Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • گوجرانوالہ جلسہ،اپوزیشن کے سرگرم کارکنان کی ممکنہ گرفتاری کیلئے مرتب فہرست باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    گوجرانوالہ جلسہ،اپوزیشن کے سرگرم کارکنان کی ممکنہ گرفتاری کیلئے مرتب فہرست باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ میں جلسہ سے قبل انتظامیہ نے گرفتاریوں کے لئے کارکنان کی فہرستیں مرتب کر لیں

    انتظامیہ کی جانب سے مرتب کی گئی فہرست باغی ٹی وی نے حاصل کر لی،نون لیگ سمیت پی پی، جے یو آئی کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کی تیاریاں جاری ہیں لودھراں دنیاپور اور کہرروڑپکا کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کے حوالے سے لسٹ بھی جاری کی گئی ہے، انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ طور پر گرفتاریاں کی جا سکتی ہیں

    دوسری جانب گوجرانوالہ میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ن لیگیوں پر دو ایف آئی آر درج کر لی گئی ہیں کئی کارکنان گرفتار بھی کر لئے گئے ہیں ،ایک ڈیرے سےپولیس کرسیاں اور ساونڈ سسٹم اٹھا کر لے گئی

    پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ گوجرانولہ پولیس کل سے جیالوں کو گرفتار کر رہی ہے اور بینرزاتار رہی ہے۔ جیالے بخوبی أگاہ ہیں پولیس گردی سے کیسے نمٹنا ہے۔ پیپلزپارٹی کے بینرز اور فلیکسز اتروانا حکمرانوں کی بزدلانہ کوشش ہے۔

    واضح رہے کہ گوجرانوالہ میں جلسہ سے مریم نواز، مولانا فضل الرحمان، بلاول زرداری و دیگر خطاب کریں گے،جلسہ میں تمام جماعتوں کے کارکنان شریک ہوں گے، جلسہ کی میزبانی پیپلز پارٹی کرے گی

    جے یو آئی کے سربراہ جلسہ میں شرکت کے لئے لاہور سے ریلی کی قیادت کرتے ہوئے جلسہ گاہ میں جائیں گے، جے یو آئی نے اوکاڑہ، قصور، ساہیوال سمیت قریبی اضلاع سے کارکنان کو لاہور بلا رکھا ہے

  • مفتی عبدالقوی سے ہندو بچے کی شرارت، بینڈ بج گئی

    مفتی عبدالقوی سے ہندو بچے کی شرارت، بینڈ بج گئی

    مفتی عبدالقوی سے ہندو بچے کی شرارت، بینڈ بج گئی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر پرسن زین علی نے کہا ہے کہ آج میرے ساتھ ایک ایسی شخصیت سٹوڈیو میں موجود ہے جن کے نام کے ساتھ مفتی لگتا ہے لیکن انکی وجہ شہرت انکے نام نہیں کام ہیں، گوگل کریں گے تو ایسی ایسی ویڈیو سامنے آئیں گی کہ حیران رہ جائیں گے، مفتی عبدالقوی بڑی مشہور شخصیت ہیں، ایک عام تاثر یہ ہے کہ مفتی صاحب مارکیٹ میں ہر مہینے ایک ویڈیو پھینکتے ہیں وہ ایسی ہلچل مچاتی ہے کہ مفتی صاحب کی وجہ شہرت انکا کام ہے

    اینکر زین علی نے سوال کیا کہ غیر محرم عورت کے ساتھ ہاتھ پکڑنا اور ڈانس کرنا کیا یہ اسلام میں جائز ہے، جس پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ ہم نے اسی چینل پر 3 اگست کو اعلان کیا اور پوری امت کو گواہ بنا کر کہا کہ آج کے بعد سیلفی اور تصویر خواتین کے ساتھ نہیں بنائیں گے ، جس پروگرام میں اینکر محترمہ ہوں گی اس میں نہیں جائیں گے،جس پر اینکر زین علی نے کہا کہ 3 اگست سے پہلے آپ نے ہمیں بھی یہ کہا تھا جس پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ ہم نے یہیں بیٹھ کر کہا اور امت کو خوشخبری سنائی،ہزاروں لوگوں کے مبارکباد کے فون آئے اور کہا کہ اچھا فیصلہ کیا

    اینکر زین علی نے کہا کہ وہ لوگ کون ہیں جنہوں نے مبارکباد دی ،انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اس پر معذرت کریں، مبارکباد دینے والے کون ہیں ،وہ کون سے شہنشاہ لوگ ہیں جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ دس فیصد بزرگ مذہبی تھے انہوں نے کہا ویلڈن، نوے فیصد نوجوان نسل نے کہا کہ مفتی صاحب آپ نے یہ کیا کیا، نوجوان نسل اسلئے محبت کرتے ہیں کہ آپ روشن خیال ہیں،خواتین کے بارے میں‌ نرم رویہ رکھتے ہیں،ہم بچوں کے ساتھ سیلفیاں بنا کر دل کو سکون بخشنے والے ہیں، ایک پروگرام میں اسلام آباد میں شریک ہوا، این جی اوز کی دس خوتین نے کہا کہ تصویر میں نے منع کر دیا

    اینکر زین علی نے کہا کہ یہ کون سی روشن خیالی ہے کونسا اسلام ہے کہ آپ لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ ڈانس کر رہے ہیں،ساری باتیں ایک طرف، یہ اسلام میں کہا ہے، آپ لوگوں کو مایوس نہیں کرتے ہر ماہ ایک ویڈیو دیتے ہیں، قندیل بلوچ، حریم شاہ اور بہت سی ویڈیو ہیں، جس پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ 1982 سے مفتی عبدالقوی عالم اسلام میں متعارف ہیں،گنتی کے چند لوگ ایسے ہیں وینا ملک، قندیل بلوچ، خواجہ سرا، حریم شاہ، ڈانس کرنے والی، میری زندگی کی 38 سال میں دین کے لئے جو خدمات ہیں وہ امت کے سامنے ہیں،

    اینکر زین علی نے کہا کہ 38 سال دین کے خدمت کے لئے ہو گئے کتنے طلبا و طالبات ہیں جنہیں آپ پڑھاتے ہیں،کتنے اس ملک میں طلبا ہیں جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ میری کتاب مفتاح النجات کا فارسی، پشتو، بنگالی میں ترجمہ ہے،اینکر نے کہا کہ طلبا کے بارے میں بتائیں جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ 1985 میں میری جو کتاب آئی اسکو پڑھنے والے برصغیر میں 50 ہزار سے زیادہ ہوں گے،

    اینکر زین علی نے کہا کہ 20 ہزار طلبا گوگل پر مفتی عبدالقوی لکھتے ہیں،اور آپ کی نازیبا متنازعہ ویڈیو سامنے آتی ہیں ان طلبا پر کیا گزرتی ہو گی کہ گوگل پر کسی روحانی شخصیت کے ساتھ تصویر نہیں، کوئی بیان نہیں، حریم شاہ، خواجہ سرا کے ساتھ ویڈیوز ہیں،یعنی آپ نے کسی کو معاف نہیں کیا ہوا، جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ 2016 سے لے کر اب تک یہ جو 5 طرح کی تصاویر ہیں اس کے اندر جو صورتحال ہے کہ ان حضرات کو معلوم ہے، دنیا سے فون آتے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ ہم آپ کو سنتے ہیں، اسلام کی خدمت کر رہے ہیں،90 فیصد لوگ سمجھتے ہیں کہ لوگ آپ کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں،آپ اسلام کے حقیقی نمائندے ہیں

    اینکر زین علی نے کہا کہ یہ کون سی سازش ہے جب آپ کسی لڑکی کے ساتھ ڈانس کرتے ہیں،کیا یہ سی پیک کے خلاف سازش ہے، جتنے طلبا ہیں ان کی کیا کیفیت ہو گی کہ میرا استاد کیا کر رہا ہے جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ قندیل بلوچ سے شروع کرتا ہوں ، بات آئی کہ مفتی عبدالقوی فون بھی نہ کرے، پھر محترمہ خود کر چل آئیں،پھر اسکے بعد یہ بات بات، جرات کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ قندیل بلوچ سے حریم شاہ تک جس نے بھی بات کی، مجھ پر الزام تو نہیں لگایا اخلاق کے حوالہ سے

    اینکر زین علی نے کہا کہ آپ نے وہ ویڈیو دیکھی ہے جس میں حریم شاہ آپ کو گالیاں دے رہی ہے،جس پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ میں نے حریم شاہ کو کہا کہ تم نے شہرت کمائی اب عزت کماؤ،مدرسے کے اندر 5 سال دین پڑھا،تم قرآن سناؤ،مفتی عبدالقوی حدیث سنائے گا، عائشہ نامی ایک محترمہ کہ رہی ہے کہ میں پی سی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی ہیں تو میں نے کہا کہ میں ہفتے کا شیڈول بناتا ہوں میں نہیں آ سکتا، جس پر خاتون نے کہا کہ میری فلائٹ ہے میں نے واپس جانا ہے، میں نے کہا میں نہیں آ سکتا

    اینکر زین علی نے کہا کہ مفتی صاحب یہ آفریں جو ہیں،آپ ہی کو کیوں ہوتی ہیں، اس ملک میں بڑے علما ہیں، آپ کے ساتھ ہی ایسا کیوں ،ڈانس کے آپ ماہر ہیں،جس پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ 3 وجہ سے خواتین کا رابطہ ہے، عالمی عدالت انصاف، ہر روز طلاق کے کیسز سن رہا ہوں، پاکستان کو چاہنے والی صرف خواتین ہی نہیں ہیں، اردو جاننے والے لوگ جو پاکستان سے باہر ہیں وہ مفتی عبدالقوی سے پیار کرتے ہیں، مفتی عبدالقوی کی زبان میں چاشنی ہے،جو پیغام دیا امن کا دیا، محبت کا دیا

