Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • چکوال میں 15 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کا وزیراعظم نے کیا افتتاح

    چکوال میں 15 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کا وزیراعظم نے کیا افتتاح

    چکوال میں 15 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کا وزیراعظم نے کیا افتتاح

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے چکوال میں 15 ارب روپے سے زائد کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا

    وزیراعظم عمران خان نے چکوال میں نوجوانوں کے لیے یونیورسٹی آف چکوال کا افتتاح کردیا ،وزیراعظم نے چکوال میں 500 بستر پر مشتمل ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھ دیا،وزیراعظم عمران خان نے سکول آف ایکسی لینسی اور بائی پاس رنگ روڈ کا سنگ بنیاد بھی رکھا

    وزیراعظم عمران خان کا چکوال کا دورہ حکومت کے ماضی میں نظر انداز کئے گئے پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کے ایجنڈے کا حصہ ہے ۔

    معاون خصوصی اطلاعات پنجاب فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ تمام شہروں کی یکساں ترقی تحریک انصاف حکومت کے منشور کا حصہ ہے، ماضی کے شوبازوں کے برعکس وزیراعلی پنجاب حقیقی عوامی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔

    فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عوامی خدمت کا ثبوت کسی مخصوص شہر نہیں بلکہ صوبہ بھر میں مساوی بنیادوں پر جاری ترقیاتی منصوبے ہیں، پنجاب کے عوام بزدار حکومت کی انتھک محنت کے ثمرات ترقی و خوشحالی کی صورت میں پا رہے ہیں۔

  • میں جھوٹا نہیں‌:نوازشریف جھوٹ بول رہے ہیں‌:ابھی اوربھی رازکی بڑی باتیں‌ ہیں‌ :مولانا اجمل قادری

    میں جھوٹا نہیں‌:نوازشریف جھوٹ بول رہے ہیں‌:ابھی اوربھی رازکی بڑی باتیں‌ ہیں‌ :مولانا اجمل قادری

    لاہور:میں جھوٹا نہیں‌:نوازشریف جھوٹ بول رہے ہیں‌:ابھی اوربھی رازکی بڑی باتیں‌ ہیں‌ :مولانا اجمل قادری نے ن لیگ کی طرف سے نوازشریف کی اسرائیلی نوازیوں کوجھوٹ قراردینے پربڑی دھمکی دے دی

    ذرائع کے مطابق پاکستان کے ایک ممتازعالم دین ،محقق مولانا اجمل قادری کے اس انکشاف کے بعد کہ نوازشریف کے اسرائیل سے خصوصی تعلقات ہیں اورنوازشریف نے انہیں اسرائیل بھیجا تھا ، نوازشریف کی سیاست کا جنازہ نکال دیا ہے

    ادھر مولانا اجمل قادری کے سچ کے بعد ن لیگ کی طرف سے حسب سابق مریم اورنگزیب کوسچ کوجھوٹ ثابت کرنے کا فریضہ سونپا گیا ،
    مریم اورنگزیب نے مولانا اجمل قادری کے انکشاف کوسراسرجھوٹ قراردے کرمسترد کردیا تھا

     

     

     

    مولانا اجمل قادری نے کیا انکشاف کیا؟ میسج ٹی وی کے میزبان عبدالمتین سے مولانا اجمل قادری کی گفتگو سنیں

     

    ادھر ذرائع کے مطابق مولانا اجمل قادری نے مریم کی طرف سے نوازشریف کی اسرائیلی نوازیوں‌ پرپردہ ڈالنے کی کوششوں‌ اورپاکستان سے چند لوگوں کواسرائیل بھیجنے کے احکامات سے توجہ ہٹانے کے معاملے پرسخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بڑی حیرانی کی بات ہے کہ اک سابق وزیراعظم جھوٹ بول رہا ہے

    مولانا اجمل قادری نے خبردارکیا اورکہا کہ میں جھوٹ نہیں بول رہا بلکہ نوازشریف جھوٹ بول رہے ہیں ، اگرانہوں‌ نے اپنے سیاہ کارناموں‌پر ایسے بیانات کے ذریعے پردہ ڈالنے کی کوشش کی تو ان کے پاس نوازشریف کے اسرائیل کے حوالے سے اوربھی راز ہیں جوقوم کے سامنے رکھ دوں‌ گا

  • ایم کیو ایم وزرا کبھی بھی حکومت نہیں چھوڑیں گے،مصطفیٰ کمال کا دعویٰ

    ایم کیو ایم وزرا کبھی بھی حکومت نہیں چھوڑیں گے،مصطفیٰ کمال کا دعویٰ

    ایم کیو ایم وزرا کبھی بھی حکومت نہیں چھوڑیں گے،مصطفیٰ کمال کا دعویٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کراچی میں تمام وسائل موجود ہے،کراچی کے شہریوں کو ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے،

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے نتائج سب نے مسترد کردیئے،کراچی میں تمام وسائل موجود ہے،کراچی والوں کواحساس دلایا جاتا ہے تم پاکستانی نہیں ہو،بھٹو کے کوٹے سسٹم کے زہر آلود نسخے سے آج تک زہر پھیل رہا ہے ،کوٹا سسٹم سے تعصب کی دیوار حکمرانوں کی وجہ سے کھڑی ہے ،کوٹہ سسٹم سے سب سے زیادہ نقصان سندھی بھائیوں کو ہوا، مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو غلط ثابت کیا گیا،

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی کی آبادی 3کروڑ سے کم نہیں ہے لیکن ایک کروڑ 40 لاکھ ظاہر کی گئی ،کراچی بڑا بدقسمت شہر ہے،ہرت ھوڑے دن بعداحساس دلایا جاتا ہے،بھٹو کے دور حکومت میں یہاں کے چلتے ہوئے کاروبار پر قبضہ کرلیا گیا،قابلیت کو نظر انداز کر کے بٹوارہ کردیا گیا،ایم کیو ایم کو حکومت سے الگ ہو کر اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیے، ملک میں اس وقت کمزور ترین حکومت ہے،

