اسلام آباد:مسیحی برادری کو کرسمس مبارک ہو:پاکستان تمام مذاہب کوان کا جائزمقام دیتا ہے،،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے ایس او پیز پر عمل کرنے کی اپیل کردی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر وزیراعظم عمران خان نے بالخصوص پاکستان میں بسنے والی مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کرونا ایس او پیز پر عمل کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام مذاہب کوان کا جائزمقام دیتا ہے ،
ہمارے مسیحی شہریوں کو کرسمس کی ڈھیروں خوشیاں مبارک۔ وباء (COVID-19) کے حوالے سےمجوزہ احتیاطی تدابیر (SOPs) ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے محفوظ رہئیے۔
اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے مسیحی شہریوں کو کرسمس کی ڈھیروں خوشیاں مبارک۔ کرونا وبا (COVID-19) کے حوالے سےمجوزہ احتیاطی تدابیر (SOPs) ملحوظِ خاطر رکھیں اور محفوظ رہیں‘۔
خیال رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج مسیحی برادری کرسمس کا تہوار مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منارہی ہے، ملک کے بیشتر گرجا گھروں میں کرونا ایس او پیز کے ساتھ عبادات کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں کرسمس کے حوالے سے منعقد کی جانے والی دعائیہ تقریبات میں مسیحی برادری نے ملکی ترقی اور خوشحالی اور استحکام کے لیے دعائیں بھی مانگیں۔
کرسمس کے تہوار پر گرجا گھروں کو برقی قمقموں اورپھولوں کے ساتھ نہایت خوبصورتی سے سجایا دیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل مسیحی براداری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین اور بچوں نے کرسمس کے حوالے سے خریداری بھی کی۔
اس موقع پر نت نئے انداز ، رنگوں اور ڈیزائنوں کے کیکس، چاکلیٹس اور کنڈیز بھی تیار کرلی گئیں ہیں، مسیحی برادری کا کہنا ہے کہ کرسمس خوشیوں کا تہوار ہے۔ یہ امن اور محبت کا پیغام دیتا ہے، میٹھا کھانے سے خوشی کا احساس دوبالا ہوجاتا ہے۔
لاہور: قوم آج بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا 145 واں یوم پیدائش آج منائے گی ،اطلاعات کے مطابق بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کا 145واں یوم پیدائش 25 دسمبر بروزجمعہ کو جوش وخروش کے ساتھ منایا جائے گا۔
اس سلسلے میں ملک بھر میں تقریبات منعقد کی جائیں گی جبکہ سرکاری اور نجی سطح پر سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام مختلف تقاریب اور سیمینارز کا اہتمام کیا جائے گا جس سے خطاب کے دوران مقررین بانی پاکستان کی ملک و ملت کیلئے گرانقدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔
https://www.youtube.com/watch?v=dH-rl7cxH1c
ریڈیو اور ٹی وی چینلز کے ذریعے خصوصی پروگرام پیش کریں گے جبکہ قومی اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کریں گے جن میں جنوبی ایشیا کے عظیم رہنما کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔
قائداعظم نے کراچی کی بندرگاہ کے قریب واقع وزیر منشن میں 25 دسمبر 1876ء میں گجراتی تاجر جناح بھائی پونجا کے گھر آنکھ کھولی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882ء میں کیا، وہ 1893ء میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے انگلستان روانہ ہوئے۔
وہاں سے 1896ء میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سیاسی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے انڈین نیشنل کانگریس میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔
بعد ازاں قائداعظم نے 1913ء میں مسلمانوں کی نمائندہ واحد جماعت آل انڈیا مسلم لیگ جوائن کی اوریہاں سےعلیحدہ وطن کی باقاعدہ تحریک کا آغاز کردیا۔
بالآخر قائداعظم کی جدوجہد رنگ لائی اور چودہ اگست 1947ء کو برصغیرکے مسلمانوں کا علیحدہ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا جس کا نام پاکستان رکھا گیا۔
آزادی کے بعد قائداعظم کی طبیعت ناساز رہنے لگی اور کئی بیماریوں سے لڑتے لڑتے 11 ستمبر 1948ء کو ملت کا یہ روشن ستارہ دارفانی سے کوچ کر گیا۔
دوحہ :چیئرمین جوائنٹ چیفس سے قطری جرنیلوں ،وزیرخارجہ اوراہم شخصیات کی اہم ملاقاتیں ،اطلاعات کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا اس وقت قطرکے اہم دورے پروہاں موجود ہیں جہاں ان سے قطرکے اعلیٰ حکام کی اہم ملاقاتیں جاری ہیں
ذرائع کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جو قطر کے سرکاری دورے پر ہیں ان سے وزیرخارجہ امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر خالد بن محمد المعطیہ۔ اوروزیردفاع سمیت اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل غنم بن شاہین الغنیم ، چیف آف اسٹاف قطر مسلح افواج سمیت اعلی افسران نے ملاقاتیں کیں
