Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • یو این مبصرین کی گاڑیوں پر فائرنگ خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے، آرمی چیف

    یو این مبصرین کی گاڑیوں پر فائرنگ خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے، آرمی چیف

    راولپنڈی:یو این مبصرین کی گاڑیوں پر فائرنگ خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے، اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی فوج کی جانب سے یو این مبصرین کی گاڑیوں پر فائرنگ کو خطے کے امن کیلئے خطرہ قرار دیدیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں اور بھارتی فورسز کی اقوام متحدہ گاڑیوں کو نشانہ بنانے پر بریفنگ دی گئی۔

    آرمی چیف نے اگلے مورچوں پر افسروں اور جوانوں کے بلند حوصلے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔

    ادھر آج شام بھارتی فوج نےپھرشرارت کرتے ہوئے پاکستانی علاقوں میں فائرنگ کرتے ہوئے ایک خاتون کو شہید جبکہ 3 افراد کوزخمی کردیا ہے

  • بھارتی فوج کی تتہ پانی اور جندروٹ سیکٹر پر فائرنگ، خاتون شہید، 3 شہری زخمی

    بھارتی فوج کی تتہ پانی اور جندروٹ سیکٹر پر فائرنگ، خاتون شہید، 3 شہری زخمی

    راولپنڈی: بھارتی فوج کی تتہ پانی اور جندروٹ سیکٹر پر فائرنگ، خاتون شہید، 3 شہری زخمی،اطلاعات کے مطابق آج پھربھارت نے مکاری اورشرپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی علاقوں پرفائرنگ کی ہے ،

    ادھر پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فورسز نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، مارٹر گولوں اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ بھارتی اشتعال انگیزی سے ایک 50 سالہ خاتون شہید جبکہ چار سالہ بچی سمیت 3 شہری زخمی ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فورسز نے ایک بار پھر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے علاقوں تتہ پانی اور جندروٹ سیکٹرز کو اپنی اشتعال انگیزی کا نشانپ بنایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی گولہ باری سے زخمی شہریوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

  • ملک کوصدارتی نظام حکومت ہی ترقی کی راہ پرچلا سکتاہے،تیاری کرلیں:وزیراعظم نے اشارہ دے دیا

    ملک کوصدارتی نظام حکومت ہی ترقی کی راہ پرچلا سکتاہے،تیاری کرلیں:وزیراعظم نے اشارہ دے دیا

    اسلام آباد ملک کوصدارتی نظام حکومت ہی ترقی کی راہ پرچلا سکتاہے،وزیراعظم نے اشارہ دے دیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان نےپاکستانیوں کے دل کی آوازکوبیان کرتے ہوئے کچھ عجیب مگرمتوقع اشارے دے دیئے ، :وزیر اعظم عمران خان نے امریکی نظام کی طرح پاکستان میں بھی نظام لانے اور موجودہ نظام پر نظرثانی کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بھی حکومت سنبھالنے سے پہلے وقت ملنا چاہیے کہ گورننس کیسے کرنی ہے.

    اسلام آباد میں وزارتوں کی کارکردگی سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا میں صدارتی انتخاب کے بعد جو بائیڈن کو ٹیم سلیکڈ کرنے کے لیے اڑھائی مہینے ملے ہیں جبکہ ہم تو اپنے نمبر پورے کر رہے تھے.

    عمران خان نے کہا کہ جس دن الیکشن ختم ہوا ہے اسے تیاری، ٹیم کے انتخاب کے لیے اڑھائی مہینے ملے ہیں، بریفنگ مل رہی ہیں اور بیورو کریٹس انہیں بتا رہے ہیں کہ ہر چیز کی کیا صورتحال ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس نظام پر نظرثانی کرنی چاہیے اور جب آپ کی ٹیم بن جائے اس کے بعد آپ کو حکومت سنبھالنے سے پہلے پورا وقت ملنا چاہیے تاکہ آپ خصوصی طور پر حکومت کی تیاری کریں کہ آپ نے گورننس کیسے کرنی ہے.

    انہوں نے کہا کہ آپ کو بجلی، ریلوے، گیس اور مالیات کے حوالے سے بریفنگ ملنی چاہئیں تاکہ جب آپ دفتر سنبھالیں تو آپ کو پوری طرح پتہ ہو کہ میں نے کس ایجنڈے پر عملدرآمد کرنا ہے وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں تو تین مہینے صرف سمجھنے میں لگ گئے ہر چیز جو ہم باہر سے بیٹھ کر دیکھ رہے تھے جب حکومت آئی تو وہ بالکل مختلف تھی. عمران خان نے کہا کہ خصوصاً توانائی سمیت کئی شعبوں میں ڈیڑھ سال تک اصل اعدادوشمار کا ہی پرہ نہیں چل رہا تھا کبھی وزارت سے کوئی اعدادوشمار آ جاتی تھی ہم سمجھتے تھے کہ بڑا اچھا کررہا ہے پتہ چلتا تھا کہ کوئی اور اعدادوشمار آ گئے اور ہم اتنا اچھا نہیں کررہے انہوں نے کہا کہ کسی بھی نئی حکومت کو اس طرح اقتدار میں نہیں آنا چاہیے اس کی پوری تیاری ہونی چاہیے اس کو اس طرح پوری بریفنگ دینی چاہیے.