    پاک سرزمین پارٹی مصطفٰی کمال پہ لگائے گئے الزامات کومسترد کرتی ہے: ترجمان

    نیب نے احتساب عدالت میں سربراہ پی ایس پی مصطفیٰ کمال و دیگر کےخلاف ریفرنس دائر کیا ہے

    بانی ایم کیو ایم کی ہدایت پر خالد مقبول صدیقی کب بھارت گئے؟ مصطفیٰ کمال نے بڑے انکشافات کر دیئے

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ خالد مقبول صدیقی جے آئی ٹی میں را کے ایجنٹوں کے معاملے میں ملوث ہیں، ایم کیو ایم وزرا کبھی بھی سیٹیں نہیں چھوڑیں گے،جیسے ہی یہ حکومت چھوڑیں گے یہ جیلوں میں جائیں گے،کراچی کے چوکیدار چوروں سے ملے ہوئے ہیں،لوگوں نے آپ کو مردم شماری ٹھیک کرانے کیلیے ووٹ دئے تھے،خالد مقبول آنکھوں میں دھول جھونکنےکیلئے پریس کانفرنس کرتے ہیں،تمام وسائل کے باوجود کراچی کے مسائل حل نہیں ہوئے سندھ میں 70لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں،

    کراچی کی عوام کو ایک قطرہ پانی کا نہ دینے والے انقلاب لانے کی بات کر رہے ہیں، مصطفیٰ کمال برس پڑے

    کرونا کے باعث نالوں کی صفائی کا کام تاخیرکا شکار ہوا،وزیراعلیٰ سندھ

    صوبائی خود مختاری کے نام پر صرف ایک شخص کو اختیار دیا گیا،مصطفیٰ کمال

    کراچی کے مسئلہ پر آرمی چیف کو وزیراعلیٰ سندھ سے بات کرنی چاہئے،مصطفیٰ کمال نے کیا تشویش کا اظہار

    این ایف سی کے سارے پیسے وزیراعلیٰ لے کر بیٹھ جاتے ہیں،مصطفیٰ کمال

    مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے آج تک عوامی مسائل کے حل کے لیے ہڑتال نہیں کی ،اتنی کرپشن کرنے کے باوجود ان کا میئر باہر گھوم رہاہے چند سو ہزار رشوت لے کر پیپلز پارٹی نوکریاں دے رہی ہے جعلی ڈومیسائل بناکر کراچی کے کوٹے کو بھی ہتھایا جارہا ہے،کراچی کی آبادی 3 کروڑ سے کم نہیں ہے ،حکومت کی دو نشستیں بھی کم ہوئیں تو برداشت نہیں کرسکے گی،بھٹو نے کوٹہ سسٹم سے سندھیوں اور مہاجروں میں دیوار کھڑی کردی، آج تک مہاجروں میں کوٹہ سسٹم دیہی آبادیوں میں وڈیرے لوگوں کے مالک بنے ہوئے ہیں، جعلی مردم شماری کابینہ سے منظور کرالی گئی ،10 سے13 ارکان کی برتری سے مرکزی حکومت چل رہی ہے،ایم کیو ایم وزرا کبھی بھی سیٹیں نہیں چھوڑیں گے،ایم کیو ایم وزرا کے اپوزیشن میں جانے سے حکومت گرجائے گی،اس سے کمزورحکومت پاکستان میں نہیں آئی

  • گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ: ڈرہےفضاعمران خان کے حق میں ہوجائےگی :نوازشریف

    گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ: ڈرہےفضاعمران خان کے حق میں ہوجائےگی :نوازشریف

    لاہور: گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ ڈرہےفضاعمران خان کے حق میں ہوجائےگی :نوازشریف نے لندن سے پھرخدشات بھری ٹویٹ کردی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا شوشہ حکومت اور سلیکٹرز کو این آراو دلوانے کیلئے ہے،

     

     

     

    نوازشریف نے کہا کہ انہیں یہ ڈر ہے کہ یہ گفتگوشروع کروا کرعوام کواس میں شامل کرکے پاکستان کے سیاسی حالات کا رخ موڑنے کی کوشش کی جائے گی ،نوازشریف نے کہا کہ یہ شوشہ ووٹ چوری کرکے عمران خان کو لانے والے چھوڑ رہے ہیں، کسی بھی ڈائیلاگ کا حصہ بننا اپنے مقدس مقصد سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے ٹویٹر پر گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی باتوں پر اپنے ردعمل میں واضح کیا کہ ووٹ چوری کرکے عمران خان کو لانے والے اب گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں۔

     

     

    واضح رہے مسلم لیگ فنکشنل کے رہنماء محمد علی درانی گزشتہ روز سے متحرک ہیں، انہوں نے گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر شہبازشریف سے جیل میں ملاقات بھی کی۔آج نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور لندن میں ٹریک ٹو مذاکرات شروع ہوگئے ہیں، جنوری فروری میں استعفے بھی نہیں آئیں گے، لانگ مارچ آگے چلا جائے گا، سینیٹ الیکشن بھی ہوں گے۔

    دوسری جانب ن لیگ کے سینیٹر آصف کرمانی نے محمد علی درانی کی پیشگوئیوں کو یکطرفہ اورپی ڈی ایم میں دراڑ ڈالنے کی کوشش قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ محمد علی درانی سے متعلق جو تذکرہ کیا جارہا ہے ، اس میں درانی کی اپنی پیشگوئیاں اور بیانات شامل ہیں، جبکہ شہبازشریف کا براہ راست یا ان کے ترجمان کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

  • نوازشریف کےاسرائیل سے خصوصی تعلقات ہیں: انہوں نے مجھے اسرائیل  بھیجا : مولانا اجمل قادری

