Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کرونا سے ہلاکتوں کا پچھلے پانچ ماہ کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    کرونا سے ہلاکتوں کا پچھلے پانچ ماہ کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

    کرونا سے ہلاکتوں نے پچھلے پانچ ماہ کا ریکارڈ توڑ دیا

    باغی ٹی وی : عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں گزشتہ 5 ماہ کے دوران آج سب سے زیادہ اموات ریکارڈ ہوئیں۔ پاکستان میں آج مزید 105 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد اموات کی کل تعداد 9 ہزار 10 تک پہنچ چکی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 731 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں ایک لاکھ 28 ہزار 673، سندھ میں ایک لاکھ 98 ہزار 482، خیبر پختونخوا میں 53 ہزار 253، بلوچستان میں 17 ہزار 796، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 799، اسلام آباد میں 35 ہزار 203 جبکہ آزاد کشمیر میں 7 ہزار 771 کیسز رپورٹ ہوئے.

    اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 35 ہزار 203، خیبر پختونخوا میں 53 ہزار 253، سندھ میں ایک لاکھ 98 ہزار 482، پنجاب میں ایک لاکھ 28 ہزار 673، بلوچستان میں 17 ہزار 796، آزاد کشمیر میں 7 ہزار 771 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 799 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    ملک بھر میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 7.12 فیصد ہو گئی۔ کراچی کورونا مثبت کیسز کی شرح 19.89 فیصد ہے۔

    این سی او سی کے مطابق حیدرآباد میں مثبت کیسز کی شرح 22.45 فیصد ہوگئی۔ آزاد کشمیر میں 9.4 فیصد، بلوچستان میں 14.2، گلگت بلتستان میں 0.5، اسلام آباد 4.3، خیبر پختونخوا 7.2 اور سندھ میں 14.9 فیصد تک ہوگئی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق پنجاب میں مثبت کیسز کی شرح 3.8 ہے۔ لاہور میں مثبت کیسز کی شرح 5.47، راولپنڈی میں 7.71 فیصد ہوگئی۔ پشاور میں مثبت کیسز کی شرح 19.04، کوئٹہ میں 5.06 اور میرپور میں کیسز کی شرح 22 فیصد تک آگئی۔

  • پاکستان سعودی عرب کے تعلقات میں‌ نیا موڑ:ذمہ دارکون ؟عمران خان یا سعودی شاہی خاندان

    پاکستان سعودی عرب کے تعلقات میں‌ نیا موڑ:ذمہ دارکون ؟عمران خان یا سعودی شاہی خاندان

    لاہور:پاکستان سعودی عرب کے تعلقات میں‌ نیا موڑ:ذمہ دارکون ؟عمران خان یا سعودی شاہی خاندان،اطلاعات کے مطابق سعودی شہزادے نے عمران خان کو فون کرتے ہوئے محمد بن سلمان اورسلمان بن عبدالعزیز کا سلام پہنچاتے ہوئے اس بات کی خواہش کا بھی اظہارکیا کہ جناب تشریف لائیں

    سعودی شہزادے کا عمران خان کو فون کرنا کوئی روایتی نہیں بلکہ ایک طئے شدہ منصوبے کا حصہ ہے ، یہ بات بھی یادرکھیں کہ عمران خان کو فون کرنے سے پہلے شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز کی شہزادہ محمد بن سلمان سے اورایسے ہی سلمان بن عبدالعزیز سے بات چیت ہوتی ہے، یہ ٹائمنگ بتاتی ہےکہ عمران خان کو فون کیا نہیں بلکہ کروا یا گیا اوراس بات کی خواہش کا اظہار کرنا کہ جناب ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں یہ ایک قریب ہونےکا اشارہ کرتا ہے

    اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو اس ٹیلی فون کال کا اسباب کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے، پاکستان جو کہ سعودی سرزمین ، سعودی حکمرانوں اورسعودی عوام کی دل کہ گہرائیوں‌سے نہ صرف عزت کرتا ہے بلکہ اسے اپنے اوپرفرض بھی گردانتا ہے

