جموں و کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے بیان پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ ٹی ایس ترومورتی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کااحترام کرنا سیکھنا چاہئے۔
ترومورتی نے ٹوئٹ کیا’’ہم نے مرکز کے زیر کنٹرول ریاست جموں اور کشمیر کے حوالہ سے ترکی کے صدر کے بیان کو پڑھا ہے اوران کا ہندوستان کے اندرونی معاملات میں ان کی مداخلت قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے، اور اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہئے‘‘۔
خیال رہے ترک صدر رجب طیب اردگان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کشمیر پر ایک بار پھر کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے اور جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مسئلہ اور بھی سنگین ہوگیا ہے۔
Category: اہم خبریں
-

کشمیر کے حوالے سے ترک صدر کا بیان، بھارت غصہ سے لال پیلا ہو گیا
-

بھارت میں 11 پاکستانی ہندوؤں کے قتل کے خلاف لانگ مارچ کا آغاز
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 11 پاکستانی ہندوؤں کے پراسرار قتل کے خلاف ہندو کونسل کا لانگ مارچ آج سندھ سے شروع ہو گیا ہے جو اسلام آباد پہنچے گا
لانگ مارچ کے شرکا حیدر آباد سے روہڑی پہنچ گئے ہیں، لانگ مارچ کے قافلے میں مرد اورخواتین بھی شامل ہیں۔ شرکا نے روہڑی بس ٹرمینل پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے لگائے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارت میں پاکستانی ہندوؤں پر مظالم بند نہ کیے گئے تو عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ بھارت میں موجود آر ایس ایس اور را کی تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔ ہندو مظاہرین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی عدالت سے انصاف دلائیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی تھی ، بعد ازاں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ بھارت کے شہر جودھپور میں پاکستانی ہندوؤں کی ہلاکت پر بھارتی ہٹ دھرمی کے خلاف ہندو برادری اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر دھرنا دیں گے۔ بھارت میں واقعہ پیش آنے کے ایک مہینے پانچ دن تک ہمیں متاثرہ خاندانوں سے بات چیت کے لیے کوئی رسائی نہیں دی گئی۔ کسی بھی ملک میں اگر غیر ملکی کے ساتھ کچھ ہو تو حکومتیں حرکت میں آجاتی ہیں مگر بھارت میں قتل ہونے کے باوجود بھی مودی حکومت نے قاتلوں کی گرفتار کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جودھپور واقعے کے خلاف 6 گھنٹے کے بعد ملک بھر سے ہندو برادری کے قافلے اسلام آباد پہنچیں گے 24 ستمبر کو بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی دھرنا دیں گے۔ 22 ستمبر کی رات 10 بجے تھر پارکر سے جلوس نکلے گا جبکہ حیدر آباد ،نوابشاہ اور کراچی سے ہندو برادری کے قافلے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔
رمیش کمار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بھر سے اقلیتی برادری کے لوگ اسلام آباد آئیں گے۔ قومی اور بین الاقوامی میڈیا کو بتانا چاہتے ہیں۔ جب تک بھارت ہندو خاندان سے متعلق تحقیقات کی کاپی شیئر نہیں کرے گا، دھرنا جاری رہے گا۔ ہم اپنے احتجاج میں کرونا ایس او پیز پر عمل کریں گے اور دھرنے کو تب تک تک جاری رکھیں گے جب تک بھارت تحقیقاتی رپورٹ پیش نہیں کردیتا، ہمارے مطالبے کے باوجود جودھ پور واقعہ کی شفاف تحقیقات نہیں ہو سکیں۔ بھارتی پولیس خود کشی کا ڈرامہ رچا کر اصل حقائق پر پردہ ڈال رہی ہے،