    نوازشریف کےاسرائیل سے خصوصی تعلقات ہیں: انہوں نے مجھے اسرائیل بھیجا : مولانا اجمل قادری

    لاہور:نوازشریف کےاسرائیل سےتعلقات ہیں:انہوں نےمجھےاسرائیل بھیجا،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا ہے کہ مولانا اجمل قادری نے پردہ اٹھا دیا کہ نواز شریف نے انہیں اسرائیل بھیجا تھا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی نے مزید لکھا کہ مریم صفدر کے ٹوئٹر پر اقرار کے بعد کہ میاں نوازشریف نے 2 بار وفد اسرائیل بھیجا،

    اس حوالےسے اس دورے کے اہم کردار مولانا اجمل قادری کا اعتراف کہ سابق ویراعظم کے اسرائیل بھیجے گئے وفد میں وہ بھی شامل تھے۔

     

     

    انہوں نے لکھا کہ جھوٹ، مکر، فریب، فراڈ اور کرپشن، منافقت میں ماہر مریم صفدر سے اب قوم سوال پوچھتی ہے کہ نواز، اسرائیل کا ایجنٹ کیوں بنا؟۔

    ڈاکٹر شہباز گل نے مزید لکھا کہ نریندرا مودی کے ساتھ کھٹمنڈو میں ملاقاتوں کا راز تو برکھا دت نے فاش کر دیا تھا، اب مولانا اجمل قادری نے بھی پردہ اٹھا دیا کہ نواز شریف نے انہیں اسرائیل بھیجا تھا، اب سمجھ آئی کے کہ نواز دن رات پاکستانی فوج کے خلاف زہر کیوں اگلتا ہے، اب قوم جاننا چاہتی ہے کہ یہ کھیل کب سے کھیلا جا رہاُہے۔

