16 اکتوبر کو کیا ہو گا؟ جلسے کے لئے عوام میں کتنا جوش و خروش؟ ایاز صادق نے حقیقت بتا دی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کا 16 کو جلسہ ہے گوجرانوالہ میں، اس سے اپوزیشن کو کافی امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں، گوجرانوالہ ن لیگ کا گڑھ ہے وہاں بڑا جلسہ نہ ہونا انکے لئے خطرے کی علامت ہو گی، ن لیگ اس جلسے سے کیا کرنے جا رہی ہے؟ سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ہمارے پاس موجود ہیں
مبشر لقمان نے کہا کہ 16 کے جلسے کو کیسا دیکھ رہے ہیں جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ پر ہمارا مضبوط ہولڈ ہے، ہمارا خیال تھا کہ گوجرانوالہ کا جلسہ ہو جائے گا لیکن ہمارے لئے مشکل ہو رہی ہے حلقے کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے بھی جانا ہے، اراکین اسمبلی کے حلقوں سے لوگ رابطہ کر رہے ہیں، لوگوں کا خود کتنا انٹرسٹ ہے میں خود حیران ہوں ، یہ ہماری توقع سے بڑھ کر جلسہ ہو گا،اگر یہ جلسہ لاہور میں ہوتا تو شاید بڑا ہوتا میرا خیال یہ تھا لیکن اب لوگوں کے فون آ رہے ہیں کہ ہم کیسے جائیں، موٹر سائیکل پر یا گاڑی پر، پہلے بھی جلسے ہوتے رہے لیکن ایسا جوش پہلے کبھی نظر نہیں آیا، غیر سیاسی لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے ملک میں تباہی کر دی، مہنگائی ہو گئی ہے، ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے، برداشت سے باہر ہے، اگر یہ بے روزگار ہیں تو وہاں جا کر میلہ ہی دیکھ آئیں گے اس طرح کے بھی لوگوں کے کمنٹس ہیں، سپیشل برانچ والے آئے تھے آج، اس سے دو دن پہلے ریس کورس تھانے والے آئے تھے، وہ یہ پوچھتے ہیں کہ انکا یہی گھر ہے، گاڑی کا نمبر بتا دیں، ایسے سوال کر رہے ہیں کہ میں خود حیران ہوں، انکو یہ نہیں پتہ کہ سابق سپیکر کا گھر کونسا ہے تا باقیوں کا کیا پتہ ہے، آج صدر سے کچھ لوگوں کو اٹھایا ہے ، وہ اپنا کام کریں ہم اپنا کام کریں گے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ ایاز صاحب مجھے تھوڑی دیر پہلے پتہ چلا ہے کہ پہلی ایف آئی آرگوجرانوالہ میں کٹی ہے کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر حکومت یہ کر رہی ہے تو جلسے کی اجازت مل جائے گی، جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جلسے کی اجازت نہیں دیں گے تو سڑکوں پر جلسے کریں گے، جب یہ پنڈی میں اپنا جلسہ کر رہے تھے اسوقت کرونا یاد نہیں تھا، آج انہیں کرونا یاد آ گیا ،ان پر بھی تو پرچے کاٹیں، یہ ہتھکنڈے بوکھلاہٹ کے ہیں ،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر ایس او پیز دیکھا جائے تو مجھے پورے لاہور میں دکھا دیں کہ ایس او پیز کہاں فالو ہو رہا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پہلی دفعہ آج 15 ڈیتھ ہوئی ہیں، ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اب ٹیسٹنگ شروع کر دی ہے، کسی ہسپتال میں پہلے ٹیسٹنگ نہیں ہو رہی تھی، ڈاکٹر مریضوں کو پہلے ویسے ہی واپس بھیج رہے تھے ،اب ٹیسٹ ہو رہے ہیں تو سب سامنے آ رہا ہے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ پہلا جلسہ،دوسرا، تیسرا جلسہ، ان جلسوں کے بعد الٹی میٹ کیا ہو گا، جس کے جواب میں ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہمارا پی ڈی ایم کا جو الائنس بنا تھا اس میٹنگ میں تھا، ہماری سٹیرنگ کمیٹی میں بھی تھا، وہاں یہی بات بنی کہ ن لیگ کی موبلائزیشن کرنی ہے، ورکرز کنونشن کے بعد گوجرانوالہ،کراچی،کوئٹہ،پشاور جلسہ ہو گا، لاہور کے جلسہ کے بعد مارچ ہو گا، یہ بات یاد رکھیں کہ اگر انکا ایک کزن تھا تو ہمارے 11 کزن ہیں
