Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں نظرثانی درخواستوں پر سماعت ملتوی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں نظرثانی درخواستوں پر سماعت ملتوی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کرٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    وزیرقانون فروغ نسیم اور مشیرداخلہ و احتساب شہزاد اکبر پیش ہوئے، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ سماعت شروع کردیں کیونکہ ایک جج ریٹائر ہورہے ہیں،آئندہ ہفتے بینچ کراچی میں ہے،

    عدالت نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری ہوا اس کا جائزہ لینے کی درخواست گزارکی درخواست مناسب ہے ،نظر ثانی کی درخواستیں بعد میں سنیں گے،عدالت نے نظر ثانی درخواستوں پر سماعت ملتوی کردی،عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت 16 نومبر کو شروع ہونے والے ہفتے میں ہوگی،

    جسٹس قاضی فائز عیسی‌ نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ فیصلے پر نظر ثانی کر کے 19 جون کے عبوری حکم کو ختم کرے،

    درخواست میں کہا گیا کہ ایف بی آر نے اہل خانہ کے خلاف کارروائی تفصیلی فیصلے سے پہلے ہی شروع کر دی،ایف بی آر کی درخواست گزار کی رہائش گاہ کے باہر نوٹس چسپاں کرنا بدنیتی پر مبنی ہے، حکومتی تحریری دلائل پر جواب جمع کرانے کا موقع دیا جائے،

    قبل ازیں 18 جولائی کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف پاکستان بارکونسل نےنظر ثانی درخواست دائرکردی تھی

    پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ 19جون کےفیصلےپرنظرثانی کرے،درخواست میں صدر مملکت ،وزیراعظم اوروفاقی وزیرقانون کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل،مشیراحتساب شہزاد اکبر کوبھی فریق بنایا گیا ہے

    سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ کےتوسط سے نظرثانی درخواست دائرکی گئی،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے روز ہی سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہہ دیا تھا کہ عدالت میں نظر ثانی کی اپیل دائرکی جائے گی، باغی ٹی وی نے بھی ذرائع سے خبر دی تھی کہ نظر ثانی کی اپیل دائر ہو گی، آج اپیل دائر کر دی گئی ہے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بھی  سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یوٹیوب پر تجزیہ پیش کیا تھا جس مین انکا کہنا تھا کہ یہ تودرست ہے کہ آج کے فیصلے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حامی اس بات سے خوش ہوں گے کہ یہ فیصلہ ان کے حق میں‌آیا ہے، مبشرلقمان کہتے ہیں‌ ایسا سوچنے والوں کوندامت کاسامنا کرنا پڑسکتا ہے

    سنیئر صحافی مبشرلقمان نے کہا کہ ویسے تو اس اہم کیس کے فیصلے میں بہت سی چیزیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جارہی ہیں مگراگرایک بڑے نقطے کوہی لے لیں‌تو مجھے یہ کیس بہت دلچسپ بھی دکھائی دیتا ہے اورایک جامع فیصلہ بھی ، ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے یہ ایک تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے جس کے مطابق یہ معاملہ اب ایف بی آر کے پاس چلا گیا ہے

    ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر ایک ذمہ داراورحکومتی ادارہ ہے جوسپریم کورٹ کے فیصلے کی صورت میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ اوربچوں سے جومعلومات مانگے گا تو وہ ان جائیدادوں کی قانونی حیثیٹ کا بھی تعین کرتے گا

    مبشرلقمان کہتے ہیں‌ کہ ایف بی آرتوپھرساری حقیقتیں کھول کررکھ دے گا ، دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایف بی آر کو سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں‌ یہ تمام تراختیارات بھی دے رکھے ہیں اورویسے بھی وہ ایک آزاد ادارہ ہے ، پھرحکومت کے پاس بھی یقنینا اس کیس کے حوالے سے اہم معلومات ہوں گی پھرجب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اوربچے یہ ثابت نہ کرپائے کہ یہ جائیدادیں قانونی ہیں تو پھرایک ہی راستہ ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لیے کہ ان کو مستعفیٰ‌ہونا پڑے

    مبشرلقمان نے بہت خوب صورت تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آگے چل کرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لیے بہت سی مشکلات کھڑی ہوجائیں گی اوروہ بھی ان کی ہی وجہ سے ، ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے پاس اس کیس کے حوالے سے تمام شوہد پہلے ہی موجود ہیں‌

    مبشرلقمان نے کہا کہ مجھے بہت زیادہ یقین ہے کہ اس کیس کی پیروی کرنے والے اوروہ حکومتی افراد جو اس کیس کو ڈیل کررہے ہیں وہ جو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جانب سے بیان ریکارڈ کرایا گیا ہے اس کے متعلق پہلے ہی علم رکھتے ہوں ، یہی وجہ ہے کہ حکومتی ذمہ داران اس فیصلے سے خوش ہوئے ہیں ، جس کامطلب یہ ہے کہ اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا جانا ٹھہر گیا ہے ،ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بھی یہی دیکھ رہے ہیں

    مبشرلقمان نے مزید کہا کہ جہاں تک آج کے فیصلے کے اثرات کا تعلق ہے تواگرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جگہ کوئی اورجج ہوتا تو وہ کب کو مستعفیٰ ہوجاتا ، ان کا کہنا تھا اب بھی یہی ہے اورسپریم کورٹ نے جوسوالات اورجوقانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے کیس ایف بی آر کے پس بھیجا ہے اس کے بعد سوائے استعفیے کے کوئی اورپہلونظرنہیں آرہا

    واضح رہے کہ  سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست منظور کرلی،سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا

    سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ایف بی آر جسٹس قاضی عیسیٰ کی اہلیہ کو پراپرٹی سے متعلق 7 روز میں نوٹسز جاری کرے،ایف بی آر کے نوٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سرکاری رہائشگاہ بھجوائے جائیں،ہر پراپرٹی کا الگ سے نوٹس کیا جائے،ایف بی آر کے نوٹس میں جج کی اہلیہ اور بچے فریق ہوں گے،ایف بی آر حکام معاملے پر التوا بھی نہ دیں،انکم ٹیکس 7 روز میں اس کا فیصلہ کرے.