واضح رہے کہ 9 اگست کو بھارت میں 11 پاکستانی ہندو پراسرار طور پر ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی میڈیا نے کہا تھا کہ پاکستان سے جانے والے ہندو راجستھان کے ضلع جودھپور میں رہائش پذیر تھے، جاں بحق ہونے والوں پورے خاندان کا صرف ایک فرد ہی زندہ بچا تھا۔
ضلع سانگھڑ کی تحصیل شہداد پور کے گاؤں بھادر فقیر کلوئی کے رہائشیوں کے 11 افراد کو بھارت کے شہر جودھپور راجستھان کے گاؤں لوٹا میں RSS اور BJP کے غنڈوں نے پولیس کی سرپرستی می ں19 اگست2020 رات کو تین بجے گھر میں گھس کر زہریلے انجکشن لگاکر قتل کردیا ہے اس طرح کی تفصیل شہداد ہور تھانے میں مقدمہ درج کراتے ھوئے شریمیتی مکھی بھیل نے بتائی ھے مکھی بھیل نے بتایا کہ 2012 میں اسکا والد والدہ اور دیگر گیارہ افراد روزگار کے سلسلے میں بھارت چلے گئے تھے جنھیں گزشتہ روز بھارت کی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس اور بی جے پی کے غنڈوں نے رات تین بجے پولیس کی سرپرستی میں گاؤں میں داخل ھوکر زہریلے انجیکشن لگاکر قتل کردیا ھے اور اب ہمیں اور ہمارے رشتے داروں کو فون پر دہمکیاں دی جارہی ہیں کہ کسی کو کچھ نہیں بتانا ورنہ بھارت میں تمام خاندان کو قتل کردینگے۔
جودھپور میں 11 پاکستانیوں کا قتل: شہدادپور پولیس نےRSS اورBJPکے خلاف مقدمہ درج کر لیا
-

جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر وزیراعظم نے کیا ترک صدر کا شکریہ ادا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے دوبارہ بات کرنے پر ترک صدر کا مشکور ہوں،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر کے خطاب کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ترکی کی غیر متزلزل حمایت کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کے لیے طاقت کا ذریعہ ہے
Deeply appreciate President Erdogan once again raising his voice in support of the rights of the Kashmiri people during his address to UNGA. Turkey’s unwavering support remains a source of strength for the Kashmiris in their legitimate struggle for self determination. pic.twitter.com/RIBJAIUpty
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) September 23, 2020
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ترک صدر نے جنرل اسمبلی کے خطاب میں ایک بار پھر کشمیریوں کے حق کے لیے آواز اٹھائی۔
اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی دکھانی ہوگی، وزیراعظم
کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں
وزیراعظم اور ترک صدر کی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اہم خبر
ترک صدر کے پہنچنے سے قبل پارلیمنٹ میں ایسا کیا کام کیا گیا کہ وزیراعظم بھی حیران رہ گئے
ترک خاتون اول کا اسلام آباد میں تقریب سے خطاب ،کیا اہم اعلان
ترک صدر کا اپنی قومی زبان میں خطاب، نماز جمعہ ایوان صدر میں کی ادا
ترک صدر کا خطاب سننا اعزاز کی بات، اسد عمر نے مزید کیا کہا؟
دو روزہ دورہ پاکستان کی یادیں واپس لیے ترک صدر وطن روانہ،کس نے کیا الوداع؟
واضح رہے کہ گزشتہ روز ترک صدر نے جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر پر بھی بات کی تھی اور کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے امن و استحکام میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہ مسئلہ آج تک حل نہیں ہوسکا۔طیب اردوان نے کہا کہ اگرمسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا توپھران اداروں کے وجود کی کوئی حیثیت نہیں ہے
ترک صدر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات نے مسئلہ کو پیچیدہ کردیا ہے، ہم اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حامی ہیں۔