    ویسے تو پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان کےتعلقات کی ایک ناقابل فراموش تاریخ بھی موجود ہے ،

    اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب نے جہاں‌دنیا کے دیگرمسلمان ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرکے وہاں اخوت کا مظاہرہ کیا ہے وہ پاکستان میں بھی دیکھنے میں ملا ہے

    پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی جتنی سعودی عرب کی طرف سے ہے اس سے دگنی گرم جوشی اوروابستگی پاکستان کی طرف سے ہے جو ایک فطری اورایمان کا تقاضا بھی ہے

    اگرسعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ مشکل وقت میں تعاون کیا ہے تو یاد رکھیں کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ وہ عہد نبھائے ہیں کہ جن کی قیمت انسان نہیں دے سکتے بس اس کا اجراللہ ہی دے گا

    یہ بڑی راز کی باتیں ہیں کہ پاکستان نے اپنی سلامتی کوخطرے میں ڈالتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی کو ترجیح دی یہ کسی پراحسان نہیں بلکہ ایمانی فریضہ تھا

    یہ بات بھی یاد رکھین کہ عربوں خصوصا سعودی عرب کے دشمنوں کو اگرڈر ہے تو فقط پاکستان کا

    تفصیل میں نہیں جانا چاہتا صرف موجودہ حالات کے حوالے سے عرض گزار ہوں‌کہ پاکستان کی طرف سے اس قدر شدید محبت اوروابستگی کے باوجود ان عرب ممالک نے پاکستان کی خدمات ، قربانیوں کو فراموش کرتے ہوئے کشمیر کے معاملے پرکشمیری مسلمانوں پرہونے والے مظالم پرمسلمانوں کے دشمن ، کشمیریوں کے دشمن ، اسرائیل کے جانی دوست بھارت کا بھرپورساتھ دیا

    پاکستان نے کبھی اپنی حفاظت کے لیے ان ممالک سے درخواست نہیں کہ اور نہ ہی یہ ممالک اس لائق ہیں ،

    دوسرا اہم موڑ ابھی چند ماہ قبل آیا جب چند عرب ممالک جو کہ سعودی عرب کے بچونگڑے جانے جاتے ہیں نے اسرائیل کوتسلیم کرلیا ، پاکستان نے اس وقت عرب ممالک خصوصا سعودی عرب کو اس حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ یہودونصاریٰ مسلمانوں کے دشمن نہیں ہوسکتے اللہ اوراس کے رسول کا یہ فرمان ہے

    سعودی عرب نے پاکستان کے اس مخلصانہ مشورے کو نہ صرف کمتر سمجھا بلکہ اسے اپنے معاملات میں مداخلت سے تعبیر کیا ، ایسے ہی عرب امارات نے بھی وہ رویہ پیش کیا جوسعودی عرب نے پیش کیا

    اس موقع پرپاک فوج کے سربراہ نے بھی کوشش کی اور ان کو سمجھایا کہ پاکستان کا اسرائیل سے کوئی زمینی تنازعہ نہیں پاکستان عربوں خصوصا ارض فلسطین پرقبضے کی وجہ سے اسرائیل کو تسلیم نہیں کررہا یہ موقع ہے اتفاق سے چلنے کا تاکہ فلسطینیوں کی جدوجہد اورقربانیوں کو حقیقت میں بدلا جاسکے لیکن سعودی عرب کی طرف سے اس حوالے سے "آپ کون ہوتے ہیں ہمارے معاملات میں مداخلت کرنے والے ” جیسا رویہ اختیار کیا گیا

    اس کے بعد وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے اپنا اوراہل پاکستان کا موقف رکھتے ہوئے کہا کہ اگراسرائیل کو تسلیم کریں گے تو کل اللہ کو کیا جواب دیں گے

    وزیراعظم کے اس اصولی موقف نے ان لوگوں کی زبانیں بند کردیں جو وزیراعظم عمران خان کو یہودی ہونے کا الزام دھرتےرہے ،

