Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بھارتی فوج کی ایل او سی پرپھرفائرنگ، 3معصوم بچیوں کا معصوم باپ شہید

    بھارتی فوج کی ایل او سی پرپھرفائرنگ، 3معصوم بچیوں کا معصوم باپ شہید

    راولپنڈی: بھارتی فوج کی ایل او سی پرپھرفائرنگ، 3معصوم بچیوں کا معصوم باپ شہید،اطلاعات کے مطابق بھارت کی بزدل فوج نے لائن آف کنٹرول پر ایک بار پھر بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔ فائرنگ سے ایک 33 سالہ شہری شہید ہو گیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فورسز نے کنٹرول لائن کے باغسر سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کی اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ بھارتی فوج کی فائرنگ سے 33 سالہ شہری انصر شہید ہو گیا۔ شہری انصر موٹر سائیکل پر اپنے گھر جا رہا تھا کہ بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ شہید شہری تین بچیوں کا باپ تھا۔

     

     

    خیال رہے کہ ازلی دشمن بھارت نے گزشتہ دنوں بھی اشتعال انگیزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے کھوئی رٹہ سیکٹر پر جگجوٹ گاؤں میں شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا تھا جس سے گیارہ شہری زخمی ہو گئے تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے شادی کی تقریب کو راکٹوں اور بھاری مارٹرز سے نشانہ بنایا۔ زخمی ہونے والوں میں چھ خواتین اور چار بچے بھی شامل ہیں۔

    پاک فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شادی کی تقریب میں خاص طور پر خواتین بچوں کو نشانہ بنانا بھارتی فوج میں اخلاقیات کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارتی فوج نے غیر پیشہ وارانہ اور انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی کا مظاہرہ کیا۔اس کے بعد بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تھا

  • اسرائیلی ایئرفورس کو بڑادھچکا : طیارہ اور ہیلی کاپٹرتباہ متعدد فوجی ہلاک

    اسرائیلی ایئرفورس کو بڑادھچکا : طیارہ اور ہیلی کاپٹرتباہ متعدد فوجی ہلاک

    تل ابیب :اسرائیلی ایئرفورس کو بڑادھچکا : طیارہ اور ہیلی کاپٹرتباہ متعدد فوجی ہلاک،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی ایئرفورس کا تربیتی طیارہ اور ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا، خوفناک حادثے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صیہونی ریاست اسرائیل کی فضائی کو ایک روز کے دوران دو حادثوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، حادثے کے باعث میں متعدد افراد کی ہلاکتیں بھی ہوئے ہیں۔

    پہلا حادثہ اسرائیلی فضائیہ کے تربیتی طیارے کو پیش آیا جو جنوبی اسرائیل کے شہر بیر شبا کے نزدیک گر کر تباہ ہوا جبکہ دوسرا حادثہ نجوی کے علاقے ہیلی کاپٹر گرنے کا پیش آیا۔تربیتی طیارہ گرنے کے نتیجے میں اسرائیلی ایئر فورس کا انسٹرکٹر اور ایک کیڈٹ ابدی نیند سوگئے۔

    میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا انسٹرکٹر ایف سولہ طیارہ اڑانے کی تربیت دیا کرتا تھا۔ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ دوران دم توڑ گئے۔

  • میرا ایک اور دوست چلا گیا، پاکستان کرونا کے شکنجے میں ، اب کرنا کیا ہے، مبشر لقمان کا اہم پیغام

    میرا ایک اور دوست چلا گیا، پاکستان کرونا کے شکنجے میں ، اب کرنا کیا ہے، مبشر لقمان کا اہم پیغام

    میرا ایک اور دوست چلا گیا، پاکستان کرونا کے شکنجے میں ، اب کرنا کیا ہے، مبشر لقمان کا اہم پیغام

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق معروف اینکر پرسن اور صحافی مبشر لقمان نے اپنی تازہ ویڈیو میں کہا ہے کہ آج کا دن بہت ہی افسوس ناک ہے میرا قریبی دوست اور ہمارا کولیگ کورونا وائرس کی وجہ سے اس دنیا سے چل بسا. اللہ تعالیٰ اس کی مشکلات آسان فرمائے. ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کوئی اس وباسے گیا ہو. بہت سے پیارے اور عزیر لوگ ہم سے جدا ہوگئے ہیں .

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرونا کے بارے ہو کیا رہا ہے . اصل میں ہم اس وباکو سنجیدہ لے ہی نہیں‌رہے. ہمارا خیال ہے اگر پہلی لہر ختم ہو گئی ہے تو اب یہ بھی کچھ نہیں‌کرے گی. ان کا کہناتھا کہ ہم ہر قسم کے قہوے تو پی لیتے ہیں لیکن منہ نہیں‌ڈھانپتے ہم ماسک نہیں‌لیتے . صرف اتنی سی بے احتیاطی سے ہم بہت نقصان اٹھا لیتے ہیں. یہ وائرس اگر ایک دفعہ سانس کی نالی میں چلا گیا تو پھر اس کے خلاف لڑنا بہت مشکل ہوجاتا ہے .

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہم نے کرنا یہ ہے کہ بس اپنے میل جول سے اجتناب کرنا ہے . گلے نہیں ملنا . ہاتھ نہیں‌ملانا اور اگر ملا لیا ہے تو اس کو دھولینا ہے یا سینی ٹائز کر لینا ہے کیونکہ یہ وائرس ہاتھ سے منہ میں‌جاتا ہے .اپنے ہاتھ کو چہرے پر لگانے سے اجتنا ب کرنا ہے . ان کا کہنا تھا کہ کرونا ویکسین کے بارے میں مختلف چیزیں‌ سامنے آرہی ہیں . فائز کمپنی نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ ان کی ویکسین 95 فیصد موثر ہے لیکن یہ میں نے کہیں نہیں پڑھا کہ ویکسین احتیاطی تدابیر کے لیے ہے یا یہ وائرس والے مریض کے علاج کے لیے ہے . کسی بھی لڑیچر میں درج نہیں ‌ہے . امریکا نے بھی دعوی کیا ہے، روس نے اورچین بھی دعوی کیا ہے کہ وہ اس ویکسین کو بنا رہے ہیں. پاکستان بھی بہت قریب پہنچ گیا ہے. اللہ کرے کہ پاکستان اس ویکسین کو بنانے میں‌کامیاب ہو جائے . ان کا کہنا تھا اس ساری کمپین کے ہیڈ ڈاکٹر فیصل سلطان سے میری بات ہوئی ان کا کہنا تھا کہ 2021 کے وسط تک پاکستان میں یہ ویکسین مہیا ہو سکتی ہے . اسی طرح فائز کی ویکسین تو پاکستان لانا ممکن نہییں‌ ہے .

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ شبلی فراز کی آج کی سٹیٹمنٹ کے مطابق اسلام باد میں ہسپتال میں جگہ نہیں ‌ ہے. میو ہسپتال کے تیرہ سے چودہ ڈاکٹر متاثر ہونے کی خبریں ہیں اسی طرح جناح ہسپتال میں بھی ایسی خبریں ہیں. سروسز کے ڈاکٹر بھی ایسے ہی ہیں. ان کا کہنا تھا کہ ڈاکر فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیںِ
    ان کا کہنا تھا کہ ماسک ہی واحد حل ہے. اور اسی طرح سماجی فاصلے ضروری ہیں. ورنہ اس سے بچاؤ مشکل ہے. مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس اگر ایک بار اندر سانس کی نالی میں‌ چلا گیا تو پھر اس کو اینٹی بائٹک سے ختم نہی‌کیا جاسکتا . ہر کسی کی اتنی قوت مدافعت بھی نہی ہوتی خصوصا جو میری عمر کے ہیں‌ یعنی پچاس کے قریب یا اوپر اسی طرح شوگر کے مریض ، دل کے مریض یا حاملہ خواتین ان کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے . ان کہنا تھا ہ یہ وائرس اب نیا جنم لے کر آیا ہے اس طرح وائرس پہلے سے زیادہ طاقت ور ہو جاتا ہے. اس لیے احتیاط بہت لازم ہے.

  • ‏وزیراعظم کا عالمی اقتصادی فورم ” پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ” سے اہم خطاب،دنیا سنتی رہ گئی

    ‏وزیراعظم کا عالمی اقتصادی فورم ” پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ” سے اہم خطاب،دنیا سنتی رہ گئی

    اسلام آباد :‏وزیراعظم کا عالمی اقتصادی فورم ” پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ” سے اہم خطاب،دنیا سنتی رہ گئی ،اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم نے عالمی اقتصادی فورم سے میں "پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ "کے موضوع پرکھل کربات کی ،

    وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ‏کورونا کی وجہ سے پوری دنیا متاثرہوئی، پاکستان کی معیشت مستحکم اور درست سمت کی جانب گامزن ہے، کورونا کے دوران مزدورطبقے کا خیال رکھا گیا، ہم نے اسمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی پرعمل کیا،

    ‏وزیراعظم کا عالمی اقتصادی فورم ” پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ” سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‏دنیا کے مقابلے میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کو ترجیح دی، کورونا کنٹرول کرنے کے ساتھ لوگوں کو بھوک سے بھی بچایا، مالیاتی اورکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑے چیلنجزتھے

    ‏وزیراعظم کا عالمی اقتصادی فورم ” پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ” سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‏ہم نے غیرضروری اجتماعات پرپابندی لگائی ،حکومتی اقدامات کے ذریعے معیشت کو کورونا اثرات سے بچایا، ترقی پذیرممالک کیلئے منی لانڈرنگ بہت بڑا مسئلہ ہے

    ‏وزیراعظم کا عالمی اقتصادی فورم ” پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ” سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‏ہاٹ اسپاٹس کا پتہ لگا کراسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا، پاکستان کا 80 فیصد مزدورطبقہ غیرروایتی شعبوں سے وابستہ ہے

    ‏وزیراعظم کا عالمی اقتصادی فورم ” پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ” سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‏احساس کیش پروگرام کے ذریعے غریب گھرانوں کی مدد کی گئی،فیصل آباد میں ٹیکسٹائل انڈسٹری تیزی سے کام کررہی ہے،فیصل آباد میں لیبرکی کمی کا بھی سامنا ہے، درآمدات اوربرآمدات میں 40 ارب ڈالرکا فرق تھا

    ‏وزیراعظم کا عالمی اقتصادی فورم ” پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ” سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‏پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری میں بہتری آرہی ہے، سی پیک کے باعث پاکستان کو ہنرمند افراد کی ضرورت ہے، افغان امن ڈائیلاگ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، افغانستان میں امن سے پاکستان کے قبائلی علاقوں کو فائدہ ہوگا،

    ‏وزیراعظم کا عالمی اقتصادی فورم ” پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ” سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ‏ لاک ڈاؤن کے ساتھ یومیہ اجرت والوں کو تحفظ فراہم کیا،افغانستان میں امن سے خطے کو فائدہ ہوگا، 17سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہوگیا، ہم نے منی لانڈرنگ کیخلاف کارروائیاں کیں

    ‏وزیراعظم کا عالمی اقتصادی فورم” پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ” سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‏پاکستان کے تعاون سےامریکا اورطالبان مذاکرات کی میزپرآئے، افغانستان میں امن سے پورے خطے کو فائدہ ہوگا، انٹرا افغان ڈائیلاگ کیلئے مخلصانہ کردار ادا کیا، پرامن اورمستحکم افغانستان خطےکے مفاد میں ہے، امید ہے بھارت میں مناسب قیادت آنے پرتعلقات معمول پرآسکیں گے

    ‏وزیراعظم کا عالمی اقتصادی فورم ” پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ” سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‏صدرٹرمپ نے افغانستان میں اچھے اقدامات کیے،امید ہے جوبائیڈن بھی افغان امن عمل کا سلسلہ جاری رکھیں گے ‏پاکستان کا بڑا مسئلہ توانائی کے مہنگے منصوبے بھی ہیں،سابق حکومت نے بجلی کے مہنگے معاہدے کیے، بنگلادیش اوربھارت کی نسبت پاکستان میں بجلی مہنگی ہے،

  • جوبائیڈن نے ایران سے دوستی کرنے کی خواہش کااظہارکردیا

    جوبائیڈن نے ایران سے دوستی کرنے کی خواہش کااظہارکردیا

    تہران: جوبائیڈن نے ایران سے دوستی کرنے کی خواہش کااظہارکردیا،اطلاعات کے مطابق صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ٹرمپ کے دور صدارت سے پہلے والے تعلقات کی بحالی کے خواہش مند ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر حسن روحانی نے ٹیلی وژن پر خطاب میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ٹرمپ کے دور صدارت سے پہلے والے تعلقات کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

    ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اگر نومنتخب جوبائیڈن تعلقات میں بہتری کے لیے عزم دکھاتے ہیں تو ہم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ دونوں ممالک 20 جنوری 2017 کے تعلقات پر واپس جاسکتے ہیں۔

    نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن بھی انتخابی مہم کے دوران ایران سے مسائل کے حل کا عندیہ دے چکے ہیں جب کہ 2018 میں صدر ٹرمپ کے عالمی جوہری معاہدے سے علیحدگی کے عمل کی بھی مذمت کی تھی۔

    جوبائیڈن نے اپنی کابینہ کے اکثریتی رکن وہ منتخب کیے ہیں جو خارجہ پالیسیوں کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔وزیر خارجہ کے لیے انٹونی بلنکن کو منتخب کیا ہے جو صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسیوں کے سخت ناقد کے طور جانے جاتے ہیں۔

    علاوہ ازیں جوبائیڈن کی کابینہ میں جان کیری بطور ماحولیات کے ایلچی کے طور پر شامل ہیں اور کابینہ اجلاسوں میں بھی شرکت کرسکیں گے۔ جان کیری سابق وزیر خارجہ بھی رہے ہیں۔

  • گوادر بندرگاہ کے سی پیک میں اہم کردار کے حامی ہیں، چین کا ایک بارپھرعزم مصمّم

    گوادر بندرگاہ کے سی پیک میں اہم کردار کے حامی ہیں، چین کا ایک بارپھرعزم مصمّم

    بیجنگ: گوادر بندرگاہ کے سی پیک میں اہم کردار کے حامی ہیں، چین کا ایک بارپھرعزم مصمّم ،اطلاعات کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ چین علاقائی تجارت میں گوادر بندرگاہ کی پاک چین اقتصادی راہداری کے اہم جز کی حیثیت سے زیادہ سے زیادہ کردار کی حمایت کرتا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اسلام آباد میں چینی سفارتخانے میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن کے عہدے کے دوران میں نے گوادر پورٹ کا 6 بار دورہ کیا اور گوادر بندرگاہ کے تعمیراتی کاموں کو متاثر کن پایا تھا۔

    ترجمان ژاؤ لیجیان نے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے مزید کہا کہ 200 ٹن مچھلیوں کے ریفریجریٹر کنٹینروں سے لدے جہاز کی گوادر پورٹ پر پہنچنے اور پھر چین روانگی وزیر اعظم پاکستان کے خصوصی اقدامات کا نتیجہ ہے۔

     

     

    ترجمان وزارت خارجہ نے گوادر بندرگاہ پر مچھلی کے پہلے کنٹینر کی آمد اور عالمی راہداری کی سرگرمیوں کے آغاز پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ نئی ​​پیشرفت پر خوشی ہے اور چین تجارت اور سامان سے متعلق علاقائی تعاون میں گوادر بندرگاہ کے زیادہ سے زیادہ کردار کی حمایت کرتا ہے۔

    چینی ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ گوادر میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے مقامی سطح پر ایک ڈائریکٹوریٹ بھی تشکیل دیدیا گیا ہے تاکہ گوادر بندرگاہ کو بڑے ٹرانزٹ ٹریڈ مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کیا جاسکے۔

    ژاؤ لیجیان نے انکشاف کیا کہ مستقبل قریب میں ایل پی جی، اسٹیل پائپس اور افغانستان کے لیے ڈی اے پی کھاد سمیت عالمی کارگو پر مشتمل مزید جہازوں کو بھی گوادر بندرگاہ پہنچنا ہے۔

    چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے صرف چین اور پاکستانی عوام کو معاشی فوائد حاصل نہیں ہو رہے ہیں بلکہ دونوں ممالک کو علاقائی رابطے اور معاشی تعاون کی بھی سہولت میسر آگئی ہے۔

  • پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کو طمانچہ رسید کردیا، عالمی سطح پر بڑی کامیابی

    پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کو طمانچہ رسید کردیا، عالمی سطح پر بڑی کامیابی

    پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کو طمانچہ رسید کردیا، عالمی سطح پر بڑی کامیابی

    باغی ٹی وی :پاکستان کو بھارت نے دنیا بھر میں اکیلا کرنے کی کی کوشش کی ہے لیکن بھارت کی یہ کوشش کامیاب ہوتی دکھائی نہیں‌دیتی . پاکستان اللہ کے فضل سے ایک بار پھر بھارت کو رسوا کرنے میں کامیاب ہوا ہے . پاکستان سفارتی سطح پر ایک بار پھر بھارتی عزائم کو شکست دیتے ہوئے پاکستان انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ لا آرگنائزیشن کا تین سال کیلئے صدر منتخب ہو گیا ہے۔

    اس سلسلے میں پاکستان جنوری 2021ء سے تین سال کے لئے آئی ڈی ایل او کی صدارت کرے گا۔ اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر جوہر سلیم پاکستان کی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ لا آرگنائزیشن (آئی ڈی ایل او) میں نمائندگی کریں گے۔

    انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ لا آرگنائزیشن (آئی ڈی ایل او) بین الاقوامی سطح پر انصاف، معیشت، صحت، خوراک اور انسانی حقوق سمیت دیگر شعبوں میں مدد کرنے کا اہم کام انجام دیتی ہے

    پاکستان نے بھارت کو کشمیر میں حملے کی منصوبہ بندی کی دی اطلاع…اورپھر ہو گیا حملہ

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    کرونا لاک ڈاؤن،دنیا والو…اب کشمیریوں کی تکالیف کا اندازہ ہو گیا ہو گا. وزیراعظم

    اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر جوہر سلیم کے مطابق پاکستان کا بطور صدر منتخب ہونا خوش آئند ہے اور سفارتی سطح پر بھارت کی شکست ہے۔ پاکستان پر اعتماد کرنے پر آئی ڈی ایل او ممبران کا شکر گزار ہوں۔انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ لا آرگنائزیشن (آئی ڈی ایل او) بین الاقوامی سطح پر انصاف، معیشت، صحت، خوراک اور انسانی حقوق سمیت دیگر شعبوں میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

    اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر نے پاکستان کا بطور صدر منتخب ہو نے کو ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کیا ہے اور سفارتی سطح پر بھارت کی شکست ہے۔ پاکستان پر اعتماد کرنے پر آئی ڈی ایل او ممبران کا شکر گزار ہوں۔پاکستان اس سے پہلے بھی بھارت کو کئ فورم پر ذلیل کرنے کا باعث بنا ہے .

    پاکستان سفارتی محاذ پر بھارتی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے کے لیے متحرک ہے

    پاکستان بھارتی ریاستی دہشتگردی کو اقوام عالم کے سامنے لے آیا، پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے یو این سیکریٹری جنرل کو ڈوزئیر پیش کر دیا۔ انتونیو گو ترس نے رپورٹ کا بغور جائزہ لینے کی یقین دہانی کرا دی۔

    اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر منیر اکرم نے انتونیو گوترس سے ملاقات کی اور یو این سیکریٹری جنرل کو پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے خلاف ڈوزئیر پیش کیے۔ اس موقع پر منیر اکرم نے موقف اختیار کیا کہ بھارت ایل او سی پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی، پاکستان میں دہشت گردی کرانے اور سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بھارتی دہشتگردی یو این چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے، پاکستان کسی بھی جارحیت کی صورت میں دفاع کا حق رکھتا ہے

  • پاک فوج میں تبادلے،لیفٹیننٹ  جنرل  آصف غفورکو کہاں تعینات کر دیا گیا؟

    پاک فوج میں تبادلے،لیفٹیننٹ جنرل آصف غفورکو کہاں تعینات کر دیا گیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج میں تقرری اور تبادلے کئے گئے ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان کو انسپکٹر جنرل آرمز تعینات کیا گیا ہے،لیفٹیننٹ جنرل سید محمد عدنان کو آئی جی ٹریننگ اینڈ اویلیو ایشن تعینات کیا گیا ہے

    لیفٹیننٹ جنرل سردار حسن اظہرحیات کو ملٹری سیکریٹری تعینات کیا گیا ہے،لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور کو آئی جی کمیونی کیشن اینڈ آئی ٹی تعینات کیا گیا ہے،لیفٹیننٹ جنرل محمد عبدالعزیز کورکمانڈ لاہور تعینات کیا گیا ہے

    لیفٹیننٹ جنرل محمد وسیم اشرف کو کورکمانڈر ملتان تعینات کیا گیا ہے،لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو کورکمانڈر کراچی تعینات کیا گیا ہے،لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کو کورکمانڈر سدرن کمانڈ کوئٹہ تعینات کیاگیا ہے ،لیفٹیننٹ جنرل محمد علی کو کمانڈر آرمی اسٹریٹجک فورس تعینات کیا گیا ہے ،لیفٹیننٹ جنرل خالد ضیا کو کورکمانڈربہاولپور تعینات کیا گیا ہے

  • قائد اعظم محمد علی جناح سے عمران خان تک:اسرائیل اورپاکستان کی خفیہ محبت کا دلچسپ سفرنامہ

    قائد اعظم محمد علی جناح سے عمران خان تک:اسرائیل اورپاکستان کی خفیہ محبت کا دلچسپ سفرنامہ

    پاکستان اوراسرائیل کے تعلقات کی کہانی بڑی ہی دلچسپ ہے ، قبل اس کے کہ پاکستان اوراسرائیل کے درمیان تعلقات کے سفرپرنظردوڑائی جائے پہلے دنیا بھرمین سفارتی تعلقات کی اہمیت بیان کرنا ضروری ہے۔ اسرائیل کے ساتھ اقوام متحدہ کے193 میں سے 163 ممالک کے سفارتی تعلقات ہیں جبکہ30ممالک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے ۔ ان میں 18عرب لیگ اور9 اوآئی سی کےرکن ہیں۔جبکہ جنوبی کوریا،کیوبا اوربھوٹان کے بھی صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات نہیں ہیں۔ اسرائیل کے امریکا، چین ،بھارت اور یورپی ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔مشرق وسطیٰ میں اپنی علاقائی پوزیشن،سیاسی استحکام اور مضبوط معیشت کی وجہ سے اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

     

     

    قائد اعظم محمد علی جناح سے عمران خان تک:اسرائیل اورپاکستان کے درمیان بالواسطہ اوربلاواسطہ رومانوی تعلقات،اس وقت ایک طرف جہاں پاکستان سمیت دنیا بھرمیں یہ بحث زورپکڑرہی ہے کہ پاکستان پراسرائیل کوتسلیم کرنے کےحوالے سے سخت دباو ہے ،وہاں اس ساری کہانی کوافشان کرنے والے بھی زد میں ہیں ،