  • سعودی عرب بمقابلہ پاکستان، اصل کہانی سامنے آ گئی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    سعودی عرب بمقابلہ پاکستان، اصل کہانی سامنے آ گئی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    سعودی عرب بمقابلہ پاکستان، اصل کہانی سامنے آ گئی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ آج کی اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے کے سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات بلکل ختم ہونے جا رہے ہیں۔ یا پاکستان سے تعلقات قائم کیئے رکھنا سعودی عرب کی مجبوری ہے۔ وہ مجبوریاں کون کون سی ہیں۔ ناراضگی کی اصل وجوہات کیا ہیں، کیا ایک وجہ ہے یا کافی وجوہات شامل ہیں۔ کیا پاکستان سعودی عرب کے مقابلے میں بے بس ہو چکا ہے ۔؟یا Trump card
    ابھی بھی اس کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں آپ کو اس صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کروں آپ کو ایک خبر دوں کہ اسرائیل میں پالیمنٹ Dissolveہو چکی ہے۔ نیتن یاہو کی حکومت ختم ہو چکی ہے وہ نیتن یاہو جس نے ٹرمپ انتظامیہ کو بھی تگنی کا ناچ نچایا ہوا تھا اور اس وقت دنیا کے ہر معاملے میں اسرائیل پھنسا ہوا ہے اس کے جانے سے خطے پر کیا اثرات پڑیں گے اس پر کسی اور وقت بات کریں گے لیکن کچھ سوال جو آنے والے دنوں مین مشرق وسطی میں حالات کی سمت کا تعین کریں گے وہ میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے دوسری جماعت کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی کیونکہ اس کے پاس حکومت بنانے کے لیئے مطلوبہ سیٹیں موجود نہیں تھی۔ اور پاور شیئرنگ کے فارمولے پر حکومت بنائی گئی تھی لیکن اب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ نیتن یاہونے بجٹ کو پاس نہ کروا کر اسمبلی توڑنے کا جواز بنایا ہے۔ دو ہزار اکیس کے اخر میں Netanyahuنےوزیر اعظم کا عہدہ Mr Gantz کو منتقل کرنا تھا جو تیس سیٹوں کے ساتھ وبا کی وجہ سےان کے اتحادی بنے تھے۔ کیونکہ دو سالوں میں اسرائیل میں یہ چوتھا الیکشن ہو گا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کے جانے سے خطے کی سیاست پر کیا فرق پڑے گا۔کیا اب اسرائیل کی دنیا بھر میں ممالک کو تسلیم کروانے کی کمپین ختم ہو جائے گی۔؟کیا گلف ممالک کے اسرائیل سے تعلقات میں کوئی فرق آئے گا۔؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تو اس کا جواب ہے کچھ بھی نہیں ، یہ تو ہو سکتا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اسرائیل کو ٹرمپ کی طرح انکھیں بند کر کے سپورٹ نہ کرے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ اسرائیل کو سپورٹ نہ کیا جائے۔ امریکہ میں موجود اسرائیلی لابی ہرامریکی صدر سے اسرائیل کے لیئے خاص رعایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔لیکن نئے سروے کے مطابق نیتن یاہو مارچ میں ہونے والے الیکشن میں اکشریت حاصل کر لیں گے اور دوبارہ آ کر گلف ممالک کے ساتھ مل کر نئے اتحاد کے ذریعے معاملات کو علاقائی سطح پر دیکھا جائے گا۔ جس میں ایران، امن مزاکرات سمیت دیگر معاملات شامل ہوں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب بات کرتے ہیں سعودی عرب کی۔۔ پاکستان اور سعودی عرب کو لے کر آئے روز کوئی نہ کوئی نئی بات سننے کو ملتی ہے کہ کیوں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات خراب ہیں۔ پہلے تو حکومت یہ ماننے کے لیئے تیار نہیں ہے کہ واقعی سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات خراب ہیں۔ایک طرف سعودی عرب مشکل وقت میں ادھار کی واپسی پر ایک لمحہ بھی دینے کے لیئے تیار نہیں ہے۔ جس کی ماضی مین مثال نہیں ملتی ، اگر تاریخ سے رہنمائی لی جائے تو ، سعودی عرب کے لئے پاکستان سے اپنے قرضوں کی ادائیگی کا مطالبہ کرنا غیر معمولی بات ہے۔کیونکہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی ضروریات کا خیال رکھا ہے تو دوسری طرف
    نومبر میں نائیجر میں او آئی سئ اجلاس میں کشمیر کے بارے میں ایک سخت الفاظ میں بیان جاری کیا جس میں تمام پاکستانی مطالبات کو پورا کیا گیا جو کہ سعودی عرب کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک فیصلے کو دیکھیں تو حالات خراب ہیں دوسرے کو دیکھیں تو حالات ٹھیک ہیں۔کئی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی کرنسی کی قدر کم ہو رہی ہے، چین ابھر رہا ہے، دنیا میں طاقت کے نئے مرکز بن رہے ہیں، بہت سے مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے، امریکہ میں نئی حکومت آنے سے کچھ تبدیلی متوقع ہے جبکہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے تو ایسی صورت حال میں یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کے تعلقات بھی ایک جیسے رہیں گے۔اب سوال پیداہوتا ہے کہ اس میں صرف ایک مسئلہ درپیش ہے یا کافی سارے معاملات مل کر یہ صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت مشرق وسطہ جو ہمیشہ سے ہی امریکی مفادات کا مرکز رہا ہے میں بڑی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ دوست دشمن اور دشمن دوست بن رہے ہیں اورگلف ممالک کے ذریعے اور خاص طور پر سعودی عرب کی ہدایات پر اسرائیل کو تسلیم کرنے سےپاکستان کا انکار سعودی عرب کے غصے میں اضافہ کر رہا ہے۔لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے جب ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط ادا کی تھی تو اس وقت صرف شاہ محمود قریشی کا بیان تھا اس وقت اسرائیل کے ایشو نے جنم نہیں لیا تھا۔