    انہوں نے کہ جس طرح ہم دیکھ کر سیکھتے رہے اسی طرح وزارتوں کا بھی معاملہ ہے کچھ وزارتوں نے زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی ہے کئی نے نہیں دکھائی اور کئی سیکھ رہے ہیں جس سے ان کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے وزیر اعظم نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد جو اختیارات تقسیم کیے گئے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ ابھی پورے ملک کو اس 18ویں ترمیم کی پوری طرح سمجھ نہیں ہے مثلاً فوڈ سیکورٹی وفاقی حکومت کے پاس ہے لیکن اختیارات صوبائی حکومتوں کے پاس چلے گئے ہیں اب اگر ایک صوبہ مرکز کے ساتھ نہیں چلتا اور اپنی الگ پالیسی بناتا ہے جس سے قیمتوں میں فرق آ جاتا ہے تو تمام قیمتوں کا توازن بگڑ جاتا ہے.

  • مولانا شیرانی بھی اسٹیبلشمنٹ سے مل گئے:ان کی اپنی حیثیت کیا ہے؟جانتے ہیں:مولانا برادران کا توہین آمیزانہ رویہ

    مولانا شیرانی بھی اسٹیبلشمنٹ سے مل گئے:ان کی اپنی حیثیت کیا ہے؟جانتے ہیں:مولانا برادران کا توہین آمیزانہ رویہ

    اسلام آباد:مولانا شیرانی بھی اسٹیبلشمنٹ سے مل گئے:ان کی اپنی حیثیت کیا ہے؟جانتے ہیں:مولانا برادران کا توہین آمیزانہ رویہ ،اطلاعات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ف کے سینئر رہنما مولانا عطا الرحمن کا کہنا ہے کہ مولانا شیرانی کی اپنی ذاتی حیثیت کیا ہے ، ہم ان کو اچھی طرح جانتے ہیں ،

    مولانا فضل الرحمن کے سیاسی جانشین اوربرادرمحترم مولانا عطاالرحمن نے کہا کہ آج یہ مولانا بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں ، ان کو وطن کی زیادہ فکرہے؟ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ مضبوط ہوگیا ہے جو پاکستانیت کی بات کرتے ہیں ،

    مولانا عطاالرحمن نے کہا کہ مولانا شیرانی کی رائے کے لیے پارٹی میں‌کوئی جگہ نہیں‌، وہ جمعیت علمائے اسلام کا موقف نہیں ہے۔جے یو آئی کا ہر ایک کارکن مولانا فضل الرحمن کی پشت پر کھڑا ہے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مجھے مولانا شیرانی کے بیانات پر حیرت نہیں ہے،میں شیرانی صاحب کے متعلق کوئی ایسی بات نہیں کروں گا۔

    لیکن لگتا یہی ہے کہ ان کے رابطے بڑے مضبوط ہیں اور یہ بیانات ان ہی رابطوں کا نتیجہ ہیں تاہم میں یہ نہیں کہوں گا کہ ان سے بیانات دلوائے گئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جماعت کے اندر ادارے موجود ہیں اور انہیں چاہئے تھا کہ وہ ان اداروں میں آکر بات کرتے اور ان کی بات زیادہ بہتر طور پر سنی جاتی۔

    دوسری طرف مولانا فضل الرحمن کے برادرمولانا عطاالرحمن کے توہین آمیزرویے کے خلاف دینی حلقوں خصوصا جمعیت علمائے اسلام ف کے معتدل اوراہل علم طبقے میں سخت ردعمل پایا جارہا ہے اوریہ بھی سننے میں آیا ہے کہ یہ پڑھا لکھا طبقہ مولانا فضل الرحمن اوران کے خاندان سے پارٹی کا قبضہ چھڑانے کے لیے سرگرم ہوگیا ہے