سی پیک اتھارٹی اور عاصم باجوہ کے بارے میں ایاز صادق نے سب بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ سی پیک کے حوالہ سے آرڈیننس جون میں ختم ہو گیا ہے، جون کے بعد سے کسی کو تنخواہ نہیں ملی
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوال کیا کہ جنرل ر عاصم سلیم باجوہ پر وی لاگ کیا تھا، کہ سی پیک اتھارٹی کے حوالہ سے قانون سازی نہیں ہوئی، وہ چیئرمین سی پیک نہیں رہے،آپ سپیکر رہے ہیں اس معاملے کو کلیئر کر سکتے ہیں
جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہماری سی پیک کمیٹی کی ہفتہ پہلے میٹنگ ہوئی تھی، چیئرمین میٹنگ کو چیئر کر رہے تھے اور اس میٹنگ میں ایک سیکرٹری صاحب بیٹھے ہوئے تھے، میں نے سوال کیا کہ سی پیک سے کوئی آدمی میٹنگ میں ہے جس پر ان صاحب نے کہا کہ میں بیٹھا ہوں، میں نے سوال کیا کہ آپ کون ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں سیکرٹری ہوں،میں نے کہا کہ آپکو تنخواہ مل رہی جس پر انہوں نے کہا کہ نہیں مل رہی، میں نے کہا کہ آرڈیننس ختم ہو گیا،یہ میٹنگ غیر قانونی ہے، اگر آپ نے بیٹھنا ہے تو پیچھے بیٹھ جائیں وہ جا کر پیچھے بیٹھ گئے،
ایاز صادق کا مزید کہنا تھا کہ ہماری ان کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہیں، اس وقت کوئی سی پیک اتھارٹی اور چیئرمین نہیں، اگر جون کے بعد کی سیلری دیں گے تو قانون پر بات آئے گی کیونکہ وہ کام ہی نہیں کر رہے،یہ دیکھیں کہ اب اتنی بحث ہو گئی ہے کہ عاصم باجوہ کے بارے میں، انویسمنٹ انکی امریکہ میں ہے اور امریکہ چین کے تعلقات کشیدہ ہیں، انکو اس بحث سے نکلنا ہو گا، نیشنل انٹرسٹ کی خاطر اگر انہیں دوبارہ چیئرمین لگایا جاتا ہے تو یہ ہماری ریلیشن شپ کے لئے بہتر نہین ہو گا، میں وثوق سے بات کرتا ہوں، میری چینی سفیر اور عملے سے بات ہوتی رہتی ہے اگر وہ دوبارہ آئے تو یہ زیادتی ہو گی،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کا 16 کو جلسہ ہے گوجرانوالہ میں، اس سے اپوزیشن کو کافی امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں، گوجرانوالہ ن لیگ کا گڑھ ہے وہاں بڑا جلسہ نہ ہونا انکے لئے خطرے کی علامت ہو گی، ن لیگ اس جلسے سے کیا کرنے جا رہی ہے؟ سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ہمارے پاس موجود ہیں
مبشر لقمان نے کہا کہ 16 کے جلسے کو کیسا دیکھ رہے ہیں جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ پر ہمارا مضبوط ہولڈ ہے، ہمارا خیال تھا کہ گوجرانوالہ کا جلسہ ہو جائے گا لیکن ہمارے لئے مشکل ہو رہی ہے حلقے کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے بھی جانا ہے، اراکین اسمبلی کے حلقوں سے لوگ رابطہ کر رہے ہیں، لوگوں کا خود کتنا انٹرسٹ ہے میں خود حیران ہوں ، یہ ہماری توقع سے بڑھ کر جلسہ ہو گا،اگر یہ جلسہ لاہور میں ہوتا تو شاید بڑا ہوتا میرا خیال یہ تھا لیکن اب لوگوں کے فون آ رہے ہیں کہ ہم کیسے جائیں، موٹر سائیکل پر یا گاڑی پر، پہلے بھی جلسے ہوتے رہے لیکن ایسا جوش پہلے کبھی نظر نہیں آیا، غیر سیاسی لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے ملک میں تباہی کر دی، مہنگائی ہو گئی ہے، ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے، برداشت سے باہر ہے، اگر یہ بے روزگار ہیں تو وہاں جا کر میلہ ہی دیکھ آئیں گے اس طرح کے بھی لوگوں کے کمنٹس ہیں، سپیشل برانچ والے آئے تھے آج، اس سے دو دن پہلے ریس کورس تھانے والے آئے تھے، وہ یہ پوچھتے ہیں کہ انکا یہی گھر ہے، گاڑی کا نمبر بتا دیں، ایسے سوال کر رہے ہیں کہ میں خود حیران ہوں، انکو یہ نہیں پتہ کہ سابق سپیکر کا گھر کونسا ہے تا باقیوں کا کیا پتہ ہے، آج صدر سے کچھ لوگوں کو اٹھایا ہے ، وہ اپنا کام کریں ہم اپنا کام کریں گے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ ایاز صاحب مجھے تھوڑی دیر