Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مہمند: افغانستان سے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ: ایک جوان  شہید

    مہمند: افغانستان سے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ: ایک جوان شہید

    راولپنڈی:مہمند: افغانستان سے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ: ایک جوان شہید ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کا ایک اور جوان فرض پر قربان ہو گیا، افغانستان سے ہونے والے حملے کے دوران 25 سالہ سپاہی فضل واحد شہید ہو گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق افعانستان کی سر زمین سے ضلع مہمند میں پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا۔ حملے کے دوران دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس حملے کے دوران پاک فوج کا 25 سالہ سپاہی فضل واحد شہید ہو گیا۔ شہید فضل واحد کا تعلق شانگلہ سے ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے حملے کے بعد پاک فوج نے دہشتگرد حملے کا بھر پور جواب دیا۔

  • مودی کا نہیں جوعمران خان کا یارہے وہ غدّار ہے ،غدّار ہے :مولانا فضل الرحمن

    مودی کا نہیں جوعمران خان کا یارہے وہ غدّار ہے ،غدّار ہے :مولانا فضل الرحمن

    بنوں‌ :مودی کا نہیں جوعمران خان کا یارہے وہ غدّار ہے ،غدّار ہے :اطلاعات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم نے قوم کو آزادی اور جمہوریت کا راستہ دکھایا

    خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ سن لو ‘جو عمران خان کا وفادار ہے، میں اسے غدار کہتا ہوں’۔اس دوران مولانا فضل الرحمن کے پیچھے سے کسی نے یہ کہہ دیا کہ "مودی کا نہیں جو عمران خان کا یارہے وہ غدّار ہے وہ غدار ہے

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ بھی سن لیں کہ بنوں کے لوگوں نے آج حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا۔انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ‘مجھے نیب کے سامنے سرینڈر کرنے کا مشورہ دیا لیکن میں نے کہا وہ جنرل نیازی تھا جو سرینڈر ہو گیا’۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ میرے آبا واجداد نے کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا’۔پی ڈی ایم کے صدر نے کہا کہ ہماری جہدوجہد ملک میں جمہوریت اور قانون کی عملداری کے لیے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘آج معیشت کو جس بحران کا سامنا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اور آج کہتا ہوں جو عمران خان کا وفادار ہے، میں اسے غدار کہتا ہوں۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کا قتل عام کیا گیا اور میں واقعے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ برداری کے مظلوموں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد آزاد ہیں اور جب چاہے کسی کو قتل کردیتے ہیں جبکہ ڈکیتیوں کی سب سے زیادہ شرح اسلام آباد میں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف فوج کے ساتھ عوام نے بھی قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قبائیلی علاقوں اور بلوچستان سے فوج کو واپس بلا لیا جائے۔

    سربراہ جے یو آئی نے وزیر اعظم عمران خان کے بیان کے حوالے سے کہا کہ ‘کہتا ہے میرے پاس ٹیم نہیں، مجھے حکومت نہیں آتی لیکن اصل بات یہ ہے کہ کام کرنے والے لوگ ہیں لیکن آپ کو کسی سے کام لینا نہیں آتا’۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کا جنازے نکالنے کے لیے ایک جگہ جمع ہے۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 21 جنوری کو کراچی میں اسرائیل نامنظور ملین مارچ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک آزاد ریاست ہے اور اب کسی طاقتور ملک کی کالونی بن کر نہیں رہ سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے آباو اجداد کا نصب العین رہا ہے کہ ہم ایک آزاد اور خود مختار ملک چاہتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر میں فوج کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا، تو فوج بھی سیاسیت میں مداخلت نہ کریں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط تھی تو لوگ ہم سے تجارت کرنا چاہتے تھے لیکن اس حکومت نے پاکستان دوستوں کا اعتماد ختم کردیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اب کوئی یہاں آنے کو تیار نہیں ہے۔

  • حرمت رسولﷺ پرجان بھی قربان ہے:ناموس رسالتﷺ کے لیے مسلمان حکمران میدان میں نکلیں:وزیراعظم عمران خان

    حرمت رسولﷺ پرجان بھی قربان ہے:ناموس رسالتﷺ کے لیے مسلمان حکمران میدان میں نکلیں:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: حرمت رسولﷺ پرجان بھی قربان ہے:ناموس رسالتﷺ کے لیے مسلمان حکمران میدان میں نکلیں:وزیراعظم عمران خان کاترک ٹی وی کوانٹریو،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ترک ٹی وی کوانٹریو دیتے ہوئے پھرایک ذمہ دارمسلمان سربراہ مملکت کا کردار ادا کیا ہے ،

