کراچی:زرداری اورعمران بھائی بھائی:مریم نوازکی اصلیت سامنے آئی:اے اہل وطن کچھ سمجھ آئی ؟،اطلاعات کے مطابق مریم نواز جب پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کےلیے کراچی پہنچیں توایک عجیب منظردیکھنے کوملا
باغی ٹی وی کے مطابق کراچی کی سڑکوں پرپیپلزپارٹی کی طرف سے ن لیگ کے رہنما اوربرطرف سابق وزیراعظم نوازشریف اورمریم نواز کے بڑے بڑے پوسٹرآویزاں کئے گئے
ن لیگ کا "زرداری عمران بھائی بھائی" سے پیپلز پارٹی میں ضم ہونے تک کا سفر! ن لیگ پیپلز پارٹی کی نورا کستی لڑنے والی جماعتوں کو پوری قوم کے سامنے ان بہروپیوں کو بے نقاب کر دیا دونوں جماعتوں کی سیاسی اصلیت پوری قوم دیکھ رہی ہے
ذرائع کے مطابق اس دوران مریم نواز کی طرف سے شکریہ کے الفاظ بھی ادا کئے گئے اورمریم نواز نے اس وقت یہ آواز بلند کی کہ نوازشریف اورزرداری بھائی بھائی، اس پراس کارواں میں شامل کارکن بڑے مذبذب نظرآئے
ذرائع کے مطابق اس منظرکودیکھ کرایک ن لیگی کارکن نے اپنی قائد مریم نوازشریف کے ایک جلسئہ عام میں لگائے جانے والے نعروں پرمشتمل ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مریم صاحبہ آپ کیاچاہتی ہیں اپنا ماضی تو دیکھیں
کراچی :مریم نوازکا کراچی میں شاندار استقبال،مریم کی خواہش پر گاڑی کے بونٹ پر کارکنوں کا ’ریڈ انڈینز‘ ڈانس ،اطلاعات کے مطابق کرپشن پربرطرف سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کا کراچی میں شاندار استقبال کیا گیا ،
لیگی ذرائع کے مطابق مریم نواز کی گاڑی کے بونٹ پر ’ریڈ انڈینز‘ ڈانس مریم نواز کی خواہش پرکیا گیا ، جسے مریم نواز نے بہت پسند کیا،مریم نواز نے ریڈانڈین ڈانس کی ویڈیوشیئرکرکے انڈین ڈانس سے متاثرہونے کا اظہارکیا
دوسری طرف اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں شر کت کیلئے کراچی پہنچ گئیں۔
مریم نواز کے استقبال کے لیے کارکنوں کی بڑی تعداد ائیرپورٹ کے باہر موجود تھی۔ کارکنوں نے لیگی نائب صدر کا پر تپاک استقبال کیا اور جگہ جگہ ان کی گاڑی پر گل پاشی کی۔
کارکنوں کی جانب سے مریم نواز کی گاڑی کے بونٹ پر کیک بھی کاٹا گیا جب کہ کارکن ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے بھی ڈالتے رہے۔
لیگی نائب صدر کی گاڑی کے بونٹ پر ’ریڈ انڈینز‘ کا روپ دھارے کارکن ڈانس کرتے رہے جس پر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ مریم نواز نے ڈانس کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’ریڈ انڈین‘ بھی کراؤڈ میں موجود ہیں ۔
لاہور: نوازشریف! کلام مودی کا زبان آٔپ کی :سچ پوچھیںتوآپ میں مودی کی روح بول رہی ہے،اطلاعات کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف آرمی چیف کے خلاف بول رہے ہیں، لگتا ہے نواز شریف نہیں مودی کی روح بول رہی ہے۔
لاہور میں ریسکیو 1122 کی 16ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ نواز شریف یاد رکھیں جو جمہوریت نظر آرہی ہے وہ جنرل باجوہ اور تمام اداروں کی کاوشوں سےقائم ہے، انہی اداروں نے جمہوریت کو آگے لے کر چلنا ہے، نواز شریف نے جس جمہوریت کے سائے تلے بیٹھنا ہے اُسے ہی کاٹ رہے ہیں۔
چوہدری پرویز الہیٰ نے نوازشریف کوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ کلام مودی کا اورزبان نوازشریف کی ہے
اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ نوازشریف کان کھول کر سن لیں مضبوط ادارے ہی جمہوریت کی ضمانت ہیں۔چوہدری پرویز الٰہی کا مزید کہنا تھا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، اندورنی اور بیرونی سازشوں کا مقابلہ اداروں کی مضبوطی سے ہی مشروط ہے۔
مدینہ منورہ : ربیع الاوّل آتے ہی روضہ رسول ﷺ کو زیارت کیلئے کھول دیا گیا،اطلاعات کے مطابق مدینہ منورہ میں آج یکم ربیع الاول سے ایس او پیز کے ساتھ روضہ رسول ﷺ کو زیارت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کے وزیر برائے اسلامی امور کا کہنا ہے کہ نمازی کورونا وائرس ایس او پیز کے ساتھ مسجد نبوی ﷺ میں عبادت اور روضہ رسول ﷺ کی زیادت کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں
دوسری جانب شاہی ہدایت پر مسجد قبا بھی آج سے نمازیوں کے لیےکھول دی گئی ہے۔ مسجد قبا روزانہ فجر سے پہلےکھولی جائے گی اور اسے عشاء کے بعد بند کر دیا جائےگا۔ علاوہ ازیں کورونا وائرس ایس اوپیز کے ساتھ زائرین کو حرم میں نماز اور طواف کی اجازت بھی مل گئی ہے۔
واضح رہے سعودی عرب نے آج سے عمرے کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا ہے جس کے تحت ڈھائی لاکھ مقامی شہریوں کو عمرہ کی اجازت ہو گی۔سعودی وزارت حج و عمرہ کے مطابق دوسرے مرحلے میں زائرین کو ایپ کے ذریعے اجازت نامہ لینا ہوگا۔
صدر مملکت نے عوام سے چند ماہ مزید احتیاط کی اپیل کردی
باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےعوام سے اپیل کی ہے کہ کورونا دوبارہ پھیلنے کے تناظر میں مزید چند مہینوں کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے۔
کورونا وبا کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر عوام کے نام ویڈیو پیغام میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ہم کورونا کے خلاف جنگ کافی حد تک جیت چکے ہیں، ابھی مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوئی، مکمل قابو کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہاکہ جن ممالک میں کورونا کم ہوا وہاں اب دوبارہ پھیل رہا ہے لہذا پاکستان میں اس حوالے سے احتیاط کی جائے ، حکومت نے احساس پروگرام کے تحت غریب طبقے کی مالی امداد کی ہے۔
واضح رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹرکے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 16 اموات ہوئیں جبکہ 567 نئے کیسزرپورٹ ہوئے، اس طرح مجموعی کیسز کی تعداد 3 لاکھ 23 ہزار 19 ہو گئی، کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 6 ہزار 654 ہو گئی۔
این سی اوسی کا کہنا ہے کہ سندھ میں مریضوں کی تعداد 1لاکھ 41 ہزار 713 ، پنجاب میں 1لاکھ1 ہزار 559 اور خیبرپختونخوا 38ہزار 598 تعداد ہے، اسلام آباد میں 17ہزار 996 اور بلوچستان میں 15ہزار 669، آزاد کشمیر 3 ہزار 437 اور گلگت میں 4047 تعداد ہو گئی، صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 3 لاکھ 7 ہزار 069 ہوگئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 32 ہزار 62 ٹیسٹ کیے گئے۔
حزب اختلاف گوجرانوالہ کے بعد آج کراچی میں اپنا پاور شو کرے گی
باغی ٹی وی : حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) آج کراچی میں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔
نمائندہ ہم نیوز کے مطابق کراچی کے باغ جناح میں پی ڈی ایم کے جلسے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جس میں ہزاروں کرسیوں لگائی گئی ہیں جبکہ شرکا کے لیے ماسک کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت کے لیے جلسہ گاہ میں قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر رہنما کراچی میں ہی موجود ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے سے خطاب کریں گے۔
مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کراچی پہنچنے کے بعد مزار قائد پر حاضری دیں گے جس کے بعد وہ قافلے کے ہمراہ جلسہ گاہ پہنچیں گی۔
گزشتہ شب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے باغ جناح جلسے کے انتظامات کا جائزہ لیا اور اس موقع پر انہیں صوبائی وزیر سعید غنی نے بریفنگ بھی دی۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ تمام مسائل کا حل جمہوریت میں ہے اور ہم چاہتے ہیں ہمیں حقیقی جمہوریت ملے۔
ن کا کہنا تھا کہ عوام عدلیہ کو انصاف کی امید کے ساتھ دیکھتے ہیں، عدالت بی آر ٹی اور علیمہ باجی کیس کا فیصلہ دے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے ابھی تقریر کی ہے، ٹائیگر فورس سے خطاب کیا، جنہوں نے نہیں دیکھی بتا دیتا ہوں، وزیراعظم نے 11 برس پرانی ویڈیو چلائی اور کہا کہ میں تب کہہ رہا تھا کہ جب کرپشن پر ہاتھ ڈالوں گا تو سب چور اکٹھے ہو جائیں گے اور آج سب اکٹھے ہو گئے، کل جو جلسہ تھا گوجرانوالہ میں اسکو وزیراعظم نے ایک سرکس سے تشبیہ دی،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے ان سے پوچھنا ہے کہ یہ لکی ایرانی سرکس ہے یا رشین سرکس ہے،یا کہیں اور کا، وزیراعظم نے کاری ضربیں لگائیں ، انہوں نے نواز شریف کی تصویر دکھائیں پہلے اور بعد کی، جیسے پارلر والے دکھاتے ہیں، نواز شریف کی لاہور میں اور پھر لندن میں کیا حالت تھی، پھر انہوں نے شہبا زشریف کی میڈیا ٹاک دکھائی جو بھائی کی صحت کے بارے میں کی اور انہوں نے کہا کہ بالی ووڈ بھی اتنا کوئی ایکٹر نہیں لا سکتا جتنی ایکٹنگ انہوں نے کی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بہت سارے حوالے دیئے کتابوں کے حوالے دیئے، بی بی سی کی ڈاکو منٹری تھی گوالمنڈی ٹو مے فیئر اس کا ذکر نہیں کیا، نواز شریف اتنے سے ہیں تو لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ ریمنڈ باقر، بی بی سی پر کیس کیوں نہیں کیا، ڈیلی میل پر شہباز شریف ایک سال پہلے کیس کرنے جا رہے تھے اور ابھی تک انکا وکیل راستے میں گھوما ہوا ہے ، ڈیلی میل سے آج میں نے کنفرم کیا،ان کو کوئی لیگل نوٹس نہیں ملا ہوا، کسی عدالت یا انکے وکیل کے طرف سے، وہ کہتے ہیں کہ نوٹس ہی نہیں یا جواب دیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کرپٹ لوگوں کا راج ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں، کل جلسہ بہت بڑا تھا، اس میں کوئی شک نہیں، لوگ زیادہ تھے لیکن ایک بات ذہن میں رکھیں ، 11 جماعتوں کا یہ جلسہ تھا، گوجرانوالہ گڑھ ہے دو جماعتوں کا جس میں ن لیگ اور جے یو آئی ہے، بہت مدارس ہیں وہاں، ہزاروں طلبا ہیں، کل بڑی بد مزگیاں ہوئیں ،نہ جلسہ ٹائم پر شروع ہوا اور نہ ختم ہوا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ جب یہ حکومت میں آتے ہیں تب یہ کیسے پلان کرتے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ میں نواز شریف کو واپس لا کر چھوڑوں گا، اب کیسے واپس لائیں گے، اگلے ہفتے سابق ویزراعظم کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کینسل ہو جائے گا پھر انکا برطانیہ میں رہنا ممکن نہیں، اگر غیبی طاقت مل جاتی ہے انکے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہے ،انکو نیشنلٹی مل جاتی ہے،تو پھر پاکستان دشمن قوتیں اسکے پیچھے کارفرما ہیں،وزیراعظم نے کہا مودی میرے بارے میں بات کیوں نہیں کرتے کہ میں اچھا ہوں اور جنرل باجوہ برے ہیں، وہ اسلئے نواز شریف کے بارے کرتے ہیں کہ نواز شریف انکا ایسڈ ہے، میں نے آپ کو یہ بات بتائی اور میں قائم ہوں کہ دو باتیں ہونے جا رہی ہیں، ایک تو تیار رہیں بھارت پاکستان پر اگلے مہینے کے آخر میں حملہ کر سکتا ہے، اس میں بھر پور تیاری ہو رہی ہے، ایک برادر اسلامی ملک فنڈنگ کر رہا ہے، اسرائیل ساتھ، امریکہ کی تھپکی ہے اور لداخ کی خفت مٹانے کے لئے وہ یہاں کچھ کرنا چاہتا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ 3 چیزیں ضروری ہوتی ہیں جنگ کے لئے اور جنگ جب کی جاتی ہے ،ایک تو اکانومی خراب ہو،اکانومی دنیا کی خراب ہے، پاکستان کی بھی خراب ہے، دوسرا ہتھیاروں کی کمی ہو، بھارت دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہتھیار لینے والا، سب ملکوں سے لے رہا ہے، پاکستان نے پچھلے دو سالوں میں دفاعی بجٹ نہیں بڑھایا، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مہنگائی ہوئی،ڈالر مہنگا ہوا اس کا سب سے زیادہ نقصان افواج پاکستان کو پہنچا، ڈالر جب 104 سے 165 ہو گیا،تو ہر چیز جو امپورٹ ہونی ہے تو ہر چیز مہنگی ہو گئی ، بجٹ کم ہو گیا،تیسری چیز انڈیا کیا کر رہا ہے،کہ جنگ شروع کرنے سے پہلے اپنی افواج اور لوگوں کے درمیان خلیج پیدا کی جائے، وہ انڈیا نہیں کر سکا، جب بھی مودی زبان کھولتا ہے تو پاکستانی وہ کسی بھی صوبے سے ہوں وہ ایک ہو جاتے ہیں، یہ حملہ انہوں نے نواز شریف سے کروایا، یہ پورا جو سکرپٹ تھا انڈین ہائی کمشین برطانیہ کے اندر یہ طے پایا تھا جب ملٹری سیکرٹری کو نواز شریف ملے تھے، پرسوں بھی حسین نواز کے دفتر میں میٹنگ ہوئی تھی وہاں اسحاق ڈار تھے اور چار فارنرز ملنے آئے تھے. ساری چیزیں ریکارڈ پر ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ صاحبزادہ جہانگیر نے لند ن میں مظاہرہ کیا اور وہ انتہائی بوسیدہ مظاہرہ تھا، آٹھ لوگ تھے وہ جبکہ لیگی تین چار سو تھے، جہانگیر نے عمران حکومت کو لے ڈاؤن کیا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر الزام لگایا، اگر نواز شریف کی بات مان لیں، فرض کریں انکو ہٹا دیں، کل کو چار جرنیلوں کا اور نام لے لیں گے، اسکو ختم کہاںکریں گے، اسکا مطلب ہے کہ انڈیا ہر اس آدمی کو ہٹانا چاہتا ہے جو اسکو کھٹکتا ہے، یہ سیریس ایشو ہے،میں تو ہر پاکستانی سے ایک درخواست کروںگا کہ عمران خان ہو، نواز شریف ہو، زرداری ہو مولانا ہو، لیڈر کی عزت کریں، فالو کریں لیکن پاکستان کے خلاف نہیں،ا داروں کے خلاف نہیں، یہ ملک ہے تو ہم بچے ہوئے ہیں، خدانخواستہ آج جنگ ہو جائے اور سقوط ڈھاکہ کی طرح ہو جائے تو ہماری حیثیت موچی نائی سے زیادہ نہیں ہمیں کام نہیں کرنا آتا ، ڈریں اس وقت سے، اداروں کے بیچ میں جو تفریق پیدا کرنے کی کوشش ہے اسکو مت ہونے دیں یہی بات آج عمران خان نے کی ہیں.