    اس دوران سعودی عرب نے ایف اے ٹی ایف میں ووٹ ناں‌دیکر اپنا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال کرپاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات کو قوت بخشی

    پاکستان نے اس بربھی صبر کا مظاہرہ کیا

    پھر کیا ہوا جہاں سے یہ تنازعہ شدت اختیار کرتا ہے ؟

    اسرائیل ،،امریکہ ، بھارت اورایسے ہی اسرائیل کوتسلیم کرنے والے ممالک نے اس بات کے خطرات کو بھانپا کہ جب تک پاکستان اسرائیل کوتسلیم نہیں کرتا ، عربوں‌ اوراسرائیل کے درمیان تعلقات کو خطرات ہی رہیں‌گے

    دوسری طرف بھارت نے بھی اسی اصول کے تحت کہ پاکستان اسرائیل کوتسلیم کرے گا تو اس کے اندر حکومت کے خلاف اس عمل پر ایک خطرناک تحریک کھڑی ہوسکتی ہے اس کا لامحالا فائدہ بھی بھارت کوہوگا

    دوسرا بھارت اورامریکہ بھی یہی خیال کرتے ہیں‌کہ جب تک پاکستان اسرائیل کوتسلیم نہیں کرتا اسرائیل کے لیے خطرات بدستور رہیں گے جو کہ نہ تو امریکہ اورنہ ہی بھارت کےلیے اچھے شگون ہیں

    اس دوران ہوتا یہ ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ایک کارڈ کھیلنے کی کوشش کرتا ہے وہ کارڈ پاکستان کو دوسال قبل دوارب ڈالرزقرض کے حوالے سے بلیک ملینگ تھی

    سعودی عرب کا خیال تھا کہ پاکستان معاشی طور پرکمزور ہے اوروہ ہمارا قرض ادا کرنے کی ہمت نہیں رکھتا اس صورت میں پاکستان کو اسرائیل کوتسلیم کرنے پرمجبور کیا جاسکتا یا پھر یہ اسرائیل کوتسلیم کرنے والے ممالک کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے روکا جاسکتا ہے

    اس حوالے سے پاکستان پردباو بڑھایا گیا ، یہ دباو جس کا ذکرپاکستان کے معروف صحافی مبشرلقمان بھی اس کا ذکرکرچکے ہیں ایک حقیقت تھی

    اسی دوران پاکستان کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے چین نے بڑی حکمت سے کام لیا اوریہ قرض اداکرنے کی ذمہ داری کچھ باہمی مشاورت سے لی چین پاکستان کو دیئے گئے قرض کی واپسی کے حوالے سے پاکستان کوریلیف دینے پرتیارہوگیا اورپاکستان سعودی عرب کو قرض واپس کرنے پر تیار ہوگیا اوریہ اگلے ہفتے ادا کردیا جائے گا

    ادھر اس دوران ایران نے پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اورایرانی وزیرخارجہ دودن پاکستان میں رہے اوریہ خلیج پرکرنے کی کوشش کرتے رہے

    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے دلیرانہ موقف اوربرابری کی سطح کے رویے نے سعودی عرب کی آنکھیں کھول دیں‌ کہ یہ کیا ہوگیا ،
    سعودی عرب اس بات سے بھی پریشان ہے کہ پاکستان کو اب کیسے اعتماد دیں‌گے سعودی عرب شاید قرض کی اس مدت میں توسییع بھی کرنا چاہتا ہے لیکن اب حکومت ٕپاکستان کی طرف سے اس رقم کو ہرصورت جلد واپس کرنے کے فیصلے نے سعودی عرب کی اس پیش کش کو بھی کیش نہیں ہونے دیا

    بات شروع ہوئی تھی کہ ذمہ دارکون ؟اس ساری صورت حال کا ذمہ دارسعودی عرب ہے سعودی عرب کے بچونگڑے سعودی عرب کی ہدایت پراسرائیل کو تسلیم کررہے ہیں ،، سعودی عرب ان تعلقات پرمہرثبت کرنے کے لیے پاکستان کواستعمال کرنا چاہتا تھا ناکام ہوگیا ، وزیراعظم عمران خان کے دلیرانہ موقف نے پاکستانی قوم کو بھی تقسیم ہونے سے بچایا اوراپنے بنیادی مطالبے کو بھی زندہ رکھا

    سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان جن پرامریکی اثرورسوخ ہے وہ پاکستان کے حوالے سے وہ موقف اورہمدردی نہیں رکھتے جو پاکستان اورپاکستانیوں کا حق تھا

    اب حکومت کی طرف سے اپنے موقف پرقائم رہنے کے عمل نے سعودی عرب کو احساس دلایا ہے کہ اگراس نے پاکستان کی فطری مدد اورمحبت کو کھودیا توپھراس کے لیے ایسی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں جوبہت بڑے نقصان کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں

    آج شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیزکا عمران خان کو فون کرنے کا مقصد بھی یہی تھا اوراس سے پہلے محمد بن سلمان اورسلمان بن عبدالعزیز سے شہزادہ سلطان کا ر ابطہ کرنا اس بات کے واضح اشارے ہیں‌ کہ سعودی حکمران یہ جان چکے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی گرم جوشی اس کی داخلی اورخارجی سلامتی کے لیے ضروری ہے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنے والےلمحوں‌ میں ملاقاتوں کا یہ سلسلہ شروع ہوجائے جس کے ذریعےپاکستان اورسعودی عرب کے درمیان حالات کو نارمل کرنے کے حوالے سے کوششیں کی جائیں ،یہ ملاقاتیں عسکری قیادت سے بھی ہوسکتی ہیں ، مختلف اندازسے سفارتی کوششیں بھی بروئے کار لائی جاسکتی ہیں

  • پاکستان میں‌ سری لنکا کے ہائی کمشنرکی آرمی چیف سے اہم ملاقات

    پاکستان میں‌ سری لنکا کے ہائی کمشنرکی آرمی چیف سے اہم ملاقات

    راولپنڈی :پاکستان میں‌ سری لنکا کے ہائی کمشنرکی آرمی چیف سے اہم ملاقات،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں آج آرمی چیف سے دواہم ملاقاتیں ہوئی ہیں ، ان میں پہلی ملاقات سعودی سفیر کی آرمی چیف سے جبکہ دوسری ملاقات پاکستان میں‌ تعینات سری لنکن سفیر نے کی ہے

    ادھر پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر وائس ایڈمرل موہن وجیوکرامہ (ریٹائرڈ) نے آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    ترجمان کے مطابق اس اہم ملاقات میں پاکستان اورسری لنکا کےدرمیان مضبوط باہمی رشتوں‌ پرکھل کربات ہوئی ، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاکستان میں سری لنکن سفیر کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور،علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعاون میں اضافے پر بات ہوئی

    پاکستان میں موجود سری لنکن ہائی کمشنر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علاقائی استحکام اور ترقی میں پاکستان کے کردار کو سراہا

  • پاکستان میں سعودی سفیرنواف سعید المالکی کی آرمی چیف سے اہم ملاقات

    پاکستان میں سعودی سفیرنواف سعید المالکی کی آرمی چیف سے اہم ملاقات

    اسلام آباد : پاکستان میں سعودی سفیرنواف سعید المالکی کی آرمی چیف سے اہم ملاقات ،ذرائع کے مطابق پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان پھر بڑی تیزی سے سفارتی تعلقات میں گرم جوشی دیکھنے میں ملی ہے ، سعودی سفیر کی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے اچانک ملاقات اس سلسلے کی کڑی ہے

    ادھر ذرائع کے مطابق آج ابھی تھوڑی دیر پہلے پاکستان میں‌ تعینات سعودی سفیر نے پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کرکے ایک بارپھرخطے کے حالات میں گرم جوشی پیدا کردی ہے ،

    اس حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف کی سعودی سفیر سے ہونے والی ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی پر بھی تبادلہ خیال کرتے ہوئے پاک سعودی دفاعی تعلقات پر بھی غور کیا گیا۔