    وزیراعظم عمران خان نے ترک ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، دہشتگردوں نےبلوچستان میں ہزارہ برادری کونقصان پہنچایا۔ ہزارہ برادری کےتمام تحفظات دورکریں گے۔

    ترک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ قائداعظمؒ نےپاکستان کیلئے مدینہ کی ریاست کو بنیاد بنایا تھا۔ قائدؒ ریسرچ اور تعلیم کوعام کرنا چاہتے تھے۔ ریاست مدینہ میں اقلیتوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق حاصل تھے۔ کرک میں مندر پر حملےکےبعدذمےدارعناصر کیخلاف سخت کارروائی کی گئی۔ یہ دہشت گرد زیادہ تر داعش کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کاتحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ دہشتگردوں نےبلوچستان میں ہزارہ برادری کونقصان پہنچایا۔ ہزارہ برادری کےتمام تحفظات دورکریں گے۔ پاکستان میں اقلیتوں کویکساں حقوق حاصل ہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مغرب میں اسلاموفوبیا سے بخوبی واقف ہوں۔ مغرب آزادی اظہاررائےاوردل آزاری کےدرمیان فرق نہیں کرپایا۔ مغرب اورمسلمانوں کےدرمیان غلط فہمیاں دورکرنےکی کوشش نہیں ہوئی۔ اسلاموفوبیابھی ان غلط فہمیوں کےنتیجےمیں شروع ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مغرب سمجھنے سے قاصر ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ سےکتنی محبت کرتےہیں۔ ناموس رسالت ﷺ کیلئے اسلامی ریاستوں کے سربراہان کو یک زبان ہونا پڑے گا۔ اسلامی رہنماؤں کو مغربی ملکوں کے لوگوں کو اسلام کے بارے میں بتاناچاہیےتھا۔

    بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہودیوں نے یورپ کو ہولو کاسٹ سے متعلق اپنے جذبات سے آگاہ کیا ہے۔ یورپ میں ہولوکاسٹ پر بات کرناقابل سزا جرم ہے، کیونکہ اس سے یہودیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ یورپ میں مذہب کو وہ اہمیت حاصل نہیں جو ہمارے معاشرے میں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ فرانس میں حجاب پر پابندی عائد کی گئی، مساجد میں چھاپے مارے گئے۔ زیادہ تر مسلم رہنما مغربی معاشرے کو اندر سے نہیں جانتے جبکہ میں مغرب میں بہت وقت گزار چکا ہوں۔ مغرب میں رہ چکا ہوں،اسلیےمغربی معاشرےمیں اسلامو فوبیاسےاچھی طرح واقف ہوں۔ فرانس میں اسلامو فوبیا کامسئلہ درست طریقے سے نہیں نمٹایا جا رہا۔

    امریکی صدر سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ بائیڈن انتظامیہ مقبوضہ کشمیر پر کیا کرتی ہے، میں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی تھی، میں بائیڈن انتظامیہ سے بات کروں گا۔

    پاک امریکا سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس سے متعلق میں کوئی پریڈکیشن نہیں کر سکتا۔ چین سے نمٹنے کے لیے بھارت کو آگے لایا جا رہا ہے، پاکستان نے امریکا کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔ افغانستان میں سوویت یونین کیخلاف لڑے، تاہم اس کے بعد امریکا نے ہم پر پابندی لگا دی۔ جس کے بعد ہم نے اس گروپوں کو چھوڑ دیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 2001ء میں یہی گروپ (افغان طالبان) کیخلاف امریکا افغانستان میں لڑنے آیا، انہوں نے وہاں لڑائی، جس کے باعث پاکستان میں بھی دہشتگردی کو دیکھنے کو ملی جس کے باعث ہماری 70 ہزار سے زائد افراد ہلاکتیں ہوئیں۔ ہم نے اس کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ ہماری قربانیوں کو دیکھے۔

    اسرائیل سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، اگر ہم انہیں تسلیم کر لیتے ہیں، تو اس طرح بھارت بھی جواز کرے مل جائے گا کہ وہ کشمیر کو اپنا حصہ بنا لے۔ میں قائدؒ کے ویژن کا قائل ہوں جو انہوں نے اسرائیل سے متعلق دی تھی۔ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ مجھ پر کوئی دباؤ نہیں اور نہ ہی ڈال سکتا ہے، ہم جمہوری ملک ہیں۔