اگر پاکستان اسرائیل کے معاملے پر سعودی عرب کی بات من و عن مان لیتا تو شائد چیزیں بہتر ہو جاتی لیکن اب سعودی عرب پاکستان کو منانے کے لیئے Stick & carretکا استعمال کر رہا ہے جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ لیکن اب سعودی عرب نے پاکستان کی کمزوری بھارت کو بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے بھارتی آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب کو پاکستان کے منہ پر تمانچہ سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن کیا بھارت پاکستان کی کمی پوری کرنے کے قابل ہے؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت پوری کوشش کر رہا ہے کہ اسرائیل کو استعمال کرتے ہوئے بھارت کے لیئے گلف میں معاشی اور سیاسی فائدے حاصل کیئے جائیں اور پاکستان کو دبایا جائے۔اس صورتحال میں سعودی عرب پاکستان کو واضح پیغام دے چکا ہے کہ اب Free lunch نہیں ملے گا۔اب پاکستانیوں کو نوکری کے مواقع فراہم کرنے اور پاکستان کی معیشت کو بیل آوٹ دینے کے بدلے سعودی عرب کو اپنی سیاسی پوزیشن پر پاکستان کی سپورٹ چائیے
    اس وقت وبا کی تباہ کاریوں کے باوجود پاکستان میں سب سے زیادہ ڈالر بیرونی کارکنوں کی ترسیلات کی صورت میں آرہا ہے۔ جس میں بڑا حصہ سعودی عرب اور گلف ممالک سے آتا ہے۔عرب امارات سے ویزوں کے معاملے پر تاخیر، سعودی عرب سے تیل بند، دو ارب ڈالر کا قرض لے کر واپسی، بھارتی آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب۔ان واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیئے عرب ممالک اور ایران کے درمیان تعلقات میں توازن کی روائیتی پالیسی اپنا راستہ لے رہی ہے۔سعودی عرب کی جانب سے بھارت سے تعلقات بہتر کرنا بھی اس کی Stick & carrot پالیسی کا حصہ ہے۔ جوپاکستان پر ایران کے حوالے سے اس کی پالیسی پر نظر ثانی، اسرائیل کا معاملہ اور پاکستان کی طرف سے دو ہزار پندرہ میں یمن وار میں شرکت سے انکار کی وجہ سے ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب سعودی عرب پاکستان کو یہ اشارہ دے رہا ہے کہ اب بھی پاکستان کے ساتھ معاشی اورStreategicتعلقات جاری رکھنا ممکن ہیں مگر اس کے لیئے نئے اصول وضح کرنے پڑیں گے جہاں باہمی مطالبات اور توقعات کو نئی شکل دینے کی ضرورت ہے۔اس وقت سعودی عرب کی نوجوان قیادت امریکہ میں انتظامیہ کی تبدیلی کی وجہ سے بھی گھبراہٹ اور ہلچل کا شکار ہے۔ اوپر سے یمن سعودی عرب کا ویتنام بن چکا ہے۔ایران سے امریکی ڈیل کی بحالی سعودی عرب کے لیئے ڈرونا خواب بن چکا ہے جبکہ پاکستان کے چین کی وجہ سے ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات بھی سعودی لیڈر شپ کے لیئے پریشانی کا سبب ہیں۔حال ہی میں ، پاکستان اور ایران نے اقتصادی تعلقات کو بڑھانے کے لئے گوادر اور چابہار بندرگاہوں کے درمیان پہلا سرحدی پوائنٹ کھولا ہے۔اسی طرح ، ترکی کے ساتھ پاکستان کی قربت نے بھی سعودیوں کو ناراض کیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسلم دنیا میں سعودی عرب کی قیادت کو متنازعہ قرار دیا ہے۔ دسمبر 2019 میں ، سعودی دباؤ کی وجہ سے پاکستان کو اخری وقت میں ترکی ، قطر ، ایران اور ملائشیا کی مشترکہ میزبانی میں ، کوالالمپور سمٹ سے نکلنا پڑا۔ اس کو
    ایک چیلنج سمجھا گیا تھا۔ترکی اور پاکستان نے حال ہی میں دفاع اور معیشت کے حوالے سے کئی معاہدے کیئے ہیں۔ ترکی چین پاکستان اقتصادی راہداری میں بھی سرمایہ کاری کرنے کا خواہاں ہے۔ سب سے بڑھ کر ، ترکی سعودی عرب کے برعکس ، اسلام آباد کو کشمیر پر غیر مشروط مدد فراہم کرتا ہے۔اس لیئے سعودی عرب کے ساتھان دو طرفہ تعلقات میں وقتی طور پر یا مختصر عرصے کے لیئے تعطل رہنے کا امکان ہے لیکن چند وجوہات کی بنا پر اس کے مکمل طور پر ختم ہونے کے امکان کم ہیں۔سعودی عرب میں مسلمانوں کے دو مقدس مقامات مکہ اور مدینہ ہیں جو اسے عالم اسلام کا لیڈر بننے کے لیئے بھی ایک اہم جواز فراہم کرتا ہے۔پاکستان دوسری بڑی مسلم قوم ہے اور مسلم دنیا کا واحد جوہری ملک ہے۔ یہ دونوں خصوصیات پاکستان کو مسلم دنیا میں ایک لازمی اور انوکھا مقام عطا کرتی ہیں۔ لہذا ، سعودی عرب، پاکستان کو ایک حد سے زیادہ دیوار سے لگانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ سعودی عرب کو مسلم دنیا میں اپنا مقام قائم رکھنے کے لیئے پاکستان کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کی پاکستان کو اپنی معیشت کو سنبھالنے کے لیئے سعودی پیسوں کی۔دوسرا پاکستانی سعودی عرب میں دوسرا بڑاغیر ملکی گروپ ہیں۔سعودی عرب کی طرف سے ہزاروں پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا ہے لیکن لاکھوں لوگوں کو اس طرح Replace کرنا آسان نہیں ہو گا۔ کیونکہ سعودی عرب کو اتنی سستی لیبر جو اس ملک سے روحانی وجوہات کی وجہ سے محبت بھی کرتی ہو حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسرا جہاں پاکستان کو سعودی عرب سے اورسیز پاکستانی پیسہ بھیجتے ہیں وہاں پانچ لاکھ سے زاہد پاکستانی ہر سال عمرہ کے لیئے ، جبکہ دو لاکھ پاکستانی حج کے لیئے ہر سال سعودی عرب جاتے ہیں اور ہر سال یہ آٹھ لاکھ پاکستانی اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ ایک غریب ساری عمر پیسہ جمع کر کے بڑی خوشی سے حج اور عمرہ کرنے جاتا ہے۔ جو سعودی عرب کی تیل سے الگ آمدنی کا سبب بنتی ہے۔ سعودی عرب اس سالانہ آمدنی کو بھی چھیڑنے کا نہیں سوچ سکتا۔اس لیئے سعودی عرب اور گلف ممالک کے تعلقات بلکل منقطع ہونے کا خدشہ نہیں ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلقاتStreategic سے روائیتی تعلقات میں تبدیل ہو جائیں گے۔لیکن جب تک پاکستان پر تنہائی کی لٹکتی ہوئی تلوا ر ہے پاکستان کو خارجہ پالیسی کے میدان میں Extra ordinary کارکردگی دیکھانی پڑے گی۔