    اینکر زین علی نے سوال کیا کہ آپ ہیں کیا ،عالم دین ہیں، مفتی ہیں،مذہبی سکالر ہیں،عیاش ہیں، پلے بوائے ہیں،جس پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ مفتی عبدالقوی عالم اسلام کا خوش نصیب مفتی ہے جس پر تمام مسالک کے لوگ عالم اسلام کا نمائندہ سمجھتے ہیں،اینکر زین علی نے کہا کہ رویئت ہلال کمیٹی سے کیوں نکالا گیا تھا، جس پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ سات سال میں رویت ہلال کمیٹی کا ممبر رہا ہوں،آپ کسی سے پوچھ لیں کہ مفتی منیب کے بعد رویئت ہلال کمیٹی میں کس کو جانتے ہیں تو وہ کہے گا مفتی عبدالقوی کو ،جس وقت پشاور کے ایک مسجد سے اعلان ہوتا تھا انکے لئے مفتی عبدالقوی مرد آہن بن کر آتا تھا کہ رویت کمیٹی درست ہے، یہ وہ جرات ہے کہ زبان کی برکت سے اللہ نے عزت دی، 2 ہزار پروگرام الیکٹرانک میڈیا پر کئے، کوئی متنازعہ جملہ ہے؟

    اینکر زین علی نے کہا کہ ان میں سے 1800 پروگرام وہ ہوں گے جو متنازعہ ویڈیو پر ہوں گے، آپ کی وجہ شہرت ؟ آپ کے نام کے آگے مفتی لگتا ہے،میں قدر کرتا ہوں ، آپ کی وجہ شہرت آپ کا علم کیوں نہیں ہے، کارنامے کیوں ہیں جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ میرا علم وجہ شہرت ہے، میری کتاب طلبا، علماء کے پاس موجود ہے، فقہا کے پاس موجود ہے، کچھ مہینے بعد اعلان کرنے والا ہوں جس نے حدیث اور فقہ کے اپر اہم مسائل پر رہنمائی لینی ہو وہ مفتی عبدالقوی کے پاس آ جائے

    اینکر زین علی نے کہا کہ 3 اگست کو ہمارے پروگرام میں دعویٰ کر کے گئے کہ کسی کے ساتھ سیلفی نہیں بناؤن گا چینی لڑکی کے ساتھ ویڈیو سی پیک کے لئے تھی یا لداخ میں جو چین کر رہا ہے بھارت کے ساتھ اسکا جشن تھا ،آپ کے گھر والوں نے بھی وہ ویڈیو دیکھی ہو گی جس پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ ہم نے آپ کے پروگرام میں کہا کہ خاتون اینکر کو انٹرویو بھی نہیں دیں گے، 3 دن بعد مفتی عبدالقوی پر اللہ کا کرم ہوا کہ اٹلی سے ایک محترمہ آئی اور اس نے اسلام قبول کیا، میرے گھر والے اس پر مطمئن ہیں کہ اس رنگ کی قمیض نہ میں پہنی نہ میں نے سلوائی، اس ویڈیو میں نہیں ہوں

    اینکر زین علی نے کہا کہ یعنی آپ کہہ رہے ہیں کہ ویڈیو میں نہیں ہیں،میں سمجھتا کہ آپ عالم دین سچے آدمی ہیں، آپ آن ایئر جھوٹ بول رہے ہیں، ہزاروں لوگوں نے ویڈیو دیکھی جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ 36 لاکھ لوگوں نے اس ویڈیو کو دیکھا، اس طرح کی قمیض ہمارے خاندان میں کسی نے نہیں سلوائی، مفتی عبدالقوی کی ٹایٹ قمیض نہیں ہوتی،علماء کی طرح کھلے کپڑے سلواتا ہوں، اس ویڈیو میں کھوپڑی ایک جگہ کھڑی ہے اور نیچے جسم حرکت کر رہا ہے جس پر اینکر زین علی نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہے،میں نے بغور مطالعہ کیا ہے،اسکے اندر آپ موجود ہیں لڑکی کے ساتھ ڈانس کر رہے ہیں، مفتی عبدالقوی نے کہا کہ جس چینل نے شرارت کی وہ میٹروپول کے نام سے ہے،انگلینڈ میں ہے ،حماد اسکے مالک کے نام ہے،اس نے بتایا کہ ہندو بچہ ہمارے پاس ہے، اس نے شرارت کی ،سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس ویڈیو کو دیکھیں کارٹون کے طرز پر بنائی گئی، جسم کسی کا کھوپڑی کسی کی،

    اینکر زین نے کہا کہ جن لوگوں نے ویڈیو دیکھی وہ اس بات کو مان رہے ہیں کہ ویڈیو میں آپ ہی ہیں لیکن آپ نہیں مان رہے، اس سے پہلے بھی ڈس اون کر چکے ہیں، یہی ٹوپی جو آپ نے پہنی ہوئی وہ قندیل بلوچ کے سر پر تھی، ساری ویڈیو تصاویر جو آپ کی آتی ہیں آپ کو فیصلہ کر لینا چاہئے کہ وجہ شہرت کارنامے نہیں نام ہونا چاہئے جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ قندیل نے جب ٹوپی پہنی میں نے انکار نہیں کیا، انکے جو عزائم تھے وہ بتائے،میں ہوٹل میں وضو کرنے گیا تو انہوں نے تصویر بنائی،حقیقت کو ماننے کو تیار ہوں، آپ کی بات کو مانتے ہوئے کہتا ہوں کہ آپ درست کہہ رہے ہیں، اس محترمہ کے ویڈیو بیان موجود ہیں کہ میں مفتی عبدالقوی کو آج مل رہی ہوں میری اس سے پہلے کوئی ملاقات نہیں ہے،ڈانس کرتا شخص فلاں نامی شخص ہے مفتی عبدالقوی نہیں ہے ،آپ جیسے لوگوں کو یقین ہو گیا کہ یہ مفتی عبدالقوی کی ہے، یہ کان میں پکڑ رہا ہوں، اللہ کے ہاں جب رجوع کر کے توبہ کر رہا ہوں، اللہ سے بھی اور اگر یہ درست ہے تو گناہ سمجھتے ہوئے ،

    اینکر زین علی نے کہا کہ میں آپ کا ساتھ دوں گا، آپ حقیقت بتائیں کہ اس چینی لڑکی کے ساتھ ڈانس کیا،آپ توبہ کر رہے ہیں،توبہ اللہ قبول کرتا ہے،ہم کون ہوتے ہیں،اگر آپ سچے دل سے توبہ کر رہے ہیں تو 3 اگست کو جو توبہ کر رہے تھے اسکا کیا ہے، مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ یہ تصویر جو دکھائی گئی یہ کم از کم آٹھ نو مہینے پہلے کی ہے، جس پر اینکر نے کہا یہ ہے آپ کی،مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ اس صنعت نے جس طرح ترقی کی اسکو سامنے رکھ کر کہہ دیتا ہوں کہ یہ میں ہوں، اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یقینا ہم سے غلطی ہوئی ہماری ہی تصویر ہے، اللہ کے پاس توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے، امت مسلمہ کے جس جس فرد کا دل دکھا ہے مفتی عبدالقوی ان سے بھی معذرت کرتا ہے، آج کے بعد دیکھتا ہوں کہ کون شرارت کرتا ہے

    اینکر زین علی نے کہا کہ آپ معافی مانگ رہے ہیں،آج کے بعد کوئی ویڈیو تصویر وائرل ہوئی تو خود ہی سزا بھی تجویز کر دیں، جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ سازش سے کوئی ایسا معاملہ ہوا تو مفتی عبدالقوی داخل دفتر ہوجائے گا، خلوت میں چلا جائے گا،اینکر زین علی نے کہا کہ آپ کی جو گرل فرینڈ ہیں انکو پیغام دیں کہ میں نے توبہ کر لی وہ آپ کا نمبر ڈیلیٹ کر دیں اور آپ بھی انکے نمبر اپنے موبائل سے ڈیلٹ کریں جس پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ ان 5 دنوں کے اندر ایک ٹیلی فون آیا یوکرائن سے ایک فرانس سے ،خواتین کے فون آئے،انکے جو دینی روحانی مسائل ہیں، اسلئے فون کرتے ہیں،خواتین خود کہتی ہیں کہ مفتی منیب سے رابطہ کیا 15 دن گزر گئے انکے سیکرٹری سے آگے رابطہ نہیں ہو سکا،مفتی عبدالقوی خود فون سن رہا ہے، مردوں کے بھی فون آتے ہیں،محترمہ سامنے موجود ہیں میں نے نہین کہا کہ ویڈیو پر آو، میں نے کہا کہ حریم شاہ نے جو شرارت کی اسکے بعد اب فون بند، خاتون نے کہا کہ میں بیلجئم سے بول رہی ہوں،

    اینکر زین علی نے کہا کہ فلم ایکٹر ہے میرا ،میرا اور آپ میں بڑی مشابہت ہے، آپ دونوں کی وجہ شہرت کارنامے ہیں،وہ بھی کارناموں کی وجہ سے مشہور ہے،آپ بھی، آج آپ نے معافی مانگی لی، مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ تمام خواتین خدارا سازشی نہ بنیں، مفتی عبدالقوی کو امتحان میں نہ ڈالیں، یہ امتحان صرف مفتی عبدالقوی کے لئے نہیں ہے،آج کے بعد تمام خواتین، نوجوان خواتین جو دنیا میں مفتی سے محبت کرتی ہیں انکو کہتا ہوں کہ آزمائش میں نہ‌ ڈالیں، مفتی عبدالقوی بدنام نہیں ہو گا

    اینکر زین علی نے کہا کہ آپ یہ بھی اعلان کریں کہ آپ ان جگہوں پر نہیں جائیں گے جہاں ماضی میں جاتے رہے ہیں،ہم جانتے ہیں کہ وہاں کیا کیا ہوتا رہا ہے،مفتی صاحب آپ نے معافی مانگ لی ہے اسلئے اس پر بات نہیں کرتا ،ورنہ آپ جو جو کرتے ہیں سب کے سامنے ہے، مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ آج کے بعد کسی محترمہ کی ویڈیو پر نہیں آنا،جو بات کرنی ہے، آڈیو کے ذریعے کرنی ہے جس کر جملہ دیکھیں گے کہ شرارت کا آغاز ہو رہا ہے، وہیں کہہ دیں گے السلام علیکم