    پاکستان میں اس وقت یہ موضوع بڑا اہم اورگرم دکھائی دیتا ہے کہ عمران خان پراسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے شاید یہ پہلی کوشش ہے ، لیکن عامتہ الناس کواصل حقائق سے دور رکھ کرمخصوص مقاصد اورمخصوص طبقہ سرگرم ہے،

     

     

    https://www.deccanherald.com/opinion/main-article/brace-for-pakistan-israel-ties-785385.html

    عمران خان کے خلاف وہ لوگ بھی اس بحث میں شامل ہیں جوماضی قریب میں خود اسرائیل سے تعلقات کے خواہاں رہے ہیں اوراس سلسلے میں پاکستان سے دور چھپ چھپ کرخفیہ ملاقاتیں کرتے رہے ہیں‌،

     

    اسرائیل سے تعلقات اورمحبتیں بڑھانے کے سلسلے میں میڈیا سے وابستہ شخصیات کے بارے میں بھی اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بھی اسرائیل کا خفیہ دورہ کرچکے ہیں ،

    یہ دعوے پاکستان نہیں بلکہ خود اسرائیلی حکام ، میڈیا اوراسرائیل کے سرپرست امریکہ ،برطانیہ اوردیگرملکوں کی سفارتی شخصیات کی طرف سے سامنے آئے ہیں‌

    یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیز میں تعاون کا آغاز 1980 میں ہوا ۔ واشنگٹن میں دونوں ملکوں کے سفارت خانوں میں آئی ایس آئی ، موساد،سی آئی اے اور ایم 16 پر مشتمل دس سال اینٹی سویت یونین آپریشن چلا۔

    https://jcpa.org/article/pakistan-and-israel/

     

    پاکستان کی مشکلات اورمسائل کودیکھا جائے تو اس میں 80 سے 85 فیصد وہ مسائل اورمشکلات ہیں جوان قوتوں کی طرف سے پیدا کردہ ہیں جوپاکستان کواسرائیل کے ساتھ گلے ملتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہیں لیکن پاکستان کے انکار نے ان کو غضب میں ڈال دیا ،

     

    https://blogs.timesofisrael.com/pakistan-and-israels-secret-diplomacy/

     

     

    پاکستان کو بھی علم ہے پاکستان نے یہ سارے مسائل برداشت کرلیئے لیکن اپنے نظریے پرقائم رہاکہ جب تک فلسطینیوں کوان کا حق نہیں مل جاتا پاکستان کبھی بھی اسرائیل کوتسلیم نہیں کرے گا ،

     

     

    اس سارے سفر میں سوائے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اورنوازشریف کے سب کا یہ نظریہ رہا ہے ، جبکہ ان دو وزرائے اعظم نے پاکستان کے اس نظریے کوبائی پاس کرتے ہوئے ذاتی حیثیت سے کارورباری مراسم پیدا کرنے کی کوشش کی ، محترمہ کا کاروباری مقصد تو نہیں تھا تاہم وہ قوتیں جو شروع سے ہی محترمہ بے نظیر کے قریب رہی ہیں انہوں‌نےاپنے اثرورسوخ سے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے پرمجبورکیا

     

     

    https://www.memri.org/reports/pakistani-writer-dr-sughra-sadaf-urges-pakistan-establish-diplomatic-ties-israel-says-thing

     

    جبکہ اس کے برعکس میاں نوازشریف نے اپنے کاروباری مراسم اورلین دین کو وسیع ترکرنے کے لیے ذاتی حیثیت سے خفیہ ملاقاتیں کیں ،

     

    دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو کیا عمران خان پراسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے دباو پہلی کوشش ہے ، ایسا نہیں ہے بلکہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح سے یہ سلسلہ شروع ہوا ہے ،

     

     

     

    ان باتوں ، دعووں‌ اوررپورٹس میں کس حد تک صداقت ہے ، اس کی تصدیق اورتائید وہ قوتیں کررہی ہیں جواس میں براہ راست یاکسی اورواسطے سے شامل رہے ہیں‌

     

     

    https://www.thenews.com.pk/print/521755-relations-with-israel-interesting-suggestions-start-pouring-in-for-pakistani-govt

     

    دوسری اہم اورقابل غوربات یہ ہے کہ اس سارے عرصے کے دوران پاکستان اپنے عرب بھائیوں کے لیے کھڑا رہا ، پاکستان کواس نظریے پرقائم رہنے کی سخت سزا دی گئی ،جن کی خاطرپاکستان کھڑا رہا وہ بیٹھ گئے ، جن کی خاطرپاکستان نے اسرائیل سے نہ ڈیل کی نہ ڈھیل دی ، انہوں نے ڈیل بھی کرلی اورڈھیل بھی دے دی

    مسئلہ یہ نہیں کہ یہ تعلقات کیوں بنانے کی کوشش کی گئی ، جس طرح معاشروں ،قوموں اوربرادریوں میں ایک فطری تعلق بہتر کرنے کی کوشش ہوتی رہتی ہے ، ایسے ہی ملکوں کے درمیان یہ خواہش پیدا ہوتی رہتی ہے ، خاص کراس دورمیں جب دنیا گلوبل یعنی ایک پیج پرہے توکسی بھی صورت میں کوئی ملک ایک دوسرے کے بغیرنہیں چل سکتا

     

    لیکن پاکستان کا مسئلہ دنیا کی روایات اوراقدار سے مختلف ہے پاکستان لاالہ الآ اللہ کے نظریے پرقائم ہے اسی وجہ سے پاکستان لا الہ الآ اللہ کے ماننے والوں کی دلی آواز پرلبیک کہتے ہوئے ان تعلقات کوقائم کرنے سے دور ہے

     

    https://eurasiantimes.com/how-israel-pakistan-relations-could-be-established-by-the-end-of-2020/

     

     

     

    اسرائیل کا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو اسرائیل کوتسلیم کرنے کا پیغآم

     

     

    پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات کی جڑیں 1947 کے یو این کے اس اجلاس میں پیوستہ ہیں جب وزیر خارجہ سرظفراللہ خان نے اعلان بالفور((Balfour Declaration کو فلسطینیوں کے حق میں غیر منصفانہ قرار دے کر رد کر دیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش 1947ء میں اس وقت کی گئی جب اسرائیل کے اولین وزیر اعظم ڈیوڈ بین گوریون نے ایک تار قائدا عظم محمد علی جناحؒ کو روانہ کیا تاہم اس تار کا کوئی جواب نہیں دیا ۔

     

     

    اسرائیل کو تسلیم کر لے لیکن قائد اعظم نے اس پیغام کا کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ 1940 میں لاہور میں مسلم لیگ کے اس تاریخی اجلاس میں جس میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی تھی، قائد اعظم نے اپنے صدارتی خطبہ میں برطانیہ کو خبردار کیا تھا کہ فلسطین کے عربوں کے خلاف جو سازش ہورہی ہے اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا اور ہندوستان کے مسلمان کسی صورت میں فلسطینیوں پر فوجی بل پر کوئی فیصلہ قبول نہیں

     

     

     

    https://besacenter.org/perspectives-papers/israel-pakistan-relations-rumors/

     

     

     

    پھر اپریل 1948 میں ظفراللہ خان نے نیو یارک میں اسرائیل کے سابق صدر وائز مین سے ملاقات جس کے بعد ظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ابا ایبان سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے سوال پر بات چیت ہوئی۔

     

     

    یہ غالباً1950 کی بات ہے جب اسرائیل نے پاکستانی حکومت سے درخواست کی کہ وہ افغانستان میں موجود چند سو یہودیوں کو بھارت لے جانا چاہتے ہیں اس کے لیے اسے پاکستان کی سرزمین سے گزرنے دیا جائے تا کہ یہ لوگ اسرائیل میں جا کر آباد ہو سکیں۔ پاکستان کی حکومت نے گزرگاہ کا پروانہ دینے سے انکار کر دیا بعد میں یہ یہودی پاکستان کے ایک ہمسایہ ملک کے راستےاسرائیل پہنچے

     

     

    https://www.jstor.org/stable/25834754?seq=1

     

     

     

    جنوری 1953 میں پاکستان کے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان جنہوں نے 1947 میں اقوام متحدہ میں فلسطین کی تقسیم کے منصوبے کے خلاف معرکتہ الاراء تقریر کی تھی اور سارے عالم اسلام کے دل موہ لیے تھے، اس منصوبے کی منظوری کے بعد دمشق میں ایک مشہور مستشرق یوریل میڈ سے ملاقات کی تھی جو اس زمانہ میں اسرائیل کی خفیہ سروس کے لیے کام کر رہے تھے۔ یوریل ہیڈ نے اپنی یادداشتوں میں یہ انکشاف کیا ہے کہ اس ملاقات میں ظفر اللہ خان نے یہ اعتراف کیا تھا کہ فلسطین کی تقسیم ہی اس مسئلہ کا بہترین حل ہے

     

     

    1957 میں ذوالفقار علی بھٹو نے اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب شتابل روزینہ سے کھانے پر ملاقات کی تھی اور بقول شتابل روزینہ اس ملاقات میں مرحوم بھٹو نے کہا تھا کہ پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرلے کیونکہ اسرائیل اب ایک حقیقت ہے۔

    اسرائیلی حکام اورمیڈیا ساتھ ہی امریکی حکام یہ انکشاف کرچکے ہیں کہ 1993 میں بینظیر بھٹو کے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے دوران پاک فوج کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے ملٹری آپریشن (ڈی جی ایم او) ، میجر جنرل پرویز مشرف کو بھٹو نے اس سرکاری دورے اپنے ساتھ لیا تھا ۔

     

     

    یہ بات بھی بڑی عجیب معلوم ہوتی تھی کہ پالیسی کے مطابق غیر معمولی اور غیر روایتی طور پر یہ اس سفر میں شامل ہونے کے لئے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ملٹری آپریشنزکوجانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہ کیا گیا ،خود وہ واشنگٹن روانہ ہوگئے اوراس وقت کے میجرجنرل پرویز مشرف کوبےنظیر کے ساتھ بھیج دیا

     

     

    https://www.files.ethz.ch/isn/94527/2000-03_(FILE)1190278291.pdf

    امریکی مڈیا اورحکام کے مطابق بے نظیر بھٹو اور ان کے ڈی جی ایم او نے 1993 میں اسرائیلی عہدیداروں کے ساتھ خفیہ ملاقات کی تھی ، جو خاص طور پر واشنگٹن روانہ ہوئے تھے۔ . ان کی رہنمائی میں ، جنرل مشرف نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ آئی ایس آئی کے بیک ڈوررابطوں‌ کومظبوط کرنے کی کوشش کی

     

     

    انہیں رابطوں کے بارے میں امریکی اوراسرائیلی فوجی حکام نے بعد میں انکشاف کیا کہ جنرل پرویز مشرف نے اس دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی صلاحیتوں‌کومانیٹرکرنے کی کامیاب کوشش کی

     

    اسرائیلی حکام کا یہ بھی دعویٰ‌ہے کہ بالآخر اسرائیلی اور بے نظیر کے درمیان ملاقات 1995 میں ہوئی تھی ، اور جنرل مشرف بھی بینظیر بھٹو کے ساتھ اس میٹنگ میں شامل ہو گئے تھے جب انہوں نے جنرل مشرف کو فوری طور پر نیویارک کے ہوائی ڈیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

     

    نواز شریف کے دور میں ان کے صدر رفیق تارڑ کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ جب اکتوبر 1998 میں وہ ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے دورے پر تھے تو انہوں نے ایک استقبالیہ میں اسرائیل کے صدر وائز مین سے ہاتھ ملا کر کہا تھا کہ ’’آپ امن کے آدمی ہیں اور آپ سے ملاقات ایک بڑا اعزاز ہے‘‘۔

     

    https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-is-pakistan-preparing-to-recognize-israel-1.7773360

     

    یہ بھی کہا گیا کہ لندن میں ان ملاقاتوں کے حوالے سے 15 اکتوبر 1992 کو ریڈیو پاکستان نے بھی خبر بریک کی تھی تاہم اس پرتوجہ نہ دی گئی:

     

    اکتوبر 1995 میں وزیر اعظم محترمہ بھٹو نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا کیونکہ "گولن کی پہاڑیوں اور یروشلم کی حیثیت کے بنیادی مسائل ابھی حل نہیں ہوئے تھے اور بے نظیر کے اس انکارکے پیچھے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا کردار نظرآتا ہے

    یہ صرف محترمہ بھٹو ہی نہیں تھیں بلکہ وزیر اعظم نواز شریف نے بھی ریاست اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ بہت سارے سیاسی بنیادوں پر رابطے قائم کررکھے تھے، ان رابطوں کی نوعیت سرکاری حیثیت سے کم جبکہ ذاتی حیثیت سے زیادہ تھی ۔

    ٹائمز میگزین کے مطابق ڈینیل پرل جو ایک امریکی یہودی صحافی تھا،کو طالبان کے تعلقات کی جاسوسی کے شبہ میں قتل کر دیا گیاجبکہ بعض ماہرین کے مطابق ڈینیل کا قتل اس کے موساد ایجنٹ ہونے کی وجہ سے ہوا

    ملاقات کے اختتام پر ، دونوں نے اتفاق کیا کہ لندن میں پاکستان کے سفیر (ہائی کمشنر) کے توسط سے ان کے مابین مزید رابطوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

    16 مارچ 1993 کو اسرائیل کے نائب قونصل جنرل مارک سوفر ذکی نے ڈیووس میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور اسرائیلی وزیر خارجہ شمون پیرس کے مابین ملاقات کا بندوبست کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اس وقت یہ منصوبہ اس وقت تک ناکام ہوگیا تھا جب شہر میں متعدد پاکستانی صحافی موجود تھے۔ .

    ایک پاکستانی اخبار نے انکشاف کیا کہ 1993 میں پوسٹل کنکشن تیسرے ملک کے توسط سے قائم ہوا تھا ، اسرائیلی پوسٹل ڈاک ٹکٹوں کی جگہ مصری ٹکٹوں میں تبدیل کردی گئی تھی اور پھر وہ تمام خطوط کراچی بھیجے گئے تھے اور کراچی سے یہ خطوط اسلام آباد بھیجے گئے تھے۔ پاکستان سے اسرائیل اور خطوں کو خطوط دو لفافوں میں لندن کے راستے بھیجے گئے تھے۔ لندن میں پوسٹل منیجر کا پتہ بیرونی خط پر ظاہر ہوا ، خط کے وصول کنندہ کا پتہ اندرونی خط پر۔

    ایک اسرائیلی عبرانی اخبار ماغریو کی بین بین کیپیٹ نے 1997 میں انکشاف کیا ہے کہ:6 فروری 1996 کو۔ پاکستانی میڈیا کے آٹھ صحافی اسرائیل تشریف لائے۔ یہ پاکستانی میڈیا کا پہلا دورہ تھا۔ اگرچہ انہوں نے مزید دعوی کیا کہ یہ صحافی سرکاری وفد کے طور پر نہیں آئے تھے ، لیکن پردے کے پیچھے ایک پاکستانی سیاسی اداکار تھا جس نے اس دورے کا اہتمام کیا تھا۔ پاکستانی سیاسی لی

    ایسے اشارے ملے ہیں کہ اپنے پہلے عہدے کے دورِ حکومت (1990-93) کے دوران وزیر اعظم نواز شریف اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی پالیسی اور یہاں تک کہ تسلیم اور معمول پر لانے کے بارے میں غور کرنے کے خواہاں تھے۔

    امریکی حکام اوراسرائیلی حکام اوران دونوں ملکوں‌کا میڈیا یہ بھی دعویٰ‌کرتا ہے کہ ان دنوں‌نواز شریف کے اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد جمعیت علمائے اسلام کے سرپرست مولانا اجمل قادری نے اسرائیل کا دورہ کیا۔یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ یہ ملاقات میاں نوازشریف کی ذاتی کوششوں کا نتیجہ تھی،

    اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ وطن واپسی پر "فلسطین کے وسیع تر مفاد میں”مولانا اجمل قادری نے پاکستانی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو دورے کی ساری تفصیلات سے آگاہ بھی کیا

    اس دوران نواز شریف کی ہدایت کے مطابق مولانا اجمل قادری نے یہ بیانیہ داغ دیا کہ پاکستان کو کسی اور کی جنگ نہیں لڑنی چاہئے (اس کا اشارہ فلسطینی تنظیموں کی طرف تھا)

    اس بات کی تصدیق اسرائیلی اخبار ماغاریونے تصدیق کی اوردعویٰ کیا کہ:وزیر اعظم کے دفتر کی خصوصی اجازت سے ایک مذہبی وفد اسرائیل گیا اور اس نے چھ دن ریاست میں گزارے۔

    اگست 1997 میں اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی کہ پاکستان کے مذہبی رہنماؤں کے وفد نے ایک ہفتہ اسرائیل میں گزارا۔ اسلامی مقدس مقامات کا دورہ کرنے کے علاوہ انہوں نے وزارت خارجہ کے عہدیداروں سے بھی ملاقات کی اور پاکستان سے اسلامی سیاحت کو فروغ دینے کے خیال کی تائید کی۔

    اسرائیلی اخبار نے مزید دعویٰ کیا کہ ان دنوں‌وزیر اعظم نواز شریف کے اس وقت کے سینئر معاون صدیق الفاروق نے 29 ستمبر 1997 کو دی مسلم میں ایک انٹرویو دیا ، جہاں انہوں نے اعلان کیا کہ یہودی ریاست کو تسلیم کرنے سے پاکستان کوکوئی نقصان نہیں ہوگا

    اسرائیلی اخباریہ بھی دعویٰ‌کرتا ہے کہ نوازشریف نے اس سلسلے میں بہت زیادہ کوششیں کیں ،اخباردعویٰ کرتا ہے کہ اسرائیل نے انہیں بیانات کوبنیاد بنا کرپاکستان کی طرف تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے سلسلہ آگے بڑھانے کی خواہش کا اظہارکیا

    اوسلو معاہدے کے بعد اسرائیل کے اعتراف میں پاکستان آگے بڑھنے کے لئے تیار تھا۔ پاکستانی سفارتی عہدیداروں نے دنیا کے مختلف حصوں میں اسرائیلی وفود سے ملاقاتیں کیں‌۔

    دونوں ممالک انقرہ اور استنبول کے قونصل خانوں کو باہمی معلومات کے تبادلے کے لیے بھی استعمال کرتےرہے۔ 1992 میں امریکا میں تعینات پاکستان کی سفیر عابدہ حسین نےکہا کہ ا گر فلسطین اسرائیل کو تسلیم کر لیتا ہے پاکستان مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 1998ء میں وزیر اعظم نواز شریف نے اسرائیلی ہم منصب بنیامین نیتن یاہو کو ایک خفیہ خط لکھا جس میں یقین دہائی کروائی گئی کہ پاکستان اپنا جوہری پروگرام کو ایران کے ساتھ اس کے نیوکلیر پروگرام کی مدد کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔

    اسرائیلی حکام اوراسرائیلی میڈیا نے کچھ سال قبل ان دنوں کی ملاقاتوں کا پھرسے تذکرہ کیا ، اسرائیلی میڈیا کہتا ہے کہ اسرائیلی سفارت کاروں نے نہ صرف پاکستانی سیاستدانوں سے ملاقات کی بلکہ اپنے غیر ملکی پاسپورٹ کے ساتھ پاکستان کا دورہ بھی کیا اور ان کے پورے دورے دونوں ممالک کے مابین قریبی اور کھلے سیاسی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لئے تھے۔ اسرائیل نے کبھی بھی پاکستان سے خلا کو پُر کرنے کا کوئی بنیادی موقع نہیں چھوڑا۔

    معروف یہودی تنظیمیں بھی ان تعلقات کو قائم کرنے کے خواہاں تھیں اور دونوں ممالک کے پرامن تعلقات کو مستحکم کرنے کی بہت کوشش کی تھی۔ 1993 میں ، امریکی یہودی کمیٹی کے نمائندے نے واشنگٹن اور امریکہ میں پاکستان کے سفیروں سے ملاقات کی ،

    عالمی یہودی تنظیم کے نائب صدر مسٹر عیسی لیبلر نے 12 سے 16 فروری تک اسلام آباد ، پاکستان کا دورہ کیا اور وزارت خارجہ اسرائیل ، آسٹریلیا اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس دورے کو مربوط کیا۔ مسٹر لیبلر نے ایک پاکستانی سیاستدان ، وزیر اعلی شہباز شریف ، وزیراعظم پاکستان نواز شریف سے بھی ملاقات کی اور اس ملاقات کا اہتمام پاکستانی سفیر سیدی عابدہ حسین نے کیا۔

    2005 میں استنبول میں پاکستان اور اسرائیل کے وزرائِ خارجہ کے درمیان پہلی بارکھلم کھلا ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مسئلے پر غور کیا گیا تھا

    اس سلسلے میں سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری کہتے ہیں‌کہ جب وہ ترکی کے دورے پرتھے تواس وقت ترک صدر نے ان کی ملاقات اسرائیلی وزیرخارجہ سے کروائی تھی یہ پہلی باضابطہ ملاقات تھی

     

     

     

     

    اس کے بعد 2005 میں امریکی حکام اوراسرائیلی میڈیا نے اپنے دفاعی حکام کے حوالے سے یہ انکشاف کیا تھا کہ پاکستان واپسی سے قبل محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے اپنی حفاظت کی گارنٹی مانگی۔ عبرانی روزنامہ "مااریف” نے اس وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ بے نظیر بھٹو نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ، سی آئی اے اور برطانیہ کے اسکاٹ لینڈ یارڈ سے کہا تھا کہ وہ ان کی حفاظت میں مدد کریں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کی (پی پی پی) اعلی قیادت نے نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی ، اور پھر تل ابیب کا دورہ کیا۔ 07 مئی 2006 کو ، بینظیر بھٹو نے نیو یارک کے ایک مہنگے ہوٹل میں اسرائیل کی اعلی شخصیت کی سالگرہ کی تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ اس رات ہوٹل پوری طرح سے بک ہوا تھا اور یہ بل براہ راست بے نظیر بھٹو نے ادا کیا تھا۔ اس پارٹی میں شرکت کے لئے اعلی سیاسی شخصیات نے واشنگٹن ڈی سی اور تل ابیب سے سفر کیا۔

    وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ دو ماہ قبل پاکستان کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو لندن میں رک گئی تھیں اس دوران انہوں نے یہ پیغام دیا تھا کہ وہ مستقبل میں اسرائیل اور پاکستان کے مابین تعلقات کو مضبوط بنانا چاہیں گی۔

    بعد میں بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں اس وقت کے اسرائیلی صدر شمعون پیریز سے متعدد بار ملاقات کی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے تعلقات میں آگے بڑھنے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی۔ محترمہ بھٹو نے شمعون سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں واپس آنے پر اسرائیل کا دورہ کریں گی۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈین گیلرمین نے اسرائیل کے روزنامہ یدیوٹ اچارونوٹ سے وابستہ ایک آن لائن اسرائیلی نیوز سائٹ ینیٹ کو بتایا:

    اس کے بعد جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے تب سےیہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ پاکستان اسرائیل کوتسلیم کرنا والا ہے لیکن ایسا نہیں ہے عمران خان نےپہلےدن سے یہ موقف اپنایا تھا کہ پاکستان کبھی بھی اسرائیل کوتسلیم نہیں کرے گا

    چند مہنے قبل اسلام آباد میں اسرائیلی طیارے کی اترنےکی جھوٹی خبروں کوبنیاد بناکرپہت بڑی پراپیگنڈے مہم شروع کی گئی ، اس کےبعد باقاعدہ ایک سلسلہ شروع ہوگیا

    پاکستان اپنے عرب مسلم برادر ملکوں‌ کی خاطر اسرائیل سے تعلقات قائم نہ کرنے کا بار بار اعلا ن کرچکا ہے ، لیکن جن کی خاطر پاکستان نے اعلان کیا وہ اسرائیل کوتسلیم کرچکے ، جن کی خاطرپاکستان ڈٹا رہا وہ بک گئے ،

    چند ہفتوں‌سے عرب امارات ، بحرین اورپھر سوڈان کی طرف سے اسرائیل کوتسلیم کرنے کے بعد پاکستان کے حوالے سے بھی خبریں‌گردش کررہی تھیں ، لیکن پاکستان نے پھراپنا موقف دہرایا

    اس دوران سعودی عرب نے پاکستان کواسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے اپنے دباو میں لانے کی کوشش کی جسے پاکستانی حکومت نے مسترد کردیا

    سعودی عرب نے پاکستان پراحسانات جتانے کی بھی کوشش کی لیکن پاکستان نے ان احسناتات کوواپس کرنے کا عہد کرلیا ہے اورسعودی عرب پرواضح کردیا ہے کہ پاکستان اپنے نظرے پرقائم ہے اوراسرائیل کوکبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا

    ان بیک ڈوررابطوں پرعالمی حالات کے تناظراوراسرائیل عرب تعلقات پرنظررکھنے والوں کے دعووں کوبنیاد بنا کرپاکستان کے معروف صحافی مبشرلقمان نے انہیں خبروں کواپنے انداز سے بیان کیا ہے جس پرپاکستان کے کچھ نام نہاد صحافی اسے بہتان قرار دے رہے ہیں ، اس رپورٹ میں ان تمام حقائق کو پیش کیا گیا ہے جو امریکہ اوراسرائیلی میڈیا اورسرکاری حکام دعویٰ کرچکے ہیں

     

     

    1. Ha’aretz, 30 June 2003

    2. The Dawn, 31 March 2002

    3. It is not accidental that one of the first books on Pakistani foreign policy was M. Ahmad’s Pakistan and the Middle East, Karachi, 1948.

    4. Eliyahu Elath to Walter Eytan, 8 September 1953, Israel State Archives (Jerusalem), Ministry of Foreign Affairs, file no. 2413/29.

    5. Moonis Ahmar, ‘Pakistan and Israel – Distant Adversaries or Neighbours’, Journal of South Asian and Middle Eastern Studies, Vol. 20, No. 1 (Fall, 1996), p. 20

    6. For a serious and interesting study on this see T.G. Fraser, Partition in Ireland, India and Palestine: Theory and Practice, New York, 1984

    7. One such lucid memorandum was written by Zionist emissary Jacob Robinson, ‘Partition of India: Implications for Palestine’, Central Zionist Archives, S25/9029. This undated memorandum was written between 9 July and 15 August 1947.

    8. Jinnah’s presidential speech at Allahabad in April 1942, quoted in Foundations of Pakistan, Vol. 2, p. 388.

    9. S.M. Burke Pakistan’s Foreign Policy: An Historical Analysis, London, 1973, p. 138

    10. Farzana Shaikh, ‘Muslims and Political Representation in Colonial India: The Making of Pakistan’, Modern Asian Studies, Vol. 20, No.3 (July 1986), p. 550.

    11. Menachem Friedman, ‘The Ultra-Orthodox and Israeli society’, in Keith Kyle and Joel Peters (eds.), Whither Israel? The Domestic Challenges, London, 1993, p. 185.

    12. For detailed comparisons see P.R. Kumaraswamy, ‘The Strange Parallel Careers of Israel and Pakistan’, Middle East Quarterly, Vol. 4, No. 2 (June 1997), pp. 31–39; and ‘Israel and Pakistan: Strange Bedfellows or Natural Allies’, Strategic Analysis, Vol. 23, No. 6 (September 1999), pp. 873–893.

    13. Quoted in Hector Bolitho, Jinnah, Creator of Pakistan, London, 1960, p. 197

    14. Burke, Pakistan’s Foreign Policy, p. 65

    15. A detailed, yet somewhat repetitive, discussion can be found in Rashid Ahmad Khan, Pakistan’s Policy towards the Arab–Israel Conflict, Karachi, 1995.

    16. In the pre-partition era, the external interests and involvement of the Muslim League were confined only to Arab and Islamic causes, with the Palestinian question occupying the prime position.

    17. See S.S. Pirzada, Foundations of Pakistan: All India Muslim League Documents, 1906–1947, Karachi, 1970, Vol. 2, pp. 225–226.

    18. Maqsudul Hasan Nuri, ‘The Indo-Israeli Nexus’, Regional Studies, Vol. 12, No. 3 (Summer 1994), pp.

    19. Journalist-turned-politician Mushahid Hussain attributes this tendency to regime changes in Pakistan brought about ‘through conspiracy hatched by small, power hungry coteries’. Mushahid Hussain, Pakistan’s Politics: The Zia Years, New Delhi, 1991, p. 34

    20. It is essential to remember that such conspiracy theories are not confined to orthodox ulema, vernacular media or minor political figures. Conspiracy theories are the pastime of the mainstream press as well as some of the leading political figures in Pakistan. Among others see, Ghani Jafar, ‘”Soul Mates” Coming Together: The Brahminic–Talmudic Alliance’, Regional Studies, Vol. 20, No. 2 (Spring 2002), pp. 3–65; Khalil Qureshi, ‘Indo-Israeli Tie Against Muslims’, The Frontier Post, 5 May 1992, in JPRS-NEA-92-080, 23 June 1992, pp. 4–5; Hazoor Ahmad Shah, ‘The Hindu–Zionist Collusion: A Potential Threat to Ummah’, The Pakistan Times, 21 May 1993, in JPRS-NEA-93-083, 21 July 1993, pp. 30–31; ‘Close Military Cooperation between India and Israel’, Editorial, Jang, 18 May 1993, in JPRS-NEA-93-083, 21 July 1993, p.40; ‘A Disturbing Development’, Editorial, The Frontier Post, 1 January 1997, in FBIS-NES-97-001, 1 January 1997; Khalilul Rehman, ‘Growing of the Nexus’, The Frontier Post, 17 January 1997; ‘Pak–Iran Relations: Beyond Hiccups’, The Muslim, 24 January 1997, in FBIS-NES-97-017, 24 January 1997; ‘Indo-Israeli Nexus’, The Frontier Post, 4 May 1997, in FBIS-NES-97-125, 5 May 1997; and ‘The Axis of Americanism, Hinduism and Zionism’, Editorial, The Muslim, 12 October 1997, in FBIS-NES-97-287, 14 October 1997.

    21. P.R. Kumaraswamy, Beyond the Veil: Israel–Pakistan RelationsJaffee Center for Strategic Studies Memorandum 55, Tel Aviv, 2000, pp. 30–42

    22. Anees Jillani, ‘Pakistan and CENTO: An Historical Analysis’, Journal of South Asian and Middle Eastern Studies, Vol. 15, No. 1 (Fall 1991), pp. 40–53.

    23. At one point Nasser even remarked: ‘Suez is as dear to Egypt as Kashmir is to India’, quoted in Burke, Pakistan’s Foreign Policy, p. 204.

    24. Quoted in Khan, Pakistan’s Policy towards the Arab–Israeli Conflict, p. 166

    25. Salayman S. Nyang, ‘Pakistan’s Role in the Organisation of Islamic Conference’, Journal of South Asian and Middle Eastern Studies, Vol. 7, No. 3 (Spring 1984), pp. 14–33; S.S. Pirzada, ‘Pakistan and OIC’, Pakistan Horizon, Vol. 40, No. 2 (April 1987), pp. 14–38.

    26. Khan, Pakistan’s Policy towards the Arab–Israeli Conflict, p. 255. Even though Pakistan has vehemently denied any active involvement in the crackdown, King Hussein personally decorated Zia for ‘his services’ to the Hashemite Kingdom. Tariq Ali, Can Pakistan Survive? Death of a State, London, 1983, p. 224n; and Mehtab Ali Shah, The Foreign Policy of Pakistan: Ethnic Impacts on Diplomacy, 1971–1994, London, 1997, p. 27.

    27. Sabina Hasan, ‘The Casablanca Islamic Summit’, Pakistan Horizon, Vol. 37, No. 1 (January 1984), pp. 78–80.

    28. Aide-Mémoire by the Ambassador of Israel in Washington, 3 March 1952, Israel State Archives, Ministry of Foreign Affairs, File No. 2401/1.

    29. See Summary of the meeting in Documents on the Foreign Policy of Israel, 1953 (Jerusalem: Israel State Archives, 1980ff), Vol. 8, pp. 26–28 and Companion Volume 8, pp. 17–18.

    30. When asked whether Pakistan was about to recognize Israel, he said: ‘You are intelligent. You can draw your own conclusion’. Quoted in Khan, Pakistan’s Policy towards the Arab–Israeli Conflict, p.159n.

    31. The Jerusalem Post, 16 March 1986. A few years earlier, he remarked that both Pakistan and Israel are ‘ideological states’ that are sustained by Islam and Judaism respectively. The Economist, 12 December 1981.

    32. For example in late 1949 Israel’s ambassador in Washington Abba Eban observed: ‘the Pakistani representative at the UN was scheming to embarrass India by bringing his government to recognise Israel before India did’. Moshe Sharett to M. Namir, d. 25 October 1949, Documents on the Foreign Policy of Israel, 1949 (Jerusalem: 1980ff), Companion Volume 4, p. 224.

    33. An Israeli diplomat posted in the US, for example, informed Foreign Minister Moshe Sharett that if the US Administration ‘now intends to spread military butter over the bread of Arabs it will have to be spread very thin. You will remember that 30 million [dollars] includes Pakistan and Israel’, David Goitein to Moshe Sharett, 31 July 1953, Documents on the Foreign Policy of Israel, 1953, Vol. 8, p. 553. See also ibid., p. 549 and Abba Eban to Moshe Sharett, 6 August 1953, ibid., pp. 571–572.

    34. The News, 14 September 1995, in FBIS-NES-95-179, 15 September 1995, pp. 84–85.

    35. This period coincided with the Afghan crisis when both Israel and Pakistan were reportedly helping the Afghan mujahedin against the Soviet army.

    36. P.R. Kumaraswamy, ‘India and Israel: Prelude to Normalisation’, Journal of South Asian and Middle Eastern Studies, Vol. 19, No. 2 (Winter 1995), pp. 62–64.

    37. Among others see, Gerald Steinberg, ‘A Pakistani and not “Islamic Bomb”‘, Yedioth Ahronoth, 29 May 1998; and Shai Feldman, ‘The Nuclear Test in South Asia: Implications for the Middle East’, Strategic Assessment, Tel Aviv, No. 2, July 1998, pp. 7–9.

    38. Benazir Bhutto’s interview to Yedioth Ahronoth, Sheva Yamim Weekend supplement, 19 January 1996, pp. 44–45.

    39. Zaigham Khan, ‘Shalom Maulvi’, The Herald, July 1997, p. 19. See also, The Muslim, 29 September 1997, FBIS-NES-97-273, 30 September 1997; and Ma’ariv, 12 August 1997, in FBIS-NES-97-224, 12 August 1997.

    40. Benazir Bhutto’s interview to Yedioth Ahronoth.

    41. See Israrul Haque, ‘Why We Should Not Recognise Israel?’, The Nation, 24 October 1997; and ‘Let Us See Rabin in his True Colours’, Editorial, The Muslim, 6 November 1995, in FBIS-NES-95-215S, 7 November 1995, pp. 13–14.

    42. Ahmar, ‘Pakistan and Israel – Distant Adversaries or Neighbours’, p. 20.

  • عالمی ادارہ صحت کی پاکستان کو کرونا ویکسین بارے بڑی یقین دہانی

    عالمی ادارہ صحت کی پاکستان کو کرونا ویکسین بارے بڑی یقین دہانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے حکومت پاکستان کے نام تعریفی مراسلہ لکھا ہے

    ڈبلیو ایچ او نے کورونا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی ہے،ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ پاکستان سے کورونا کے خلاف بھرپور تعاون جاری رہے گا،موثر و محفوظ کورونا ویکسین کی تیاری کیلئے کوششیں جاری ہیں،2021 کےآغاز تک بعض کورونا ویکسین محدود پیمانے پر دستیاب ہونگی، آغاز میں عالمی سطح پر ویکسین کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہو گی، آغاز میں کورونا ویکسین کے درست اہداف کی بروقت نشاندہی ضروری ہے،

    ڈبلیو ایچ او نے پاکستان کو متوقع کورونا ویکسین کے بارے میں تعاون کی یقین دہانی کروائی،اورکہا کہ کورونا ویکسین کے استعمال میں پاکستان کی معاونت کریں گے،ڈبلیو ایچ او نے پاکستان کو متوقع ویکسین کے استعمال کے بارے میں تجاویز سے آگاہ کر دیا

    عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ پاکستان کو متوقع ویکسین کے بارے میں مختلف امور پر توجہ دینا ہو گی،پاکستان متوقع کورونا ویکسین کے بارے میں پیشگی موثر پلاننگ کرے،پاکستان کورونا ویکسین کے استعمال کا مساوی و موثر عمل ترتیب دے، پاکستان کورونا ویکسین کے مخصوص اہداف کی بروقت نشاندہی کرے، پاکستان کورونا ویکسین کی ملک گیر ترسیل کی اسٹریٹیجی وضع کرے ،پاکستان متوقع کورونا ویکسین کے بارےمیں قومی رابطہ کمیٹی تشکیل دے ،رابطہ کمیٹی کورونا ویکسین کے بارے میں پلاننگ و رابطوں کی ذمہ دار ہو گی،

    پاکستان کورونا ویکسین کے بارے میں قومی تکنیکی ورکنگ گروپ تشکیل دے ،پاکستان کورونا ویکسین کی ترسیل کیلئے لاجسٹک، کولڈ چین سسٹم قائم کرے،پاکستان کورونا ویکسین نیشن مہم کیلئے سرویلنس، مانیٹرنگ سسٹم تشکیل دے،پاکستان ویکسین نیشن کیلئے ہائی رسک آبادی کی پیشگی نشاندہی کرے،پاکستان ویکسین کے مضر اثرات جانچنے کیلئے سیفٹی سرویلنس سسٹم بنائے، پاکستان کورونا ویکسین نیشن کیلئے تربیت یافتہ ٹیمیں تشکیل دے،پاکستان کورونا ویکسین کے بارے میں ڈیمانڈ جنریشن، کمیونی کشن پلان تیار کرے،