکھا ہے،انتخابات سے متعلق موصول شکایات پرفوری کارروائی ہوتی ہے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا، گزشتہ روزجوعدالت نے پوچھا تھا اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ سینٹ الیکشن پر آرٹیکل 226 کا اطلاق ہوتا ہے،آرٹیکل 218 کے تحت شفاف الیکشن کرانا ذمہ داری ہے، آرٹیکل 218 کی تشریح سے 226 کو ڈیفیوز نہیں کیا جا سکتا،آرٹیکل 226 کی سیکریسی کو محدود نہیں کیا جا سکتا، خفیہ ووٹنگ میں ووٹ کی تصاویربناناجرم ہے

    وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ خفیہ رائے شماری میں ووٹ قابل شناخت نہیں ہوتا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ تو آج سے قیامت تک سیکریسی کی بات کررہے ہیں ایسا نہ توآئین وقانون میں لکھا ہے نہ ہی ہمارے فیصلوں میں،جو ان پڑھ ہیں یا ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے مدد لیتے ہیں انکی سیکریسی کا کیا ہو گا ،الیکٹرانک ووٹنگ بھی قابل شناخت ہے،سائبرکرائم والوں سے پوچھ لیں ہر میسج ٹریس ایبل ہے،

    افسوس 2018 کی ویڈیو، لیکشن کمیشن کو نہیں پتہ،کسی کا انتظار نہ کریں، سپریم کورٹ کا چیف الیکشن کمشنر کو بڑا حکم

    پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا

    نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟

    کوئی ایم پی اے پارٹی کیخلاف ووٹ دینا چاہتا ہے تو….سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کیس،عدالت کے ریمارکس

    سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں توعدالت ان میں نہیں پڑتی،سپریم کورٹ

    سینیٹ انتخابات، اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے جواب جمع کروا دیا

    جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ سیکریسی کامعاملہ الیکشن ایکٹ میں درج ہے سوال یہ ہے کس حد تک سیکریسی ہوگی،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قومی اسمبلی انتخابات کیلئےفری ووٹ کی اصطلاح استعمال ہوئی،سینیٹ انتخابات کیلئے فری ووٹ کی اصطلاح کوشعوری طورپرہٹایا گیا،وکیل نے کہا کہ ہر امیدوار سے ووٹوں کی خریدوفروخت نہ کرنے کا بیان حلفی لیا جائے گا،ووٹوں کو خفیہ رکھنے کا مطلب ہے کہ ہمیشہ خفیہ ہی رہیں گے،کاسٹ کیے گئے ووٹ کبھی کسی کو دکھائے نہیں جا سکتے،اوپن بیلٹ سےانتخابات کرانےکیلئےآئین میں ترمیم کرنا ہوگی،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 226 صرف ووٹ ڈالنے کو خفیہ رکھنے کی بات کرتا ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے وکیل الیکشن کمیشن سےمکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نےآپ کی بات سن لی، اب آپ جاسکتے ہیں،

    سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس،سندھ‌ حکومت کا جواب عدالت میں جمع

    سینیٹ انتخابات،پیپلز پارٹی نے ایسا اعلان کر دیا کہ مولانا حیران ہو گئے

    سینیٹ میں ٹکٹ کیسے دیئے جائیں گے؟ وزیراعظم کا اعلان

    سینیٹ الیکشن، ن لیگ کس کو دے ٹکٹ؟ امیدوار بیتاب ،قیادت پریشان

    سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے کونسا قدم اٹھا لیا گیا؟

    سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے جاری آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    سینیٹ انتخابات، ٹکٹوں کی تقسیم،پیپلز پارٹی نے بڑا فیصلہ کر لیا

    سینیٹ میں بیٹھے لوگ عوام کی نمائندگی نہیں کرتے،سینیٹر فیصل جاوید

    سینیٹ ووٹنگ ،اپوزیشن جماعتیں آرڈیننس کے خلاف متحد،پیپلز پارٹی کا ن لیگ سے رابطہ

    مولانا دیکھتے رہ گئے، تحریک انصاف کا مذہبی جماعت کے سربراہ کو سینیٹ ٹکٹ دینے کا فیصلہ

