احسن اقبال پر فرد جرم عائد،احسن اقبال کے بیان پر عدالت کے سخت ریمارکس
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت اسلام آباد میں نارووال سپورٹس سٹی کمپلیکس ریفرنس کی سماعت ہوئی
احسن اقبال احتساب عدالت پہنچ گئے ، احتساب عدالت اسلام آباد میں نارووال اسپورٹس سٹی کیس میں احسن اقبال پر فرد جرم عائد کر دی گئی
سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے عدالت میں صحت جرم سے انکار کر دیا،احسن اقبال نے کہا کہ جج نے پہلے دیکھنا ہوتا ہے یہ کیس بنتا بھی ہے یا نہیں،
احتساب عدالت کے جج اصغر علی نے کہا کہ ہم یہاں ایسی باتیں سننے نہیں بیٹھے ہوئے ،جج نے احسن اقبال کو بات کرنے سے روک دیا،آپ نے کوئی درخواست دائر کرنی تو کریں یا اپنے وکیل کے ذریعے بات کریں ،ہم سامنے پیش کیا گیاریکارڈ دیکھ کر ہی کہہ رہے ہیں یہ بادی النظر میں کیس بنتا ہے،
جہانگیر جدون نے کہا کہ کہاں کیس بنتا ہے، کیا ہمارے ماتھے پر لکھا ہوا ہے؟ عدالت کے جج اصغر علی نے کہا کہ فیصلے سے پہلے فیصلہ نہیں سنا سکتے ، شواہد دیکھے جائیں گے،
سابق ڈی جی پاکستان سپورٹس بورڈ اختر نواز گنجیرا، سرفراز رسول پر بھی فرد جرم عائد کر دی گئی
قبل ازیں نیب نے احسن اقبال کے خلاف کرپشن ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کردیا تھا,ریفرنس کے متن میں کہا گیا کہ احسن اقبال نے نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، احسن اقبال نے وفاقی حکومت کے فنڈز صوبائی منصوبے میں خرچ کروائے، ریفرنس میں سابق ڈی جی ا سپورٹس بورڈ اختر نواز گنجیرا بھی ملزم نامزد ہیں
واضح رہے کہ احسن اقبال کو نیب نے گرفتار کیا تھا، احسن اقبال کو عدالت نے ضمانت پر رہا کیا تھاجس کے بعدوہ اڈیالہ جیل سے رہا ہوئے تھے، جیل سے رہا ہوتے ہی احسن اقبال کو نیب نے دوبارہ طلب کر کے پاسپورٹ جمع کروانے کا کہا تھا تا کہ وہ بیرون ملک فرار نہ ہو سکیں
نیب کے مطابق احسن اقبال نے بطور وزیر منصوبہ بندی اختیارات کا نا جائز استعمال کیا ،احسن اقبال نے نارووال اسپورٹس منصوبےکی لاگت کوغیرقانونی طور پر بڑھایا ،ساڑھے 3 کروڑ روپے کے منصوبے کی لاگت 10کروڑ روپے تک پہنچ گئی،لاگت بڑھانے کی اجازت سنٹرل ڈویلوپمنٹ ورکنگ پارٹی سے نہیں لی گئی
کورونا کے باوجود معیشت کے حوالہ سے وزیراعظم نے سنائی اچھی خبر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کے باوجود معیشت سے متعلق اچھی خبر ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وباء کے باوجود معیشت کے بارے میں اچھی خبر ہے کہ یہ کمال انداز میں پلٹ رہی ہے۔
وباءکےباوجودمعیشت کےبارےمیں اچھی خبر ہےکہ یہ کمال انداز میں پلٹ رہی ہے۔کرنٹ اکاؤنٹ نومبر کےدوران بھی 447 ملین $ سر پلس رہا۔گزشتہ مالی سال کے1.7 ارب $ کے خسارےکی بجائےکرنٹ اکاؤنٹ اس سال اب تک 1.6ارب$ سرپلس ہوچکاہے۔مرکزی بنک کے ذخائر13ارب $ تک بڑھ چکےہیں جو 3 برس میں سب سےزیادہ ہیں
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ نومبر کے دوران بھی 447 ملین $ سر پلس رہا۔ گزشتہ مالی سال کے 1.7 ارب $ کے خسارے کی بجائے کرنٹ اکاؤنٹ اس سال اب تک 1.6 ارب$ سرپلس ہوچکا ہے۔مرکزی بنک کے ذخائر13 ارب $ تک بڑھ چکے ہیں جو 3 برس میں سب سے زیادہ ہیں
گزشتہ روز وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اسمارٹ لاک ڈاوَن سےکاروبار اور روزگار برقرار رہا اور معیشت چلتی رہی. ترسیلات زر،برآمدات،سرمایہ کاری میں بہتری سمیت صنعتوں میں6.7 فیصدب ہتری آئی، حکومت کے اقدامات سے ٹیکس وصولیوں میں17فیصد اضافہ ہوا ،ترسیلات زر،برآمدات،سرمایہ کاری میں بہتری سمیت صنعتوں میں6.7 فیصدبہتری آئی.پاکستان نےکورونااثرات سےبچنےکیلئےاسمارٹ لاک ڈاوَن کی پالیسی اپنائی.اسمارٹ لاک ڈاوَن سے کاروبار اور روزگاربرقرار رہا اور معیشت چلتی رہی،پاکستان کی کورونا حکمت عملی کوعالمی سطح پرسراہا گیا.حکومت نےکورونا سے نمٹنے کیلئے 1240 ارب روپےکا ریلیف پروگرام دیا،