    قانون آرڈیننس کے ذریعے بنانے ہیں تو پارلیمان کو بند کر دیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

    جوڈیشل کونسل کے خلاف سپریم کورٹ کا بینچ تحلیل

    کسی جج پر ذاتی اعتراض نہ اٹھائیں، جسٹس عمر عطا بندیال کا وکیل سے مکالمہ

    ججز کے خلاف ریفرنس، سپریم کورٹ باراحتجاج کے معاملہ پر تقسیم

    حکومت نے سپریم کورٹ‌ کے سینئر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا

    حکومت نے یہ کام کیا تو وکلاء 2007 سے بھی بڑی تحریک چلائیں گے،وکلا کی دھمکی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میدان میں‌ آگئے، ریفرنس کی خبروں‌ پر صدرمملکت کوخط لکھ کر اہم مطالبہ کر دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جائیداد کے اصل مالک ہیں یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے سب بتا دیا

    صدارتی ریفرنس کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پیش ہو گئے،اہلیہ کے بیان بارے عدالت کو بتا دیا

    منافق نہیں، سچ کہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،جسٹس عمر عطا بندیال

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد صدر اور وزیر اعظم کو فورا مستعفی ہوجانا چاہئے، احسن اقبال

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ان لینڈ ریونیو کا کمشنر تمام فریقین کو سنے گا،انکم ٹیکس کمشنر قانون کے مطابق فیصلہ کرے،ایف بی آر 7 دن میں سپریم جوڈیشل کونسل کو رپورٹ جمع کرائے،چیئرمین ایف بی آر تمام تر معلومات سپریم جوڈیشل کونسل کو فراہم کرے گا،فیصلہ فل کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے سنایا

  • وزیراعظم کا ایسا فیصلہ کہ بزدار سمیت افسران کی دوڑیں لگ گئیں

    وزیراعظم کا ایسا فیصلہ کہ بزدار سمیت افسران کی دوڑیں لگ گئیں

    وزیراعظم کا ایسا فیصلہ کہ بزدار سمیت افسران کی دوڑیں لگ گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر آج لاہور آئیں گے،

    وزیراعلیٰ پنجاب وزیراعظم عمران خان کا استقبال کریں گے،وزیراعظم ایوان وزیراعلیٰ میں مختلف اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔

    وزیراعظم ایوان اقبال میں انصاف ڈاکٹرز فور م کی تقریب سے خطاب کریں گے۔ عمران خان پنجاب میں ہیلتھ کارڈ کی سہولت کے حوالے سے بھی اجلاس کریں گے۔ وزیراعظم سے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار بھی ملاقات کریں گے، وزیراعلیٰ پنجاب صوبے کے متعدد امور بارے بریف کریں گے۔

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    آرمی چیف کا سعودی نائب وزیر دفاع کی وفات پر اظہار افسوس

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اگلے 2 ماہ میں محمد بن سلمان تخت یا تختہ، اقتدار کا کھیل آخری مراحل میں،تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

     

    گورنرپنجاب چودھری محمد سرور کی بھی وزیر اعظم سے ملاقات ہوگی۔ وزیراعظم کو دورہ لاہور کے دوران پانچ مختلف اجلاس تجویز کئے گئے ہیں،وزیراعظم ذخیرہ اندوزوں کےخلاف کارروائی سمیت صوبائی امور کا جائزہ لیں گے،اورنج ٹرین سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں پربریفنگ دی جائےگی ،وزیراعظم چیف سیکریٹری ،آئی جی پنجاب اورصوبائی حکام سےملاقات کریں گے،وزیراعظم عمران خان کوسہولت بازاروں سےمتعلق بریفنگ دی جائے گی، وزیراعظم منہگائی پرقابوپانے سے متعلق اہم فیصلےبھی کریں گے،

    مودی نے آخری پتہ کھیل لیا، اب کشمیر آزاد ہو گا، پاک فوج تیار،وزیراعظم عمران خان

    آخری دم تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑ ے رہیں گے، وزیراعظم

    عمران خان کے دورہ امریکا کو سبوتاژ کرنیکا بھارتی منصوبہ،حسین حقانی بھی متحرک

    وزیراعظم کے دورہ امریکا سے قبل بلاول زرداری اچانک امریکا روانہ

    وزیراعظم کے دورہ امریکا پر کتنے ہزار ڈالر خرچ ہوں گے؟ مراد سعید نے بتا دیا

    وزیراعظم عمران خان سے میڈیا کے محاذ پر متحرک پارٹی رہنماؤں کی بھی ملاقات ہوگی۔ پنجاب کی صوبائی کابینہ کی کارکردگی بارے بھی وزیراعظم کو بریفنگ دی جائے گی

  • آنے والے دنوں میں حکومت میں سے کونسی اہم شخصیت کا استعفی آ رہا ہے؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    آنے والے دنوں میں حکومت میں سے کونسی اہم شخصیت کا استعفی آ رہا ہے؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سی پیک کے سولہ کے سولہ پروجیکٹ کھڑے ہوگئے ہیں، سی پیک اتھارٹی کام نہیں کر رہی قانونی طور پر ہے ہی نہیں،

    مبشر لقمان آفییشل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سی پیک جنرل باجوہ عنقریب آنے والے دنوں میں استعفیٰ دینے والے ہیں، کیونکہ جنرل باجوہ کے کردار کو اتنا متضاد بنا دیا گیا ہے کہ وہ جتنا مرضی اچھے ہوں انکا کسی حکومتی پوسٹ پر مزید رہنا اس حکومت کے لئے فائدے مند نہیں بلکہ نقصان دہ ہو گا اور اپنے پرانے ادارے کے لئے نقصان دہ ہو گا پی ڈی ایم کے ہر جلسے میں ہر آدمی جنرل عاصم باجوہ کا نام لے رہا ہے جیسے وہ مندر کی گھنٹیاں بجا رہا ہوتا ہے،تو اب ایک ریمائنڈر ہے انکو اب سائیڈ پر ہونا پڑے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہت ہی مشکل ٹائم آ رہا ہے پاکستان کے لئے، پاکستان کے پاس جو چوائسز ہیں بھی اور نہیں بھی،پرانے دوست بد ترین دشمنوں کے ساتھ مل رہے ہیں ،نئے دوست بنا رہے ہیں انکی وجہ سے مزید دشمن آ رہے ہیں، پاکستان کو ابھی فیصلے کرنے ہیں، اس سارے مرحلے میں دشمن ملکر دہشت گردی کی نئی لہر پاکستان میں لا رہے ہیں، سی پیک اور اسکے منصوبوں سست روی کا شکار کیا جا رہا ہے تا کہ وہ رک جائے، پاکستان میں انتہا کے درجے پر فرقہ واریت کو بڑھایا جا رہا ہے، سیاسی عدم استحکام خاص طور پر پیدا کیا جا رہا ہے اب میں کنونسڈ ہوں کہ یہ بیرونی طاقتیں ہیں جو اندرونی خلفشار زیادہ کر رہی ہیں، مشنری ، اسٹیبلشمنٹ سے لوگوں کا اعتبار اٹھ جائے یہ کیا جا رہا ہے