    پاک بھارت تعلقات سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نریندرمودی کو اس کے ماضی کے حوالے سے دیکھنا چاہیے۔ آرایس ایس کے بانی ہٹلر کے نظریات سے براہ راست متاثر تھے۔ مودی کی حکومت آرایس ایس کےنظریات کوعملی جامہ پہنارہی ہے۔ آرایس ایس کی وردی بھی نازیوں سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت پر 700سال مسلمانوں اور 200 سال انگریزوں نےحکومت کی۔ شدت پسند ہندو اب غصہ مسلمانوں اور مسیحی برادری پرنکال رہےہیں۔ وزارت عظمیٰ سنبھالنے کےبعدمودی سےتعلقات بہترکرنےکی کوشش کی، نریندرمودی کی جانب سےکوئی مثبت ردعمل نہیں ملا۔ انہوں نے پاکستان دشمنی کی بنیاد پر الیکشن لڑا۔ مودی گجرات کا وزیراعلیٰ تھا تو ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ بھارت میں نسل پرستی کےماحول کاذمہ دارنریندرمودی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں کشمیریوں کوحق خودارادیت دیتی ہیں۔ کشمیری قیادت کو جیلوں میں قیداورگھروں میں نظربندکیاجارہاہے۔ 2 ایٹمی ریاستوں کےدرمیان جنگ نہیں ہوسکتی۔ پاکستان کشمیرکامقدمہ بین الاقوامی پلیٹ فارمزپرلڑ رہا ہے۔

    کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم چین سے رابطے میں ہیں، ہم سب سے پہلے فرنٹ لائن ورکرز کو دینگے، اور اس کے بعد 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔

    پاکستان او ترکی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں، ہمارے قومی زبان اُردو کے زیادہ تر الفاظ ترک زبان سے ہیں۔ کشمیر سے متعلق ترکی کی حمایت کو ہم نہیں کبھی بھول سکتے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد ملائیشیا اور ترکی نے ہماری بہت حمایت کی۔

    اردگان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد نے اپنے ملک کے لیے بہت کام کیا ، اسی طرح ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی اسی طرح اپنے ملک کے لیے بہت کام کیا۔ اس وقت ترکی ترقی کر رہا ہے۔ دونوں میرے لیے بہت اہم ہیں۔ کئی معاملات میں میرے اور ترک صدر کے خیالات ملتے ہیں، ترکی کے ساتھ تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں بدلنا چاہتے ہیں۔

  • فرانس نےایک مسلمان ملک پرحملہ کردیا،شدید بمباری سے25 ہلاک

    فرانس نےایک مسلمان ملک پرحملہ کردیا،شدید بمباری سے25 ہلاک

    بماکو: فرانس نے ایک مسلمان ملک پرحملہ کردیا،شدید بمباری سے 25 ہلاکتیں ،اطلاعات کے مطابق افریقی ملک مالی میں شادی کی تقریب پر فرانس کے جنگی طیاروں نے بمباری کی جس کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مالی کے دارالحکومت بماکو سے 600 کلومیٹر دور واقع گاؤں پر فرانس کے جنگی طیاروں نے حملے کیے۔ حملے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں 25 ہلاکتیں ہوئیں۔

    فرانسیسی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملہ انٹلی جنس بنیادوں پر حاصل ہونے والی معلومات کی بنا پر جنگجوؤں کے ٹھکانے پر کیا گیا جس میں شہریوں کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔
    دوسری جانب علاقہ مکینوں نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانسیسی طیاروں نے ایک ایسے گھر کو نشانہ بنایا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی اور مرنے والے گاؤں کے نہتے شہری تھے۔

    ادھر مالی میں اقوام متحدہ کے مشن نے بھی گاؤں پر فضائی حملے کی تصدیق کی ہے تاہم کسی قسم کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ اسی طرح مالی کی حکومت نے بھی اس واقعے پر چپ سادھ رکھی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی داعش نے مالی میں ایک کارروائی کے دوران فرانسیسی فوج کے 2 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور فرانس کے اس فضائی حملے کو اپنے اہلکاروں کا بدلہ لینے کی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ترک ٹیلی ویژن سے عمران خان کا خصوصی انٹریو:کیااہم باتیں ہوئیں کسی بھی وقت نشرکیا جاسکتا ہے

    ترک ٹیلی ویژن سے عمران خان کا خصوصی انٹریو:کیااہم باتیں ہوئیں کسی بھی وقت نشرکیا جاسکتا ہے

    اسلام آباد :ترک ٹیلی ویژن سے عمران خان کا خصوصی انٹریو:کیااہم باتیں ہوئیں کسی بھی وقت نشرکیا جاسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ترک ٹیلی ویژن نے ایک خصوصی انٹریوکیا ہے ، یہ انٹریوترک ٹیلی ویژن پرکسی بھی وقت نشرکیا جاسکتا ہے

    ادھرذرائع کے مطابق اس اہم ترین انٹریو کوپاکستان ٹیلی ویژن بھی نشرکرے گا ، یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ اس انٹریوکوبہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہےکہ ان حالات میں جب کرونا کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھرمیں حالات انتہائی گھمبیرہیں اس کے اثرات پرکھل کربات ہوئی ہے

    اس کے علاوہ اس انٹریومیں اپوزیشن کی طرف سے حکومت پردباو اوراین آر او پربھی کپتان نے اپنا اصولی موقف دہرایا ہے،

    یہ بھی بتایا جارہاہے کہ یہ انٹریوہوسکتا ہے کہ آج ہی رات 9 بجے تک ترک ٹیلی ویژن پرنشرکیا جائے یہ بھی کہا جارہا ہےکہ ہوسکتا ہےکہ پاکستان ٹیلی ویژن بھی عمران خان کے ترک ٹیلی ویژن کو دیئے گئے انٹریوکو نشررمقررکرسکتا ہے

  • اگرپاکستان ہمیں کچھ نہیں سمجھتا توپھرمیں میں کیوں کرتے ہو:امریکی پارلیمنٹ میں بل پیش

    اگرپاکستان ہمیں کچھ نہیں سمجھتا توپھرمیں میں کیوں کرتے ہو:امریکی پارلیمنٹ میں بل پیش

    واشنگٹن: اگرپاکستان ہمیں کچھ نہیں سمجھتا توپھرمیں میں کیوں کرتے ہو:امریکی پارلیمنٹ میں بل پیش ،اطلاعات کے مطابق امریکی پارلیمنٹ کی امور خارجہ کمیٹی میں ریپبلکن رکن اینڈی بگس نے ایک بل پیش کیا ہے جس میں پاکستان کی اہم اتحادی کی حیثیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایری زونا سے منتخب ہونے والے کانگریس کے رکن اینڈی بگس نے 117 ویں کانگریس میں پاکستان مخالف بل پیش کیا ہے۔

    اس بل کو پیش کرنے سے پہلے پارلیمنٹ میں باقاعدہ یہ بحث ہوئی کہ پاکستان کے رویے بدل گئے ہیں اورکستان کی موجودہ حکومت کسی کوبھی خاطرمیں نہیں لارہی ، یہ بھی بحث ہوئی کہ پاکستان نے امریکہ کوافغانستان میں نقصان پہنچایا ہے اس کی تالافی بہت مشکل ہے ،

    اس بحث میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت سے امیدیں لگانا چھوڑ دیں ، جب تک عمران خان ہے پاکستان کودباومیں نہیں‌ لایا جاسکتا

    بل میں استدعا کی گئی ہے کہ پاکستان کو امریکا کے ایک اہم غیر نیٹو اتحادی کی حیثیت حاصل ہے جس کی مناسبت سے کئی مراعات کا حامل بھی ہے تاہم اب پاکستان کی اہم اتحادی کی حیثیت پر نظرثانی کا وقت آگیا ہے۔

    امریکی میڈیا میں بھی بل کی بازگشت سنی گئی ہے اور یہ بل صدر ٹرمپ کے دور میں پاکستان سے تعلق کی پالیسی کا تذبذب کا شکار رہنے اور نومنتخب صدر جوبائیڈن کی حکومت میں بھی غیر یقینی صورت حال کے امکان کو ظاہر کرتا ہے۔

    اس حوالے سے واشنگٹن ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے اہم اتحادی ہونے کی حیثیت کے خاتمے کا بل امور خارجہ کمیٹی میں پیش تو کردیا گیا ہے تاہم بل پر پیشرفت کا امکان موجود نہیں۔

    واضح رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان تاریخی امن مذاکرات میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا تھا جس کا اعتراف امریکا کی جانب سے بھی کیا گیا تھا۔

  • مچھ واقعہ ، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    مچھ واقعہ ، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ جانے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا مچھ واقعہ پر لواحقین سے تعزیت کے لئے جلد جاؤں گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ درخواست ہے شہدا کی تدفین کی جائے، شہداء کے دکھ درد میں برابر کا شریک ہوں، کبھی بھی عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، ہزارہ برادری کو یقین دلاتا ہوں ان کے مطالبات کا احساس ہے، جانتے ہیں ہمارا پڑوسی فرقہ واریت کو فروغ دے رہا ہے۔دوسری جانب سانحہ مچھ کے ورثا کا کوئٹہ میں مغربی بائی پاس پر چوتھے روز بھی دھرنا جاری ہے۔ لواحقین نے وزیراعظم کے آنے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    مظاہرین اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور بھی ناکام رہا، وفاقی وزیر علی زیدی، معاون خصوصی زلفی بخاری اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری وزیراعظم کی ہدایت پر رات گئے کوئٹہ پہنچے، جہاں انہوں نے مغربی بائی پاس پر دھرنا دینے والوں کے ساتھ مذکرات کئے۔مذاکرات ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہے، دھرنے کے شرکاء نے وزیر اعظم کے آنے تک میتوں کو دفن کرنے اور دھرنا ختم کرنے سے انکار کیا۔

  • احتساب قانون کے مطابق نہیں ہوگا تو ادارے کیخلاف ایکشن لیں گے، سپریم کورٹ نیب پر برہم

    احتساب قانون کے مطابق نہیں ہوگا تو ادارے کیخلاف ایکشن لیں گے، سپریم کورٹ نیب پر برہم

    احتساب قانون کے مطابق نہیں ہوگا تو ادارے کیخلاف ایکشن لیں گے، سپریم کورٹ نیب پر برہم ہوگئی

    باغی ٹی وی رپورٹ :سپریم کورٹ میں باغ ابن قاسم کرپشن سے متلق کیس کی سماعت ہوئی . عدالت میں‌ فاضل جج جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا نیب بڑے آدمی پر ہاتھ نہیں ڈالتا . سپریم کورٹ کا نیب کے بارے میں یہ تاثر ہے تو عام آدمی کا کیا ہوگا؟نیب کو پتہ ہے زین ملک کے لیے این او سی لانا مشکل ہے ،

    عدالت کا کہنا تھا کہ زین ملک اگر این او سی لے آئے تو پھر آپ جاری کرنے والوں کو مقدمے میں گھسیٹیں گے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ این او سی آیا تو جاری کرنے والے کو مقدمے میں شامل کریں گے. اس پر فاضل جج کا کہنا تھا کہ تو پھر نیب نے مرکزی ملزم کو 15 فروری تک کی مہلت کیوں دی؟نیب کی کارکردگی رپورٹ پڑی ہے، اربوں روپے اکھٹے کیے ہیں.نیب پر سرکار کا ہی نہیں ہر طرف سے دباؤ ہوتا ہے،قانون کا اطلاق سب پر برابر ہونا چاہیے، احتساب بھی قانون کے مطابق ہونا چاہیے،احتساب قانون کے مطابق نہیں ہوگا تو ادارے کیخلاف ایکشن لیں گے،ہم نیب سے مطمئن نہیں ہیں. نیب کو کام سے کون روکتا ہے ہمیں بتائیں تاکہ اسے پکڑیں،نیب کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں،یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی نے مجھ پر مہربانی کی تو میں اس پر کروں،نیب کو بہادری اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے،

    نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہمارے اوپر کوئی دباؤ نہیں کوئی کام سے نہیں روکتا،جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ سینیٹ سمیت مختلف فورم پر نیب پر بات ہو رہی ہے، نیب نے سرکاری افسروں کو دبایا اصل بنفشیریز کو پوچھا نہیں.جسٹس مظاہر علی نقوی کا کہنا تھا کہ پہلا ریفرنس دوسرا ریفرنس یہ کیا مذاق بنایا ہوا ہے؟معلوم ہے کہ نیب مقدمات عام فوجداری کیسز نہیں ہوتے.نیب جس کیخلاف شواہد ہوں اسے گرفتار نہیں کرتا.نیب سرکاری افسروں کو سب پہلے گرفتار کر لیتا ہے.