برادر اسلامی ملک کی فنڈنگ سے انڈیا پاکستان پر کب حملہ کرسکتا ہے؟ مبشر لقمان کا تہلکہ خیر انکشاف
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان پر اگلے مہینے کے آخر میں حملہ کر سکتا ہے، اس میں بھر پور تیاری ہو رہی ہے، ایک برادر اسلامی ملک فنڈنگ کر رہا ہے، اسرائیل ساتھ، امریکہ کی تھپکی ہے اور لداخ کی خفت مٹانے کے لئے وہ یہاں کچھ کرنا چاہتا ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ 3 چیزیں ضروری ہوتی ہیں جنگ کے لئے اور جنگ جب کی جاتی ہے ،ایک تو اکانومی خراب ہو،اکانومی دنیا کی خراب ہے، پاکستان کی بھی خراب ہے، دوسرا ہتھیاروں کی کمی ہو، بھارت دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہتھیار لینے والا، سب ملکوں سے لے رہا ہے، پاکستان نے پچھلے دو سالوں میں دفاعی بجٹ نہیں بڑھایا، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مہنگائی ہوئی،ڈالر مہنگا ہوا اس کا سب سے زیادہ نقصان افواج پاکستان کو پہنچا، ڈالر جب 104 سے 165 ہو گیا،تو ہر چیز جو امپورٹ ہونی ہے تو ہر چیز مہنگی ہو گئی ، بجٹ کم ہو گیا،تیسری چیز انڈیا کیا کر رہا ہے،کہ جنگ شروع کرنے سے پہلے اپنی افواج اور لوگوں کے درمیان خلیج پیدا کی جائے، وہ انڈیا نہیں کر سکا، جب بھی مودی زبان کھولتا ہے تو پاکستانی وہ کسی بھی صوبے سے ہوں وہ ایک ہو جاتے ہیں، یہ حملہ انہوں نے نواز شریف سے کروایا، یہ پورا جو سکرپٹ تھا انڈین ہائی کمشین برطانیہ کے اندر یہ طے پایا تھا جب ملٹری سیکرٹری کو نواز شریف ملے تھے، پرسوں بھی حسین نواز کے دفتر میں میٹنگ ہوئی تھی وہاں اسحاق ڈار تھے اور چار فارنرز ملنے آئے تھے. ساری چیزیں ریکارڈ پر ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ صاحبزادہ جہانگیر نے لند ن میں مظاہرہ کیا اور وہ انتہائی بوسیدہ مظاہرہ تھا، آٹھ لوگ تھے وہ جبکہ لیگی تین چار سو تھے، جہانگیر نے عمران حکومت کو لے ڈاؤن کیا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر الزام لگایا، اگر نواز شریف کی بات مان لیں، فرض کریں انکو ہٹا دیں، کل کو چار جرنیلوں کا اور نام لے لیں گے، اسکو ختم کہاںکریں گے، اسکا مطلب ہے کہ انڈیا ہر اس آدمی کو ہٹانا چاہتا ہے جو اسکو کھٹکتا ہے، یہ سیریس ایشو ہے،میں تو ہر پاکستانی سے ایک درخواست کروںگا کہ عمران خان ہو، نواز شریف ہو، زرداری ہو مولانا ہو، لیڈر کی عزت کریں، فالو کریں لیکن پاکستان کے خلاف نہیں،ا داروں کے خلاف نہیں، یہ ملک ہے تو ہم بچے ہوئے ہیں، خدانخواستہ آج جنگ ہو جائے اور سقوط ڈھاکہ کی طرح ہو جائے تو ہماری حیثیت موچی نائی سے زیادہ نہیں ہمیں کام نہیں کرنا آتا ، ڈریں اس وقت سے، اداروں کے بیچ میں جو تفریق پیدا کرنے کی کوشش ہے اسکو مت ہونے دیں یہی بات آج عمران خان نے کی ہیں.
کراچی: "گرتی ہوئی دیوارکوایک دھکا اوردو”بلاول بھٹونے نوازشریف کومشکل وقت میں دھکا دے دیا،نوازشریف بیانیے سے اختلاف،اطلاعات کے مطابق ضرب المثل مشہورہے کہ گرتی ہوئی دیوارکوایک دھکا اوردو،یعنی کسی کواگرشکست ہورہی ہوتو پھراس کوشکست فاش کرنے کے لیے چھوٹی سی کوشش سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے اور بلاول بھٹو واقعی اس ضرب المثل کے مصداق ٹھہرے
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جلسوں میں فوج سے متعلق منفی زبان استعمال کرنا ٹھیک نہیں ہے۔نازشریف بہت خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں ان کو قومی اداروں پرایسی تنقید نہیں کرنی چاہیے
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم بھی بعض مواقع پراپنے اختلافی نقطہ نظرکو بیان کردیتے ہیں لیکن ایسے نہیں کہ حد ہی گزرجائیں ، بلاول بھٹو نے کہا کہ نوازشریف اپنے بیانیے کے خود ذمہ دار ہیں پیپلزپارٹی نوازشریف کے بیانیے سے لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے
واضح رہے کہ بلاول بھٹو کی جانب سے مذکورہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پہلے جلسے میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید پر بھی سنگین الزامات لگائے تھے۔
کراچی میں باغ جناح میں پیپلز پارٹی کے جلسے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ مکمل اور حقیقی جمہوریت ملے، مجھے افسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم کا جلسہ ہو یا اپوزیشن کا، موجودہ یا ریٹائرڈ جرنیلوں کا نام لینے سے دفاعی اداروں کا وقار مجروح ہوتا ہے’۔
لاہور:نوازشریف کی شرپسندتقریرنے ن لیگ کوتوڑدیا،بڑی تعدادمیں صوبائی،قومی اورارکان سینیٹ نےاصل مسلم لیگ سے رابطہ کرلیا،چوہدری نثاربھی سرگرم،اطلاعات کے مطابق کرپشن کیس میں سزاپربرطرف سابق وزیراعظم کے پاک فوج اورعدلیہ پرمسلسل شرپسندانہ حملوں کے بعد اب ن لیگ عملی طورپرٹوٹ چکی ہے
معتبرذرائع کے مطابق ن لیگ کے ٹوٹنے کا سب سے بڑا فائدہ اصلی مسلم لیگ جسے قائد اعظم مسلم لیگ کہا جاتا ہے اورجس کی کمان چوہدری برادران کے ہاتھ میں ہے کو بہت زیادہ پہنچا ہے ، اطلاعات یہ ہیں کہ درجنوں صوبائی ، قومی اسمبلی ممبران اور4 کے قریب سینٹ ممبران نے پاکستان مسلم لیگ قائداعظم میں جانے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے
ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں رابطے جاری ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ یہ شمولیت صرف پنجاب کی سطح تک ہی نہیں بلکہ سندھ ، بلوچستان اورکے پی میں بھی ہوگی
باغی ٹی وی کوحاصل ہونے والی معتبراطلاعات میں کہا گیا ہےکہ ان ارکان کویہ یقین محکم ہوگیا ہےکہ اب ن لیگ کا وجود برقرار نہیں رہے اورامکان بھی یہی ہےکہ ن لیگ پرپابندی لگا دی جائے اس صورت میں اکثراراکین نے پاکستان مسلم لیگ قائداعظم میں جانے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ ان چوہدری برادران نے ہمیشہ ملک وقوم کے لیے سیاست کی ، ہر کسی کی عزت کی ،
یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ان اراکین کا کہنا ہےکہ چوہدری برادران نے آج تک اپنے بڑے سے بڑے مخالف کوکبھی لعن طعن نہیں کی ، حتی کہ اس ملک میں جس طرح کچھ عرصہ پہلے خواتین کے ذریعے سیاست کا میدان گرم رکھا گیا اوررکھا جارہا ہے چوہدری برادران نے اس کی نہ کبھی حوصلہ افزائی کی اورنہ ہی آج تک کی کی مان بہن اوربیٹی کے بارے آوازے کسے
بعض اراکین کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ چوہدری برادران کی سیاست میں شرافت کے معترف ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چوہدری برادران نے ہمیشہ اس ملک کی ہربیٹی کی عزت کی اورپھر ن لیگ اوردیگرن لیگی حمایت یافتہ جماعتوں اور سیاسی ورکروں کی طرف سے مسلم لیگ قائداعظم کی قیادت اوردیگرمردوخواتین اراکین پرطعن زنی پرخاموش رہے اورصبر کا مظاہرہ کیا
باغی ٹی وی کے مطابق ن لیگی اراکین نے رابطے کرلیے ہیں لیکن اعلان کسی خاص وقت پرکیا جائے گا ، یہ بھی معلوم ہوا کہ ان اراکین کا کہنا ہے کہ وہ چوہدری پرویز الہیٰ کے پنجاب کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ترقی یافتہ دور کے آج بھی معترف ہیں
دوسری طرف یہ بھی معلوم ہے کہ چوہدری نثارکا صبر بھی ان کوپھل دینے والا ہے اور کئی ن لیگی اراکین اسمبلی نے ان سے رابطہ کیا ہے ، اگلے چند ہفتوں میں ملک میں کیاسیاسی صورت حال کیا شکل اخیتار کرتی ہیں اس کے بارے میں پشین گوئی کرنا مناسب نہیں البتہ ن لیگ کے وجود کےخاتمے کے حوالے سے مصدقہ خبریں آرہی ہیں کہ اب وہ ختم ہو کر رہ گیا ہے