    دونوں رہنماوں کےدرمیان خطے کےبدلتے ہوئے تیزی سے حالات پر بھی گفتگو ہوئی سعودی سفیر نے اس موقع پر خطے اورخصوصا عالم اسلام کے لیے پاکستان کی خدمات کوسراہا

  • لائن آف کنٹرول پرپھربھارتی فوج کی دراندازی،دشمن سےلڑتے پاک فوج کے2جوان شہید

    لائن آف کنٹرول پرپھربھارتی فوج کی دراندازی،دشمن سےلڑتے پاک فوج کے2جوان شہید

    راولپنڈی: لائن آف کنٹرول پرپھربھارت کی دراندازی، پاک فوج کے دوجوان شہید، جوابی وار،بھارتی فوج کوبھارتی نقصان ،اطلاعات کے مطابق بھارت کی طرف سے آج پھر پاکستانی سرحدوں پردراندازی کی گئی ہے ، ادھر ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ سے لائن آف کنٹرول پر دو فوجی جوان شہید ہوگئے،

    بھارتی فوج کی مکاری کا پاک فوج کے جوانوں‌ نے بڑی دلیری سے جواب دیا ، پاک فوج نے اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جس میں بھارت کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پرجنگ بندی معاہدےکی خلاف ورزیاں جاری ہیں، آج بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول کے باگسر سیکٹر پر اشتعال فائرنگ کی۔

    ترجمان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے دو جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، شہید ہونے والوں میں نائیک شاہ جہان اور سپاہی حمید شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل دس دسمبر کو بھارتی فوج کی فائرنگ سے لائن آف کنٹرول پر تعینات دو فوجی جوان شہید ہوگئے تھے جبکہ پاک فوج نے بھرپور جواب دیتے ہوئے دشمن کے دانت کھٹے کیے، شہید ہونے والوں میں لانس نائیک طارق اور سپاہی ضروف شامل ہیں۔

  • میاں صاحب آپ کے باہر جانے کی ڈیل کس نے کرائی تھی ؟ مبشر لقمان نے سوال اٹھا دیا

    میاں صاحب آپ کے باہر جانے کی ڈیل کس نے کرائی تھی ؟ مبشر لقمان نے سوال اٹھا دیا

    میاں صاحب آپ کے باہر جانے کی ڈیل کس نے کرائی تھی ؟ مبشر لقمان نے سوال اٹھا دیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق. سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنی تازہ یو ٹیوب ویڈیو میں کہا ہے کہ مریم نواز نے کل کی پریس کانفرس سے ظاہر کردیا ہے کہ وہ کتنی نا پختہ سیاستدان ہیں‌اور ان کی برہمی سے اندازہ ہو رہا تھا کہ مینار پاکستان کا جلسہ کتنا کامیاب تھا . ان کی باڈی لینگوئیج سے ساری داستان سنی جا سکتی تھی. مریم نواز پاکستان میڈیا پر الزام لگاتی نظر آئیں اور گلہ کیا کہ ہمارے جلسے کی صحیح تعداد نہیں بتائی . جبکہ وہ انٹرنیشنل میڈیا کی تعریف کر رہی تھیں. جن میں بی بی سی اور الجزیرہ شامل ہے .
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ الجزیرہ کی جو کریڈیبلٹی ہے وہ سب کے سامنے اور اس نے پاکستان کے خلاف ایجنڈے میں اپنا حصہ ڈالا ہے . اسی طرح قطر اور دیگر ممالک سے پی ڈی ایم کو جو فنڈنگ کی جا رہی ہے. وہ بھی اک الگ مسئلہ ہے جس پر ٹاپ ٹرینڈ بھی چلے. ان کا کہنا تھا کہ میں کسی دن الجزیرہ کی اس مس رپورٹنگ پر وی لاگ کروں گا . لیکن آج مسئلہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں . پہلے تو میاں صاحب نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا نام لیا پھر یہ کہا کہ فوج درست ہے بس دو شخصیتیں ٹھیک نہیں‌ پھر انہوں نے کہا کہ اگر میں فوج کا نام نہ لوں تو کیا محکمہ واپڈا والوں کو نام لوں . مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب نے خوب جگتیں ماریں .لین میرا ان سے سوال ہے کہ میاں صاحب یہ بتائیں کہ وہ ایک بندہ کون سا تھا جس کے ساتھ وہ ڈیل کر کے باہر گئے ہیں. میں اس کا نام جاننا چاہتا ہوں. کس بندے نے سائن کیے اور آپ باہر گئے اور کبھی پانچ سال کی ڈیل کا نام لیا جاتا تھا اورکبھی سات سال کی ڈیل کا . پہلے مجھے یہ بتائیں کہ کس شخص سے ڈیل کی تھی.

    ان کا کہنا تھا کہ آپ کے پلیٹ لیٹس کبھی بیس ہزار سے کم ہوتے تھے اورکبھی کتنے . اگر اتنے پلیٹس لیٹس ہوں تو بندہ خود سے اٹھ نہیں سکتا .چل نہیں سکتا حتی کہ شیو نہیں‌کرسکتا. لیکن آپ تیار ہوکر چل کر جہاز پر بھی روانہ ہوگئے. مجھے بتائیے گا کہ آپ کی کس لیب میں یہ رپورٹ بنی کس ڈاکٹر نے یہ رپورٹ بنائی اور اسٹیبلشمنٹ کے کس شخص کے ساتھ آپکی ڈیل ہوئی جس میں آپ کو اور مریم نواز کو باہر جانا تھا.

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ کون شخص تھا جو گاڑیوں کے جھرمٹ میں پرئم منسٹر ہاؤس گیا تھا اور آپ کی ڈیل کی تھی پھر مریم کی ڈیل کی گئی تو وزیرا عظم نے کہا کہ یہ نہیں‌ہوسکتا ایسا میری لاش سے ہوکر ہوگا . پھرمریم کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا. مجھے اس شخص کانام بتائیے. کیا کسی عدالت نے کبھی ایسا سوال بھی کیا کہ جس میں کسی مجرم کی یہ گارنٹی لی جائے کہ وہ کل زندہ رہے گا. یہ سوالات کہاں سے آئے . کیا دنیا کی کسی عدالت نے ایسا سوال کبھی کیا مجھے ذرا بتائیے گا. ان کا کہنا تھا کہ مجھے بتائیے گا کہ جب یہ ڈیل ہوئی کہ مریم چھ ماہ بعد باہر جائے گی اور وہ بولے گی نہیں لیکن جب باہر جانے والی بات پوری نہ سکی تو مریم نے بولنا شروع کردیا . یہ ڈیل کس کے ساتھ ہوئی تھی پہلے ڈیل کرنے والا کون تھا دوسری ڈیل کرنے والا کون تھا مجھے نام ضرور بتائے گا. کیونکہ اب نام لینے کا موسم شروع ہوا ہے تو پھر ان کا نام بھی لے لیجیے گا. مجھے انتظار رہے گا.

  • خان جی ناراض ای ہوگئے جے:شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیزنے وزیراعظم عمران خان کومنالیا

    خان جی ناراض ای ہوگئے جے:شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیزنے وزیراعظم عمران خان کومنالیا

    اسلام آباد :خان جی ناراض ای ہوگئے جے :شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیزنے وزیراعظم عمران خان کومنالیا،اطلاعات کے مطابق سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے آج عمران خان کو ٹیلی فون کرکے ان کی خیریت دریافت کی ،شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد محمد بن سلمان اورفرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا سلام بھی پہنچایا

    ذرائع کے مطابق سعودی کمیشن برائے سیاحت اور قومی ورثہ کے چیئرمین شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود نے آج وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلی فون پرگفتگو کی اوران کی خٰیریت دریافت کی

     

    https://پاکستان سعودی عرب کے تعلقات میں‌ نیا موڑ:ذمہ دارکون ؟عمران خان یا سعودی شاہی خاندان

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز نے اس موقع پرسعودی عرب اورعالم اسلام کے لیے پاکستان کی خدمات کا اعتراف کیا اوراس تعلق کوہمیشہ قائم رکھنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا

    ذرائع کے مطابق اس پر وزیر اعظم نےکہا کہ پاکستان حرمین شریفین کی عزت، حفاظت کواپنا ایمان سمجھتا ہے اوریہ فریضہ ذاتی تعلقات کا محتاج نہیں ہے ، اس موقع پرانہوں نے محمد بن سلمان اورشاہ سلمان بن عبدالعزیز کو سلام بھیجا اوران کے لیے نیک خواہشات کاآظہار بھی کیا

    گفتگو کے دوران شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز نے سلطانہ فاونڈیشن کے چیئرمین کی وفات پرگہرے دکھ کا اظہارکیا ، اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے ڈاکٹر نعیم غنی کے انتقال پر بھی اظہار تعزیت کیا اور ساری زندگی فاؤنڈیشن سے ان کی بے لوث خدمات پران کو سراہا۔

    وزیر اعظم نے پاکستان میں سلطانہ فاؤنڈیشن کے معاشرتی بہبود اور تعلیمی منصوبوں کی تعریف کی ، جن کی سرپرستی شہزادہ سلطان نے کی۔ انہوں نے فاؤنڈیشن کے انسان دوست نظریہ کی بھی تعریف کی ، جس کا مقصد معاشرے کے کمزور طبقے کی معاشرتی فلاح و بہبود ہے۔

    وزیر اعظم نے فاؤنڈیشن کے مقدس مشن کے حصول میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم اورشہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز نے دونوں ملکو‌ں کے دوران تعلقات کو مزید بہتر کرنے اورمضبوط کرنے پرزوردیا

    دوسری طرف اہم حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو قرض کے بدلے بلیک میل کرنے پرناکام ہوگیا اوروزیراعظم عمران خان کے ردعمل نے سعودی حکمرانوں کو جھنجھوڑ دیا ہے ، حالیہ فون ان تعلقات کو دوبارہ سے بہترکرنے کی ایک کوشش ہیں اورسعودی حکام اب مختلف ذرائع کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ رابطے بہتر کرنے میں کوشاں ہیں اور آج کسی سعودی شہزادے کا کسی بہانے سے فون کرنا اصل میں ان منفی احساسات کوختم کرنا ہے جو سعودی قیادت کی طرف سے پیدا کیے گئے تھے

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سعودی عرب یہ سمجھتا تھا کہ شاید پاکستان کےلیے وہ قرض کی رقم جلد واپس کرنا شاید مشکل ہوگی اوروہ اس کے بدلے پاکستان سے بہت کچھ منوا سکتا ہے لیکن سعودی عرب کی توقعات کے برعکس پاکستان نے قرضے کی جلد واپسی کا اہتمام کرکے سعودی عرب کی خواہشات پرپانی پھیر دیا اورسعودی عرب کو اس غلطی کا احساس ہوگیا ہے

  • سینیٹ الیکشن مارچ کی بجائے فروری میں:پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل گئی

    سینیٹ الیکشن مارچ کی بجائے فروری میں:پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل گئی

    اسلام آباد:سینیٹ الیکشن مارچ کی بجائے فروری میں:پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل گئی ،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے سینیٹ الیکشن آئندہ سال مارچ 2021ء کی بجائے فروری میں کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سینیٹ الیکشن فروری میں کرانے سے متعلق الیکشن کمیشن سے رجوع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔دوسری طرف حکومت کی طرف سے سینیٹ الیکشن کے شیڈول کے متعلق خبریں سن کرپی ڈی ایم کے غبارے سے ہوانکل گئی ہے

    وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے سینیٹ الیکشن فروری میں کرانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن مارچ کے بجائے فروری میں ہو سکتے ہیں۔

    ادھر ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم حکومت کے اس اقدام کے خلاف عدالت میں جانے کا پروگرام بنارہی ہے

  • چیئرمین این ڈی ایم اے تبدیل ، اگلے چیئرمین کون ہوں گے اعلان ہوگیا

    چیئرمین این ڈی ایم اے تبدیل ، اگلے چیئرمین کون ہوں گے اعلان ہوگیا

    اسلام آباد :چیئرمین این ڈی ایم اے تبدیل ، اگلے چیئرمین کون ہوں گے اعلان ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آج کابینہ کے اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے کوتبدیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نیا چیئرمین این ڈی ایم اے لگا دیا ہے

    ذرائع کے مطابق اسے پہلے آج کے وفاقی کابینہ اجلاس میں 14 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے کی تعیناتی کی منظوری دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔

    دوسری طرف اس موقع پر اٹارنی جنرل نے قانونی معاملات، وفاق کی جانب سے صوبوں کو رقوم کی فراہمی اور وسائل، احساس کفالت پر سروے اور کورونا ریلیف فنڈ پر بریفنگ دی اوراین ڈی ایم اے کے حوالے سے معاملات پراپنی رائے دی

    یاد رہے کہ اس سے پہلے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل اپنے فرائض اداکررہے تھے

  • صومالیہ نے کینیا سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کردیا

    صومالیہ نے کینیا سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کردیا

    موگادیشو:صومالیہ نے کینیا سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق صومالیہ نے کینیا سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کرکے دنیا کو ہلاکررکھ دیا ہے ،

    ادھرذرائع کے مطابق صومالی صدر محمد عبداللہ فارماجو نے سفارتی تعلقات کے منقطع کرنے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ کینیا مسلسل صومالیہ کے معاملات میں‌مداخلت کررہا تھا جو کہ نہ صرف ناقابل برداشت ہے بلکہ یہ ایک سنگین جرم بھی ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق صومالیہ نے منگل کی صبح اعلان کیا ہے کہ وہ کینیا کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کررہے ہیں ، اور ان دونوں کے مابین پائے جانے والے تنازعہ کی تازہ کاری میں اور صومالی لینڈ کے رہنما میوزک بیہی کی نیروبی کی دعوت کے بعد یہ فیصلہ کن اعلان کرکے براعظم افریقہ میں ایک نئے تنازعے کی بنیاد رکھ دی ہے

    ادھر ذرائع کے مطابق صومالی وزیر اطلاعات عثمان ڈوبے نے قومی ٹی وی پر صبح کے وقت 2 بجے کینیا سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ، اور دن کے وقت اس طرح کے اعلانات کرنے والے ممالک کی روایت کو توڑ دیا۔

    صومالی وزیر اطلاعات عثمان ڈوبے نے کہا کہ کینیا نے صومالیہ کے اندرونی معاملات میں "مسلسل مداخلت” کی ہے اور نیروبی صومالیہ کی خودمختاری کی خلاف ورزی کررہا ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے

    انہوں نے کہا کہ موگادیشو میں کینیا کے سفارتکاروں کو صومالیہ چھوڑنے میں سات دن کا وقت دیا ہے ۔

    یاد رہے کہ یہ واقعہ موگادیشو کی جانب سے صومالیہ میں کینیا کے سفیر لوکاس ٹمبو کو ملک سے بے دخل کرنے کے ایک ہفتہ بعد ہی سامنے آیا اور مداخلت کی اسی طرح کی شکایت کے بعد انھیں کینیا نے اپنے سفیر کو وطن واپس آنے کی ہدایت کی ہے

    صومالیہ نے علاقائی بلاک انٹر گورنمنٹ اتھارٹی آن ڈویلپمنٹ (آئی جی اے ڈی) کو بھی شکایت جمع کرائی تھی ، تاکہ 20 دسمبر کو ٹگرے ​​پر ہونے والے ورچوئل سمٹ کے دوران کینیا کے ساتھ ہونے والے تنازعہ کے معاملہ کو بھی شامل کرے

    یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ گھانا کے بعد ایک سال میں کینیا دوسرا ملک بن گیا ، جس کے ساتھ صومالیہ نے صومالیہ کے معاملے پر تعلقات منقطع کردیے ہیں۔