    سینیٹ الیکشن ،ووٹوں کی خریدو فروخت کی ویڈیو سامنے آگئی

    پیسے لینے دینے والی ویڈیو سے سپیکر قومی اسمبلی کا کیا لینا دینا؟ اہم انکشاف

    سینیٹ الیکشن، ن لیگ میدان میں آ گئی، وزیراعظم کیخلاف بڑا قدم اٹھا لیا

    سینیٹ انتخابات ،انتہائی اہم شخصیات کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا

    سینیٹ انتخابات، سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار، بڑا حکم دے دیا

    جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ ڈالنے کےبعد خفیہ رکھنے کامرحلہ ختم ہو جاتا ہے،کرپشن کےخاتمے کیلئے الیکشن کمیشن ڈالے گئے ووٹوں کاجائزہ لے سکتا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ووٹ فروخت کرنے سے متناسب نمائندگی کےاصول کی دھجیاں اڑیں گی،کوئی جماعت تناسب سے ہٹ کرسیٹیں جیت لے توسسٹم تباہ ہو جائے گا،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کیسے تعین کرتا ہے کہ انتخابات متناسب نمائندگی سے ہوئے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ کسی کو ووٹ کاحق استعمال کرنےسےنہیں روک سکتے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آزاد امیدوارجس کو چاہے ووٹ دے سکتا ہے وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آزادانہ ووٹ نہ دیاتوسینیٹ انتخابات الیکشن نہیں سلیکشن ہوں گے،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا متناسب نمائندگی نہ ہونے سے سینیٹ الیکشن کالعدم ہو جائیں گے،ووٹنگ بے شک خفیہ ہو لیکن سیٹیں اتنی ہی ہونی چاہیئں جتنی بنتی ہیں،چیف الیکشن کمشنر صاحب آپ ابھی تک اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے،اپنا قانون پڑھ کر آپ سب بتا رہے بات کی گہرائی سمجھیں،سب کو پتہ ہے ہمارے سینیٹ کے انتخابات کیسے ہوتے رہے ہیں،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے چیف الیکشن کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کی قسمت آپکے ہاتھ میں ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کےوکیل کوکل عدالت میں ہونا چاہیے کیس کسی بھی وقت ختم ہوجائے گا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس بار ادائیگیوں کا طریقہ کار بدل چکا ہے،اب ہنڈی کےذریعے دبئی میں بھی ادائیگیاں ہو رہی ہیں،

    چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمشنرصاحب ہم صرف آپ کی معاونت کرناچاہتے ہیں،آپ بات کو سمجھ نہیں رہے،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کرپٹ پریکٹس کوروکنے کیلئے الیکشن کمیشن کومتحرک ہونا پڑے گا،چیف جسٹس نے کہا کہ پچھلے سینیٹ الیکشن میں پارٹی کی صوبائی رکنیت کے تناسب سے مختلف نتائج آئے،آپ بتادیں گزشتہ انتخابات سےاب تک کیاکارروائی کی؟ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس کیلئے آئین میں ترمیم کرنا ہو گی،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اب تک وہی بات کررہے ہیں جوپہلے دن کررہے تھے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اضافی اختیارات ہیں تاکہ آئین خمیازہ نہ بھگتے،آئین پورے ملک کی اتھارٹیزکوپابند کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی معاونت کریں،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت اداروں سےآئینی ذمہ داریاں پوری کرانےمیں دلچسپی رکھتی ہے،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیاآپ نےوطن پارٹی کیس میں سپریم کورٹ کافیصلہ پڑھاہے؟ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ وطن پارٹی کیس کافیصلہ نہیں پڑھا،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے اتنا اہم فیصلہ نہیں پڑھا توآپ سے کیا بات کریں،عدالتی فیصلے میں الیکشن کرانے کا پورا طریقہ کا ردرج ہے

    اٹارنی جنرل خالدجاویدکےدلائل مکمل ہوگئے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالت ماضی میں ووٹ خفیہ رکھنےکے معاملے پرفیصلہ دے چکی،آئین کی کسی ایک شق کوالگ سےنہیں پڑھا جا سکتا، انتحابی عمل کی ہرشق پرعمل پارلیمانی نظام کےمجموعی تناظرمیں ہوتاہے، اراکین اسمبلی اپنی مرضی سےسینیٹ الیکشن میں ووٹ نہیں دےسکتے،متناسب نمائندگی کامطلب صوبائی اسمبلی کی سینیٹ میں عددی نمائندگی ہے

