لاہور:سعودی عرب میں فرانسیسی قونصل خانےکےگارڈ پرحملہ کرنے والا شہری گرفتار،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ جدہ شہر میں فرانسیسی قونصل خانے میں ایک سعودی شخص نے سیکورٹی گارڈ پرحملہ کرکے اسے زخمی کردیا ہے
ذرائع کے مطابق سعودی سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا جب سعودی شخص نے فرانسیسی قونصل خانے میں جانے کی کوشش کی
دوسری طرف سعودی حکام کا کہنا ہےکہ سعودی عرب سمیت عالم اسلام میں یہ ردعمل فرانسیسی صدر اورہم نواوں کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کے بعد پیدا ہوا جس میں آہستہ آہستہ شدت آرہی ہے،
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتارشخص سے تفتیش جاری ہے اورتمام پلووں کا جائزہ لیا جارہا ہے
وزیراعظم، آرمی چیف کی ملاقات، اہم امور پر ہوئی بات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمرا ن خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں پاک فوج کے پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال کیاگیا ،ملاقات میں داخلی سلامتی اور سیکیورٹی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا
وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات بھی زیرغورآئے
Chief of Army Staff General Qamar Javed Bajwa called on Prime Minister @ImranKhanPTI at Islamabad today.
Professional matters pertaining to Pakistan Army, internal and external security situation was discussed during the meeting. pic.twitter.com/dccFJmefLm
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی بڑی امید پیدا ہو گئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ اجلاس میں وفاقی حکومت نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو پاکستان واپس لانے کے لئے بے بسی کا اظہار کیا ہے تا ہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے رحم کی اپیل پر دستخط کر دیئے ہیں
سینیٹر مشتاق احمد کا سینیٹ اجلاس میں کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی کی گھر والوں سے ٹیلیفون پر بات نہیں کرائی جارہی، جس پروزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ عافیہ صدیقی نے رحم کی اپیل پر دستخط کر دیے ہیں ،پہلے ڈاکٹرعافیہ صدیقی رحم کی اپیل دائر کرنے پر تحفظات کررہی تھیں،ہمارے اختیار میں ہوتا تو ہم عافیہ صدیقی کو 24 گھنٹے کے اندر لے آتے،
ڈاکٹر بابر اعوان کا مزید کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی کو ای میل رسائی حاصل ہے ،عافیہ صدیقی اس کے ذریعے اپنے خاندان اورقونصل سے رابطے میں رہیں،ڈاکٹر عافیہ نے ہمارے سفارتخانے سے کئی مرتبہ ایمبیسی ٹیلیفون پر بات کی ،خاندان سےٹیلیفون پر بات کرنے کا مجھے علم نہیں ،ہوسٹن کے سفارتخانے کے ذمے لگا سکتا ہوں کہ وہ ان کے گھروالوں سے عافیہ صدیقی کا رابطہ کرادیں،
بابر اعوان کا مزید کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی کو حوالے کرنے والوں کیخلاف بالکل کارروائی ہو سکتی ہے، عافیہ صدیقی اور ایمل کانسی کو حوالے کرنیوالوں کو عدالت لے جایا جا سکتا ہے
یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں ہیں اور انہیں چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. ان کی والدہ اور دیگر اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ حملہ کیس،انسداد دہشتگردی کی عدالت نے عمران خان کو مقدمے سے بری کردیا،عمران خان کی بریت کی درخواست منظورکر لی گئی
انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج راجا جواد عباس حسن نے فیصلہ سنایا،عدالت نے عمران خان کے علاوہ دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ کیس کےدیگر ملزمان پر 12 نومبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی،
صدارتی استثنا کے باعث صدرمملکت عارف علوی کی حد تک کیس داخل دفترہے ،اس سے قبل عدالت عمران خان کو ایس ایس پی تشدد کیس میں بری کرچکی ہے
عمران خان اس مقدمہ میں اشتہاری تھے اور اب ضمانت پر ہیں۔ صدر مملکت عارف علوی، وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمر، شفقت محمود، صوبائی وزیر علیم خان، جہانگیر ترین بھی مقدمہ میں ملزم نامزد ہیں
واضح رہے کہ اگست 2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا تھا جس کے دوران دونوں جماعتوں کے کارکنان نے پولیس رکاوٹیں توڑ کر وزیراعظم ہاؤس میں گھسنے کی کوشش کی تھی اور مبینہ طور پر پی ٹی وی پر حملہ کیا۔ اس دوران شاہراہِ دستور پر تعینات پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپ ہوئی اور پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے 50 مظاہرین نے مبینہ طور پر سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) عصمت اللہ جونیجو کو حملہ کر کے زخمی کیا تھا۔
اسلام آباد پولیس نے ان تمام واقعات کے مقدمات عمران خان، طاہر القادری، عارف علوی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور راجہ خرم نواز گنڈاپور کے خلاف درج کئے جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے حضرت محمدﷺ کے بارے میں فرانسیسی مصنف اورشاعر کا قول شیئرکردیا
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے حضرت محمدﷺ کے بارے میں فرانسیسی مصنف اورشاعر کا قول شیئرکردیا،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی مصنف نے حضرت محمدﷺ کی شخصیت کو دنیا میں لاثانی قرار دیا تھا
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پیارے نبیﷺ سےمتعلق الفونسے ڈی لامرٹائن کا قول میرے پسندیدہ ترین اقوال میں سے ایک ہے،قول میں کہا گیا ہے کہ کم وسائل کےساتھ عظیم مقصدکاحصول اورحیران کن نتائج محمد ﷺ جیسے اعلیٰ شخصیت کا خاصہ ہیں، فرانسیسی مصنف الفونسے ڈی لامرٹائن نے محمدﷺ کو خراج تحسین پیش کیا،اور کہا کہ محمدﷺ جیسی عظیم شخصیت کےساتھ تقابل کی جرات کون کرسکتا ہے،
واضح رہے کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی صدر کی جانب سے اسلام مخالف بیان پر دنیا بھر میں ردعمل جاری ہے، ترکی، اور پاکستان نے بھی بھر پور رد عمل دیا ہے، پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مذمتی قرارداد بھی پاس کی گئی ہے، وزیراعظم عمران خان نے ممالک کے سربراہان کو اس ضمن میں خطوط بھی لکھے ہیں
گستاخانہ خاکوں اور فرانسیسی صدر کے بیان پر فرانسیسی سفیرکو بھی پاکستان نے دفتر خارجہ طلب کیا تھا،اور احتجاج ریکارڈ کروایا تھا،پاکستان نے فرانسیسی سفیر کے سامنے دو ٹوک موقف رکھا،فرانسیسی سفیر مارک بریٹی کو احتجاجی مراسلہ دیا گیا، فرانسیسی سفیر کو اسپیشل سیکریٹری یورپ نے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا،گستاخانہ خاکوں اورفرانسیسی صدر کے معاملے پر پاکستان نے فرانس سے شدید احتجاج کیا ہے ،خاکوں کے بعد فرانسیسی صدرکے گستاخانہ بیان پربھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا
بھارت نے سکھوں کے مذہبی راہنما بابا گورو نانک دیو جی کے جنم دن کے موقعہ پر سات روز کے لئے کرتارپور راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔نئی دہلی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے آئندہ ہفتے باضابطہ طور پر اعلان کیا جائے گا۔ راہداری کھولنے کے لئے دہلی سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے سابق سربراہ سردار پرم جیت سنگھ سرنا نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کو خطوط لکھے تھے جن پر بھارتی حکومت نے مختلف اداروں سے رائے طلب کی تھی۔ ان اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں کرتار پور راہداری سات روزکے لئے کھولنے کااصولی طور پر فیصلہ کیا گیا۔ دریں اثنا یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ گورو نانک دیو جی کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لئے ایک علامتی وفد پاکستان جائے گا۔ اس سے قبل بھارت سے تقریبا پانچ ہزار یاتریوں کا وفد پاکستان آتا رہا ہے۔ جب کہ کورونا کی وجہ سے صرف چندسو بھارتی سکھ یاتری ننکانہ صاحب جائیں گے۔ پاکستان اس مرتبہ تقریبا دو ہزار بھارتی سکھوں کے وفد کو پاکستان آنے کی اجازت دے رہا ہے۔اس سلسلے میں متروکہ املاک وقف بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر عامر احمد نے بتایا کہ بھارتی سکھ صرف پانچ روز کے لئے 27 نومبر کو واہگہ بارڈر کے راستے لاہور پہنچیں گے جہاں سے انہیں فوری طور پر ننکانہ صاحب روانہ کردیا جائےگا۔ان یاتریوں کو ننکانہ صاحب کے سوا کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ گورونانک دیوجی کے جنم دن کی تقریبات 27 نومبرسے 30 نومبر تک جاری رہیں گی۔ بھارت سے27 نومبرکو سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پیدل پاکستان داخل ہونگے اور وہ براہ راست ننکانہ صاحب روانہ ہو جائیں گے۔ یکم دسمبر کو سکھ یاتری واپس بھارت چلے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے باعث حکومتی SOP پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔
کویت :فرانس میں گستاخانہ خاکوں پر او آئی سی کا ردعمل آ گیا،ترکی کے موقف کے ساتھ ہیں:اوآئی سی کا دبنگ اعلان ، اطلاعات کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے انسانی حقوق کمیشن نے فرانسیسی سیاستدانوں کےطرز عمل کی مذمت کرتے ہوئے استنبول پروسیس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ او آئی سی انسانی حقوق کمیشن فرانسیسی سیاستدانوں کےطرزعمل کی مذمت کرتی ہے، آزادی اظہار رائےکےنام پر فرانس نے جو رویہ اپنایا وہ قابل مذمت ہے۔
اعلامیہ کے مطابق گستاخانہ خاکے اور امتیازی سلوک عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، ہرسطح پرہمیں تحمل اوراعتدال پسندی سےکام لیناہوگا۔
اوآئی سی انسانی حقوق کمیشن نے کہا کہ باہمی احترام بڑھانے،غلط فہمی دورکرنےکیلئےبین المذاہب مکالمےکی ضرورت ہے جب کہ مذہب اور عقیدے پر امتیازی سلوک کےخطرات سےنمٹنےکیلئےاستنبول پروسیس کی حمایت کرتے ہیں۔
دوسری جانب مصر کی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازہر کے امام اعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلم مخالف کارروائیاں کرنے والوں کو مجرم قرار دیا جائے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کرنل ر دنویر سنگھ آج ہمارے ساتھ موجود ہیں، لوگوں نے فرمائش کی کہ انکو دوبارہ لے کر آئیں
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ اس وقت پاکستان میں بہت بڑی ایکٹوٹی ہے، جو پاکستان میں ہو رہا ہے اسکے پیچھے را ہے یا کوئی اور ہے جس پر کرنل ر دنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ اگر آپ سیاسی ایکٹوٹی کی بات کر رہے ہیں تو اس کے پیچھے نہ ہم ہیں نہ را ہے،اور اسکے علاوہ کسی اور چیز کی بات کر رہے ہیں تو معلوم نہیں، پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ ایک پروسیس کے تحت چل رہا ہے، میری زبان میں بات کروں میں اسکو پاکستان میں سائلٹ ریوی لوشن کا نام دیتا ہوں، فرسٹ ٹائم جو اسلامک پارٹیز ہیں اس ملک کی انہوں نے اپنا ویٹ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے ساتھ ڈالا ہوا ہے، یہ اسلامک پارٹیز 2002 کے بعد دوبارہ ایکٹو ہوئی ہیں اس بار اپوزیشن پارٹیز کے ساتھ ملی ہیں، انکا ٹارگٹ اسٹیبلشمنٹ ہے اور عمران خان ہیں، یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے، منجن جو عوام میں بیچا جاتا تھا کہ بھارت پاکستان میں سب کچھ کروا رہا ہے، اب یہ منجن بھی نہیں چل رہا، اس سے پاکستان کا فائدہ ہو گا، پاکستان کے عام لوگوں کا فائدہ ہو گا، بھارت کا نقصان ہو گا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کو پاکستانیوں کو کریڈٹ دینا پڑے گا،بھارت میں بھی آر ایس ایس کی حکومت آ گئی، بی جے پی کی حکومت آ گئی، وہ فنڈا مینٹلسٹ ہیں، پاکستان میں کسی ایسے گروپ کی حکومت نہیں آئی، اسکا مطلب ہے کہ پاکستانی عوام نے جب بھی ووٹ دیا وہ ریلیجس پارٹی کو نہیں دیا جس پر کرنل ر دنویر سنگھ کہنا تھا کہ بھارت کی مذہبی جماعتوں کو ڈیمو کریٹک کو کھل کر سپورٹ نہیں ملا ہے،پاکستان کے ساتھ ایک پرابلم رہی ہے، ڈیمو کریٹک پراسیس کی ویلیو حکمرانوں نے رکھی نہین یا خلائی طاقتوں نے اہمیت نہیں دی، بھارت میں فنڈا مینلسٹ والی پارٹی بالکل اقتدار میں ہے، آر ایس ایس رائیٹ ونگ ہے، بی جے پی اسکا سیاسی چہرہ ہے، ابھی اسوقت رائیٹ ونگ پارٹی انڈیا کو رول کر رہی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مائک پومپو کے ساتھ جو میٹنگ ہوئی اس میں آپ نے معاہدے کر لئے اسکا کتنا فائدہ ہو گا،جس پر کرنل ر دنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ ہم نے سائن ضرور کیا ہے لیکن بھارت کتنا فائدہ لے گا اور کتنا فائدہ ہو گا اس میں فرق ہے، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم بہت سارا فائدہ لیں لیکن ہم نہیں لینا چاہتے، سٹریٹجک جو ہماری ہے وہ ایک باسکٹ میں نہیں الگ الگ ہے، ہمارا روس پر بہت سا دارومدار ہے، فرانس پر بھی جاپان سے بھی چیزیں لیتے ہیں، ساؤتھ کوریا،اسرائیل سے بھی لیتے ہیں، برازیل سے بھی کچھ چیزیں لیں، ہم پورا فائدہ امریکہ سے نہیں لیں گے کیونکہ انڈیا کی اسٹریجٹک اٹانومی کہیں نہ کہیں خطرے میں آ جاتی ہے، جب چین اور امریکہ کی کشمکش ہے اور چوائس ہی دو کی ہے تو ہم اس میں نہیں پڑنا چاہتے.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ بھی مسئلہ ہے ایک طرف چین ہے اور ایک طرف امریکہ، نیوٹرل رہنے کی بات کرتے ہیں تو دنیا مانتی نہیں ہے جس پر کرنل ر دنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ یہ ایشو جو آپکے لیڈرز ہیں انکے لئے بڑا چیلنج ہے جو بھی بات کر لیں فنانشل ایڈ آپ کو ویسٹرن کنٹریز سے آئے گی، چینی کبھی نہیں دیں گے،مائیک پومپو کو سنا ہو گا، ہماری تھنکنگ کے حساب سے جو لوگ سوچتے ہیں کہ ون بیلٹ ون روڈ کتنا ڈینجرس ہےا ور کتنے ممالک اس میں پھنسے ہوئے ہیں، کچھ لوگوں نے باہر نکلنے کی کوشش کی جیسے سری لنکا،کہ یہ خطرناک کھیل ہو جائے گا، آپ کے تھنکر کو بیلنس کرنا ہے، سی پیک بھی چلانا ہے اور امریکہ کو بھی ساتھ رکھنا ہے، اگر ایسا نہیں کریں گے تو مانیں کہ جب ہم ہندوستان بولتے ہیں تو یہ آج والا ہندوستان اور آج والا پاکستان نہیں ہے،ہندوستان بولتے ہیں تو سلمان کی پہاڑی سے آغا خان کی پہاڑی تک اس میں پانچ چھ ملک آتے ہیں اور یہ ہندوستان ہیں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہمارے فیورٹ مودی جی انکو یہ بات نہیں سمجھ آئی جو آپ کہہ رہے ہیں جس پر کرنل ر دنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ مودی کو کیا سمجھ آیا کیا نہیں یہ وہ جانتے ہیں، ہم تجزیہ نگار ہیں ہمارا کام سوچنا اور بات کرنا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کافی تھنکرز کہتے ہیں کہ اورنا چل پردیش بھارت کا حصہ نہیں رہے گا، لداخ کا کافی ایریا آپ نے دے دیا جس پر کرنل ر دنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ ایسا بالکل نہیں ہے، ارونا چل بہت دور کا خواب ہے، لداخ میں بھی ہم نے قبضہ کر لیا، تین چار ماہ سے جو چین کے ساتھ چل رہا تھا وہ ختم، چینی بیک فٹ پر اور پریشان انکو روٹ چاہئے اس حالت سے نکلنے کے لئے، مودی دینا نہیں چاہتے، اسلئے مشکل ہو رہی ہے، لیکن جو ہے وہ ہے، آپ کے بھی سامنے ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لداخ پر جنگ ہو سکتی ہے جس پر کرنل ر دنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ بالکل نہیں ، کیونکہ جنگ کے نتیجے بہت خطرناک ہوں گے بھارت کے لئے اور ہم سے زیادہ چائنہ کے لئے، چائنہ میں سب نیشنل ازم تین میجر ایریاز میں چل رہا ہے،چین میں مسلمانوں پر پابندی نہیں حج عمرے پر نہیں دیا جا رہا، روزے رکھنے پر بھی پابندی ہے، پرانی مساجد کو بھی بند کر دیا گیا ہے،سب سے اہم خطرہ چائنہ کو کمیونسٹ پارٹی کو نیشنلسٹ سے پڑتا ہے جو تائیوان میں ہیں ، جنگ ہوئی تو خطرناک صورتحال چین کے لئے ہو گی، ایک انٹرنل ایشو ہے چین کے ساتھ، دنیا کے اندر انٹرنل رائٹس سب سے زیادہ چین میں ہوتے ہیں، چین میں بہت بڑا ایشو ہے یہ، اور دوسرا ایشو انکا ٹیکنالوجی ہے، انکی ویپن ٹیکنالوجی ری انجینئرنگ کر کے بنائی یہ جنگ کے لئے اچھی نہیں، جے ایف 20، دنیا کے سامنے جو حاضر کر رہے ہیں، اسکو دیکھنے کا طریقہ آسان ہے، اگر اس ریشو میں جہاز بنانا ہے تو جو انجن چاہئے انہوں نے روسی انجن کا استعمال کیا، بہت سی چیزیں ہیں، انڈیا کے لئے بھی بہت بڑا چیلنج ہے، چین ایک سائڈ پر لیکن وہ ساری چیزیں خود بناتا ہے کسی کامحتاج نہیں، بھارت کا 70 فیصد ہتھیار روس سے آتا ہے ،روس اور چین کی دوستی ہے، ہمارے ہاں بہت کم چیزیں بنتی ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج کے دن پانچ اور رافیل انڈیا میں لینڈ کر چکے، ٹوٹل دس کر چکے، وہ تو وار مین پرفارم کریں گے تو پتہ چلے گا جس پر کرنل ر دنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ جو کمپنی جہاز بناتی ہے اسکو دیکھیں،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایئر بوئنگ جہاز کو کمپنی کو ری کال کرنا پڑ گیا، ویپن کا اصل ٹیسٹ وار ہے ،جس پر کرنل ر دنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ رافیل لیبین وار میں استعمال ہوا ہے،کسی بھی ویپن کا اصل ٹیسٹ وار اس بار پر متفق ہوں، جتنی تعداد میں رافیل آنے چاہئے، اتنی تعدا میں نہیں،چائنیز اگر پورا فوکس انڈیا پر لگا دیں گے تو اصلی کہانی انکی نہیں ہے اصل کہانی انکی تائیوان ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے آپ کو آگے لگایا ہوا ہے اور جتنا مرضی کر لے ، آخر میں چائنہ کے میزائل انڈیا میں گریں گے نیویارک میں نہیں، جس پر کرنل ر دنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ تباہی ہماری بھی ہو گی، چین کی بھی، سب کو پتہ ہے، آجکل لمٹڈ ایریا، ہائی ٹیکنالوجی وار کا زمانہ ہے، لوکلائڈ وار فیئر ہوں گے،اور اسی کے اندر بہت سی چیزیں ہوں گی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فرض کریں میں پاکستان کی طرف سے کشمیر کا بارڈر کھول دیتا ہوں آپ انڈین آرمی چیف ہیں تو آپ کے لئے آسان ہیں کہ رحیم یار خان و دیگر بارڈر کھول دیں تو یہ لمٹڈ ایریا تو نہ رہا ،جس پر کرنل ر دنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ یہ بیس سال پرانی بات ہے، اب ایسا نہیں ہو گا، کیسی سٹریٹجک ہو گی اسکو ڈسکس نہیں کرنا چاہئے،ابھی گیم دوسرے طریقے سے کھیلا جائے گا، فرنٹ اوپن بھی ہوتا ہے تو اس طرح لڑائی نہیں ہو گی جیسے 20 سال پہلے تھی، اب لڑائی کا طریقہ الگ ہو گا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیا اچھا نہیں ہو گا پاکستان اور انڈیا کو بیٹھ کر نو وار پر سائن کرنا چاہئے جس پر کرنل ر دنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے مابین ایسا نہیں ہو گا کیونکہ آپ کی فوج اینٹی انڈیا ہے، بار بار ہم پاکستان کی طرف فوکس رہ جاتا تھا، سب کو معلوم تھا کہ پاکستان دشمن ہے،
نئی دہلی :فرانسیسی صدرکا دشمن ہمارا دشمن:فرانسیسی صدرکےموقف کےساتھ کھڑے ہیں ،بھارت گستاخ فرانسیسی صدرکی مدد کےلیے آگیا،اطلاعات کے مطابق بھارت نے گستاخ فرانسیسی صدر کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ جوفرانسیسی صدر کا دشمن ہے وہ بھارت کا دشمن ہے
نئی دہلی میں بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ بھارت فرانسیسی صدر کےخلاف ہونے والے مظاہروں اوربیانات کومسترد کرتا ہے، بھارت کا یہ بھی کہنا ہےکہ وہ یہ کھی بھی پسند نہیں کرے گا کا کہ کوئی فرانس کی طرف مذہب کوبنیاد بناکرانگلی اٹھائے
— French Embassy in India 🇫🇷🇪🇺 (@FranceinIndia) October 28, 2020
ادھر بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا ہےکہ بھارت فرانسیسی صدر کی ذات پرہونے والی لعن طعن کو بھی مسترد کرتا ہے ۔ ہم اس بہیمانہ دہشت گردانہ حملے کی بھی مذمت کرتے ہیں
جس نے ایک فرانسیسی استاد کی جان کو ایک بھیانک انداز میں لے کر دنیا کو حیران کردیا۔ ہم ان کے اہل خانہ اور فرانس کے عوام سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔
بھارت کسی بھی صورت میں فرانس کو اس معاملے میں تنہا نہیں دیکھنا چاہتا ،خوا وہ وہ کسی بھی وجہ سے یا کسی بھی حالت میں دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہے۔
پیرس: پاکستان نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف فرانس سے بطوراحتجاج 250ارب کی ڈیل منسوخ کردی ،اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف فرانس سے بطوراحتجاج 250ارب کی ڈیل منسوخ کردی ہے اوراس بات کی تصدیق معروف روزنامے نے بھی کردی ہے
معروف برطانوی اخبار دی لندن پوسٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ فرانس کی حکومت کیطرف سے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف فرانس سے بطوراحتجاج کیا ہے
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس ڈیل کے نتیجے میں پاکستان نے نیوی کے لئے27جدید ترین ہیلی کاپٹرخریدنے تھے
پاکستان اس معائدے کی بجاۓ اپنی دفاعی ضرورت پوری کرنے کے لئےچین یاامریکہ سے رجوع کرے گا
دوسری طرف عالمی ذرائع ابلاغ بھی اس فیصلے کو پاکستان کی طرف سے فرانس اورفرانس کے حامی ملکوں کے لیے ایک بہت بڑا پیغام سمجھے رہے ہیں
یاد رہےکہ پاکستان نے پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹر بیڑے کو جدید بنانے کے لئے 27 ہیلی کاپٹر خریدنے کے لئے ٹینڈر کے عمل کے لئے حتمی دعویداروں میں سے فرانس کے ایئربس کا انتخاب کیا تھا اس معاہدے میں ، جس کی قیمت تقریبا. 1.5 بلین ڈالر تھی۔
پاکستان کا فرانس سے بطور احتجاج 250ارب کا معائدہ منسوخ کیا جانا دنیا کے لئے انتہائ حیران کن اور دلیرانہ فیصلہ قرار دیا جارہا ہے ادھر واشنگٹن سے لیکرتل ابیب تک کی حکومتیں پاکستان کے اس فیصلے کوحیرت سے دیکھ رہی ہیں ،عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہےکہ پاکستان کے اس فیصلے نے وزیراعظم کے مضبوط موقف کودنیا پرثابت کردیا کہ وہ گستاخان رسول کے خلاف کسی بھی حد جاسکتے ہیں
یہ خبر یورپی یونین ٹرائیبیون اور دی لندن پوسٹ کے علاوہ کئی اخبارات میں شائع ہوئ ہے فرانس میں نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کے معاملے میں پاکستان اور ترکی لیڈ کر رہے ہیں