  • جنرل راحیل شریف پریشان کیوں؟ مبشر لقمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    جنرل راحیل شریف پریشان کیوں؟ مبشر لقمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بہت ہی مشکل ٹائم آ رہا ہے پاکستان کے لئے، پاکستان کے پاس جو چوائسز ہیں بھی اور نہیں بھی،پرانے دوست بد ترین دشمنوں کے ساتھ مل رہے ہیں ،نئے دوست بنا رہے ہیں انکی وجہ سے مزید دشمن آ رہے ہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ابھی فیصلے کرنے ہیں، اس سارے مرحلے میں دشمن ملکر دہشت گردی کی نئی لہر پاکستان میں لا رہے ہیں، سی پیک اور اسکے منصوبوں سست روی کا شکار کیا جا رہا ہے تا کہ وہ رک جائے، پاکستان میں انتہا کے درجے پر فرقہ واریت کو بڑھایا جا رہا ہے، سیاسی عدم استحکام خاص طور پر پیدا کیا جا رہا ہے اب میں کنونسڈ ہوں کہ یہ بیرونی طاقتیں ہیں جو اندرونی خلفشار زیادہ کر رہی ہیں، مشنری ، اسٹیبلشمنٹ سے لوگوں کا اعتبار اٹھ جائے یہ کیا جا رہا ہے

    مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ شاید پاکستان اور ترکی ملکر نیا بلاک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت کے اندر سے اشارے ملتے ہیں کہ ایسا ہونے جا رہا ہے ، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بلاک بن چکا ہے اور اس کا عملی صرف اعلان ہونا باقی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کون کونسے ممالک پاکستان اور ترکی کے اس اشتراک کے خلاف ہیں اور اسکی وجہ سے بہت سے مسائل ہمیں پیدا ہو رہے ہیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف کا بار بار نام آ رہا ہے وہ سعودی عرب میں ہیں اور وہ ایبسنٹ ہیں،اور وہ یہاں پر بہت کچھ کر رہے ہیں، ایسا بھی بتایا جا رہا ہے کہ کچھ پرانے ریٹائرڈ لوگ ان سے مل گئے ہیں اور اپوزیشن کی تقویت پہنچا رہے ہیں، پلاننگ کر کے، پلاننگ تو وہ کر سکتے ہیں، سعودی عرب میں وہ بیٹھے ہیں، آپ کو پتہ ہے پیسے کا تو وہاں مسئلہ نہیں،تو یہ سب کچھ ہو رہا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ترکی اور سعودی عرب کا آپس میں چوہے بلی والا کھیل ہے،یہ نہیں پتہ کہ بلی کون ہے، کافی لوگوں کا خیال ہے کہ بلی ترکی ہے، سعودی عرب کا جتنا علاقہ ہے یہ ترکی کے انڈر تھا وہ اسکو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں، سعودی نے جنگ سمجھی آزادی لی وہ دشمن سمجھتے ہیں پاکستان پھنس گیا، ایک طرف ترکی ،دوسری طرف سعودی عرب، ترکی کا فائدہ یہ ہے کہ وہ بھارت کی ہر پلیٹ فارم پر مخالفت کرتا ہے جبکہ پاکستان کی ہر پلیٹ فارم پر حمایت کر رہا ہے،چاہے وہ ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ ہو، کشمیر کا یا بابری کا، مسلمانوں پر قتل عام، ترکی بڑا کلیر ہے، ترکی نے پاکستان میں جوائنٹ انوسیمنٹ کی ہوئی ہیں اسلئے پاکستان کا بڑا سوفٹ کارنر ہے ترکی کے لئے

  • تین دشمن ممالک متحرک،پلان اے بی سی اور ڈی شروع ،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    تین دشمن ممالک متحرک،پلان اے بی سی اور ڈی شروع ،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بہت ہی مشکل ٹائم آ رہا ہے پاکستان کے لئے، پاکستان کے پاس جو چوائسز ہیں بھی اور نہیں بھی،پرانے دوست بد ترین دشمنوں کے ساتھ مل رہے ہیں ،نئے دوست بنا رہے ہیں انکی وجہ سے مزید دشمن آ رہے ہیں، پاکستان کو ابھی فیصلے کرنے ہیں، اس سارے مرحلے میں دشمن ملکر دہشت گردی کی نئی لہر پاکستان میں لا رہے ہیں، سی پیک اور اسکے منصوبوں سست روی کا شکار کیا جا رہا ہے تا کہ وہ رک جائے، پاکستان میں انتہا کے درجے پر فرقہ واریت کو بڑھایا جا رہا ہے، سیاسی عدم استحکام خاص طور پر پیدا کیا جا رہا ہے اب میں کنونسڈ ہوں کہ یہ بیرونی طاقتیں ہیں جو اندرونی خلفشار زیادہ کر رہی ہیں، مشنری ، اسٹیبلشمنٹ سے لوگوں کا اعتبار اٹھ جائے یہ کیا جا رہا ہے

    مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ شاید پاکستان اور ترکی ملکر نیا بلاک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت کے اندر سے اشارے ملتے ہیں کہ ایسا ہونے جا رہا ہے ، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بلاک بن چکا ہے اور اس کا عملی صرف اعلان ہونا باقی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کون کونسے ممالک پاکستان اور ترکی کے اس اشتراک کے خلاف ہیں اور اسکی وجہ سے بہت سے مسائل ہمیں پیدا ہو رہے ہیں، جنرل راحیل شریف کا بار بار نام آ رہا ہے وہ سعودی عرب میں ہیں اور وہ ایبسنٹ ہیں،اور وہ یہاں پر بہت کچھ کر رہے ہیں، ایسا بھی بتایا جا رہا ہے کہ کچھ پرانے ریٹائرڈ لوگ ان سے مل گئے ہیں اور اپوزیشن کی تقویت پہنچا رہے ہیں، پلاننگ کر کے، پلاننگ تو وہ کر سکتے ہیں، سعودی عرب میں وہ بیٹھے ہیں، آپ کو پتہ ہے پیسے کا تو وہاں مسئلہ نہیں،تو یہ سب کچھ ہو رہا ہے

    پاکستان اور ترکی ملکر کیا کر رہے ہیں اور دنیا کی آنکھ میں کھٹک رہے ہیں،ترکی دنیا میں ہر جگہ پھڈے کیوں کر رہا ہے، دشمن کے کیا پلان ہیں اے بی سی، کئی پلان ہیں، ستمبر کے مہینے کے شروع میں پاکستان میں بالکل امن تھا سکون تھا، ڈالرکے اوپر نیچے جانے پر بات ہوتی تھی،اپوزیشن خاموش تھی، حکومتی وزرا کے ایسے بیان آ رہے تھے کہ اپوزیشن ختم ہے، پھر شاہ محمود قریشی سعودی عرب کے بارے بیان دیتے ہیں ، وہ زور آور بیان ہوتا ہے نیا بلاک بنانے کا اسکے بعد یکدم پاکستان کے خلاف سارے صف آرا ہوگئے، شاہ محمود نے سوچے سمجھے بات کی یا بغیر سوچے، لیکن اسکا ری ایکشن بننا شروع ہو گیا، پاکستان میں سابق سعودی سفیر ریاض میں ایکٹو ہو گئے اور رابطے شروع کر دیئے،کچھ لوگ جانا شروع ہو گئے وہاں ملاقاتوں کے لئے، باقیوں سے یہاں کی ایمبیسی والوں نے ملاقاتیں کیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے قریشی کے بعد نیا بیان دے دیا کہ پاکستان چین دوستی گہری ہے اور اب وہ ہمارا بیسٹ فرینڈ ،ہر چیز کا جھکاؤ چائنہ کی طرف ہونا ہے،سعودیہ سے علیحدگی وزیر خارجہ نے شو کی، امریکہ سے علیحدگی اور چین کے ساتھ دوستی ہمارے وزیراعظم نے شو کی تو سارے جو امریکہ سے لے کر اسرائیل، سعودی عرب، انڈیا ہر ایک کے تانے بانے ملنا شروع ہو گئے، اس دن سے لے کر آج تک پاکستان ہر ایک نئے سیاسی بحران کی طرف جا رہا ہے، شاہ محمود کے بیان سے پہلے اوربعد میں دیکھ لیں فرق پتہ چل جائے گا، یہ ہے بیرونی مداخلت، اتنی جلدئ میں پیسہ آنا اور تقسیم ہونا آسان نہین تھا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس بحران کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی حکومت کے علاوہ بڑا ناپ تول کر ہماری سالمیت کی علامت عسکری افواج کو ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا گیا،کوشش کی جا رہی ہے کہ آرمی میں سینئر آفیسرز، جونیر اور جوان ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھیں اور انگلی اٹھائیں،ہماری مضبوطی کو ہٹ کرنا شروع کر دیا، کبھی مذہبی، سیاسی ،لسانی، قوم پرست جماعتوں کے بیان آتے ہیں ان سب کے بیان آرٹیکل 6 لگتا ہے لیکن کسی نے نوٹس نہیں لیا، ایک غداری کا جو پرچہ ہوا تھا وہ بھی حکومت کو اگلنا پڑا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اجیت دوول نے اسی تناظر میں بیان دیا کہ پاکستان پر انڈیا حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اب تیار بھی ہے، ایک اور آر ایس ایس کے وزیر نے کہہ دیا کہ مودی نے تاریخ مقرر کر دی ہے کہ کب چین اور پاکستان پر حملہ کرنا ہے، جنرل بخشی انڈین آرمی کے ہیں بڑی بڑی مونچھوں والے، انکی ایک خوفناک ٹویٹ آئی ،اب یہ وہ افسر ہیں جو ریٹائرڈ ہو چکے ہین انکو مرضی کے مطابق جاب نہین ملی یہ انکی طرف اشارہ ہے، راحیل شریف اکیلے نہین ہو سکتے، انکے ساتھ اور لوگ بھی ہوں گے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین اور ترکی کے کیمپ میں جانے سے یہ سب کیوں ہونا شروع ہو گیا، چاینہ کی بات کریں تو ییس اور ترکی کی بات کریں تو ابھی انکے حال میں ہی وزیر دفاع پاکستان آئے ہوئے ہیں وہ نہ صرف سیاسی بلکہ عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں،پاکستان اور ترکی ایک دفاعی معاہدہ کرنے جا رہے ہیں جو ریجن کے لئے ہے، پاکستان اور ترکی آپس میں بہت تعاون کریں گے، پاکستان اور ترکی میں دو دو نیوال وار شپ بنانے کی بات ہو رہی ہے، ترکی دنیا کے دس ممالک میں شامل ہے