پہلے پتہ چلا ہے کہ پہلی ایف آئی آرگوجرانوالہ میں کٹی ہے کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر حکومت یہ کر رہی ہے تو جلسے کی اجازت مل جائے گی، جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جلسے کی اجازت نہیں دیں گے تو سڑکوں پر جلسے کریں گے، جب یہ پنڈی میں اپنا جلسہ کر رہے تھے اسوقت کرونا یاد نہیں تھا، آج انہیں کرونا یاد آ گیا ،ان پر بھی تو پرچے کاٹیں، یہ ہتھکنڈے بوکھلاہٹ کے ہیں ،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر ایس او پیز دیکھا جائے تو مجھے پورے لاہور میں دکھا دیں کہ ایس او پیز کہاں فالو ہو رہا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پہلی دفعہ آج 15 ڈیتھ ہوئی ہیں، ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اب ٹیسٹنگ شروع کر دی ہے، کسی ہسپتال میں پہلے ٹیسٹنگ نہیں ہو رہی تھی، ڈاکٹر مریضوں کو پہلے ویسے ہی واپس بھیج رہے تھے ،اب ٹیسٹ ہو رہے ہیں تو سب سامنے آ رہا ہے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ پہلا جلسہ،دوسرا، تیسرا جلسہ، ان جلسوں کے بعد الٹی میٹ کیا ہو گا، جس کے جواب میں ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہمارا پی ڈی ایم کا جو الائنس بنا تھا اس میٹنگ میں تھا، ہماری سٹیرنگ کمیٹی میں بھی تھا، وہاں یہی بات بنی کہ ن لیگ کی موبلائزیشن کرنی ہے، ورکرز کنونشن کے بعد گوجرانوالہ،کراچی،کوئٹہ،پشاور جلسہ ہو گا، لاہور کے جلسہ کے بعد مارچ ہو گا، یہ بات یاد رکھیں کہ اگر انکا ایک کزن تھا تو ہمارے 11 کزن ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہم نے طاہر القادری کا دھرنا دیکھا، پی پی کی حکومت کو کچھ نہیں ہوا،پی ٹی آئی کا دھرنا تھا میں خود بھی اس میں شامل تھا، ن لیگ کی حکومت کوکچھ نہیں ہوا، آپ کے دھرنے میں ایسا کیا ہو گا کہ حکومت خود گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گی جس کے جواب میں ایاز صادق کا کہنا تھا کہ میں نے کینٹینر پر کھڑے ہو کر خود دو دفعہ ترغیب دی تھی مولانا کے دھرنے کی، اگر انکو کمپیئر کریں باقی دھرنوں سے تو زمین آسمان کا فرق ہے، وہ جو دھرنا تھا اس میں آنکھوں میں چمکتے جذبات کینٹینر پر چڑھ کر نظر آتے تھے،وہ ڈیڑھ سو دو والا نہیں کہ رات گھر چلے جائیں اور صبح آ کر گانا بجانا شروع کر دیں،پارلیمنٹ لاجز سے ہمیں نظر آ جاتا تھا میں خود کئی بار وہاں گیا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے میں خالی کرسیاں ہوتی تھی، کبھی بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ تھے،جب قومی اسمبلی پر انہوں نے حملہ کیا تھا تب تھوڑے لوگ زیادہ تھے، جب میں نے ایف آئی آر کٹوائی تھی عمران خان اور طاہر القادری پر ،تب لوگ زیادہ تھے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ 16 کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلا لیا گیا وہ دھڑا دھڑ قانون سازی کر لیں گے ،جو انکو کرنی تھی، اور آپ لوگ تو یہاں پر ہوں گے، جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک بوکھلاہٹ ہے، کبھی سیشن جمعہ کی شام کو نہیں بلایا گیا، جمعہ کی نماز سے پہلے سیشن ختم کر دیا جاتا ہے، ایک بجے جمعہ کی بریک ہوتی ہے، اسکے بعد ایم این ایز نے ہفتہ اتوار اپنے علاقوں میں گزارنا ہوتا ہے، 2002 سے لے کر 2020 تک کا جو میرا وقت ہے یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جمعہ کو ساڑھے چار بجے سیشن رکھا گیا، کر لیں جو کرنا ہے، اس دن ہم میدان جنگ میں ہوں گے، یہ حکومت کی طرف سے بلایا گیا سیشن ہے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ سی سی پی او لاہور نے تو مان لیا کہ غداری کا مقدمہ انکے علم میں تھا یا انکے کہنے پر کیا ہو گا، اسکا مطلب ہے کہ اب پولیس میں ایسی پوسٹنگز ہو رہی ہیں کہ آپ کو سبق سکھایا جائے،جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جی سکھا لیں سبق، مشرف کے دور میں بھی سبق سکھایا گیا تھا اب مشرف کا نام کوئی نہیں لیتا،نواز شریف کو آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں، پولیس کا سسٹم آتا جاتا رہتا ہے، مجھے افسوس ہوا جب انہوں نے غداری کا کیس واپس لیا، میں بھی اس کیٹگری میں آگیا جس میں فاطمہ جناح کو غدار کہا گیا، غداری فخر کی بات تھی، پاکستان میں کوئی آدمی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ وہ زیادہ پاکستانی ہے اور ہم کم ہیں، ہم غدار اور دوسرا پاک صاف ہے، ہم کسی کو غدار نہیں کہتے لیکن یاد رکھیں تاریخ کیسے یاد رکھے گی، آزاد کشمیر کے وزیراعظم پر پرچہ کاٹنا ،عمران خان کے ہاتھوں سقوط کشمیر ہوا،انہوں نے پرچہ کاٹ کر انڈیا کو پیغام دیا کہ میں سٹنگ پرائم منسٹر پر پرچہ کروا سکتا ہوں ،آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی عمران خان کے خلاف نفرت بڑھی ہے، یہ برا میسج گیا ہے کشمیریوں کے لئے اور بھارت کو اچھا میسج کیا ، یہ وہی مودی ہے جس کے بارے میں عمران خان کہتے تھے کہ مودی الیکشن جیتے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا، کشمیریوں کو ڈی مورالائز کرنا انڈیا کا مشن ہے ہماری حکومت نے بھی کچھ نہیں کیا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تین دن پہلے جنرل باجوہ کی سٹیٹمنٹ آئی کہ ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں تو ایسا جب تک حکومت اور آرمی ایک پیج پر ہیں ان جلسوں سے حکومت کتنا کمزور ہو گی،جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اگر وہ پولیٹکلی کھڑے ہیں تو ہمیں کہیں کہ ہم پولیٹکلی ہیں تب تو بات ہے، یہ ہر فوجی چیف کہے گا کہ ہم پاکستان اور حکومت کے ساتھ ہیں، یہ انکی ذمہ داری ہے،مگر اگر وہ یہ کہیں کہ ہم پولیٹکلی ساتھ کھڑے ہیں یہ الارمنگ ہے، انکا میسج نئی چیز نہیں تھی، روٹین کی تقریر تھی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جنرل ر عاصم سلیم باجوہ پر وی لاگ کیا تھا، قانون سازی نہیں ہوئی، وہ چیئرمین سی پیک نہیں رہے،آپ سپیکر رہے ہیں اس معاملے کو کلیئر کر سکتے ہیں جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہماری سی پیک کمیٹی کی ہفتہ پہلے میٹنگ ہوئی تھی، چیئرمین میٹنگ کو چیئر کر رہے تھے اور اس میٹنگ میں ایک سیکرٹری صاحب بیٹھے ہوئے تھے، میں نے سوال کیا کہ سی پیک سے کوئی آدمی میٹنگ میں ہے جس پر ان صاحب نے کہا کہ میں بیٹھا ہوں، میں نے سوال کیا کہ آپ کون ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں سیکرٹری ہوں،میں نے کہا کہ آپکو تنخواہ مل رہی جس پر انہوں نے کہا کہ نہیں مل رہی، میں نے کہا کہ آرڈیننس ختم ہو گیا،یہ میٹنگ غیر قانونی ہے، اگر آپ نے بیٹھنا ہے تو پیچھے بیٹھ جائیں وہ جا کر پیچھے بیٹھ گئے، ہماری ان کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہیں، اس وقت کوئی سی پیک اتھارٹی اور چیئرمین نہیں، اگر جون کے بعد کی سیلری دیں گے تو قانون پر بات آئے گی کیونکہ وہ کام ہی نہیں کر رہے،یہ دیکھیں کہ اب اتنی بحث ہو گئی ہے کہ عاصم باجوہ کے بارے میں، انویسمنٹ انکی امریکہ میں ہے اور امریکہ چین کے تعلقات کشیدہ ہیں، انکو اس بحث سے نکلنا ہو گا، نیشنل انٹرسٹ کی خاطر اگر انہیں دوبارہ چیئرمین لگایا جاتا ہے تو یہ ہماری ریلیشن شپ کے لئے بہتر نہین ہو گا، میں وثوق سے بات کرتا ہوں، میری چینی سفیر اور عملے سے بات ہوتی رہتی ہے اگر وہ دوبارہ آئے تو یہ زیادتی ہو گی،