  • وزیراعظم نے وفاقی وزرا کو اہداف سونپ دیے ، ساتھ سخت وارننگ بھی کردی

    وزیراعظم نے وفاقی وزرا کو اہداف سونپ دیے ، ساتھ سخت وارننگ بھی کردی

    وزیراعظم نے وفاقی وزرا کو اہداف سونپ دیے ، ساتھ سخت وارننگ بھی کردی

    باغی ٹی وی :زیراعظم عمران خان نے تمام وفاقی وزرا کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزارتیں پرفارم نہیں کریں گی تو بہتر گورننس نہیں دے سکتے۔ حکومت کے پاس سوا دو سال ہیں، ہمیں اپنی کارکردگی دکھانا ہوگی۔وزرا کو اپنی وزارتوں سے متعلق پوری بریفنگ ملنی چاہیے

    وزیراعظم نے یہ بات وفاقی وزارتوں کو اہداف سونپنے سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اب ہمارے پاس کوئی عذر نہیں کہ کہیں ابھی ہم سیکھ رہے ہیں، ہمارے لئے پرفارمنس کا وقت آ گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 25 جولائی کو الیکشن ختم ہونے کے بعد اتحادی حکومت بنانا تھی۔ 25 جولائی سے لے کر اٹھارہ اگست تک کا وقت ہمیں اتحادی حکومت بنانے میں لگا۔ سب سے پہلے ہماری کوشش رہی کہ حکومت بنانے کیلئے اپنے نمبرز پورے کریں۔

    انہوں نے اس موقع پر امریکی نومنتخب صدر جوبائیڈن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انھیں اپنی ٹیم سلیکٹ کرنے کیلئے ڈھائی ماہ ملے۔ وزرا کو اپنی وزارتوں سے متعلق پوری بریفنگ ملنی چاہیے۔ حکومت کو تیاری کے بعد آنا چاہیے۔

    عمران خان نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت وفاق اور صوبوں میں کچھ مسائل حل طلب ہیں۔ اٹھارویں ترامیم کے بعد آٹا اگر کسی کو نہیں ملتا تو ذمہ داری وفاق پر ڈال دی جاتی ہے۔ ہمیں اپنے سسٹم کا جائزہ لینا ہے۔ کئی چیزیں آہستہ آہستہ ہم سیکھتے جا رہے ہیں۔

    وزیراعظم نے اپنے مستقبل کے اہداف بارے بتاتے ہوئے کہا کہ ہم ترقیاتی منصوبے جلد سے جلد مکمل کرنا کرنا، پنشن کے نظام کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ہماری اکانومی بہتر ہو رہی ہے۔ تاہم ایکسپورٹ بڑھانے تک مشکلات سے نہیں نکل سکتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کا نمبرون چیلنج پاور سیکٹر ہے۔ پاور سیکٹر بہت بڑا چیلنج ہے۔ کئی دفعہ مجھے اس وجہ سے رات کو نیند نہیں آتی۔ پاور سیکٹر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ پاور سیکٹر میں کئی فیکٹر ہمارے کنٹرول اور کئی نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ مہنگائی بھی ایک چیلنج ہے۔ ہمیں اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانا ہوگی۔ 5 سال کے بعد عوام فیصلہ کریں گے کہ حکومتی کارکردگی کیسی رہی،ٹیم بننے کے بعد حکومت دیکھنے کیلئے ٹائم ملنا چاہیے،بائیڈن کو اپنی ٹیم سلیکٹ کرنے کیلئے پورے ڈھائی ماہ ملے

  • بس اب بڑی ہوگئی :چین کے راستے روک دیئے جائیں :ٹوکیومیں عالمی طاقتوں‌ کے خفیہ اجلاس کا انکشاف

    بس اب بڑی ہوگئی :چین کے راستے روک دیئے جائیں :ٹوکیومیں عالمی طاقتوں‌ کے خفیہ اجلاس کا انکشاف

    لاہور:بس اب بڑی ہوگئی چین کے راستے روک دیئے جائیں :ٹوکیومیں عالمی طاقتوں‌ کے خفیہ اجلاس کا انکشاف ،اطلاعات کے مطابق چین کے راستے کیسے روکے جائیں :بھارت،امریکہ اورآسٹریلیا کےدرمیان خفیہ اجلاس کے اہم پہلوسامنے آگئے،

    ذرائع کے مطابق اس وقت چین کا گھیرا تنگ کرنے کے لیے امریکہ ،بھارت ، آسٹریلیا ، جاپان، تائیوان ، جنوبی کوریا اوردیگرہم نوا ملکوں کا اہم اجلاس جاپان کے شہر ٹوکیومیں ہوا ، جس میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اورپھیلاو کوروکنے کی منصوبہ بندی کی گئی

    ہند بحر الکاہل کے خطے میں چین کی مداخلت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ چین کے اس توسیع پسندانہ سلوک کو روکنے کے لئے ہندوستان سمیت تین دیگر ممبر ممالک ریاستہائے متحدہ امریکہ ، آسٹریلیا اور جاپان کا جمعہ کے روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ۔جس میں بحر الکاہل کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