  • تیسری عالمی جنگ، کون کس کا ساتھ دے گا ،امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ،جانئے مبشر لقمان کا حقائق پر مبنی تجزیہ

    تیسری عالمی جنگ، کون کس کا ساتھ دے گا ،امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ،جانئے مبشر لقمان کا حقائق پر مبنی تجزیہ

    تیسری عالمی جنگ، کون کس کا ساتھ دے گا ،امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ،جانئے مبشر لقمان کا حقائق پر مبنی تجزیہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارت اپنے پڑوسی ملکوں خصوصاً پاکستان کیخلاف مسلسل جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ وجہ میں آپکو آگے چل کر بتاتا ہوں کیونکہ اس وقت بھارت جو کچھ بھی کررہا ہے وہ کسی شہ پر کررہا ہے ۔ صرف اس خطے میں نہیں پوری دنیا میں نئی گریٹ گیم جاری ہے ۔ اور بھارت اس گریٹ گیم میں سب سے اہم مہرہ ہے ۔ اور میرے خیال میں بھارت نے نئی عالمی جنگ کی بنیاد رکھنی ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں جانتی ہیں پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں۔ اِن دونوں کے درمیان کوئی بھی کشیدگی بڑھتے بڑھتے عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے ۔ جس کے اثرات لامحالہ پورے کرۂ ارض پر پڑیں گے ۔ابھی تک تو پاکستان کا مدبرانہ اور پُرحکمت رویہ ہی ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں بڑھتی بھارتی اشتعال انگیزیوں نے کسی نئی بڑی جنگ کی صورت اب تک اختیار نہیں کی۔ مگر میرے خیال میں زیادہ عرصہ اب اس کو نہیں ٹلا جا سکے گا ۔ میری تھیوری کے مطابق middle east far east asia ،south asia ،central asia ،europe اور افریقہ میں نئ صف بندیاں ہوچکی ہیں ۔ اسلحہ ، گولہ بارود کے ڈھیر لگ چکے ہیں ۔ یہ طے ہو گیا ہے کہ کون کس کا ساتھ نبھائے گا ۔ اب بس بڑے پلیئرز کو انتظار ہے ۔ کہ کہیں نہ کہیں سے چنگاری سلگائی جائے ۔ اور میرے تمام حساب کتاب اور تجزیہ کے مطابق یہ کام بھارت کرے گا ۔ اور جیسے ہی بھارت اس چنگاری کو سلگائے گا ۔ بڑے بڑے پلیئرز اس میں کودتے چلے جائیں گے ۔ یہ تو اب سب کو نظر آنے لگا ہے کہ دنیا میں ایک پاور بلاک نہیں رہا ۔ عالمی سطح پر بھی اور علاقائی سطح پر بھی نئے اتحاد تشکیل پا چکے ہیں ان اتحادوں کے خدوخا ل ظاہر بھی ہو نے لگے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک منصوبے کے ذریعے پاکستان پہلے ہی چین کا سٹریٹیجک پارٹنر بن چکا ہے چینی سفارتکاری نے ایران کو بھی ہندوستان سے کاٹ کر اپنے ساتھ شامل کر لیا ہے۔ چاہ بہارپورٹ جو سی پیک کے مقابلے میں اور گوادر کی اہمیت کم کرنے کیلئے فعال بنائی گئی تھی اب سی پیک کے ساتھ جڑ چکی ہے روس نظریاتی طور پر تو پہلے ہی چین کا ساتھی تھا اب نئی پارٹنر شپ کے مطابق عملی طور پر بھی چینی بلاک میں شامل ہو چکا ہے۔ روس،چین،پاکستان اور ایران کے اتحاد کے ذریعے ایک نئے عالمی و علاقائی اتحاد کا nucleus تشکیل پا چکا ہے ۔ آپ دیکھیں مشرق وسطی میں بنتے نئے اتحاد کے مقابلے میں اسلامی ممالک کا ایک نیا اتحاد میں بنتا دیکھائی دینا شروع ہو چکا ہے ۔ اس میں پاکستان ایران ترکی کے مابین حالیہ ریلوے منصوبے کو بھی اس تناظر میں دیکھیں ۔ ساتھ ہی اس اتحاد میں اگر آپ ملائیشیا اور انڈنیشیا کو شامل کر لیں ۔ اور ساتھ دیگر چھوٹے اسلامی ممالک کو ۔۔۔ تو آنے والے وقتوں میں اسلامی ممالک کا بلاک بھی دو حصوں میں بٹا نظر آتا ہے ۔ ایک بلاک جس میں عجمی ہوں گے اور دوسرا جس میں عربی ہوں گے ۔ کئی یورپی ممالک پہلے ہی چین کے تجارتی شراکت دار بنے ہوئے ہیں ساؤتھ ایشیامیں کئی چھوٹے ممالک چین کے اتحادی بن چکے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری طرف امریکہ بھی چین کا گھیراؤ کرنے کی منظم منصوبہ بندی کر رہا ہے۔امریکہ اور اسرائیل تو پہلے ہی ایک دوسرے کے فکری وعملی شراکت دار ہیں کئی عرب ممالک بھی اس کے شراکت دار بن چکے ہیں اور باقی شراکت داری کے لئے پر تول رہے ہیں امریکہ نے چین کو ساؤتھ چائنہ سی میں گھیرنے کی منصوبہ سازی کر لی ہے اس کے ارد گرد جاپان،فلپائن،تائیوان،ساؤتھ کوریا،ویت نام، انڈونیشیا، ملائیشیا، برونائی ،آسٹریلیااور ہانگ کانگ جیسے ممالک کو ساتھ ملا لیا ہے جہاں امریکی بحری عسکری قوت جمع ہو چکی ہے۔ بھارتی نیول فورس کو بھی آبنائے ملاکا میں آگے بڑھنے اور چینی بحری جہازوں کو بلاک کرنے کی شہ دی جا رہی ہے۔ آبنائے ملاکا چین کی تجارت کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے چین کا 80 فی صد درآمد ی تیل اسی راستے سے گزرتا ہے اسلئے اس خطے میں چینی تیل کی ترسیل میں کسی قسم کی رکاوٹ چین کیلئے خطر ناک ثابت ہو سکتی ہے۔ چین یہ بات اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہے بھارت کی آبنائے ملاکا بند کرنے کے خلاف بھارتی ریاست سِکّم پر قبضہ کر کے suliguri cooridor جو کہ بھارت کی سات ریاستوں (آسام، ناگا لینڈ، میزو رام،اروناچل پردیش،منی پور،تری پور)کو باقی بھارت سے ملاتا ہے،کوکاٹ کر بھارت سے الگ کر دے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی سرکار کے نہتے کشمیری اور بھارتی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور سکھوں کیخلاف انتہاء پسندانہ جنونی اقدامات کے ردعمل میں آج بھارت جس بری طرح اندرونی خلفشار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ پر مغرب نے صرف اس نئے بنتے بگڑتے عالمی اتحادوں کہ وجہ سے بھارت کے حوالے سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ۔ بھارت درحقیقت پاکستان کو اشتعال دلا کر اسکے کسی جوابی اقدام کو جواز بنا کر اس خطے میں باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی تیاریوں میں ہے جس کا بھارت کی سول اور عسکری قیادتوں کی جانب سے اعلانیہ اظہار بھی کیا جاتا ہے۔ ہندو انتہاء پسندوں کی نمائندہ مودی سرکار کے اقتدار کے پہلے دن سے آج تک بھارت نے کنٹرول لائن پر پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی میں کمی نہیں آنے دی اور اس نے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کیخلاف اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جو مودی سرکار کے پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کے ایجنڈے کے عین مطابق ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت صرف پاک فوج نہیں عام پاکستانی بھی بھارتی فوج کو پاکستان کیخلاف کسی بھی جارحیت اور مہم جوئی پر منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے ۔ کیونکہ ہم کو تو عزوہ ہند کی بشارت ہے ۔ اور اس میں شامل ہونا ہر مسلمان کی خواہش ہے ۔ لداخ میں چین کی موجودگی اور فوجی نوعیت کی تعمیرات کو دیکھتے ہوئے اس بات کا قوی امکان نظر آ رہا ہے کہ چین بھی اپنا عسکری بازو آزمانے اور دکھانے کیلئے پر عزم ہے۔ بھارت نے خطے میں تبت کارڈ کھیلنے کیلئے دلائی لامہ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے دلائی لامہ کو پوری دنیا میں پھرایا جائے گا تاکہ چین کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا سکے اقوام متحدہ میں بھی لیجایا جا ئے گا اس کی ہر جگہ پشت پناہی کرے گا تا کہ چین کی سبکی ہو۔چین نے اس کا مقابلہ کرنے کیلئے کشمیر کارڈ کھیلنے کی منصوبہ سازی بھی کر رکھی ہے۔ کشمیر پر بھارتی قبضہ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مزاحمتی تحریک کو توانائی مہیا کر کے بھارت کی بندوق کرنے کا پورا پلان صاف دیکھائی دے رہا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تبت کارڈ کے مقابلے کیلئے چینی افواج کی لداخ میں موجودگی کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کیلئے ایک بہت بڑی سپورٹ ہو گی اس طرح چینی مفادات کا تحفظ بھی ہو سکے گا چین اپنے مفادات کیلئے یہ سب کچھ بڑی یکسوئی کے ساتھ کرے گا۔ پاکستان کو فائدہ ہو گا ایران بھی یکسوئی کے ساتھ چین کا اتحادی بن چکا ہے۔ عرب ممالک ابھی تک تو امریکی حصار میں قید نظر آ رہے ہیں انہوں نے اگر چین کے خلاف امریکی دباؤ کے آگے جھکے رہنے کا فیصلہ کر لیا تو انکے لئے معاملات مشکل ہو سکتے ہیں چین نے سعودی عرب اور دیگر تیل سپلائی کرنے والے عرب ممالک کو پیش کش کی ہے کہ وہ تیل کی تجارت ڈالر کی بجائے اپنی اپنی کرنسیوں میں کریں وہ اس حوالے سے انکی معاونت بھی کرنے کیلئے تیار ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو ڈالر کو شدید دھچکا لگے گا لیکن بظاہر عرب ایسا کرنے کی جرات نہیں رکھتے ہیں اس بات کا بھی امکان موجود ہے کہ چین سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کی بجائے ایران اور روس سے تیل خریدنا شروع کر دے چین صرف سعودی عرب سے 40 ارب ڈالر سالانہ کا تیل خریدتا ہے ایران نے چین کو یہ تیل آدھی قیمت پر سپلائی کرنے کی آفر کی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں چین کو بھی اپنا عسکری بازو دکھانا اور منوانا ہو گا اسے امریکی سفارتی و سازشی کاوشوں کا عسکری میدان میں بھی توڑ کر کے دکھانا ہوگا کیونکہ امریکہ اپنی عسکری مشین کے ذریعے ہی اپنی سفارتی اور خارجہ پالیسی نافذکرتا ہے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے امریکی فوجی اڈے اسکی خارجہ پالیسی کے محافظ ہیں چین کے خلاف امریکی حکمت عملی کا توڑ کرنے کیلئے چین کو اپنی عسکری قوت دکھانا ہو گی۔ آخر میں ایک بار پھر آپ جتنے بھی حساب کتاب لگا لیں ۔ جتنا بھی پڑھ لیں ۔ جتنا بھی حالات کو سمجھ لیں ۔ تیسری عالمی جنگ کے تمام حالات واقعات آپکو جنوبی ایشیاء میں ہوتے دیکھائی دیں گے ۔ آپ کیا رائے رکھتے ہیں نیچے کمنٹس میں لازمی بتائیں ۔

  • دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی،آرمی چیف کا پیغام

    دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی،آرمی چیف کا پیغام

    دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی،آرمی چیف کا پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش پر پیغام میں کہا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بانی پاکستان کے یوم پیدائس پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ قوم عقیدت و جذبے سے اپنے قائد محمدعلی جناح کا یوم پیدائش منارہی ہے،ایمان ، اتحاد، نظم و ضبط ہمیشہ ہمارے بنیادی اصول رہے،قوم قائد کے رہنما اصول اتحاد ،ایمان او رنظم و ضبط پر عمل پیرا ہے

    پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب کب پورا ہو گا؟ وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا بڑا دعویٰ

    بانی پاکستان کے یوم پیدائش پر وزیراعلیٰ سندھ نے دیا اہم پیغام

    ہم ملک کو مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں؟ گورنر سندھ نے بتا دیا

    بانی پاکستان کے یوم پیدائش پر صدر مملکت کا اہم پیٍغام

    چیلنجوں اور مشکلات سے نبرد آزما ہونے کیلئے کیا کرنا ہو گا، وزیراعظم کا اہم پیغام

    بانی پاکستان کے یوم پیدائش کے سلسلے میں ملک بھر میں تقریبات منعقد کی جارہی ہیں جبکہ سرکاری اور نجی سطح پر سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف تقاریب اور سیمینارز کا اہتمام کیا گیا ہے جس سے خطاب کے دوران مقررین بانی پاکستان کی ملک و ملت کیلئے گرانقدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔

    گورنر و وزیراعلیٰ سندھ کی مزار قائد پر حاضری

  • چیلنجوں اور مشکلات سے نبرد آزما ہونے کیلئے کیا کرنا ہو گا، وزیراعظم کا اہم پیغام

    چیلنجوں اور مشکلات سے نبرد آزما ہونے کیلئے کیا کرنا ہو گا، وزیراعظم کا اہم پیغام

    چیلنجوں اور مشکلات سے نبرد آزما ہونے کیلئے کیا کرنا ہو گا، وزیراعظم کا اہم پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کو قیام پاکستان میں ان کے کردار پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں قائد کے فرمان اتحاد، ایمان اور تنظیم پر عمل کرنے کیلئے قومی جذبے کی تجدید کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو درپیش تمام چیلنجوں پر قابو پایا جا سکے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ زندگی کے تمام شعبوں میں عظیم قائد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قوم انہیں بھرپور خراج عقیدت پیش کرے۔ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح ہی وہ شخصیت ہیں جن کی وجہ سے ایک آزاد ماحول میں ہمیں آنکھ کھولنے کا موقع ملا، قائداعظم محمد علی جناح برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک وژن رکھتے تھے جس کے نتیجے میں پاکستان کی شکل میں ایک علیحدہ مملکت قائم ہوئی،

    پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب کب پورا ہو گا؟ وزیراعلیٰ پنجاب نے کیا بڑا دعویٰ

    بانی پاکستان کے یوم پیدائش پر وزیراعلیٰ سندھ نے دیا اہم پیغام

    ہم ملک کو مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں؟ گورنر سندھ نے بتا دیا

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ آج ہمیں بابائے قوم کا یوم ولادت بھرپور طریقے سے منانے کی ضرورت ہے۔ انسانی تاریخ کے جدید دور میں کچھ ہی شخصیات ایسی ہیں جنہیں ہمارے قائد کی طرح وسیع مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کا یہ عزم تھا کہ محرومی اور انتشار سے پاک ماحول میں ایک ایسی قوم تشکیل دی جائے جو ہر قسم کے چیلنجوں اور مشکلات سے نبردآزما ہو سکے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت قیام پاکستان کی شکل میں ایک عالمگیر وژن کی وجہ سے نہ صرف ہمارے لئے بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے ایک عملی نمونہ ہے، وہ ایمانداری اور صداقت کا عملی نمونہ تھے۔  یہ اللہ تعالیٰ کا ہمارے اوپر کرم ہے کہ اس نے ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کی سوچ کے مطابق دنیا میں ایک مضبوط قوم بننے کا ہمارے اندر احساس پیدا کیا ہے

    بانی پاکستان کے یوم پیدائش کے سلسلے میں ملک بھر میں تقریبات منعقد کی جارہی ہیں جبکہ سرکاری اور نجی سطح پر سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف تقاریب اور سیمینارز کا اہتمام کیا گیا ہے جس سے خطاب کے دوران مقررین بانی پاکستان کی ملک و ملت کیلئے گرانقدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔

    بانی پاکستان کے یوم پیدائش پر صدر مملکت کا اہم پیٍغام

     

  • سعودی عرب میں100سے زائدائمہ برطرف

    سعودی عرب میں100سے زائدائمہ برطرف

    ریاض: سعودی عرب میں100سے زائدائمہ برطرف،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے ملک کے طول وعرض میں بڑی تعداد میں ان امام مسجدوں کو ملازمت سے سبکدوش کر دیا ہے جنہوں نے عوام کو الاخوان المسلمون سے متعلق خبردار کرنے سے متعلق وزارت کی ہدایات پر عمل درآمد میں سستی کا مظاہرہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے وزارت اسلامی امور، دعوت اور ارشاد کے وزیر عبداللطیف بن العزیز آل الشیخ نے ’العربیہ‘ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی ہے۔

    سعودی عرب کے وزارت اسلامی امور، دعوت اور ارشاد کے وزیر عبداللطیف بن العزیز آل الشیخ نے ’العربیہ‘ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزارت اپنے ماتحت کسی ملازم یا امام کو ملازمت سے نکالنا نہیں چاہتی، لیکن اس کے ساتھ ہم انہیں ان کے منصب کے تفاضوں سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔

    عبداللطیف بن العزیز آل الشیخ کے مطابق کئی اماموں کی ملازمت سے برطرفی کی خبریں درست ہیں۔ ان کی برطرفی کی وجہ بیان کرتے ہوئے وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ ملازمت سے نکالے جانے والے امام مسجد کبار علما کونسل کی طرف سے الاخوان المسلمون کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو خلاف اسلام قرار دینے سے متعلق فتوی کی ترویج میں تساہل سے کام لے رہے تھے۔”

    سعودی عرب کے وزارت اسلامی امور، دعوت اور ارشاد کے وزیر عبداللطیف بن العزیز آل الشیخ نے ’العربیہ‘ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امام مساجد کی برطرفی کا یہ مطلب نہیں کہ سبکدوش کیے جانے والے اماموں کا تعلق الاخوان المسلمون سے تھا یا وہ ان کے نظریات کے حامی تھے،

    سعودی عرب کے وزارت اسلامی امور، دعوت اور ارشاد کے وزیر عبداللطیف بن العزیز آل الشیخ نے ’العربیہ‘ نیوز چینل سے اپنا اورریاست کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ وزارت کا فیصلہ انضباطی نوعیت کا تھا اور اسی لیے وزارت کے احکامات پر عمل نہ کرنے والے اماموں کو نوکری سے نکال کر ان کی جگہ ایسے افراد بھرتی کیے گئے ہیں جو وزارت کی ہدایت کو حقیقی روح کے ساتھ عوام الناس تک منبر کے توسط سے پھیلا سکیں۔“

    یاد رہے سعودی عرب نے 2014 میں الاخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔کثیر الاشاعت عرب اخبار ”عکاظ“ کے مطابق وزارت مذہبی امور، دعوت وارشاد اور وزارت بلدیات ودیہی امور مشترکہ اقدام کے ذریعے تمام بڑے کاروباری مراکز میں چلنے والی مسجدوں میں صرف سعودی قومیت کے حامل امام متعین کرنے کے منصوبہ پر کام کر رہے ہیں۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان علماکواخوان المسلمین کے حوالےسے بیان کردہ الزام کے تحت فارغ نہیں کیا گیا بلکہ اسرائیل اوریہودونصاریٰ سے تعلقات قائم کرنے پرتنقید کی وجہ سے نکالا گیا ہے ،

    یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اگریہی سلسلہ جاری رہا توملک میں حالات بگڑسکتے ہیں ، ادھر عرب امارات میں بھی علما کوان کی ذمہ داریوں سے جبری سبکدوش کرنے کی اطلاعات ہیں ، یہاں بھی ان علما کواسرائیل سے تعلقات پرتنقید کرنے کی وجہ سے فارغ کیا جارہا ہے