Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سمیت 6 میجر جنرلز کی  ترقی

    سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سمیت 6 میجر جنرلز کی ترقی

    سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سمیت 6 میجر جنرلز کی ترقی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 6 میجر جنرلز کی لیفٹیننٹ جنرلز کے عہدوں پر ترقی دی گئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ترقی پانے والوں میں میجر جنرل اختر نواز، میجر جنرل سردار حسن اظہر شامل ہیں،

    ڈی جی آئی ایس پی‌آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں پر ترقی پانے والوں میں میجر جنرل آصف غفور بھی شامل ہیں ،اس کے علاوہ ترقی پانے والوں میں میجر جنرل سلمان فیاض غنی، میجر جنرل سرفراز علی اور میجر جنرل محمد علی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ میجر جنرل آصف غفورڈی جی آئی ایس پی آر بھی رہ چکے ہین,جب آئی ایس پی آر سے انکا تبادلہ ہوا تھا تو میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ الحمداللہ،جن کے ساتھ رابطہ رہا سب کا شکریہ،تمام پاکستانیوں کی محبت اورحمایت کاتہہ دل سے مشکورہوں،نئے ڈی جی آئی ایس پی آر کی کامیابی کےلیے نیک خواہشات کااظہارکرتاہوں،

    میجر جنرل آصف غفور کو جی او سی 40 ڈویژن (اوکاڑہ) مقرر کیا گیا تھا، میجرجنرل آصف غفور کا بطور ڈی جی آئی ایس پی آر سفر پاکستان کی تاریخ کا ایک بہترین دور رہا جس میں پاکستان نے بہترین سائبر وار لڑی اور اس میں میں بھارت کو شکست دی

    بھارت نے پاکستانی فوج کے شبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی بہترین کارکردگی کا اعتراف کیا تھا۔بھارتی سائبر سیکیورٹی کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل ر راجیش پنت نے کہا ہے کہ بھارت میں بھی آئی ایس پی آر کی طرز کا ادارہ قائم کیا جائے۔بھارتی سائبر سیکیورٹی کوآرڈینیٹر نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کی طرح تینوں بھارتی افواج کا ایک ترجمان ادارہ بنایا جائے۔

    لیفٹیننٹ جنرل ر راجیش پنت کا کہنا ہے کہ تینوں بھارتی افواج کے اپنے اپنے تعلقات عامہ کے شعبے ہیں جو مخالف سمت میں چل رہے ہیں۔ جدید جنگی حکمتِ عملی میں آئی ایس پی آر کی طرح ایک متفقہ بیانیئے کی ضرورت ہے۔
    بھارتی میڈیا کےمطابق بھارت کی نیشنل سائبر سیکورٹی کے کوآرڈی نیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) راجیش پنت نے وارفیئر بیانیے سے متعلق پاک فوج کے ڈی جی آئی ایس پی آرکی کارکردگی کو موثر قرار دیتے ہوئے اپنی تینوں افواج کے لئے مشترکہ ترجمان لانے کی تجویز دے دی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری تینوں مسلح افواج کے الگ الگ ترجمان ہیں اور’’وہ مختلف سمت جارہے ہیں

  • مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے

    مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے

    مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے
    مقبوضہ کشمیر میں1989سے اب تک گیارہ ہزار خواتین کی بے حرمتی کی گئی
    آسیہ اندرا بی سمیت متعدد خواتین غیر قانونی طورپر جیلوں میں نظربند ہیں

    25نومبر کو دنیا بھر میں خواتین پرتشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔مقبوضہ کشمیرمیں کشمیر ی خواتین بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروںکی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں ۔

    ساؤتھ ایشین وائر نے اس دن کے حوالے سے جاری کردہ اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میںجنوری 1989ء سے اب تک بھارتی فوجیوں نے 2201خواتین کو شہید کیا ۔بھارتی فوجیوں نے جنوری 2001سے اب تک کم سے کم700خواتین کو شہید کیا۔

    1989 میں علیحدگی پسندجدوجہد شروع ہونے کے بعد سے کشمیر میں خواتین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی ، تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، معذور اور قتل کیا گیا۔ کشمیری خواتین دنیا میں بدترین جنسی تشدد کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 9فیصد کشمیری خواتین جنسی استحصال کا شکار ہوئی ہیں۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ سعودی عرب کیا تبدیلی لائے گا؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو تسلیم….چیئرمین سینیٹ نے سعودی سفیر سے ملاقات میں بڑا دعویٰ کر دیا

    ٹرمپ بضد، محمد بن سلمان سخت پریشان،سعودی عرب کا بڑا اعلان، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    شاہ محمود قریشی چین کیوں گئے؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    چین سے شاندار خبریں،تمام پروٹوکول ٹوٹ گئے،تاریخی معاہدے تیار، اندر کی کہانی، مبشر لقمان کی زبانی

    سرد جنگ کا خوفناک کھیل،پاکستان اہم ،امریکی پریشان ،ایران تگڑا اوراسرائیل میدان میں ، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ 1989ء سے اب تک 22ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے 11,142خواتین کی بے حرمتی کی جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والے خواتین بھی شامل ہیں۔بھارتی فوج کی چوتھی اجپوتانہ رائفلز کے جوانوں نے 23 فروری 1991 کو جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ایک گاؤں کنن پوش پورہ میں سرچ آپریشن شروع کیا ۔جس کے بعد 23 خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق خواتین کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ شوپیاں میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی دو خواتین بھی اس میں شامل ہیں۔ایک نیوز ویب سائٹ القمر کے مطابق بھارتی پولیس کے اہلکاروں نے گزشتہ سال کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کو اغواء اور بے حرمتی کرنے کے بعد قتل کردیا تھا ۔

    خواتین مزاحمتی رہنماوں ، آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت آدھی درجن سے زیادہ خواتین گذشتہ چار سالوں سے بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں غیر قانونی نظربند ہیں جبکہ انشا طارق جان ، حنا بشیر بیگ ، حسینہ بیگم اور نسیمہ بانو۔ ، ایک شہید توصیف احمد شیخ کی والدہ ، مختلف جیلوں میں بند ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے وبائی مرض کی وجہ سے ان کی فیملی اپنی بیٹیوں کی خیریت سے پریشان ہیں۔گزشتہ سال ڈوڈا میں ، ایک 90 سالہ غلام محمد بٹ گذشتہ سال اس کی بیٹی کے ساتھ دیکھنے کی خواہش کے ساتھ فوت ہوگیا تھا ، جسے فوجیوں نے جون 2000 میں دو خصوصی پولیس افسروں کی مدد سے اغوا کیا تھا۔ ۔

    ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج خواتین کی عصمت دری کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ پورٹ کے مطابق زیادتی کے بیشتر واقعات محاصرے اور تلاشی کے آپریشنز کے دوران پیش آئے ۔ ایچ آر ڈبلیو کی ایک اوررپورٹ کے مطابق ، کشمیر میں سکیورٹی اہلکاروں نے عصمت دری کو انسداد بغاوت کے حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ میں ایک اسکالر انجر سکجلس بائیک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں عصمت دری کا انداز یہ ہے کہ جب فوجی سویلین رہائش گاہوں میں داخل ہوتے ہیں تو وہ عورتوں سے زیادتی سے قبل مردوں کو مار ڈال دیتے ہیں یا بے دخل کردیتے ہیں۔ ایک اور اسکالر شبھ متھور نے عصمت دری کو "کشمیر میں بھارتی فوجی حکمت عملی کا ایک لازمی عنصر” قرار دیا ہے۔

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    ایک استاد اور سکالرسیما قاضی کا کہنا ہے کہ کشمیر میں عصمت دری "جنگ کا ثقافتی ہتھیار” ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ عصمت دری کا استعمال کشمیریوں کے خلاف مزاحمت کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے کیا جاتا ہے اور فوجیوں کے اعتراف کے ایسے دستاویزی ثبوت بھی سامنے آئے ہیں جن میںاعتراف کیا گیا ہے کہ انہیں کشمیری خواتین پرزیادتی کا حکم دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے بارے میں 52 ویں اقوام متحدہ کے کمیشن میں ، پروفیسر ولیم بیکر نے گواہی دی کہ کشمیر میں عصمت دری محض غیر طے شدہ فوجیوں پر مشتمل الگ تھلگ واقعات کا معاملہ نہیں ، بلکہ سیکیورٹی فورسز کشمیری آبادی پر عصمت دری کو خوفناک اورسرگرم انداز میں ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

    فوجیوں کے کچھ انٹرویو زکے دوران اس سوال پرکہ انہوں نے مقامی کشمیری خواتین سے زیادتی کیوں کی ، کچھ نے جواب دیا کہ کشمیری خواتین خوبصورت ہیں۔ دوسروں نے کہا کہ یہ غیر فیملی اسٹیشن ہے۔ ایک سپاہی نے جواب دیا کہ اس نے بدلے میںایک کشمیری خاتون کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ "ان کے مردوں نے اس کی برادری کی خواتین کے ساتھ بالکل ایسا ہی سلوک کیا”۔

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ 8جولائی 2016کو کشمیری نوجوان برہان وانی کے قتل کے بعد سے سینکڑوں کشمیری نوجوان اور طلبہ اور طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے گولیوں اورپیلٹ گنزکے استعمال سے زخمی ہو چکے ہیں ۔ ان زخمیوں میں سے انشاء مشتاق اورافراء شکور سمیت کم سے کم 70بچے اور بچیاں بینائی کھو چکے ہیں جبکہ 18ماہ کی شیر خوار بچی حبہ نثار اور 32سالہ نصرت جان کی بینائی جزوی طورپر متاثر ہوئی ۔ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کشمیریوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ جن کے عزیز اور رشتہ دار لاپتہ ہیں

  • بھارتی دہشت گردی کے ثبوت پاکستان نے اقوام متحدہ میں کیے پیش

    بھارتی دہشت گردی کے ثبوت پاکستان نے اقوام متحدہ میں کیے پیش

    باغخ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سفارتی محاذ پر بھارتی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے کے لیے متحرک ہے

    پاکستان بھارتی ریاستی دہشتگردی کو اقوام عالم کے سامنے لے آیا، پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے یو این سیکریٹری جنرل کو ڈوزئیر پیش کر دیا۔ انتونیو گو ترس نے رپورٹ کا بغور جائزہ لینے کی یقین دہانی کرا دی۔

    اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر منیر اکرم نے انتونیو گوترس سے ملاقات کی اور یو این سیکریٹری جنرل کو پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے خلاف ڈوزئیر پیش کیے۔ اس موقع پر منیر اکرم نے موقف اختیار کیا کہ بھارت ایل او سی پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی، پاکستان میں دہشت گردی کرانے اور سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بھارتی دہشتگردی یو این چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے، پاکستان کسی بھی جارحیت کی صورت میں دفاع کا حق رکھتا ہے۔

    بھارت کے پاکستان کے خلاف مذموم منصوبے، شاہ محمود قریشی نے مودی سرکار کو کیا بے نقاب

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاکستان نے بھارت کو کشمیر میں حملے کی منصوبہ بندی کی دی اطلاع…اورپھر ہو گیا حملہ

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    کرونا لاک ڈاؤن،دنیا والو…اب کشمیریوں کی تکالیف کا اندازہ ہو گیا ہو گا. وزیراعظم

    منیر اکرم کا کہنا تھا کہ بھارت کے دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے کے ٹھوس شواہد پر مشتمل ڈوزئیر بھی پیش کر چکے ہیں، مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے او آئی سی کی بہت سی قراردادیں موجود ہیں، انہیں کشمیر کی تازہ صورتحال سے آگاہ کرنا میرے فرائض میں شامل ہے۔

  • پاکستان اوراسرائیل کے درمیان تعلقات سے متعلق مبشرلقمان کے انکشافات،حقائق خود بتارہے ہیں‌

    پاکستان اوراسرائیل کے درمیان تعلقات سے متعلق مبشرلقمان کے انکشافات،حقائق خود بتارہے ہیں‌

    کولاہور:پاکستان اوراسرائیل کے درمیان تعلقات سے متعلق مبشرلقمان کا انکشاف،ابھی توبہت کچھ باقی ہے،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان میں چند مخصوص لوگ سنیئرتجزیہ نگارمبشرلقمان کی اسرائیل کے حوالے سے گفتگوکوجوازبناکرمختلف قسم کی قیاس آرائیاں کررہے ہیں ،

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ قیاس آرائیاں محض اختلاف برائے اختلاف کی شکل لگتی ہیں‌، اصل جوایشویہ ہے کہ کیا پاکستان اوراسرائیل کےدرمیان تعلقات کی بحالی کے حوالے سے بڑی قوتوں کی طرف سے یہ کوششیں پہلی بار ہیں تواس کا جواب یہ ہے کہ نہیں یہ شروع دن سے سلسلہ چلا آرہا ہے

     

    دوسری طرف اس وقت ٹویٹرپربھی ایک ٹرینڈ چلایا جارہا ہےکہ اسرائیل کو”#StopNormalizingIsrael” تسلیم نہ کیا جائے توا سکے بارے میں یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان نے اس وقت اسرائیل کوتسلیم نہیں کیا جب پاکستان بہت کمزورملک تھا اب توپاکستان ایک ایٹمی پاورہے اب یہ کیسے ہوسکتا ہے

    پچھلی تین دہائیوں میں اس کے حوالے سے بہت پیش رفت ہوئی ہے ، جس کے بارے میں عالمی میڈیا بھی گواہ ہےاوراسرائیلی میڈیا بھی تصدیق کرتا ہے

    پاکستان اوراسرائیل کے درمیان تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے کسن نے کب کوشش کی اس کے بارے میں بہت جلد ساری معلومات قارئین تک پہنچا دی جائٰیں گی

  • مودی ایک موذی انسان، بھارت نے ایک بار پھر حدیں پھلانگ دیں، مبشر لقمان برس پڑے

    مودی ایک موذی انسان، بھارت نے ایک بار پھر حدیں پھلانگ دیں، مبشر لقمان برس پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارتی فوج نے ایک بار پھر جنگ بندی معاہدے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر ایک شادی کی تقریب پر راکٹ برسا دیے ہیں ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارتی افواج نے لائن آف کنٹرول پر پرامن آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔ اس طرح کے واقعات ہر دوسرے روز ہوتے ہیں۔ متعدد بار گھروں میں کام کرتی خواتین ۔ بچے اور مویشی بھارتی گولہ باری کا ہدف بنے ہیں ۔ مکانات کو نقصان پہنچنا تو معمول کا واقعہ بن کر رہ گیا ہے۔ زیادہ دور کی بات نہیں پچھلے ہفتے بھارتی فوج نے ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پاک فوج کا جوان اور چار شہری شہید ہو گئے تھے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس سال بھارت کی طرف سے ایل او سی پر فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات کی تعداد تین ہزار کے لگ بھگ ہو چکی ہے۔ ناگزیر حالات میں پاکستان اس طرح کے حملوں کا بھر پور جواب دیتا ہے لیکن اس سلسلے میں یہ اطمینان کیا جاتا ہے کہ فائرنگ صرف فوجی اہداف پر ہو۔ سویلین املاک اور شہری اس کی زد میں نہ آئیں۔ دوسری طرف بھارتی افواج ہیں ۔۔۔ جو فوجی جوانوں سے پنجہ آزمائی کی بجائے نہتے شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تین سال کے اعداد و شمار کی پڑتال بتاتی ہے کہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد پاکستان کی طرف سے ہونے والی جوابی کارروائی کی زد میں آنے والے شہریوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ریکارڈ گواہ ہے کہ پاکستان جنگ بندی معاہدے کا احترام کرتا ہے اور عالمی ضابطوں کے مطابق سرحدوں پر آباد بھارتی شہری آبادی کو نقصان پہنچانے کے حق میں نہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چند روز پہلے مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف اور عسکری حکام نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے دستاویزی ثبوت فراہم کئے۔ ان شواہد کے جواب میں بھارت کو اپنی پوزیشن واضح کرنا چاہیے تھی لیکن اس نے برعکس حکمت عملی اختیار کی۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جبر کا شکنجہ مزید سخت کر دیا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف سرکاری سطح پر تعصب اور نفرت کو ہوا دی جا رہی ہے اور ایسا بیانیہ گھڑا جا رہا ہے جس میں انسانیت
    آئین ، قانون اور عالمی ضابطوں کی پابندی کی بات کرنے والے کے لئے بھارت کی سرزمین تنگ کر دی گئی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل کورونا نے ترقی کرتی بھارتی معیشت کو نیچے کی طرف لڑھکا دیا ہے۔ 7 فیصد شرح نمو والا ملک اب 3.5 فیصد کے قریب آ گیا ہے۔ بے روزگاری صنعتوں کی بندش اور سرمایہ کاری میں کمی سے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ اس تنقید کو دوسرے رخ پر موڑنے کے لئے آسان طریقہ یہی ہے کہ پاکستان دشمنی کا نعرہ بلند کیا جائے اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی اس قدر بڑھا دی جائے کہ حسد ، انتقام اور تکبر کی آگ میں جلتے بھارت کے لوگ مودی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی بجائے کشیدگی کی طرف توجہ مرکز کئے رکھیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت ایک مکار دشمن ہے۔ وہ پاکستان پر الزام لگانے کے لئے اپنے علاقہ میں اپنے شہریوں کو ہلاک کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ بھارت کا تازہ ترین ڈرامہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں سرینگر شاہراہ پر واقع علاقے کا ہے۔ جہاں خود اپنے ہی لوگوں پر محض اس لئے حملے کا ڈرامہ رچایا تاکہ پاکستان پر اِس حملے کا الزام لگایا جا سکے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے۔ بھارت نے اس جھوٹے ڈرامے میں مارے جانے والے چار افراد کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی ۔ ویسے بھارت سے یہی امید تھی کہ وہ اس طرح کی جھوٹی کارروائیاں ضرور کرے گا تاکہ دنیا کو حقیقت سے بھٹکا سکے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بھارت کی مکارانہ اور شیطانی سوچ سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ ایسی جھوٹی کارروائیاں بھارت پہلے بھی کئی بار کر چکا ہے اور اِن کاروائیوں کا الزام فوری طور پر پاکستان پر لگا چکا ہے لیکن بعد میں حقائق سامنے آنے پر خود بھارت کا منہ کالا ہوا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے اندر بسنے والے کروڑوں مسلمان ہوں یا مقبوضہ کشمیر کے رہنے والے اسی لاکھ مسلمان ۔ یہ سب نریندر مودی کے دوبارہ بر اسرا قتدار آنے کے بعد مزید ظلم وستم اور جبر کے شکار بنے ہوئے ہیں۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی شیطانی ذہن کے مالک انسان ہیں جو اس خطے میں بھارتی بالادستی قائم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے سرحدوں پر کشیدگی پیدا کرنا ایک طویل منصوبہ بندی کا حصہ ہے ۔۔ سوا سال ہو چکا ہے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو جیسی صورت حال ہے۔ ذرائع ابلاغ منقطع ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست کی آبادی کا تناسب بدلنے کے لئے بھارت کے مختلف علاقوں سے شدت پسند ہندوئوں کو لا کر مقبوضہ کشمیر میں آباد کیا جا رہا ہے۔ بھارت انتظامی اقدامات کے ذریعے ہی کشمیر پر اپنا تسلط مضبوط نہیں بنا رہا بلکہ بچوں کو برین واش سے گزارا جا رہا ہے۔ خواتین کی عصمت دری کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور آزادی پسند نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ ایسی صورت حال ہے جس پر اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمشن، یورپی یونین کے کمشن برائے انسانی حقوق اور غیر جانبدار ذرائع ابلاغ نے کھل کر تنقید کی ہے۔ بھارت جانتا ہے کہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر پر اس کا قبضہ غیر قانونی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے صرف کشمیر کے حوالے سے عالمی ضابطوں کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ بابری مسجد کی شہادت، گجرات میں مسلم کش فسادات ، شہریت کا متنازع قانون، دہلی فسادات اور آئے روز مسلمان شہریوں کی انتہا پسندوں کے ہاتھوں راہ چلتے موت نے ثابت کیا ہے کہ بھارت میں جمہوریت، انسانی آزادیاں اور حقوق وغیرہ ڈھکوسلے کے سوا کچھ نہیں۔ بھارت میں مسلمان اور دیگر اقلیتیں محفوظ نہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چند روز قبل پاکستان نے بھارتی کارروائیوں کے بارے میں جو ڈوزیئر پیش کیے تھے ۔ اِن میں تمام تفصیلات درج ہیں۔ اُن ڈوزئیر کے ذریعے پاکستان نے دنیا کے سامنے بھارت کو بےنقاب کیا ہے۔ اب دنیا پر لازم ہے کہ وہ کرہ ارض کو بھارت کے ہاتھوں برباد ہونے سے بچائے ورنہ بھارتی امن دشمن پالیسیوں کا خمیازہ نہ صرف پڑوسی ممالک بھگتیں گے بلکہ پوری دنیا کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کو یاد ہونا چاہئے کہ پلوامہ کے ڈرامے کا جب ڈراپ سین ہوا تو کیا حقیقت کھلی تھی۔ چھٹی سنگھ پورہ کے قتلِ عام کی حقیقت کیا تھی ۔ پٹھان کوٹ اور اوڑی کے واقعات میں کیا سچ سامنے آیا تھا۔ بھارت کچھ بھی کرلے سچ کو جھوٹ کے پردوں میں نہیں چھپا سکتا۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے۔ پاکستان میں دہشت گردی کرانے اور بھارت کے اندر بسنے والے مسلمانوں کے قتل عام کے واقعات دنیا کے سامنے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل نریندر مودی ایک موذی انسان اور آر ایس ایس کے سرغنہ ہیں جس کے دہشت گرد غنڈے اور شدت پسند کھلے عام مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں۔ ان کے کاروبار کو تباہ اور عزتوں کو پامال کرتے ہیں۔ ان پر سر عام تشدد کرتے ہیں۔ نہ صرف بھارت کے اندر بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی درندے اور آر ایس ایس کے غنڈے سرکاری سر پرستی میں یہی کارروائیاں کرتے ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی’’ را ‘‘ بےگناہ کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کو جاسوسی کی جھوٹی رپورٹوں کی آڑ میں پکڑ کرلے جاتی ہے اور غائب کردیتی ہے۔ کئی بے گناہوں کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی بدنام زمانہ خفیہ ادارے ’’را‘‘ نے کروڑوں روپے تخریب کاروں اور اپنے پالے ہوئے تربیت یافتہ دہشت گردوں میں محض اس لئے بانٹے ہیں تاکہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کریں۔ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہا ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرانے کے لئے دہشت گرد پاکستان میں داخل کرا چکا ہے۔ سی پیک ، بلوچستان کے اکثر علاقے، کراچی، لاہور، پشاور اور کے پی میں قبائلی اضلاع دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ ہم سب کا فرض ہے کہ متحد ہوکر حالات کی سنجیدگی کو سمجھیں۔ پاک فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے ہاتھ مضبوط کریں اور ایک بار پھر بھارت اور اسکے دہشت گردوں کو مل کر ناکام بنائیں۔

  • عمران خان کو پنجاب میں تبدیلی کا کیوں کہا گیا؟ محمد مالک کے اہم انکشافات،مبشر لقمان کے ہمراہ

    عمران خان کو پنجاب میں تبدیلی کا کیوں کہا گیا؟ محمد مالک کے اہم انکشافات،مبشر لقمان کے ہمراہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ لگتا یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے اپوزیشن ڈو اینڈ ڈائی کے موڑ پر آ گئی ہے، حکومت مارچ تک اپوزیشن کو کھینچ لیتی ہے تو انکے لئے صحیح ہو گا،اسلام آباد کی صورتحال کے لئے دوست محمد مالک سے رابطہ کیا ہے

    سینئر تجزیہ کار محمد مالک کا کہنا تھا کہ حکومت ایسے نہیں جاتی،مسائل ہیں لیکن اسوقت اپوزیشن نے سارے پتے سامنے رکھ دیئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی قیمت پر فوج بات کرے یا فوج عمران خان کو مجبور کرے بات کرنے کی،اور اگر دونوں صورتحال نہیں بنتی تو ایک نیا آرڈر نکلے،انکے لیگل ایشوز سب کو پتہ ہیں،ان کے بھائی صاحب کے لیگل ایشوز بھی سب کو پتہ ہیں، ہم بار بار بات کرتے ہیں حکومت کے لئے بڑا ایشو مہنگائی ہے، پنجاب میں مسائل ہیں، اسکے اوپر راولپنڈی اور اسلام آباد ایک پیج پر نہیں ہیں، یہ ایک خبر دے رہا ہوں، کئی بار ڈسکس کر چکا ہوں، تین چار دفعہ وزیراعظم کو کہا کہ چینجز کریں، وزیراعظم نے تبدیلی کرنی ہیں،وزیراعظم اگر بدلتے ہیں تو چوھدری آگے آ جاتے ہیں، مگر پنجاب کا مسئلہ ہے، اگر پنجاب اور وفاق میں تبدیلی نہ کی تو یہ ہے اصل خطرہ، مہنگائی ہے اصل خطرہ، وزیراعظم کو کہا جا رہا ہے اکانومی ٹھیک ہے ،بے روزگاری،مہنگائی، ٹیکسز پورے کرنا یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، پاکستان خالی دعووں پر نہین چلتا، انڈسٹری میں بہت زیادہ مسائل ہیں، جلسہ ہوتا ہے دو دن پروگرام کرتے ہین پھر بھول جاتے ہیں کس کو جلسہ یاد ہے گوجرانوالہ کا،کسی کو نہیں،

    محمد مالک کا مزید کہنا تھا کہ اسمبلی مین اپوزیشن کو استعفے دینے چاہئے لیکن کیا پی پی استعفے دے گی سندھ سے ؟ تو پھر جب جو اصل ہتھیار ہے استعفوں کا اس میں سندھ نے تو کرنا نہیں، پھر کیا ہو گا، سب کو پتہ ہے انہوں نے نہیں کرنا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میری بے نظیر سے ایک بار بات ہوئی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن کا بائیکاٹ سب سے بڑی غلطی تھی جس پر محمد مالک کا کہنا تھا کہ بلاول نے گلگت میں کہا تھا کہ مجھے تو سمجھ نہیں آتی تھی کہ میری والدہ اپوزیشن کیوں چلاتی رہیں، ریزائن کرنا ایک وارن ہوگا، کل پرسوں جنہوں نے سخت تقریر کی پشاور کے اندر، جی بی میں الیکشن ہوا،پی پی پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں،پی پی اسلئے سب کر رہی ہے کہ ایسا نہ لگے کہ فرینڈلی اپوزیشن ہے، جہاں نواز شریف جانا چاہتے ہیں پی ڈی ایم وہاں نہیں جائے گی،

    محمد مالک کا مزید کہنا تھا کہ پاور کی اپنی ڈائنامکس ہیں،اپوزیشن کی اپنی ہیں لیکن بالکل سٹریم پوزیشن لے کر آنا….جہاں ٹینشن کی بات یہ ہے کہ ماضی میں فوج سرکار اور اپوزیشن کے درمیان کردار ادا کرتی تھی،یا عدالت کرتی کبھی ضمانتیں دے دیں، کیسز بنا دیئے اب میاں صاحب نے دونوں کو نشانے پر رکھ دیا تو بات کون کرے گا، میاں صاحب کا خیال ہے کہ اتنا پریشر بڑھا دوں گا کہ یہ بات کریں لیکن وہ تب ہو گا جب یہ استعفے دے کر سڑکوں پر آ جایں گے، مہنگائی کا مسئلہ بہت ہے، گیلپ کا سروے آیا، نوکریاں لوگوں سے چھن گئیں، آٹا نہیں مل رہا عام آدمی کو ،اس پر عمران خان کو توجہ دینی چاہئے، آٹا جب مہنگا ہوتا ہے تو چیخیں نکل جاتی ہیں، حکومت کو ان پر توجہ دینی چاہئے، سستے بازار لگائیں یا جو کریں،عوام کو ریلیف دیں،

    محمد مالک کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ پرانے ریٹس سے بھی چیزیں نیچے لائے، نو روپے کم کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، پی ٹی آئی ورکرز بھی مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں، یہ کہہ دینا کہ ہمیں احساس ہے اس سے فرق کوئی نہیں پڑتا.

  • پاکستان اسرائیل کوکبھی تسلیم نہیں کرے گا،وزیراعظم بھی قوم کا موقف دنیا پرواضح کرچکے ،دفترخارجہ

    پاکستان اسرائیل کوکبھی تسلیم نہیں کرے گا،وزیراعظم بھی قوم کا موقف دنیا پرواضح کرچکے ،دفترخارجہ

    اسلام آباد : پاکستان اسرائیل کوکبھی تسلیم نہیں کرے گا،وزیراعظم بھی قوم کا موقف دنیا پرواضح کرچکے ،دفترخارجہ نے تمام مفروضوں اورپراپیگنڈوں کومسترد کردیا ، اطلاعات کے مطابق پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق افواہوں اور قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنےکی کوئی بھی تجویز زیرِغور نہیں ہے، اسرائیل کوتسلیم کرنےسےمتعلق قیاس آرائیوں کومسترد کرتےہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ اس تناظرمیں وزیراعظم عمران خان کابیان واضح ہےجب تک مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوتاپاکستان اسرائیل کوتسلیم نہیں کرسکتا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان فلسطین کی حق خوداداریت کی حمایت کرتاہے مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ اور او آئی سی قراردوں کے مطابق حل کیاجائے۔

    17نومبر کو پاکستانی دفتر خارجہ نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے وزیر اعظم پر امریکی دباؤ کی خبریں من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم کہہ چکے ہیں مسئلے کے منصفانہ حل تک اسرائیل کوتسلیم نہیں کرسکتے۔

     

    دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 1967سےقبل کی سرحدوں اوردارلحکومت القدس پرمشتمل فلسطین کے حامی ہیں، اقوام متحدہ، او آئی سی قراردادوں اور عالمی قانون کے مطابق 2 ریاستی حل کے حامی ہیں۔

    وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہا جا رہا تھا پاکستان کہیں اسرائیل کو تسلیم کرنے تو نہیں جا رہا تو میں واضح طور پر کہتا ہوں پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہا۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ فلسطین پر ہماری حکومت کا وہی مؤقف ہے جو دیگر حکومتوں کا تھا، کسی کے دباؤ میں آکر ہرگز اپنی پالیسی پرنظر ثانی نہیں کر رہے، فلسطین پر ہمارا وہی مؤقف ہے جو پاکستان کا مؤقف ہے،ہم دو ریاستی نظریے کےکل بھی حمایتی تھے آج بھی ہیں۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب منیر اکرم بھی واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کررہا۔ایک بیان میں منیر اکرم نے کہا کہ بعض عرب ممالک نےخارجی و داخلی مجبوریوں پر اسرائیل کو تسلیم کیا مگر پاکستان اتنی کمزور ریاست نہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کر لے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نےپالیسی اورمفادات کو دیکھنا ہے ہمیں جوہری و عسکری طاقت کو پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیاجاسکتا۔

    منیراکرم کا کہنا تھا کہ عرب ممالک کےاقدام سےکشمیر پر ان کی حمایت کمزور پڑ سکتی ہے، فلسطینی حق خودارادیت کی حمایت کےاصولی مؤقف سےانحراف نہیں کرسکتے، قیام پاکستان کےبعدسےدنیاکی خود ارادیت کی حمایت بنیادی اصول رہاہے۔

     

    اس سے پہلے وزیراعظم سنیئرتجزیہ نگارکامران خان کے ساتھ گفتگو میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کبھی بھی اسرائیل کوتسلیم نہیں کریں گے ،

    https://www.youtube.com/watch?v=o6aIXjNfol4

    عمران خان نے کہا کہ وہ اللہ کو کیا جواب دیں گے ، ایک طرف اسرائیل فلسطین پرقابض ہے اوران پرظلم وزیادتی کررہا ہے،

     

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے موقف پرقائم ہے کہ وہ کبھی بھی اسرائیل کوتسلیم نہیں کرے گا

  • مسلم دنیا کے اسرائیل سے تعلقات میں بڑھتا ہوا رجحان ایسے میں کیا پاکستان کو بھی اسرائیل سے بات کرنی چاہیے ؟

    مسلم دنیا کے اسرائیل سے تعلقات میں بڑھتا ہوا رجحان ایسے میں کیا پاکستان کو بھی اسرائیل سے بات کرنی چاہیے ؟

    پاکستا نیوں کا کہنا ہے کہ کوئی شخص بھی نہیں مانے گا کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کریں خواہ وہ عرب دنیا استوار کرے یا پاکستان کی جانب سے ایسی صورتحال بنے پاکستان اگر اکیلا رہ بھی گیا تو پاکستان دنیا کے اوپر آخری ریاست ہو گی جو اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرے گی-پاکستان کبھی اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کر سکتا-مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مذاکرات فلسطین کی آزادی کے لئے ضرور کرنے چاہیئں چونکہ یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے-

    باغی ٹی وی : یو اے ای اور اسرائیل کے تعلقات کے بڑھ رہے ہیں اور سعودی عرب اور اسرائیل کے بارے میں خبریں سامنے آ رہی ہیں جن کی سعودیہ تردید بھی کر چکا ہے لیکن اگر کشمیر کے موقف پر انڈیا سے بات کی جا سکتی ہے تو کیا ایسی وجہ ہے کہ فلسطین کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ بات کیوں نہیں کی جا سکتی وزیر اعظم عمران خان نے اسرائیل کے بارے میں اپنا کُھلا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک کہ فلسطین کو آزاد ریاست بنانے کے اقدام نہیں اٹھائے جاتے-

    سینئیر وکیل صحافی اور ہیومن رائٹ ایکٹیوسٹ اشرف آسمی کا باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فلسطین والا معاملہ ہے کہ ہماری بیت المقدس ان کے قبضے میں ہے قائد اعظم نے بھی اس حوالے سے بہت شدو مد کے ساتھ فلسین کی حمایت کی تھی عرب ممالک غداری کرنے پر اتر آئے ہیں عرب ممالک نے کبھی بھی امت مسلمہ کے لئے کوئی کام نہیں کیا مسلمانوں کو کوئی بھی مسئلہ بنتا ہے جیسا کہ ناموس رسالت کے حوالے سے اور فرانس کے حوالے سے بات آئی تو آپ کوبس پاکستان اور ترکی ہی مسلم ممالک نظر آئیں گے جو اس حوالے سے ہر اول دستے کے علمبردار ہوتے ہیں-

    انہوں نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عرب حکمران انگریزوں کے خود کاشت پودے ہیں اگر عرب چاہے تو چند ہفتہ میں فلسطین آزاد ہو جائے گا لیکن عرب امریکہ کے بھی حاشیہ نشین بنے ہوئے ہیں اور امریکہ اور اسرائیل ایک ہی چیز ہے جہاں تک کشمیر کی بات ہے کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے اگر ہم اس حوالے سے بات کرتے ہیں تو اس کی بیک گراؤنڈ کچھ اور ہے اور اسرائیل والے مسئلے کی بیک گراؤنڈ مختلف ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ کوئی شخص بھی اس بات کو نہیں مانے گا کوئی شخص بھی نہیں مانے گا کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کریں خواہ وہ عرب دنیا استوار کرے یا پاکستان کی جانب سے ایسی صورتحال بنے کیونکہ جو اسرائیلی ہیں وہ ہمارے فلسطینی بھائیوں کے دشمن ہیں اور ہامری مقدس سر زمین پر غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے اگر ہم ان سے مذاکرات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے ان کا وجود وہاں پر تسلیم کر لیا ہے-

    انہوں نے کہا کہ منافقت اور مصلحت میں فرق ہوتا ہے ان دونوں کو جوڑیں نہ فلسطین والا معلامہ یہ ہے کہ جب اسرائیل فلسطینی علاقوں کو نہیں چھوڑتا ڈائیلاگ کرنے کا مطلب ان کے وجود کو تسلیم کرنا ہے یہود و نصاریٰ تو کہتے ہیں پاکستان ہمارے سامنے بھیگی بلی بن کر رہیں –

    ڈاکٹر حیات کلاسن سینئہر وکیل سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ بات یہ ہے کہ یہ دو مختلف چیزیں ہیں ایک اسرائیل کو تسلیم کرنا اور ایک ہے مذاکرات کرنا وہ بھی آزادی کے لئے اور فلسطین کی آزادی کے لئے یہ دو مختلف چیزیں ہیں اس کے لئے مذا کرات بہت ضروری ہیں مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں فلسطین کی آزادی کے لئے مذاکرات ضرور کرنے چاہیئں چونکہ یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہےانہوں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار مکہ مشرکین یہود و نصاریٰ اور وہ قبائل جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور اسلام کو نہیں مانا ان کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف مذاکرات کئے ہیں بلکہ ان کے ساتھ معاہدے بھی کئے ہیں اور تحریری معاہدے کئے ہیں یہ سنت ہے ہمارا مقصد فلسطین کی آزادی ہے اگر فلسطین کو مذاکرات کرنے سے آزادی ملتی ہے تو مذاکرات ضرار کرنے چاہیئں ہمیں ہماری مسجد اقصی مل جائے گی مسلمان اور فلسطینی آزاد ہو جائیں گے اور تھرڈ وار کا مسئلہ بھی پوری دنیا سے ہٹ جائے گا-انہوں نے کہا کہ میں پوری امت مسلمہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اسرائیل سے مذاکرات کر کے فلسطین کو آزاد کرائے-

    راکان گروپ آف سکول کے پرنسپل انجینئیر فہیم ارشد نے اس حوالے سے باغی ٹی وی سے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ریاست ہے جو اسلامی ریاستوں میں ایک نظریے پر قائم ہوئی اور وہ نظریہ یقینی طور پر پہلا کلمہ طیبہ ہے پاکستان کا نظریہ اسلام کا نظریہ ہے اور اسلام کا نظریہ پاکستان کا نظریہ ہے پاکستان جیسی نظریاتی ریاست کوہر گز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اسرائیل جسی ناپاک ریاست کے وجود کو تسلیم کرے کیونکہ اگر پاکستان اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کرتا ہے تو نہ صرف یہ فلسطین کے معصوم بچوں کے خون سے غداری ہو گی بلکہ ان ہزاروں لاکھوں مسلمان شہیدوں کے خون سے بھی بے وفائی ہو گی جنہوں نے آزادی کی تحریک کو زندہ رکھنے کے لئے اتنے سالوں میں اپنی مائیں اور بچے قربان کئے ہمیں ہر گز معاشی چیزوں کو مدنظر نہیں رکھنا چاہیئے اس معاملے میں جب غیرت مسلم شامل حال ہو جب ایک مسلمانوں کے کون کے سودے کی بات ہو تو سب سے پہلے ہمیں مسلمانوں کے خون کی حرمت کے بارے میں سوچنا چاہیئے کیونکہ ایک مسلمان کے خون کی قیمت کعبے کی حرمت سے بھی بڑھ کر ہے اس لئے عرب حکمرانوں کو بھی اس بات کو سوچنا چاہیئے نادان جھک گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا تو اس وقت قیام پر ہی رہیں سجدے میں نہیں جھکنا چاہیئے معاشی چیزوں سے ہٹ کر اہل عرب کواپنی غیرت اور اہمیت کو جھنجو ڑنا چاہیئے بات ہر اس خطے کی ہونی چاہیئے جہاں پر بھی مسلمانوں پر ظلم و ستم کئے جا رہے ہیں بات لیبیان عراق فلسطین اور کشمیر کے معاملے پر بھی ہو نی چاہیئے-

  • پی ایس ایل کا پاکستان کرکٹ کو کیا فائدہ ہو رہا ، رانا عاطف نے مبشر لقمان کو انٹرویو میں بتادیا

    پی ایس ایل کا پاکستان کرکٹ کو کیا فائدہ ہو رہا ، رانا عاطف نے مبشر لقمان کو انٹرویو میں بتادیا

    پی ایس ایل کا پاکستان کرکٹ کو کیا فائدہ رانا عاطف نے مبشر لقمان کو انٹرویو میں بتادیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے یو ٹیوب چینل پر لاہور قلندر کے سی ای او رانا عاطف سے انٹرویو کرتے ہوئے ان سے لاہور قلندر کی حکمت عملی بارے ہوچھا تو اس کے جواب میں رانا عاطف نے کہا کہ لاہو قلندر کا سب سے اہم مقصد یہ ہے اپنے ٹیلنٹ کو گمنامی کے اندھیروں سے نکال کر سب کے سامنے لانا ہے .اور لاہور قلندر اس کام کے لیے کوشاں ہے انہوں نےکہا کہ ایک تو یہ کام تھا کہ موجود لاٹ میں‌سے جو کہ تیس پنتیس کھلاڑیوں پر مشتمل ہے ان کو سامنے لے آتے اور ہم بھی ان میں سے کھلاڑی چن لیتے لیکن ہم نے جگہ جگہ کیمپ کر کے ان ہیرو کو تلاس کیا ہے او پھر ان کو تراشا ہے .