مبشر لقمان نے کہا کہ اگر آپ کو کوئی عمران خان کو کوئی میسج دینا ہو کہ نظام کو بچائیں تو وہ میسج کیا ہو گا، جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ میں عمران خان کو میسج نہیں دوں گا، عمران خان اگر سوچتے ہیں کہ لوگوں کو گالم گلوچ کر کے، جھوٹے الزامات لگا کر اپوزیشن ختم کر دیں گے، وہ نیک پاک ہیں، انکو چینی کا سیکنڈل، آٹے، دوائیوں، بی آر ٹی، مالم جبہ کا سیکنڈل نظر نہیں آتا، جس دن وہ گورنمنٹ بن جائیں گے وہ اپوزیشن سے نہیں نکل سکیں گے،حکومت اور اپوزیشن دو پہئے ہوتے ہیں انکو ساتھ ساتھ چلنا ہوتا ہے، دنیا میں اپوزیشن کا ایک رول ہوتا ہے، شاید انہوں نے حکومت کبھی چلائی ہی نہیں، انہوں نے یونین کونسل نہیں چلائی، کمیٹی کی میٹنگ کبھی اٹینڈ نہیں کی اسوجہ سے انکی حکومت کا یہ حال ہے، اگر اپوزیشن کو عزت دیتے تو عزت مل جاتی ، انکے خمیر میں ہی نہیں کسی کو عزت دینا، وہ قریبی ساتھی کے ساتھ جو کر رہے ہیں،اور کرنے والے ہیں سب کو پتہ ہے، انکو گورنمنٹ میں رہنا چاہئے تھا لیکن وہ اپوزیشن وارڈ میں چل رہے ہیں، جو انکے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں.
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک سے کوئی پریشان نہیں اور حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپوزیشن سے مفاہمت نہیں ہو گی۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمان کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران ملکی تازہ سیاسی صورت حال اپوزیشن کی تحریک اور مہنگائی پر مشاورت کی گئی۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے حکومتی ترجمانوں کو 2017ء میں این اے 120 ضمنی انتخاب میں اڑھائی ارب روپے کے خرچ کے معاملے کو منظر عام پر لانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سابق خاتون اوّل کلثوم نواز کی کامیابی کےلئے اڑھائی ارب روپے کے فنڈز خرچ کئے گئے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے دوران ترجمانوں نے مہنگائی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ وزیراعظم کی جانب سے مہنگائی پر ترجمانوں کو بریفنگ دی گئی۔اجلاس کے دوران خاطب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے خاتمےکےلئے اقدامات لئے جارہے ہیں۔ مہنگائی پر جلد قابو پا لیا جائیگا۔ اشیائے خردونوش کی دستیابی کو یقینی بنانے کےلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی جلد کم کرلیں گے۔ مہنگائی زخیرہ اندوزی بلیک کی نشاندہی کےلئے ٹائیگر فورس کو استعمال کر رہے ہیں۔ پوری توجہ مہنگائی میں کمی اور معیشت کی بہتری پر مرکوز کر دی ہے۔ کنزیومر پروٹیکشن کے معاملات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
بلوچستان میں کوہلو لیویز کیو آر ایف کی کارروائی کے نتیجے میں مبینہ طور پر بھارتی دہشت گردی کی بڑی کارروائی کو ناکام بنا دیا گیا۔ ریجنل ٹیلی گراف کو دستیاب معلومات کے مطابق کیو آر ایف نے سوراب نالہ تحصیل کاہان میں دہشت گردوں کے کمپاؤنڈپر کارروائی کی اور بھاری تعداد میں گولہ بارود و دھماکہ خیز مواد برآمد کر کے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ اس موقع پر رسالدار میجر شیر محمد مری نے لیویز لائن میں پریس کانفرنس کرتے ھوئے کہا کہ کاروائی میں1ائی-ای-ڈی 3عدد، 2اے-ٹی-ایم 7عدد، 3اے-پی-ایم 7عدد، 4ڈور ہینڈ گرنیڈ ، عدد، 538مارٹر گولے 140عدد،م 638مارٹر فرنٹ فیوز 106عدد، 738 مارٹر بیک فیوز 86عدد، 8اے-جی-ایس 17(گرنیڈ) 354عدد دوران کاروائی دہشت گردوں کے ٹھکانے سے انڈین اور روسی ساخت کا اسلحہ برآمد کر لیے ۔ کاروائی میں 60 سے زیادہ اہلکاروں نے حصہ لیا۔
اسلام آباد: عزیزہم وطنو! یہ سب چوراورمافیا اپنے آپ کوبچانے کےلیے مشکلات کھڑی کررہے ہیں :لیکن کچھ بھی ہوجائے میں جھکا گا نہیں ،بکوں گا نہیں، ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے وہ اس ملک کولوٹنے والے چوروں اورمافیاکے سامنے نہ توجھکیں گے اورنہ ہی بکیں گے
