Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسرائیل کوتسلیم نہ کرنے کی پاکستان اورکشمیریوں کوسزا دے دی  گئی :اسرائیل نوازعرب سب اکٹھے ہوگئے

    اسرائیل کوتسلیم نہ کرنے کی پاکستان اورکشمیریوں کوسزا دے دی گئی :اسرائیل نوازعرب سب اکٹھے ہوگئے

    لاہور:اسرائیل کوتسلیم نہ کرنے کی سزا:عرب اوراسرائیل نوازسب اکٹھے ہوگئے،مسئلہ کشمیرپردھوکہ دے دیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کواسرائیل کوتسلیم نہ کرنے کی سزادے دی گئی ہے ، پاکستان کے خلاف اس گہری سازش میں اسرائیل نواز عرب ممالک اور دیگرعرب جو سعودی عرب کے زیراثرہیں نے مل کرکشمیریوں کو دھوکہ دے دیا

    ذرائع کے مطابق نائجیریا میں ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس سے منصوبہ بندی کے ساتھ کشمیریوں پرہونے والے مظالم کوجائز قرار دیتے ہوئے اپنے ایجنڈے سے کشمیر ایشو کونکال دیا

    ذرائع کے مطابق اس سے پہلے پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر رابطہ گروپ کے اجلاس کی درخواست کو بھی مسترد کردیا گیا۔پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کر رہے ہیں جو بدھ کے روز او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد روانہ ہوئے۔

    یہ بھی معلوم ہے کہ پاکستانی وزیرخارجہ اس موقع پرمایوس نہیں ہوئے اوراس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر اور اسلام کے خلاف نفرت کی جنگ کو دنیا کے سامنے پیش کرتے رہیں گے

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اس اجلاس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کے ساتھ اس مسئلے پرکھل کربات کررہے ہیں

    وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ "او آئی سی کے ممبر بین الاقوامی امور پر اپنے مؤقف دیں گے اور مسلم اکثریتی ممالک کے مشترکہ موقف کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔”

    ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ او آئی سی کے ممبران پہلے ہی جان چکے ہیں کہ ان کا کیا الزام ہے کہ انہوں نے کشمیر میں بھارت کی طرف سے "دہشت گردی کی لہر” کہا تھا۔ انہوں نے کہا ، "مقبوضہ علاقے میں خونریزی روکنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔”

    یاد رہےکہ اس سے پہلے شاہ محمود قریشی اسلامی تنظیم کے کردار اورسعودی عرب کی لاپرواہی پرسخت ناراض ہوگئے تھے اورسعودی عرب کوبتا دیا تھا کہ اگرسعودی عرب اپنے مسلمان بھائیوں کوہونے والی تکلیف کواپنی تکلیف نہیں سمجھے گا توپھرپاکستان اس مسئلے کو اجاگرکرنےکےلیے امت مسلمہ کا ایک اورپلیٹ فارم استعمال کرسکتا ہے

  • مستقبل کی جنگوں کے چینلجز سے نمٹنے کیلئے خود انحصاری ضروری ہے، آرمی چیف کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے دورہ پرخطاب

    مستقبل کی جنگوں کے چینلجز سے نمٹنے کیلئے خود انحصاری ضروری ہے، آرمی چیف کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے دورہ پرخطاب

    راولپنڈی: مستقبل کی جنگوں کے چینلجز سے نمٹنے کیلئے خود انحصاری ضروری ہے، آرمی چیف کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے دورہ پرخطاب،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مستقبل کی جنگوں کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے خود انحصاری، جدیدیت اور اپ گریڈیشن ضروری ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے یہ بات پاکستان آرڈیننس فیکٹری (پی او ایف) واہ کے دورہ کے موقع پر کہی۔ پی او ایف پہنچنے پر چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔

     

     

    اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو پیداواری یونٹس کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں حاصل شدہ اہداف، مستقبل کے پراجیکٹس اور جدیدیت کے حوالے سے بتایا گیا۔

    اس کے علاوہ آرمی چیف کو ادارے کی پیداواری صلاحیت اور کارکردگی جبکہ مستقبل کے منصوبوں اور ان میں لائی گئی جدت پر بھی بریف کیا گیا۔ مسلح افواج کی آپریشنل ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے حصول پر بھی بریفنگ دی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے حال ہی میں تیار کردہ نئے ڈسپلے لاؤنج کا بھی دورہ کیا۔ ڈسپلے لائونج میں واہ فیکٹری میں بننے والی مصنوعات کی نمائش کی جاتی ہے۔ سپہ سالار کو پی او ایف اسلحہ کی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے پی او ایف کے عزم اور لگن کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی او ایف مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنے میں ریڑھ کی ہڈی رکھتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کی جنگوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خود انحصاری، جدیدیت اور اپ گریڈیشن ضروری ہے۔