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چینی سفیر کی ملاقات، سی پیک کے متعلق اہم امور بھی زیر بحث ہوئے
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق .پاکستان میں تعینات چینی سفیر نونگ رونگ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے جس میں اہم امور پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دو طرفہ تعاون اور علاقائی سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں سی پیک سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ چینی وزیر دفاع کے کے دورہ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چینی سفیر نونگ رونگ نے خطے میں امن واستحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے .
،آرمی چیف نے کہا کہ چینی وزیردفاع کادورہ پاکستان دونوں آہنی برادرکےتعلقات کومزیدمضبوط کرےگاچین کےسفیرنےامن اورعلاقائی استحکام کیلئےپاکستان کےکردارکوسراہا
طیب اردگان کی منافقت یا قومی مفاد ،پاکستان کا وہ بلاک جو بننے سے پہلے ٹوٹ گیا، تہلکہ خیز انکشافات،مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد عرب ممالک پر فلیسطین سے غداری اور ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے الزامات لگانے والے طیب رجب اردگان نے امریکی پابندیاں لگنے کے اگلے دن اسرائیل سے دو سال سے منقطع تعلقات اچانک بحال کر کے پاکستان سمیت دنیا بھر کو حیران کر دیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ہے۔؟
ایسا کرنے سےمشرق وسطیٰ کی انتہائی پیچیدہ سیاست مزید پچیدہ ہو جائے گئی۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیا طیب اردگان کو اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ تناو کی پالیسی سے انہوں نے ترکی کو دنیا میں تنہا کر دیا تھا۔ سعودی عرب سے ترکی کی لڑائی، آرمینیا سے ان کی لڑائی، فرانس سے ان کا پھڈا، یونان اور قبرس سے ان کی لڑائی، مصر ، شام، لیبیا سمیت دنیا بھر میں تنازعات کے اندر ترکی کا کردار اور اب امریکہ کی طرف سے پابندیاں۔ان تمام لڑائیوں کا مقصد اسلامی دنیا کو گمراہ کرنا تھا ، اپنے ملک میں مذہبی سپورٹ کو اپنے ساتھ کرنا تھایا واقعی ترکی اسلامک بلاک کی جگہ لے کر دنیا بھر میں کمزور مسلمان ممالک کی آواز بننا چاہتا تھا۔آج کی اس ویڈیو میں ہم کوشش کریں گے۔کہ اس مسئلہ سے متعلق اٹھنے والے سوالوں کے جواب آپ کو دیں اور حقائق آپ کے سامنے رکھیں۔جب میں نے اس بات سے پردہ اٹھایا تھا کہ ترکی مسلمان ممالک میں پہلا ملک تھا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا تو بڑے نام نہاد سیاسی مفکر ترکی کے دفاع میں نکل آئے تھے۔کیوں ۔۔۔ کیونکہ انہیں حقیقت سے کچھ لینا دینا نہیں انہوں نے وہ بات کرنی ہے جو لوگ سننا چاہتے ہیں اور جو سننے کو ان کا دل کرتا ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب ترکی نے بغیر کسی شرط کے، بغیر فلسطینیوں کو حقوق دلوائے یک طرفہ اسرائیل سے تعلقات بحال کر لیئے ہیں تو اس بارے میں ان نام نہاد سیاسی مفکرین کا کیا کہنا ہے۔پاکستان کا وہ بلاک جو بننے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا، اس کے بارے میں کیا خیال ہے۔ ترکی، ایران، چین اور پاکستان کے بلاک کی بڑھکیں مار کر سعودی عرب کو ناراض کرنے کا پاکستان کو کیا فائدہ ملا۔۔؟ کبھی ہم کہتے ہیں کہ عرب امارات سے پاکستان کے معاملات بلکل ٹھیک ہیں لیکن پھر ہمارے وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ جب مسئلہ ہے ہی نہیں تو حل کیوں کر رہے ہو بھائی۔کیا اس بات میں کوئی شک ہے کہطیب اردگان کی پہلی ذمہ داری ترکی کے مفاد کو دیکھنا ہے جبکہ پاکستان کی پہلی ترجیح پاکستان کے مفادات کا تحفظ ہے۔کوئی بھی قوم اپنے مفادات کا تحفظ اس وقت کر سکتی ہے جب وہ حقائق سے آگاہ ہو اور وہ صحیح حقائق ہی ہیں جن سے صحیح فیصلہ کرنے میں رہنمائی لی جاتی ہے۔جھوٹ پر مبنی حقائق سے لیا فیصلہ کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا۔پاکستان وہ ملک ہے جس نے انیس سو اڑتالیس سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔مصر نے انیس سو اٹہتر میں معاہدہ کیا۔Palestine Liberation Organization (PLO)نے انیس سو ترانوے میں معاہدہ کیا۔اردن نے انیس سو چورانوے میں معاہدہ کیا گلف ممالک جو پہلے پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے یا پاکستان ان کے ساتھ کھڑا تھا۔ عرب امارات نے دوہزار بیس میں معاہدہ کیا
، سوڈان، بحریں مراکو نے تعلقات بحال کر لیئے ہیں لیکن پاکستان نے اپنی فارن پالیسی تبدیل نہیں کی۔۔کیوں۔۔؟
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کیونکہ پاکستان کی ریاست جس نے یہ فیصلہ کرنا ہے اس نے جب بھی کرنا ہے پاکستان کے بہترین مفاد اور اپنی پالیسی کی روشنی میں کرنا ہے اور اب کہا یہ جا رہا ہے کہ بظاہر سعودی عرب کا بھی وہی موقف ہے جو پاکستان کا Stance ہے کہ فلسطین کو آزاد ریاست کا Status دو تو بات آگے چلے گی اور سعودی عرب اور پاکستان اس معاملے پر ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔ لیکن ہم نے کبھی کسی دوست ملک کو اس حوالے سے گمراہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل نے ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو نکال کر اپنی ریاست کا اعلان کیا۔ 1960 کی دہائی میں PLO بنی۔ پہلے اس کا مطالبہ تھا کہ ہمیں وہ فلسطین چاہیے جو برطانیہ کے قبضہ میں تھا یعنی اسرائیل کا سرے سے خاتمہ۔ لیکن پھرPLO زمین تقسیم کرنے پر رضا مند ہو گئی۔ لیکن پھر بھی یہ مسلئہ حل نہیں ہو سکا۔ جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ جب عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کیا تو ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تاریخ اور خطے کے عوام کا ضمیر ، متحدہ عرب امارات کے اس منافقانہ طرز عمل کو فراموش نہیں کرے گا اور اسے کبھی معاف نہیں کرے گا ، جو اس نے اپنے Narrow interest کے لیئے
فلسطینی مقاصد کے ساتھ غداری کی ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ طیب اردگان نے عرب امارات کے ساتھ اپنے تعلقات معطل کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ ایسا انہوں نے کیوں کیا۔ وہ کون سے مقاصد ہیں جو طیب اردگان نے حاصل کر لیئے اور اپنا سفیر Tel aviv
بھیج دیا ہے۔ کہا ہے وہ فلسطین Cause کہاں ہے خطے کے لوگوں کا ضمیر۔ کوئی اور کرے تو ۔۔ امت کا غدار اور۔۔ میں کروں تو امت کا لیڈر۔۔یہ کیا مذاق ہے بھائی۔ کس کو پاگل بنا رہے ہو۔۔؟اگر عرب امارات اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے پر منافق تھا تو طیب اردگان منافق نہیں۔۔؟کیا آپ کو پتا ہے کہ2005میں جنرل مشرف کے دور میں جب اسرائیل سے تعلقات کی بات چلی تھی اور خورشید قصوری اور اسرائیلی وزیر خارجہ نے تاریخ میں پہلی دفعہ ہاتھ ملائے تھے ان کوششوں کے پیچھے بھی ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان تھے۔ جس کا اقرار خود اسرائیلی وزیر خارجہ نے کیا۔اس وقت اسرائیل نے طیب اردگان کو پاکستان سے تعلقات وابسطہ کروانے پر کیا لولی پاپ دیا تھا۔۔؟
انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ کیا وہ پاکستان کی محبت تھی۔ کیا وہ ترکی کا مفاد تھا یا اسرائیل کا مطالبہ۔ کوئی ہے جو اس حقیقت سے پردہ اٹھائے گا۔؟ترکی اور اسرائیل کے درمیان Free trade agreement موجود ہے۔ دو ہزار اٹھارہ کے اعداد و شمار کے مطابق ترکی اسرائیل کا major trading partner ہے۔ ترکی اسرائیل کو ٹیکسٹائل،iron, chemicals and oil distillates, steel, land, sea and air vehicles, ceramic اور glass products فرائم کرتا ہے۔
ترکی اسرائیل سے High tech equipment خریدتا ہے جبکہ اسرائیلی ملٹری کو یونیفورم اور بوٹ فراہم کرتا ہے۔ترکی کی ائیر لائن سب سے زیادہ اور reguler دورے اسرائیل کے کرتی ہے۔سیاحت انتہائی کم ہونے کے باوجود سالانہ ایک لکھ یہودی ترکی کا دورہ کرتے ہیں۔منسٹری آف کامرس کے ڈیٹا کے مطابق ترکی اور اسرائیل کے درمیاں تجارت کا حجم یہ ہے۔ 2018 .. 6.2 billion doller جو 2019-20میں 5.5 billion doller ہو گئی۔ اور سب سے زیادہ اکتوبر دو ہزار بیس میں رہی جبکہ ترکی کی ایکسپورٹ جو اسرائیل کی گئی اس میں بھی سولہ فیصد اضافہ ہوا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دو ماہ پہلے اسرائیل اور ترکی۔۔ آزرنائیجان اور آرمینیا کے معاملے پر بھی ایک ساتھ کھڑے تھے۔اب مسئلہ یہ ہے جو خطرات پاکستان کو لاحق ہیں وہ دنیا کے ہر اہم ملک کو در پیش ہیں۔پوری دنیا سمیت
مشرق وسطیٰ میں نئی صف بندیاں اور Geo streategic تبدیلیاں ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہیں جب دنیا وبا کی وجہ سے انسانی تاریخ کے ایک مشکل دورسے گزر رہی ہے۔دنیا بھر کے ملکوں کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور عرب ممالک کے لیے ،تیل کی ڈیمانڈ کم ہونے کی وجہ سے، اس کے کمائی پر انحصار کم ہو رہا ہے۔بدقسمتی سے مغرب اس وقت دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی سمیت دیگر وسائل پر قابض ہے، اس وقت وہی ملک ترکی کر سکتا ہے جسے وہ ترقی کرنے کی اجازت دیں گے۔بظاہرعرب ممالک معاشی استحکام کی کوشش میں اپنی روایتی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے اور اپنے لیے نئے معاشی امکانات اور مواقع پیدا کرنے کی فکر میں مصروف نظر آتے ہیں۔ امریکہ میں حکومت تبدیل ہو چکی ہے۔ ہر کوئی نئی امریکی انتظامیہ سے اپنے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ٹائمز آف اسرائیلاسے ترکی کی طرف سے آنے والے دنوں میں امریکہ سے اپنے تعلقات ٹھیک کرنے کی کوشش قرار دیا ہے یروشلم پوسٹ نے 13 دسمبر کو ترکی کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی خبروں کے حوالے سے لکھا کہ ترکی اسرائیل سے تعلقات بحال کر کے نئی امریکی انتظامیہ کے سامنے اپنے آپ کو
گُڈ کاپ کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے تو دوسری طرف اسرائیل کو اپنے نئے اتحادیوں متحدہ عرب امارات اور یونان سے دور کرنا چاہتا ہے۔اس کے علاوہ دنیا بھر کے تجزیہ کاروں کا بھی یہ خیال ہے کہ ترکی نے یہ فیصلہ نئی امریکہ انتظامیہ سے مذاکرات اور بات چیت کے لیے گنجائش پیدا کرنے اور ترکی پر چاروں طرف سے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نکلنے کے لیے کیا ہے۔ترکی میں الگ تھلگ رہ جانے کا احساس شدت سے محسوس کیا جا رہا تھا۔
ترکی کو بحیرہ احمر میں تیل اور گیس کی تلاش کے معاملے پر قبرص اور یونان سے جھگڑے میں فرانس اور متحدہ عرب امارات کی مخالفت کا سامنا ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیبیا اور شام کے معاملات میں ترکی کو مصر، سعودی عرب متحدہ عرب امارات، فرانس کے علاوہ روس سے بھی مخالفت کا سامناہے۔کس گلف ملک نے کیا کیا یہ الگ بحث ہے لیکن طیب اردگان جو اپنی تقریوں اور الفاظوں سے امت مسلمہ کا لیڈر اور سلطنت عثمانیہ کے وارث بننے کی کوشش کر رہے ہیں کیا ان کے الفاظ اور ان کے Actionمیں مطابقت نہیں ہونی چاہیے۔ کیا طیب اردگان کو نہیں چاہیے تھا کہ کسی بھی ملک کو
Diplomatic ties ختم کرنے کی دھمکی دینے سے پہلے صہیونی ریاست سے Trade or diplomacy ختم کر دیتے۔ تاکہ ان کی باتوں اور دھمکیوں سے زیادہ ان کے اقدامات کی گونج ہوتی۔لیکن یہاں گنگا الٹی ہی بہہ گئی۔
یہ کام کئے بغیرپاکستان میں دولت نہیں بڑھ سکتی،وزیراعظم کا بلین ٹری ہنی پروگرام سے خطاب
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلین ٹری ہنی پروگرام سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سب سےبڑا چیلنج ماحول کا خیال رکھنا ہے، مختلف اقسام کے شہد کی پیداوار سے زرمبادلہ بڑھنے کے علاوہ لاکھوں نوکریاں بھی پیدا ہوں گی۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انگریز کے بنائے جنگلات ہم نے ختم کر دیے،دریا آلودہ ہوچکے،سپریم کورٹ نے کہا سندھ میں زیر زمین پانی 70فیصد آلودہ ہے،پاکستان ماحولیات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا پانچواں ملک ہوگا،لاہور میں آلودگی خطرے کی حد سےبڑھ جاتی ہے،بد قسمتی سے جنگلات کے رقبے میں تیزی سے کمی ہوئی،موجودہ حکومت ماحولیات پر خاص توجہ دے رہی ہے،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پرملک کودرپیش ماحولیاتی صورتحال بہترکرنے کی ذمے داری ہے ،جو بھی حکمران آیا اس نے5سال کا ہی سوچا، سردیوں میں لاہورمیں آلودگی خطرے کی حد سے بڑھ جاتی ہے ، غیر ملکی این جی اوز نے ہمارے بلین ٹری سونامی پروگرام کی تصدیق کی،کے پی میں 1 ارب درخت کا منصوبہ بنایا توہمارامذاق اڑایا گیا ،سرسبزعلاقوں میں درخت کاٹ کرعمارتیں بنائی گئیں ،ٹمبرمافیا سے مقابلے میں فارسٹ گارڈزکی شہادتیں بھی ہوئیں،ماضی میں حکومتوں نے سیاسی فوائد کیلئے جنگلات کی زمین لیزپردی،برآمدات بڑھائے بغیرپاکستان میں دولت نہیں بڑھ سکتی،برآمدات بڑھانے کیلئے کوالٹی کنٹرول کی ضرورت ہے،کوہ سلیمان کاعلاقہ زیتون کی پیداوارکے لیے بہترین ہے ملک میں زیتون کی پیداواربڑھا رخوردنی تیل کی درآمد پراخراجات کم کرسکتے ہیں،
حکومت کے ساتھ مذاکرات؟ بلاول نے ایسا اعلان کر دیا کہ پی ڈی ایم رہنما بھی چکرا گئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ کارکنوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکنوں نے مشکل صورتحال میں ہمارا ساتھ دیا،کسی بھی جماعت کی مضبوطی اس کے کارکن ہوتے ہیں،کارکنوں کے اہل خانہ میں بھی پیپلزپارٹی سے محبت پائی جاتی ہے،دلاور بٹ شہید بینظیر اور ذوالفقار بھٹو کا جیالا تھا، کارکنوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، دلاور بٹ لاہور کی گلیوں میں آمروں کا مقابلہ کرتا رہا،حکومت زمینی حقائق سے واقف ہی نہیں حکومت لوگوں کو ایک وقت کی روٹی نہیں دے رہی ،
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کے پاس مسائل کا حل نہیں تو مستعفی ہوں، ہم نے اپنے دور میں مشکل حالات میں غریب کو تنہا نہیں چھوڑافوج ،پنشنرز ،غریب اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا، حکومت کسانوں ،غریبوں اور سرکاری ملازمین کے لیے کیا کررہی ہےہم لانگ مارچ پر ضرور نکلیں گے،ہم غریبوں کوساتھ لیکر جائیں گے،
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ آپ اپنے کسان سے خریداری نہیں کررہے، دنیا سے خریداری کررہے ہیں، لانگ مارچ تو ہونا ہی ہونا ہے،لانگ مارچ کا فیصلہ پی ڈی ایم کرے گا،عوامی طاقت سے اسلام آباد جاکر وزیراعظم سے استعفیٰ چھینں گے،،بات چیت کا وقت ختم ہوچکا ہے ،اب وزیراعظم نہیں بچ سکیں گے،عوام اپنے مسائل حل نہ ہونے پر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں ،پی ڈی ایم کا حکومت سے کوئی ڈائیلاگ نہیں چل رہا، مذاکرات کا وقت چلا گیا، اب مذاکرات جب ہوں گے تو جب وزیراعظم نہیں ہوگا،اسلام آباد پہنچ کر استعفے چھین کر لیں گے،پیپلز پارٹی کے پاس عوام کے مسائل کا حل ہے ،ہم نے اپنے دور اقتدار میں عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا ،
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف سے تعزیت کے لئے گئے تھے، شہبازشریف سے ملاقات کا جو پروپیگنڈ ا چل رہا ہے وہ تاثرختم ہونا چاہیے، شہبازشریف سے ملاقات میں جوکہا وہ سب کوبتادیا،شہبازشریف سے میڈیا کے ذریعے تعزیت نہیں کرسکتاتھا،اس کے لیے ماحول چاہیے تھا عوام اسلام آباد پہنچیں گے تو یہ وزیراعظم نہیں بچ سکے گا،ہم نے طے کیا ہے کہ حکومتی رویے کےخلاف ہم ڈٹ کرمقابلہ کریں گے ،پی ڈی ایم کی تمام 11جماعتیں متحد ہے ،کوئی اختلاف نہیں ،پولیس کے سامنے میڈیا پر چلنے والی باتیں نہیں ہوسکتیں ،میڈیا میں جو باتیں چل رہی ہیں یہ باتیں اس ماحول میں نہیں ہوسکتی،
مولانا فضل الرحمان پر حملے کا خدشہ،20 سیاستدانوں کی زندگیاں خطرے میں، وفاقی وزیر داخلہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملک میں سی پیک کے خلاف سازش ہورہی ہے
شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ 20 سیاستدانوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے،تھریٹ الرٹ جاری کردیاگیا،مولانا فضل الرحما ن پر حملے کا خدشہ ہے ،ان کو بھی آگاہ کردیا گیا ،سی پیک کے خلاف کسی تھریٹ کو کامیاب ہونے نہیں دیا،
شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ اپوزیشن سینیٹ الیکشن میں حصہ لے گی، عمران خان ایسی قانون سازی کرے گا کہ اپوزیشن کی چیخیں نکلیں گی، پاپڑ والے اب نہیں بچیں گے،اپوزیشن اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے، ذاتی مفادات کے لئے قومی مفادات کو داو پر نہ لگائے،ووٹ کو عزت دو کا نعرہ خاندان کو عزت دو والوں کو زیب نہیں دیتا،نوازشریف ملکی اداروں کے خلاف بیانیہ رکھتے ہیں
شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے علاوہ مسائل کا اور کوئی حل نہیں ،اپوزیشن سینیٹ الیکشن میں حصہ لے ،مسائل کا حل اسمبلیوں سے نکلے گا،اسد عمر سے درخواست کروں گا کہ لندن کی فلائٹ بند کردیں،کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے ،اپوزیشن لوگوں کو امتحان میں نہ ڈالیں ان لوگوں کی سیاست دیکھیں ، یہ لوگ میڈیا میڈیا کھیل رہے ہیں،وزیراعظم ایسی قانون سازی کریں گے کہ آئندہ وقت میں کوئی بھی دھاندلی کا نہیں سوچے گا،
شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ فضل الرحمان اس اسمبلی کو ناجائز کہہ رہے ہیں جن میں وہ صدارتی امیدوار تھے، پیپلزپارٹی کی سوچ مثبت ہے،ن لیگ کو مولانا فضل الرحمان نے آگے لگایا ہے مولانا فضل الرحمان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں،منی لانڈرنگ اور کرپشن کرنے والے نہیں بچ سکیں گے ،اچھا موقع ہوگا اپوزیشن اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے، بھارت نے پاکستان کے خلاف میلی آنکھ سے دیکھا تو یہ جنگ آخری ہوگی
سینیٹ انتخابات کب ہوں گے؟ الیکشن کمیشن نے خاموشی توڑ دی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ الیکشن کے حوالہ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خاموشی توڑ دی
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند روز سے سینٹ الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف حلقوں کی طرف سے بیانات بھی جاری کئے گئے اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں کے بارے بھی آراء کا اظہار کیا گیا جس سے کچھ ابہام پیدا ہوا۔ابھی تک الیکشن کمیشن نے اس بارے کوئی بیان جاری نہ کیا تھا مگر اب محسوس کیا گیا ہے کہ صورت حال کو آئین اور قانون کی روشنی میں واضح کیا جائے ۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے وضاحت کی جاتی ہے کہ سینٹ آف پاکستان کےنصف اراکین مورخہ 11 مارچ 2021 ءکو اپنی 6 سالہ مدت میعاد پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے ۔ آئین کے آرٹیکل 224 کے ذیلی آرٹیکل 3 کے تحت جو نشستیں اپنی مدت میعاد مکمل ہونے کے بعد خالی ہونگی ان پر الیکشن کا انعقاد قبل از 30 ایام نہیں ہو سکتا۔ یعنی ان خالی ہونے والی نشستوں پر انتخابات کا انعقاد آئین کے مطابق 10 فروری 2021ء سے قبل نہیں ہوسکتا ۔عام طور پر سینیٹ کے گزشتہ 4 سے 5 انتخابات مارچ کے پہلے ہفتے میں منعقد ہوتے رہے ہیں اس بار بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان آئین اور قانون کے مطابق مناسب وقت پر ان انتخابات کی تاریخ کا اعلان ایک انتخابی پروگرام کی صورت میں جاری کرے گا۔
ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق یہاں اس امر کا واضح کرنا بھی ضروری ہے ۔کہ آئین کے آرٹیکلز 218(3) ، 224(3) اور الیکشن ایکٹ2017 کی شق 107کے تحت سینٹ الیکشن کا انعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے ۔اور الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے ۔ اور ان کو آئین اور قانون کی روشنی میں نبھانے کے لئے پرعزم ہے۔
سینیٹ کے 52 ارکان 12 مارچ کو ریٹائرڈ ہو جائیں گے، حکومتی و اپوزیشن جماعتوں کے سینیٹرز مدت پوری ہونے پر ریٹائر ہوں گے۔
سینیٹ ذرائع کے مطابق ان بے روزگارہونےوالوں میں پیپلزپارٹی کے رحمان ملک، رضا ربانی، فاروق ایچ نائک، شیری رحمان اور سلیم مانڈوی والا ریٹائرڈ ہو رہے ہیں جب کہ عثمان کاکڑ،عبدالغفور حیدری کی مدت بھی پوری ہو رہی ہے۔
اس کے علاوہ جو ہورہے ہیں ان کے نام یہ ہیں سجاد طوری، مومن آفریدی، تاج آفریدی، اورنگزیب اورکزی ریٹائرڈ بھی ہوجائیں گے۔
ن لیگ کو اس کا بہت زیادہ نقصان ہوگا کیوںکہ ن لیگ کوسینیٹ میں جارحانہ اندازاپنانے والوں سینیٹروں سے ہاتھ دھوناپڑےگا ، ان میں ن لیگ کے پرویزرشید، راجا ظفرلحق، مشاہداللہ خان، جاوید عباسی، کلثوم پروین بھی اپنی مدت پوری کر رہے ہیں۔
سینیٹ میں پی ٹی آئی کے 6 ارکان ریٹائرڈ ہو رہے ہیں جن میں محسن عزیز، شبلی فراز، نعمان وزیر، مہر تاج، روغانی اور ذیشان خانزادہ شامل ہیں۔
ستارہ ایاز، طاہربزنجو، سرفراز بگٹی کے بھی 6سال مکمل ہوجائیں گے جب کہ میر کبیر شاہی اور اشوک کمار بھی ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔
بھارت نے غیر ذمہ دارانہ حرکت کی توجواب ملے گا ،وزیر خارجہ کا دنیا کو پیغام
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ مبصرین کی گاڑی پر حملہ تشویشناک بات ہے
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ مبصرین کی موجودگی کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے،اقوام متحدہ مبصرین کی گاڑی پر حملے کی فوری تحقیقات ہونی چاہئیں، بھارت سیز فائر معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزی کرکےشہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، بھارتی اشتعال انگیزی سے امن و امان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ،
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن و امان برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، افغان امن عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے افغانستان میں امن کی کاوشوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے،افغانستان میں امن کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی ، ہم نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے عالمی برادری کو آگاہ کیا،ٹھوس اطلاعات ہیں کہ بھارت کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فی الفور اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرے، بھارت نے کوئی غیر ذمہ دارانہ حرکت کی تو اسے بروقت اور مناسب جواب ملے گا ،
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن سے پورا خطہ مستفید ہو گا، آج دنیا افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی مصالحانہ کوششوں کو سراہ رہی ہے افغانستان میں صورتحال بہتر ہونے سے علاقائی روابط کو فروغ ملے گا ،پاکستان سمیت اردگرد کے علاقائی ممالک کیلئے معاشی استحکام کے نئے راستے کھلیں گے، مشرقی سرحد پر بگاڑ کی ذمہ داری بھی بھارت پر عائد ہوتی ہے ،اقلیتوں کیلئے امتیازی قوانین بھارت نے بنائے ہیں ، بھارت اپنے منفی ہتھکنڈوں کے ذریعے امن عامہ میں بگاڑ پیدا کرنے کے درپے ہے،
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی گزشتہ کئی دہائیوں سے مقیم ہے ،دبئی کے فرمانروا اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ سے ملاقاتیں ہوئیں،متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کے کردار کو صرف تسلیم کیا بلکہ سراہا بھی ،پی ڈی ایم کی صفوں میں عملی طور پر استعفوں کے معاملے پر بہت ابہام ہے،
یہاں آئین کی پروٹیکشن،قبر میں نہیں ملے گی،توہین آمیز مواد پر ایکشن کیوں نہیں،عدالت
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پرتوہین آمیزمواد کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کی ،عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے اورسیکریٹری داخلہ کو 28 دسمبرکوطلب کر لیا،عدالت نے چیئرمین پی ٹی اے اوردیگرکوبھی طلب کرلیا
دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانا بہت آسان ہے، یہ ریاست مدینہ کیا ایسی ہے؟باداروں نے کام نہ کیا تو چیف ایگزیکٹوکوطلب کروں گا، یہاں آئین کی پروٹیکشن لے لیں گے،قبر میں نہیں ملے گی،
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نمودونمائش سے یہ کام نہیں چلے گا، گوگل پر گزشتہ 20 روزسے یہ معاملہ چل رہا ہے،حکومت سوئی ہوئی ہے، نہیں چاہتا سوشل میڈیا کو بلاک کردوں، حکومت پب جی پرپابندی لگا سکتی ہے تو توہین آمیز مواد پر ایکشن کیوں نہیں،
چیف جسٹس لاہور ہاٸی کورٹ نے لیاقت علی چوہان کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ فیس بک پر صحابہ کی شان کےخلاف مواد شئیر کیاجارہا ہے۔ ہی ٹی اے اور ایف آئی اے توہین آمیز مواد شئیر کرنے والوں کےخلاف کاروائی نہیں کر رہے۔ متعلقہ اداروں کی غفلت کسی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتی ہے۔ توہین آمیز مواد کی اشاعت سے مسلمانوں میں غم وغصہ پایا جارہا ہے۔ عدالت ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کوفیس بک سےتوہین آمیز مواد ہٹانے کاحکم دے۔ عدالت توہین آمیز مواد شائع کرنے والے افراد کےخلاف ایف آئی اے کو مقدمے درج کرنے کاحکم دے۔