  • برطانوی وزیراعظم نے بھارت کا طے شدہ دورہ عین وقت پر منسوخ کردیا

    برطانوی وزیراعظم نے بھارت کا طے شدہ دورہ عین وقت پر منسوخ کردیا

    لندن :برطانوی وزیراعظم نے بھارت کا طے شدہ دورہ عین وقت پر منسوخ کردیا،اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے 26 جنوری کو بھارت کے 72 ویں یوم جمہوریہ میں شرکت کے لیے اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق بورس جانسن نے برطانیہ میں کورونا وائرس کی صورت حال کی وجہ سے دورہ منسوخ کیا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کے مطابق بورس جانسن نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو فون کرکے یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت سے معذرت کی۔

    ترجمان کے مطابق برطانیہ میں نئے کورونا وائرس کی لہر میں شدت اور ملک میں گزشتہ روز سے شروع ہونے والے لاک ڈاؤن کے تناظر میں وزیراعظم نے برطانیہ میں موجود رہنا بہتر سمجھا ہے تاکہ وہ کورونا کے حوالے سے مسائل پر نظر رکھ سکیں۔

    برطانوی حکومت کے مطابق بورس جانسن رواں سال کی پہلی ششماہی میں برطانیہ میں ہونے والی جی ۔سیون سمٹ سے قبل بھارت کا دورہ کریں گے، اس کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم مہمان کی حیثیت سے شریک ہوں گے۔خیال رہےکہ 26 جنوری 1950کو بھارت نے اپنے آئین کی منظوری دی تھی جس کے بعد سے اس روز کو یوم جمہوریہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔

  • قطرکے ساتھ پھرسے برادرانہ تعلقات قائم:کسی بڑے پیغام کا اشارہ

    قطرکے ساتھ پھرسے برادرانہ تعلقات قائم:کسی بڑے پیغام کا اشارہ

    ریاض : قطرکے ساتھ پھرسے برادرانہ تعلقات قائم:کسی بڑے پیغام کا اشارہ ،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب،متحدہ عرب امارات سمیت 4 عرب ممالک کا قطر کیساتھ تعلقات مکمل طور پر بحال کرنے کا فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق قطر بائیکاٹ کے خاتمے کے حوالے سے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی جانب سے اہم اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر اور قطر کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

    چاروں عرب اسلامی ممالک نے 3 سال سے جاری قطر کا بائیکاٹ باقاعدہ طور پر ختم کر دیا۔ فیصلے پر فوری عملدرآمد ہوگا، پانچوں ممالک کے درمیان ہر طرح کی سفری اور تجارتی آمد و رفت بحال ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز کویتی وزیر خارجہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ قطر کا برسوں سے جاری بائیکاٹ ختم کر دیا گیا، سعودی عرب اور قطر نے تعلقات کی بحالی پر اتفاق کر لیا۔

    گزشتہ روز دونوں خلیجی ممالک نے زمینی اور فضائی آمد و رفت بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ سعودی عرب نے قطر کیلئے اپنی ائیراسپیس، زمینی اور سمندری حدود کھول دیں۔ سعودی عرب،اس کے اتحادی ممالک اور قطر کے تعلقات کی بحالی کو خلیج کی سب سے بڑی خبر قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ایک ماہ قبل عرب میڈیا میں خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی عرب اور قطر کی قیادت برسوں سے جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔

    دعوٰی کیا گیا کہ عمان، کویت، سعودی عرب اور قطر کے حکام کے درمیان حال ہی میں مذاکرات ہوئے جن میں نمایاں پیشرفت ہوئی اور فریقین نے 3 سال سے جاری اس تنازع کے جلد خاتمے پر اتفاق کرلیا۔ خبر سامنے آنے کے بعد قطر اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے کویت کے اعلیٰ حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق کی۔ قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمن الثانی نے ایک ماہ قبل جاری بیان میں خلیجی بحران کے حل کیلئے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاملات درست سمت میں گامزن ہیں۔

    جبکہ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے بھی امید ظاہر کی کہ تنازع کے حل کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے 2017 میں قطر پر دہشت گردی کی حمایت اور ایران کے ساتھ تعلقات کا الزام لگاکر سفارتی تعلقات ختم اور بائیکاٹ کردیا تھا۔ ان ممالک نے قطر سے الجزیرہ چینل کو بند، ترک اڈہ خالی کروانے اور اخوان المسلمین سے تعلقات ختم کرنے سمیت 13 مطالبات کیے تھے۔

    دوسری طرف تعلقات کی بحالی سے اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ کہیں قطربھی ان ملکوں میں شامل نہ ہوجائے جنہوں نے اسرائیل کوتسلیم کیا ہے اوراسرائیلی میڈیا کی طرف سے ایشیا کے بڑے ملک کی طرف سے اسرائیل کوتسلیم کرنے کے اشارے بھی اس طرف جارہے ہیں