جو نیول شپ بنا کر آپریت کر سکتا ہے، پاکستان ان سے ٹیکنالوجی لے رہا ہے، پاکستان نے 30 ہیلی بھی لئے ،بڑی مالیت کے ہیلی تھے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ترکی اور سعودی عرب کا آپس میں چوہے بلی والا کھیل ہے،یہ نہیں پتہ کہ بلی کون ہے، کافی لوگوں کا خیال ہے کہ بلی ترکی ہے، سعودی عرب کا جتنا علاقہ ہے یہ ترکی کے انڈر تھا وہ اسکو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں، سعودی نے جنگ سمجھی آزادی لی وہ دشمن سمجھتے ہیں پاکستان پھنس گیا، ایک طرف ترکی ،دوسری طرف سعودی عرب، ترکی کا فائدہ یہ ہے کہ وہ بھارت کی ہر پلیٹ فارم پر مخالفت کرتا ہے جبکہ پاکستان کی ہر پلیٹ فارم پر حمایت کر رہا ہے،چاہے وہ ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ ہو، کشمیر کا یا بابری کا، مسلمانوں پر قتل عام، ترکی بڑا کلیر ہے، ترکی نے پاکستان میں جوائنٹ انوسیمنٹ کی ہوئی ہیں اسلئے پاکستان کا بڑا سوفٹ کارنر ہے ترکی کے لئے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری طرف امریکہ بھارت،سعودی عرب کے ساتھ تعاون کر رہا ہے،بھارت کی فوجی طاقت بڑھ رہی ہے، ایئر فورس کی طاقت بہتر ہو رہی ہے، بھارت پرکوئی روک ٹوک نہیں،منی لانڈرنگ کے الزام ثابت ہو چکے لیکن نام ایف اے ٹی ایف میں نہیں آتا، بھارت کو خطے میں چین کے خلاف کھڑا کیا جا رہا ہے، امریکہ انکی سائڈ پر ہے تو نیٹو انکی سائڈ پر ہے، اب یہ ڈائریکٹ پاکستان کے لئے ہے،انڈیا پاکستان کی چھیڑ ہے، انڈیا کو جو ہتھیار ملتے ہیں وہ ہمیں پتہ ہے ہمارے اوپر چلنے ہیں،یہ ایک بڑے فیئرز فوبیا سامنے آ رہے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تین میجرز سیٹلائٹ ہیں دنیا کی جو امریکہ کے پاس ہیں،اور امریکہ اب انڈیا کے ساتھ انٹیلی جینس، ڈیفنس شیئرنگ کر رہا ہے، ان تینوں سیٹلائٹ کا ڈیٹا انڈیا کو میسر ہو گا اس میں یو اے ویز، ڈرون کو فلائی کرنے اور ایئر کرافٹ کو سپورٹ کرنے کے لئے سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم ملے گا اور وہ ہمارے خلاف استعمال ہو گا، اب خطے میں نظر آ رہا ہے کہ دو بلاک بننے جا رہے ہیں، اعلان ہونا باقی ہے، ترکی پاکستان کو پریشرائز کر رہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے خلاف کھڑا ہو جائے، سعودی عرب کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان پرانے بلاک میں رہے، اب اگلی تھریٹ تیل نہ ملنے کی آ رہی ہے، دیکھتے ہیں ایران تیل کی ڈیمانڈ پوری کر سکتا ہے یا نہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک کے سولہ کے سولہ پروجیکٹ کھڑے ہوگئے ہیں، سی پیک اتھارٹی کام نہیں کر رہی قانونی طور پر ہے ہی نہیں،چیئرمین سی پیک جنرل باجوہ عنقریب آنے والے دنوں میں استعفیٰ دینے والے ہیں، کیونکہ جنرل باجوہ کے کردار کو اتنا متضاد بنا دیا گیا ہے کہ وہ جتنا مرضی اچھے ہوں انکا کسی حکومتی پوسٹ پر مزید رہنا اس حکومت کے لئے فائدے مند نہیں بلکہ نقصان دہ ہو گا اور اپنے پرانے ادارے کے لئے نقصان دہ ہو گا پی ڈی ایم کے ہر جلسے میں ہر آدمی جنرل عاصم باجوہ کا نام لے رہا ہے جیسے وہ مندر کی گھنٹیاں بجا رہا ہوتا ہے،تو اب ایک ریمائنڈر ہے انکو اب سائیڈ پر ہونا پڑے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کو بڑے فیصلے کرنے ہیں، روس کے ساتھ دوستی کرتے ہیں تو دیکھا ہے کہ وہ انڈیا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے یا نہیں، اگر روس کی وجہ سے امریکہ کے سامنے کھڑے ہو رہے ہیں تو اسکو دیکھنا پڑے گا، اب وقت آ گیا ہے کہ سوچیں خطے مٰن کییسے الائنس بنانے ہیں، سعودی عرب، گلف ممالک کو چھوڑ سکتے ہیں، کیا دوسرے ممالک ترکی اور ایران اتنی ٹریڈ کر سکتے ہیں جتنی گلف میں ہے،کیا امریکہ، اسرائیل کی ناراضگی میں انڈیا کو وار کی دعوت نہیں دے رہے جس کو خطے میں گرین کارڈ مل چکا ہے،کہ جو مرضی کرے،تو آنے والے دن پاکستان کے لئے بہت مشکلات کے دن ہیں، جتنی یہ سیاسی جدوجہد ہے پی ڈی ایم کی، اسکا ٹارگٹ ہے کہ پاکستان کو سیاسی اور اقتصادی طور پر اتنا مجبور کر دیا جائے کہ وہ دوبارہ پرانے بلاک میں گرنے پر مجبور ہو جائے،کہ ہماری مدد کرو، اور اگر خطے پر کوئی حملہ کرتا ہے آزاد کشمیر یا گلگت تو عسکری قیادت اور عوام میں خلیج پیدا ہو ،یہ کوشش ہے،اور مشکل ہو جائے اسکو ڈیفنڈ کرنا ، بھارت کے عزائم ہمیں یہاں فوکس نظر آتے ہیں، کیا ہماری حکومت اور حکمران وہ کتاب پڑھنے کے اہل ہیں جو ہمارے سامنے کھلی ہوئی ہے،