ترکی کے قومی دن برائے یکجہتی کے موقع پر وزیراعظم نے جاری کیا ترک صدر کے نام اہم پیغام
-

مسئلہ کشمیرو فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان ہوا: ترک صدرکی جنرل اسمبلی میں دھواں دارتقریر
نیویارک : مسئلہ کشمیرو فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان ہوا: ترک صدرکی جنرل اسمبلی میں دھواں دارتقریر ،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر و فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں سالانہ اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث مختلف ممالک کے سربراہان مملکت بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کررہے ہیں۔ ویڈیو لنک پر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسئلہ کشمیر پر دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔
ذرائع کے مطابق طیب اردوان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے امن و استحکام میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہ مسئلہ آج تک حل نہیں ہوسکا۔طیب اردوان نے کہا کہ اگرمسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا توپھران اداروں کے وجود کی کوئی حیثیت نہیں ہے
ترک صدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات نے مسئلہ کو پیچیدہ کردیا ہے، ہم اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حامی ہیں۔
طیب اردوان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بالخصوص کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔
مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بھی ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین بھی پیچیدہ ہوگیا ہے لیکن آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بیت المقدس کے ساتھ قیام ہی مسئلہ فلسطین کا واحد حل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کو بااختیار بنانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے جب کہ ایران جوہری پروگرام تنازع عالمی قوانین کےمطابق سفارتکاری اوربات چیت سے حل ہونا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق ترک صدرطیب اردوان نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ نیوزی لینڈ حملے کی تاریخ 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی یکجہتی کا دن قرار دے۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال بھی ترک صدر طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا تھا۔
-

مسلح افواج کے سائنسدانوں اور انجینئرز کے اعزازمیں جنرل ندیم رضا نے ایوارڈزپیش کیے
اسلام آباد : مسلح افواج کے سائنسدانوں اور انجینئرز کے اعزازمیں جنرل ندیم رضا نے ایوارڈزپیش کیئے،اطلاعات کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے مسلح افواج کے سائنسدانوں اور انجینئرز کو بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ایوارڈ سے نواز دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مسلح افواج کے سائنسدانوں اور انجینئرز کو ایوارڈ دینے کی تقریب کا انعقاد ہوا جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے ایوارڈ دیے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ تقریب کے دوران بے مثال کارکردگی دکھانے پر 23 سائنسدانوں اور انجینئرز کو ایوارڈز دیے گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کی جانب سے ایوارڈز کرنے والے خوش نصیبوں میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کے سائنسدان، انجینئرز ہمارے ہیروز ہیں، ہمارے سائنسدان اور انجینئرز کا کردار قابل تحسین ہے۔
-