    چین مخالف قوتوں کے اتحاد کواڈنے اس خطے میں امن ، استحکام اور خوشحالی کے فروغ دینے کے مقصد سے رابطے ، بنیادی ڈھانچے کی سہولیات اور سلامتی کے لئے باہمی ‘عملی’ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔وزارت خارجہ کے مطابق بتایا گیا کہ چاروں ممالک نے مشترکہ اقدار اور اصولوں اور بین الاقوامی سمندری قانون کے احترام پر مبنی ایک آزاد ، کھلی ، خوشحال اور جامع ہند بحر الکاہل کے خطے سے وابستگی کی بات دوہرائی۔

    کواڈ کے سینئر عہدیداروں کی یہ میٹنگ ٹوکیو میں اس اجلاس کے 2 ماہ بعد اکتوبر میں ہوئی۔ چاروں ممالک نے ہند بحر الکاہل کے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی مداخلت کو روکنے کے لئے نومبر 2017 میں کواڈ قائم کیا تھا۔وزارت خارجہ کی طرف سے بتایا گیا کہ اجلاس میں مقامی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    رابطے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ دہشت گردی ، سائبر دہشت گردی اور سکیورٹی سے متعلق امور پر بھی بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔ اس مباحثے کا مقصد پورے ہند بحر الکاہل کے خطے میں امن ، خوشحالی اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے ۔

  • کسی وزیر کو کوئی لابی تنگ کرے تو وہ فوری یہ کام کرے، وزیراعظم کا بڑا حکم

    کسی وزیر کو کوئی لابی تنگ کرے تو وہ فوری یہ کام کرے، وزیراعظم کا بڑا حکم

    کسی وزیر کو کوئی لابی تنگ کرے تو وہ فوری یہ کام کرے، وزیراعظم کا بڑا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کا ہر فیصلہ اجتماعی حیثیت میں ہوتا ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی لابی کسی وزیر کے ذریعے دباوَ ڈالے یہ قابل قبول نہیں، کسی وزیر کو کوئی لابی تنگ کرے تو وہ کابینہ کو یا مجھے الگ سے بتائے، ہم فیصلے کسی لابی کے دباو َمیں نہیں، شفاف اور میرٹ پر کریں گے،

    وزیراعظم نے چیئرمین سی ڈی اے کو مارگلہ روڈ پر قائم تجاوزات ہٹانے کی ہدایت کر دی،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے ایک ہفتے میں مارگلہ روڈ سے تجاوزات کلیئر کرائیں،

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،اجلاس میں 12 نکاتی ایجنڈے پر غور کیاگیا،اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 16 دسمبرکے فیصلوں کی توثیق کردی گئی،وفاقی کابینہ نے مردم شماری نتائج جاری کرنے کی منظوری دیدی۔

    ایم کیو ایم نے قومی مردم شماری دوبارہ کرانے کامطالبہ کردیا،کابینہ نے مردم شماری پر وزرا کمیٹی کی رپورٹ منظورکرلی،ایم کیو ایم نے تحفظات تحریری طورپر کابینہ میں پیش کردیے ۔وفاقی کابینہ نے الیکٹرک وہیکل پالیسی کی منظوری دیدی،اجلاس میں موبائل مینوفیکچرنگ پالیسی کی بھی منظوری دیدی گئی ۔

  • بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف ہائیبرڈ جنگ:قوم پوچھ رہی کہ نوازشریف چپ کیوں!

    بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف ہائیبرڈ جنگ:قوم پوچھ رہی کہ نوازشریف چپ کیوں!

    لاہور:بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف ہائیبرڈ جنگ:نوازشریف چپ کیوں رہے،اطلاعات کے مطابق ایک طرف پاکستان کے خلاف بھارت کی ہائی برڈ جنگ سے متعلق تمام ترسازشوں کا انکشاف ہوا ہے تو دوسری طرف یہ بھی سوال اٹھایا جارہا ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف سازشوں کوروکنے کے لیے پچھلی حکومتیں کیوں خاموش رہیں

    اس حوالے سے سب اہم سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ بھارت کی جانب سے انڈین کرونیکلز کے نام سے شائع دستاویز نے بے نقاب کردیا ہے کہ بھارت پاکستان کے تشخص کو متاثر کرنے کے لیے کیا کچھ کررہا تھا۔بھارت کا مقصد پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے منسلک 10کے لگ بھگ جعلی این جی اوزکو استعمال اور ان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا رہا۔

     

     

    ایک طرف یہ توشکوہ اس موجودہ حکومت سے بھی بنتا ہے کہ اس نے کیا کچھ کیا ابھی تک ، مگریہ ضرور ہے کہ اس حکومت نے آتے ہی بھارتی سازشوں کے نیٹ ورکس کوبے نقاب کرنے کےلیے بہت زیادہ کوششیں کییں ، تازہ ترین انکشافات انہیں کوششیں کے نتیجے میں ہوئے ہیں

    ‘یورپی یونین ڈس انفو’ لیب کی تحقیق کے بعد جو حقائق سامنے آئے ہیں، وہ یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ پچھلے 15برسوں سے آن لائن اور آف لائن ہندوستان پاکستان کے تشخص کو متاثر،اپنی اچھائیوں اور سوچ کو جھوٹا سچا کرنے کے لیے کیا کر رہا تھا اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر متاثر کرنے کے لیے جو ان کا کردار تھا وہ بھی آپ سامنے ہے۔بھارت کی طرف سے یہ جعلی حکمت عملی اپنے اسٹرٹیجک مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے کی جا رہی تھی۔

    پاکستان میں شرانگیزی پھیلانے اورپاکستان کوغیرمستحکم کرنے کے حوالے سے اگر دنیا کو بھارت کے حوالے سے ابہام تھا تو ڈس انفولیب کی رپورٹ کے بعد وہ ابہام دور ہو گیا ہے۔ پاکستان، افغانستان میں امن کیلئے سہولت کاری کر رہا ہے۔ بھارت ایسا تاثر دینا چاہتا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی سرمایہ کاری نہ آئے اور پاکستان میں ترقی نہ ہو سکے پاکستان معاشی تحفظ کے فروغ پر بھرپور توجہ دے رہا ہے۔

     

     

    https://www.youtube.com/watch?v=7ZMKtBQZVKM

    بھارت کی پاکستان میں مداخلت مسلمہ حقیقت ہے جس کے پاکستان نے ناقابل تردید ثبوت ڈوزئیرز کی صورت میں دنیا کے سامنے رکھے۔ بھارت کا رویہ ہمیشہ سے چور مچائے شور کا رہا ہے۔ ایک لمحے کے لیے پاکستان کے دنیا کے سامنے رکھے ڈوزئیرز کو الگ رکھ کر بات کر لیں تو بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں جن میں وہ مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی جدوجہد کا بدلہ بلوچستان اور آزاد کشمیر میں چکانے کے اعتراضات کر چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کا پاکستان سے پکڑے جانا پاکستان میں بھارت کی طرف سے دہشتگردی کرانے سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔

    یہ بات ذہن میں رہے کہ اندرونی سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کے حالات مکمل ٹھیک ہو چکے ہیں۔ پاکستان دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے گا۔

    قوم اس وقت ہندوستان اورمودی نوازحکمرانوں سے پوچھ رہی ہے کہ پاکستانی میڈیا ، سیکورٹی ادارے کئی دہائیوں سے کہہ رہے تھے کہ بھارت پاکستان کوغیرمستحکم کرنے کے لیے گھنونی سازشیں کھیل رہا ہے تو سابق حکمران کیوں چپ رہے ،

    قوم یہ بھی سوال کرتی ہے کہ جب ہرذی شعور پاکستانی کویہ معلوم تھا اورجس دہشت گردی کا اعتراب بھارتی وزیراعظم مودی اوراجیت ڈول خود کررہے ہیں نوازشریف اس مودی کوچھوڑنے کے لیے آخرکس وجہ سے تیارنہیں

     

    قوم یہ بھی پوچھتی ہے کہ نوازشریف نے اگربھارت سے کاروباری شیئرز ہی کرنے تھے تو پھرپاکستانیوں کوگمراہ کرنے کی کیا ضرورت تھی

    ایک سوال یہ بھی پوچھا جارہا ہے کہ اس دوران پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارت کی اس پراکسی کا مقابلہ کرنے کے لیے جدوجہد کیوں نہ کی

    پاکستان کے پڑھا لکھا طبقہ جس کا یہ سوال سوشل میڈیا پربڑا وائرل ہورہا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگریہ سارے کام فوج اور فوج سے متعلقہ سیکورٹی ادروں نی ہی کرنا ہیں توپھروزارت خارجہ میں بڑے بڑے ڈان اورلشکرکیوں بٹھا رکھے ہیں‌

    یاد رہے کہ اسی پراکسی سے متعلق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں غیررسمی پارلیمانی گروپس ترتیب دیے گئے۔ مثلا ساتھ ایشیا پیس فورم، فرینڈز آف گلگت بلتستان سے متعلق 14نومبر پریس کانفرنس میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت دے رہے تھے

    یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ شاہ جی نے پریس کانفرنس میں بلوچستان کا بھی حوالہ دیا تھا کہ کس طرح خاص طور پر سی پیک کا منصوبہ آگے بڑھناشروع ہوا۔ بلوچستان میں بالخصوص دہشت گرد سرگرمیاں بڑھتی چلی گئی۔ فرینڈز آف بلوچستان ایک جعلی آرگنائزیشن اور گروپ بنایا گیا ہے تاکہ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کا پرچار کیا جا سکے۔

    اب دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ یہ جعلی نیوز آوٹ لیٹس نہ صرف بھارت نے بنائے بلکہ بھارت انہیں فنڈ بھی کرتا ہے جس کا مقصد یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے نظام کو غلط معلومات دینا اور ان غلط معلومات کے ذریعے سے اپنے غلط مقاصد حاصل کرنا ہے۔

    مشیر قومی سلامتی امور معید یوسف نے بھی بھارتی ہائبرڈ جارحیت پر کہا کہ ہندوستان پاکستان کے خلاف ایک ہائبرڈ وار میں ملوث ہے اور پاکستان کئی سالوں سے اس کا موثر طریقے سے مقابلہ کررہا ہے

    ان تمام ترحالات وواقعات کے بعد قوم سابق وزیراعظم نوازشریف ، سابق صدر آصف علی زرداری ، اکھنڈ بھارت کے دعویدارمولانا فضل الرحمن اوران کے ہمنواوں سے پوچھ رہی ہے کہ پاکستان کا آئین تو ذوالفقار علی بھٹو بناکردے گئے تھے

    اب اس میں کبھی کبھار ترمیم کی ضرورت پڑجاتی ہے لیکن یہ طبقہ بتائے کہ آخروہ اسمبلیوں ،سینیٹ اوربڑے بڑے عہدوں سے سالانہ تنخواہوں اورمراعات کی صورت میں قوم کا اربوں روپے ہڑپ کرجاتے ہیں اگراس طبقے نے بھارت کی مکاری سے پردہ نہیں‌ اٹھانا یا بھارت کے لیے سہولت کارکے طورپرکام کرنا ہے پھریہ استعفے دیں اس ملک میں پہلے ہی بڑی بے روزگاری ہے ، جوکام یہ اربوں روپے کھا کربھی نہیں کررہے وہ اس ملک کے پڑھے لکھے نوجوان کرلیں گے اوربھارتی سازشوں کا جواب بھی دےلیں گے اورتوڑ بھی کرلیں گے

     

     

    یاد رہے کہ پاکستان کے خلاف کھیلے جانے والی سازشوں کے پیچھے بھارت کا مکروچہرہ بے نقاب ہوگیا ہے ، ادھر اس حوالے سے پورپی یونین کے تحقیقاتی ادارے ڈس انفولیب نے گمراہ کن خبریں پھیلانے والے بھارتی نیٹ ورک کا پردہ فاش کردیا۔

    پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں پرسےپردہ اٹھاتے ہوئے برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے تحقیقاتی ادارے ڈس انفولیب نے اپنی رپورٹ میں جھوٹے پروپیگنڈے اور گمراہ کن خبروں کے لیے بنائے جانے والے بھارتی نیٹ ورک سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات کیے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی نیٹ ورک گزشتہ پندرہ سالوں سے اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کو جھانسہ دے رہا ہے جبکہ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی میں بھی مصروف ہے۔

    ڈس انفولیب کی رپورٹ کے مطابق بھارتی نیٹ ورک نے جعلی فلاحی تنظیمیں (این جی اوز) اور میڈیا آرگنائزیشن وسیع پیمانے پر تشکیل دیں، یہ تمام تنظیمیں اور صحافتی ادارے نیٹ ورک کے لیے کام کررہے ہیں۔

     

     

     

    رپورٹ کے مطابق بھارتی نیٹ ورک نے اپنے مذموم عزائم کے لیے فرضی شناخت یا انتقال کرنے جانے والے لوگوں کو زندہ ظاہر کیا۔ جن لوگوں کو مردہ ظاہر کیا گیا اُن میں پروفیسر لوئیس بی سوہن کا نام بھی شامل ہے جنہیں اقوام متحدہ میں شمولیت کرنے والے کے طور پر ظاہر کیا گیا جبکہ پروفیسر 2006 میں وفات پاچکے ہیں۔

    ڈس انفو لیب کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’سری واستوا گروپ‘ کے نام سے بنایا جانے والا نیٹ ورک دنیا کے 116 ممالک اور 9 خطوں تک پھیلا ہوا ہے۔

    تحقیقیاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ یہ نیٹ ورک پاکستان کے خلاف بھی جھوٹا پروپیگنڈا اور من گھڑت خبروں کی تشہیر میں مصروف تھا۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک نے خود کو بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی سے منسلک ظاہر کیا جس کی وجہ سے یہ دنیا بھر میں پھیل گیا۔ تحقیقات میں سب سےاہم بات یہ بات بھی سامنے آئی کہ سری واستوا گروپ نے جن 10 فلاحی تنظیموں سے وابستگی ظاہر کی وہ اقوام متحدہ سے رجسٹرڈ ہیں۔

    ڈس انفو لیب کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک نے ساڑھے پانچ سو سے زیادہ نیوز ویب سائٹس، متعدد مشکوک این جی اوز اور کئی غیر فعال ادارے تشکیل دیے یہ تمام ادارے اور این جی اوز مل کر بھارتی مفادات کے لیے کام کرتی تھیں۔

  • مولانا فضل الرحمان جھوٹے اور سلیکٹڈ ، ایک اور جے یو آئی رہنما برس پڑے

    مولانا فضل الرحمان جھوٹے اور سلیکٹڈ ، ایک اور جے یو آئی رہنما برس پڑے

    مولانا فضل الرحمان جھوٹے اور سلیکٹڈ ، ایک اور جے یو آئی رہنما برس پڑے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت جے یو آئی کے رہنما مسلسل مولانا پر الزامات لگا رہے ہیں

    مولانا فضل الرحمان جھوٹے اور سلیکٹڈ ہیں بلوچستان کے بعد کے پی سے بھی مولانا کیخلاف آواز اٹھنے لگی ،‏مولانا شیرانی کے بعد کے پی سے بھی جے یو آئی کے رہنما کا اختلافی بیان سامنے آگیا

    مولانا شیرانی کے بعد مولانا شجاع الملک نے بھی مولانا فضل الرحمان کو سلیکٹڈ کہہ دیا، مولانا شجاع الملک نے جماعت کے رکن سازی پر خیانت کا الزام بھی لگا دیا، شجاع الملک کا کہنا ہے کہ حافظ حسین احمد کو جے یو آئی سے نکالنے کا فیصلہ غلط ہے، پارٹی کی تنظیم سازی کے حوالہ سے مولانا شیرانی کا موقف درست ہے

    مولانا شجاع الملک سابقہ ایم این اے اور صوبائی سیکریٹری جنرل رہ چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روزجمعیت علما اسلام کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم ذاتی مفادات کے لیے قائم ہوئی ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان اگلے 5 سال بھی پورے کریں گے۔ پی ڈی ایم والے مخاصمت کے لیے نہیں مفاہمت کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ل مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان خود سیلکٹڈ ہیں، وہ عمران خان کو کیسے کہتے ہیں کہ وہ سیلکٹڈ ہے، میرا ماننا ہےکہ یہ پارٹی کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، اگر کوئی ایسا سوچ رہاہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر کے بلوچستان کے تمام اضلاع میں پارٹی کے دفاتر قائم کروں گا، حافظ حسین احمد ہمارا پرانا، عقلمند اور سمجھدار ساتھی ہے، ہم سب کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

    مولانا محمد خان شیرانی کا مزید کہنا تھا میں نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ عمران خان اپنے پانچ سال مکمل کرے گا، آنے والے پانچ سال بھی عمران خان کے ہی ہوں گے

    یو آئی نے سینئر رہنما کی جانب سے اچانک ایسا بیان آنے پر اجلاس طلب کر لیا،جے یو آئی ف سے مولانا شیرانی کی ناراضگی اچانک سامنے آئی ،جے یو آئی نے اعلیٰ سطح کا اجلاس 24 دسمبر کو اسلام آباد میں طلب کر لیا،اجلاس میں مولانا شیرانی کی گفتگو پر مشاورت کی جائے گی، اجلاس میں مولانا شیرانی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا جائے گا اور انہیں پارٹی سے نکالے جانے کا بھی امکان ہے

    پی ڈی ایم کا جلسہ:اپوزیشن کا آخری شوبھی فلاپ:سچ کیا اورجھوٹ کیا:ممتازاعوان نے منظرکشی کردی

    پی ڈی ایم کو لاہورجلسہ الٹا پڑ گیا،مولانا ،بلاول اور نواز شریف کے واضح اشارے، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    پی ڈی ایم مینار پاکستان جلسے میں ناکامی پر پی ڈی ایم سربراہ نے ایکشن لے لیا

    عمران خان نے بھی این آر او نہیں لیا،استعفے کب دینے ہیں؟ نواز شریف کا پی ڈی ایم جلسہ میں بڑا اعلان