ذرائع کے مطابق ملاقاتوں کے دوران دونوں فریقین نے دلچسپی کے مختلف شعبوں سیکیورٹی ، انسداد دہشت گردی اور بالخصوص کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے موجودہ علاقائی صورتحال پر دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماوں نے دونوں ممالک کے مابین فوجی تعلقات اور دائرہ کار کو بڑھانے کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور گہرے اسٹریٹجک تعلقات کو قائم رکھنے اورجاری رکھنے پرزوردیا
جنرل ندیم رضا نے نیشنل سیکیورٹی اکیڈمی کا بھی دورہ کیا اورجاری مشقوں کا مشاہد بھی کیا۔ جنرل ندیم رضا نے تربیت اور مہارت حاصل کرنے کے اعلی معیار کو سراہا۔
قبل ازیں قطر کے جی ایچ کیو پہنچنے پرچیئرمین جوانٹ آف سٹآف کمیٹی جنرل ندیم رضا کو قطر کی مسلح افواج کے ایک زبردست دستے نے گارڈ آف آنرپیش کیا
لاہور:بھارت کےخطرناک عزائم :کیا ہم تیارہیں:اگلی جنگ کیسی ہوگی:جاننا بہت ضروری:اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سنیئر صحافی تجزیہ نگارمبشرلقمان نے اہل وطن کوایک بڑے پتے کی بات بتائی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا دشمن بڑا چالاک ہے کیا ہم نے اس کی چالاکیوں کاتوڑ کرنے کے لیے کچھ کیا بھی ہے یا نہیں ،
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ہرکوئی دیکھ رہا ہے کہ ہر روز نئی سے نئی ایجاد نے انسان کو برے طریقے سے ٹیکنالوجی کا محتاج کر دیا ہے۔ fourth industrial revolution اور انٹر نیٹ نےہر میدان میں انقلاب برپاکر دیا ہے، پروڈکشن، مینجمنٹ اور governanceکے سسٹم مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیںان بدلتے ہوئے حالات میں نئی فیلڈ میں نئے خطرے لاحق ہو چکے ہیں۔وہ جنگیں جو بندوقوں اور بمبوں سے لڑی جاتی تھی اب weaponised computer program کے ایک کلک سے لڑی جاتی ہیں۔ دنیا نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ keyboardکے ایک بٹن سے ایسی جنگ شروع کی جا سکتی ہے جو ناقابل یقین تباہی کی حامل ہو۔
مبشرلقمان نے جید ٹیکنالوجی کی جہت کے بارے میں بتایا کہ جنگی صلاحیتوں کی ترقی کا انحصاراب ان ٹیکنالوجی اور حکمت عملی پر ہے۔ گزشتہ ایک صدی میں انسان نے تلواروں سے جوہری ہتھیاروں تک کا سفر طے کیا ہے جس میں ملٹری tecticsسمیت ہر میدان میں بے مثال ترقی ہوئی لیکن اب ہر آنے والی ٹیکنالوجی صدیوں کی progressکو ایک دم سے outdated کر دیتی ہے۔ اکیسویں صدی میں دنیا ایک عالمی گاوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ہر ملک دوسرے کا معیشت ، ٹیکنالوجی سمیت ہر میدان میں محتاج ہے ممالک ایک دوسرے کے خلاف مل کر بلاکس بنا رہے ہیں ایک دوسرے سے ٹیکنالوجی کا تبادلہ کر رہے ہیں ان کا جنگ کرنے کا طریقہ بدل چکا ہے لیکن ان کا ہدف ایک ہی ہے اور وہ ہے اپنے دشمن پر ہر لحاظ سے فوقیت رکھناچاہے
وہ کہتے ہیں کہ military balance ۔ہو یا streategic gain. اس لیئے ایک ملک اپنے دشمن پر حاوی ہونے کے لیئے دوسرے ممالک پر بھروسہ کرتے ہیں۔اس میں سب سے اہم یہ ہے کہ کیسے آپ دشمن ملک میں بغیر گھسے اس ملک کی عوام کے دماغوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اورکسی بھی قسم کی طاقت استعمال کیئے بغیر ملک کی عوام کو اپنے مفادات کے مطابق دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور اس کے لیئے کسی بھی قسم کی زمینی طاقت کا بھی استعمال نہ کیا جائے۔
مبشرلقمان نے مزید کہا کہ آج کل کے ماحول میں دشمن کو تنہا کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کے لیئے قومی طاقت کے ہر طرح کےعناصر کو استعمال کیا جاتا ہے اس میں معاشی اتحاد بھی ہیں اور جوہری ہتھیاروں کی دھمکی بھی، اس میں ملک میں خشک سالی پیدا کرنے سے لے کر سیاسی عدم استحکام تک ہر چیز استعمال کی جا تی ہے تاکہ دشمن پر زیادہ سے زیادہ پریشر ڈالا جا سکےلہذا ،پہلے سے ہی پیچیدہ ماحول میں ، specific strategic effects حاصل کرنے کے لیئے information نے معمولی آپریشنل اور tectical actionsکے ذریعے اہم مقام حاصل کر لیا ہے کیونکہ معلوماتی ٹولز کے ذریعہ عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال کو بہتر طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے ، اس لیئے perception management اور streategic communicationکے نئے محاذ کھل گئے ہیں۔ آج کے نتائج اب حالات پر مبنی نہیں ہیں ، بلکہ نتائج کو کس طرح پیش کیا جاتا ہے اس پر مبنی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب streategic affairs میں ٹیکنالوجی تکنیکی تبدیلیوں کی محرک ہے موجودہ عالمی خدشات میں یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی یہ خاصیت رکھتی ہے کہ خطہ اور عالمی طاقتوں کے درمیاں balance of powerپیدا کر سکے۔مصنوعی ذہانت کا وسیع استعمال کوئی عجیب و غریب واقعہ نہیں ہے۔