نواز شریف کی واپسی، اپوزیشن کے استعفے،مولانا کی جیت اور خفیہ ملاقاتیں، سلیم صافی کا خصوصی انٹرویو مبشر لقمان کے ہمراہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میرے دوست اور بھائی آج میرے ساتھ ہیں سلیم صافی،کسی تعارف کے محتاج نہیں، جیو پر انکا بڑا مقبول شو ہوتا ہے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ صافی صاحب سب سے پہلے یہ بتائیے گا کہ کیا اس اے پی سی میں مولانا فضل الرحمان کی آواز دب نہیں گئی جس پر سلیم صافی کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں مولانا فضل الرحمان نے کسی حد تک اپنی آواز منوا لی ہے ان سے، آپ دیکھیں کہ دو حوالوں سے مولانا فضل الرحمان کو کامیابی ہوئی ہے، ایک یہ کہ وہ الیکشن کے بعد سے یہ کوشش کر رہے تھے کہ پی پی اور ن لیگ کو اپوزیشن میں لے آئیں لیکن دونوں جماعتیں اپوزیشن میں آنے کو تیار نہیں تھیں، یہ جعلی اپوزیشن تھی، اس میں کنڑیبیوشن خود عمران خان صاحب کا اور نیب ،اور اس اقدامات کا ہے، وہ شریف سے شریف بننا چاہ رہے تھے لیکن حکومت اور نیب نے دھکے دے دے کر انہیں مولانا کی طرف دھکیل دیا، ایک طرف تو سردست ،تا دم تقریر، تحریر،کیونکہ ٹریک ریکارڈ بتا رہا ہے کہ ن لیگ ایک مہینے کے لئے انقلابی بن جاتی ہے اور دو مہینے شریف، یہ وقت بتائے گا، اس اے پی سی نے مولانا اور انکی اتحادی چھوٹی جماعتوں سے اتفاق کر لیا، ڈرائیونگ سیٹ پر پی پی تھی، پی پی کے بارے میں ابھی بھی مولانا کو شک ہے، ن لیگ کو بھی شک ہے ، مجھے بھی یقین ہے کہ وہ سندھ حکومت کو نہین چھوڑیں گے ،قرارداد پہلے تو یہ تھا کہ الگ الگ رہبر کمیٹی،کبھی مولانا زرداری کی منتیں کریں کبھی کس کی، اب ایک اتحاد اور اسکے نام پر اتفاق ہو گیا، اسکے تنظیمی سٹراکچر پر اتفاق ہو گیا، اب اسکی قیادت کا نام بھی مولانا فضل الرحمان کا ہی نکلے گا کیونکہ پی پی نہیں چاہے گی کہ ن لیگ قیادت کرے،البتہ یہ انکی ناکامی ہے کہ پی پی کو ابھی استعفیٰ دینے پر آمادہ نہیں کر سکے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ جب تک یہ استعفے نہیں دیں گے تو اپوزیشن کی موو کیا بنے گی، جس پر سلیم صافی کا کہنا تھا کہ دیکھیں میں تو تب تک اسکو سنجیدہ نہین لوں گا،ایک وجہ تو یہ ہے جب تک یہ لوگ استعفے نہیں دیتے یہ اخلاقی جواز سے محروم رہتے ہیں، آپ اس پارلیمنٹ جو جعلی کہتے ہیں، دھاندلی کی پیداوار کہتے ہیں پھر اسی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں،پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کر رہے ہیں، اس لحاظ سے وہ سنت عمران زندہ کرتے ہیں، پچھلی اسمبلی میں دھرنے میں استعفے دیئے پھر وہ بیٹھے بھی، سول نافرمانی تک وہ گئے لیکن خیبر پختونخواہ حکومت توڑنے کی بات نہیں کر رہے تھے، اب وہی کام پی پی اور ن لیگ کر رہی ہے، اگر پارلیمنٹ جعلی ہے تو آپ بھی بیٹھے کیوں ہیں، آپ بھی پھر جعلی ہیں،پارلیمنٹ کو بطور ربڑ سٹیمپ استعمال کیا گیا، ن لیگ اور پی پی نے کاندھا پیش کیا، دو سالوں میں انکے سیاسی گناہ ہیں، اگر حکومت بھی عوام کے جذبات کی ترجمانی نہیں کر سکی تو ان دو جماعتوں نے بھی عوام کے لئے سیاست نہیں کی، جس طرح حکومت جعلی ہے اس طرح دو سالوں میں اپوزیشن بھی جعلی تھی، اب بھی اگر گناہوں کی تلافی چاہتے ہیں اور لوگوں کا اعتماد بحال کرنا چاہتے ہین تو پہلا اقدام اسمبلیوں سے استعفیٰ کا چاہئے جب تک یہ قدم نہیں اٹھاتے انکو سنجیدہ نہیں لیا جائے گا، یہ شک رہے گا کہ پی پی اور ن لیگ بارگنگ پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے یہ سب کچھ کر رہی ہیں
