Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • جی آئی ڈی سی کیس،نظر ثانی کی درخواست پر سپریم  کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    جی آئی ڈی سی کیس،نظر ثانی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    جی آئی ڈی سی کیس،نظر ثانی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے جی آئی ڈی سی کیس کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواست مسترد کر دی

    عدالت نے حکم دیا کہ حکومت تمام کمپنیوں سے بقایا جات 60 اقساط میں رقم اکٹھی کرے گی، سپریم کورٹ نے وکلا کو ہدایات لینے کی مہلت دے دی, جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،عدالت نے جی آئی ڈی سی فیصلے کے خلاف دائر تمام درخواستیں خارج کر دیں

    عدالت نے کہا کہ کمپنیوں کی طرف سے 456 ارب روپے کے بقایا جات ہیں،حکومت بقایاجات کی ریکوری کے لیے 24 کی بجائے60 برابر اقساط میں وصولی کرے،

    دوران سماعت عدالت نے نعیم بخاری کو دلائل نظرثانی درخواستوں تک محدود کرنے کی ہدایت کی،جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کوئی کمی ہے تو اسکی نشاندہی کریں ہم اپیلیں نہیں سن رہے، آپ اپیل نہیں نظرثانی درخواستوں پر دلائل دیں،

    وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں قدرتی گیس کی پیداوار سرپلس ہے، جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ کیا پیدا شدہ گیس وفاقی کی ملکیت ہے یا صوبوں کی ہے؟ وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ قانون کہتا ہے کہ جہاں سے گیس پیدا ہوگی اس پر پہلا حق علاقے کے عوام کا ہے،حکومت کمپنیوں سے مزید ریکوری کرنے سے پہلے موجود 295 ارب روپے استعمال کرے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 295ارب روپے بہت بڑی رقم ہے، جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ کمپنیوں کو رعایت دینے یا ریکوری کی قسطیں بڑھانے پر آپ کی کیا رائے ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ انڈسٹری پر اتنا بوجھ نہ ڈالیں ،جب چلے گی تب ریکور کر لیں،عدالت کو بتائیں جو 295 ارب روپے ریکور ہوئے وہ کہاں ہیں؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم چھ ماہ میں کام شروع کر رہے ہیں،عدالت نے کہا کہ آپ عدالت کو بتائیں کہ فیصلے کے بعد کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں؟

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے رواں برس 13 اگست کو فیصلہ سنایا تھا جس میں کہا گیا تھا گیس کمپنیوں کو گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی مد میں 417 ارب روپے ادا کرنا ہوں گے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا تھا

    عدالت عظمٰی کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے گیس کمپنیوں کی تمام اپیلیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے تمام کمپنیوں سے 31 اگست 2020 تک کی واجب الادا رقم 24 اقساط میں وصول کرنے اور شمال جنوبی پائپ لائن منصوبہ پر کام چھ ماہ میں شروع کرنے کا حکم دیدیا۔

    گیس کمپنیوں کی تمام اپیلیں مسترد۔ حکومت کو جی آئی ڈی سی یعنی گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی مد میں رقم وصولی کی اجازت مل گئی۔ سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کیس کا بیس فروری کو محفوظ کیا گیا مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے گیس کمپنیوں کی تمام اپیلیں مسترد کردیں ۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے جسٹس فیصل عرب کا تحریر کردہ سینتالیس صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں جی آئی ڈی سی کے تحت نافذ کی گئی لیوی کو آئین کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جی آئی ڈی سی ایکٹ 2015 کا مقصد گیس کی درآمد کیلئے سہولت دینا تھا۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو سیس بقایاجات کی وصولی تک مزید سیس عائد کرنے سے روکتے ہوئے کہا ہے کہ سال دوہزار بیس اکیس کیلئے گیس قیمت کا تعین کرتے وقت اوگرا سیس کو مدنظر نہیں رکھ سکتا۔ تمام کمپنیوں سے 31 اگست 2020 تک کی واجب الادا رقم 24 اقساط میں وصول کی جائے۔

    عدالت نے حکومت کو شمال جنوبی پائپ لائن منصوبہ پر کام چھ ماہ میں شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے ٹاپی منصوبہ کی پائپ لائن پاکستانی سرحد تک پہنچتے ہی اس پر فوری کام شروع کرنے کی ہدایت کردی۔

    31 صفحات پر مشتمل اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اکنامک سروے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مقامی قدرتی گیس مجموعی توانائی سپلائی کا 38 فیصد ہے۔ قدرتی گیس کی قلت اور طلب کے درمیان خلا کو پر کرنے کی ضرورت ہے۔ دس سالوں میں 295 ارب روپے جی آئی ڈی سی کی مد میں اکٹھے ہوئے۔

    وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اگرچھ ماہ میں قانون سازی نہ کر سکی تو جی آئی ڈی سی کی مد میں اکٹھا فنڈ واپس کرے۔

    مسلم لیگ ن کی حکومت نے گیس پائپ لائن منصوبوں کیلئے سیس کے نام پر ٹیکس لاگو کیا تھا۔ تاہم تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے جی آئی ڈی سی کے 220 ارب معاف کر دیئے تھے۔ تاہم اپوزیشن کی تنقید پر حکومت نے متعلقہ آرڈیننس واپس لے لیا تھا۔ جس کے خلاف کمپنیوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جہاں اپنا مقدمہ ہارنے کے بعد گیس کمپنیوں کو گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی مد میں 417 ارب روپے ادا کرنے ہوں گے

    عدالت عظمیٰ نے جی آئی ڈی سی کیس کا فیصلہ 20 فروری کو محفوظ کیا تھا،جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرنے سے قبل اجازت دی تھی کہ تمام وکلا 15 روز میں اپنی معروضات تحریر ی طور پر جمع کرا سکتے ہیں،پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی جانب سے وفاق کی سیس کی حمایت کی گئی تھی جبکہ خیبرپختونخوا حکومت نے اس کی مخالفت کی تھی۔

    چہیتوں کو نواز کرحکومت نے احتساب کے اپنے نعرے کو شرما دیا، جماعت اسلامی

    2019 میں وفاقی حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مختلف کمپنیوں کے ذمہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ٹیکس کی مد میں اربوں روپے معاف کرنے کا فیصلہ کیا تھا،بعدازاں میڈیا اور مختلف حلقوں کی مخالفت پرحکومت نے صدارتی آرڈیننس واپس لے لیا تھا۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ معاشی ٹیم اس معاملے پرمکمل تفصیل قوم کے سامنے رکھے، 208ارب روپے معاف کرنے سےمتعلق حقائق کوتوڑمروڑکرپیش کیاجارہاہے، گیس انفراسٹرکچرڈیولپمنٹ سرچارج کے حوالے سے حقائق بتانا ضروری ہیں، قومی خزانےکی حفاظت کی ذمہ داری خودلی ہے،کسی کونہیں نوازا جائے گا،

    قبل ازیں خبر آئی تھی کہ حکومت نے پاک عرب، عارف حبیب، کے ای ایس سی، عارف نقوی، ڈیسکون ، ہارون ،اوراینگرو کےایک خفیہ نوٹیفیکیشن کے ذریعے 300 ارب کی رقم واجب الادا رقم معاف کردی.ان خیالات کا اظہار معروف اینکر روف کلاسرا نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں کیا

    روف کلاسرا نے حکومت کے ان اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اینگرو کو کنٹریکٹ دے کر 200 ارب ان کو دے دیا ، روف کلاسر ا نے کہا کہ عمران خان نے قوم کا پیسہ ان چند بڑے بڑے سرمایہ کاروں کو معاف کرکے زیادتی کی ہے. عمران خان کو چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس جانا چاہئے تھا.

  • گلگت بلتستان پاکستان کا پانچواں صوبہ: کن مراحل سے گزرا اوراس کی آئینی حیثیت کیا ہے؟دلچسپ رپورٹ

    گلگت بلتستان پاکستان کا پانچواں صوبہ: کن مراحل سے گزرا اوراس کی آئینی حیثیت کیا ہے؟دلچسپ رپورٹ

    گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت جاننے کے لیے خطے کے جغرافیائی، تاریخی اور معروضی حالات کے حقائق کو مدنظر رکھنا لازمی ہے۔ اس کے بغیر صورت حال کا سمجھنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے اور بغیر سوچے سمجھے کیے ہوئے اقدام کا انتہائی منفی اثر پڑتا ہے،

    گلگت بلتستان کا رقبہ تقریباً 73 ہزار مربع کلومیٹر (28 ہزار مربع میل) سے زیادہ ہے۔ 2015 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق گلگت بلتستان کی آبادی لگ بھگ 18 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔جو اب بڑھ کرساڑھے اٹھارہ لاکھ کے لگ بھگ ہے

    گلگت۔بلتستان کے جنوب میں پاکستان کا زیر انتظام کشمیر، مغرب میں صوبہ خیبر پختونخوا، شمال میں افغانستان کی واخان راہداری، مشرق اور شمال مشرق میں چین کا سنکیانگ خطہ اور جنوب مشرق میں ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لداخ واقع ہیں۔

    دولاکھ کی آبادی سے زیادہ کا گلگت شہر اس خطے کا دارالحکومت ہے۔ گلگت بلتستان انتہائی پہاڑی علاقہ ہے اور یہاں 8000 میٹر (کے ٹو اور نانگا پربت سمیت) کی اونچائی کی پانچ اور 7000 میٹر کی 50 سے زیادہ چوٹیاں موجود ہیں۔

    قطبی خطوں سے باہر دنیا کے تین طویل ترین گلیشیئر بھی اسی علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ پاکستان اور دنیا بھر سے سیاح اس خطے کا رخ کرتے ہیں اور یہاں ٹریکنگ اور کوہ پیمائی کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    انتظامی طور پر گلگت بلتستان کو تین ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں بلتستان، گلگت اور دیامیر شامل ہیں۔ بلتستان اور گلگت چار، چار اور دیامیر دو اضلاع پر مشتمل ہیں۔

    گلگت بلتستان دنیا کی 6میں 4بڑی ایٹمی قوتوں پاکستان، چین، بھارت اور روس کے درمیان واقع ہے جبکہ افغانستان میں سپرپاور امریکا کی موجودگی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر چہ یہ خط 28ہزار مربع میل پر پھیلے ہوئے 20لاکھ افراد کا مسکن ہے، مگر خطے کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت نے خطے کو 28لاکھ مربع میل رقبہ اور کروڑوں کی آبادی رکھنے والے ملک سے زیادہ اہمیت کا حامل بنا دیا ہے۔ گلگت بلتستان کی یہ اہمیت صدیوں سے ہے، بلکہ مستقبل کے حوالے سے اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام عالمی قوتوں کی نظریں خطے پر لگی ہوئی ہیں۔

    یہ خطہ 73سے75ڈگری مشرقی طول بلد اور 35سے37ڈگری شمالی عرض بلدکے درمیانی علاقے پر محیط ہے۔ گلگت بلتستان بنیادی طور پر 2ریجن پر مشتمل ایک خطہ ہے، جس کے 6اضلاع، 20تحصیل اور 10سب ڈویژن ہیں۔ گلگت ریجن 4اضلاع گلگت، دیامر، غذر اور استور، جبکہ بلتستان ریجن 2اضلاع سکردو اور گنگ چھے پر مشتمل ہے۔ دونوں ریجن میں مختلف مکاتب فکر اور زبانوں کے لوگ آباد ہیں۔ خطے کی سب سے بڑی زبان شیناہے، جو ضلع دیامر اور استور میں 100فیصد، ضلع گلگت میں تقریباً50فیصد، ضلع غذر میں 40فیصد، سکردو میں 10فیصد اور گنگ چھے میں 5فیصد بولی جاتی ہے۔

    دوسری بڑی زبان بلتی ہے جو بلتستان ریجن کے 2اضلاع سکردو اور گنگ چھے میں بالترتیب 90اور 95فیصد بولی جاتی ہے۔ تیسری بڑی زبان بروشسکی ہے جوضلع گلگت میں 30 فیصد اور غذر میں 15فیصد بولی جاتی ہے۔ چوتھی زبان کھوار ہے جو ضلع غذر میں 45فیصد اور ضلع گلگت میں 5فیصد بولی جاتی ہے، جبکہ وخی ضلع گلگت میں 15فیصد بولی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر پورے خطے میں شینا 50فیصد، بلتی 30فیصد، بروشسکی10فیصد، کھوار اور وخی 10فیصد بولی جاتی ہے۔

    بلتستان ڈویژن میں شامل اضلاع سکردو ، شیگر ، کھرمنگ اور گھانچے ہیں جبکہ گلگت ڈویژن گلگت، غیزر، ہنزہ اور نگر نامی اضلاع پر مشتمل ہے۔ اسی طرح دیامیر ڈویژن کے دو اضلاع میں دیامیر اور استور شامل ہیں۔

    گلگت بلتستان کو شروع دن سے جن آئینی مسائل کا سامنا کرناپڑا وہ کچھ اس طرح ہےکہ نومبر1947میںمقامی آبادی اپنی مدد آپ کے تحت ڈوگرہ سرکار کو بدترین شکست دے کر اس خطے کو آزاد کرانے میں کامیاب ہوئی اور16نومبر1947کو الحاق پاکستان کا مرحلہ بھی مقامی قیادت کی مرضی و منشا پراحسن طریقے سے تکمیل پاتا ہے۔ سردار عالم گلگت کے پولیٹیکل ایجنٹ مقرر ہوتے ہیں اور اس علاقے کو ایجنسی میں تبدیل کرکے ایف سی آرکا نفاذ کیا جاتا ہے۔ عوامی سطح پر اس کے مذکورہ فیصلے کی کوئی خاص پذیرائی نہیں ہوتی ہے۔ لیکن سیاسی ارتقاء کا یہ پہلا قدم عوام کو ایک نئے دور سے آشنا کراتا ہے اور یہ سلسلہ 1949تک چلا جاتا ہے ،

    28اپریل 1949کو دو کشمیری رہنمائوں سردار ابراہیم اور غلام عباس کے ساتھ وزیر بے محکمہ مشتاق گورمانی کے دستخطوں سے ایک معاہدہ طے پاتا ہے جسے معاہدہ کراچی کہتے ہیں۔ اس معاہدے کی رُو سے یہ خطہ( گلگت بلتستان) انتظامی طور پر ریاست پاکستان کے زیرِ انتظام آجاتا ہے۔ ایوب خان کے زمانے میں گلگت بلتستان کو پہلی مرتبہ جمہوری تصور دیا جاتا ہے اور یوں 1960کی دہائی میں زرعی صنعتی پروگرام کے نام پر ایک نئے سیاسی نظام کی شروعات ہوتی ہیں۔

    گلگت بلتستان میں بنیادی جمہوریت کے نام پر ایک ادارہ 1961میں بلتستان اور 1964میں گلگت میں قائم ہوتا ہے جس کے تحت پہلی دفعہ یونین کونسلیں ،تحصیل کونسلیں اور ضلع کونسلیں تشکیل دے کر بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عوامی نمائندوں کا انتخاب ہوا اس عمل سے عوام میں جمہوری رویے پروان چڑھنے لگے جبکہ عوام کا اعتماد ریاست اور ریاستی اداروں پر پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔

    1970کی دہائی تک ارتقاء کایہ عمل اسی طرح جاری رہا مگر 1970میں پہلی بار سیاسی اصلاحات کے ساتھ گلگت بلتستان میں ایک مشاورتی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس کونسل کے انتخابات 30دسمبر 1970کو منعقد ہوئے اور کُل 21منتخب و نامزد اراکین سامنے آئے۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے گلگت بلتستان کی سیاست کو مزید ارتقائی عمل سے گزارتے ہوئے مشاورتی کونسل کا نام تبدیل کرکے ناردرن ایریاز کونسل رکھا اور خطے کا نام بھی جو کہ گلگت بلتستان تھا اب ناردرن ایریاز بن گیا۔

    اس دور میں گلگت بلتستان میں2نئے اضلاع کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔اسی طرح شمالی علاقہ جات کونسل کی تیسری مدت کے انتخابات 11اکتوبر1979کو منعقد ہوئے،چوتھی مدت کے انتخابات 26اکتوبر 1983کو، پانچویں مدت کے انتخابات 11نومبر1987کو، چھٹی مدت کے انتخابات نومبر1991کو منعقد ہوئے جس میں ایک مذہبی طبقے نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا ،ساتویں مدت کے الیکشن اکتوبر1994میں منعقد ہوئے۔ یہ الیکشن پہلی دفعہ سیاسی جماعتی بنیادوں پر ہوئے کیونکہ اس سے قبل جتنے بھی الیکشن ہوتے رہے وہ یا تو آزاد انہ حیثیت سے ہوئے یا مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہوتے رہے۔

    گلگت بلتستان کی جمہوری و سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب 1999-2000کے دوران اُس وقت کی وفاقی حکومت نے لیگل فریم ورک آرڈر1994 میں ایک ترمیم کے ذریعے ناردرن ایریاز کونسل کا نام تبدیل کرکے ناردرن ایریاز قانون ساز کونسل رکھ دیا جبکہ پہلی مرتبہ سپیکر کے عہدے کے علاوہ تین خواتین کی مخصوص نشستیں بھی مقرر کردی گئی اور 1999میںآٹھویں مدت کے انتخابات منعقد ہوئے۔

    12اکتوبر2004کو نویں انتخابات منعقد ہوئے۔دسویں انتخابات کے انعقاد سے قبل جنرل(ر)پرویز مشرف کے دور میں گلگت بلتستان میں سیاسی عمل کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ ہوا۔ گلگت بلتستان جو خطے کا پرانا نام تھا۔ اُسے عوامی و منتخب نمائندوں کی متفقہ رائے سے بذریعہ اسمبلی قرارداد بحال کیا گیا ،انہی دنوں جنرل (ر)پرویز مشرف کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور مرکز میں ایک مرتبہ پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور آصف علی زرداری پاکستان کے صدربن گئے۔

    چونکہ گلگت بلتستان سطح پر 2009میں دسویں انتخابات کا انعقاد ہونا تھا اس سے قبل پیپلز پارٹی کی قیادت نے جنرل (ر)پرویز مشرف دور کے گلگت بلتستان کے لئے تیار شدہ سیاسی اصلاحاتی مسودے میں ضروری ترامیم کے بعدایک صدارتی آرڈر جاری کیا جسے گورننس آرڈر 2009کا نام دیا گیا، اسی آرڈرکی رُو سے گلگت بلتستان کو پہلی بار صوبائی طرز کا نظام دیا گیااور گورنر و وزیر اعلیٰ جیسے منا صب متعارف کرائے گئے گو کہ اس آرڈر کو کسی بھی قسم کا آئینی تحفظ نہیں دیاگیا اس آرڈر کی کوکھ سے گلگت بلتستان کونسل کے نام سے ایک اور ادارے کا قیام عمل میں آیا جس کے چیئرمین وزیر اعظم پاکستان قرار پائے۔ کونسل کے کل ممبران کی تعداد12جن میں سے چھ وفاق سے نامزد اورچھ گلگت بلتستان اسمبلی کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے 52شعبوں کے اختیارات اور قانون سازی کا حق کونسل کو دے دیا گیا

    جس پر گلگت بلتستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز نے اختیارات کی وفاق کو منتقلی پر تحفظات کا اظہار کیامگر دوسری جانب آرڈر2009کو سیاسی ارتقاء کا بڑا قدم بھی تسلیم کیا گیامگر آئینی حقوق قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی کا مطالبہ نوجوان نسل کا پاپولر ٹرینڈ بنتا رہا۔اور عوامی مطالبے پر سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے سرتاج عزیز کی سربراہی میں گلگت بلتستان و فاٹا کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لئے الگ الگ آئینی اصلاحاتی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایات جاری کیں۔فاٹا کے لئے تو خوش خبری سنادی گئی مگر گلگت بلتستان کے لئے آرڈر 2018کے نام سے مالی و سیاسی اختیارات دینے کا اعلان ہوا۔

    اس نئے آرڈر میں گلگت بلتستان کونسل کے اختیارات کم کرکے صوبے کے سپرد کئے گئے اور کونسل کی محض مشاورتی حیثیت برقرار رکھی گئی۔ تاہم مذکورہ آرڈر کو عوامی سطح پر پذیرائی نہیں ملی کیونکہ گلگت بلتستان کی نوجوان نسل وفاق کے بڑے اداروں میں نمائندگی چاہتی ہے۔ اس آرڈر کو بعض مقامی شخصیات نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کچھ سماعتوں کے بعد وفاقی حکومت کو تنبیہہ کی کہ وہ جلد از جلد گلگت بلتستان کی محرومیوں کے خاتمے کے لئے سرتاج عزیز کی سفارشات کو رپورٹ کی شکل میں عدالت میں پیش کریں یا خود حکومت گلگت بلتستان کے لئے آئینی،مالی و سیاسی اختیارات کا اعلان کرے۔ اِسی تناظر میں نئے منتخب وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایک کمیٹی تشکیل دی

    ویسے تو گلگت بلتستان کو ملک کا 5واں صوبہ بنانے کی باتیں زباں زدِ عام ہورہی تھیں دوسری طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریاست آئین کے تحت عوامی آراء کو اہمیت دینے کی پابند ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام چاہتے ہیں کہ ہمیں پاکستان کا ایک الگ 5واں صوبہ بنا دیا جائے تاہم اِس مطالبے پر عمل درآمد میں حکومت کو کچھ مجبوریاں درپیش ہیں۔

    وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف گلگت بلتستان کے عوام بے حد مثبت سوچ کے ساتھ دیکھ رہے تھے پھر کیا ہوا کہ گلگت بلتستان کے قومی دن کی اہم تقریب میں وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کو مد نظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا واحد وزیراعظم ہوں جو گلگت بلتستان کے قومی دن کی تقریب میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔ آئندہ ہر سال اس تقریب میں شریک ہوا کروں گا۔

    اوریوں 73 سال سے ایک پچیدہ معاملہ عمران خان نے حل کرکے ثابت کردیا کہ وہ مملکت پاکستان کو مضبوط سے مضبوط بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے،

  • 18 سال سے کم اور50 سال سے زائد کے زائرین عمرے پرنہ آئیں :نئی عمرہ پالیسی کا اعلان

    18 سال سے کم اور50 سال سے زائد کے زائرین عمرے پرنہ آئیں :نئی عمرہ پالیسی کا اعلان

    ریاض :18 سال سے کم اور50 سال سے زائد کے زائرین عمرے پرنہ آئیں :نئی عمرہ پالیسی کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق سعودی وزارۃ الحج والعمرہ کی طرف سے باقاعدہ عمرہ پالیسی کا اعلان کردیا گیا ہے ۔

    سعودی وزارت حج کی طرف سے بتایا گیا ہےکہ کچھ اہم نکات 1442 عمرہ کے لئے (ان میں وقت کیساتھ ساتھ تبدیلی آئے گی ان شاء اللہ اور چیزیں آسانی کی طرف جائیں گی)

    1. عمرہ کے لئے عمر 18 سے 50 سال ہونا ضروری ہے.

    2. عمرہ کے لئے گروپ کم سے کم 50 حاجیوں کا ہونا چاہیے.

    3. عمرہ سے جانے سے پہلے 72 گھنٹے پہلے کرونا ٹیسٹ کروانا ضروری ہوگا۔

    4.عمرہ پروگرام زیادہ سے زیادہ 10 دن کا ہوگا۔جس میں تین دن کی مدت کے لئے ہوٹل کے اندر مکمل طور پر قید ہونا ضروری ہوگا۔اس میں 03 دن کا کھانا عمرہ پیکج میں لینا ضروری ہوگا۔

    5. عمرہ پیکج میں کم سے کم ہوٹل تھری سٹار بک کرنا ہوگا.
    یکم جنوری سے امید ہے نارملائزیشن ہو گی اور عمرہ معمول کے مطابق بحال ہو جائے گا۔
    پاکستانی معتمرین سے التماس ہے کہ بکنگ کے لئیے جلدی ہرگز نا کریں بلکہ حالات بہتر ہونے کا انتظار کریں

  • مریم نوازکی”شیرجوان”مکتی باہنی کی جدید شکل،خطرناک حلف،خطرناک عزائم :جنہوں نے پاکستان ٹوٹتے دیکھا وہ ہوگئے پریشان

    مریم نوازکی”شیرجوان”مکتی باہنی کی جدید شکل،خطرناک حلف،خطرناک عزائم :جنہوں نے پاکستان ٹوٹتے دیکھا وہ ہوگئے پریشان

    لاہور:مریم نوازکی”شیرجوان”مکتی باہنی کی جدید شکل،خطرناک حلف،خطرناک عزائم :جنہوں نے پاکستان ٹوٹتے دیکھا وہ ہوگئے پریشان،اطلاعات کے مطابق نوازشریف کی ہدایت پرنئی بظاہرسیاسی مگرشدت پسند تنظیم کی بیناد رکھ دی گئی ہے اوراس کا نام "شیرجوان ” رکھا گیا ہے، لیکن اس تنظیم کے حلف نامے کودیکھ کراندازہ ہوتا ہےکہ یہ مکتی باہنی کی جدید شکل ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق مکتی باہنی کے عزائم توخفیہ تھے مگرمریم نواز کی اس شدت پسند تنظیم کے عزائم خطرناک بھی ہیں اوراعلانیہ بھی ہیں ، اس حوالے سے جن لوگوں نے مشرقی پاکستان کوٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے ان کا کہنا ہےکہ یہ تو مکتی باہنی کی جدید اورخطرناک شکل ہے جس کے عزائم کسی سے ڈھکے چپھے نہیں

    باغی ٹی وی کے مطابق اس تنظیم کا حلف نامہ جو کہ نوازشریف کی ہدایت پراورنوازشریف کے محسنوں کی مشاورت سے تیارکیا گیا ہے اس کو پڑھنے کے بعد اب کسی شک کی گنجائشن نہیں رہی

    پہلے تو پورے ملک سے ایک خاص طبقے کواس میں شامل ہونے کی ترغیب دی گئی اورپھراس ان خاص عزائم پرقسم لی گئی کہ وہ اس حلف کی پاسداری کریں گے

    یہ حلف نامہ کیا ہے ؟ اس کے اہم نقات پرغورکرنا نہ بھولیئے!

     

    نوازشریف کا پہلا فرمان "شیرجوان” کا حلفیہ بیان اپنی ذات کےلیے لوگوں سے قسمیں اٹھائی جارہی ہیں ووٹ کے تقدس کی بحالی کے لیے قیادت کے ہرپروگرام میں حاضر ہونے کا پابنداورمقاصد کے حصول تک قیادت کی ہر آوازپرہمہ وقت تیاررہوں گا /گی

     

     

    نوازشریف کا دوسرا فرمان "شیرجوان” کا حلفیہ بیان ملکی اداروں سے ٹکرانے کی قسمیں ووٹ کی عزت کی خاطرریاستی اداروں سے خوف کو پس پشت ڈالے ٹکراوسے دریغ نہیں کروں گا/گی

     

     

    نوازشریف کا تیسرا فرمان "شیرجوان” کا حلفیہ بیان وطن ،مملکت خداداد کاتصورختم کرنے کی کوشش اور ایسا تصور جیسے کسی بیگانے ملک کا نام لے کرربات کی جاتی ہے ہرپروگرام میں نظم وضبط کوپاکستانی قانون کے مطابق ملحوظ خاطررکھوں گا/گی

     

     

    نوازشریف کاچوتھا فرمان "شیرجوان” کا حلفیہ بیان قیادت یعنی نوازشریف کی اطاعت کا حلف لیا گیا ہے ،نوازشریف کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہوگا قیادت کے ہرفیصلے پربغیرکسی سوال سرتسلیم خم کروں گا/ گی

     

    نوازشریف کاپانچواں فرمان "شیرجوان” کا حلفیہ بیان نوازشریف کوپاکستان واپس نہ آنے دینےکی قسم بیرون ملک علاج کے غرض سے مقیم قیادت کوزبردستی پاکستان لانے کے اقدامات کئےگئے تواس کی مخالفت میں جیل جانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا / گی

     

     

    نوازشریف کاچھٹا فرمان "شیرجوان” کا حلفیہ بیان سوشل میڈیا پر ملکی اداروں کے خلاف نوازشریف اورحامیوں کی پراکسی وار میں ساتھ دینے کی قسم سوشل میڈیا پرقیادت کے بیانیئے کی تشہر کے لیے ہردم موجود رہوں گا / گی

     

    ادھر ن لیگ کی ترجمان اور اہم رہنما عظمیٰ بخاری نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہےکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اورنہ ہی یہ حلف نامہ جاری کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ فیک ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہے

     

  • "شیرجوان”بظاہرسیاسی مگرایک شدت پسند تنظیم کی بنیاد،فنڈزکون دے گا،تربیت کون کرے گا،تلخ حقائق سامنے آگئے

    "شیرجوان”بظاہرسیاسی مگرایک شدت پسند تنظیم کی بنیاد،فنڈزکون دے گا،تربیت کون کرے گا،تلخ حقائق سامنے آگئے

    لاہور:”شیرجوان”بظاہرسیاسی مگرایک شدت پسند تنظیم کی بنیاد،فنڈزکون دے گا،تربیت کون کرے گا،ترش حقائق سامنے آگئے،اطلاعات کے مطابق نوازشریف کی ہدایت پرمریم نواز نے "شیرجوان”شدت پسند تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے ، اس تنظیم کو فنڈز کہاں سے ملیں گے اوراس کو تربیت کون دے گا،اب یہ بحث زورپکڑ رہی ہے

    ذرائع کے مطابق اس تنظیم کی بنیاد کا فیصلہ اس وقت ہی ہوگیا تھا جب عمران خان نے ٹائگرفورس کی بیناد رکھی ،تاہم اس کا خاکہ کیا ہوگا اوراس کو کیسے فعال رکھا جائے گا اس حوالے سے ابھی بحث باقی تھی،لیکن عدالتوں کی طرف سے سخت وارننگ ملنے اورپارٹی اراکین کی طرف سے نوازشریف کے بیانیے سے دوری کی وجہ سے اس کو جلدی فعال کرنا پڑا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نوازشریف کو چند محسنوں کی طرف سے یہ مشورہ دیا گیا کہ پاکستان میں ایسے نوجوانوں کو اپنے قریب کیا جائے جوفوج اور فوج نوازسیاسی جماعتوں سے دوررہنا چاہتے ہیں ، اس کے لیے سب سے پہلے یونیورسٹی لیول اور ایسے ہی دیگرایسے نوجوانوں سے رابطے کی تاکید کی گئی

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ پاکستان میں مریم نواز کی اس سلسلے میں معاونت احسن اقبال ، پرویز رشید،شاہد خاقان عباسی کررہے ہیں، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ مریم نواز ن لیگ سے وابستہ ایم ایس ایف یونین کو بھی اس نئی تنظیم میں شامل کرنے کا ہدف دے چکی ہیں

    اس تنظیم کو پانچوں صوبوں سمیت آزاد کشمیر میں فعال کرنے کا ہدف اپنا رکھا ہے،

    اس تنظیم میں شامل لوگوں کی برین واشنگ کےلیے مینوئل تیارکیا جارہا ہے، اس میں‌شامل نوجوانوں کے لیے وسائل کی ذمہ داری مریم نواز نے اٹھائی ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ مریم نواز کو لندن سے یہ ہدایت ہے کہ فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے پریشان نہیں ہونا

    ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس تنظیم کے ذریعے مریم نواز ملک میں اداروں کے خلاف جاری تحریک کو ہر صورت زندہ رکھنا چاہتی ہیں تاکہ ادارے کسی بات پرآکر ان کے ساتھ بارگیننگ کے لیے تیار ہوجائیں

    کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ مریم نوازاپنی شیر جوان تنظیم کوٹائگرفورس سے الجھاوکے لیے استعمال کریں گی اور اس کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کی کوشش کریں گی

  • وزیراعظم کے ہنگامی دورے جاری: دیامیر بھاشا ڈیم پہنچ گئے، مزدورں سے گفتگو ،حالات کا جائزہ لیا

    وزیراعظم کے ہنگامی دورے جاری: دیامیر بھاشا ڈیم پہنچ گئے، مزدورں سے گفتگو ،حالات کا جائزہ لیا

    گلگت:وزیراعظم کا دیامیر بھاشا ڈیم سائٹ کا دورہ،مزدورں سے گفتگو،خیریت دریافت کی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان میں دیامیر بھاشا ڈیم سائٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے انھیں منصوبے بارے بریفنگ دی۔

    وزیراعظم عمران خان ںے ڈیم پر جاری کام کا جائزہ لیا اور مزدوروں سے گفتگو کی۔ وزیراعظم نے اس دوران مزدوروں کی ان کے اہل خانہ کی خیریت دریافت کی اور پھر ان کی خوشحالی اورسلامتی کی دعا بھی ،

    ادھر ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دیامیر بھاشا ڈیم ملک کے لیے اہم ترین منصوبہ ہے۔ جہاں اس ڈیم سے پانی ذخیرہ اور بجلی بنے گی، وہاں اس کی وجہ سے تربیلہ ڈیم کی کارآمد معیاد میں اضافہ ہوگا۔ اس سے روزگار کے مواقع ملیں گے اور معیشت مزید مستحکم ہوگی۔

    یاد رہے کہ پاکستان چین کی مدد سے یہ منصوبہ بنا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے رواں سال 15 جولائی کو دیامربھاشا ڈیم کے تعمیراتی منصوبے کا افتتاح کیا تھا۔

    افتتاح کے موقع پر عمران خان کے ہمراہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ ماضی میں ڈیموں کی تعمیر پر توجہ نہ دینا پاکستان کی غلطی تھی۔ یہ فیصلہ چالیس پچاس سال پہلے کیا گیا تھا اور اب اس منصوبے پر کام شروع ہو رہا ہے۔ یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ ہم ترقی نہیں کرسکے۔

    ادھر حکومت پاکستان کو امید ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم منصوبے سے 4500 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی اور 16000 سے زائد افراد کو روزگار ملے گا۔

  • گلگت بلتستان کی عوام کومبارک ہو بہت اچھا ہوا:کشمیر کی اہم شخصیت کا بڑا پیغام

    گلگت بلتستان کی عوام کومبارک ہو بہت اچھا ہوا:کشمیر کی اہم شخصیت کا بڑا پیغام

    مظفرآباد:گلگت بلتستان کی عوام کومبارک ہو!بہت اچھا ہوا:کشمیر کی اہم شخصیت کا بڑا پیغام ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کے اعلان پرکشمیری لیڈروں کا ردعمل آنا شروع ہوگیا ہے ۔

    وزیراعظم پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان کوصوبے بنانے کے حوالے وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، گلگت بلتستان کے لوگوں نے بے سروسامانی کے عالم میں جنگ لڑی۔

    ان کا کہنا تھا کہ گلگت کی حیثیت بدلنے پر ایک وزیر نے کہا ہندوستان میں صف ماتم بچھ گئی، تو کیا مودی گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے غمزدہ ہوگا؟ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا سیاسی نہیں سیکیورٹی ایشو ہے اور کشمیرعلاقائی تنازع نہیں، رائے شماری کا معاملہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ افسوس ہے گلگت کو صوبہ بنانے کیلئے الیکشن کا موقع استعمال کیا گیا، وزیراعظم پاکستان کو اس چیز سے مبرا ہونا چاہیے تھا۔

    راجا فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ صوبہ بننے کے بعد گلگت بلتستان کے لوگوں کو ٹیکس دینا ہوگا، اب یہ آزادی ختم ہوگی، ایک ہاتھ سے لیں گے تو دوسرے سے دیں گے۔

  • عمران خان نے پیٹھ میں‌چھراگھونپا ہے ، گلگت بلتستان کوپاکستان کاحصہ نہیں مانتے،بھارت چیخ اٹھا

    عمران خان نے پیٹھ میں‌چھراگھونپا ہے ، گلگت بلتستان کوپاکستان کاحصہ نہیں مانتے،بھارت چیخ اٹھا

    نئی دہلی : عمران خان نے پیٹھ میں‌چھراگھونپا ہے ، گلگت بلتستان کوپاکستان کاحصہ نہیں مانتے،بھارت چیخ اٹھا ،اطلاعات کے مطابق بھارت نے وزیراعظم پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان کوپانچواں صوبہ بنانے کی نہ صرف شدید مخالفت کی ہے بلکہ یہاں تک کہہ دیا ہے کہ عمران‌خان نے بھارت کوگہرا زخم دیا ہے

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت نے اعتراض کرتے ہوئے کہا ہےکہ پاکستان کے مقبوضہ جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوششوں پربھارت کو منظورنہیں اوراس پر اعتراض بھی ہے۔

    وزارت خارجہ نے گلگت بلتستان کو پاکستان کی پانچواصوبہ بنانے اور اس کے قبضے والے جموں وکشمیر خطے میں انتخابات کرانے کی کوشش پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پاکستان کا فوجی قبضہ ہے اور اس خطے میں موجودہ صورتحال کی تبدیلی کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ اس طرح کی کارروائی غیر قانونی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ مرکزکے زیر انتظام ریاستیںہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں اور پاکستان کو ہندوستان کے اندرونی معاملات میں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

    بھارت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے بھارت کے اندورونی معاملات میں دخل اندازی کرتا رہا ہے. ہندستا ن نے ہمیشہ ایک اچّھے پڑوسی کی طرح پاکستان کا احترام کیا لیکن جواب میں پاکستان نے کشمیر میں ہنگامہ کرنے والوں کا ساتھ دیا . کشمیر بھارت کا ایک اٹوٹ حصّہ ہے یہ بات ساری دنیا کو معلوم ہے. پاکستان کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ کشمیر ہمیشہ سے بھارت کا حصّہ رہا ہے. کوئی بھی طاقت کشمیر کو بھارت سے جدا نہیں کر سکتا ہے. لیکن پاکستان اب گگت بلتستان مے اپنی حرکت کر رہا ہ

  • اگر تین بار کا وزیر اعظم گھر جا سکتا ہے تو کوئی  مقدس گائے نہیں‌ ہے ، مریم نواز

    اگر تین بار کا وزیر اعظم گھر جا سکتا ہے تو کوئی مقدس گائے نہیں‌ ہے ، مریم نواز

    اگر تین بار کا وزیر اعظم گھر جا سکتا ہے تو کوئی اور مقدس گائے نہیں‌ ہے ، مریم نواز

    باغی ٹی وی : مریم نواز نے "شیر جوان ” تحریک کی افتتاحی تقریب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا جزبہ دیکھ کر لگ رہاہے کہ یہ طوفان اب رکنے والا نہیں‌ہے. ہم اس محدود جگہ پر مجبوری کی وجہ سے جمع ہوئے ہیں‌کیونکہ ہم پر اپنے دروازے بند کردیے گئے ہیں .ہم ایسی تقریبات ہر صوبے میں کریں گے مجھے پاکستان کے ہر حصے سے مسجز آ رہے ہیں. ہم ہر جگہ جاکر "شیر جوان "تحریک کا افتتاح کریں .
    مریم نواز نے جوانوں کو مخاطب کرتےہوئے کہا یہ دراصل 1931ء میں قائد اعظم کے اس خطاب کا تسلسل ہے جب انہوں نے جوانوں کو کرتےہوئے فرمایا تھا.
    مریم نواز نے کہا کہ یہ "شیر جوان تحریک” اب آزادی کی حفاظت کرے گی . وہ آزادی جو بولنے کا حوصلہ دیتی ہے. ان کا کہنا تھا ہمیں‌ہمارا حق ہمیں‌بھیک کی طرح دیا جائے گا تو یہ بھی غلامی ہے . غلامی یہ ہوتی ہےکہ جب سندھ کے آئی جی کو اغوا کر لیا جاتا ہے صرف اس وجہ سے اس نے غلط مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا تھا.نواز شریف آپ ایسی غلامی سے نجات دلانے کے لیے نکلی ہیں.


    مریم نواز نے کہا کہ اگر یہ نہ روکا گیا توہر گھر کا دروازہ توڑ کر داخل ہوا جائے گا. اس لیے اس غلامی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجاؤ.
    مریم نواز نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپ؛ نے آئین پاکستان مطالعہ پاکستان میں‌پڑھا ہوا ہے نواز شریف اسی آئین کی پاسداری کے لیے اٹھا ہے .
    ادھر مریم نواز نے کی تقریر میں یہ نعرے لگ گئے "یہ جو مارا مارا ہے اس کے پیچھے وردی ہے. یہ جو دہشت گردی اس کے پیچھے وردی ہے .

    مریم نواز نے جنرل عاصم سلیم باجوہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ آپ نوکری پیشہ ہوتےہے کھربوں کی جائیداد کیسے بن گئی. یہ کوئی مقدس گائے نہیں ہے . اگر تین بار کا وزیراعظم نواز اگر نیب میں‌پیش ہوکر گھر بھیجا جاسکتا ہے تو کوئی اور کیوں نہیں‌. جنرل بھی اس طرح قابل گرفت ہیں.

  • نوازشریف نے مریم نواز کا تالہ توڑنے والے کے بارے میں پھربڑی بات کہہ دی

    نوازشریف نے مریم نواز کا تالہ توڑنے والے کے بارے میں پھربڑی بات کہہ دی

    لندن:نوازشریف نے مریم نواز کا تالہ توڑنے والے کے بارے میں پھربڑی بات کہہ دی ،اطلاعات کے مطابق نوازشریف کو اس شخص کے بارے میں بڑی جستجو ہےنے رات کےاندھیرے میں مریم نوازکا تالا توڑا

     

    ذرائع کے مطابق آج پھرنوازشریف نے اپنے اندازکلام سے اس مسئلے کوپھر سے ہوادینے کی کوشش کی ہے ، نوازشریف نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ہےکہ !IG اور AIG سندھ کے اغوا اور مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑنے کے واقعے کا بڑا دکھ ہے

    نوازشریف نے مزید کہا کہ !انکوائری کے نتائج جنرل باجوہ کی ذاتی یقین دہانی کے باوجود اب تک قوم کے سامنے نہیں آسکے۔ کیا قوم کو اس تاخیر کی وجہ جاننے کا حق ہے؟

    نواز شریف نے کہا کہ یہ مسئلہ اتنا پیچیدہ تو نہیں کہ اس پر چند گھنٹوں سے زیادہ وقت درکار ہوتا۔