سنیئر صحافی نے ایک بڑی اہم بات بتاتے ہوئے کہا کہ artificial intellegenceکی کمانڈ اینڈ کنٹرول اور فیصلہ سازی کئی دہائیوں سے عملی طور پر چل رہی ہے ، اور اس کا استعمال امریکی سوویت سرد جنگ کے دوران انتہائی اہم تھا۔ تاہم ، مغربی اور ایشیائی ممالک میں گذشتہ برسوں کے دوران ، فوج ، بحری اور فضائی افواج میں اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ ، چین ، روس ، فرانس ، اور برطانیہ nuclear chargedبیلسٹک میزائل Submarinesاور ہوائی جہاز تیار کررہے ہیں ، اور بھارت اپنی فوج کو artificial intellegenceکی صلاحیتوں سے لیس کر رہا ہے۔مصنوعی ذہانت یاartificial intellegence ایک ایسا نظریہ ، طریقہ اور تکنیک ہے جو کمپیوٹر کو انسان کے سوچنے کے عمل اور طریقہ کار کاتجزیہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کل آپ نے دیکھا ہو گا کہ آپ بولتے ہیں اور آپ کا کمپیوٹر مختلفapps کی مدد سے خود لکھتا ہے۔اسے ہم speech recognationکہتے ہیں جبکہ آ پ کے موبائل کا پاس ورڈ بھی آپ کی آ واز کو پہچان کر کھل جاتا ہے۔سوشل میڈیا اپنے صارفین کو صرف ان کی دلچسپی سے متعلقہ معلومات پیش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے کوئی لیپ ٹاپ سرچ کیا ہے تو سسٹم کو پتا چل جائے گا کہ آپ لیپ تاپ کی تلاش میں ہیں اور جو specification or company آپ نے سرچ کی ہوں گی اس کے مطابق چوائسز آپ کی web browsing کے درمیاں آپ کو خود بہ خود اشتہار کی صورت میں نظر آ نا شروع ہو جاتی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا اب اپنے ناظریں کو وہی چیزیں دیکھاتا ہے جس قسم کی چیزوں میں آپ کا اکثر interest ہوتا ہے۔یہ آپ کی پسند اورsocial behaviour profile بنا کر اس کے مطابق خود بہ خود ڈیل کرتا ہے۔اگر آپ نے کسی خاص ٹاپک پرویڈیو دیکھی ہے تو یو ٹیوب آپ کو اپ کی پسند سے متعلق دیگر ویڈیوز خود بہ خود suggest کر دیتا ہے۔ اگر یہ کا م مشینیں اورسسٹم نہ کریں تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ ہر بندے کی پسند اور نہ پسند کو یاد رکھنا اور اس کے مطابقbehave کرنے کے لیئے کتنے انسانوں کی ضرورت ہو گی جبکہ سوشل میڈیا کا ڈیٹا بہت زیادہ ہو اور استعمال کرنے والوں کی تعداد اربوں میں ہو۔یہاں بھی artificial intellegence کا استعمال کیا جاتا ہے۔ artificial intellegence آپ کی تصویر،آڈیو، ویڈیو میں کسی بھی قسم کی جعل سازی کو ایک منٹ میں پکڑلیتا ہے۔ یو ٹیوب کا سسٹم ویڈٰو اپ لوڈ کے بعد نوے فیصد آپ کے content کو سمجھ لیتا ہے۔ کہ آپ نے کس ایشو پر ویڈیو بنائی ہے اور اس میں کیا بات کی ہے،اب اس میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا ویب سائٹ پر ہرuserکا تفصیلی ڈیٹا چلا جاتا ہے کہ یہ کون ہے کہاں رہتا ہے، جمہوریت پسند ہے آمروں کا سپورٹر ہے ، کیا کھاتا ہے کس چیز کی جستجو میں ہے۔
مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ جب اس ویب سائٹ کو پتا چل گیا کہ آپ کے ملک میں بیس فیصد لوگ فوج کے مخالف ہیں، پچیس فیصد نواز شریف سے نفرت کرتے ہیں اور اس طرح کا تما م ڈیٹا تو پھر لوگوں کی ذہن سازی کے لیئے ان کے سامنے فوج کے خلاف مواد کو ظاہر کیا جاتا ہے اور ان کے ذہن سازی کے عمل کو پختہ کیا جاتا۔ اور اب اسی ٹیکنالوجی ،ڈیٹا اور غلط خبروںکو اپنے ٹارگٹ تک پہنچانے کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے جس میں عوامی گفتگو کو متاثر کرنے ، عوامی اعتماد کو خراب کرنے اور سرکاری اہلکاروں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہےان تمام حدودمیں سینسروں سے ڈیٹا کو فیوز کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے تاکہ فیصلہ کرنے والوں کے لئے معلومات کا ایک واحد وسیلہ پیدا کیا جاسکےجسے فیصلہ سازcommon operating picture بھی کہتے ہیں۔ اگر دفاع کے میدان میں artificial intellegence کی بات کی جائے تو یہ فوجی نقل و حمل اور کمانڈرز کے فیصلہ سازی میں مدد کرتی ہے۔یہ نظام ماحول کو سمجھنے، مسائل کی نشاندہی کرنے، ریڈار کے ڈیٹا کو یکجا کرنے ، نیویگیشن پلان بنانے اور دیگر گاڑیوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