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اگرمتناسب نمائندگی ہی ہے توپھرالیکشن کی کیا ضرورت،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ اکثریت کی حکومت اوراقلیت کی نمائندگی ہوتی ہے،ایڈووکیٹ جنرل کےپی کےدلائل مکمل ہو گئے

    عدالت نے کہا کہ کل تین صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلزسمیت دیگرفریقین کوسنیں گے،

  • محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات

    محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک طرف محمد علی سد پارہ کی خبر سننے کے لیئے قوم بے تاب ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے سے پوچھ رہا ہے کہ علی سدپارا کی کوئی خبر آئی تو دوسری طرف کچھ لوگ اس حساس ایشو پر غلط خبریں پھیلا کر غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہٰیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کبھی علی سد پارہ کی دو ہزار آٹھ کی تقریب کی تصویر شیئر کر دی جاتی ہے اور اس پر لکھ دیا جاتا ہے کہ علی سدپارا نے برف میں دو سو گھنٹے گزار کر ریکارڈقائم کر دیا ہے اور علی سد پارا زندہ ہے۔کئی ٹویٹر اکاونٹ نہ صرف علی سدپارا بلکہ ان کے بیٹے کے نام پر بھی بن گئے ہیں اور جھوٹی سچی ہر لمحہ رپورٹنگ کی جا رہی ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ John snori اورJ p Moher کی فیملیاں پاکستان میں ہیں اور حکومت پاکستان اور دیگر Stake holdersدس دن گزرنے کے باوجود اپنے تمام وسائل،جدید ٹیکنالوجی سمیت اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ لاپتہ کوہ پیماوں کو ڈھونڈا جا سکے۔محمد علی سد پارا کے ٹویٹر اکاونٹ سے کی جانے والی ٹویٹ کے مطابقSAR سیٹلائٹ سے متعلق Apex committee 17اکتوبر کو گلگت میں ہوگی۔The government and other stakeholders are still putting their best efforts to find our missing climbers. A meeting of apex committee regarding SAR will be held on 17th Feb. in Gilgit. Please avoid any premature statements and keep away from fake reports. Managementجبکہ اس حوالے سے Virtual & physical base campکی جو پریس ریلیز جاری کی گئی ہے،
    اس میں کہا گیا ہے،

    اگر دنیا کے دوسرے اونچے ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیون میں سر کرنا مشکل ہے تو اس موسم میں لا پتہ کوہ پیماوں کو ڈھونڈنا اس سے بڑا چیلنچ ہے۔ ہم نے سیٹلائٹ تصویروں کا مشاہدہ کیا، SAR
    سیٹلایٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔سینکڑوں تصویروں کوScan کیا ہے۔ کئی نئے پوائنٹس کا دورہ کیا ہے، جس راستے سے کوہ پیما گئے اس راستے کا دوبارہ مشاہدہ کیا گیا،Testimonials
    چیک کیئے گئے اور ٹائمنگ بھی دیکھی گئی۔اس حوالے سے Specialistsکی مدد حاصل کی گئی، جبکہ پاکستان، آئس لینڈ اور چلی حکام کی بھی پھرپور مدد حاصل رہی ہے۔اس وقت تاریخ کا سب سے بڑا سرچ آپریشن جاری ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔اور سب ٹیم ورک اور اس سے بڑھ کر ان کا لازوال جزبہ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔جب Rotary machinesخراب موسم کی وجہ سے کام نہیں کر رہی تھی تو پاک فوج نے f-16 بھیجے تاکہ Photographic survey کیا جا سکے۔ہم نے ثابت کیا کہ SAT/SAR technology کام کرتی ہے اور اس نے کئی پوائنٹس ڈھونڈنے میں مدد کی لیکن بد قسمتی سے وہ پھٹے ہوئے Sleeping bags, ٹوٹے ہوئے ٹینٹ اور سلیپنگ بیگ تھے اور ان میں سے کوئی بھی علی سدپارہ اور اس کی ٹیم کے نہیں تھے۔اس کے علاوہ اس میں ایک اہم پریس کانفرنس کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو پیرکو ہونا تھی لیکن کہا جا رہا ہے کہ کچھ وجوہات کی بنا پر اس میں تاخیر کر دی گئی ہے اور شائد بدھ سترہ فروری کو کی جائے۔

    اس پریس ریلیز میں John snori کے چھ بچوں J p moher کے تین بچوں اور Ali sadpara کے چار بچوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیئے اچھی یادوں کو شئیر کیا جائے۔ اور غلط خبروں سے اجتناب کیا جائےاتنے دن گزر جانے کے بعد بھی لوگ کسی معجزے کے انتظار میں ہیں لیکن کوہ پیمائی کا تجربہ رکھنے والے جس میں ان کے بیٹے بھی شامل ہیں اس بات پر متفق ہیں کہ اتنے دن کسی کا مائنس پچاس ٹمپریچر میں Survive کرنا ممکن نہیں۔بہت سے لوگ یہ وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بالآخر ایسا کیا ہوا کہ پہاڑون کا چیتا کہلائے جانے والا محمد علی سد پارا پہاڑوں میں کھو گیا۔ علی سد پارا کے گاوں کے لوگوں کے مطابق علی سدپارا پہاڑوں سے بھیڑ کو اپنے کندے پر ڈال کر نیچے اترنے کا ماہر تھا جب سب کے سانس اکھڑ جاتے تھے تو وہ پہاڑوں پر بھاگنے کی صلاحیت رکھتا تھا اس نے سیاچن جیسے مہاذ پر رات کے اندھیرے میں فوجیوں کے لیئے راشن لے جانے کا ماہر تھا۔اس سے ایسی کیا غلطی ہو سکتی ہے۔اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ علی سدپارا اور ٹیم کو پتا تھا کہ چند گھنٹے کے بعد موسم بہت خراب ہو جائے گا اور ان کے پاس چند گھنٹے ہیں کہ وہ Summit مکمل کر لیں یا واپس کیمپ تک محفوض پہنچ جائیں۔اور کوہ پیمائی میں یہ فیصلہ ہی تمام نتائج کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

    علی سد پارا کے بیٹھے کے مطابق جب انہوں نے سفر شروع کیا تو بیس سے پچیس لوگ ان کے ساتھ تھے لیکن بوٹل نیک تک پہنچتے پہنچتے سب کے اعصاب جواب دے چکے تھے اور وہ واپس آگئے۔ علی سد پارا کا کہنا تھا کہ اگر نیپالی ہماری زمین پر آکر سردیوں میں ہمارا پہاڑ سر کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ، اس کا اظہار وہ کئی دفعہ کر چکے تھےاور اس کے لیئے ایک کوشش پچیس جنوری کو ناکام ہو گئی تھی جب سدپارا اور ٹیم کو سات ہزار آٹھ سو کی بلندی سے خراب موسم کی وجہ سے واپس آنا پڑا تھا۔ لیکن سد پارا اسے ہر حال میں سر کرنا چاہتا تھا اور وہ بھی بغیر اکسیجن کے۔
    نیپالی کوہ پیماوں کی یہ خوش نصیبی تھی کہ انہیں بہت اچھیWeather windowمل گئی تھی جبکہ اس کے بعد کے ٹو کا موسم بہت خونخوار ہو گیا بی بی سی کے مطابق علی سدپارا کے بیٹے شاہد سدپارا نے کہا ہے کہ جب میرا اکسیجن ریگولیٹر خراب ہوا تو میرے والد نے مجھے ساتھ آنے کے لیئے کہا میں نے کہا کہ میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ تھوڑا سا چلو تم ٹھیک ہو جاو گے، لیکن میں بوٹل نیک کے پاس سے واپس آگیا۔ کیونکہ میری ہمت جواب دے چکی تھی، اور میری حالت بگڑ رہی تھی۔علی سدپارا چاہتا تھا کہ جب وہ کے ٹوبغیر اکسیجن کے سر کرے تو اس کا بیٹا اس کے ساتھ ہوعلی سد پارا نے دوہزار انیس میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم چودہ دوستون میں سے 12 دوست موت کے منہ میں جا چکے ہیں اور اکثر میرے دوست مجھ سے پوچتھے ہیں کہ علی تم کب مرنے جا رہے ہو۔