  • ملک میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے دشمن کیا کرسکتا ہے ، وزیراعظم نے خدشے کا اظہار کردیا

    ملک میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے دشمن کیا کرسکتا ہے ، وزیراعظم نے خدشے کا اظہار کردیا

    باغی ٹی وی. دشمن ملک میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے کیا کرسکتا ہے ، وزیراعظم نے خدشے کا اظہار کردیا

    وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت افغانستان کوپاکستان میں انتشار اور عدم استحکام پھیلانے کے لیے استعمال کرے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے پاک افغان تجارت و سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم نے بھارت کے ساتھ دوستی کی بہت کوشش کی لیکن بھارت نظریاتی طور پر پاکستان کے خلاف ہے اس لیے ہماری کوششیں نتیجہ خیز نہیں ہو سکیں۔

    بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے اس خطے کے افغانستان کے ساتھ صدیوں سے تعلقات ہیں۔ افغانستان مغلیہ سلطنت کا حصہ تھا۔ موجودہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے علاقے افغانستان کی درانی سلطنت کا بھی حصہ رہے ۔ قبائلی علاقوں اور افغانستان سے صدیوں سے کلکتہ تک تجارتی قافلے جاتے تھے ۔ افغان جہاد شرو ع ہونے تک وسط ایشیا اور افغانستان سے ہندوستان کے ساتھ تجارت ہوتی رہی۔ یہ ہماری تاریخ ہے ۔

    کشمیر. یوم سیاہ. وزیراعظم عمران خان کا دنیا کے نام اہم پیغام


    انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے افغانستان 40 سال سے انتشار کا شکار ہے جس سے نا صرف افغانستان بلکہ پاکستان کا بھی بہت نقصان ہوا۔ گزشتہ 18 سال سے دہشت گردی کے نام پر جنگ سے افغانستان کے علاوہ پاکستان کو بھی بہت نقصان ہوا اور اختلافات اور شکوک و شہبات بھی پیدا ہوئے لیکن ہمیں ماضی میں نہیں پھنسے رہنا چاہیے بلکہ مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے ۔ ہمیں ماضی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہو گا۔ پاکستان نے ماضی سے سیکھا ہے ۔ افغانستان کی تاریخ گواہ ہے کہ باہر سے کوئی افغانستان پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ افغان اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور باہر کااثر نہیں لیتے ۔ افغان عوام جیسی حکومت چاہیں منتخب کریں، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے ۔ جو بھی افغان حکومت ہو گی پاکستان اس سے اپنے تعلقات مضبوط رکھے گا۔

    انہوں نے کہا کہ افغانستان میں انتشار سے پاکستان کے قبائلی علاقے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی تجارت سے ہی خوشحالی آ سکتی ہے ۔ہماری حکومت دولت میں اضافے کے لئے بھرپور اقدامات کررہی ہے ۔ اس کے لئے تجارت اور صنعت کو فروغ دینا اور بزنس کمیونٹی کو اٹھانا ہو گا۔ افغانستان ہمارا قدرتی شراکت دار ہے ۔افغانستان کے ساتھ تجارت سمیت ہر طرح کے تعلقات کو فروغ دیناچاہتے ہیں۔ افغانستان میں امن سے بالخصوص خیبر پختونخوا اور پاکستان کا فائدہ ہے ۔افغانستان میں امن کے لئے کوئی اور ملک اتنی کوشش نہیں کر رہا جتنا پاکستان کررہا ہے کیونکہ ہمارا مستقبل افغانستان اور وسط ایشیا کے ساتھ تجارتی فروغ سے وابستہ ہے ۔

    وزیرا عظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا اور طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت میں اہم کردار ادا کیا۔ افغانستان میں روزانہ ہونے والی شہادتوں پر ہمیں تکلیف ہے اور ہماری حکومت، فوج اور انٹیلی جنس ادارے افغانستان میں تشدد کے خاتمے اور امن کے لئے کوشاں ہیں۔یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ جموں وکشمیر کے تنازع کی بین الاقوامی حیثیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے جن پر عملدرآمد ہونا باقی ہے ، تمام رکن ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنائیں، پاکستان دنیا پر زور دیتا ہے کہ بھارت کو خطے میں عدم استحکام کے لئے ریاستی دہشتگردی کے استعمال سے روکا جائے جبکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے پر مجبور کیا جائے ۔
    ادھر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے زیادہ اقدامات اٹھائےجائیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور ذخیرہ اندوزوں کے معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے جلاس میں عسکری ایئرلائن کے ریگولر پبلک ٹرانسپورٹ لائسنس منسوخ کرنے کی منظوری دی گئی۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں خلیجی ممالک کے شہزادوں کے لیے لائیواسٹاک برآمد کرنے اور نان ٹریٹی ممالک کی جانب سے میوچل لیگل اسسٹنس کی درخواستوں کی منظوری دی گئی

  • وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں 12 نکاتی ایجنڈے پر غور

    وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں 12 نکاتی ایجنڈے پر غور

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت 12 نکاتی ایجنڈے پر غور

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کی مشکلات کا مکمل احساس ہے، مہنگائی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت آج وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں مہنگائی سمیت 12 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

    کابینہ اجلاس میں ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور کابینہ کو گندم، چینی سمیت اشیائے ضروریہ کی دستیابی پر بریفنگ بھی دی گئی۔

    اس کے علاوہ اجلاس میں کابینہ کو 30 جنوری 2021 تک گندم کی درآمد کی ٹائم لائن اور چینی کے درآمدی شیڈول اور قیمتوں میں کمی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے زیادہ اقدامات اٹھائےجائیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور ذخیرہ اندوزوں کے معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے جلاس میں عسکری ایئرلائن کے ریگولر پبلک ٹرانسپورٹ لائسنس منسوخ کرنے کی منظوری دی گئی۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں خلیجی ممالک کے شہزادوں کے لیے لائیواسٹاک برآمد کرنے اور نان ٹریٹی ممالک کی جانب سے میوچل لیگل اسسٹنس کی درخواستوں کی منظوری دی گئی۔

    وفاقی کابینہ کو فوجداری قوانین میں اصلاحات سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ اس کے علاوہ ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم اور سازوسامان نصب کرنے سے متعلق پالیسی موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔موزیراعظم نے گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کے لیے اجلاس طلب کر لیا۔

  • قانون کی حکمرانی:پاکستان کی صورت حال بہت خراب،لمحہ فکریہ :عالمی ادارے کی رپورٹ

    قانون کی حکمرانی:پاکستان کی صورت حال بہت خراب،لمحہ فکریہ :عالمی ادارے کی رپورٹ

    لاہور:قانون کی حکمرانی:پاکستان کی صورت حال بہت خراب،لمحہ فکریہ :عالمی ادارے کی رپورٹ،تفصیلات کے مطابق دنیا بھرمیں رو ل آف لایعنی قانون کی حکمرانی کا جائزہ لینے والے عالمی ادارے نے پاکستان میں رول آف لا کی حکمرانی کے حوالے سے صورت حال مخدوش قراردیتے ہوئے اسے بہتری کی طرف لے جانے کی ہدایت کی ہے ،