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ میاں صاحب نے دھواں دھار تقریر کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف،اس سے دو راتیں پہلے انکے اپنے بھائی اور دیگر رہنما رات کے اندھرے میں اسٹیبلشمنٹ کو مل رہے تھے، یہ کس قسم کی سیاست ہے،جس پر سلیم صافی کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں انکی طرف سے دعوت دی گئی تھی، اور وہ گلگت بلتستان کے نیشنل سیکورٹی کا بھی معاملہ ہے، اسکی حساسیت کو آپ بھی بہتر جانتے ہیں لیکن وہاں پر بھی سیاست سے متعلق بات ان لوگوں کی جانب سے چھیڑی گئی، پی پی کے ایک لیڈر کی طرف سے ،معاملہ سیاست کی طرف چلا گیا اور پھر انکو خوب سننی پڑی، اس طرح کی ملاقات پر مجھے کوئی اعتراض نہیں، پچھلے دو سالوں میں بھی،الیکشن سے پہلے اور بعد میں ان دونوں جماعتوں کی خفیہ ملاقاتیں جاری رہیں، صرف شہباز شریف کا نام لیا جاتا ہے لیکن خواجہ آصف بھی رابطہ میں رہتے تھے ،پی پی میں بھی ہمہ وقت یہ چیزیں جاری رہتی ہیں، دو سال کی پی پی اور ن لیگ کی سیاست کا خلاصہ نکالنا چاہیں تو یہ ہیں کہ وہ ان سے یہی کہتے ہیں کہ آپ کی خدمت عمران خان اچھی نہین کر سکتا انکی جگہ ہم اچھی کر سکتے ہیں، اچھی تابعداری کر سکتے ہیں، یہ انکی سیاست کا لب لباب ہے، ابھی نواز شریف نے جو بیانیہ اپنایا ہوا ہے یہ پہلی بار نہیں، ماضی میں عمران خان نے اس سے بھی سخت باتیں کیں لیکن سوال یہ ہے کہ پھر آپ عمل کیا کرتے ہیں، ماضی میں بھی یہ غلطی ہوئی کہ آپ کی پارٹی ہے مسلم لیگ ،آپ کا جانشین ہے آپ کا بھائی شہباز شریف،اور ملک ہے پاکستان، اور آپ طیب اردگان بننے کی کوشش کرتے ہیں، میرے خیال میں تو اسوقت بھی یہی ہوا، جو بیانیہ لندن میں بیٹھ کر اپنا لیا،کیا آپ کی بیٹی کے سوا آپ کی پارٹی میں کوئی اور اسکو لے کر چلنے کے قابل ہے؟ کتنے دیر اس پر کھڑے رہ سکیں گے، یہ انکی قرارداد اور تقریروں میں اگر سنجیدہ ہیں تو پہلا قدم پی پی کو استفوں کا اٹھانا چاہئے اور نواز شریف کو وطن واپسی کا اٹھانا چاہئے، تقریر کا خلاصہ ہے کہ کشتیاں جلانا چاہتے ہین پھر کشتیاں جلا دیں.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میری اطلاع ہے کہ نواز شریف نے امریکہ اور انکے حامیوں کو یقین دہانی کروائی کہ ہم سی پیک کو روک دیں گے،گوادر کو روک سکتے ہیں اگر آپ ہمیں واپس لے آئیں تو، سلیم صافی کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں نواز شریف اور زرداری کے ساتھ کچھ ہوا اس میں انکی دیگر غلطیوں کے علاوہ ایک بڑا فیکٹر یہ بھی تھا کہ پاکستان کا سٹریٹجک رخ امریکہ سے موڑ کر چین اور روس کی طرف موڑ دیا تھا، اب تو کریڈٹ لینے والے بہت ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سی پیک کے لئے آصف زرداری نے راہ ہموار کی، منصوبہ چین کا تھا، ایم او یو آصف زرداری کے دور میں سائن ہوا، اور گوادر کو ان سے لے کر ہانک کانگ سے چین کے حوالہ کرنے کا رسک انہوں نے لیا، اس میں انہوں نے کچھ ذاتی دوستوں ملک ریاض اور عقیل ڈھیڈی کو بھی استعمال کیا،یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ جب وہ روس جا رہے تھے تو ہیلری کلنٹن نے فون کر کے دھمکی دی تھی اسکے باوجود زرداری صاحب گئے، نواز شریف کا یہ تھا انہوں نے پھر ایسا لگ رہا تھا کہ سارے انڈے چین کے باسکٹ میں ڈال دیئے سی پیک کے بارے میں جو بھی چینی چاہتے تھے کر رہے تھے، ہمارا اعتراض تھا کہ سی پیک پر بارگننگ نہیں کی، اسکا رخ بلوچستان،کے پی یا محروم علاقوں کو زیادہ مستفید کروانے کی بجائے نواز شریف نے میجر روٹ کا رخ پنجاب کی طرف موڑ دیا، لیکن جو چینی اس معاملہ میں جتنا زرداری اور نواز شریف، شہباز سے خوش ہیں، ماضی میں آپ جانتے ہیں کہ عمران خان نے کچھ غلطیاں کی تھیں، ماضی میں ،پرویز خٹک نے تقریریں کیں،دھرنے کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ بھی ملتوی ہوا،ماضی میں وہ سی پیک پر تنقید کرتے رہے، حکومت میں آنے کے بعد احتساب کے نام پر سی پیک کے منصوبوں پر اثر پڑا،رزاق داؤد کا بیان اور یہ ساری چیزں سامنے ہیں، ان حالات میں میں نہیں سمجھتا اور ابھی بھی یہ کیس جو اس روز دونوں نے پیش کیا وہ یہی تھا کہ عمران خان کو الزام دے رہے تھے کہ انہوں نے سی پیک کو سلو کر دیا،اور یہ حقیقت بھی ہے کہ انہوں نے مس ہینڈلنگ کی، میں سازشی تھیوری پر یقین نہین کرتا کہ امریکہ نواز شریف کو آگے لائے گا کیونکہ جس طرح نواز شریف نے اپنی زیادہ تر سیاست سی پیک پر کی آگے جا کر بھی وہ اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کریں گے
مبشر لقمان نے کہا کہ مجھے یہ سمجھ آئی کہ سٹیٹس کو پر ہی چلے گا، یہ اپوزیشن روتی رہے گی،ٹویٹر اور فیس بک پر کھیلے گی، حکومت بھی چلے گی، کچھ نہیں ہونے والا جس پر سلیم صافی کا کہنا تھا کہ یہ آگے جا کر وقت بتائے گا،ابھی بھی یہ اپوزیشن بنے ہیں، عمران خان صاحب سیاست کر ہے تھے 90 سے اور اسوقت وہ زیادہ غیر متنازعہ تھے، مقبول بھی تھے، اسوقت جہانگیر ترین، رزاق داؤد، زلفی بخاری اور اس طرح کے لوگ ارد گرد نہیں تھے، لیکن اسوقت انکو وزارت عظمیٰ کے لئے کنسڈر نہیں کیا گیا، 2012 میں قومی لیڈر بنانے اور 2018 میں وزیراعظم بنانے کے لئے کنسڈر کیا گیا، جو کچھ زرداری، اور نواز نے اداروں کی بدترین گورننس کی صورت اور اداروں سے پنگے بازی کی صورت میں، اسکی برکت سے عمران خان وزیراعظم بنے، اب اپوزیشن یا ٹکراؤ کی جانب جائیں گے تو اسکا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے، جب تھوڑے سے معاملات بہتر ہوتے ہیں عمران خان سمجھتے ہیں تو پھر یہ انکی رخصتی کی علامت ہو گی، ہو سکتا ہے کہ نیب اور عمران خان اگر اسی رفتار سے چلتے رہیں تو ایک سٹیج آ سکتا ہے کہ پی پی اور ن لیگ حقیقی اپوزیشن بن جائیں. مولانا فضل الرحمان کی صورت میں مذہبی کارڈ استعمال کرنے والی مذہبی قوت انکے ساتھ ہو گی، قوم پرست بھی انکے ساتھ ہوں گے،
-

دشمن کے عزائم خاک میں ملانے کی پوری طاقت رکھتے ہیں۔آرمی چیف
دشمن کے عزائم خاک میں ملانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔آرمی چیف
باغی ٹی وی : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک فوج ملک کو درپیش خطرات سےآگاہ ہے۔ دشمن کے عزائم خاک میں ملانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا جہلم کے قریب فیلڈ فائرنگ رینج کے دورے کے موقع پر کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جہلم کےقریب فیلڈ فائرنگ رینج کا دورہ کیا اور جدید ترین ٹینک وی ٹی فور کا مظاہرہ دیکھا اور وی ٹی فور کی کارکردگی پراطمینان کا اظہار کیا۔
#COAS visited Field Firing Ranges near Jhelum today to witness demonstration of state of the art, Chinese origin third generation Main Battle Tank VT-4. This potent war fighting machine will be employed in offensive role by strike formations after induction (1/5) pic.twitter.com/csQv54XVDj
— DG ISPR (@OfficialDGISPR) September 22, 2020
آئی ایس پی آر کے مطابق وی ٹی فورکی پروٹیکشن اورفائرنگ کی صلاحیت کاکوئی ثانی نہیں۔ وی ٹی فورکاموزانہ کسی بھی جدیدترین ٹینک کےساتھ کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کی دفاعی صلاحیت میں ایک اورشانداراضافہ ہوا ہے، سٹرائیک کورجنگ میں فیصلہ کن کردار کے حامل ہے، ملک دشمن کے لیے خطرے کی علامت ہے، آرمڈکور میں جدید ترین ٹینکس کی شمولیت ہوئی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق آرمی چیف نے افسروں اورجوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا۔
-

اربوں کی میراث : نیب نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کرلیا