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے سینیٹرفیصل جاوید اورذیشان خانزادہ نے ملاقات کے دوران اس عزم کا اظہارکیا :
اس اہم ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان میں اسلامی ڈرامے اورفلمیں بنانے کی طرف توجہ مبذول کروائی
اس ملاقات میں فلم اورڈرامہ انڈسٹری کے بحالی کیلئے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پراسلامی تاریخ پرمبنی فیچرفلمزاورڈرامے مقامی سطح پربنانے پرغورکیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے نوجوانوں کی مثبت اورتعمیراتی سرگرمیاں بڑھانے پربھی زوردیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان تعمیری سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں، رواں ہفتے ٹائیگر فورس کے کنونشن میں نوجوانواں سے خطاب کریں گے۔
سینیٹرفیصل جاوید اورذیشان خانزادہ سے ملاقات کے دوران ملاقات میں سیاسی معاملات اوراپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک پربھی گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے اقتدارسنبھالنے کے پہلے دن ہی کہا تھا کہ لوٹ مارکرنے والے اکٹھے ہو جائیں گے، کچھ بھی ہو جائے اپوزیشن سے مفاہمت نہیں ہو گی۔ یہ جلسے کریں یا دھرنے دیں انہیں این آراونہیں ملنا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں یوسی روات کےسابقہ سیکرٹری کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی
عدالت نےنیب کوملزم کی پلی بارگین درخواست پرایک ماہ میں فیصلےکی ہدایت کردی، ملزم کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ملزم 14 ماہ سےجیل میں ہے،چارج بھی فریم نہیں ہوا، جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے ملزمان چارج فریم ہونے نہیں دیتے، چارج فریم کرنے کیلئے وکیل کا ہونا کب سے ضروری ہوگیا؟
وکیل نے کہا کہ کیس میں دیگر 4 ملزمان ہیں جنھیں نیب نے گرفتار نہیں کیا، صرف ایک ملزم گرفتارکیاگیا،نیب ملزمان میں تفریق کرتا ہے ،عدالت نے استفسار کیا کہ نیب نے دیگر ملزمان کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ کیس میں دیگر4ملزمان سی ایس ایس پاس اسسٹنٹ کمشنرہیں،
عدالت نے کہا کہ کیا سی ایس ایس کرنے والے قانون سے بالاتر ہوگئے ہیں؟ نیب کے اسی رویے سے کرپشن کے خلاف مہم کوشکست ہو رہی ہے،کیا اس طرح ملک سے کرپشن ختم ہوسکتی ہے؟
نیب نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک ماہ میں ملزم کی پلی بارگین درخواست پر فیصلہ کی ہدایت دے دے،جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹرنیب کو کام کرنے کیلئے عدالتی حکم کی ضرورت کیوں پڑتی ہے،جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب سپریم کورٹ کے اختیارات کوکم نہ سمجھے،نیب کے امتیازی رویے سے کم ازکم میں تو خوش نہیں،
وکیل نے کہا کہ ملزم نے دباؤ میں آکر پلی بارگین کی درخواست دی ہے، عدالت ملزم کو ضمانت دے، پلی بارگین کو ساتھ نہ ملایا جائے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی
پاک فوج کا اعزاز،برطانیہ میں مسلسل تیسری بار اہم مقابلہ جیت لیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج نے برطانیہ میں انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ کا مقابلہ جیت لیا،
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی ٹیم نے مسلسل تیسری بار مقابلہ جیتا ہے،برطانوی ہائی کمشنر معظم احمد خان نے پاکستانی ٹیم کو مبارکباد دی،
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر نے مسلح افواج کے پیشہ ورانہ معیار کی تعریف کی،پاک فوج کے جوانوں نے ڈرل،ٹرن آوَٹ اورنظم وضبط کا بہترین عملی نمونہ پیش کیا
