وزیراعظم عمران خان کا گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اعلان
باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان گلگت بلتستان کے دورے پر پہنچ گئے ہیں جہاں خطاب کرتےہوئے انہوں نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اعلان کیا ہے. وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام مشکل میں ہیں اور مشکلوں کا سامنا کررہے ہیں،منظم منصوبے سے پاکستان کے خلا ف سازشیں کی جارہی ہیں،بھارت نے 5اگست 2019میں جو کشمیر میں کیا کسی اور حکومت نے نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ آج اگر ہم آزاد ہیں تو سیکیورٹی فورسز کی وجہ سے ہے . ورنہ ہمارا بھی وہی حال ہوتا جس دوسرے مسلم ممالک کا ہے. ہمیںاپنی فوج پر فخر ہے. آج ملکی سلامتی کو پھر سے خطرہ ہے جسکے لیے اندرونی اور بیرونی طور پر سازشیں ہو رہی ہیں.
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج پوری اپوزیشن صرف ایک ایجنڈے پر متفق ہیں کہ کیسے اپنی کرپشن بچانی ہے آج ان کو این آرو دے دوں تو یہ سب خاموش ہوجائیں گے. آج اگر جنرل باجوہ اور جنرل فیض کےخلاف ڈاکو بول رہیں ہیں تو اس کا مطلب ہیں یہ جنرل بالکل درست ہے. آج میر جعفر اور میر صادق پھر سے اپنی فوج کی جیت اور فتح کو متنازعہ بنا رہے ہیں. یہ سب ڈرامہ اسی لیے رچایا جا رہا ہے. کہ ان کو کلین چٹ دے دی جائے . لیکن میرا آج پوری قوم سے وعدہ ہے کہ ان کو کبھی این آر او نہیںدو گا. آپ آنے والے دنوں میں دیکھیں گے کہ کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور کس کی پیشانی پر پسینہ آتا ہے .
وزیرا عظم ڈوگرا راج سےآزادی کی 73 ویں سالگرہ کی تقریب میں شریک ہیں، وہ دیامر بھاشا ڈیم کا بھی دورہ کریں گے.
گلگت بلتستان کے عوام آج ڈوگرا راج سے نجات کا دن منا رہے ہیں، 73 سال قبل گلگت بلتستان کی عوام نے آج کے دن ڈوگرا راج کو مسترد کرکے پاکستان کا پرچم لہرایا تھا، دن کی مناسبت سے وزیراعظم گلگت بلتستان کے قومی دن کی تقریب میں شریک ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ یہ گلگت بلتستان کی عوام کیلئے خوشی کا موقع ہے کیونکہ 73 برس قبل ان کی سرزمین کو آزاد کروا لیا گیا، انہوں نے کہا کہ میری پوری کوشش ہے کہ یکم نومبر ہر سال یہاں کی عوام کے ساتھ گزاروں۔ تقریب میں گورنر گلگت بلتستان، نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان بھی شریک ہیں
باغی ٹی وی :ملک بھر میں کورونا سے مزید 17 افراد جاں بحق ہو گئے، وبا سے اموات کی تعداد 6 ہزار 823 ہو گئی۔ مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 33 ہزار 970 تک جا پہنچی۔ ملک بھر میں ایکٹو کیسز کی تعداد 12 ہزار 592 ہو گئی۔
احتیاطی تدابیر میں غفلت سے اموات میں اضافہ، کورونا مزید 17 افراد کی جان لے گیا، جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 6 ہزار 823 ہو گئی۔ مزید 977 افراد میں وائرس کے تصدیق سے مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 33 ہزار 970 تک جا پہنچی۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق سندھ میں 1 لاکھ 45 ہزار 851 ، خیبرپختونخواہ 39 ہزار 564، پنجاب میں 1 لاکھ 4 ہزار 271، اسلام آباد 19 ہزار 970، بلوچستان میں 15 ہزار920، آزاد کشمیر میں 4 ہزار 133 کیسز ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں مریضوں کی تعداد 4 ہزار 261 ہو گئی۔ 3 لاکھ 14 ہزار 555 مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا ترک صدرسے ٹیلیفونک رابطہ، قیمتی جانوں کے ضیاع پراظہارِ افسوس،طیب اردوان نے شکریہ اداکیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفونک رابطہ کے دوران زلزلے کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان پشاور میں ہونے والے مدرسہ حملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام دکھ کی گھڑی میں ترک بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں، قدرتی آفت سے متاثرہ افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
ازمیرزلزلےمیں قیمتی جانوں کےضیاع پرصدر اردگان اور ترکی کےعوام سےدلی تعزیت کا اظہارکرتاہوں۔ہم ترک قوم کیساتھ اوراسکی معاونت کیلئےجوکچھ ہم سےبن پڑےکرنےکو تیارہیں۔ 2005 میں پاکستان اور آزادکشمیر میں تباہ کن زلزلےکےبعدجس انداز میں ترکی ہمارےساتھ کھڑاہوا اسےہم کبھی فراموش نہیں کرسکتے.
ٹیلیفونک رابطے کے دوران میں وزیراعظم اور ترک صدر کے درمیان یورپ میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے واقعات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔بڑھتے اسلاموفوبیا کے واقعات کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر پر باور کرایا کہ مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے واقعات کے خلاف مسلم دنیا کو متحد ہونا ہو گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کے رہنما مغربی دنیا کے اپنے ہم منصبوں کو خصوصی عقیدت اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تمام مسلمانوں کے ساتھ محبت کے بارے میں آگاہ کریں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلم رہنماؤں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لیےکردار ادا کرنا ہو گا، مسلمان رہنما مغربی دنیا کے رہنماوں کو مسلمانوں کی پیغمبر اکرم (ص) کے ساتھ محبت کے بارے میں بتائیں، یورپ میں ہولوکاسٹ کے بارے میں ان کے جذبات کا احترام کیا جاتا ہے، مغرب کو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے۔ اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں ایسے اقدامات سے باز رہنا چاہئے۔
İzmir depremi dolayısıyla geçmiş olsun ve taziye mesajlarını ileterek yardıma hazır olduğunu bildiren tüm dost ülkelere teşekkür ediyorum.
Türkiye Cumhuriyeti Devleti olarak tüm kurumlarımızla sahada vatandaşımızın yanındayız, duruma tam olarak hakimiz. pic.twitter.com/2Qy8GLy3kB
ٹیلفیونک رابطے کے دوران اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ جلد ملاقات کریں گے، جس میں اسلامو فوبیا سمیت دیگر باہمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
دوسری طرف ترک صدر رجب طیب اردوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ تمام ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے زلزلے کے دوران مشکل کی اس گھڑی میں تعزیتی پیغام بھیجے۔ ہم اپنی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
لاہور:یہ ماننا پڑے گا کہ موبی لنک آج بھی پاکستانیوں کےدل کی دھڑکن ہے،عامرحفیظ ابراہیم چیف ایگزیکٹوآفیسر ،اطلاعات کے مطابق موبی لنک کے چیف ایگزیکٹو آفیسرعامرحفیظ ابراہیم نے معروف صحافی مبشرلقمان کے ساتھ اہک اہم نشست کی اوربڑے سوالوں کے بڑے جوابات دئیے
عامر حفیظ ابراہیم نے بتایا کہ جاز جسے پہلے موبی لنک کے نام سے یاد کیا جاتا تھا آج ساڑے چھ کروڑ پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن بن گئی ہے
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشکلات آتی رہتی ہیں لیکن ان مشکلات سے کام نہیں رک جاتے، ان کا کہنا تھا کہ 25 ارب روپے کا ٹیکس نادہندگانی کا نوٹس ملا ہےلیکن اس میں اصل میں جمع تفریق کا حساب غلط کیا گیا ہے
مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بڑے اداروں پرایسے حالات آتے رہتے ہیں ،پچھلے 26 سالوں سے خدمت کا یہ سفر جاری ہے اگلے 26 سال بھی خدمت کرتے رہیں گے
عامر حفیظ کہتے ہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں پاکستانیوں کا روزگارجاز سے وابستہ ہے ، امید ہے بہت جلد مسئلہ حل ہوجائے گا
عامر حفیظ کہتے ہیں کہ جاز والے جہاں لاکھوں لوگوں کے روزگار کا سبب بنے ہوئے ہیں وہاں وہ پاکستان کو بہت بڑا ریونیو بھی دیتے ہیں
عامر حفیظ ابراہیم نے مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں بہت خوبصورت بات کہی اورکہا کہ جاز نے پچھلے چھ سالوں میں حکومت کو379 ارب روپے حکومت کو دیئے ہیں
عامر حفیظ ابراہیم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جازایک بہت بڑا بزنس ٹائیکون ہے اورجاز کا اپنی عوام سے وعدہ ہےکہ بہترین سروس فراہم کریں لیکن بعض اوقات کمی بیشی ہوجاتی ہے لیکن سفر بہر کیف کامیابی کی طرف جاری ہے
سنیر صحافی مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں عامر حفیظ کہتے ہیں کہ یہ بات تو درست ہے کہ کسٹمرکوشکایت رہتی ہے لیکن دوسری طرف جاز بھی خدمت کے جزبے کے ساتھ بہترین سروس فراہم کرنے کی جہدوجہد کررہا ہے
عامر حفیظ نے کہا کہ یہ انٹرنیٹ کا دورہے اورموبی لنک پاکستان میں اس حوالے سے کام کررہا ہے
عامر حفیظ نے یہ بتا کرحیران کردیا کہ پاکستان میں ایک کروڑ افراد جاز کیش استعمال کرتے ہیں اورہوسکتا ہےکہ اگلے سال حبیب بینک سے سبقت لے جائیں
انہوں نے انکشاف کیا کہ جازکیش کی ملک بھر میں 90 ہزار برانچز ہیں
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ جازٹی وی میں دو ملین کسٹمرز ہیں ، جبکہ میوزک میں گئے ہیں ایک ملین کسٹمر ہیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان کو چاہیے کہ وہ ایک بار ہی بتادیں کہ نیاپاکستان بن سکتا ہے یا نہیں؟
کسی کو بھی وزیر اعظم عمران خان کی نیت پر شک نہیں۔ وہ یقیناً عوام کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہوں گے۔ لیکن ان کے راستے میں دیدہ و نادیدہ طاقتوں نے ایسے روڑے بچھا رکھے ہیں کہ وہ تیزی سے آگے بڑھنا بھی چاہیں تو نہیں بڑھ سکتے۔ اب تو وہ خود بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت میں آنے سے پہلے اُنہیں علم نہیں تھا کہ مافیاز کس انداز سے کام کرتے ہیں؟ اب انہیں قدم قدم پر ان مافیاز سے لڑنا پڑ رہا ہے۔ جب ملک کا وزیر اعظم ایسی باتیں کرے تو اس میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے اوپر بھی ایک حکومت ہے جو حکومت کو چلنے نہیں دیتی۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ساتھ ہی عمران خان کو چاہیے کہ وہ ایک بار ہی بتا دیں کہ نیا پاکستان بن سکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ گزشتہ دو برسوں اور دو مہینوں سے تو وہ یہی باور کرارہے ہیں کہ نیا پاکستان کوئی سوئچ بورڈ نہیں ہے کہ جسے آن کر کے نیا پاکستان بن جا ئے گا۔ عمران خان کو اس لئے بھی سنجیدہ ہوجانا چاہئے کہ اب اپوزیشن نے سڑکوں کے بعد ایوانوں کو بھی گرم کرنا شروع کردیا ہے اور قومی اسمبلی میں اودھم مچ گیا ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو ’’غدار ‘‘ اور بھارت کا ایجنٹ قرار دینے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے کو شاں ہے جس سے جہاں دونوں ایوانوں کا پارلیمانی امن تباہ ہو رہا ہے ۔ وہاں ہر سیشن ہنگامہ آرائی اور احتجاج کی نذر ہو رہا ہے ۔ اپوزیشن کے جارحانہ طرز عمل کے سبب سپیکر اسد قیصر بھی پارلیمان کم کم ہی آرہے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) سپیکر سے اس حد تک نالاں ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کی تجویز تک پیش کر دی ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سینیٹ میں بھی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کو بات کرنے کا موقع نہ ملنے پرحکومتی ارکان نے احتجاج کیا جبکہ قائد ایوان شہزاد وسیم کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید شور شرابہ کیا۔ عمران خان کو اِس لئے بھی سنجیدہ ہوجانا چاہئے کہ مولانا فضل الرحمن پشاور کے جلسے کو معرکہ کن قرار دے رہے ہیں اور مریم نواز مینار پاکستان گراؤنڈ میں ڈیڑھ لاکھ کا مجمع اکٹھا کرنے کے لئے ورکرز کنونشنوں سے خطاب شروع کرنے والی ہیں۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے میں وباء کے نام پر اگر حکومت نے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی تو سڑکوں اور ایوانوں میں نظر آنے والی گرمی گھر گھر جا گھسے گی اورلوگ گھروں سے نکل آئیں گے۔ پی ڈی ایم کے تین جلسوں میں ہی واضح طور پر نظر آ گیا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز نے اپنے سارے کارڈز کھیل دیے ہیں۔ نواز شریف اس بات کا یقین کر لینے کے بعد کہ اب ان کا سیاست میں کوئی کردار باقی نہیں رہا۔ صرف بدلہ لے کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مریم نوازبڑھ چڑھ کر اپنے والد کا ساتھ دے کر اپنے سیاسی مستقبل کو دائو پر لگا رہی ہیں ۔ کیونکہ ان دونوں باپ بیٹی سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا کہ پاکستان میں اقتدار کے حصول کا فارمولہ کیا ہے ۔ انہیں معلوم ہے کہ طاقت ور حلقوں میں اگر وہ قابل قبول نہ رہے اقتدار میں آنے کا امکان صفر رہے گا۔ نواز شریف نے تو الطاف حسین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی سیاست اور ملک واپسی کے تمام راستے ختم کر ہی لیے ہیں ۔ مریم اس راستے پر کیوں چل رہی ہیں یہ سمجھ سے باہر ہے ۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتیں کسی ایک ایجنڈے پر متفق نہیں۔ مثلا ن لیگ ـ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگا کر میدان میں ہے تو پیپلز پارٹی کا یہ مسئلہ نہیں ۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ پیپلز پارٹی اس اتحاد میں کیوں ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کا اعتماد ان کے کارکنوں کی بنا پر ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں ان کے چند ہزار طلبہ ان کی طاقت ہیں جس کے بل بوتے پر وہ ریاست کو للکار سکتے ہیں۔ بلیک میل کر سکتے ہیں اور مرضی کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں ۔مولانا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مجھے اگر کھیل کا حصہ نہ بنایا تو میں آپ کے گلے کی ہڈی بنا رہوں گا مگر مولانا کو سمجھنا چاہیے کہ اگر اگلے انتخابات میں بھی انہیں پارلیمنٹ میں نشست نہ ملی تو سڑکوں پہ رہنے سے انہیں کیا ملے گا ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں موجود پہلی کمزوری یہ ہے کہ اس میں شامل سیاسی جماعتوں کے موقف میں ہم آہنگی کاشدید فقدان ہے جو قائدین کی تقریروں میں بھی واضح نظر آتاہے ۔ نواز شریف اور مریم نوازاپنے کیسز کے خاتمے کی جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں تو فضل الرحمن کو محض اسمبلی میں موجود نہ ہونے کا غصہ ہے جبکہ بلاول صرف حکومت کی خراب کارکردگی پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں اور ہمیشہ ایک ایسی تقریر کرتے ہیں جو کسی بھی دور میں کسی بھی حکومت کے خلاف کی جائے تو اس سے کسی کو کوئی فرق نہ پڑے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاپیپلز پارٹی دانستہ طور پر پی ڈی ایم کے جلسوں کو زیادہ طاقتور بنانا نہیں چاہتی ؟ کیا پیپلز پارٹی کھیل کا حصہ رہنا چاہتی ہے ۔ کھیل بگاڑنا نہیں چاہتی۔ کیا وہ نہیں چاہتی کہ سیاست اس نہج پر پہنچ جائے ۔ جہاں وہ کھیل کا حصہ نہ رہے ۔ کیا وہ یہ بھی نہیں چاہتی کہ دوبارہ الیکشن ہوں کیونکہ وہ جانتی ہے جو کچھ آج ان کے پاس ہے انہیں اس سے زیادہ نہیں ملے گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں دوسری کمزوری یہ ہے کہ اس کا ایجنڈا غیر واضح ہے ۔ پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتیں کسی ایک ایجنڈے پر متفق نہیں۔ مثلا ن لیگ ـ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگا کر میدان میں ہے تو پیپلز پارٹی کا یہ مسئلہ نہیں ۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ پیپلز پارٹی اس اتحاد میں کیوں ہے ۔حالانکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ تو پنجاب میں دھاندلی ہوئی ہے نہ کسی اور صوبے میں ان کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے ۔ وہ عمران خان کو گھربھی نہیں بھیجنا چاہتے ۔ وہ دوبارہ الیکشن بھی نہیں چاہتے ، پھر وہ چاہتے کیا ہیں ۔ان کا ایجنڈا واضح ہے۔ موجودہ حالات میں وہ صرف اپوزیشن دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ جب اپوزیشن کی باقی جماعتیں احتجاج کر رہی ہوں تو پیپلز پارٹی غیر موجود نہ ہو۔ مولانا فضل الرحمن البتہ کسی بھی طرح نئے سیٹ اپ کی تلاش میں ہیں جس میں ان کی کوئی گنجائش نکلنے کا امکان موجود رہے۔ چاہے وہ کوئی بھی سیٹ اپ ہو۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں چاہتے۔
فرضی کہانیاں ، قصے اور تماشا در تماشا ،سیاست اور ریاست آمنے سامنے ،مبشر لقمان کا اہم تجزیہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے۔ حکومت اور حزب مخالف میں ٹکراؤ اور کشیدگی میں اضافہ ہو رہاہے۔ اس وقت ہمارے سیاسی اکھاڑے میں دو بیانیوں کا ٹکراؤ ہے۔ ایک طرف ووٹ کو عزت دو اور دوسری طرف کرپشن کا خاتمہ دونوں اپنے اپنے بیانئے پر سینہ تان کر کھڑے ہیں ۔ انصاف کی فراہمی اور کرپشن کے خاتمے کا نعرہ عمران خان کی سیاست کی بنیاد ہے ۔ اس نعرے نے انہیں ایک ایسے امتحان میں بھی ڈال دیا ہے۔ جس میں سرخرو ہو کر ہی وہ اپنی کامیابی پر مہر ثبت کر سکتے ہیں ۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی وزیر اعظم عمران خان کی نیت پر شک نہیں۔ وہ یقیناً عوام کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہوں گے۔ لیکن ان کے راستے میں دیدہ و نادیدہ طاقتوں نے ایسے روڑے بچھا رکھے ہیں کہ وہ تیزی سے آگے بڑھنا بھی چاہیں تو نہیں بڑھ سکتے۔ اب تو وہ خود بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت میں آنے سے پہلے اُنہیں علم نہیں تھا کہ مافیاز کس انداز سے کام کرتے ہیں؟ اب انہیں قدم قدم پر ان مافیاز سے لڑنا پڑ رہا ہے۔ جب ملک کا وزیر اعظم ایسی باتیں کرے تو اس میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے اوپر بھی ایک حکومت ہے جو حکومت کو چلنے نہیں دیتی۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ساتھ ہی عمران خان کو چاہیے کہ وہ ایک بار ہی بتادیں کہ نیاپاکستان بن سکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ گزشتہ دو برسوں اور دو مہینوں سے تو وہ یہی باور کرارہے ہیں کہ نیا پاکستان کوئی سوئچ بورڈ نہیں ہے کہ جسے آن کر کے نیا پاکستان بن جا ئے گا۔ عمران خان کو اس لئے بھی سنجیدہ ہوجانا چاہئے کہ اب اپوزیشن نے سڑکوں کے بعد ایوانوں کو بھی گرم کرنا شروع کردیا ہے اور قومی اسمبلی میں اودھم مچ گیا ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو ’’غدار ‘‘ اور بھارت کا ایجنٹ قرار دینے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے کو شاں ہے جس سے جہاں دونوں ایوانوں کا پارلیمانی امن تباہ ہو رہا ہے ۔ وہاں ہر سیشن ہنگامہ آرائی اور احتجاج کی نذر ہو رہا ہے ۔ اپوزیشن کے جارحانہ طرز عمل کے سبب سپیکر اسد قیصر بھی پارلیمان کم کم ہی آرہے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) سپیکر سے اس حد تک نالاں ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کی تجویز تک پیش کر دی ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سینیٹ میں بھی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کو بات کرنے کا موقع نہ ملنے پرحکومتی ارکان نے احتجاج کیا جبکہ قائد ایوان شہزاد وسیم کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید شور شرابہ کیا۔ عمران خان کو اِس لئے بھی سنجیدہ ہوجانا چاہئے کہ مولانا فضل الرحمن پشاور کے جلسے کو معرکہ کن قرار دے رہے ہیں اور مریم نواز مینار پاکستان گراؤنڈ میں ڈیڑھ لاکھ کا مجمع اکٹھا کرنے کے لئے ورکرز کنونشنوں سے خطاب شروع کرنے والی ہیں۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے میں وباء کے نام پر اگر حکومت نے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی تو سڑکوں اور ایوانوں میں نظر آنے والی گرمی گھر گھر جا گھسے گی اورلوگ گھروں سے نکل آئیں گے۔ پی ڈی ایم کے تین جلسوں میں ہی واضح طور پر نظر آ گیا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز نے اپنے سارے کارڈز کھیل دیے ہیں۔ نواز شریف اس بات کا یقین کر لینے کے بعد کہ اب ان کا سیاست میں کوئی کردار باقی نہیں رہا۔ صرف بدلہ لے کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مریم نوازبڑھ چڑھ کر اپنے والد کا ساتھ دے کر اپنے سیاسی مستقبل کو دائو پر لگا رہی ہیں ۔ کیونکہ ان دونوں باپ بیٹی سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا کہ پاکستان میں اقتدار کے حصول کا فارمولہ کیا ہے ۔ انہیں معلوم ہے کہ طاقت ور حلقوں میں اگر وہ قابل قبول نہ رہے اقتدار میں آنے کا امکان صفر رہے گا۔ نواز شریف نے تو الطاف حسین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی سیاست اور ملک واپسی کے تمام راستے ختم کر ہی لیے ہیں ۔ مریم اس راستے پر کیوں چل رہی ہیں یہ سمجھ سے باہر ہے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کا اعتماد ان کے کارکنوں کی بنا پر ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں ان کے چند ہزار طلبہ ان کی طاقت ہیں جس کے بل بوتے پر وہ ریاست کو للکار سکتے ہیں۔ بلیک میل کر سکتے ہیں اور مرضی کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں ۔مولانا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مجھے اگر کھیل کا حصہ نہ بنایا تو میں آپ کے گلے کی ہڈی بنا رہوں گا مگر مولانا کو سمجھنا چاہیے کہ اگر اگلے انتخابات میں بھی انہیں پارلیمنٹ میں نشست نہ ملی تو سڑکوں پہ رہنے سے انہیں کیا ملے گا ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف کی حکمت عملی البتہ شاندار ہے ۔ ضمانت کی درخواست واپس لے کر جیل جانے کا بروقت اور شاندار فیصلہ نہایت موزوں تھا جس کے بارے میں سوچ کر وہ دن رات مسکراتے ہوں گے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سیاسی لڑائی جس مقام پر آچکی ہے وہاں اپوزیشن کا باہمی اتحاد بھی ان کے لیے بہت اہم ہے ۔ سوال تو ہے کہ اب حکومت کیا کرے گی ۔ اتحاد نہ ٹوٹا تو کریک ڈائون کیا جاسکتا ہے ۔یا پھر اکثر اپوزیشن رہنماوں کو عدالتوں سے نااہل کرایا جا سکتا ۔ مگر یہ بھی آسان کہاں ہے۔ کیونکہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کی بات مان کر جیسے ہی حکم دیا کہ کرپشن کے مقدمات کی روزانہ سماعت کی جائے تو شور اٹھا کہ حکومتی کرپشن کے تمام معاملات اور پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ۔ فیصل ووڈا کی نااہلی ۔ ڈپٹی سپیکر سوری سمیت انتخابی دھاندلی کے معاملات کی بھی فوری سماعت کی جائے ۔ پاپا جونز پیزا کی بات بھی اٹھائی جارہی ہے۔اس کشیدہ ماحول میں جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کا تفصیلی فیصلہ بھی بہت اہم ہے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں موجود پہلی کمزوری یہ ہے کہ اس میں شامل سیاسی جماعتوں کے موقف میں ہم آہنگی کاشدید فقدان ہے جو قائدین کی تقریروں میں بھی واضح نظر آتاہے ۔ نواز شریف اور مریم نوازاپنے کیسز کے خاتمے کی جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں تو فضل الرحمن کو محض اسمبلی میں موجود نہ ہونے کا غصہ ہے جبکہ بلاول صرف حکومت کی خراب کارکردگی پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں اور ہمیشہ ایک ایسی تقریر کرتے ہیں جو کسی بھی دور میں کسی بھی حکومت کے خلاف کی جائے تو اس سے کسی کو کوئی فرق نہ پڑے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاپیپلز پارٹی دانستہ طور پر پی ڈی ایم کے جلسوں کو زیادہ طاقتور بنانا نہیں چاہتی ؟ کیا پیپلز پارٹی کھیل کا حصہ رہنا چاہتی ہے ۔ کھیل بگاڑنا نہیں چاہتی۔ کیا وہ نہیں چاہتی کہ سیاست اس نہج پر پہنچ جائے ۔ جہاں وہ کھیل کا حصہ نہ رہے ۔ کیا وہ یہ بھی نہیں چاہتی کہ دوبارہ الیکشن ہوں کیونکہ وہ جانتی ہے جو کچھ آج ان کے پاس ہے انہیں اس سے زیادہ نہیں ملے گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں دوسری کمزوری یہ ہے کہ اس کا ایجنڈا غیر واضح ہے ۔ پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتیں کسی ایک ایجنڈے پر متفق نہیں۔ مثلا ن لیگ ـ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگا کر میدان میں ہے تو پیپلز پارٹی کا یہ مسئلہ نہیں ۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ پیپلز پارٹی اس اتحاد میں کیوں ہے ۔حالانکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ تو پنجاب میں دھاندلی ہوئی ہے نہ کسی اور صوبے میں ان کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے ۔ وہ عمران خان کو گھربھی نہیں بھیجنا چاہتے ۔ وہ دوبارہ الیکشن بھی نہیں چاہتے ، پھر وہ چاہتے کیا ہیں ۔ان کا ایجنڈا واضح ہے۔ موجودہ حالات میں وہ صرف اپوزیشن دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ جب اپوزیشن کی باقی جماعتیں احتجاج کر رہی ہوں تو پیپلز پارٹی غیر موجود نہ ہو۔ مولانا فضل الرحمن البتہ کسی بھی طرح نئے سیٹ اپ کی تلاش میں ہیں جس میں ان کی کوئی گنجائش نکلنے کا امکان موجود رہے۔ چاہے وہ کوئی بھی سیٹ اپ ہو۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں چاہتے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مگر اس سب کے باوجود حکومت کو سوچنا چاہیے کہ مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ ہر شے کی قیمت آسمان کو لگی ہوئی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ حکومت میں بیٹھے آٹا اور چینی مافیا نے عوام کو 404 ارب روپے کا ٹیکہ لگایا ہے تو کوئی بتاتا ہے کہ پورے ریجن میں پاکستان کے علاوہ کسی بھی ملک میں مہنگائی اس قدر نہیں ہوئی۔ جس قدر یہاں ہوگئی ہے۔ ایسے میں حکومت مہنگائی پر قابو نہ پانے کی ذمہ داری بیورو کریسی پر منتقل کر کے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ حکومت کے لیے جوش نہیں ۔ ہوش سے کام لینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن اور حکومت کے علاوہ تیسری طاقت کے لیے بھی مسائل کچھ کم نہیں ہیں ۔ کیونکہ ہمیشہ اقتدار کی بندر بانٹ کرنے والوں کے لئے خطرے کی گھنٹی یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی چھتری کے نیچے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سیاست کرنے والی مسلم لیگ ن کا بیانیہ بدل گیا ہے
اسلام آباد:وزیراعظم کی بہتر معاشی پالیسی کی ’بلومبرگ‘ نے تائید کردی”ویلڈن عمران خان”،اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے وزیراعظم عمران خان کی بہتر معاشی پالیسی اور حکمت عملی کی تائید کردی۔
اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے وزیراعظم عمران خان کی بہتر معاشی پالیسی اور حکمت عملی کی تائید کردی، بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا میں پابندیاں نرم کرنے سے معاشی سرگرمیاں بحال ہوئیں۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق بڑے برانڈز سرمایہ کاری کے لیے اب پاکستان کا رخ کررہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انکارپوریٹڈ، ہیوگو باس اے جی، ٹارگٹ کارپوریشن او رہینس برانڈز انکارپوریشنڈ سمیت متعدد ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں جبکہ بہت سے دیگر برانڈز نے نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست کی ہے۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل شاہد ستار کا کہنا ہے کہ ’گارمنٹس تیار کرنے والی ملز کے پاس بڑی تعداد میں آرڈرز موجود ہیں اور بہت سے لوگ آئندہ چھ ماہ تک کوئی آرڈر نہیں لے سکتے۔‘
رپورٹ کے مطابق ملکی برآمدات میں اضافہ بتدریج ہورہا ہے جو پاکستان کی مجموعی گھریلو پیداوار کا 10٪ بنتا ہے، برآمدات میں اضافہ معیشت میں ترقی کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرسکتا ہے، عمران خان کی حکومت موجودہ مالی سال میں 2.1 فیصد اضافے کا ہدف بنا رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان سے فورٹسکو میٹلز گروپ لمیٹڈ آسٹریلیا کے چیئرمیننے ملاقات کی تھی، ملاقات میں مشیرتجارت عبد الرزاق داؤد اورچیئرمین بی او آئی عاطف آر بخاری موجود تھے۔
اینڈریو فورسٹ نے قابل تجدید توانائی اور گرین انڈسٹری میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرمایہ کاری سےمقامی افراد کے لیے روزگار کےمواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعظم نے پاکستان میں فورٹسکی گروپ کی سرمایی کاری میں دلچسپی کو سراہا اور ملک میں کاروباری منصوبے شروع کرنے میں ہر ممکن سہولت کی یقین دہانی کروائی تھی۔
اسلام آباد:ن لیگ کا خاتمہ شروع:بلوچستان سےسردارثنااللہ زہری،کے پی سے امیرمقام نے راستے جدا کرلیئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سنیئر صحافی تجزیہ نگارمبشرلقمان کی پشین گوئی کے تھوڑی دیربعد اس کی تصدیق ہوگئی ہے اوراطلاعات یہ ہیں کہ ن لیگ کا خاتمہ شروع ہوگیا
ذرائع کے مطابق بلوچستان سے سابق وزیراعلیٰ سردار ثنااللہ زہری نے پارٹی کوخیرباد کہہ دیا ہے اوریہ بھی کہا ہے کہ اب وہ ن لیگ کی کسی بھی قباحت کا حصہ نہیں رہے
دوسری طرف پشاور سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے مرکزی رہنما امیرمقام نے بھی ن لیگ سے راہیں جدا کرلی ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی پہلی خبرآئی ہے چند لمحوں کے بعد مزید ن لیگ چھوڑنے والوں کی خبریں بھی ملیں گی
یاد رہےکہ اس سے قبل بلوچستان سے ن لیگ کے مرکزی رہنما جنرل ریٹائرڈ عبدالقادربلوچ کے پارٹی چھوڑنے کی اطلاعات آرہی تھیں
لاہور:ن لیگ ٹوٹ چکی،اراکین اسمبلی اپنی اپنی پسند کی پارٹی میں جاچکے:بس تقریب باقی ہے:مبشرلقمان نے اندر کی خبر دے دی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سنیئر صحافی اورتجزیہ نگارمبشرلقمان نے دعویٰ کیا ہےکہ ن لیگ اندرسے ختم ہوچکی ہے
Before Peshawar PDM jalsa some major PMLN stalwarts may quit the party. Some are discussing options
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ نوازشریف کے بیانیئے نے بڑے بڑے محب وطن لیگی سیاستدانوں کون لیگ چھوڑنے پرمجبورکردیا ہے، ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ یہ عمل اب زوروںپرہے اوراس بات کا پتہ لیگی قیادت کوچل گیا ہے
ذرائع کے مطابق سنیئر صحافی نے انکشاف کیا ہےکہ اس بات کی تصدیق ہوچکی ہےکہ ن لیگ ٹوٹ چکی ہے اوراراکین اسمبلی اب اپنی اپنی پسند کی پارٹی کاانتخاب کررہے ہیں
مبشرلقمان نے مزید انکشاف کیا کہ سارا کام ہوچکا ہے اب صرف تقریب باقی ہے ،