    مبشر لقمان نے کہا کہ ہمارا ڈومیسٹک انفراسٹرکچر بھی بہت خراب ہے جس وجہ سے بچوں کو اپنا ٹیلنٹ پیش کرنے اور اسے یوٹیلائزڈ کرنے کا موقع نہیں ملتا . جس کے جواب میں رانا عامر کا کہنا تھا کہ انفراسٹرکچر تو موجود ہے لیکن اس کو استعمال کرنا ایک مسئلہ ہے . مناسب طریقے سے اس کا استعمال نہیں ہے. اس نظام سے مطلوبہ رزلٹ نہیں ملتا حادثاتی کوئی پلیئر آجا ئے تو آجائے. ورنہ کچھ حاصل نہیں‌ہوتا . ایک سوال کے جواب میں رانا عاطف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے . مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرکٹ کا کیا فیوچر ہے تو رانا عاطف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرکٹ کا ہی تو فیوچر ہے. پاکستان میں بےپناہ ٹیلنٹ ہے.

    رانا عاطف کا کہنا تھا کہ اب ایک ہی پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے سے کھلاڑی نکھر کر سامنے آتے ہیں. پی ایس ایل ہے . پی ایس ایل ہی کے علاوہ اور کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے آپ دیکھیں کہ اس ایک ایونٹ کی وجہ سے آج پاکستان کی ٹیم کہا ں تک پہنچ چکی ہے. مبشر لقمان کا کانا تھا کہ اس کا کریڈٹ نجم سیٹھی کو جاتا ہے جس کے جواب میں رانا عاطف نے کہا کہ جی ہاں ان کو کریڈٹ بھی جاتا ہے اور ڈس کریڈٹ بھی جاتا ہے
    مبشر لقمان نے عاطف سے سوال کرتے ہوئے کہا ہے اب کی بار ہم نے یہ بات پکی کرنی ہے کہ لاہور قلندر نے جیتنا ہے . ویسے لاہور جیتے ، کراچی جیتے ، ملتان جیتے کوئی ٹیم بھی جییتے جیت تو در اصل عوام کی ہے اور پاکستان کی ہے.

    رانا عاطف نے کہا کہ ہم نے جو کمٹمنٹ کی تھی اس کو آگے لے کر جیت کا مزہ چکھنا ہے . رانا عاطف کا کہنا تھا کہ ہم نے فارنر بڑے بڑے کھلاڑی کھلا کر دیکھے لیکن ان ہم جیت نہ سکے . اب ہم نے اپنا ٹیلنٹ لے کر آئے اور اپنی کمنٹمنٹ پر ثابت رہے تو ہم نے ساٹھ فیصد حاصل کیا جب ہم نے اسی فیصد حاصل کر لیا تو ہم کو کون ہرا سکے گے. انہوں‌نے کہا کہ ہم اسی ٹیلنٹ کو آگے لے کر جائیں‌گے اور ان شاءاللہ فتح حاصل کریں گے.

    مبشر لقمان نے نےکہاکہ میں‌نے دیکھا ہے اس قدر ٹیلنٹ کو حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے عاقب جاوید کو دیکھا کہ وہ پاگلو ں‌کی طرح لگے رہتے ہیں‌اور ٹیم کے کورسز کرتے رہتے ہیں.لیکن کوئی رزلٹ یا آؤٹ کم نہیں‌ملتا. اس کے جواب میں رانا عاطف کا کہنا تھا کہ جب آپ کسیس کام کا جزبہ ، لگن اور شوق ہو تب یہ تکلیف کوئی معنی نہیں‌ رکھتی . ہمارا بینادی مقصد را میٹریل سے ٹیلنٹ کو تلاش کرنا ہے اور اس کے لیے ہمیں‌ جتنا بھی تگ و دو کرنا پڑے کریں‌ گے.

  • سنیرصحافی مبشرلقمان کی منصورہ آمد:امیرجماعت اسلامی سراج الحق سے والدہ محترمہ کی وفات پرتعزیت

    سنیرصحافی مبشرلقمان کی منصورہ آمد:امیرجماعت اسلامی سراج الحق سے والدہ محترمہ کی وفات پرتعزیت

    لاہور:سنیرصحافی مبشرلقمان کی منصورہ آمد:امیرجماعت اسلامی سراج الحق سے والدہ محترمہ کی وفات پرتعزیت،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سنیئرصحافی معروف تجزیہ نگارمبشرلقمان آج شام جماعت اسلامی کے مرکزمنصورہ پہنچے


    باغی ٹی وی کے مطابق مبشرلقمان امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق سے ملے اوران کی والدہ محترمہ کی وفات پران سے تعزیت کی اورمرحومہ کی مغفرت کے لیے دعا کی

     

    ذرائع کے مطابق اس موقع پرمبشرلقمان نے سراج الحق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ بہت نیک خاتون تھیں اللہ سے دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت ماں جی کومعاف فرما کرجنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے

    سینیٹرسراج الحق نے مبشرلقمان کی منصورہ آمد پرشکریہ ادا کیا اوران کو بھی نیک تمناوں اوردعاوں کے ساتھ رخصت کیا