Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اسٹیبلشمنٹ، اپوزیشن اور حکومت، کیا کوئی اچھی خبر ہے؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    اسٹیبلشمنٹ، اپوزیشن اور حکومت، کیا کوئی اچھی خبر ہے؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ملک انتہائی نازک دور سے گزر سے رہا ہے ۔ اس وقت پاکستان کو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر محاذ آرائی سامنا ہے ۔ بھارت پاکستان میں proxies کو ہوا دے رہا ہے ۔ تو افغانستان میں سے امریکہ نکل کر جا رہا ہے جس کے بعد کی منظر کشی دیکھائی نہیں دے رہی ۔ کہ وہاں اب کس کی حکومت ہوگی یا نہیں ہوگی یا خانہ جنگی ہوگی ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ معیشت کی حالت کافی پیچیدہ چل رہی ہے ۔ ملک کے اندرونی حالات دیکھیں تو مہنگائی اور بے روزگاری کا جن بے قابو ہوتا جا رہا ہے ۔ اوپر سے وباء نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا مگر حکومت اور عوام دونوں ہی ٹھنڈ رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اس تمام صورتحال میں ملکی کے اندرونی سیاسی حالات میں کچھ اچھے نہیں چل رہے ہیں ۔ الزامات ، سازشیں اور سیاسی چالیں بھی پاکستان کو کسی صورت کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہی ہیں ۔ ایک کے بعد ایک بحران سر اٹھا رہا ہے ۔ اس صورتحال میں عمران خان نے آگے بڑھ کر اپوزیشن کو آفر کراوئی کہ آئیے مل کر بیٹھتے ہیں ۔ الیکشن اصلاحات سے لے کر تمام معاملات پر بات چیت کرلیتے ہیں ۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن کا بات چیت کا کوئی موڈ نہیں ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے انتخابات میں دھاندلی کے بعد سلیکٹڈ وزیراعظم الیکشن اصلاحات کے نام پر دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ عمران خان سے کسی بھی معاملات پر مذاکرات بے کار ہیں۔ آپ سے بات نہیں ہوگی۔ تو ن لیگ کے خواجہ آصف تو کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے ہیں انکا کہنا ہے کہ گزشتہ ڈھائی سال میں حالات پانچ گنا زیادہ بگڑ چکے ہیں۔ نئے الیکشن کرائے جائیں۔ نیا مینڈیٹ بنایا جائے۔ قومی یا عبوری حکومت قبول نہیں۔ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نئی حکومت بنے تو بھی تین یا چھ ماہ کے اندر نئے الیکشن کرائے جائیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے تجزیہ کار اور صحافی جو یہ دعوے کر رہے تھے کہ اپوزیشن کا بیانیہ اب بدل گیا ہے ۔ خاص کر ن لیگ کا سوفٹ ویئر تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ جی بی الیکشن کے بعد اپوزیشن اب ٹھنڈی پڑ جائے گی ۔ پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھر جائے گی ۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے ۔ یا اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تھی تو کامیاب نہیں ہوئی ۔ کیونکہ مریم اور مولانا کے حالیہ بیانات سے تو لگتا ہے کہ یہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں ۔ یہ فرنٹ فٹ ہر کھیل رہے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ہی حکومت کے درد سر میں اضافہ ہی کریں گے ۔ مریم نے تو مانسہرہ جلسہ میں ایک بار پھر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ۔ اگرچہ اس جلسے میں کسی اہم عہدے پر فائز شخصیت کا نام نہیں لیا گیا ۔ مگر اشارے جس جانب تھے لوگ باآسانی سمجھ گئے ہیں ۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مریم نے کہا کہ ووٹ چوری کرکے اقتدار میں آنے والوں نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔ ڈھائی سال پہلے کیے گئے وعدوں پر سوال کریں تو جواب ملتا ہے کہ ہمارے پاس الہ ٰ دین کا چراغ نہیں ہے۔ اس وقت مریم نواز بڑے ایک پلانڈ طریقے سے گلگت بلتستان الیکشن کو متنازعہ کرنے پر تلی بیٹھی ہیں ۔ کل پھر انھوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود ‘’سلیکٹڈ’’ نہیں جیت سکا۔ صرف 8 سیٹیں ملیں جو مسلم لیگ ن کے توڑے امیدواروں کی مرہون منت ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اصل میں جو بات مریم عوام اور لوگوں کو یہ بات نہیں بتا رہی ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ووٹ کو عزت دے کر نواز شریف کا فوج مخالف بیانیہ مسترد کر دیا۔ مریم نواز نے رنگ رنگ کی ٹوپیاں پہن کر ووٹ کو عزت دلوانے کی کوشش کی مگر گلگت بلتستان کے عوام بڑے سمجھدار نکلے ۔مثال میں آپکو دے دیتا ہوں ۔ آپ پورے پاکستان میں الیکشن کرا کے دیکھ لیں فوج مخالف بیانیہ مسلم لیگ کے اندر بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ آپ نواز شریف کی خواہشیں چیک کریں کہ کے بقول انہیں تین مرتبہ وزارت اعظمی سے نکالنا خلاف آیئن تھا لیکن عمران خان کو نکال باہر کرو ؟اسٹبلشمنٹ کو یہ کہنا کہ حکومت گرا دے کیا یہ جمہوریت ہے یا آئین ہے ؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جیسے جیسے فوج سے ڈیل کرنے کے تمام دروازے کھڑکیاں بند ہوتی جارہی ہیں تو بیان بھی بدل رہا ہے کہ ہم فوج کے خلاف نہیں چند جرنیلوں کے خلاف ہیں۔ نواز شریف نے جنرل ضیاء الحق کے صدقے مسلم لیگ کے نام پر بڑی شہرت، پیسہ اور پاور کما لی تھی اچھا ہوتا عزت سے بڑھاپا گزارتے مگر الطاف حسین بن کر سب کچھ گنوا دیا ہے ۔ دراصل یہاں کوئی لیڈر کہلانے کے لائق نہیں کوئی قیادت ایماندار نہیں لیکن ووٹ کی عزت کا بڑا خیال ہے؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سچ تو یہ ہے کہ اس قوم نے بھی کبھی بندے کا پتر مانگا ہی نہیں۔ جس نے پیچھے لگا لیا آنکھیں بند کرکے لگ گئے۔ سیاسی قیادت کے کھمبے بنا لئے اور ان کی پوجا کرنے لگے۔عوام کو کم عقلی کی سزا مل رہی ہے۔ سیاستدانوں اور آمروں کے جھوٹ اتنے سچے ہوتے ہیں کہ عوام باآسانی بیوقوف بن جاتے ہیں۔ پاکستان نے کبھی حقیقی جمہوریت دیکھی ہی نہیں۔ کبھی سول آمریت اور کبھی فوجی آمریت رائج رہی۔ دو کنگز پارٹی اور ون مین شو کی باریاں لگتی رہیں ہیں ۔ سب نے خوب کھایا ، بنایا، لوٹا اور باہر بھاگ گئے۔ حکمرانی کے لئے واپس آتے ہیں پھر موٹے تازے جھوٹ بولتے ہیں ۔ عوام کو بیوقوف بناتے ہیں ، چند سال پھر عیش کرتے ہیں پھر باہر لوٹ جاتے ہیں۔ اولاد باہر، علاج باہر، مال و دولت جائیدادیں باہر لیکن اقتدار اندر۔ اور جب جیل کے اندر جانے کی بات آئے تو سب ادارے غلط بس یہ لوگ سچے اور صاف ستھرے پاک صاف ؟مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوٹے بھرتی کریں تو جائز مگر کوئی انکو چھوڑ جائے تو لوٹا ؟ یہ اگر مخالفین کو عدالتوں میں گھسیٹیں تو جائز۔ اگر یہ خود گھسیٹے جائیں تو سازش ؟ یہ اگر زرداری سے ہاتھ ملائیں تو جائز ۔۔کوئی اور ملائے تو منافق ؟ یہ الیکشن جیتیں تو شفاف ۔ کوئی اور جیتے تو غیر شفاف ۔۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں صورتحال ہی کچھ عجیب و غریب ہے محض درجن بھر خاندانوں کا پاکستان کی 98 فیصد عوام پر مسلسل 70 سالوں سے راج کرتے آنا اور عوام کا پھر انہیں ووٹ ڈالنا بھی حیرت انگیز ہے یا تو عوام اس ماحول کی عادی ہوچکی ہے یا ووٹ ڈالے کہیں اور۔۔۔ گنے کہیں اور جاتے ہیں ۔ اگر سچ پوچھیں تو پاکستان میں جمہوریت دور دور تک نظر نہیں آتی جیسا کہ جمہوریت کی تعریف ہے عوام کی حکومت عوام کے لئے عوام کے ذریعے لیکن یہاں ایک وڈیرہ سرمایہ دار جاگیردار جاتا ہے تو دوسرا مسلط ہو جاتا ہے۔ اب یہ سب یونہی چلتا رہا تو آنے والا کل مزید خوفناک ہوگا۔ دوسری جانب اپوزیشن کی جو بھی حالت ہے سو ہے مگر تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت بھی کوئی win win position میں نہیں ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان ایک طاقتور وزیراعظم تو نظر آرہے ہیں۔ ریاستی ادارے بھی یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ ہیں مگر حال ہی میں خلاف توقع ہونے والا ظہرانہ اس طرف اشارہ تھا کہ سب اچھا نہیں ہے۔ اتحادیوں کے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے گو کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں مگر کسی اصول پر نہیں۔ کسی کے کہنے پر۔ اس حکومت کا بھی یہ مسئلہ رہا ہے کہ یہ اپنے ووٹر اور عوام کو خوش کرنا تو دور کی بات اپنے اتحادیوں کو بھی ساتھ نہیں لے کر چل پا رہے ہیں ۔ بعض دفعہ تو حیرانگی ہوتی ہے ۔ کہ کیا کوئی وزیر مشیر کے عہدے پر براجمان بندہ اتنا نااہل بھی ہوسکتا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہتر یہ ہی ہے کہ وزیراعظم مسائل کو پارلیمنٹ میں لے جائیں اور پارلیمانی طریقے سے مذاکرات کا آغاز کریں ۔ اور اردگرد سے نااہل اور نکمے لوگوں کو ہٹائیں ۔ کیونکہ لوگ انگلی ان پر نہیں بلکہ اب عمران خان پر اٹھنا شروع ہو گی ہے ۔ پی ٹی آئی میں بہت ہی sober سیاست کی سمجھ بوجھ والے اور قابل لوگ بھی ہیں ۔ جن کو موقع ملا تو یقیقناً پی ٹی آئی کے امیج کو بہتر ہی کریں گے ۔ فی الحال صورتحال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور اپوزیشن کسی طرف سے خیرکی کوئی خبر نہیں آر ہی ہے ۔
    ان covid times میں حکومت اور اپوزیشن کا سب سے بڑا امتحان تو عوام کی جان کا تحفظ ہے ۔ مگر لگتا ہے کہ دونوں کو صرف
    اپنی سیاست اپنی حکومت اپنی باری کی فکر ہے عوام چاہیئے جائیں بھاڑ میں ۔۔۔ کیونکہ حکومت سب کچھ بند کرنا چاہ رہی ہے ۔ مگر سکول نہیں بند کر رہی ۔ کیونکہ ان کے بچے کون سے پاکستانی پرائیوٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ وہ تو رہتے ہی باہر ہیں پڑھتے ہی باہر ہیں ۔ اوپر سے یہ پرائیوٹ سکولز کا مافیا اس ملک میں اس قدر مضبوط ہوچکا ہے کہ حکومت ۔ وزیر ۔ مشیر اور بیوروکریٹس یا تو انکے اتحادی ہیں یا پھر یہ ان کے سامنے بے بس ہیں ۔ دوسرے جانب اپوزیشن بھی جلسے جلوس کرنے پر بضد ہے۔ کیونکہ انکو اپنی باری کی فکر ہے ۔ ڈھائی سال گزر گئے ہیں بغیر کرسی کے ۔۔۔ یاد تو ستائے گی اب ۔۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور پی ڈی ایم کے ترجمان میاں افتخار حسین تو کہتے ہیں کہ 22 نومبر کو پشاور جلسہ ہر صورت ہوگا۔ تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ حکومت جلسے کو ناکام بنانے کے لئے لاکھ کوششیں کرے ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑیگا۔ دوسری طرف لاہور کے جلسے کے حوالے سے بھی ن لیگ کا یہ ہی موقف ہے ۔ کہ کورونا ۔۔۔ ورونا کچھ نہیں ۔۔۔ تحریک یونہی چلتی رہے گی ۔ عوام چاہے مر جائیں ۔۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آخر میں پی ٹی آئی اور وزیراعظم عمران خان اگر اپنے پارٹی منشور کے مطابق سسٹم کی اصلاح کیلئے جو آئینی ترامیم لانا چاہتے ہیں انکی دوتہائی اکثریت کے ساتھ منظوری کی خاطر انہیں اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی پالیسی ترک کرکے اسکے ساتھ معاملہ فہمی سے کام لینا ہوگا۔ اگر ہماری سیاست میں تحمل اور برداشت کا کلچر حاوی ہو جائے تو مطلوبہ قوانین منظور کرانے میں بھی کوئی دقت نہیں رہے گی اور انتخابی نتائج کو قبول کرنے کی روایت کا بھی آغاز ہو جائیگا۔ اگر وزیراعظم عمران خان اس معاملہ میں پیش رفت کرینگے تو ایک مدبر قومی قائد کی حیثیت سے انکی نیک نامی میں مزید اضافہ ہوگا۔ آج پوائنٹ سکورنگ کی سیاست سے زیادہ افہام و تفہیم کی سیاست کی ضرورت ہے جس سے ملک میں سیاسی استحکام بھی پیدا ہوگا ۔ پارلیمنٹ کی افادیت میں اضافہ ہوگا اور ملک میں مہذب معاشروں والی جمہوریت کی جانب اہم قدم ہوگا ۔