  • مہنگائی سے متعلق صورتحال خود مانیٹر کر رہا ہوں

    مہنگائی سے متعلق صورتحال خود مانیٹر کر رہا ہوں

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مہنگائی سے متعلق صورتحال خود مانیٹر کر رہا ہوں۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی موجودہ سیاسی، سیکیورٹی صورتحال اور مہنگائی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کابینہ اجلاس میں بجلی گیس وادویات کی بڑھتی قیمتوں پر بحث ہوئی اور متعدد وزرا نے مہنگائی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات لینے کا مطالبہ کیا۔ذرائع کے مطابق وزیرمواصلات مراد سعید، وزیر ریلوے شیخ رشید اور فیصل واوڈا سمیت دیگر نے اجلاس کے دوران مہنگائی کا معاملہ اٹھایا۔

    کابینہ ارکان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں و ضلعی انتظامیہ کو اشیا کی دستیابی یقینی بنانا ہو گی.اجلاس کے دوران شیخ رشید نے کابینہ کو خدشے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ نومبر، دسمبر میں آٹا مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے ادیات کیوں مہنگی ہوئیں؟ ادویات مہنگی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی باتیں سننا پڑتی ہیں۔ اس پر معاون خصوصی فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے معاملات بہتر کرنے کا کہہ دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں وزرا کی نوک جھونک کی روایت برقرار رہی۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مضبوط ٹیم بنائیں۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے ندیم بابر اور عمر ایوب پر کھل کر تنقید کی اور کہا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے ذمہ دار آپ لوگ ہیں۔ یہاں فیصلے کچھ ہوتے ہیں اور بجلی گیس میں ریلیف نہیں ملتا۔

    وفاقی کابینہ اجلاس میں ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے امپورٹ ایکسپورٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 2020ء، پی آئی اے بورڈ کیلئے ڈائریکٹرز کی نامزدگی، یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کی منظوری دی۔

    کابینہ اجلاس میں سیلاب سے متاثرہ افریقی ملک کیلئے امدادی سامان بھیجنے پر غور کیا گیا جبکہ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے مسائل کے حل کیلئے کابینہ کمیٹی کی منظوری بھی دی گئی۔

    اجلاس میں سرکاری اداروں کے سربراہان کو ایڈیشنل چارج دینے کے معاملے پر غور جبکہ سی ڈی اے کا بجٹ تخمینہ 21-2020ء کی منظوری بھی دی گئی۔ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی اور ای سی سی کے فیصلوں کی توثیق بھی کی گئی۔

  • عاصم باجوہ وزیراعظم کےمعاون خصوصی تونہیں‌ رہے:کیاچیئرمین سی پیک اتھارٹی بھی نہیں رہے؟سوالات ،خدشات اوراثرات کا جائزہ

    عاصم باجوہ وزیراعظم کےمعاون خصوصی تونہیں‌ رہے:کیاچیئرمین سی پیک اتھارٹی بھی نہیں رہے؟سوالات ،خدشات اوراثرات کا جائزہ

    لاہور: عاصم سلیم باجوہ وزیراعظم کے معاون خصوصی تونہیں‌ رہے:کیا چیئرمین سی پیک اتھارٹی بھی نہیں رہے ؟اہم سوالات ،مدلل جوابات ،اطلاعات کے مطابق اس وقت ملک بھرمیں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے دے دیا لیکن کیا اب وہ سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین بھی نہیں‌ رہے ، اس حوالے سے ایک دلچسپ اوراہم بحث اب زیربحث ہے ،

    چند دن قبل احمد نورانی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے بعد لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے اسی وقت اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش کردیا تھا لیکن وزیراعظم نے کام جاری رکھنے پرزوردیتے ہوئے استعفیٰ منظور کرنے سے انکار کردیا ، وزیراعظم کے اس بیان سے کہ آپ فی الحال کام جاری رکھیں اس سے ہی ظاہر ہوگیا تھا کہ مستقبل قریب میں سنگین الزامات کی وجہ سے اس عہدے سے استعفیٰ لے ہی لیا جائے گا

    باغی ذرائع کے مطابق پھر ہوا بھی یہی کل لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم کواستعفیٰ پیش کیا جوانہوں نے فورآ منظورکرلیا ، جس کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ توچئیرمین سی پیک اتھارٹی بھی نہیں رہے کیوںکہ ان کی تعیناتی ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ہوئی تھی جس کی مدت کافی پہلے ہی ختم ہوچکی ہے ،

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ پاک فوج کے اعلیٰ آفیسر کے طور پر قوم کیلئے خدمات سرانجام دیتے رہےلیکن کیا لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدے پر برقرار رہ سکیں گے؟َ

     

     

     

    آئیے اِسی سوال کے مختلف زاویوں کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بھی غور کرتے ہیں کہ بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے ملک کیلئے کیا خدمات سرانجام دیں؟ اور ان پر لگنے والے بدعنوانی کے الزامات جنہیں انہوں نے سختی سے رد کیا، وہ کیا ہیں۔

    عاصم سلیم باجوہ بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی اور قانونی مینڈیٹ، اپنوں اوربیگانوں کے خوبصورت تجزئیے !
    بعض تجزیہ نگاروں کی رائے یہ ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ قانونی طور پر چیئرمین سی پیک اتھارٹی نہیں رہے کیونکہ وہ آرڈیننس جس کے تحت سی پیک کو قانونی تحفظ دیا گیا، ختم ہوگیا ہے۔

     

     

    انتظامی بنیادوں پر تو لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے کوئی الگ نہیں کرسکتا لیکن قانونی طور پر سی پیک اتھارٹی اب قانونی مینڈیٹ کے بغیر کام کرے گی۔

    آئینِ پاکستان کے تحت اتھارٹیز قائم کرنے کیلئے پارلیمنٹ کی طرف سے قانون سازی ضروری ہوتی ہے جس کیلئے انتظامی ہدایت نامے عموماً جاری نہیں کیے جاتے۔

    قبل ازیں چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے خود عوام کو آگاہ کیا کہ وزیرِ اعظم نے بطور معاونِ خصوصی ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اب لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو کوئی سرکاری عہدہ حاصل نہیں ہے

     

     

    سابق اٹارنی جنرل اور قانونی ماہر عارف چوہدری اس استعفے سے قبل ہی کہہ چکے ہیں کہ گذشتہ سال اکتوبر میں وجود میں آنے والی سی پیک اتھارٹی تقریبا پچھلے کئی ماہ سے بغیر کسی قانونی کور کے فرائض سر انجام دے رہی ہے کیوں کہ وفاقی حکومت ملک کی معاشی ترقی سے جڑے اس اہم ادارہ کے قیام اور سرگرمیوں سے متعلق پارلیمان میں قانون سازی نہیں کروا پائی ہے۔

    دوسری طرف وزارت قانون اوراسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے بعض افسران کا کہنا ہےکہ سی پیک اتھارتی ایک آرڈیننس پرچل رہی تھی اس آرڈیننس کی مدت ختم ہوچکی ہے اور اب ادارے کو کوئی قانونی کور حاصل نہیں۔ سی پیک اتھارٹی کا قیام صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ عمل میں لایا گیا تھا۔

     

     

    یہ بات بھی یاد رے کہ وفاقی حکومت نے سی پیک اتھارٹی کے قیام اور کام کرنے سے متعلق مستقل قانون کا بل قومی اسمبلی میں پیش تو کیا ہوا ہے۔ لیکن اس پر بحث یا منظوری کے سلسلہ میں کوئی پیش رفت منظر عام پر نہیں آئی۔’ایسی صورت حال میں سی پیک اتھارٹی کی موجودگی اور کام کرنے کو غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔

    سی پیک اتھارٹی کے قیام پرتنقید کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کے مطابق پارلیمان سے منظور شدہ قانون کی غیر موجودگی میں سی پیک اتھارٹی فعال ادارہ نہیں ہو سکتا۔ اور سی پیک کا کوئی بھی اقدام اور خرچہ غیر قانونی ہو گا۔

     

    احسن اقبال کے اس اعتراض کے جواب میں عارف چوہدری کہتے کہ کسی فعال سرکاری ادارہ کے قیام سے متعلق بنیادی قانون کی عارضی غیر موجودگی کو زیادہ اہمیت کا حامل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر ایاز صادق کے مطابق سی پیک اتھارٹی کا آرڈیننس قانونی طور پر ختم ہوچکا ہے

    پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کا کہنا تھا کہ جب تک اس مسئلہ کو باقاعدہ کسی مناسب فورم پر اٹھایا نہیں جاتا تو ادارہ کی سرگرمیاں قانونی ہی سمجھی جائیں گی۔

    یہ بات بھی قابل غورہونی چاہیے کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت نے چین پاکستان معاشی راہداری کے تحت ترقیاتی سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑھانے اور زیادہ موثر بنانے کے واسطہ گذشتہ سال ایک نیا ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

     

    ابتدائی طور پر سی پیک اتھارٹی کا قیام صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ عمل میں لایا گیا۔ اور صدر ڈاکٹر عارف علوی نے 5 اکتوبر کو چین پاکستان اکنامک کوریڈور اتھارٹی آرڈیننس 2019 پر دستخط کیے۔

    وزارت قانون کے افسر نے کہا کہ سی پیک کی اہمیت کے باعث ایک ادارہ کی فوری ضرورت محسوس کی گئی۔ اور چونکہ اس وقت پارلیمان کے کسی ایوان نہیں ہو رہا تھا اس لیے آرڈیننس کے ذریعہ اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

     

     

    آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت جاری ہونے والے صدارتی آرڈیننس کی عمر 120 روز ہوتی ہے۔ اور یوں سی پیک اتھارٹی آرڈیننس 2019 کی معیاد فروری 2020 میں ختم ہونا تھی۔

    آئین کے تحت کسی صدارتی آرڈیننس کو دوبارہ 120 روز (یا چار مہینوں) کے لیے جاری کرنے کے واسطہ منظوری صرف قومی اسمبلی سے ہی لی جا سکتی ہے۔ اور اس (دوسری) معیاد کے ختم ہونے کی صورت میں صدارتی آرڈیننس خود بخود معطل ٹھرتا ہے۔

    وفاقی حکومت نے سی پیک اتھارٹی آرڈیننس 2019 کی پہلی معیاد ختم ہونے سے قبل ہی اتھارٹی سے متعلق مستقل قانون بنانے کی غرض سے بل 30 جنوری کو قومی اسمبلی کے سامنے رکھا۔

    حزب اختلاف نے بل کی شدید مخالفت کی اور اس پر غور یا بحث کرنے سے انکار کر دیا۔تاہم اسی اجلاس نے سی پیک اتھارٹی آرڈیننس کی مزید ایک سو بیس دنوں کے لیے منظوری دے دی۔

     

    دوبارہ منظوری پانے والے سی پیک اتھارٹی آرڈیننس 2019 کی عمر کے 120 روز 29 مئی کو پورے ہو گئے ہیں۔ اور آرڈیننس خود بخود ختم ہو گیا ہے۔

    یوں گذشتہ 135 روز سے سی پیک اتھارٹی کے وجود اور کام سے متعلق ملک میں کوئی فعال قانون موجود نہیں ہے۔ اور اس طرح یہ اہم معاشی ادارہ بغیر کسی قانونی کور کے کام کر رہا ہے۔

     

     

    عارف چوہدری اس اعتراض کا جواب کچھ اس طرح دیتے ہیں کہ اگرچہ کسی بھی آرڈیننس کی دو عمریں گذر جانے کے بعد اس کے تحت قائم کوئی ادارہ غیر فعال ہو جاتا ہے۔ اور قانون کی نظر میں سی پیک اتھارٹی کا وجود تو ختم ہو چکا ہے۔ لیکن جب تک اس مسئلہ کو باقاعدہ کسی مناسب فورم پر اٹھایا نہیں جاتا ادارہ کی سرگرمیاں قانونی تصور ہوں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کئی مرتبہ ایسا ہو چکا ہے۔ صدارتی آرڈیننسز کی معیاد ختم ہونے کے باوجود ان کے تحت کام ہوتا رہا ہے۔ اور باقاعدہ قوانین بعد میں وجود میں آئے۔اس سلسلہ میں انہوں نے مسلم فیملی لا، حدود قوانین اور نیب آرڈیننسز کی مثالیں دیں۔

     

     

    انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک اتھارٹی آرڈیننس 2019 کے متبادل قانون کے آنے تک اسی کو ڈی فیکٹو قانون سمجھا جائے گا۔ اور سی پیک اتھارٹی کی تمام سرگرمیاں اسی آرڈیننس کے تحت درست سمجھی جائیں گی۔

     

     

    سی پیک اتھارٹی آرڈیننس کیا ہے ؟

    آرڈیننس کے مسودے کے آرٹیکل تین کے مطابق سی پیک اتھارٹی چیئرپرسن، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز (آپریشنز)، ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) اور چھ ارکان پر مشتمل ہو گی۔

    ان تمام عہدوں پر تعیناتیوں کا اختیار وزیر اعظم کو حاصل ہو گا۔ تعیناتی کی مدت چار سال ہو گی جس میں ایک بار توسیع بھی کی جا سکے گی۔

     

     

    آرٹیکل تین کی شق چھ میں یہ تو واضح کیا گیا ہے کہ اتھارٹی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر گریڈ 20 کا سرکاری ملازم ہو گا جسے ڈیپوٹیشن پر تعینات کیا جائے گا، تاہم شق سات میں چیئرپرسن، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور ارکان کی قابلیت، تجربے اور تعیناتی کے لیے شرائط و ضوابط قواعد (رولز) میں طے کرنے کا کہا گیا ہے۔

     

     

    اتھارٹی کے فرائض اور اختیارات
    چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور آرڈیننس 2019 کے تحت قائم ہونے والی اتھارٹی کا دائرہ کار پورے پاکستان تک محیط ہوگا۔ اتھارٹی وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرے گی۔

     

    اتھارٹی کو اختیار ہو گا کہ وہ ٹھیکے کر سکے، جائیداد خرید سکے، کسی پر مقدمہ کر سکے یا اپنے خلاف کسی مقدمے کا دفاع اپنے نام سے کر سکے۔ سی پیک اتھارٹی کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہو گا۔

    آرڈیننس کے آرٹیکل چار کے مطابق اتھارٹی سی پیک معاہدوں کے تحت جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے اور چین کے ساتھ نئے منصوبوں کے بارے میں تجاویز دے سکے گی۔

     

     

    اتھارٹی پاکستان اور چین کے درمیان قائم مشترکہ تعاون کمیٹی اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے اجلاس بلانے کے لیے رابطہ کار کا کام کرے گی۔سی پیک اتھارٹی منصوبوں سے متعلق سرگرمیوں کے بارے میں بین الصوبائی اور بین الوزارتی روابط یقینی بنائے گی۔

    سی پیک اتھارٹی کا اجلاس چار ماہ میں ایک بار ہونا لازمی ہو گا۔ اجلاس بلانے کا اختیار چیئرپرسن کے پاس ہو گا، تاہم دیگر تین ارکان کی تحریری درخواست پر اجلاس ہفتے کے پانچ ورکنگ دنوں میں کسی وقت بھی بلایا جا سکتا ہے۔

    سی پیک اتھارٹی کے فیصلے کثرت رائے سے ہوا کریں گے جبکہ اتھارٹی اپنے کورم کا فیصلہ خود کرے گی۔

     

    بجٹ، فنانس اور آڈٹ
    سی پیک اتھارٹی آرڈیننس کے آرٹیکل نو کے تحت اتھارٹی اپنا سالانہ بجٹ خود تیار کرے گی اور اس مقصد کے لیے اتھارٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ارکان پر مشتمل تین رکنی ’بجٹ کمیٹی‘ تشکیل دی جائے گی۔ بجٹ کمیٹی فنڈز کے قواعد کے تحت استعمال کو یقینی بنائے گی۔اتھارٹی کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کی منظوری بھی بجٹ کمیٹی سے لینا لازم ہو گا۔

     

     

    اتھارٹی کے تمام اکاؤنٹس کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کریں گے جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کمیٹی کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر ہوں گے۔آرٹیکل دس میں کہا گیا ہے کہ سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے ’سی پیک فنڈ ‘ قائم کیا جائے گا۔

    یہ فنڈ اتھارٹی کو ملنے والی گرانٹس، اتھارٹی کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں حاصل ہونے والی رقم، قرضہ جات اور سرکار کی جانب سے مختص کی گئی رقم پر مشتمل ہو گا۔

     

     

    اتھارٹی سی پیک بزنس کونسل قائم کرے گی جو اس کے قیام کے مقاصد کے حصول میں معاونت کرے گی۔آرٹیکل سولہ کے مطابق اتھارٹی اپنی سرگرمیوں اور کارکردگی پر مشتمل سالانہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کی پابند ہو گی۔

    مفادات کا ٹکراؤ
    سی پیک اتھارٹی کے لیے آرڈیننس کی شق چھ میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی ایسے فرد کو چیئرپرسن، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، یا رکن تعینات نہیں کیا جا سکتا جس کے سی پیک میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مفادات ہوں یا اس کی تعیناتی سے اس سے جڑے کسی بھی فرد کے مفادات پورے ہوتے ہوں۔

    آرڈیننس کا اہم نقطہ!
    کس بھی ایسے فرد کو اتھارٹی کا حصہ نہیں بنایا جائے گا جس کے کسی ایسے فرد سے تعلقات ہوں جس کے مالی مفادات سی پیک منصوبوں سے وابستہ ہوں۔

     

     


    اتھارٹی کے چیئرپرسن، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر یا کوئی بھی رکن اپنی تعیناتی کے عرصے کے دوران کسی دوسری جگہ نوکری یا کوئی اور کاروبار نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی اپنی خدمات کسی فرد یا ادارے کو فراہم کر سکیں گے۔

     

     

    پاک چائنہ اقتصادی کوریڈور کیا ہے؟
    اس منصوبے کے تحت پاکستان میں جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں گہرے سمندری پانیوں والی گوادر کی بندرگاہ کو چین کے خود مختار مغربی علاقے سنکیانگ سے جو‌ڑا جائے گا۔

    تین ہزار کلومیٹر طویل اس منصوبے کے تحت مستقبل میں گوادر اور سنکیانگ کے درمیان نئی شاہراہوں اور ریل رابطوں کی تعمیر کے علاوہ گیس اور تیل کی پائپ لائنیں بھی بچھائی جائیں گی۔

     

     

    ابتدا میں اس منصوبے پر اٹھنے والی لاگت کا تخمینہ 46 بلین ڈالر کے برابر لگایا گیا ہے اور یہ پروجیکٹ کئی مرحلوں میں 2030ء تک مکمل ہو گا۔ اس منصوبے کے لیے زیادہ تر رقوم چینی سرمایہ کاری کی صورت میں مہیا کی جائیں گی لیکن ان مالی وسائل میں وہ نرم قرضے بھی شامل ہوں گے، جو بیجنگ حکومت اسلام آباد کو فراہم کرے گی۔

    سی پیک کا تصور کس نے پیش کیا ؟

     

     

     

    مئی 2013 میں چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران سی پیک کی تجویز پیش کی جس کو فوری طور پر پاکستانی حکومت کی جانب سے مثبت ردعمل اور اہمیت دی گئی۔ جولائی 2013 میں اس سلسے میں ایک مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے۔ اب تک بڑے اوراہم منصوبوں پر عمل در آمد کا سلسلہ موثر طریقے اورتسلسل سےجاری ہے مزید بر آں یہ خوش اسلوبی سے تعمیرو ترقی کے سفر پر گامزن ہے۔سی پیک پر وقت کے ساتھ ساتھ مکمل منصوبہ بندی سے عمل در آمد کیا جا رہا ہے نیز یہ چین اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔

     

     

    سی پیک کوچین اورپاکستان کی سدا بہار سٹریٹیجک شراکت داری کو مستحکم کرنے اور مشترکہ تعمیر وترقی کی منازل طے کرنے کے سفر میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سی پیک ایک نئی جہت اور نئے وژن کے ساتھ پاک چین تعلقات کو جلا بخشنے کا موجب بن رہا ہے۔ سی پیک سے مجموعی طور پر پورا پاکستان استفادہ حاصل کرے گااور اس سے پاکستانی عوام کو بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔سی پیک سے پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی کو موثر انداز میں فروغ ملے گا۔ سی پیک کی تعمیر سے چین اور پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی میں روابط فروغ پانے کے ساتھ ساتھ انضمام میں بھی اضافہ ہوگا جس میں دونوں ملکوں کے عوام کا مفاد پوشیدہ ہے۔ اسی طرح سی پیک کے تحت دونوں فریق ممالک معیاری اور جامع حکمت عملی کے ساتھ تعمیر و ترقی اور متعدد بڑے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے پرعزم ہیں جس کے مثبت نتائج حاصل ہورہے ہیں اور چین اور پاکستان کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کے لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔

     

     

    سی پیک کی تعمیر کے اصول کیا ہیں؟
    ایک بڑے اور منظم منصوبے کے طور پر سی پیک کی تعمیر کا سفر 2030-2017پر محیط ہے۔ سی پیک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے چین اور پاکستان کی حکومتوں ، کمپنیوں اور تمام سماجی شعبوں کی مشترکہ اور ان تھک کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس کی تعمیر کے عمل میں دونوں فریقوں نے سائنسی منصوبہ بندی کے اصولوں، تسلسل سے عمل درآمد ، مشاورت کے ذریعے اتفاق رائے ، باہمی فائدے اور وِن-وِن ریزلٹس کے ساتھ ساتھ معیار اور حفاظت کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دونوں فریقوں نے ترجیحی یا ارلی ہارویسٹ منصوبوں کی فہرست مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ سی پیک کے لئے طویل المدتی منصوبہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ ترجیحی یا ارلی ہارویسٹ منصوبوں سے مراد وہ منصوبے ہیں جو 2018 یا 2020 (ہائیڈرو پاور پراجیکٹس) سے پہلے مکمل ہوجائیں گے۔ سی پیک ایک طویل المدتی منصوبہ بندی پر محیط منصوبہ ہے جس کی مکمل طور پر تکمیل 2030کو ہو جائے گی۔ سی پیک کی منصوبہ بندی اور تعمیر کے عمل میں دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتوں کو رہنمائی فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور کمپنیوں کو مارکیٹ کے قوانین کے مطابق سرمایہ کاری کرنی چاہئے۔مزید بر آں دونوں حکومتیں اور کمپنیاں کام کی واضح تقسیم کے ساتھ ساتھ باہمی تعاون کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ مستقل میں سی پیک کی ترقی کو فروغ دیا جاسکے

     

     

    سی پیک کون کون سے شعبوں کا احاطہ کرتا ہے؟
    پاکستان اور چین نے دو فریقین کے طور پر خصوصی اقتصادی تعاون کو “1 + 4” کےخاکہ کے طور پر فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے جس میں سی پیک کے مرکزی کردار کے ساتھ ساتھ گوادر بندرگاہ ، توانائی ، نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے اور صنعتی تعاون سمیت چار اہم شعبوں کو ملحوِظ نظر رکھا گیا ہے تاکہ وِن-وِن نتائج اور مشترکہ ترقی کو فروغ دیاجاسکے۔ درمیانی مدت سے طویل المدتی منصوبہ بندی میں دونوں فریقین فنانشل سروسز، سائنس و ٹیکنالوجی ، سیاحت ، تعلیم ، غربت کے خاتمے اور سٹی پلاننگ جیسے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے مواقع تلاش کریں گےاوروقت کے ساتھ ساتھ اس میں توسیع کریں گے تاکہ چائینہ-پاکستان آل راؤنڈکوآپریشن کے دائرہ کار میں مزید توسیع کی جاسکے۔

    سی پیک کے تعاون کا طریق کار کیا ہے؟
    سی پیک منصوبہ کے سفر کو خوش اسلوبی اور موثر طریقے سے آگے بڑھانے کے لئے چین اور پاکستان نے جوائینٹ کوآپریشن کمیٹی (جے سی سی) تشکیل دی ہے۔ جوائینٹ کوآپریشن کمیٹی کے تحت پانچ جوائینٹ ورکنگ گروپس ہیں جن میں طویل المدتی منصوبہ بندی ، توانائی ، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر ، صنعتی تعاون اور گوادر بندرگاہ شامل ہیں۔ جے سی سی کے سیکریٹریٹ بالترتیب چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن اور پاکستا ن کی وزارت منصوبہ بندی ترقی اور اصلاحات میں موجود ہیں۔ یہ دونوں سکریٹریٹ سی پیک پر عملد رآمد کے ذریعے سے تعمیر و ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کے لئے وزارتوں کے ساتھ بات چیت اور ہم آہنگی کے ذمہ دار ہیں۔جوائینٹ کوآرڈنیشن کمیٹی سی پیک کی مجموعی منصوبہ بندی اور دو طرفہ تعاون کو فروغ دیتی ہے جبکہ جوائینٹ ورکنگ گروپس منصوبوں کی نوعیت کے اعتبار سے موثر منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے ذمہ دار ہیں۔ جنوری 2020 تک جوائینٹ کوارڈنیشن کمیٹی کے9 اجلاس بلائے گئے ہیں اورسی پیک سے متعلق کئی امور کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہےجبکہ یہ کمیٹی سی پیک کی تعمیر کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔

     

    سی پیک کے تحت گوادر بندرگاہ میں کیا پیشرفت ہوئی ہے؟
    سی پیک کے جنوبی سرے میں سمندری دہانے پر واقع گوادر بندرگاہ میگا پراجیکٹ کے اہم منصوبوں میں سے ایک ہے۔ چائینہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (سی او پی ایچ سی) نے بندرگاہ میں سہولیات کی بہتری اور توسیع کا کام سر انجام دیا ہےاور اب اس بندرگاہ نے اپنی ڈیزائن کردہ صلاحیت کو بحال کردیا ہے۔ کارگو لائنرز 2016 کے وسط سے ہر ماہ بندرگاہ پہنچ رہے ہیں۔ 13 نومبر 2016 کو گوادر بندرگاہ میں سی پیک پائلٹ پراجیکٹ کا پہلا تجارتی کانوائی کی آمد پرتقریب کا انعقاد ہوا۔ اس دوران چین پاکستان کا مشترکہ ٹرکوں کا قافلہ دونوں ممالک سے سامان لے کر گوادر بندرگاہ پہنچا۔ یہ پہلاموقع تھا کہ جب تجارتی قافلہ کامیابی کے ساتھ شمال سےجنوبی حصے کے ذریعے سے پاکستان کے مغربی خطہ پہنچا۔آج گوادر پورٹ بڑی تعداد میں کنٹینر بیرون ممالک کو برآمد کررہا ہے۔یاد رہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب چین اور پاکستان نے مشترکہ تجارتی کانوائی کے ذریعے سے پاکستان کے رستےسے گوادر بندرگاہ کا راستہ طے کیا اور اس بندرگاہ میں سہولیات کی فراہمی کے نظام کو بھی ایک نئی جہت سے روشناس کیا۔

     

     

    چین اور پاکستان ایسٹ بے ایکسپریس وے منصوبے اور نیو گوادر بین الاقوامی ہوائی اڈے کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اپنی مشترکہ کاوشوں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کو عملی جامع پہنانے کے لئے دونوں فریق مل کر کام کر رہے ہیں۔سی پیک کے تحت مقامی لوگوں کی معیارِ زندگی کو بہتر بنانے خصوصاََ تعلیمی اور طبی منصوبوں کے ذریعے سے بہتری کی کوششیں کی گئی ہیں۔خاص طور پر فقیر کالونی میں پاک-چائینہ فرینڈشپ پرائمری سکول ، گوادر ، گوادر اسپتال ، گوادر ووکیشنل کالج ، اور واٹر ڈسیلی نیشن پلانٹ جیسے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے گئے ہیں ۔

     

    سی پیک کے تحت توانائی کے شعبے میں کیا پیشرفت ہوئی ہے؟
    یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ توانائی کا شعبہ اقتصادی ترقی کے لئے طاقت کاسر چشمہ ہوتا ہے اور پاکستان کی معیشت کی پائیدار ترقی بھی توانائی کے شعبے پر ہی منحصر ہے۔ پاکستان میں چائینہ-پاکستان اقتصادی راہداری کے آغاز سےتوانائی منصوبوں کی تعمیر میں تیزی آئی اور آج اس میگا پراجیکٹ کے ثمرات کے سبب پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے ذریعے سے پائیدار ترقی کے حصول میں مدد ملی ہے۔سی پیک فریم ورک کے تحت دونوں فریقوں نے 16 منصوبوں کو اہم ترجیحات کا حصہ بنایا ہے جبکہ 5 پر منصوبہ بندی جاری ہے ا ن تمام کی مجموعی طور پر توانائی کی پیداوار 17045 میگاواٹ ہوگی۔ سی پیک کے تحت اہم ترجیحات میں شامل 16 منصوبوں میں سے 9 منصوبوں کو فعال کرکے نیشنل گرڈ میں شامل کیا گیا ہے جبکہ بقیہ پر کام کی پیش رفت جاری ہے۔

     

     

    2019 کے اختتام تک تکمیل شدہ توانائی کے منصوبوں میں بہاولپور پنجاب کا 400 میگاواٹ قائداعظم سولر پارک، 50 میگاواٹ داؤد ونڈ فارم، سچل 50 میگاواٹ ونڈ فارم ، پورٹ قاسم 2 × 660 میگاواٹ کول فائرڈ پاور پلانٹ ، ساہیوال 2 × 660 میگاواٹ کول فائرڈ پاور پلانٹ ، 660 میگاواٹ حبکو کول پاور پلانٹ ، 100 میگاواٹ جھمپیر یو ای پی ونڈ فارم ، چائنا تھری گورجیز سیکنڈ اینڈ تھرڈونڈ پاور پراجیکٹ اور 2 × 330 میگاواٹ اینگرو تھر کول پاوراینڈ مائن پراجیکٹ شامل ہے۔جبکہ 870 میگاواٹ کے سکی کناری ہائیڈرو پاور اسٹیشن ،1320میگاواٹ تھر بلاک ون،330حبکو تھر کول پاور پراجیکٹ،330تھل نووا تھر کول پاور پراجیکٹ بلاک ٹو ،720میگاواٹ کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ، 600 میگاواٹ قائداعظم سولر پارک اور مٹیاری (پورٹ قاسم) سے لاہور ٹرانسمیشن لائن جیسے منصوبوںکی پیش رفت جاری ہے۔علاوہ ازیں1124 کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، 300 میگاواٹ گوادر کول پراجیکٹ ، 1320میگاواٹ تھر کول پراجیکٹ بلاک-سکس ،50میگاواٹ کاچو ونڈ پاور پراجیکٹ اور50میگاواٹ ویسٹرن انرجی پرائیوٹ لمیٹڈ وِنڈ پاور پراجیکٹ بھی منصوبہ بندی میں شامل ہیں۔

    سی پیک کے تحت نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں کیا پیشرفت ہوئی ہے؟
    اقتصادی ترقی کے لئے موثر اور تیز تر نقل و حمل کا نیٹ ورک انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سی پیک یقینی طور پر پاکستان میں شمال-جنوبی راہداری کی راہ ہموار کرے گا۔ پہلےسے موجود روڈ نیٹ ورک کو استعمال میں لاکر اورمنقطع روابط کی بحالی کو یقینی بنا کر ترجیحی بنیادوں پر سائنسی اصولوں کی حامل منصوبہ بندی کی گئی ہے اس وقت انفراسٹریکچر کے15000ملین ڈالر کی لاگت کے 6 ارلی ہارویسٹ پراجیکٹس میں سے سکھر-ملتان موٹروے(ایم-5)تکمیل کے مرحلے کو پہنچا ہے جبکہ شاہراہِ قراقرم کا تھاکوٹ-حویلیاں سیکشن تکمیل کے بالکل قریب ہے۔علاوہ ازیں ایسٹ بے ایکسپریس وے گوادراورنیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ زیرِ تکمیل ہیں نیزڈی آئی خان-ژوب موٹروے اور ایم ایل ون ریلوے پر متعلق امور جے سی سی کی نویں میٹنگ میں نمٹانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 15000ملین ڈالر کی لاگت کے 5سی پیک انفراسٹریکچر پراجیکٹس شامل ہیں جن میں سے لاہور-ملتان موٹروے،سہراب-خوشاب اورگوادار-تربت –خوشاب تکمیل کے مرحلے کو پہنچے ہیں جبکہ ہکلہ-ڈی آئی خان موٹروے اورژوب-کوچلک ایکسپریس وے پر کام کی پیش رفت جاری ہے۔

    سی پیک کے تحت سرمایہ کاری اورصنعتی تعاون کے شعبے میں کیا پیشرفت ہوئی ہے؟
    صنعتی تعاون سی پیک کا ایک اہم ترین شعبہ ہے۔ دونوںممالک کے درمیان اقتصادی تعاو ن کو وسعت دینے اور بڑھانے کے ساتھ ساتھ ترقی کی نئی راہیں ہموار کرنے کے لئے صنعتی تعاون نہایت اہمیت کی حامل ہے۔یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس شعبےمیں تعاو ن کے فروغ کے بڑے مواقعوں کو بروئے کار لاکرروشن مستقبل کو یقینی بنیایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں چین کو تجربہ ، ٹیکنالوجی ، فنانسنگ اور صنعتی صلاحیتوں کا امتیاز حاصل ہے جبکہ پاکستان اپنے وسائل ،افرادی قوت اور مارکیٹ کے سازگار حالات سے استفادہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک صنعتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لئے آگے بڑھ کر باہمی مفاد ات اور وِ ن ٹو وِن نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

    اسی طرح سی پیک کے فریم ورک کے تحت دونوں ملکوں نے دو صنعتی تعاون کےمنصوبوں کاآغاز کیا جن میں ہائیر- روبا اکنامک زون (2006)فیز ٹو اور گوادر فری زون شامل ہیں۔ یکم ستمبر 2016 کو گوادر فری زون کی سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں تاجر برادری کی سی پیک کی جانب توجہ مبذول ہوئی۔ سی پیک فریم ورک کے تحت چائینہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (سی او پی ایچ سی)نے گوادر فری زون کی تعمیر کو یقینی بنایاہے۔ چین اپنے دیرینہ دوست اور فریق ملک پاکستان کو اعلی معیار کی صنعتی صلاحیتیں فراہم کرنے اور معروف چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینے کا خواہاں ہے۔ دریں اثنا پاکستان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خصوصی اقتصادی علاقوں کے مقامات کا خوش اسلوبی اور سوچ و بچار کے ساتھ تعین کرے گااور ان میں باہمی اتفاق رائے والے خصوصی اقتصادی علاقوں میں ترجیحی پالیسیاں وضع کرنے کے ساتھ ساتھ سازگار موحول اور سہولیات فراہم کرے گا۔اسی طرح دونوں فریق ممالک صنعتی تعاو ن کو مزید مستحکم کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ گفت و شنید کرتے رہیں ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک مرحلہ واروِن-وِن پراجیکٹس کے ذریعے سے اقتصادی اور معاشرتی فوائد حاصل کریں گے۔

    چینی حکومت نے راولپنڈی سے خنجراب تک آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کے لئے بلا سود قرضوں فراہم کیے ہیں اور اس کی تعمیر اپریل 2016 میں شروع ہوئی۔ اس کے علاوہ متعلقہ چینی کمپنی نے پاکستان میں ڈیجیٹل ٹیرسٹریل ملٹی میڈیا براڈکاسٹ کے استعمال سے متعلق فزیبلٹی اسٹڈی کو حتمی شکل دی ہے۔ دونوں ممالک سی پیک کی طویل المدتی منصوبہ بندی پر کام کر رہے ہیں اور اس کا مسودہ مکمل ہوچکا ہے۔

    پاکستان کے مغربی علاقوں میں سی پیک کے کون سے منصوبے ہیں؟
    سی پیک میں مجموعی طور پر پاکستان کے لئے تعمیر و ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور اس سے نہ صرف مغربی خطے کے عوام بلکہ پورے ملک کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ پاکستان کے مغربی علاقوں میں سی پیک کے کئی منصوبے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ مثال کے طور پر قراقرم ہائی وے (تھاکوٹ تا حویلیاں) فیز ٹو اور اور سکی کناری پن بجلی گھر خیبر پختونخوا میں واقع ہیں۔ اسی طرح چین پاکستان کراس بارڈر فائبر آپٹک کیبل پراجیکٹ اور ایم ایل 1 ریلوے اپ گریڈیشن (دسمبر 2016 ء تک زیرِ بحث فریم ورک معاہدہ) بھی خیبر پختونخوا سے گزرتا ہے۔ پشاور اور کوئٹہ کو سی پیک کی سڑکوں میں مرکزی حیثیت کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ جوائینٹ کوآپریشن کمیٹی کے پانچوی اجلاس میں منظور شدہ سی پیک ٹرانسپورٹ مونوگرافک اسٹڈی میں برہان۔ڈی۔آئی خان اور کوئٹہ تا سہراب سڑکیں شارٹ ٹرم پراجیکٹس کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔جبکہ گوادر پورٹ ، گوادر فری زون ، گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے ، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ ، گوادر کول فائرڈ پاور پلانٹ اور حبکو کول فائرڈ پاور پلانٹ جیسے تمام منصوبے صوبہ بلوچستان میں ہیں۔

    امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبے روزگار اور ٹیکس کی وصولی کو فروغ دینے ، صوبائی طور پرزمینی رابطہ سازی کو مستحکم کرنے ، معاشی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی معیار زندگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

    سی پیک پاکستان کے تمام خطوں کو کس طرح بہتر فائدہ پہنچا سکتا ہے؟
    چین اور پاکستان “ون کوریڈور ، ملٹیپل پیسیجز” کی بنیاد پر اتفاق رائے کر چکے ہیں جس کا مقصد پاکستان کے تمام صوبوں کی معاشی اور معاشرتی ترقی کو ٖفروغ دینا اور گوادر بندرگاہ تک موثر رابطہ سازی کی فراہمی ہے۔ مغربی روٹ یقینی طور پر سی پیک کا ایک اہم حصہ ہے۔ ابھی پاکستان کے مغربی علاقوں میں سڑک کے رابطے کوآگے بڑھانے کے لئے بے حد کوششیں کی جارہی ہیں اور چین پاکستان کے مغربی اور شمالی علاقوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے سازگار حالات پیدا کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ مختلف منصوبوں کے نفاذ کے ساتھ سی پیک پاکستان کے مختلف حصوں میں معاشی ترقی کو فروغ دینے اور معیار زندگی کو بلند کرنے میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

  • پاک بھارت جنگ کے امکانات اب بہت زیادہ ہیں اور ہندو توا  کے خلاف بھرپور طریقے سے مخالفت کرنی ہوگی، سردار مسعود خان

    پاک بھارت جنگ کے امکانات اب بہت زیادہ ہیں اور ہندو توا کے خلاف بھرپور طریقے سے مخالفت کرنی ہوگی، سردار مسعود خان

    پاک بھارت جنگ کے امکانات اب بہت زیادہ ہیں اور ہندو توا کے خلاف بھرپور طریقے سے مخالفت کرنی ہوگی۔ سردار مسعود خان

    باغی ٹی وی: آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی مذموم مقاصد میں ناکام ہوگا اور پاکستان کسی بھی حالُ میں کشمیر حاصل کرکے رہے گا۔ لاہور سینٹر فار پیس اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام ویبینار سے خطاب میں سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ اگر دنیا میں کہیں بھی ایٹمی جنگ ہونی ہے تو وہ جنوبی ایشیا کے خطے میں ہوگی کیونکہ کشمیر نیوکلئیر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ بھارتی قبضے میں کشمیریوں پر جبر کے موضوع پر ہونے والے ویبینار سے خطاب میں سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کے پامالی خصوصی طور پر عورتوں پر مظالم کے خلاف دنیا بھر کے طرح اب بھارت میں بھی آوازیں اٹھنے میں اضافہ ہوا ہے۔

    شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کل ان مظالم کے خلاف آواز اٹھنے کی ایک وجہ مودودی حکومت کی ہندوتوا پیالیسی ہے۔ سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بھارت میں بھی لوگوں نے اب ہندوتوا پالیسی کو ماننے سے انکار کردیا ہے اور روشن خیال ہندو بھی اب ہندوتوا سوچ کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے آئین کے مطابق ہونے والی اس کی سیکیولر پہچان کی بھی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ بین الاقوامی طاقتیں بھی کشمیر کے معاملے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں جو ایک بڑی ناکامی ہے۔ سیمینار کے ماڈریٹر اور لاہور سینٹر فار پیس اینڈ ریسرچ کے چئیرمین سابق ایمبیسیڈر شمشاد احمد نے ویبینار کا آغاز اس جملے سے کیا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ہندوتوا سوچ کی عکاس ہے۔

    سیمینار سے جموں کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس کے صدر ڈاکٹر نذیر حسین کا کہنا تھا کہ جنگ لازمی ہے۔ اگر جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ ہوئی تو یہ کشمیر کی عوام اور بھارت کے درمیان ہوگی۔

  • نواز شریف کے لئے بڑی مشکل،لندن میں بھی پابندی لگنے کا امکان

    نواز شریف کے لئے بڑی مشکل،لندن میں بھی پابندی لگنے کا امکان

    نواز شریف کے لئے بڑی مشکل،لندن میں بھی پابندی لگنے کا امکان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میاں نوازشریف کی چھ افراد کے ساتھ چہل قدمی، شہری نے لوکل پولیس کو شکایت کردی

    لندن میں گزشتہ روز میاں نوازشریف ایوین فیلڈ پر چھ ساتھیوں کے ہمراہ چہل قدمی کرتے ہوئے ایک بار پھر موبائل کیمرے کے شکنجے میں آگئے، ویڈیو بنانے والے نے بلیو اینڈ بلیو نامی اکاونٹ سے طنزا ٹویٹ کیا کہ میاں نوازشریف "ہارٹ اٹیک کے بعد اور پہلے واک کرتے ہوئے”

    نواز شریف ضمانت پر نہیں، وکیل کا عدالت میں اعتراف،ہمیں سزا معطلی سے متعلق بتائیں، عدالت

    نواز شریف کے لندن ڈاکٹر کی رپورٹ باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

    اس پر ایک شہری نے اپنے ریمارکس میں لکھا کہ میاں نوازشریف لندن کے قانون بھی توڑ رہے ہیں، جہاں کرونا وائرس کی وجہ سے 6 افراد کا جمع ہونا اور بغیر ماسک کے چلنا منع ہے،

    ایک اور صارف نے لندن میٹروپولیٹن پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے شکایت کردی جس پر پولیس نے جواب دیتے ہوئے ان باکس میں تفصیل مانگی، صارف نے بعدازاں ٹویٹ کیا کہ انباکس میں تفصیلات دینے کے بعد شکایت باقاعدہ طور پر درج کرلی گئی ہے اور متعلقہ پولیس کو خبردار کردیا ہے۔

    لندن پولیس کی جانب سے تحقیقات ہوتی ہیں تو بیمار نواز شریف پر بغیر ماسک واک پر پابندی لگ سکتی ہے،نواز شریف کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اس پر بھی ایکشن ہو سکتا ہے

    نواز شریف لندن میں علاج کے لئے گئے تھے کرونا وائرس کے آنے کے بعد نواز شریف کے علاج بارے ذاتی معالج بھی خاموش ہیں نواز شریف کے پلیٹ لٹس کے اتار چڑھاؤ بارے کوئی خبر نہیں دی جا رہی.اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف، فیملی ممبران اور ڈاکٹر عدنان بھی میاں نواز شریف کی صحت بارے خاموش ہیں،میاں نواز شریف کی صحت بارے معلومات کے لئے رابطہ کیا تو جواب نہیں دیا جا رہا

    شہباز شریف بھی نواز شریف کے ہمراہ لندن گئے تھے لیکن وہ کرونا کے پھیلاؤ کے بعد واپس آچکے ہیں، شہباز شریف کرونا کے حوالہ سے حکومت پر روزانہ تنقید تو کر رہے ہیں لیکن نواز شریف کی صحت بارے وہ بھی خاموش ہیں،

  • موٹروے زیادتی کیس کے ملزم عابد ملہی کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    موٹروے زیادتی کیس کے ملزم عابد ملہی کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اے ٹی سی لاہورمیں موٹروے زیادتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اے ٹی سی لاہورمیں موٹروے زیادتی کیس کے ملزم عابد ملہی کو پیش کیا گیا،ملزم عابد ملہی کو شناخت پریڈ کے لیے 14 روز جیل بھیج دیاگیا،پولیس نے موٹر وے زیادتی کیس کی ابتدائی رپورٹ عدالت میں پیش کی

    موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، ملزم کو پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ عدالت پیش کیا گیا

    موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم کو گزشتہ روز پولیس نے گرفتار کیا تھا، پولیس نے عابد کی گرفتاری کے لیے جال بچھایا اور اس کی بیوی کو فون اور نمبر فراہم کیا، یہ نمبر بیوی نے عابد سے رابطے کیلئے استعمال کیا۔ پولیس نے اس کی اہلیہ کو فیصل آباد پہنچا کر سادہ لباس اہلکاروں کا جال بچھایا تھا

    عابد ملہی نے سی آئی اے لاہور میں تفتیش کے دوران بتایا کہ وہ ایک مہینہ پبلک ٹرانسپورٹ میں مختلف شہروں میں بھی پھرتا رہا۔ میں، شفقت اور بالا مستری 9 ستمبر کو واردات کے لیے کورول گاؤں سے نکلے، بالا مستری راستے سے واپس چلا گیا

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

    موٹر وے کے قریب خاتون سے اجتماعی زیادتی،سراج الحق کا ملزمان کی گرفتاری کیلئے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

    درندہ صفت مجرمان کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ دردانہ صدیقی

    زیادتی کے مجرموں کو خصوصی عدالت کے ذریعے فی الفور سزا دی جائے،کل مسالک علماء بورڈ

    آبروریزی کے بڑھتے واقعات کسی بڑی تباہی کی نشاندہی کر رہے ہیں، علامہ عبدالخالق اسدی

    پنجاب پولیس کی اعلیٰ کارکردگی،موٹروے زیادتی کیس کے ملزم تیسرے روز بھی گرفتار نہ ہو سکے

    موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی، واحد عینی شاہد نے کیا منظر دیکھا؟ بتا دیا

    قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا سی سی پی او لاہور کی برطرفی کا مطالبہ

    سی سی پی او لاہور کو نشان عبرت بنایا جائے،اسکے ہوتے ہوئے عورت محفوظ نہیں رہ سکتی، مریم اورنگزیب

    خاتون سے زیادتی کے بعد پولیس کو ہوش آ گیا،لاہور سیالکوٹ موٹروے پر پولیس تعینات

    زیادتی کے مجرموں کیلئے سرعام پھانسی کی سزا کیلئے آواز اٹھائی ہے،فیصل واوڈا

    موٹروے پر خاتون زیادتی کیس میں اہم پیشرفت، دو مشتبہہ ملزمان گرفتار

    سی سی پی اوکے ہاتھوں عوام کا جان و مال محفوظ نہیں،اسکو کیوں لگایا گیا؟ رانا ثناء اللہ کا انکشاف

    سائیں بزدار کی نااہلی،موٹروے زیادتی کیس،3 روز گئے، ملزمان گرفتار نہ ہو سکے

    موٹروے زیادتی کیس،تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، عدالت میں درخواست دائر

    موٹروے زیادتی کیس، ملزم کی گرفتاری کی خبر پر آئی جی پنجاب میدان میں آ گئے

    موٹروے زیادتی کیس، متاثرہ خاتون سے بیان ریکارڈ کرنے کیلئے پولیس کا رابطہ،خاتون نے کیا دیا جواب؟

    موٹروے زیادتی کیس،سی سی پی او کے بیان پر کابینہ کو معافی مانگنی چاہئے تھی،عدالت،ریکارڈ طلب

    موٹرے پر سفر ذرا احتیاط سے، سینیٹر کی گاڑی پر حملہ،پولیس کا روایتی بیان،ملزم فرار

    ریپ کے مجرموں کو نامرد بنانے کی بجائے کونسی سزا دینی چاہئے؟ انصار عباسی کی تجویز

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    موٹروے زیادتی کیس،گجرپورہ سے تفتیش تبدیل ،مرکزی ملزم کا شناختی کارڈ بلاک

    واضح رہے کہ  لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا۔ دو افراد نے موٹر وے پہ ایک گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور ان کے بچوں کو باہر نکالا جس کے بعد انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو بچوں کے سامنے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون لاہور سے گوجرانوالا جارہی تھی، کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔

    موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی اور موٹر وے پولیس بھی نہیں آئی۔ رشتے داروں کے پہنچنے سے پہلے ہی دو افراد نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزمان خاتون سے ایک لاکھ روپے نقد، سونے کے زیورات اور اے ٹی ایم کارڈز بھی لے گئے

  • یوں لگتا ہے کہ آخر میں اس کمپنی کے تانے بانے بمبئی سے نکلیں گے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    یوں لگتا ہے کہ آخر میں اس کمپنی کے تانے بانے بمبئی سے نکلیں گے،چیف جسٹس کے ریمارکس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں سندھ میں میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف از خود پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہم نے سب رپورٹس پڑھ لیں ان میں کچھ بھی نہیں،کراچی میں بجلی کا مسئلہ جوں کا توں ہے،وفاقی حکومت نہ ہی صوبائی حکومت کچھ کر رہی ہے،فیڈریشن اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی، حکومت میں صلاحیت ہی نہیں،جس کی مرضی حکومتی اداروں کا استحصال کرے کوئی روکنے والا نہیں،سارا ملک پریشان ہے،

    جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کراچی اتنا پھیل گیا مگر بجلی کی پیداوار نہیں بڑھائی گئی،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حکومت کی کمزوری سے سب ادارے فائدہ اٹھا رہے،دائیں بائیں ہر طرف سے حکومت کا استحصال کیا جارہا ہے،نیپرا اور پاور ڈویژن کے تمام ملازمین کو فارغ کر دیتے ہیں،ایسے ملازمین کے ہونے کا کوئی فائدہ ہی نہیں،کے الیکٹرک شہریوں کو رتی کا بھی فائدہ نہیں دے رہی،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی اداروں میں صلاحیت کا سنجیدہ فقدان ہے،کے الیکٹرک والے لوگوں کو ہائی جیک کر کے ماسٹر بن گئے،آج پھر بجلی کی قیمت بڑھا دی گئی،وکیل نے عدالت میں کہا کہ پورے ملک میں حکومت نے بجلی کی قیمت بڑھائی ہے،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ایم ڈی کے الیکٹرک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو پرانے ایم ڈی ہیں آپ کو تو نکال دیا تھا،آپ کیسے آگئے کچھ بولیں،کے الیکٹرک کو کنٹرول کون کرتا ہے کتنے شیئر ہولڈرز ہیں؟اگر کھوج لگائی جائے تو کے الیکٹرک بمبئی سے کنٹرول ہورہا ہوگا،کے الیکٹرک کے سرمایہ کاروں پر ہمارے شبہات ہیں، وہ نو شیئر ہولڈرز کون ہیں جو فریق بننا چاہتے ہیں، یہ شان عشری کون ہے؟ کیا یہ پاکستانی ہے؟

    شان عشری عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ میں پاکستانی ہوں، میری وفادراری پر شک نہ کریں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ وفادار ہوتے تو کے الیکٹرک اور پاکستان کے عوام کا یہ حال نہ ہوتا،شان عشری نے کہا کہ کے الیکٹرک میں سعودی عرب اور کویت کے لوگوں نےسرمایہ کاری کی ،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہو گی، ان کی پشت پر کوئی اور ہے،یوں لگتا ہے کہ آخر میں اس کمپنی کے تانے بانے بمبئی سے نکلیں گے،کے الیکٹرک کے معاملے پر لوگوں کے مفادات سامنے آگئے ہیں، حکومت نے پاور ڈویژن کے 10 ٹکڑے کر دیئے ہیں،آپ کا سسٹم صحیح آپریٹ نہیں کررہا ہے،ان کو کوئی دیکھ نہیں رہا، نیپرا میں میٹنگ شور شرابے سے ختم کرا دی جاتی ہے،یہ بتائیں کی کے الیکٹرک کی نجکاری کے پیسے کہاں گئے؟جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ اگر مقابلے کی فضا بنا رہے ہیں تو ایسے معاہدے بنائیں جو حکومت کے حق میں ہوں،

  • موٹروے زیادتی کیس،مرکزی ملزم عدالت پیش

    موٹروے زیادتی کیس،مرکزی ملزم عدالت پیش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کر دیا گیا

    انسداددہشت گردی کی خصو صی عدالت نے ملزم شفقت کا 28 اکتوبر تک جسمانی ریمانڈ دے دیا،انسداد دہشت گردی کی خصو صی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے ملزم شفقت کا جسمانی ریمانڈ دیا،

    شفقت کو پیش کرنے کے بعد ملزم عابد ملہی کو سی آئی اے ماڈل ٹاون کی ٹیم نےعدالت میں پیش کیا، پولیس کی جانب سے عدالت سے ملزم کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی،

    موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، ملزم کو پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ عدالت پیش کیا گیا

    موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم کو گزشتہ روز پولیس نے گرفتار کیا تھا، پولیس نے عابد کی گرفتاری کے لیے جال بچھایا اور اس کی بیوی کو فون اور نمبر فراہم کیا، یہ نمبر بیوی نے عابد سے رابطے کیلئے استعمال کیا۔ پولیس نے اس کی اہلیہ کو فیصل آباد پہنچا کر سادہ لباس اہلکاروں کا جال بچھایا تھا

    عابد ملہی نے سی آئی اے لاہور میں تفتیش کے دوران بتایا کہ وہ ایک مہینہ پبلک ٹرانسپورٹ میں مختلف شہروں میں بھی پھرتا رہا۔ میں، شفقت اور بالا مستری 9 ستمبر کو واردات کے لیے کورول گاؤں سے نکلے، بالا مستری راستے سے واپس چلا گیا

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    موٹروے کے قریب خاتون سے مبینہ زیادتی ،پولیس کی 20 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

    موٹر وے کے قریب خاتون سے اجتماعی زیادتی،سراج الحق کا ملزمان کی گرفتاری کیلئے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

    درندہ صفت مجرمان کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ دردانہ صدیقی

    زیادتی کے مجرموں کو خصوصی عدالت کے ذریعے فی الفور سزا دی جائے،کل مسالک علماء بورڈ

    آبروریزی کے بڑھتے واقعات کسی بڑی تباہی کی نشاندہی کر رہے ہیں، علامہ عبدالخالق اسدی

    پنجاب پولیس کی اعلیٰ کارکردگی،موٹروے زیادتی کیس کے ملزم تیسرے روز بھی گرفتار نہ ہو سکے

    موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی، واحد عینی شاہد نے کیا منظر دیکھا؟ بتا دیا

    قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا سی سی پی او لاہور کی برطرفی کا مطالبہ

    سی سی پی او لاہور کو نشان عبرت بنایا جائے،اسکے ہوتے ہوئے عورت محفوظ نہیں رہ سکتی، مریم اورنگزیب

    خاتون سے زیادتی کے بعد پولیس کو ہوش آ گیا،لاہور سیالکوٹ موٹروے پر پولیس تعینات

    زیادتی کے مجرموں کیلئے سرعام پھانسی کی سزا کیلئے آواز اٹھائی ہے،فیصل واوڈا

    موٹروے پر خاتون زیادتی کیس میں اہم پیشرفت، دو مشتبہہ ملزمان گرفتار

    سی سی پی اوکے ہاتھوں عوام کا جان و مال محفوظ نہیں،اسکو کیوں لگایا گیا؟ رانا ثناء اللہ کا انکشاف

    سائیں بزدار کی نااہلی،موٹروے زیادتی کیس،3 روز گئے، ملزمان گرفتار نہ ہو سکے

    موٹروے زیادتی کیس،تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، عدالت میں درخواست دائر

    موٹروے زیادتی کیس، ملزم کی گرفتاری کی خبر پر آئی جی پنجاب میدان میں آ گئے

    موٹروے زیادتی کیس، متاثرہ خاتون سے بیان ریکارڈ کرنے کیلئے پولیس کا رابطہ،خاتون نے کیا دیا جواب؟

    موٹروے زیادتی کیس،سی سی پی او کے بیان پر کابینہ کو معافی مانگنی چاہئے تھی،عدالت،ریکارڈ طلب

    موٹرے پر سفر ذرا احتیاط سے، سینیٹر کی گاڑی پر حملہ،پولیس کا روایتی بیان،ملزم فرار

    ریپ کے مجرموں کو نامرد بنانے کی بجائے کونسی سزا دینی چاہئے؟ انصار عباسی کی تجویز

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    موٹروے زیادتی کیس،گجرپورہ سے تفتیش تبدیل ،مرکزی ملزم کا شناختی کارڈ بلاک

    واضح رہے کہ  لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا۔ دو افراد نے موٹر وے پہ ایک گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور ان کے بچوں کو باہر نکالا جس کے بعد انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے جا کر خاتون کو بچوں کے سامنے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون لاہور سے گوجرانوالا جارہی تھی، کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔

    موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی اور موٹر وے پولیس بھی نہیں آئی۔ رشتے داروں کے پہنچنے سے پہلے ہی دو افراد نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزمان خاتون سے ایک لاکھ روپے نقد، سونے کے زیورات اور اے ٹی ایم کارڈز بھی لے گئے

  • چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضاکاپاک فضائیہ کےآپریشنل بیس کا دورہ :فضائیہ کی جنگی تیاریوں کا جائزہ لیا

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضاکاپاک فضائیہ کےآپریشنل بیس کا دورہ :فضائیہ کی جنگی تیاریوں کا جائزہ لیا

    راولپنڈی : چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضاکاپاک فضائیہ کےآپریشنل بیس کا دورہ :فضائیہ کی تیاریوں کا جائزہ لیا،اطلاعات کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے آج پاک فضائیہ کے ایک آپریشنل بیس کا دورہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے ان کا استقبال کیا۔

    اپنے دورے کے دوران چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے پاک فضائیہ کی جنگی تیاریوں کا جائزہ لیا، آپریشنل یونٹوں کا دورہ کیا

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے ائیرچیف مارشل مجاہد انورخان کے ساتھ ایف 16 میں بیٹھ کرفضائیہ کی جنگی تیاریوں کے سلسلے میں مشقوں کا مشاہدہ بھی کیا

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے بیس اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے پیشہ ورانہ مہارت اور پی اے ایف کے فضائی جنگجوؤں کی کے جزبہ حب الوطنی کوبہت پسند کیا۔

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے جنگ میں آپریشنل کامیابی کے لئے ورکنگ ریلیشن شپ اورنیٹ ورکنگ کو اہم قراردیا۔