وہ آگے چل کرکہتے ہیں کہ یہ قومی طاقت کا ایک ناگزیر عنصر بن چکا ہے ، لیکن دوسری طرف یہ مصنوعی ذہانت اور سائبر جنگ جیسے نقائص کے ساتھ بجا طور پر قومی سلامتی کوخطرہ بھی بن گیا ہے۔کیونکہ جب آُپ ٹیکنالوجی کو اپنے دفاعی پروگرام کے لیئے استعمال کر یں گے تو اس بات کے قوی امکان پیدا ہو جاتے ہیں کہ دشمن آپ کے سسٹم کا کئی ہزار کلو میٹر دور سے بیٹھ کر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور اپنی مرضی کی کمانڈ دے سکتا ہے جو آپ کے دفاعی نظام کی تباہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹکنالوجیوں پر انحصار ، انفرادی تنظیموں سے لے کر گورننس سسٹم تک کے تمام فوجی نظاموں پر انحصار کرنے سے ، خطرات سے دوچار چیلنج حقیقت بن گیا ہے۔ اس نے سلامتی اور جنگ کے تصور کو بدل دیا ہےپاکستان کو ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک جامع اسٹریٹجک فریم ورک کو کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں سائبر سے وابستہ بڑھتے ہوئے خطرے کے ساتھ ، پاکستان کو اپنےسائبر دفاع پر توجہ دینی ہوگی۔ کیونکہ اب یہ ملک کے لئے آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔اگر آپ اپنے سب سے بڑے دشمن بھارت پر نظر ڈالیں تو جس دن سے چین نے بھارت کی درگت بنائی ہے مودی اس چکر میں ہے کہ پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے کوئی جھوٹی واردات ڈال کر اپنی عزت بحال کرے۔ اس کے علاوہ اقلیتوں سے انسانیت سوز رویہ،کسانوں کا احتجاج،کشمیر میں ظل و بربریت، اور بین القوامی پریشر۔۔ بھی نیو دہلی میں موجود پالیسی سازوں کو پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ پر مجبور کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لیکن بھارت ایک بڑی غلط فہمی میں ہے اسے نہیں پتا کہ پاکستان کے ساتھ یہ چھیڑ چھاڑ اسے مزید پستی کی گہرائیوں میں ڈال دے گی اور خطے کا امن برباد ہو جائے گا۔یہ بات حیران کن ہے ایسے وقت میں جب کہ دنیا وبا کی وجہ سے لڑائیاں ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے بھارت دیوانوں کی طرح لڑائیوں کو جنم دے رہا ہے۔ سپر پاورز جو اس طرح کے معاملات میں بیچ بچاو کرتی ہیں وہ چین کو سامنے رکھ کر اسے مزید ہوا دے رہی ہیں۔بھارت نیپال کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر چکا ہے، بھارت چین کے ساتھ الجھا ہوا ہے اور اب باقائدہ پاکستان کے ساتھ محاذ گرم کرنا چاہتا ہے۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں انسانی تاریخ کی بد ترین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔اس وقت جموں کشمیر میں دس لاکھ سے زاہد بھارتی فوج کی وجہ سے دنیا کا highly militarized region بن چکا ہے۔اور ان فورسز کو Armed Forces Special Powers Act (AFSPA)کے تحت معصوم کشمیریوں کو مارنے اور ٹارچر کرنے کا لائسنس دے دیا گیا ہے۔بھارت اس سال لائن آف کنٹرول پر دو ہزار سے زاہدceasefire violationsکر چکا ہے جس میں کئی درجن معصوم شہری اور فوجی شہید ہو چکے ہیں۔اور یہ کہheavy Mortars and Artillery ۔ کا استعمال ہر روز کا معمول بن چکا ہے یہی نہیں بھارت ہر روز اپنے spy dronesکے زریعے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اور پاکستان نے اس سال ایک درجن سے زاہد ڈرون گرائے ۔
سینیر صحافی کہتے ہیں کہ ان سب چیزوں کے ساتھ یہ انٹیلجنس رپورٹ بھی آ چکی ہیں کہ بھارت دوبارہmisadventureکی تیاری کر رہا ہے۔لیکن آپ بھارتی بے شرمی کا اندازہ لگائیں کہالٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مترادف پاکستان پر دہشت گردی کو ہوا دینے کے الزامات لگا رہا ہے جبکہ کہانی اس کے بلکل بر عکس ہے۔ یہ پاکستان ہے جو بھارتی پرپیگنڈا اور دہشت گردی کا نشانہ بن رہا ہے۔ لیکن بھارت کئی جکہوں پر دنیا کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ دنیا کی سپر پاور جس نے مودی کے امریکہ پر داخلہ پر پابندی لگا دی تھی اسے اعلی ترین ایوازڈز سے نواز رہی ہے۔
مبشرلقمان نے کہا کہ ٹرمپ نے مودی کو US legion of meritکا ایوارڈ دیا ہے کس کو نہیں پتا کہ بھارت افغانستان کے شر پسند عناصر سے کیا کروا ر ہا ہے۔ وہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی کیسے مدد کر رہا ہے۔اس سلسلے میں پاکستان را کے کالے کارناموں کو بے نقاب کر چکا ہے اور انٹر نیشنل کمیونٹی کوبھارت کا مکروہ چہرہ دیکھا چکا ہے۔سی پیک کو نشانہ بنانے کے لیئے بھارت نے سات سو جنگجو بھرتی کیئے ہوئے ہیں جن کو RAW کے دس افسران لیڈ کر رہے ہیں۔مودی نے بھارت کے سیکولر چہرے کو بھی ایک انتہا پسند ہندو ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔جہاں مسلمانوں اور عیسائیوں سے ان کی مذہبی آزادی چھیننے کے ساتھ ساتھ ان کے لیئے بھارت کی زمین تنگ کی جا رہی ہے۔ مودی کی حکومت ریاستی سطح پر تشدد کو پروموٹ کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی معیشت بری طرح گر رہی ہے جبکہ اسکے دفاعی اخراجات آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ان حالات میں مودی اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لیئے عوا کی توجہ کسی اور طرف لگانا چاہتا ہے۔ جس کے لیئے اس کے پاس پاکستان کے خلاف جھوٹا آپریشن کا آپشن پہلے نمبر ہے۔اور اس مقصد کے لیئے بھارت information warfare کا ہتھیار استعمال کر رہا ہےلیکن سوچنے کی بات ہے کہ کیا بھارت دنیا کو اسی طرح بے وقوف بناتا رہے گا اور دنیا پاکستان کے خلاف اس تماشے میں خاموش تماشائی بنی رہے گی۔؟
وہ آگے چل کرکہتے ہیں کہ بھارت جو مرضی ظلم کرے کیا دنیا وہی کچھ دیکھتی رہے گی جو بھارت دنیا کو دیکھا رہا ہے۔؟بھارت نے فروری دو ہزار انیس میں جو ڈارامہ کیا تھا وہ پاکستانی سرپرائز سے بھارت کے لیئے باعث ہزیمت بن گیا۔ اب بھارت نہ صرف کشمیر میں آزادی کی تحریک کا بدلہ پاکستان سے لینا چاہتا ہے بلکہ اپنی اس رسوائی کا سکور بھی settle کرنا چاہتا ہے۔اور آج کی اس دنیا میں جواز بنائے بغیر مودی کے لیئے ایسا کرنا مشکل ہے کیا بھارت پھر دنیا کو دیکھانے کے لیئے ایسا ڈرامہ جس کا سکرپٹ بھارت میں لکھا گیا ہےمیں کامیاب ہو جائے گا۔
انہوں نے آخرمیں کہا کہ ہمیں بھارت کے اس مکروہ چہرے کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایک منظم طریقے سے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ دنیا تو ایک طرف کیا ہمارے پاس پاکستان کی عوام کا ڈیٹا موجود ہے جو دنیا سوشل میڈیا کے پردے میں لے اڑی ہے جو بھارت کے ہاتھ بھی لگ سکتا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل جو اس میں ماسٹر ہیں بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ چین اس حوالے سے ہماری مدد کر سکتا ہے لیکن کیا ہمیں اس حوالے سے خود بھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔۔؟پاکستان کے پاس مین پاور سمیت ہر چیز موجود ہے لیکن بس ضرورت ہے ایک vision اور سفر کے آغاز کی۔
بھارتی عزائم آشکار ، معاملہ دشمنی کی آخری حدوں کو پہنچ گیا، جانیے مبشر لقمان کی اہم باتیں
باغی ٹی وی :سینئراینکر پرسن مبشر لقمان مبشر لقمان اپنی یوٹیوب ویڈیو میں کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بھارت دشمنی کی آخری حدوں تک جا چکا ہے۔ پاک بھارت خراب تعلقات کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک وہاں کی سرکار اور دوسرا زہر اگلتا میڈیا۔ جب حکومتی سطح پر ہی کسی بھی دہشتگردی کے واقعے کا الزام منٹوں میں بغیر کسی ثبوت، تحقیق یا تصدیق کے پاکستان پرڈال دینے کا رواج عام ہو تو وہاں کے میڈیا کا مزاج کیسے مختلف ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوا ہی ہوتا ہے تو بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان پربے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ایک کے بعد ایک بیان۔ نت نئے طریقوں سے اپنی جہالت ظاہر کی جاتی ہے۔بعد میں ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ واقعہ میں بھارت کی اپنی دہشت گرد یا انتہا پسند تنظیمیں ذمہ دار نکلتی ہیں۔ لیکن اس پر بھی بھارتی میڈیا شرمندہ نہیں ہوتا، بلکہ ڈھٹائی پن کا ثبوت دیتے ہوئے کڑیاں پاکستان سے ہی ملائی جاتی ہیں۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے سوشل میڈیا پر پاک فوج، کشمیر اور سی پیک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ بھارتی پراپیگنڈے کا اہم ہدف سی پیک ہے اور اس پراپیگنڈے کا مقصد سی پیک منصوبے کو سبوتاڑ کرنا ہے۔ بھارت کی طرف سے سی پیک پہلے ہی سیکیورٹی خطرات کا سامنا کررہا ہے۔ بھارت کو ڈر ہے سی پیک خطے کا گیم چینجر ہے۔ بھارتی سی پیک کی ٹائم لائن مکمل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں رکاوٹیں ڈالنے سے منصوبہ کہیں نہ کہیں جاکر رکے گا۔ مگر پاکستان اور چین دونوں سی پیک پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران خطے میں جو اہم ترین واقعات رونما ہوئے ہیں ان کا تعلق کہیں نہ کہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ جڑا ہوا نظر آتا ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا دورہ کابل۔ چین کے وزیر دفاع کا دورہ پاکستان ۔چین اور پاکستان کے درمیان صوبہ سندھ میں شاہین کے نام سے ہوائی جنگی مشقیں افغانستان سے متعلق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کی افغانستان میں موجود نیٹو فورسز کے کمانڈر کے ساتھ دورہ پاکستان اور یہاں کی قیادت سے تفصیلی مذاکرات ۔ امریکی آرمی چیف کی دوحہ میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات پھر یو اے ای حکام سے ملاقاتیں اور پھر امریکی آرمی چیف کا دورہ اسرائیل ۔ بھارتی آرمی چیف کا عرب کا تاریخ میں پہلے مرتبہ دورہ اور