    جب شاہد سدپارا سے پوچھا گیا کہ اس کے والد اس بات پر اتنا اصرار کیوں کر رہے تھے تو اس کا کہنا تھا کہ میرے والد اسے ہر حال میں سر کرنا چاہتے تھے، اس حوالے سے بھی کئی ماہرین کا خیال ہے کہ جب آپ خطروں اور آنے والے طوفانوں کو نظر انداز کرتے ہیں تو مشکل میں پھنسنے کے امکان زیادہ ہو جاتے ہیں۔نرمل پوجادنیا کی دوسری بڑی چوٹی K-2 سر کرنے والی دس نیپالی کوہ پیماوں کی ٹیم کے رکن تھے انہوں نے سردیوں میں اپنا کے ٹو سر کرنے کاExperience شئیر کرتے ہوئے کہا کہ North kingکے نام سے جانے جانے والے اس پہاڑ نے انہیں بہت مشکل وقت دیا، لیکن ان کا مقصد اسے سر کرنا تھا، اسی لیے وہ کامیاب ہوئے۔ سردی میں کے ٹو کو سر کرنا بہت مشکل ہے اور یہ انہوں نے اس مہم کے دوران خود دیکھا اور محسوس کیا.اس حوالے سے اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ایک اتنا مشکل پہاڑ اوپر سے سردیوں میں بغیر اکسیجن کے اسے سر کرنے کے پیچھے کیا راز ہے۔؟

    اس حوالے سے کوہ پیمائی کا تجربہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی بھی ایک گیم ہے اور اس میں ہر کوہ پیما ریکارڈ بنانے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ کوئی کم وقت میں کسی چوٹی کو سر کرتا ہے تو دوسرا بھی چاہتا ہے کہ اس سے بھی کم وقت میں چوٹی تک پہنچ جائے اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔سردیوں میں چوٹیوں کو سر کرنے والے کوہ پیماؤں کے لیے پہاڑی تودوں کا خطرہ کم ہوتا ہے، لیکن سردیوں میں اس کے علاوہ بھی دیگر بہت سے خطرات ہوتے ہیں۔سردی میں شدید موسم میں جہاں درجہ حرات منفی 70 تک بھی پہنچ جاتا ہے اور ساتھ میں ہوا کی رفتار بھی بہت زیادہ تیز ہوتی ہے تو یہ صورتحال تودوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے، لیکن پھر بھی جسمانی لحاظ سے فٹ کوہ پیما اس چیلنج کو قبول کرکے چوٹی سر کرنے نکل جاتے ہیں۔پاکستان میں واقع کے ٹو سمیت دیگر بلند چوٹیوں میں کوہ پیماؤں کے ساتھ کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی صورت میں ریسکیو آپریشن عسکری ایوی ایشن نامی کمپنی کرتا ہے جو پاکستان میں ایک کمرشل کمپنی ہے جو کو پاکستان آرمی کے ریٹائرڈ ایوی ایشن شعبے سے وابستہ اہلکاروں کے زیر انتظام ہے۔عام طور پر کوہ پیما جب کے ٹو سر کرنے جاتے ہیں تو وہعسکری ایوی ایشن نامی ایک پاکستانی ادارے کے پاس 15 ہزار ڈالر یعنی تقریباً 23 لاکھ روپے کی قابل واپسی رقم جمع کروانی پڑتی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں پاکستان آرمی کی جانب سے عسکری ایوی ایشن کو درخواست دینے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو سروس فراہم کی جاتی ہے۔اگر مہم جوئی کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے تو جمع کروائی گئی رقم میں سے تین سو سے چار سو ڈالر بطور سروس فیس کاٹ کر بقیہ رقم کوہ پیما کو واپس دی جاتی ہے۔ لیکن موجودہ سرچ آپریشن پاکستان آرمی کی طرف سے مفت کیا جا رہا ہے۔محمد علی سدپارہ اب قومی یکجہتی کی علامت بن چکے ہیں۔ انھیں پورے پاکستان کی محبت حاصل ہے۔ اس کی بخیریت واپسی کے لیے پاکستان کا ہر فرد آج بھی دعاگو ہے

  • کاسٹ کیے گئے ووٹ کبھی کسی کو دکھائے نہیں جا سکتے،وکیل الیکشن کمیشن

    کاسٹ کیے گئے ووٹ کبھی کسی کو دکھائے نہیں جا سکتے،وکیل الیکشن کمیشن

    کاسٹ کیے گئے ووٹ کبھی کسی کو دکھائے نہیں جا سکتے،وکیل الیکشن کمیشن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس گلزاراحمدکی سربراہی میں5رکنی لارجربینچ سماعت کررہا ہے ،چیف الیکشن کمشنر دیگرممبران کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو گئے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تفصیلی جواب جمع کرادیا،جواب میں کرپٹ پریکٹس روکنے کیلئے خصوصی اقدامات کا بتایا ہے،آن لائن شکایت سننے کا سسٹم شروع کررکھا ہے،انتخابات سے متعلق موصول شکایات پرفوری کارروائی ہوتی ہے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا،گزشتہ روزجوعدالت نے پوچھا تھا اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ سینٹ الیکشن پر آرٹیکل 226 کا اطلاق ہوتا ہے،آرٹیکل 218 کے تحت شفاف الیکشن کرانا ذمہ داری ہے، آرٹیکل 218 کی تشریح سے 226 کو ڈیفیوز نہیں کیا جا سکتا،آرٹیکل 226 کی سیکریسی کو محدود نہیں کیا جا سکتا، خفیہ ووٹنگ میں ووٹ کی تصاویربناناجرم ہے

    وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ خفیہ رائے شماری میں ووٹ قابل شناخت نہیں ہوتا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ تو آج سے قیامت تک سیکریسی کی بات کررہے ہیں ایسا نہ توآئین وقانون میں لکھا ہے نہ ہی ہمارے فیصلوں میں،جو ان پڑھ ہیں یا ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے مدد لیتے ہیں انکی سیکریسی کا کیا ہو گا ،الیکٹرانک ووٹنگ بھی قابل شناخت ہے،سائبرکرائم والوں سے پوچھ لیں ہر میسج ٹریس ایبل ہے،

    افسوس 2018 کی ویڈیو، لیکشن کمیشن کو نہیں پتہ،کسی کا انتظار نہ کریں، سپریم کورٹ کا چیف الیکشن کمشنر کو بڑا حکم

    پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا

    نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟

    کوئی ایم پی اے پارٹی کیخلاف ووٹ دینا چاہتا ہے تو….سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کیس،عدالت کے ریمارکس

    سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں توعدالت ان میں نہیں پڑتی،سپریم کورٹ

    سینیٹ انتخابات، اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے جواب جمع کروا دیا

    جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ سیکریسی کامعاملہ الیکشن ایکٹ میں درج ہے سوال یہ ہے کس حد تک سیکریسی ہوگی،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قومی اسمبلی انتخابات کیلئےفری ووٹ کی اصطلاح استعمال ہوئی،سینیٹ انتخابات کیلئے فری ووٹ کی اصطلاح کوشعوری طورپرہٹایا گیا،وکیل نے کہا کہ ہر امیدوار سے ووٹوں کی خریدوفروخت نہ کرنے کا بیان حلفی لیا جائے گا،ووٹوں کو خفیہ رکھنے کا مطلب ہے کہ ہمیشہ خفیہ ہی رہیں گے،کاسٹ کیے گئے ووٹ کبھی کسی کو دکھائے نہیں جا سکتے،اوپن بیلٹ سےانتخابات کرانےکیلئےآئین میں ترمیم کرنا ہوگی،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 226 صرف ووٹ ڈالنے کو خفیہ رکھنے کی بات کرتا ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے وکیل الیکشن کمیشن سےمکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نےآپ کی بات سن لی، اب آپ جاسکتے ہیں،

    سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس،سندھ‌ حکومت کا جواب عدالت میں جمع

    سینیٹ انتخابات،پیپلز پارٹی نے ایسا اعلان کر دیا کہ مولانا حیران ہو گئے

    سینیٹ میں ٹکٹ کیسے دیئے جائیں گے؟ وزیراعظم کا اعلان

    سینیٹ الیکشن، ن لیگ کس کو دے ٹکٹ؟ امیدوار بیتاب ،قیادت پریشان

    سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے کونسا قدم اٹھا لیا گیا؟

    سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے جاری آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

    سینیٹ انتخابات، ٹکٹوں کی تقسیم،پیپلز پارٹی نے بڑا فیصلہ کر لیا

    سینیٹ میں بیٹھے لوگ عوام کی نمائندگی نہیں کرتے،سینیٹر فیصل جاوید

    سینیٹ ووٹنگ ،اپوزیشن جماعتیں آرڈیننس کے خلاف متحد،پیپلز پارٹی کا ن لیگ سے رابطہ

    مولانا دیکھتے رہ گئے، تحریک انصاف کا مذہبی جماعت کے سربراہ کو سینیٹ ٹکٹ دینے کا فیصلہ