    رپورٹ کے مطابق ورلڈ جسٹس پروجیکٹ نامی تنظیم کا کہنا ہےکہ پاکستان کی اس حوالے سے صورت حال اس قدر خراب ہےکہ انڈیکس میں انتہائی نچلے درجے تک چلا گیا ہے اور اس وقت اس سروے میں جس مٰیں 128 ملکوں کوشامل کیا گیا ہے میں پاکستان کی پوزیشن 120 ویں نمبر ہے جو کہ بہت منفی تاثردیتی ہے

     

     

    اس دارے نے پچھلے تین سال سے مسلسل ان ممالک میں  حکمرمسلسل تیسرے سال قانون کی حکمرانی کا جائزہ لیا ہے اورکارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عرصے کے دوران زیادہ ترممالک کی صورت حال بہتر ہونے کی بجائے خراب ہی ہوئی ہے ، 2020 انڈیکس میں قانون کی بگڑتی ہوئی حکمرانی کا مظاہرہ کرنے والے زیادہ تر ممالک میں پچھلے سال بھی صورت حال کچھ اس قسم کی ہی تھی ،

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ممالک میں قانون کی حکمرانی کے گرتے ہوئے معیار کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ صورت حال بگڑ رہی ہے ، 2019 میں‌ صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو ممالک اس سال بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہے تھے ان کی صورت حال بھی بتدریج خراب ہورہی ہے

    اس رپورت کے مطابق54 ممالک کی صورت حال بہتر ہونےکی بجائے بگڑی ہے ، ہاں 29 ممالک میں کچھ پہلووں میں قدرے بہتری آئی ہے

     

     

    اس رپورٹ کے مطابق حکومتی فیصلوں کے حساب سے دیکھا جائے تو 52 فیصد میں منفی تاثرپایا گیا جبکہ 28 ممالک میں صورت حال قدرے بہتر ہوئی

    اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 51 فیصد ممالک میں بدعنوانی بڑھی جبکہ 26 ممالک میں بدعنوانی میں‌کمی محسوس کی گئی

    اطلاعات کے مطابق یہ کوئی نیا نمونہ نہیں ہے۔ ڈبلیو جے پی کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ وہی تین عوامل پانچ سال میں سب سے زیادہ زوال پذیر تھے۔ بنیادی حقوق نے سب سے زیادہ پیچھے ہٹتے ہوئے دکھایا ہے کہ 2015 کے بعد سے 67 ممالک اسکور میں کمی کر رہے ہیں۔

     

     

    سول جسٹس نے پچھلے سال کے دوران سب سے زیادہ مثبت تحریک دکھائی ، جس میں 47 ممالک کے مقابلے میں 41 کمی واقع ہوئی۔ 2015 کے بعد سے ، ریگولیٹری انفورسمنٹ میں سب سے زیادہ بہتری آئی ہے ، 65 ممالک میں 29 کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    ڈنمارک ، ناروے ، اور فن لینڈ 2020 میں ڈبلیو جے پی رول آف لا لا انڈکس کی درجہ بندی میں سرفہرست ہیں۔ وینزویلا ، کمبوڈیا ، کانگو،کیمرون ،مصر،افغانستان اورپاکستان سمیت چند ممالک مین قانون کی حکمرانی کا گراف گرا

     

     

    قانون کی حکمرانی کے حوالے سے اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق پہلے ٹاپ ٹین میں شامل ممالک 2019 میں ہماری آخری رپورٹ کے بعد سے کوئی تبدیلی نہیں ہیں۔ اس سال پہلی بار ریاست ہائے متحدہ امریکہ اسپین کی جگہ 20 ٹاپ ممالک سے باہر ہوگیا۔ سنگاپور تجارتی مقامات کے ساتھ فرانس 17 سے 20 تک گر گیا ، برطانیہ کے ساتھ 13 سے 12 کے نمبر ایک درجہ بہتر دکھائی دے رہا ہے

     

     

    قانون کی حکمرانی میں بہتری کی طرف گامزن ممالک ایتھوپیا بنیادی طور پر حکومتی اختیارات اور بنیادی حقوق پر قابو پانے کے حوالے سے بہتر دکھائی دیا جبکہ ملائشیا بنیادی طور پر حکومتی اختیارات ، بنیادی حقوق ، اور ریگولیٹری انفورسمنٹ میں بہتر رہا

     

     

    قانون کی حکمرانی میں سب سے نیچے کیمرون (-4.4٪ ، بنیادی طور پر آرڈر اینڈ سیکیورٹی اور بنیادی حقوق میں اسکور گرنے سے گیا اور ایران (-4.2٪ ، بنیادی طور پر فوجداری انصاف میں پیچھے گیا
    اس رپورٹ میں پاکستان کو مجموعی طورپرتو گراف گرتا ہوا دکھائی دیا لیکن ویسے کچھ پہلووں میں بہتری بھی دکھائی دی ہے

    پچھلے پانچ سالوں میں ، قانون کی حکمرانی میں سب سے زیادہ اوسطا سالانہ فیصد کمی کا سامنا کرنے والے ممالک مصر (-4.6٪) ، وینزویلا (-3.9٪) ، کمبوڈیا (-3.0٪) ، فلپائن (-2.5٪) ، کیمرون ( -2.4٪) ، ہنگری (-2.1٪) ، اور بوسنیا اور ہرزیگوینا (-2.1) پر ہیں

     

     

    پچھلے پانچ سالوں میں عنصر کے لحاظ سے سب سے بڑی کمی مصر کی حکومت اور پولینڈ کی سرکاری طاقتوں پر قابو پانے کے لئے اسکور تھی ، جس میں اوسطاسالانہ زوال بالترتیب -8.5٪ اور -6.8٪ تھا۔

    وہ ممالک جو اپنے علاقوں میں قانون کی حکمرانی کے لئے سب سے پہلے ہیں: نیپال (جنوبی ایشیاء) ، جارجیا (مشرقی یورپ اور وسطی ایشیاء)؛ نمیبیا (سب صحارا افریقہ)؛ یوراگوئے (لاطینی امریکہ اور کیریبین)؛ متحدہ عرب امارات (مشرق وسطی اور شمالی افریقہ)؛ نیوزی لینڈ (مشرقی ایشیا اور بحر الکاہل) ، اور ڈنمارک (مغربی یورپ اور شمالی امریکہ ، شامل ہیں