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب کئی سالوں بعد ملاں برادرز کی قیادت میں افغان طالبان کا دورہ پاکستان اور عمران خان کے ساتھ ڈی جی آئی ایس آئی کی موجودگی میں مفصل ملاقاتیں اور ایک دوسرے کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ جیسے واقعات اس حقیقت کی تائید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ دراصل پاکستان نے بھارت اور عالمی برادری پر یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت اپنے اندرونی داخلی انتشاراور سی پیک کو سپوتاژ کے لیے پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے جس کے لیے اسے اپنے اتحادیوں سے این او سی کا انتظار ہے یقینا پاکستان کا اشارہ اسرائیل اور امریکہ کی طرف ہے ۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی بھارت کے ارادوں سے دنیا کو کھل کر آگاہ کر دیا ہے۔ دنیا خاص طور پر امریکہ کے سامنے رکھ دی گئی ہے کہ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو افغانستان میں پاکستان کی مدد سے امریکی ضرورت اور خواہش پر ہونے والا امن عمل جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا اور پاکستان افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کی بحفاظت واپسی کی اپنی ضمانت سے دستبردار ہو جائے گا یہ ایک ایسا بیان ہے جسے امریکہ کے لیے دھمکی سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے کیونکہ امریکہ کے لیے افغانستان سے اپنے فوجی ساز و سامان سمیت فوجیوں کی بحفاظت واپسی ایک بہت ہی اہم اور پیچیدہ ایشو ہے اس لیے پاکستان کے اس موقف کو نظر انداز کرنا امریکہ کے لیے ممکن نہیں رہے گا ۔
پاکستان تمام تر صورتحال سے آگاہ ہے یہی وجہ ہے پاکستان نے تیزی کے ساتھ ایران اور افغانستان کے ساتھ اپنے معاملات ٹھیک کر کے اپنی مغربی سرحدوں کو محفوظ بنا لیا ہے تا کہ بھارت
BLA, TTP, Daish
یا چابہار کے علاقے میں موجود اپنی
proxies
کے ذریعے ہمارے خلاف کوئی سازش نہ رچا سکے اب پاکستان کی پوری توجہ لائن آف کنٹرول اور پاک بھارت سرحد پر ہے۔ اسی حوالے سے
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کنٹرول لائن پر اگلے مورچوں کا دورہ کیا جہاں انہیں بھارت کی طرف سے جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزیاں، نہتی شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے واقعات اور تمام تر عالمی اقدار اور اصولوں کے منافی، اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو نشانہ بنانے کے واقعہ سمیت تازہ ترین صورتحال کے بارے میں مفصل بریفنگ دی گئی ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آرمی چیف نے فوجی دستوں کی عمدہ آپریشنل تیاری اور اچھے مورال کی تعریف کرتے ہوئے افسروں اور جوانوں کی مسلسل چوکسی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو سراہا۔ اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ بھارت کی اشتعال انگیزیاں اور بطور خاص اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کا حالیہ واقعہ، علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت اور مہم جوئی پر بھارتی فوج کو ہمیشہ منہ توڑ جواب ملے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک فوج ، کنٹرول لائن پر بسنے والے شہریوں کے تحفظ، مادر وطن کی عزت و وقار، اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرے گی اور اس مقصد کیلئے تمام تر اقدامات کرے گی۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ادھرچین بھی لداخ ،اروناچل پردیش میں بھارت کے سر پر بیٹھا ہوا ہے اس لیے وہ بھارت جو پاکستان کو مغربی اور مشرقی دونوں سرحدوں پر گھیرے میں لینا چاہتا تھاا ب خود پاکستان اور چین کی صورت میں دو محاذوں پر جنگ لڑنے پرمجبور ہو گا۔ رہی سہی کسر چین کی طرف سے پاکستان کو دی گئی
electromagnetic pulse warfare
جیسے نظام کی فراہمی نے پوری کردی ہے جو ہوائی جہازوں کا اپنے کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع کر کے ابھی نندن جیسے واقعات کے ظہور پزیری کو یقینی بنادیتا ہے اگرچہ بھارت پاکستا ن پر حملہ بھی کرنا چاہتا ہے لیکن پاکستان اور چین کے ساتھ دو محاذوں پر لڑنے سے بھی بھاگنا چاہتا ہے تاہم یہ بات طے ہے کہ اگر بھارت نے کوئی شرارت کی تو ماضی کے برعکس اب پاکستان اور چین ملکر اسے وہ نقصان پہنچائیں گے۔ جواس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کا رویہ چور مچائے شور کے مصداق رہا ہے۔ وہ ان کا پاکستان کو موردِالزام ٹھہرا کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر ایسی کچھ بھونڈی کوششیں اسے بے نقاب کر دیتی ہیں۔ اُڑی میں حملہ ہوا تو مودی سرکار پاکستان کی حدود میں گھس کر سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعوے کرتی رہی۔ اس کے یہی دعوے اس کے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے لئے کافی تھے اور پھر پلوامہ حملے کا بدلہ اس کی طرف سے پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی جہاز بھیج کر چکانے کی کوشش کی گئی۔ پلوامہ حملہ بھی مودی سرکار کی ڈرامہ بازی تھی۔ پاکستان کی حدود میں گھسنے والے جہاز بوکھلاہٹ میں
pay load
گراکر فرار ہو گئے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں اس پر جشن منایا گیا جب یہ واضح ہوا کہ وہ جہاز نامراد لوٹے تھے تو بھارتی حکومت کو شرمندگی سے منہ چھپانے کو جگہ نہیں مل رہی تھی۔ اگلے روز پھر بھارتی جہاز پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے تو دو کو مار گرایا گیا۔ اس سے بھارت کے پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی پر حملے میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ کہ بھارت یہ حرکت دوبارہ بھی کر سکتا ہے ۔
پر بھارت کو یاد رکھنا چاہیئے گزشتہ دفعہ تو ہم نے ابھی نندن کو واپس کر دیا تھا اس بار ایسا نہیں ہو گا ۔
اسلام آباد:استعفے دینے والے اب استعفوں سے کیوں بھاگ رہے ہیں ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم تحریک آپسی اختلافات کی وجہ سے ہی ختم ہو جائے گی، استعفے دینے والے اب استعفوں سے بھاگ رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے حکومتی و پارٹی ترجمانوں کے اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس کے دوران موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے چارٹر آف ڈیموکریسی کے آرٹیکل 23 پر بھی بات چیت ہوئی، شرکاء کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے چارٹر آف ڈیموکریسی میں سینیٹ انتخاب کی اوپن بیلٹنگ پر اتفاق کیا تھا آج دونوں جماعتیں ماضی میں کیے اپنےہی معاہدے سے انکاری ہیں۔
اجلاس میں لینڈ مافیا کے خلاف جاری آپریشن پر بریفنگ دی گئی جبکہ وزیراعظم نے لینڈ مافیا کے خلاف کاروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن میں بڑے قبضہ مافیا موجود ہیں، قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی کی تو معلوم ہوا مسلم لیگ ن کے ایم این ایز اس میں شامل ہیں۔
پی ڈی ایم سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی تحریک آپس کے اختلافات کی وجہ سے ہی ختم ہو جائے گی۔ استعفے ٰ دینے والے اب استعفوں سے بھاگ رہے ہیں۔
وزیراعظم نے ایک مرتبہ واضح انداز میں کہا کہ کوئی بھی احتساب سے بھاگ نہیں سکتا، میں نے خود عدالت میں ہر چیز پیش کی، پی ڈی ایم کے سربراہ اورامیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نیب میں اس لیے پیش نہیں ہورہے کہ انکے پاس کوئی جواب نہیں۔
لاہور:اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ: سینیئر صحافی مظہر عباس کی اہلیہ وفات پاگئیں،اطلاعات کے مطابق پ معروف صحافی، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق سیکرٹری جنرل اور کراچی پریس کلب کے سابق سیکرٹری مظہر عباس کی اہلیہ وفات پا گئیں۔
ذرائع کے مطابق سنیئر صحافی مظہر عباس کی اہلیہ ارم عباس علیل اور کراچی کے مقامی اسپتال میں زیرعلاج تھیں۔
ادھر خاندانی ذرائع کے مطابق مظہرعباس کی اہلیہ محترمہ کی نماز جنازہ کل بعد نماز جمعہ ڈیفنس میں واقع امام بارگاہ یثرب میں ادا کی جائے گی۔جبکہ ان کی تدفین وادی حسین کے قبرستان میں کی جائے گی۔
سینیر صحافی کی اہلیہ محترمہ کی وفات پرملک بھر کی صحافی برادری دکھ کی اس گھڑی میں مظہر عباس اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ ہے۔
باغی ٹی وی کی ٹیم اوردیگردوست احباب غم کی اس گھڑی میں خاندان کے لیے صبرجمیل کی دعا کے ساتھ ساتھ مرحومہ کی مغفرت اوراللہ کے جنت الفردوس کے لیے بھی دعا گوہے
راولپنڈی: شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پرحملہ،ایک جوان شہید،7 زخمی،اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے میں 34 سالہ نائیک یاسین شہید ہوگئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 7 جوان بھی زخمی ہوئے۔ دو دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا.
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشتگردوں نے سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں حملہ کرنے کی کوشش کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کے حملے میں پاک فوج کے 34 سالہ نائیک یاسین شہید جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 7 جوان زخمی ہو گئے۔ شہید نائیک یاسین کا تعلق ملاکنڈ سے تھا۔ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 2 دہشتگرد ہلاک جبکہ 10 زخمی ہو گئے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز بھارتی فوج نے ایک مرتبہ پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے ستوال سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کی تھی۔ دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کا 22 سالہ جوان مختار شہید ہو گیا تھا۔
اس کے علاوہ بلوچستان کے ضلع آواران میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی اور فائرنگ کے تبادلے میں حوالدار شعیب شہید جبکہ ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا تھا۔
وزیراعظم، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی ملاقات ،مادر وطن کے دفاع کیلیے بڑا اعلان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات ہوئی ہے
آرمی چیف نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔ ملاقات میں ملکی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال گیا، خطے کی سکیورٹی، اندرونی چیلنجز سمیت امن و امان کی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات میں بھارت کی جانب سے ایل او سی پر حالیہ اشتعال انگیزی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایل او سی پر بڑھتی بھارتی جارحیت اور علاقائی امن کے لیے پاک فوج کے کردار پر بھی بات کی گئی۔ لائن آف کنٹرول پربھارت کی جانب سےانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرتشویش کا اظہار کیا گیا
وزیراعظم عمران خان نے پاک فوج،ایف سی اورقانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں کی قربانی دینے پرخراج عقیدت پیش کیا،ملاقات کے دوران اس بات کا عزم کیا گیا کہ قوم کے تعاون سے ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع یقینی بنایا جائے گا۔ملک وقوم کا دفاع ہرصورت کریں گے
سناہےوزیراعظم3سال بعدبھی ٹریننگ پرہیں، بلاول نے عمران خان پر تنقید کے نشتر چلادیے
باغی ٹی وی رپورٹ :چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے وزیرا عظم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ سنا ہےوزیراعظم3سال بعدبھی ٹریننگ پرہیں شہید بینظیر بھٹو کے نظریے کو آگے لے کر چل رہے ہیں،پورے پاکستان میں پبلک پرائیویٹ پارٹرنر شپ سے کام کیے.کراچی کے لیے ایک اور میگا منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا دیا.تھرکے کوئلے سے پورے ملک کیلئے بجلی پیدا کی جارہی ہے.ملیر ایکسپریس وے بہت بڑا منصوبہ ہے.ہمارے منصوبے وفاقی حکومت سے کہیں آگے ہیں.منصوبے کراچی کے کاروبار کے لیے فائدہ مند ہوں گے.سندھ سمیت تمام صوبوں کو ان کا حق نہیں دیا جارہا،18ویں ترمیم کے بعد صوبوں پر زیادہ ذمہ داریا ں،بلاول بھٹو.پورے پاکستان میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے کام کیے،
ان کا کہنا تھا عوام کے حقوق کے لیے لڑتے رہیں گے، حکومت کے کم فنڈ زمیں بھی زیادہ کام کرتے ہیں.دریائے سندھ پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں سب سے بڑا پل بنایا ہے،تھر میں خواتین ٹرک ڈرائیونگ سے لے کر انجینئرنگ کے شعبےمیں کام کررہی ہیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شب کے ذریعے تمام صوبوں اور وفاق سے زیادہ پراجیکٹ کئے.پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے تمام صوبوں اور وفاق سے زیادہ پراجیکٹ کئے،اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دیں گے.مشکل حالات میں زیادہ سے زیادہ کام کریں گے.حکومت کی نالائقی کا بوجھ عوام اٹھا رہی ہے.سنا ہے 3سال سے وزیراعظم ٹریننگ پر ہیں.آپ نے تو 90دن میں کرپشن ختم کرنی تھی،افسوس کی بات ہے کہ آج پاکستان افغانستان سے بھی ترقی میں پیچھے ہے،
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے پاکستان میں مہنگائی افغانستا ن اور بنگلہ دیش سے زیادہ ہے، وزیراعظم میں ملک چلانے کی اہلیت نہیں ہے، جو بھی مشکل آئے وزیراعظم کا ایک ہی جواب آتا ہے میں کیا کروں.مسئلہ کشمیر پر بھی وزیراعظم نے یہی کہا کہ میں کیا کروں.اگر آپ کے پاس مسائل کا حل نہیں ہے تو استعفیٰ دیں اور گھر جائیں.ہم نے بھی دنیا بھر کے معاشی بحران کا سامنا کیا تھا،ہم نے معاشی بحران میں ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ ہم کیا کریں.بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اس لیے شروع کیا تاکہ غریب کی مدد کریں.پیپلزپارٹی نے اپنےد ور میں تنخواہوں اور پنشنز میں اضافہ کیا،پیپلزپارٹی نےد ہشتگردی کا مقابلہ کیا،ہم جانتے ہیں عوام کو مشکل سے کس طرح نکالنا ہے.آج عوام تاریخی غربت،مہنگائی اور بے روزگاری کا سامنا کررہے ہیں،ہم نے اس نااہل وزیراعظم کو گھر بھیجنا ہے،پیپلزپارٹی ہمیشہ عوام کے لیے سوچتی ہے،پیپلزپارٹی کے تمام اراکین نے اپنے استعفے جمع کرادیئے ہیں ،ہم نے ایسا ماحول بنانا ہے جس سے عوامی حکومت آسکے
بلاول نے مزید کہا کہ عوامی نمائندوں کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے،افسوس،پاکستان افغانستان اوربنگلادیش سے پیچھے ہے، وزیراعظم نےکہاعوام مشکل میں ہیں تومیں کیاکروں،وزیراعظم کےپاس عوامی مسائل کاحل نہیں توگھرچلےجائیں،ملک کومشکل سےنکالنےکاحل ہمارےپاس موجودہے.پیپلزپارٹی دورمیں تنخواہ اورپنشن میں اضافہ ہوا،معاشی اعشاریےبہترہیں توعوام خودکشیاں کیوں کررہےہیں،مشکل حالات میں وزیراعظم کاایک ہی جواب ہوتاہےمیں کیاکروں،اگرتیاری نہیں تھی توخیبرپختونخوامیں کیا کررہے تھے؟