  • نوازشریف کی جان میں جان آگئی:شرپسندی پھیلانے کے لیے 6 ماہ اورمل گئے

    نوازشریف کی جان میں جان آگئی:شرپسندی پھیلانے کے لیے 6 ماہ اورمل گئے

    اسلام آباد: نوازشریف کی جان میں جان آگئی:شرپسندی پھیلانے کے لیے 6 ماہ اورمل گئے،اطلاعات کے مطابق معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ کورونا کی وجہ سے نواز شریف کو برطانیہ میں 6 ماہ کی توسیع مل گئی۔

    ذرائع کے مطابق نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ برطانوی حکومت کے پاس ہماری باقاعدہ تحریر جاچکی ہے جس میں برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف کا ویزا ختم کردیں۔

    شہزاد اکبر نے کہا کہ نواز شریف کے پاس اب دو تین آپشنز ہیں جس پر وہ برطانیہ میں رہ سکتے ہیں، وہ بیماری کا کہہ کر برطانیہ میں رہ سکتے ہیں لیکن بیماری کا بتانا ہوگا، انہیں بتانا ہوگا کس علاج کے لیے آئے اور کیا پاکستان میں علاج ممکن نہیں تھا۔

    معاون خصوصی کے مطابق نواز شریف بانی متحدہ کی طرح سیاسی پناہ کی درخواست بھی دے سکتے ہیں، نواز شریف کو واپس لانے کے لیے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کریں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں شہزاد اکبر نے کہا کہ نواز شریف کے پاس ملٹی پل 10 سال کا ویزا تھا جس بنیاد پر وہ باہر گئے، برطانوی حکومت کو نواز شریف کی ضمانت کی ٹرم اینڈ کنڈیشن سے آگاہ کیا تھا، برطانیہ کو اب آگاہ کردیا ہے کہ نواز شریف کا اسٹیٹس مفرور مجرم کا ہے، برطانوی حکومت ان کا اسٹیٹس دیکھ رہی ہے۔

    اسحاق ڈار کے حوالے سے شہزاد اکبر نے کہا کہ دیکھنا ہوگا اسحاق ڈار اس وقت برطانیہ میں کس اسٹیٹس پر رہ رہے ہیں، وہ برطانیہ میں ایک سال سے زائد عرصے سے رہے ہے ہیں، انہیں اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے ان کی پراپرٹی سیل ہوچکی ہے۔

  • علامہ خادم رضوی کی وفات، فیض آباد معاہدہ پر عمل ہو پائے گا؟

    علامہ خادم رضوی کی وفات، فیض آباد معاہدہ پر عمل ہو پائے گا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی وفات پا گئے،

    خادم رضوی کی آج شب لاہور میں شیخ زید ہسپتال میں موت ہوئی ہے، طبیعت خراب ہونے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا

    تحریک لبیک نے گستاخانہ خاکوں کے حوالہ سے 15 نومبر کو اسلام آباد میں لیاقت باغ سے فیض آباد تک مارچ کیا تھا اور دوسرے روز حکومت سے مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کیا تھا، اس مارچ کے آخری روز علامہ خادم رضوی نے بھی خطاب کیا تھا،

    تحریک لبیک نے حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا تھا،حکومتی مذاکراتی ٹیم اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔معاہدے پر وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ،وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری اور کمشنر اسلام آباد کے دستخط بھی موجود ہیں،حکومتی مذاکراتی ٹیم کی جانب سے 4 نکاتی تحریری معاہدے جاری کیا گیا ،معاہدے کے مطابق حکومت دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے گی،فرانس میں پاکستانی سفیر تعینات نہیں کیا جائے گا،فرانس کی مصنوعات کا سرکاری طور پر بائیکاٹ کیا جائے گا،تحریک لبیک پاکستان کے گرفتار کارکنان کو فوری رہا کیا جائے گا،

    فیض آباد، تحریک لبیک کا احتجاج جاری، پولیس کا رات گئے آپریشن ناکام

    تحریک لبیک احتجاج، اسلام آباد میں کون کونسے راستے بند ہیں؟ ڈی سی نے بتا دیا

    تحریک لبیک کا دھرنا، کارکنان گرفتار،کیا خادم حسین رضوی کو گرفتار کر لیا گیا؟

    تحریک لبیک دھرنا،راستے بند ہونے پر ٹریفک کا متبادل روٹ جاری

    شاہد خاقان عباسی نے تحریک لبیک کے دھرنے کو "میلہ” قرار دے دیا

    فیض آباد دھرنا،وزیراعظم کا نوٹس،اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    مذاکرات ہی نہیں ہوئے تو کامیابی کیسی؟ تحریک لبیک کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان

    تحفظ ناموس رسالت مارچ لیاقت باغ تا فیض آباد تحریکِ لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے تھے، وفاقی وزیر داخلہ برگیڈیر(ر) اعجاز شاہ، وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، کمشنر اسلام آباد و دیگر وزراء کے ساتھ تحریری معاہدہ ہوا تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے پنجاب کے امیر علامہ پیر سید عنایت الحق شاہ سلطانپوری اور کے پی کے امیر علامہ ڈاکٹر محمد شفیق آمینی ٹی ایل پی پنجاب کے ناظم اعلی علامہ مفتی غلام عباس فیضی تھے

    علامہ خادم رضوی کی وفات کے بعد حکومت کی جانب سے کیا جانے والے معاہدے پر عمل ہوتا ہے یا نہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، اگر معاہدے پر عمل نہیں ہوتا تو کیا پھر دوبارہ دھرنا ہو گا اور اب مارچ کی قیادت کون کرے گا، اسکا آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا

  • تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کون تھے ،کہاں پیداہوئےاورشہرت کیسے پائی

    تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کون تھے ،کہاں پیداہوئےاورشہرت کیسے پائی

    لاہور:تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی آج 55 سال کی عمر میں وفات پاگئے ،علامہ خادم حسین رضوی کوکون نہیں جانتا ، انہوں نے جس انداز سے شہرت کمائی شاید ہی کوئی ایسا فرد ہوجوان کے مزاج اورحالات زندگی سے واقف نہ ہو، پھربھی اگرکسی کوان کی زندگی کے سفر کا کوئی خاص علم نہیں توپھرآج باغی ٹی وی اپنے چاہنے والوں کوبتاتا ہے کہ تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کون تھے ،کہاں پیداہوئےاورشہرت کیسے پائی،

    ذرائع کے مطابق مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک کے بانی خادم حسین رضوی کے بارے میں چند برس پہلے تک کچھ زیادہ معلوم نہیں تھا۔ نومبر 2017 کی بات ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی نے ایک ریلی کی قیادت کرتے ہوئے راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم فیض آباد پر دھرنا دیا۔ تین برس بعد نومبر 2020 میں ایک مرتبہ پھر ان کی جماعت کے کارکنوں نے اسی مقام پر دھرنا دیا تھا ، جس کے بارے میں‌ پچھلے دودن سے بڑی گرم خبریں آرہی تھیں کہ معاہدہ بہت ہی اہم تھا

    ادھر ذرائع کے مطابق ان کے بارے میں حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ لاہور کی ایک مسجد کے 52 سالہ خطیب نے اصل شہرت نومبر 2017 میں اسلام آباد کے فیض آباد چوک میں توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے خلاف ایک طویل لیکن بظاہر کامیاب دھرنا دے کر حاصل کی تھی۔ اس سے قبل وہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت کے معاملے میں بھی کافی سرگرم رہے تھے اور وہیں سے انھوں نے اپنی دینی سرگرمیوں کو سیاست کا رنگ دیا۔

    مولانا خادم حسین رضوی جوکہ بریلوی مکتبہ فکرسے تعلق رکھتے تھے ان کو ممتاز قادری کے حق میں کھل کر بولنے کی وجہ سے پنجاب کے محکمۂ اوقاف سے فارغ کر دیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے ستمبر 2017 میں تحریک کی بنیاد رکھی اور اسی برس ستمبر میں این اے 120 لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں سات ہزار ووٹ حاصل کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔

    انہیں اسباب کی وجہ سے ممتاز قادری کو پھانسی دیے جانے کے بعد سے بریلوی طبقے کے قدامت پسندوں نے زیادہ متحرک سیاسی کردار اپنایا ہے۔ لیکن پاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد میں اضافہ اور بریلوی دیوبندی اختلاف سال 2012 کے بعد سے دیکھا جا رہاتھا ۔خادم حسین رضوی کو گذشتہ برس کے احتجاجی دھرنے میں سنی تحریک کی بھی حمایت حاصل رہی تھی۔

    ویل چیئر تک محدود ہونے کے باوجود خادم حسین رضوی پاکستان میں توہین رسالت کے متنازع قانون کے ایک بڑے حامی بن کر سامنے آئے ۔ وہ اس قانون کے غلط استعمال کے الزام سے بھی متفق نہیں۔ ان کا انداز بیان کافی سخت ہوتا تھا ۔ پاکستانی میڈیا کی جانب سے کوریج نہ ملنے کا حل بظاہر انھوں نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر کے نکالا ۔ ناصرف اردو اور انگریزی میں ان کی ویب سائٹس اب موجود ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی کئی اکاؤنٹ ہیں۔ وہ اپنے آپ کو پیغمبر اسلام کا ’چوکیدار‘ کہہ کر بلاتے تھے ۔

    خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سےتھا ۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے ۔ ان کے دو بیٹے بھی مختلف احتجاج میں شریک رہے ہیں۔ خادم حسین ٹریفک کے ایک حادثے میں معذور ہو گئے تھے اور سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے تھے ۔

    علامہ خادم حسین رضوی 22 جون 1966 کو ’نکہ توت‘ ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ ان پر مختلف نوعیت کے کئی مقدمات بھی درج ہیں۔ اعجاز اشرفی نے بتایا کہ ان مقدمات کی تعداد کتنی ہے انھیں یاد نہیں۔ لیکن تحریک کے آغاز سے اب تک انھیں گرفتار نہیں کیا گیا تھا ۔ شاید اس کی وجہ ان کی ’سٹریٹ پاور‘ ہے۔

    جنوری 2017 میں بھی توہین مذہب کے قانون کے حق میں انھوں نے لاہور میں ایک ریلی نکالی تھی جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا۔ انھیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا اور انھیں آج بھی پنجاب حکومت نے فورتھ شیڈول میں رکھا ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ انھیں اپنی نقل و حرکت کے بارے میں پولیس کو آگاہ رکھنا ہوتا ہے۔ ’خادم حسین رضوی اپنے اونچے عہدے والوں کے سامنے مغرور اور ماتحتوں کے ساتھ بدتمیز تصورکیے جاتے تھے‘۔

  • عمران خان کا دورہ افغانستان سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش ناکام

    عمران خان کا دورہ افغانستان سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش ناکام

    کابل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے دورہ افغانستان کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی کوشش بری طرح ناکام ہوگئی۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے کے ایک سینئر افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر باغی ٹی وی کو جو حقائق بتائے اس سے بھارت کا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ اس افسے کے مطابق بھارت نے افغانستان میں کابل سمیت مختلف شہروں میں عمران خان کے خلاف مظاہرے کرنے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کئے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ لوگ جن کو پیسے دئیے گئے وہ کم از کم پانچ پانچ سو لوگ تمام بڑے شہروں میں مظاہرے میں اکٹھا کریں گے لیکن خوست اور پکتیا کے سوا کسی جگہ پر بھی بھارت کو اپنے مقاصد میں کامیابی نہیں ہو سکی اور کہیں پر بھی لوگوں کو عمران خان کے خلاف مظاہروں میں شرکت کے لئے باہر نہ نکالا جا سکا۔ خوست میں کئے جانے والے مظاہرے میں صرف 11 لوگ شامل ہوئے جب کہ پکتیا میں 50 کے قرہب لوگ باہر نکالے جاسکے۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے نے خوست اور پکتیا کے "مظاہروں” کی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلانے کی بھی کوشش کی لیکن ان کی یہ کوشش بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ 

  • مولانا خادم حسین رضوی وفات پاگئے

    مولانا خادم حسین رضوی وفات پاگئے

    :لاہور:مولانا خادم حسین رضوی وفات پاگئے ،خبرجنگل میں‌آگ کی طرح پھیل گئی ، ،اطلاعات کے مطابق اس وقت سوشل میڈیا پرایک خبرتیزی سے گردش کررہی ہےکہ مولانا خادم رضوی وفات پاگئے ہیں ، اس حوالے سے بعض ذرائع نے اس خبرکومصدقہ قراردیا

    ذرائع کے مطابق مولانا خادم رضوی کے بارے میں کہا جارہا ہےکہ تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی دل کے عارضے میں مبتلا تھے اوراس سے پہلے بھی ان کوکئی مرتبہ دل کی تکلیف ہوئی تھی

    یہ بھی کہا جارہا ہےکہ پچھلے دودن سے مولانا خادم حسین رضوی کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی

    2018 میں بھی تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کو دل کی تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا ۔ خادم حسین رضوی کو لاہور کے جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں لایا گیا تھا ۔ڈاکٹرو ںنے ای سی جی ،ایکسرے ،اور بلڈٹیسٹ کئے۔بعد ازاں حالت خطرے سے باہر ہونے کے بعد سخت سیکیورٹی حصار میں اسپتال کے پرایﺅیٹ روم میں منتقل کر دیا گیا تھا ۔

  • سندھ میں کرونا کی وجہ سے حالات خراب: ایمرجنسی کنٹرول روم قائم، طبی عملےکی چھٹیاں منسوخ

    سندھ میں کرونا کی وجہ سے حالات خراب: ایمرجنسی کنٹرول روم قائم، طبی عملےکی چھٹیاں منسوخ

    کراچی :سندھ میں کرونا کی وجہ سے حالات خراب: ایمرجنسی کنٹرول روم قائم، طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ،اطلاعات کے مطابق سندھ میں کورونا کیسز بڑھنے پر صوبائی حکومت نے ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کر کے محکمہ صحت کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دیں۔

    تفصیلات کے مطابق کورونا کی نئی لہر کے پیشِ نظر سندھ حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت سندھ نےایمرجنسی کنٹرول روم کانوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

    ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی چھٹی منزل پر ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کیاگیاہے جس میں 4 ڈاکٹرز سمیت 9افسران فرائض انجام دیں گے۔

    سندھ حکومت نےمحکمہ صحت میں ملازمین کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی ہیں۔اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کومیڈیکل بنیادوں پرصرف چھٹی مل سکے گی جب کہ محکمہ صحت میں گریڈ1سے18تک کےتبادلےاورتقرریوں پربھی پابندی عائد ہوگی۔

  • آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامورکی ملاقات.اہم امور پر بات چیت

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامورکی ملاقات.اہم امور پر بات چیت

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامورکی ملاقات.اہم امور پر بات چیت

    باغی ٹی وی آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامورکی ملاقات, ملاقات میں افغان امن عمل پربات چیت،آئی ایس پی آر, امریکی ناظم الامورنے افغان اورعلاقائی امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا محترمہ انگیلا ایجلر ، امریکی چارج ڈی ’اففئرس آف پاکستان‘ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی کی صورتحال خصوصا ریجنل افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


    دونوں معززین کا دورہ کرنے سے خطے میں تنازعات کی روک تھام اور پاکستان کے امن عمل میں فراہم کی جانے والی انتھک امداد کے لئے پاکستان کے تعاون کو سراہا گیا۔ فریقین نے افغانستان میں امن کے مشترکہ مقصد کے لئے امریکی تعاون کو جاری رکھنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

  • کابل اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطے رہنے چاہیئے،وزیراعظم

    کابل اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطے رہنے چاہیئے،وزیراعظم

    کابل اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطے رہنے چاہیئے،وزیراعظم

    افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات ہیں،افغانستان آنے پر وزیراعظم عمران خان کا مشکور ہوں،پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت سے سب آگاہ ہے،آزادی اظہار رائے کے حوالے سے منفی اور فمثبت ریوں میں تفریق ضروری ہے،رسولﷺ کی ناموس تمام مسلمانوں کی عزت سے جڑی ہے ،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دورہ کابل کے لیے آپ کی دعوت کامشکور ہوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات ہیں،60کی دہائی میں کابل سیاحت کےلیے بہترین مانا جاتا تھا،پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا تاریخی پس منظر ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مفاہمتی عمل میں پاکستان  نے اپنا مثبت کردار ادا کیا ،خطے میں معاشی ترقی اور مثبت رابطے کے افغانستان میں امن ناگزیر ہے ،حکومت پاکستان اور عوام افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے قبائلی علاقے متاثر ہوئے،افغان حکومت اور طالبان کےدرمیان جنگ بندی چاہتے ہیں،کابل اور اسلام آبادکے درمیان مسلسل رابطے رہنے چاہییں،امن مذاکرات کے باوجود افغانستان میں پر تشدد واقعات پر تشویش ہے

    وزیراعظم عرمان خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور روابط میں اضافہ ہوگا ،افغانستان میں امن ہمارے اپنے مفاد میں ہے،

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کابل میں افغان صدارتی محل پہنچ گئے ,وزیراعظم عمران خان کا افغان صدراشرف غنی نے استقبال کیا.وزیراعظم نے اپنے وفد کا افغان صدر سے تعارف کرایا،افغان صدرنے وزیراعظم کا اپنے وفد سے تعارف کرایا

    وزیراعظم عمران خان اور وفد کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی،صدارتی محل میں وزیراعظم عمران خان کو گارڈ آف آنر پیش کیا جا رہا ہے وزیراعظم عمران خان کو افغان مسلح افواج کے دستے نے سلامی پیش کی،تقریب کے آغاز پر دونوں ملکوں کے ترانے بجائے گئے

    وزیراعظم کابل پہنچ گئے، کون کون ہمراہ؟

    افغان صدارتی محل میں وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ،عبدالرزاق داوَد بھی وزیراعظم عمرا ن خان کے ہمراہ ہیں ،وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی ہیں،سیکریٹری خارجہ سہیل محمود اورافغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ محمد صادق بھی ہمراہ ہیں،وزیراعظم اوروفد کا کابل ایئرپورٹ پر افغان وزیرخارجہ محمد حنیف اتمرنے استقبال کیا

    وزیراعظم عمران خان دورہ افغانستان میں افغان امن عمل، دوطرفہ تعلقات پر بات کریں گے۔ وزیراعظم ایک روزہ دورہ افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہ افغانستان انتہائی اہم نوعیت کا حامل ہے۔وزیراعظم کا دورہ افغانستان کثیر الجہتی تعلقات فروغ دینے میں معاون ہوگا ،وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

    وزیرخارجہ کی وفد کے ہمراہ افغان ہم منصب سے ملاقات

  • اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالےسے پاکستانی صحافی مبشرلقمان کی گفتگوبڑی اہمیت کی حامل ہے:اسرائیلی اخبار”یروشلم پوسٹ”

    اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالےسے پاکستانی صحافی مبشرلقمان کی گفتگوبڑی اہمیت کی حامل ہے:اسرائیلی اخبار”یروشلم پوسٹ”

    یروشلم :اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالےسے پاکستانی صحافی مبشرلقمان کی گفتگوبڑی اہمیت کی حامل ہے:اسرائیلی اخباریروشلم کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی معروف اخبار یروشلم پوسٹ نے پاکستان کے معروف صحافی مبشرلقمان کی پاکستان پراسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے گفتگو بڑی اہمیت کی حامل ہے

    یروشلم پوسٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس صحافی نے جوخطرات اورخدشات بیان کیئے ہیں وہ قابل غورہیں ،یروشلم پوسٹ کا دعویٰ ہے کہ مبشرلقمان کا یہ کہنا کہ پاکستان پراس وقت کچھ ممالک کی طرف سے اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے بالواسطہ اوربلا واسطہ دبوضرور ہے

     

    یروشلم پوسٹ کے مطابق 24 نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ممتاز پاکستانی صحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے اسلام آباد پر دباؤ ڈالنے والا ملک ہے۔

    یروشلم پوسٹ کا کہنا کہ مبشرلقمان کا بیان پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کے بعد ہے کہ امریکہ اور دیگر بے نام ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے اسلام آباد کو "دباؤ میں” رکھا ہے۔

     

     

    اخبار کے مطابق مبشرلقمان کہتے ہیں کہ "مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے ،پاکستان پردباوبڑھانے میں سب سے پہلے سعودی عرب ہے ،یروشلم پوسٹ کے مطابق مبشرلقمان نے آئی 24 کوانٹریوکے دوران کو بتایا۔ "صرف چار ممالک ہیں جو پاکستان پردباوبڑھا سکتے ہیں ، ان میں‌ ایک امریکہ ، دوسرا اسرائیل ، تیسرا ہندوستان اور چوتھا سعودی عرب۔ کوئی پانچواں ملک ایسا نہیں ہے جوپاکستان پراسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے بارگیننگ کررہے ہیں

    یروشلم پوسٹ کے مبشرلقمان کا یہ دعویٰ‌ بہت وزن رکھتا ہےکہ پاکستان اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے کسی کا دباوقبول نہیں کرے گا خاص کرموجودہ وزیراعظم عمران کی موجودگی میں تواس پربحث ہی فضول ہے

    یروشلم پوسٹ کے مطابق مبشرلقمان نے خطے کی پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے ساتھ ساتھ گذشتہ برسوں میں اس کے ارتقاء کو بھی اجمالی خاکہ پیش کیا –

    جہاں ایک طرف پاکستان دباؤ کا سامنا کر رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے بہت ہمدردر چین ، ایران ، ترکی اور ملائیشیا کی شکل میں موجود ہیں ،ان حالات میں پاکستان پردنیا کے دباو کی کوئی حیثیت اوراہمیت نہیں ہے

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس اس وقت ایک مضبوط سیاسی قیادت عمران خان کی شکل میں موجود ہے جودباو کوکبھی خاطر میں نہیں لاتے

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پاکستان کواسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ آفرز ہیں ، لیکن پاکستان اپنے نظریات پرکبھی بھی سودا نہیں کرے گا

    مبشرلقمان کہتے ہیں‌ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورحکومت کے تیسرے سال پاکستان پراسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالےسے بہت زیادہ دباو تھا لیکن عمران خان نے اس کی پرواہ نہیں‌کی

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ ان پراسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے دباو ہے تو وہ صرف صرف سعودی عرب کا ہے ،سعودی عرب پاکستان کی معاشی صورت حال کوکارڈ کے طورپراستعمال کرنے کی کوشش کی جسے عمران خان نے مسترد کردیا

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ امریکہ کے نئے منتخب ہونے والے صدرجوبائیڈن بھی اسرائیل کوتسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان پردباو بڑھائین گے لیکن یہ بات طئے ہے کہ عمران خان اپنے نظریات اورپاکستانی موقف پرکبھی بھی سودا نہیں کریں گے,امریکی نومنتخب صدرجوبائیڈن افغانستان ، کشمیر ، ایران اورخطے کے دوسرے اہم مسائل کے حوالے سے بھی ایک الگ موقف رکھتے ہیں ،

     

     

    یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے دباو سے نکلنے کے لیے سعودی عرب کی طرف سے دی گئی امداد واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے اورپاکستان بہت جلد یہ 2 ارب ڈالرز سعودی عرب کوواپس کرکے سعودی عرب کے دباو کو دورپھینک مارے گا