  • پشاور دھماکہ، وزیراعظم کا سخت رد عمل سامنے آ گیا،بڑا اعلان

    پشاور دھماکہ، وزیراعظم کا سخت رد عمل سامنے آ گیا،بڑا اعلان

    پشاور دھماکہ، وزیراعظم کا سخت رد عمل سامنے آ گیا،بڑ اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پشاور میں مدرسے پردہشت گرد حملے سے گہرا صدمہ ہوا،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پشاور میں مدرسے پردہشت گرد حملے سے گہرا صدمہ ہوا،متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتا ہوں،زخمیوں کی جلد صحتیابی کےلیے دعاگو ہوں

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یقین دلاتا ہوں کہ ذمہ دار دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لاوَں گا

    پشاور میں دھماکا، مدرسے کے 5 طلبا جاں بحق، 50 زخمی

    مشکوک شخص مدرسے میں آیا اور یہ چیز چھوڑ کر گیا جس کے بعد دھماکہ ہوا، پولیس

    پشاورمدرسے میں دھماکے کے بعد کے مناظر کی ویڈیو

    مدرسے میں کلاس جاری تھی،مہتمم پڑھا رہے تھے، اچانک دھماکہ ہو گیا، کلاس کی ویڈیو وائرل

    پشاور مدرسہ دھماکہ،اموات اورزخمیوں میں اضافہ

    ریسکیو 1122 نے کتنے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا؟ زخمیوں کو خون کاعطیہ دینے کی اپیل

    مدرسہ دھماکہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، مریم نواز

    یوم سیاہ کشمیر کے باعث دھماکے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہو سکتا ہے

    واضح رہے کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی زرگر آباد میں مدرسے سے ملحقہ مسجد میں دھماکے میں 7 افراد شہید اور 72 زخمی ہوگئے، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی ڈکلیئر اور ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    دھماکا مسجد کے مرکزی ہال میں اس وقت ہوا جب تدریسی عمل جاری تھا، اسی دوران ایک شخص بیگ اٹھائے ہال میں داخل ہوا اور پھر کچھ لمحوں بعد زور دار دھماکا ہوگیا۔ مسجد کے ایک طرف کی دیوار گرگئی، چھت سے پلستر اکھڑ گیا، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، منبر کے قریب گڑھا پڑ گیا، شیشوں کی کرچیاں، طلبا کے بستے اور پنسلیں فرش پر بکھر گئیں، ریسیو ٹیموں نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا،

  • کشمیر. یوم سیاہ. وزیراعظم عمران خان کا دنیا کے نام اہم پیغام

    کشمیر. یوم سیاہ. وزیراعظم عمران خان کا دنیا کے نام اہم پیغام

    کشمیر، یوم سیاہ، وزیراعظم عمران خان کا دنیا کے نام اہم پیغام
    پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا،وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابقوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے تنازع کی بین الاقوامی حیثیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے جن پر عمل درآمد ہونا باقی ہے، تمام رکن ممالک کی مشترکہ زمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنائیں، پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ بھارت کو خطے میں عدم استحکام کے لئے ریاستی دہشت گردی کے استعمال سے روکا جائے جبکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے پر مجبور کیا جائے، پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور ان کے جائز حق خودارادیت کے حصول تک ہر ممکن حمایت جاری رکھے گا۔

    یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم یہ دن بھارت کے غیر قانونی قبضہ کی مذمّت اور کشمیری عوام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کے طور پر منا رہے ہیں۔ یوم سیاہ کشمیر انسانی تاریخ کے سیاہ باب کی عکاسی کرتا ہے جب 73 سال قبل بھارتی فورسز خطے پر زبردستی قبضہ اور کشمیری عوام کو محکوم بنانےکے لئے سری نگر میں اتری تھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضہ سے یہ بین الاقوامی تنازع بنا ہے جس کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں سے وابستہ ہے۔

    مودی کیا تم سرینگر میں کشمیریوں سے خطاب کر سکتے ہو؟ وزیرخارجہ کا چیلنج

    کشمیر کی آزادی کے لئے قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے، علی امین گنڈا پور

    آج چالیسواں روز،پیاروں کی کوئی خبر نہیں، وزیراعظم آزاد کشمیر

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے سنگین مظالم اور جبر و استبداد کے باوجود بھارت کشمیری عوام کے عزم اور حوصلے کو توڑنے میں ناکام رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی ریاستی دہشتگردی،بے گناہ کشمیری عوام کی ماورائے عدالت شہادتیں، اظہار رائے پر پابندیاں، جعلی مقابلے، محاصرہ اور سرچ آپریشنز، دوران حراست تشدد و ہلاکتیں، جبری گمشدگیاں، پیلٹ گنز کے استعمال، کشمیری عوام کو اجتماعی سزا دینے کے لئے ان کے گھروں کو تباہ و نذر آتش کرنا اور کشمیریوں کو محکوم رکھنے کے دیگر تمام حربوں کو استعمال کرنا کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے حصول کی جائزجدو جہد کے لئے ان کا جزبہ اورحوصلہ پست نہیں کر سکا۔

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کو غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی یکطرفہ کاروائیاں، فوجی محاصرہ، مواصلاتی رابطے منقطع کرنا اور متنازع علاقہ کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے جیسے دیگر غیر قانونی اقدامات نے بھارت پر مسلط آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریہ کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارتی ہندوتوا کے شدت پسند نظریات اور اکھنڈ بھارت جیسے مذموم عزائم نے علاقائی امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے تنازع کی بین الاقوامی حیثیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے جن پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔

    نفرت انگیز تقاریر اور اسلامو فوبیا کے خاتمہ کیلئے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، وزیراعظم عمران خان

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    وزیراعظم نے کہا کہ یہ تمام رکن ممالک کی مشترکہ زمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو اپنی بین الاقوامی زمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنائیں، پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ بھارت کو خطے میں عدم استحکام کے لئے ریاستی دہشت گردی کے استعمال سے روکا جائے جبکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے پر مجبور کیا جائے۔ یہ ہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور ان کے جائز حق خودارادیت کے حصول تک ہر ممکن حمایت جاری رکھے گا.