    بٹ کڑاہی سے کھانا مریم نواز نے کھایا ، بد ہضمی حکومت کو ہوگئی مریم اورنگزیب

    مینار پاکستان گیٹ کے تالے ٹوٹ گئے، پی ڈی ایم کی جانب سے انتظامات جاری

    پی ڈی ایم والےعوام کی زندگیوں سے کھیلنا چھوڑ دیں ،قانونی کاروائی ہو گی، وزیراعلیٰ پنجاب

    پی ڈی ایم جلسے کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    مریم نواز کا لکشمی چوک میں کھانا ،ہوٹل مالک کو "مہنگا” پڑ گیا

    مولانا فضل الرحمان سیلکٹڈ، پارٹی رہنما کے بیان پر جے یو آئی کا اجلاس طلب،اہم فیصلے متوقع

     

  • جنگی مشقوں کے دوران چینی ساختہ جنگی جہاز میں سربراہ پاک فضائیہ کی پرواز

    جنگی مشقوں کے دوران چینی ساختہ جنگی جہاز میں سربراہ پاک فضائیہ کی پرواز

    جنگی مشقوں کے دوران چینی ساختہ جنگی جہاز میں سربراہ پاک فضائیہ کی پرواز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان کی پاک چین مشترکہ فضائی مشق شاہین- IX کے دوران چینی ساختہ جنگی جہاز J-10 میں پرواز کی

    ائیر چیف مجاہد انور خان نے فضائی مشق میں حصہ لینے والے شرکاء کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جنگی مہارت کی بھرپور تعریف کی۔ ایئر چیف مجاہد انور خان کا کہنا تھا کہ ملٹری ایوی ایشن ٹیکنالوجی دور جدید کی عسکری ضروریات کا ایک اہم جز ہے، مشقیں دونوں فضائی افواج کے باہمی تعاون کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گی، مشق سے دونوں فضائی افواج کے درمیان موجودہ پیشہ ورانہ تعلقات کو مزید تقویت ملے گی

    موجودہ حالات کے تناظر میں چینی ملٹری ایوی ایشن ٹیکنالوجی دورِ جدید کی عسکری ضروریات کا ایک اہم جزو ہے اور عصرِ حاضر کے تمام چیلینجز سے مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

    ترجمان کے مطابق اسسٹنٹ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے ایئر چیف مجاہد انور خان نے استقبال کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مشقیں دونوں فضائی افواج کوایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کا شاندارموقع ہے۔

    قبل ازیں چند روز قبل پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فضائیہ کی آپریشنل بیس کا دورہ کیا۔ ایئر بیس پہنچنے پر سربراہ پاک فضائیہ مجاہد انور خان نے استقبال کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے دونوں ممالک کے افسران اور جوانوں سے ملاقات بھی کی اور پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور حربی صلاحیت کو سراہا۔میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک چین ایئر فورس کی مشترکہ فوجیں مشقیں شاہین 9 کا مشاہدہ کیا، شاہین سیریز کی پاک چین مشترکہ مشقیں 2011ء میں شروع ہوئیں۔

    شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مشقوں سے باہمی اشتراک، آپریشنل ہم آہنگی میں بہتری آئے گی۔ انٹر سروسز ہم آہنگی سے آپریشنل کامیابی کو تقویت ملتی ہے۔ سپہ سالار کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی جنگی مشقوں سے دونوں ممالک کی ائیر فورس کی استعداد کار ، تجربہ سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ مشتر کہ تربیتی مشقوں سے دونوں ممالک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت ملتی ہے۔

    آرمی چیف کا کہنا تھا کہ مشترکہ فضائی مشقوں سے دونوں ملکوں کی فضائیہ کی حربی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، پاک فضائیہ کے شاہینوں کا بلند عزم دوسروں سے منفرد کرتا ہے۔ فضائی مشقوں سے دونوں ملکوں کی فضائیہ کے درمیان پیشہ ورانہ ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔ جیو سٹرٹیجک چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور چین کی مشترکہ فوجیں مشقیں اہم ہیں۔

    یاد رہے کہ چینی اور پاکستانی فضائیہ کے درمیان مشترکہ طور پر ہونے والی فوجی مشقوں "شاہین – IX” میں شرکت کے لئے چین فوجی 7 دسمبر کو پاکستان پہنچ چکے تھے ۔یہ مشترکہ تربیتی مشقیں 2020 کے چین پاکستان فوجی تعاون کے ایک منصوبے کے تحت منعقد کی جا رہی ہیں۔ ان کا مقصد دونوں ممالک کے فوجیوں کے مابین تعلقات کو فروغ دینا اور دونوں ممالک کی فضائیہ کے مابین عملی تعاون کو وسعت دینا ہے۔ان مشقوں سے دونوں اطراف کی افواج کی حقیقی جنگی تربیت اور صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ مشقیں دسمبر کے آخر میں اختتام پذیر ہوں گی۔