  • مودی آگ بگولہ،پاکستان پر 2 محاذوں پر چڑھائی کا منصوبہ،پاکستان کی بڑی کامیابی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    مودی آگ بگولہ،پاکستان پر 2 محاذوں پر چڑھائی کا منصوبہ،پاکستان کی بڑی کامیابی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    مودی آگ بگولہ،پاکستان پر 2 محاذوں پر چڑھائی کا منصوبہ،پاکستان کی بڑی کامیابی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اچھا ہمسایہ ہونا بہت بڑی نعمت ہے ۔ پاکستان اور پاکستانیوں سے زیادہ اس بارے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا ۔ کیونکہ وطن عزیز کے خلاف بھارت مسلسل سازشوں ۔ ریشہ دوانیوں اور مذموم کوششوں میں مصروف عمل ہے ۔ درحقیقت بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم ہی نہیں کیا جبکہ پاکستان کی ہر حکومت دوستی اور تعاون کی ضرورت اجاگر کرتے ہوئے اس کے لیے پوری طرح کوشاں رہی۔

    مبشر لقمان کا کہناتھا کہ وزیراعظم عمران خان نے تو اپنے برسراقتدار آنے پر یہاں تک کہا تھا کہ بھارت ہماری طرف دوستی کا ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم بڑھائیں گے۔ مگر نئی دہلی نے اس کا جواب کشمیر میں آرٹیکل
    370 اور پاکستان پر حملہ کرکے دیا ۔ بھارت نے کنٹرول لائن پر گولہ باری سے لے کر سرحدی خلاف ورزیوں تک اور نائن الیون کے بعد افغانستان کی صورتحال سے فائدہ اٹھاکر اپنے ایجنٹوں اور دہشت گردی نیٹ ورکس کے ذریعے وہ سب کیا جو بھارت سرکار کے بس میں تھا۔۔ بھارتی رویے کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر اس علاقے اور خطے کا امن تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اسی مہینے کے دوران پاکستان کی طرف سے اس باب میں شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ جو dosier جاری کیا گیا وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب منیر اکرم نے عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل کو پیش کیا ۔ اسdosier میں پاکستانی سرزمین پر کی جانے والی دہشت گردی۔ افغانستان میں بھارتی سفارتی مشنوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف تخریب کاری۔ عدم استحکام کی کارروائیوں۔ دہشت گردوں سے رابطوں اور سازشوں سے متعلق جو ثبوت دیئے گئے۔ وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ عالمی ادارہ بھارت کی امن دشمن سرگرمیوں کا سختی سے نوٹس لیں کیونکہ اقوامِ متحدہ کے کسی رکن ملک کی سرحدوں میں واقع سرزمین پر کسی دوسرے رکن ملک کے مداخلت اور تخریبی کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہیں جن پر حرکت میں آنا سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی سرزمین پردہشت گردوں اور تخریب کاروں کی سرپرستی فنڈنگ اور تیسرے ملک میں بھارتی سفارتی مشنوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف دہشت گردوں سے رابطے اور منصوبہ بندی کے بارے جو شواہد پیش کئے ہیں وہ بھارت کے لئے بھی حیرانی پریشانی اور ایک نئے چیلنج کا باعث ہیں۔اسی لئے بھارت پاکستانی ڈوزیئر کاکوئی معقول اور مدلل جواب دینے کی بجائے صرف ایک سطری مؤقف کہ یہ سب غلط اور بے بنیاد ہے۔ دیکر جواب میں پاکستان پر الزامات لگانے تک محدود ہے۔پاکستانی ڈوزیئر اصولوں، ثبوت اورحقائق کی بنیاد پر خاصاٹھوس اور بھارت کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرنے کیلئے اور پاکستان کے خلاف ازلی دشمنی ثابت کیلئے ایک موثر ڈوزیئر ہے۔ لیکن جنوبی ایشیا اور مشرقی وسطیٰ کے خطےمیں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور خلیجی ممالک کےابھرتے ہوئے اتحاد، امریکہ میں انتقال اقتدار، بھارت، امریکہ، فوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دیگر معاہدے، چین ،امریکہ کشیدگی اور پولرازیشن اورافغان صورتحال جیسے عالمی اور علاقائی زمینی حقائق کو پیش نظر رکھ کر تجزیہ کیاجائے تو بھارتی دہشت گردی کے خلاف پاکستانی ثبوتوں پر مبنی ڈوزیئر کے اثرات یہ تو ضرور ہوں گےکہ بھارتی دہشت گردی اوربھارتی امن دشمن عزائم بے نقاب ہوں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن اپنے اپنے مفادات کےتقاضوں اور مجبوری میں الجھی ہوئی عالمی برادری اور عالمی ادارے پاکستان کے ڈوزیئر اور اقوام متحدہ کےمنشور کا ساتھ دینے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتے۔اس کیلئے پاکستان کو صرف خطے کےممالک، مسلم دنیا اوریورپی ممالک میں فعال سفارتکاری اوراصولی موقف کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش تک محدود رہنے کی بجائے ان ممالک سے موثر رابطے کرنا ہوں گے۔ جو خود بھی اپنے طاقتور ۔ پڑوسی ممالک کےہاتھوں دھونس، مداخلت، عدم استحکام اوردہشت گردی کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ عالمی برادری، پاکستانی ڈوزیئر پر اصولی زبانی ہمدردی کااظہار تو کرے گی لیکن زمینی عالمی حقائق کےمطابق پاکستان، ترکی، ایران اورچین کے بلاک کی حکمت عملی سمجھتے ہوئے۔ پاکسانی ڈوزیئر کو خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک سمیت زبانی ہمدردی سے آگے جانے میں دشواریاں حائل ہوں گی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کے پاکستانی ڈوزیئر سے ہمیں سبق سیکھنا چاہئے۔ پاکستانی ڈوزیئر اقوام متحدہ کے اصولی منشور سے تو مکمل مطابقت رکھتاہے۔ لیکن علاقائی اور عالمی صورتحال کے تلخ زمینی حقائق اس کے موثر ہونے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اور یہ بھی اس حکومت کا کریڈیٹ ہے جو بھارت کو ہر سطح اور ہر پلیٹ فارم ہر ایکپسوز کر رہی ہے ۔ ورنہ اس سے پہلے کے دور میں تو ہم نے آموں کی پیٹیاں اور ساڑھیوں کو ہی آتے جاتے دیکھاہے ۔ ۔ جیسا کہ میں نے ایک روز قبل بھی بتایا تھا کہ 237ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں واضح کر دیا گیا ہے کہ منہ توڑ جواب دیا جائے اور ہر کاروائی اور ہر اقدام کا اسی ہی زبان میں جواب دیا جائے گا جو بھارت کو سمجھ آتا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ۔ یہاں یہ بھی بتا دوں کہ اب بھارت کی جانب سے false فلیگ آپریشن جیسے ڈرامے اب نہیں چلنے۔ کیونکہ اب یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا کہ بھارتی بینک خود منی لانڈرنگ terror financing
    میں ملوث ہیں ۔ پاکستان کے خلاف بھارتی دہشت گردی کا ثبوت اس سے بڑا اور کیا ہو سکتا ہے کہ خود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ جس طرح بھارت نے مشرقی پاکستان کے عوام کو حقوق دلوائے اور بنگلہ دیش بنادیا۔ بالکل اسی انداز میں اب ہم بلوچستان۔آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان کو پاکستان سے دولخت کریں گے ۔۔ اس وقت بدقسمتی سے پاکستان کے بعض طبقات بھارت کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ چاہے وہ ملک سے بھاگے صحافی ہوں یا پھر بعض ex politicians جن کے تانے بانے بھارت سے جا ملتے ہیں ۔ اور یہ کھلم کھلا اعلان کر چکے ہیں کہ گلگت بلتستان ہو یا بلوچستان یا قبائلی علاقے یا پاکستان کا معاشی hub کراچی ہر جگہ وہ بھارت کے مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ایک طرف بھارت نے پاکستان کی ورکنگ بائونڈری اورآزاد کشمیر کی کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی شروع کر دی ہے اور معصوم شہریوں کو توپوں کی گولہ باری سے شہید کیا جا رہا ہے اور افواج پاکستان کے دلیر گھبرو جوانوں اور افسروں کو بھی بلا وجہ شہید کیا جا رہا ہے۔ آپ دیکھیں اس پورے ہفتے کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزارا کہ بھارتی توپوں چپ ہوئی ہوں ۔ حقیقت میں بھارت پاکستان دشمنی میں اندھا ہوچکا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ دیکھیں بھارت کالعدم تنظیموں کی معاونت کر رہا ہے۔ بھارت کالعدم تنظیموں کا ۔۔ کنسورشیم ۔۔ بنا رہا ہے اور پاکستان مخالف قوتوں کو متحد کر کے کارروائیوں پر اکسایا جا رہا ہے۔ اب اس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہ گیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے بھارت ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت کی بی جے پی حکومت ایک فاشسٹ تنظیم آر ایس ایس کے بطن سے پیدا ہوئی ہے۔آر ایس ایس کا فلسفہ وہی ہے جو نازی جرمنی کے ہٹلر کا تھا۔ ہٹلر کو جنون تھا کہ جرمن قوم کے سامنے ساری قومیں ہیچ اور نیچ کی حیثیت رکھتی ہیں اور باقی نسلوں کو وہ جینے کے حق سے محروم کرنا چاہتا تھا جس کے لئے اس نے ہولو کاسٹ کیا اور آج بھارت بھی کشمیر میں ہولو کاسٹ کا مرتکب ہو رہا ہے اورکشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ مودی کی دیدہ دلیری کو دیکھیں کہ اس نے نئی دلی میں امریکی صدر ٹرمپ کی موجودگی میں تین راتوں تک مسلمانوں کا خون بہایااور ان کی دکانوں اور ان کے مکانوں کوآگ لگا کر خاکستر کیا۔
    میں اس لیے بار بار کہہ رہا ہوں بار بار بتا رہا ہوں ۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو ۔ مگر مجھے یوں لگتا ہے کہ مودی پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے ۔ سی پیک ان سے ہضم نہیں ہو رہا ہے ۔ مجھے بار بار یہ ہی گمان ہو رہا ہے کہ اس دفعہ مودی نے گلگت بلتستان میں ضرور کوئی شرارت کرنی ہے ۔ اس وقت بھارت جتنی تیاری کررہا ہے یہ پاکستان کے خلاف کر رہا ہے ۔ اور اس کا پلان یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک طرف پاکستان کے بڑے شہروں میں افغانستان کے ذریعے دہشتگردی کے شعلے بڑھکائے جائیں ۔ پاک افغان بارڈ پر حالات کو کشیدہ کیا جائے ۔ تاکہ پاکستانی فورسز اور حکومت مغربی بارڈر پر engageرہیں تو دوسری طرف مشرقی بارڈر پر پھر انڈیا پاکستان پر چڑھائی کرے ۔ مقصد اس سب کا یہ ہے کہ پاکستان کو دو محاذوں پر مصروف کیا جائے ۔ اور زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے ۔ پر ایسی بھی بات نہیں ہے کہ ہماری افواج نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ۔ اس وقت پاکستان کو یقیناً معاشی مشکلات کا سامنا ہے ۔ مگر ہم ایسے بھی کمزور نہیں کہ بھارت کو اسکی زبان میں جواب نہ دے سکیں ۔ اور آپ دیکھے گا جب ایک دفعہ یہ معرکہ لگنا ہے تو بھارت نے بالکل ایسا ہی ذلیل ورسوا ہونا ہے جیسے 27فروری
    2019کو ہوا تھا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت درحقیقت ایک جنونی انتہاء پسند اور دہشت گرد ریاست ہے جس کے حکمران دہشت گردی کے ذریعے ہی اکھنڈ بھارت والے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں۔ ۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اگر پاکستان نے اس بھارتی بدنیتی کو بھانپ کر خود کو ایٹمی قوت سے سرفراز نہ کیا ہوتا تو پاکستان کو دولخت کرنے کے بعد وہ باقی ماندہ پاکستان کو بھی کب کا ہڑپ کر چکا ہوتا۔ اگرآپ حالات کا حقیقتاً موازنہ کریں تو پاکستان کی معاشی بدحالی کے پیچھے بھی بھارت کارفرما ہے ۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں پھسانے والا بھی بھارت ہے ۔ پاکستان پر آبی جارحیت مسلط کرنے والا بھی بھارت ہے ۔ پاکستان کے اندر اور باہر دہشت گردی کی کاروائیاں کروانے والا بھی بھارت ہے ۔ اس صورتحال میں پاکستان کیخلاف بھارتی مہم جوئی دور نہیں ۔ اس لئے عالمی قیادتوں اور عالمی اداروں کو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی محفوظ کرنے کیلئے اب بھارتی ہاتھ روکنے کی ٹھوس حکمت عملی طے کرنا ہوگی۔ کیونکہ پاکستان نے بہرصورت اپنی سلامتی کا تحفظ کرنا ہے جس کیلئے وہ اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی بروئے کار لانے سمیت کوئی بھی قدم اٹھانے میں حق بجانب ہوگا۔ پاکستان دشمنی پر مبنی بھارت کی مذموم کوششیں پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہیں اس کے باوجود سلامتی کونسل سمیت کسی بھی عالمی ادارے نے بھارت کیخلاف کوئی اقدام نہیں کیا جس سے بھارت کو مزید شہ ملتی ہے۔ اور آپ دیکھے گا یہ ہی شہ کسی دن اس خطے میں بہت بڑی جنگ کا سبب بنے گی ۔ الحمد اللہ کل گوادر مکمل طور پر آپریشنل ہوگیا ہے ۔ اور پہلا فلیٹ دو سو ٹن مچھلی لے کر آیا ہے ۔ جو یقینا پاکستانیوں ، چین اور اس خطے کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے ۔ پر اب ہم کو مزید چوکنا اور ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سی پیک اور گوادر بھارت کی آنکھ کا سب سے بڑا کانٹا ہے ۔ ۔ چینی ترجمان نے اسی تناظر میں باور کرایا ہے کہ سی پیک کو ناکام بنانے کی کوششیں کرنیوالے مایوس ہونگے۔ پاکستان اور چین یقیناً بھارت کے مائنڈسیٹ سے آگاہ ہیں ۔ آپ بھارت کی دوسرے ممالک کے خلا ف شرارتوں کو چھوڑیں صرف بھارت کے اندر جو کچھ ہورہا ہے، وہ بھی بھارتی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو اس پر عالمی پابندیاں لگانے کیلئے کافی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں پر ظلم تو اب عالمی میڈیا کے لیے عام سی خبر ہوچکی ہے ۔ بھارت میں انسانیت کیخلاف منظم جرائم کا سلسلہ جاری ہے۔ گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہولی ہو یا دہلی فسادات یا پھر بابری مسجد کو گرانا اور اسکی جگہ مندر تعمیر کرنا۔ یہ سب اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ بھارت کو عالمی دہشت گرد ملک قرار دیکر اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کرکے اسے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا جائے ۔تاکہ وہ بدمست ہاتھی کی طرح اس خطے کے امن و تہہ و بالا نہ کرے۔

  • گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کون ہوں گے؟ فیصلہ ہوگیا

    گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کون ہوں گے؟ فیصلہ ہوگیا

    گلگت :گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کون ہوں گے فیصلہ ہوگیا گلگت بلتستان کے ممکنہ وزیراعلیٰ،اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کے ویسے تو بہت سے امیدوارسامنے آرہے تھے تاہم اب معتبرذرائع کا کہنا ہےکہ ہوسکتا ہےکہ یہ قرعہ ایک اہم شخصیت کے نام نکل آیا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق پچھلے تین چاردن سے گلگت بلتستان کی اسمبلی کے لیے منتخب ہونےو الے پی ٹی آئی کے اہم رہنما ہیں ، ادھر ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کے لیے 5 سے 6 اہم شخصیات اس عہدے کے لیے امیدوار تھے

     

    لیکن اس سقوط کوتوڑتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے خالد خورشید کی وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی حیثیت سے منظوری دے دی ہے

     

     

    ادھر ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے چیف آرگنائزرسیف اللہ خان نیازی نے ٹویٹ کے ذریعے گلگت بلتستان کی عوام کوخوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نے گلگت بلتستان کی عوام کے وسیع ترمفاد کے لیے خالد خورشید ایڈووکیٹ کو یہ ذمہ داری سونپی ہے

  • وزیر اعظم سے صنعتکاروں کے وفد کی ملاقات،وزیراعظم نے دیں اہم ہدایات

    وزیر اعظم سے صنعتکاروں کے وفد کی ملاقات،وزیراعظم نے دیں اہم ہدایات

    وزیر اعظم عمران خان سے صنعت کاروں پر مشتمل وفد کی ملاقات
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے صنعت کاروں پر مشتمل وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے والے وفد میں اعظم فاروق، بشیر علی محمد، ثاقب شیرازی، فواد مختار، عارف حبیب شامل تھے ،ملاقات میں حماد اظہر، مشیر تجارت ،حفیظ شیخ اور عشرت حسین سمیت سرکاری حکام موجود تھے

    وفد نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کو میسرحکومتی سرپرستی کے مثبت نتائج آنا شروع ہو چکے ہیں، اس وقت سیمنٹ کی کھپت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے،تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے

    وزیر اعظم نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کے حکومت کاروباری طبقے اور صنعتکاروں کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے پر عزم ہے اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات لے رہی ہے۔حکومت کا کام صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کیلئے آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرنا ہے ،حکومتی فیصلہ سازی کے عمل میں صنعت کاروں کی تجاویز کو شامل کیا جا رہا ہے،

    وزیر اعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ملکی صنعت کے فروغ سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور برآمدات سے زر مبادلہ حاصل ہوگا جو فلاح عامہ کے منصوبوں پر خرچ ہو سکیں گے۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جو ملک سرمایہ کار اور صنعت کار کو سہولیات مہیا کرتے ہیں، وہی ملک ترقی کرتے ہیں۔

    وزیر اعظم نے صنعتکاروں کو ایکسپورٹس میں پیش آنے والے مشکلات کو جلد حل کرنے کی ہدایت کی،وزیر اعظم نے صنعتکاروں سے زراعت کے شعبے میں جدت لانے کیلئے تجاویزطلب کرلی ،وزیر اعظم نے وفد کی طرف سے دی گئی تجاویز پر متعلقہ وزارتوں اور آیف بی آر کو ہدایات جاری کیں۔

  • جنرل ندیم رضا کا تاجکستان کا دورہ ، صدر سمیت  دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں

    جنرل ندیم رضا کا تاجکستان کا دورہ ، صدر سمیت دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں

    جنرل ندیم رضا کا تاجکستان کا دورہ صدر سمیت دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں

    باغی ٹی وی : چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سمیت دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں سیکورٹی تعاون، دو طرفہ افواج کے مابین تعلقات کو وسعت دینے کیلئے عملی اقدامات پر زور دیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا تاجکستان کے سرکاری دورے پر ہیں جہاں انہوں نے دوشنبے میں تاجک صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی، جس میں انسداد دہشتگردی، سیکیورٹی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا تاجک وزیر دفاع، وزیر داخلہ اور تاجک سٹیٹ کمیٹی برائے قومی سلامتی کے چیئرمین سے ملاقاتیں کیں، جن میں دو طرفہ افواج کے مابین تعاون، تعلقات میں وسعت کیلئے عملی اقدامات پر زور دیا گیا۔ ملاقاتوں میں افغانستان کے تناظر میں خطے کے ماحول کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    ملاقات کے دوران ، دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی اور دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں بشمول سلامتی ، انسداد دہشت گردی اور موجودہ علاقائی ماحول خصوصا افغانستان کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین فوجی مصروفیات کی سطح اور دائرہ کار کو بڑھانے کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور گہرے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے اس بات کی تصدیق کی۔

    چیئرمین چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے کہا کہ پاکستان اپنی موجودہ دوطرفہ فوج کو تاجکستان کے ساتھ فوجی تعاون میں وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ معززین نے پاکستان آرمڈ فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا۔

  • بختاور کی منگنی، تیاریاں مکمل،آصف زرداری کی شرکت ہو گی یا نہیں؟ ایک اور پی پی رہنما کا بھی شرکت سے انکار

    بختاور کی منگنی، تیاریاں مکمل،آصف زرداری کی شرکت ہو گی یا نہیں؟ ایک اور پی پی رہنما کا بھی شرکت سے انکار

    بختاور کی منگنی، تیاریاں مکمل،آصف زرداری کی شرکت ہو گی یا نہیں؟ ایک اور پی پی رہنما کا بھی شرکت سے انکار
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی بیٹی بختاور کی آج منگنی کی تقریب ہونی ہے

    پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بختاور کی منگنی کی تقریب تقریباً گھرکے لوگوں تک ہی محدود ہوگئی ہے، منگنی میں بلاول کی شرکت کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتی ،بلاول ڈاکٹرز کی ہدایت کےمطابق ہی تقریب میں شرکت کریں گے،آصف زردراری کی طبیعت کافی خراب تھی، لیکن اب بہتر ہے ،

    شہلا رضا کا مزید کہنا تھا کہ ممکن ہے آصف زرداری کچھ دیر کیلیے بختاورکی منگنی میں شرکت کریں گے، بختاور کو سیاست میں دلچسپی نہیں ہے، گھریلو معاملات میں دلچسپی رکھتی ہیں،شہلا رضا کا مزید کہنا تھا کہ میں منگنی کی تقریب میں شرکت نہیں کروں گی،

    بختاور کی منگنی کی تقریب بلاول ہاﺅس کراچی میں منعقد ہو گی جس میں شرکت کرنے والوں کیلئے کورونا کا منفی رپورٹ ہونا لازم قرار دیا گیا ہے، بختاور بھٹو زرداری کی منگنی کی تقریب کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ تقریب جمعہ کو بلاول ہاوس کے اوپن ایریا میں ہوگی جس میں آصفہ، بختاور کی سہیلیاں اور خاندان کے قریبی افراد شریک ہوں گے

    سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی بختاور کی منگنی متحدہ عرب امارات میں مقیم لاہور کے کاروباری خاندان کے ممبر چوہدری محمود کے ساتھ آج بلاول ہاؤس کراچی میں ہو رہی ہے۔

    بختاور کی منگنی کل، دولہا اور خاندان والے کہاں پہنچ گئے؟

    بھٹو خاندان میں بڑے عرصے بعد خوشیاں، بختاور کی منگی طے

    بختاور کی سالگرہ پر بلاول زرداری نے کیا دیا پیغام؟ جیالے ہو گئے حیران

    بلاول ہاؤس میں رقص کی ویڈیوز، بختاور زرداری خود میدان میں آگئیں، کیا کہہ دیا

    بختاور بھٹو منگنی کی تقریب میں کونسا لباس پہنیں گی؟آصفہ بھٹوپریشان

    بختاور کی منگنی کی تقریب:بلاول بھٹوکی ورچوئل شرکت ،اورکون کون شریک ہوگا آج پتہ چل جائے گا

    تقریب کے دعوت نامے قریب تین سو قریبی خاندانی اور سیاسی شخصیات کو جاری کیے گئے ہیں جن میں آنے والوں سے اپنے تازہ کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ ہمراہ لانے کی درخواست کی گئی ہے۔بلاول ہاؤس کے ترجمان کے مطابق چوہدری محمود کے خاندان کے افراد پہلے ہی بلاول ہاؤس پہنچ چکے ہیں۔

    کورونا وبا کے باعث تقریب کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ مہمانوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ کورونا کی پی سی آر ٹیسٹ رپورٹ ہمراہ لائیں اور ماسک پہنیں جبکہ بیٹھنے کے انتظامات میں بھی سماجی فاصلے کے اصولوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ تقریب کھلے آسمان تلے لان میں ہو گی اور وہیں مہمانوں کو رات کا کھانا پیش کیا جائے گا۔

  • شہداء سلالہ ،سب بھول گئے، نویں برسی خاموشی سے گزر گئی،لمحہ فکریہ

    شہداء سلالہ ،سب بھول گئے، نویں برسی خاموشی سے گزر گئی،لمحہ فکریہ

    شہداء سلالہ ،سب بھول گئے، نویں برسی خاموشی سے گزر گئی،لمحہ فکریہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپنے شہداء کو نہ بھولنے والی قوم شہداء سلالہ کو بھول گئی، سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کو نو برس بیت گئے، کسی تنظیم یا ادارے نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا کوئی بیان دیا نہ کوئی تقریب ہوئی ، سلالہ شہدا کا یوم شہادت خاموشی سے گذر گیا،

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کئی اجلاس ہوئے،مولانا فضل الرحمان نے لاڑکانہ میں جلسہ کیا، ن لیگ کے لاہو رمیں اجلاس ہوئے ،حکمران جماعت سمیت کسی بھی سیاسی جماعت نے شہداء سلالہ کو یاد نہیں کیا،

    پاکستان میں مختلف این جی اوز،اداراے مختلف ایام مناتے ہیں ،خواتین پر تشدد کا دن تو ہر سال منانا یاد رہتا ہے،ملالہ پر حملے سے تو ساری دنیا نے اسے مظلوم بنا دیا،ماؤں کا عالمی دن منایا جا سکتا ہے،اساتذہ کا بھی منایا جا سکتا ہے،مزدور ڈے پر بھی لوگ نکلتے ہیں،غرضیکہ کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جسدن کوئی عالمی دن نہ منایا جائے۔لیکن اس وطن کے لئے قربانیاں دینے والوں کے لئے ،اس ملک پر اپنی جان نچھاور کرنے والوں کے لئے،پاکستان کی حفاظت کے لئے ہر وقت دشمن سے مقابلہ کے لئے تیار رہنے والوں کو ہم کیوں بھول جاتے ہیں؟

    بھارتی آرمی چیف کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب،بھارت نے کی راہ فرار اختیار

    بھارت کی ایک اور جھوٹی کہانی بے نقاب، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی باغی ٹی وی کی خبر کی تصدیق

    بھارت ایک اور ڈرامہ رچانے میں مصروف، 26/11 طرز کے حملے کا الرٹ جاری

    ہمیں وہ عظیم لوگ کیوں یاد نہیں رہتے جنہوں نے اس ملک کی حفاظت کے لئے اپنا خون دیا۔جو خود تو کٹ گئے مگر اس ملک پر آنچ نہیں دی،جو امریکی گولوں کا نشانہ بنے۔ ان آٹھ برسوں میں کوئی ایک ایسی این جی او نظر نہیں آتی جس نے اس ملک کے لئے سلالہ چیک پوسٹ پر قربان ہونے والے کے گھروں میں جا کر انکے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہو؟انکے دکھوں کا مداوا کیا ہو؟کوئی نہیں ملے گا،انڈین فلموں میں کام کرنے والے اداکاروں کے نام تو ہمارے ہر نوجوان کو یاد ہوں گے مگر وطن عزیز کے لئے قربانیاں دینے والوں کے نام نہیں،

    واضح رہے کہ مہمند ایجنسی کی تحصیل بازئی میں قائم پاکستان فوج کی چیک پوسٹ سلالہ پر نیٹو حملے کے نوسال مکمل ہوگئے ، 2011 میں نیٹو افواج کے ہیلی کاپٹروں نے پاک افغان بارڈر پر قائم پاکستانی چیک پوسٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں میجر مجاہد، کیپٹن عثمان سمیت 24اہل کاروں نے جام شہادت نوش کیا تھا اور 12فوجی زخمی ہوئے تھے

    باغی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے متحدہ جمعیت اہلحدیث کے رہنما شیخ نعیم بادشاہ کا کہنا تھا کہ ملک کا دفاع اور نیٹو فورسز کی دہشت گردی روکنے کیلئے عملی اقدامات نہیں کئے گئے جس کے باعث پاکستان کی مشکلات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا، سلالہ حملہ محب وطن حلقوں کی یادوں سے محو نہیں ہو سکتا نہ ہی زندہ قومیں قومی سانحات کو نظرانداز کرتی ہیں۔ افسوس کہ ہم اپنے شہدا کو بھول گئے،

  • یہ یہودی ایجنٹ، اٹھا کر باہر پھینکیں گے،غلام بن کر نہیں رہ سکتے، مولانا فضل الرحمان کا لاڑکانہ میں جلسہ

    یہ یہودی ایجنٹ، اٹھا کر باہر پھینکیں گے،غلام بن کر نہیں رہ سکتے، مولانا فضل الرحمان کا لاڑکانہ میں جلسہ

    یہ یہودی ایجنٹ، اب اٹھا کر باہر پھینکیں گے،غلام بن کر نہیں رہ سکتے، مولانا فضل الرحمان کا لاڑکانہ میں جلسہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے لاڑکانہ مین جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نااہلوں کیخلاف بغاوت فریضہ ہے، اس جہاد سے پیچھے ہٹنا گناہ سمجھتے ہیں،

    جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان نے لاڑکانہ میں شہید اسلام کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام جماعتیں اس حکومت کے خاتمے پر متفق ہیں۔ جلسہ میں جے یو آئی کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی، جلسہ سے دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اپنی سرزمین پہ غلام بن کر رہنے کیلئے پیدا نہیں ہوئے ہم اس ریاست کے آزاد شہری ہیں اور آپ اس ریاست کے ملازم ہیں حقِ حکمرانی کا حق صرف اور صرف اس ریاست کی عوام کے پاس ہے

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں،ہم نے تو پہلےہی کہا تھا کہ یہ یہودی ایجنٹ ہے ،وہ کہتا ہے کہ ہم پر دوستوں کا دباؤ ہے، پاکستان امت مسلمہ کی قیادت کر سکتا ہے لیکن یہ کہتے ہیں دباؤ ہے، سعودی عرب آپ سے ناراض، عرب امارات ناراض اور پھر کہتے ہیں دباؤ ڈالتے ہیں، چین آپ سے ناراض ہو گیا ہے، انڈیا پہلے سے آپکا دشمن ہے، افغانستان اسوقت انڈیا کے کیمپ میں ہے اور ایران بھی انڈیا کے کیمپ میں، خطے میں تم تنہا ہو،بنگلہ دیش ترقی کر رہا ہے، سری لنکا، نیپال،افغانستان،ایران ترقی کر رہے ہیں لیکن پاکستان معاشی انحطاط کا شکار ہے،

    جلسہ گاہ میں گو نیازی کے نعرے بھی لگائے گئے جس پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اب جانے کی درخواست نہیں ہو گی بلکہ اٹھا کر باہر ہھینکیں گے

  • وزیراعظم کی زیرصدارت کراچی ٹرانسفرمیشن پلان اجلاس،آرمی چیف بھی شریک،اہم فیصلے

    وزیراعظم کی زیرصدارت کراچی ٹرانسفرمیشن پلان اجلاس،آرمی چیف بھی شریک،اہم فیصلے

    اسلام آباد :وزیراعظم کی زیرصدارت کراچی ٹرانسفرمیشن پلان اجلاس،آرمی چیف بھی شریک،اہم فیصلے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی کےمسائل کامستقل بنیادوں پرحل ناگزیر ہے مون سون میں کراچی میں نقصانات کاسبب نالوں پرتعمیرات ہیں تجاوزات ہٹانے سےپہلےمکینوں کیلئے انتظامات کیےجائیں۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت کراچی ٹرانسفرمیشن پلان سے متعلق اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سمیت وفاقی وزراء شیخ رشید، اسدعمر، فیصل واوڈا، مشیر خزانہ حفیظ شیخ و دیگر نے شرکت کی۔یہ بھی معلوم ہوا کے کہ اس اجلاس میں متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران کو بھی دعوت دی گئی تھی

    ذرائع کے حوالے سے معلوم ہوا کہ اس اہم اجلاس میں کراچی ٹرانسفرمیشن پلان کےتحت 100 سے زائد پراجیکٹس کی منصوبہ بندی پر غور کیا گیا اور بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے1.117ٹریلین روپےکی لاگت سےمکمل ہوں گے، منصوبوں کو تکمیلی مراحل کےاعتبار سے 3 حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔اجلاس کومنصوبوں پر اب تک کی پیشرفت سےبھی آگاہ کیاگیا۔

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کراچی کےمسائل کامستقل بنیادوں پرحل ناگزیر ہے مون سون میں کراچی میں نقصانات کاسبب نالوں پرتعمیرات ہیں کراچی میں تجاوزات ہٹانے سےپہلےمکینوں کیلئےانتظامات کیےجائیں۔

    وزیر اعظم نے کراچی کو پانی فراہم کرنے کے کے فور منصوبے کی استعداد اور افادیت بڑھانے کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنے کیلئے وزارتِ منصوبہ بندی کے تحت تکنیکی کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت کی.