    سینیٹ الیکشن ،ووٹوں کی خریدو فروخت کی ویڈیو سامنے آگئی

    پیسے لینے دینے والی ویڈیو سے سپیکر قومی اسمبلی کا کیا لینا دینا؟ اہم انکشاف

    سینیٹ الیکشن، ن لیگ میدان میں آ گئی، وزیراعظم کیخلاف بڑا قدم اٹھا لیا

    سینیٹ انتخابات ،انتہائی اہم شخصیات کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا

    سینیٹ انتخابات، سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار، بڑا حکم دے دیا

  • جعلی ڈگری کیس، عدالت نے سابق سینیٹر کو سزا سنا دی،گرفتار کرنیکا حکم

    جعلی ڈگری کیس، عدالت نے سابق سینیٹر کو سزا سنا دی،گرفتار کرنیکا حکم

    جعلی ڈگری کیس، عدالت نے سابق سینیٹر کو سزا سنا دی،گرفتار کرنیکا حکم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق سینیٹریاسمین شاہ کوجعلی ڈگری کیس میں عدالت نے سزا سنا دی

    وفاقی وزیرفہمیدہ مرزاکی درخواست پرپہلے ہی یاسمین شاہ ناہل قرارپا چکی ہیں مقامی عدالت نے سابق سینیٹریاسمین شاہ کو2 سال سزاسنا دی،عدالت نے یاسمین شاہ کوگرفتارکرنے کا حکم دے دیا

    یاسمین شاہ اوران کے شوہرعلی بخش پپوشاہ کمرہ عدالت میں موجود ہیں.اطلاعات کے مطابق پولیس انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کر لے گی

    سال 2018 میں سپریم کورٹ نے جعلی ڈگری کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کو نااہل قرار دیا تھا،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق سینیٹر یاسمین شاہ کی اپیل کی سماعت کی تھی چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میٹرک اور بی اے کی ڈگریوں پر ناموں میں تضاد ہے، یاسمین شاہ کی ڈگری پر اعتراض کو کون سا ریکارڈ درست ثابت کرے گا۔

    کراچی یونیورسٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بی اے کی ڈگری پر نام میں ردوبدل کیا گیا جبکہ میٹرک کی سند پر نام یاسمین محمد حسین ولد محمد حسین لکھا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ نادرا کے ریکارڈ میں نام بی بی یاسمین شاہ ہے جبکہ والد کا نام بھی علی حسین جمالی لکھا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ والد کے نام میں تو بہت ہی زیادہ فرق ہے، یونیورسٹی والے کہتے ہیں کورٹ ڈگری کے بغیر نام تبدیل نہیں ہوتا۔

    یاسمین شاہ کے وکیل نے کہا کہ کیس گزشتہ دس سال سے چل رہا ہے، اگر یہ کسی اور کی ڈگری ہوتی تو وہ اب تک سامنے آچکا ہوتا۔ عدالت نے سینیٹر یاسمین شاہ کو نااہل قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی، یاسمین شاہ آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔ یاسمین شاہ نے 2003 میں سینیٹر بنتے وقت بی اے کی جعلی ڈگری جمع کرائی تھی۔

    یاسمین شاہ کیخلاف سابق اسپیکر قومی اسمبلی پیپلزپارٹی کی رہنما ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے درخواست دائر کی تھی جس پر الیکشن کمیشن نے انھیں نااہل قرار دیکر تمام مراعات واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔

  • امیدواران کی کامیابی جمہوریت کی جیت ہے

    امیدواران کی کامیابی جمہوریت کی جیت ہے

    پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر و ایم پی اے فریال تالپور کا ضمنی انتخابات میں پارٹی امیدواران کی کامیابی پر پیغام

    فریال تالپور کی پی ایس-88 ملیر اور پی ایس-43 سانگھڑ میں پی پی پی امیدواران کی کامیابی پر جیالوں اور عوام کو مبارکباد

    ضمنی انتخابات میں پی پی پی امیدواران کی کامیابی جمہوریت کی جیت ہے: فریال تالپور

    ضمنی الیکشن میں کامیابی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری کی قیادت پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے: فریال تالپور

    فریال تالپور نے سانگھڑ اور ملیر سے کامیاب امیدواران جام شبیر علی اور یوسف مرتضیٰ بلوچ کو بھی ان کی کامیابی پر مبارکباد دی ہے