#PakistanArmy won international military drill competition known as Pace Sticking Competition held at Royal Military Academy #Sandhurst, UK. This is 3rd consecutive year that Pakistan won this competition. #PMA represented Pakistan Army in the event. pic.twitter.com/LZ7lKNC5TB
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک افغان بارڈر پر سرحد پار سے دہشت گردوں نے آرمی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے باجوڑ میں آرمی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا،دہشت گردوں کی فائرنگ سے حوالدار تنویر جام شہادت نوش کرگیا،
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق باجوڑ میں فوجی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کی فائرنگ سےایک جوان زخمی بھی ہوا جسے طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے
Terrorists fired from across on #Pakistan Army post along PAK- Afg Border in #Bajaur. Resultantly Havaldar Tanveer embraced Shahadat while one soldier got injured. pic.twitter.com/1RqzEjqWzE
قبل ازیں 22 ستمبر کو پاکستانی چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 24 سالہ سپاہی صابرشاہ شہید ہو گیا تھا،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک افغان بارڈر پر باجوڑ سیکٹر میں سرحد پار سے فائرنگ کی گئی، فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا سپاہی صابر شہید ہو گیا
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحدی انتظام کامعاملہ باقاعدگی سے اٹھارہا ہے،افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے
واضح رہے کہ چھ جولائی کو بھی پاک افغان سرحد پر باجوڑ میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر افغانستان سے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں پاک فوج کے لانس نائیک سمیع اللہ شہید ہوگئے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2 ہزار کلومیٹر سے زائد طویل سرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری ہے۔یہ باڑ شرپسند عناصر کی بارڈر کراسنگ کو روک دے گی اور پاکستان میں ان کی سرگرمیاں کم ہوں گی۔ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے عمل میں رخنہ ڈالنے کیلئے دہشت گرد اور دیگر شرپسند عناصر تخریبی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کو بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اپوزیشن کے جلسہ سے ایک روز قبل صوبائی دارالحکومت میں دھماکہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دھماکہ ہوا ہے
کوئٹہ میں اسمنگلی روڈ پر دھماکا ہوا ہے، دھماکے سے 7 افراد زخمی ہو گئے ہیں، اطلاع پر پولیس اور ریسکیو اداروں کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے پولیس نے جائے وقوعہ کو سیل کر دیا ہے
ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا ہے، حساس اداروں نے دھماکے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور جائے وقوعہ سے شہادتیں اکٹھی کرنی شروع کر دی ہیں
پولیس کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، دھماکے کے حوالہ سے تحقیقات کی جا رہی ہیں.علاقہ میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے
پولیس کے مطابق مزدور کام کر رہے ہیں کہ دو افراد موٹر سائیکل پر آئے اور انہوں نے دستی بم پھینکا جس سے دھماکہ ہوا اور افراد زخمی ہوئے.
ابھی تک دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی، دھماکے کے بعد شہری خوف و ہراس میں مبتلا ہو چکے ہیں، پولیس نے علاقے میں ملزمان کی گرفتاری کے لئے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے