Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • یہاں انڈیا کا ذکر نہ کریں ،ہم بڑے کلیئر ہیں،عدالت کا وکیل پر اظہار برہمی

    یہاں انڈیا کا ذکر نہ کریں ،ہم بڑے کلیئر ہیں،عدالت کا وکیل پر اظہار برہمی

    یہاں انڈیا کا ذکر نہ کریں ،ہم بڑے کلیئر ہیں،عدالت کا وکیل پر اظہار برہمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا سے متعلق حکومتی رُولز پر سوالات اٹھا دیئے

    عدالت نے پی ٹی اے کو سوشل میڈیا رولز پر پاکستان بار کے اعتراضات کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کر دی ،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی پر اظہار برہمی کیا،عدالت نے پی ٹی اے وکیل کو آزادی اظہار دبانے والے بھارت کی مثال دینے سے روک دیا

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں انڈیا کا ذکر نہ کریں ،ہم بڑے کلیئر ہیں کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو، اگر بھارت غلط کر رہا ہے تو ہم بھی غلط کرنا شروع کردیں، ایسے رُولز بنانے کی تجویز کس نے دی اور کس اتھارٹی نے انہیں منظور کیا؟ اگر سوشل میڈیا رُولز سے تنقید کی حوصلہ شکنی ہو گی تو یہ احتساب کی حوصلہ شکنی ہو گی تنقید کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ حوصلہ شکنی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ حکومت یا کوئی بھی قانون اور تنقید سے بالاتر نہیں، پی ٹی اے تنقید کی حوصلہ افزائی کرے کیونکہ یہ اظہار رائے کا اہم ترین جزو ہے ، کیوں کوئی تنقید سے خوفزدہ ہو ہر ایک کو تنقید کا سامنا کرنا چائیے ،یہاں تک عدالتی فیصلوں پر بھی تنقید ہو سکتی ہے صرف فیئر ٹرائل متاثر نہیں ہونا چاہیے

    "پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

    جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم

    چائنہ نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا،جنگی طیارے بھی پہنچا دیئے

    لداخ پر پنگے بازی پر چائنہ نے بھارتی فوج کو رگڑ دیا مگر کشمیر پر ہم احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکے

    مودی سرکار کے عزائم پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ بن چکے،وزیراعظم عمران خان

    مودی ٹرمپ ٹیلی فونک رابطہ ، بھارت کی چین اور امریکہ کی سیاہ فاموں کے ہاتھوں درگت پر دونوں کا ایک دوسرے سے اظہار یکجہتی

    پاکستان کو بات بات پر تڑیاں لگانے والا بھارت ، لداخ پر چینی قبضے کے خلاف تاحال منتوں اور ترلوں کی پالیسی پر عمل پیرا

    لداخ میں چائنہ سے شرمناک شکست کے بعد "انڈیا” کا نام بدلنے کی انڈین سپریم کورٹ میں درخواست

    بھارت کی طرف سے کراچی معاملےکوغلط رنگ دینا گھٹیااورکمترسوچ کی عکاسی کرتی ہے،شیخ رشید

    وکیل پاکستان بار کونسل نے کہا کہ رولز کی کچھ شقوں سے تاثر ملتا ہے کہ وہ آئین سے متصادم ہیں،عدالت نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ پاکستان بارکونسل کا کام ہے وہ وکلا کی نمائندہ باڈی ہے،آئندہ سماعت پر مطمئن کریں کہ رولز آرٹیکل 19 اور 19 اے سے متصادم نہیں،یہ عدالت کیوں احتساب سے ڈرے،کوئی قانون اور تنقید سے بالاتر نہیں ہے، جب آپ سقم چھوڑیں گے تو مسائل بھی ہوں گے پاکستان بار کے اعتراضات مناسب ہیں،

    عدالت نے کہا کہ یہ رولز بھی مائنڈ سیٹ کی نشاندہی کر رہے ہیں،جب عدالتی فیصلے پبلک ہو جائیں تو تنقید پر توہین عدالت بھی نہیں بنتی، چیف جسٹس نے پی ٹی اے کے وکیل کو کہا کہ یاد رکھیں یہاں ایک آئین اور جمہوریت ہے،جمہوریت کے لیے تنقید ضروری ہے اکیسویں صدی میں تنقید بند کریں گے تو نقصان ہو گا.

    عدالت نے پی ٹی اے سے دوبارہ جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کر دی

  • نواز شریف کو سزا سنانے والے جج کی کرونا سے موت

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج کی کرونا سے موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کورونا کے باعث انتقال کر گئے

    نواز شریف کیس کا فیصلہ سنانے والے اختساب عدالت کے جج ارشد ملک کرونا کے باعث انتقال کر گئے ،خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق جج ارشد ملک ایک ہفتے سے وینٹی لیٹر پر تھے، اور ان کا انتقال راولپنڈی کے نجی اسپتال میں ہوا ہے. ارشد ملک کی نماز جنازہ انکے آبائی گاؤں مندرہ گوجرخان میں ادا کی جائے گی.

    واضح رہے کہ جج ارشد ملک نے دسمبر 2018 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل مل کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی، اس فیصلے کے بعد مریم نواز نے ان کی ایک مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں انھیں کہتے ہوئے سنا گیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سزا دینے کے لیے ان پر دباؤ تھا۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ارشد ملک کو ان کے مس کنڈکٹ کی وجہ سے احتساب عدالت کے جج کے طور پر کام کرنے سے روکتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کا حکم دیا تھا، ارشد ملک ڈیپوٹیشن پر اسلام آباد میں تعینات ہوئے اور وہ لاہور ہائی کورٹ کے ہی ماتحت تھے۔

    جج ویڈیو کیس میں ارشد ملک نے 3 اکتوبرکو برطرفی کو پنجاب سب آرڈی نیٹ جوڈشری سروس ٹریبونل میں چیلنج کردیا تھا،درخواست میں لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کے فیصلے کو چیلنچ کیا گیا،انتظامی کمیٹی کی رپورٹ کی سفارشات پر جج ارشد ملک کو برطرف کیا گیا تھاجج ارشد ملک نے دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی کہ مس کنڈکٹ کا مرتکب نہیں ہوا فیصلے پر نظر ثانی کی جائے،

    ویڈیو سیکنڈل ناصر جنجوعہ سمیت تین ملزمان کو بری کرنے کا حکم

    جج ویڈیو، مریم نواز سمیت سب کو ہو گی دس سال قید،نواز کی سزا میں ہو گا اضافہ

    ویڈیو سیکنڈل، ناصر جنجوعہ کے خلاف شواہد نہیں ملے، ایف آئی اے،جج کا کیس سننے سے معذرت

    ویڈیو سیکنڈل، ناصر جنجوعہ کے خلاف شواہد نہیں ملے، ایف آئی اے،جج

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جج ارشد ملک کی ویڈیو جاری کی تھی جس کے بعد احتساب عدالت کے جج کی خدمات دوبارہ لاہور ہائیکورٹ کے سپرد کر دی گئیں، جج ارشد ملک نے حلف نامے میں ویڈیو کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ مجھے دھمکیاں دی گئیں اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی. احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو لاہور ہائیکورٹ نے او ایس ڈی بنا دیا،او ایس ڈی بنانے کا نوٹفکیشن جاری کر دیا ہے، جج ارشد ملک کو او ایس ڈی بنانے کی منظوری لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے دیا. سپریم کورٹ کے حکم کے بعد جج ارشد ملک کی خدمات احتساب عدالت سے لاہور ہائیکورٹ کے سپرد کر دی گئی تھیں، بعد ازاں جج ارشد ملک کو برطرف کر دیا گیا تھا

    سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ارشد ملک کے کردارسے ججوں کے سرشرم سے جھک گئے ، عجیب جج ہیں فیصلے کے بعد مجرمان کے گھر چلے جاتے ہیں،پھرمجرم کے بیٹے سے ملنے مدینہ منورہ جاتے ہیں،ارشد ملک کے کردارسے متعلق بہت سی باتیں دیکھنے والی ہیں،

    سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ لاہور ہائیکورٹ جج ارشد ملک کے خلاف کاروائی کرے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جنہوں نے کہانی بنائی انہوں نے جان چھڑا لی، چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کاروائی کر سکتی ہے.

    چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ابھی تک ارشد ملک کواپنے پاس کیوں رکھاہے؟ جج ارشدملک کی خدمات فوری واپس کی جائیں،حکومت ارشدملک کوپاس رکھ کرکیاکرناچاہتی ہے؟حکومت ارشدملک کو واپس نہ بھیج کرتحفظ دے رہی ہے

  • وزیراعظم  نے کورنا سے نمٹنے کیلئے 10 نکاتی اقتصادی پلان پیش کر دیا

    وزیراعظم نے کورنا سے نمٹنے کیلئے 10 نکاتی اقتصادی پلان پیش کر دیا

    وزیراعظم نے کورنا سے نمٹنے کیلئے 10 نکاتی اقتصادی پلان پیش کر دیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس سےغریب ممالک زیادہ متاثر ہوئے اور وہ معیشت کو سنبھالا دینے کے قابل نہیں ہیں، وبا کے خاتمے تک ان کے قرضے موخر کیے جائیں۔

    پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وبا دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور سے زیادہ غریب ممالک متاثر ہوئے۔
    انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کورونا سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کورونا سے نمٹنے کے لیے دس نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا پر قابو پانے کے لیے ہمیں مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ ترقی پذیر ملک ترقی کی شرح میں اضافہ کے لیے فنڈز ادا کریں۔انہوں نے کہا پس ماندہ ملکوں کے قرضے معاف کیے جائیں۔ 5سو ارب ڈالر کا خصوصی فنڈز مختص کیا جائے۔ کم ترقی یافتہ ملکوں کے لیے رعایتی قرضوں کی سہولت دی جائے۔وزیراعظم نے ترقی پذیر ملکوں کے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ کا مطالبہ بھی کیا.
    غریب ممالک اس سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ترقی پذیر ممالک میں 100 ملین افراد غربت کا شکار ہوچکے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ہماری لاک ڈاؤن کی کامیاب پالیسی رہی، ہماری کوشش نہ صرف عوام کو وائرس سے بچانا تھی بلکہ ان کوبھوک سے بھی محفوظ رکھنا تھی، ہم نے غریبوں کی امداد اور معیشت کے لئے 8 بلین ڈالر کا ریلیف پیکج فراہم کیا جو ہمارے جی ڈی پی کا 3 فیصد تھی، اب تک ہماری پالیسی کامیاب رہی، مگر اب ہمیں پہلے سے بھی زیادہ خطر ناک وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے، اب ہمیں اپنی معاشی ترقی کو برقرار رکھنے اور بڑھتے ہوئے کیسز کے چیلنج کا سامنا ہے۔

    عمران خان نے مزید کہا پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں بجٹ خسارہ کو کم کرنے کا پابند ہے، مجھے امید ہے کہ باقی ترقی پذیر ممالک کو بھی اسی مسئلہ کا سامنا ہوگا، بجٹ خسارہ کو کم کرنے اور معیشت کی ترقی کا واحد راستہ مزید مالی وسائل تک رسائی ہے، گزشتہ اپریل میں نے قرضوں میں ریلیف کی اپیل کی تھی، میں شکر گزار ہوں جی 20 ممالک نے مئی میں قرضوں کی ادائیگی کو منسوخ کیا اور اگلے برس جون تک اس میں توسیع دی۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی جانب سے قرضوں کی فوری سہولت کو سراہتا ہوں، مگر ان سب سے جو مالی وسائل حاصل ہوئے ہیں وہ ترقی پذیرممالک کو کورونا کے باعث آنے والے معاشی بحران سے نکالنے کے لئے ناکافی ہیں۔

    عمران خان نے اقتصادی بحران سے نمٹنے کیلئے 10 نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔پہلا: ترقی پذیر اور معاشی دباؤ کے شکار ممالک کے قرضوں کو وبا کے اختتام تک منسوخ کیا جائے۔

    دوسرا: غریب ترین ممالک کے قرضوں کو معطل کردیا جائے۔تیسرا: ترقی پذیر ممالک کو دیئے گئے قرضوں کو کثیر الجہتی فریم ورک کی بنیاد پر ری اسٹرکچر کیا جائے۔چوتھا: 500 ارب ڈالر مختص کرنا اور اس کے استعمال کے خصوصی مالی اختیارات دینا۔

    پانچواں: کثیر الجہتی ترقیاتی بینکوں کے ذریعہ کم آمدنی والے مملک کو رعایتی مالی سہولت فراہم کرنا۔چھٹا: نئی لیکویڈیٹی فیسیلٹی کا قیام جو کم قیمت پر مختصر مدتی قرضے فراہم کرے۔ساتواں: ترقی کے لئے 0.7 فیصد امداد فراہم کرنے کے وعدوں کو پورا کرنا۔

    آٹھواں: پائیدار انفراسٹرکچر کے لئے سالانہ 1.5 ٹریلین ڈالر انویسٹمنٹ کو متحرک کرنا۔نواں: موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کارروائی کیلئے دنیا بھر سے ایک سو ارب ڈالرز کاہدف حاصل کرنا ہوگا۔

    دسواں: ترقی پذیر ممالک سے پیسوں کی غیر قانونی طور پر امیر ممالک اور آف شور محفوظ ٹیکس گاہوں میں منتقلی کو فوری طور پر روکنا اور ساتھ ہی کرپٹ سیاست دانوں اور جرائم پیشہ افراد کے چوری کئے گئے اثاثوں کی فوری واپسی بھی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا میں یقین دلاتا ہوں، اس ایک اقدام سے ترقی پذیر ممالک کو وہ فائدہ ہوگا جو دیگر تمام اقدامات سے نہیں ہوگا۔

  • وزیراعظم کے مشیرخزانہ حفیظ شیخ کی باری آگئی :نیب دوسری مرتبہ حرکت میں آگیا

    وزیراعظم کے مشیرخزانہ حفیظ شیخ کی باری آگئی :نیب دوسری مرتبہ حرکت میں آگیا

    کراچی :وزیراعظم کے مشیرخزانہ حفیظ شیخ کی باری آگئی :نیب دوسری مرتبہ حرکت میں آگیا،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کو قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے دوسرا نوٹس جاری کردیا۔

    ذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایف بی آر سلمان صدیق اور سابق ایڈیشنل کلکٹر کسٹم عاشر عظیم کو بھی تحقیقات کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ یہ تحقیقات نیشنل اکاؤنٹیبلیٹی آرڈینینس 1999 کے تحت کی جا رہی ہیں۔

    نیب کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق غیرملکی کمپنی ایجلیٹی کو ٹھیکے دینے کی مد میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کا الزام ہے جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    قومی احتساب بیورو کی جانب سے جاری کردہ طلبی کے نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ ’بطور وزیر خزانہ حفیظ شیخ کے پاس اس انکوائری سے متعلق خاصے ثبوت اور معلومات ہیں جو وہ نیب کے سامنے پیش کریں اور ساتھ ہی اپنے اثاثوں کی تفصیلات بھی جمع کروائیں۔‘

    واضح رہے کہ یہ کیس ماضی میں بھی کھول کر پھر بند کردیا گیا تھا، ذرائع کے مطابق یہ تیسری بار ہے کہ نیب اس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے اور عاشر عظیم کئی بار نیب کے روبرو پیش ہوتے رہے ہیں۔

    حفیظ شیخ پر سابقہ ادوار میں قومی خزانے سے غیرقانونی ادائیگی کا الزام ہے، نیب کے مطابق 1کروڑ 11 لاکھ 25ہزار ڈالر کی غیر قانونی ادائیگی کی گئی، حفیظ شیخ اور سابق چئیرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو سلمان صدیق پرغیر قانونی ادائیگی کا الزام ہے۔

    یہ وہی کیس ہے جس کی انکوائری عاشر عظیم کی ترقی میں رکاوٹ رہی اور بعد ازاں وہ پاکستان کسٹم کی ملازمت چھوڑ کر پاکستان سے کینیڈا منتقل ہوگئے۔

    دوسری طرف عوامی رائے میں بھی تبدیلی آرہی ہے اکثروبیشترلوگوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا نیب کے خلاف امتیازی سلوک کا پراپیگنڈہ غلط ہے اگرعمران خان کے مشیرخزانہ کوبلایا جاسکتا ہے تو پھرکسی دوسرے کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے اس پرکسی کواعتراض نہیں ہونا چاہیے

  • کرونا سے نجات پانے کیلئے صدر مملکت نے بڑی اپیل کر دی

    کرونا سے نجات پانے کیلئے صدر مملکت نے بڑی اپیل کر دی

    کرونا سے نجات پانے کیلئے ملک بھر میں آج یوم دعا منایا جائیگا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اپیل پر آج ملک بھر میں یوم دعا منایا جائے گا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ آج 4 دسمبر کو یوم دعا منایا جائے گا، نماز جمعہ کے اجتماعات میں کورونا وائرس کی وبا کی دوسری لہر سے تحفظ کے لئے خصوصی دعائیں کی جائیں گی، کورونا وائرس کی وبا کی دوسری لہر پر علما نے تشویش کااظہار کیا ہے، وبا سے تحفظ کے لئے عام کی آگاہی پر علمائے کرام نے اتفاق کیا ہے، مساجد میں ایساو پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنیا جائے گا، عوام کی آگاہی کے لئے میڈیا بھی اپنا کردار ادا کرے، علما نے اپیل کی ہے کہ کچھ عرصہ کے لئے جلسہ جلوسوں کو موخر کردیاجائے ،علما نے متفقہ طور پر 17 اپریل کے ایس او پیز پر عملدرآمد کا اعادہ کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق کورونا وائرس کی دوسری لہر اور اس کی صورتحال کے بارےمیں وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نور الحق قادری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ بریفنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی پہلی لہر میں اپریل میں اوسط 500 مریض تھے۔ عوام کی احتیاطی تدابیر کے نتیجہ میں وبا کے پھیلائو پر قابو پایا گیا اور 22 جون کو 6400 مریضوں کا ٹیسٹ مثبت آیا جو 6500 تک بڑھنے کے بعد رک گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب کورونا کادوسرا حملہ ہے اس کے تناظر میں عوام سے اپیل ہے کہ پہلی لہر کے دوران حاصل کامیابیوں کی روشنی میں حفاظتی اقدامات کریں اور اس مہم میں کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے والے الفاظ کی بجائے کورونا وائرس کی وبا سے بچنا ہے کو شامل کیا جائے۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ وبا سے تحفظ کے لئے رجوع الی اللہ کیا جائے اور اس حوالےسے آج جمعہ کے اجتماعات میں خصوصی دعائوں کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں یوم دعا منایا جائے گا۔ میڈیا بھی پہلے کی طرح کردار ادا کرے جبکہ علمائے کرام نے ملک کی سیاسی قیادت سے اپیل کی ہے کہ جلسے اور جلوس کچھ عرصہ کے لئے موخر کردیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی لہر اور منبر اور محرام سے اٹھنے والی آواز پر عوام نے عمل کیا۔ علما منظم ہیں اور ان کی بات سنی جاتی ہے۔

    صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ ناموس رسالت اور او آئی سی اعلامیہ میں وزیر اعظم عمران خان نے اہم کردار ادا کیا جس کو تمام علما نے متفقہ طور پر سراہا ہے۔ علما نے کورونا کی دوسری لہر پر تشویش ظاہر کی ہے کہ لوگ کم سیریس ہیں۔ اس لئے طے پایا ہے کہ خدا کے حضور معافی کے لئے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد، خداسے دعا اور غریبوں کے احساس سے اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے گا۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا مزید کہنا تھا کہ علما نے سیاسی قیادت سے اپیل کی ہے کہ جلسے جلوس کچھ عرصہ کے لئے موخر کئے جائیں وبا کے بعد دو بارہ جمہوری حقوق پر واپس آیا جا سکتا ہے۔ تمام علما نے متفقہ طور پر کیا ہے کہ پہلی لہر میں ہمیں کامیابی ملی اور دوسری لہر سے تحفظ کے لئے رجوع الی اللہ کیاجائے، خدا تعالیٰ سے معافی مانگی جائے اور اس کی پناہ طلب کی جائے۔ عبادات کا عمل جاری رکھتے ہوئے، احتیاط کریں اور ساتھ ساتھ معاشرے کے غریب طبقات کا خیال رکھا جائے۔

  • سیکورٹی ایکسچینج آف پاکستان نے سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں پیداکردیں

    سیکورٹی ایکسچینج آف پاکستان نے سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں پیداکردیں

    اسلام آباد:سیکورٹی ایکسچینج آف پاکستان نے سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں پیداکردیں،اطلاعات کے مطابق سیکورٹی ایکسچینج آف پاکستان نے ملک میں‌سرمایہ کاروں کوسہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں‌ ایک بہت بڑے منصوبے کا اعلان کرکے دل جیت لیے ہیں‌

    ذرائع کے مطابق سیکورٹی ایکسچینج کی طرف سے یہ پیش کش کی گئی ہےکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاروں کوسہولت فراہم کرنے کی غرض سے اکاونٹ آن لائین کھولنےکی منظوری دے دی ہے

    ذرائع کے مطابق ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ میں وسعت اورسرمایہ کاری اورسرمایہ کاروں میں اضافہ ہوگا

    سیکورٹی ایکسچینج کی طرف سے یہ بھی بہت بڑے پیکج کا اعلان کیا گیا جس میں‌ کہا گیا ہے کہ کیپیٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے خواہ کسی بھی ملک میں‌، کسی بھی ادارے میں‌ کام کررہے ہوں‌

  • اسحاق ڈار کے انٹرویو نے سب کچھ تباہ کردیا، مریم نواز اسحاق ڈار کے بیٹوں پر برس پڑیں

    اسحاق ڈار کے انٹرویو نے سب کچھ تباہ کردیا، مریم نواز اسحاق ڈار کے بیٹوں پر برس پڑیں

    اسلام آباد :اسحاق ڈار کے انٹرویو نے سب کچھ تباہ کردیا، مریم نواز اسحاق ڈار کے بیٹوں پر برس پڑیں ،اطلاعات کے مطابق صحافی طاہر ملک کا کہنا ہے کہ مریم نواز کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے ہماری دو ماہ کی محنت ضائع کر دی ۔ دو ماہ میں حکومت کا امیج تباہ کیا جلسے کیے لیکن ایک انٹرویو نے سب تباہ کر دیا، مریم نواز نے اسحاق ڈار کے بیٹوں کے سامنے احتجاج کیا ہے۔

    طاہرملک کہتے ہیں کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا بی بی سی کو دیا گیا انٹرویو ابھی بھی خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔چند تجزیہ کاروں کے مطابق مریم نواز نے اسحاق ڈار کے انٹرویو پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے صحافی طاہر ملک کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے اسحاق ڈار کے بیٹوں سے بات کی ہے اور سخت احتجاج بھی کیا ہے۔

    مریم نواز نے اسحاق ڈار کے بیٹوں کو کہا کہ ہم نے 2 ماہ میں جتنی محنت کی اس پر اسحاق ڈار کے انٹرویو نے پانی پھیر دیا ہے۔2 ماہ کے اندر ہم نے حکومت کا ایمج تباہ کیا،جلسے کیے لیکن ایک انٹرویو نے سب کچھ تباہ کر دیا۔جب کہ سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ اسحاق ڈار کے انٹرویو کے بعد شریف خاندان میں اختلافات شروع ہوگئے ہیں۔

    انہوں نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے بانڈ کی شرط رکھی مگر یہ عدالت چلے گئے جس پر عدلیہ نے شہباز شریف کی ضمانت پر انہیں باہر بھیج دیا۔

    عارف حمید بھٹی نے مزید کہا کہ جس عدلیہ کے جج نے نواز شریف کو ریلیف دیا کل مریم نواز ان ہی کے خلاف بیان دے رہی تھی تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ عدلیہ اور حکومت اس پر کس طرح سے ایکشن لیتے ہیں۔

    عارف حمید بھٹی نے کہا کہ نوازشریف کو پہلے احتساب عدالت نے اشتہاری قرار دیا اور اب وہ ہائیکورٹ کے بھی اشتہاری بن چکے ہیں،انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے بعد شریف خاندان میں اختلافات شروع ہوگئے ہیں۔

  • امریکیو!گھبرانا نہیں‌ کرونا ویکسین آگئی توسب سے پہلے ہم لیں گے: اوبامہ،کلنٹن اوربش کا اعلان

    امریکیو!گھبرانا نہیں‌ کرونا ویکسین آگئی توسب سے پہلے ہم لیں گے: اوبامہ،کلنٹن اوربش کا اعلان

    واشنگٹن :امریکیو!گھبرانا نہیں‌ کرونا ویکسین آگئی توسب سے پہلے ہم لیں گے:اوبامہ،کلنٹن اوربش جونیئرکا اعلان،اطلاعات کے مطابق امریکہ کے تین سابق صدور نے امریکی قوم کے حوصلے بڑھاتے ہوئے کہا ہےکہ اگرامریکہ بہت جلد کرونا ویکسین بنانے میں کامیاب ہوگیا تو اپنے لوگوں کااعتماد بڑھانے کےلیے وہ کرونا مریض نہ ہونے کے باوجود ویکسین لیں‌ گے

    ذرائع کے مطابق سابق امریکی صدور براک اوباما ، جارج ڈبلیو بش اور بل کلنٹن نے ویکسین کی حفاظت پر عوام کا اعتماد بڑھانے کی کوشش میں سب کے سامنے رضاکارانہ طور پر اپنی COVID-19 ویکسین کیمرا پر لینے کا اعلان کیا ہے

    جمعرات کو نشر ہونے والے سیریس ایکس ایم کے ساتھ ایک انٹرویو میں اوباما نے کہا کہ اگر اس ویکسین کی منظوری دی گئی ہے تو اسے لینے کی کوئی فکر نہیں ہوگی اور ملک کے سب سے بڑے متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فوکی نے اسے محفوظ سمجھا ہے۔

    سابق امریکی صدر بارک اوباما نے کہا "انتھونی فوکی جیسے لوگ جن کو میں جانتا ہوں اور میں نے کام کیا ہے مجھے ان پرمکمل اعتماد ہے۔” "لہذا ، اگر انتھونی فوکی مجھے بتائیں کہ یہ ویکسین محفوظ ہے تو میں یہ ویکسین لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گا

    انہوں نے کہا ، "میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب یہ ان لوگوں کے لئے بنایا گیا ہے جن کو خطرہ کم ہوتا ہے تو میں بھی ساری قوم کے سامنے یہ ویکسین لے کردکھاوں گا تاکہ امریکی خوفزدہ نہ ہوں‌

    انہوں نے مزید کہا "میں ٹی وی پر ساری قوم کے سامنے لوں گا اوریہ مناظرمحفوظ کرکے ہرجگہ پہنچاوں گا، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ میں اس طبی علاج پر اعتماد کرتا ہوں ، اور جس چیز پر مجھے اعتماد نہیں ہے وہ کوویڈ ہو رہا ہے۔”

    سی این این کے مطابق ، بش اور کلنٹن نے بھی اوبامہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اسی بات کا عزم کیا ہے ، بش کے چیف آف اسٹاف نے نیٹ ورک کو بتایا کہ بش “خوشی سے” کیمرہ پر ٹیکے لگائے گا۔

    ادھر امریکہ میں یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ یہ تینوں سابق صدور سابق صدر جمی کارٹرکو بھی اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ امریکیوں کا اعتماد بڑے

  • چڑیل کی مخبریاں ، مبشر لقمان اسرائیل والی ویڈیو کا کب جواب دیں گے ؟

    چڑیل کی مخبریاں ، مبشر لقمان اسرائیل والی ویڈیو کا کب جواب دیں گے ؟

    چڑیل کی مخبریاں . مبشر لقمان اسرائیل والی ویڈیو کا کب جواب دیں گے ؟

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق. سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنی یو ٹیوب چینل ویڈیو پر اینکر زین علی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ کیا پی ڈی ایم کا جلسہ واقعی حکومت کے لیے خطرہ بن گیا ہے . انہوں نے کہا کہ میں‌نے پہلے ہی کہا تھا کہ پی ڈی ایم تکلیف دے گی.اور اب یہ تکلیف دے رہی ہے . ملتان کے جلسے کو کامیاب کرنے میں حکومت نے خاص کر بزدار حکومت نے بہت محنت کی ہے اور حکومت نے اپوزیشن کا کام آسان کردیا ہے حالانکہ پی ڈی ایم کے قائدین کو ملتان جلسے بہت سارے شکوے تھے . کیونکہ قائدین کے لیے ناقص انتظام تھے اور وہ شکوہ کرتے بھی نظر آئے. لوگ ملک بھر سے بہت دوراز سے آئے تھے .

    اسی طرح بزدار حکومت نے اس جلسہ کو کامیاب بنانے میں‌بہت کوشش کی ہے. کیا حکومت لاہور کا جلسہ بھی کامیاب کرنے میں‌ملتان جیسا کردار ادا کرے گی ،مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ لاہور کے جلسے میں کافی ساری قیادت گرفتار ہو چکی ہے بعض کو چھوڑ بھی دیا گیا ہے.
    ان کا کہنا تھا کہ لاہور کا جلسہ ایک بڑا جلسہ ہوگا . اس کی کئی وجوہات ہیں ایک تو پیپلز پارٹی کی قیادت یکم سے ہی یہاں آکر انتظامات کا جائزہ لے رہی ہے . مولانا فضل الرحمن کا بھی کافی اثرو رسوخ ہے . اور ن لیگ تو یہ لاہور گڑھ ہے لاہور اور گوجرانوالہ ن لیگ کا ہوم ٹاؤن ہے . انہوں نے کہا کہ میں‌ اس سلسلے میں دو خبریں دینے جارہا ہوں ، میری چڑیل دو خبریں لے کر آئی ہے . ایک یہ ہے کہ پی ڈی ایم 28 دسممبر سے 5 جنوری کے درمیان لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرے گی. یہ مارچ اسلام آباد کی طرف ہو گا . ابھی تک ڈیٹ فکس نہیں ہوئی بس اس کا انتظار ہے .

    ان کا کہنا تھا کہ یہ لانگ مارچ کوئی عام نہیں ہو گا بلکہ یہ لانگ مارچ شہروں کی معاشی سرگرمیاں جامد کرے گا. اوریوں حکومت کی معیشت پر ضرب لگے گی . اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمن اس سلسلے میں بہت اہم رول ادا کریں گے ، کیونکہ ان کے کاکنان کی تعداد کافی ہے دیوبندی مکتبہ فکر کی تعداد ہر جگہ پر موجود ہے اور ایسے کام کے لیے چار سے پانچ ہزار افراد کافی ہوتے ہیں. تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی مارچ کے آغاز سے قومی اسمبلی سے استعفے دے گی. اور یہ استعفے صوبائی اسمبلی سے نہیں‌ دیے جائیں‌گے. کیونکہ جب پی ٹی آئی نے استعفے دیے تھے اس نے بھی قومی اسمبلی سے دیےتھے صوبائی اسمبلی سے نہیں‌ دیے تھے. یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پی ڈی ایم کے سینیٹرز سینیٹ سے استعفی دے دیں. اس طرح آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے .

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ان سب کاموں سے حکومت جاتی ہوئی تو دکھائی نہیں‌دے گی . کیونکہ حکومت کے پاس بہت سے آپشن ہوتے ہیں . لیکن ایک آئینی بحران ضرور جنم لے گا. او ر حکومت کو سخت حالات کا سامنا کرنا پڑے گا . اسی طرح نواز لیگ اور مولانا فضل الرحمٰن کے سوا کوئی نہیں‌چاہتا کہ سسٹم پیک اپ ہو جائے. ان دونوں کا خیال ہے کہ ہم نہیں تو کچھ بھی نہیں‌. لیکن پی ڈی ایم میں باقی جاعتیں بہت اہم ہیں.

    کورونا وائرس کے سلسلے میں حکومت کی ہدایت ٹھیک ہیں‌لیکن اس میں حکومت کو خود بھی اس کا خیال کرنا چاہیے. اسی طرح زیافتین جو ہو رہی ہیں اسلام آباد میں 500 افراد کا کھانا ہو تو اس میں ایس او پیز کا خیال نہیں‌رکھا جاسکتا . ان کا کہنا تھا کہ میرے اپنے دوست اور کلاس فیلوز کرونا سے فوت ہوگئے ہیں.
    جلسوں کو اجازت ہے لیکن ہوٹلوں کو بند کیا جا رہا ہے. حکومت اور اپوزیشن کو مل کر اس پر کچھ کرنا ہو گا . کیونکہ یہ سب کا مسئلہ ہے.

    زین علی نے سوال کیا کہ اینکر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ حکومت کے ایک وزیر اسرائیل گئے ہیں . تو اس کے جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ میں اس پر کچھ نہیں‌کہ سکتا جب تک شاہد مسعود سے خود نہ سن لوں . اس طرح میرے متعلق بھی وہی کچھ کہا گیا کہ پوری بات نہیں سنی گی شاہد مسعود کی بات کے متعلق کچھ نہں کہہ سکتا. ایک سوال کہ آپ نے جو اسرائیل کے ٹی وی کو انٹرویو دیا اس پر کیا وضاحت کریں گے تو اس کے جواب میں مبشر لقمان نے کہا میر ی بات کو مس کوڈ کیا گیا . سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کیا گیا اور سمجھا گیا . میں اس پر ایک نہیں‌ کئی جواب دے رہا ہوں اور جواب در جواب ہوں‌گے ان کو کہنا تھا کہ میرے جو ناظرین دل برداشتہ ہوئے ان کے لییے جواب دینا میرے لیے ضروری ہے. اور میں ایک الگ ویڈیو سے اس کا جواب دوں گا.

  • مسئلہ کشمیرپربھرپورحمایت کرنے پراسلامی دنیا کے مشکورہیں ،شاہ محمود قریشی

    مسئلہ کشمیرپربھرپورحمایت کرنے پراسلامی دنیا کے مشکورہیں ،شاہ محمود قریشی

    لاہور:مسئلہ کشمیرپربھرپورحمایت کرنے پراسلامی دنیا کے مشکورہیں ،اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیامے میں وزرائے خارجہ کونسل کے 47 ویں سیشن کے دوران او آئی سی کی مضبوط اور غیر متزلزل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اسلام آباد میں مقیم او آئی سی کے سفیروں سے ملاقات کی۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس حوالے سے او آئی سی کے فورم پراسلامی دنیا کی طرف سے مسئلہ کشمیرپرمتفقہ موقف اپنانے کے عمل کو مظلوم کی حمایت قراردیا ،

    وزیرخارجہ نے اس ملاقات میں اسلامی ملکوں کے سفیروں سے بات کرتے ہوئے کہا ہےہے کہ اعلامیے میں او آئی سی کے اصولی موقف اور جموں کے لئے سکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کے کردار کوخوب سراہا ہے ۔

    وزیر خارجہ نے او آئی سی ممالک کو پاکستان کے حوالے سے اسلامی دنیا اوربالخصوس کشمیر اورفلسطین معاملے پر موقف کو تسلیم کرنا اوراسے پالیسی کا حصہ بنانے کی قراردادوں کو منظور کرنے بھی ان کا شکریہ ادا کیا ،

    وزیرخارجہ نے پاکستان کے اصولی موقف جس کے مطابق غیر او آئی سی ریاستوں میں مسلم اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور بابری مسجد کی شہادت اور اسلامی مقدس مقامات کا تحفظ کوتسلیم کرنے کے عمل پربھی آوآئی سی ملکوں کے وزرائے خارجہ کوخراج تحسین پیش کیا

    وزیر خارجہ نے اسلامو فوبیا کے خلاف جنگ سے متعلق پاکستان کی طرف سے پیش کردہ قرار داد منظور کرنے پر بھی اظہار تشکر کیا۔

    وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان 2021 میں کونسل آف فارن منسٹر کے 48 ویں اجلاس کی میزبانی کا منتظر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ممکنہ سی ایف ایم چیئر اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے پاکستان اتحاد ، امن اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لئے او آئی سی کی پوری ذمہ داری کے ساتھ تعمیری کردار اداکرے گا

    اس موقع پرصدر آزاد جموں کشمیر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں سنگین صورتحال پراہل کشمیر کے مقصد اور یکجہتی کے لئے او آئی سی کی مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

    او آئی سی اقوام متحدہ کے بعد دوسری سب سے بڑی عالمی تنظیم ہے جس میں چار براعظموں پر پھیلے ہوئے 57 ممبران اور پانچ مبصرین ریاستیں شامل ہیں۔ یہ امت مسلمہ کی اجتماعی آواز کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ پاکستان او آئی سی کا بانی رکن ہے۔