اسلام آباد:اربوں کی میراث : نیب نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کرلیا،اطلاعات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو طلب کرلیا۔
نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان پر مالی بدعنوانیوں کے الزامات ہیں، مولانا فضل الرحمان کو یکم اکتوبر کو نیب خیبر پختونخوا سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان سے کہا گیا ہے کہ وہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ثبوت دیں، مولانا فضل الرحمان کو نیب کے پی میں ایڈیشنل ڈائریکٹر اسرار الحق کے سامنے پیش ہونےکا کہا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد کے زرداری ہاؤس میں ہوئی تھی جس میں مولانا فضل الرحمان بھی شریک ہوئے تھے۔
اے پی سی میں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور حکومت کیخلاف مرحلہ وار تحریک شروع کرنا کا اعلان کیا گیا تھا۔اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر نیب کے ذریعے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
-

حساس معلومات پر مبنی ڈیٹا لیک ہو کر بھارت تک کیسے پہنچا؟ وزراء کا وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیراعظم سے بڑا مطالبہ
حساس معلومات پر مبنی ڈیٹا لیک ہو کر بھارت تک کیسے پہنچا؟ وزراء کا وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیراعظم سے بڑا مطالبہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم ہو گیاوفاقی کابینہ میں 14 نکاتی ایجنڈے کا جائزہ لیا گیا، متعدد نکات کی منظوری دے دی گئی،اجلاس میں ملکی سیاسی، معاشی اور سلامتی کی صورت حال پر غور کیا گیا،کابینہ اجلاس میں ایس ای سی پی ڈیٹا لیک معاملے پر بھی بحث کی گئی
وزرا نے وزیراعظم کو ڈیٹا لیک انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کا مشورہ دیا،وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ حساس معلومات پر مبنی ڈیٹا لیک ہو کر بھارت تک کیسے پہنچا؟ رپورٹ پبلک کی جائے تا کہ حقائق عوام کے سامنے آئیں،معاملہ قومی سلامتی سے جڑا ہے جسے نظر انداز نہیں کر سکتے،معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پس پردہ کرداروں کو سامنے لایا جائے،
وفاقی کابینہ میں ریپ کے ملزمان کیلئے سخت سزاؤں پر مبنی قوانین کا جائزہ لیا گیا،مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے مجوزہ ڈرافٹ پر کابینہ اراکین کو بریفنگ دی،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بل جلد کابینہ کمیٹی برائے قانونی سازی میں لایا جائے،خواتین اوربچوں سے جنسی زیادتی کے ملزمان کو سزائیں دیں گے
وفاقی کابینہ میں آل پارٹیز کانرنس کےحکومت مخالف فیصلوں پر غور کیا گیا،وفاقی کابینہ نے اجلاس میں اپوزیشن کے بیانیے کو مسترد کردیا،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی اے پی سی سے کوئی خطرہ نہیں.
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا چیئرمین اوگرا کی تعیناتی کیلئے ازسرنو اشتہار دیا جائیگا،
اجلاس کے دوران اسد عمرنے شیریں مزاری کے بعض بیانات پر اعتراض کیا،اسد عمر نےکہا سب سے زیادہ شیریں مزاری بولتی ہیں، وزیراعظم نے وزرا کو غیر ضروری بیانات دینے سے روک دیا ،وزیراعظم نے کہا کوئی وزیرفضول بات نہ کرے ،وزیرکی کوئی ذاتی رائے نہیں ہوتی،وزیراعظم نے کہا کوئی وفاقی وزیرحساس مذہبی معاملات پربات نہیں کرے گا
وزیراعظم نے اسلام آباد میں گرین ایریا پر جیل کی تعمیر پر بھی اظہار ناراضگی کیا،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے ،گرین ایریا کا تحفظ موجودہ حکومت کی ترجیح ہے، وزیراعظم عمران خان نے چیئرمین سی ڈے او معاملے کی فوری تحقیقات کی ہدایت کی،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، اٹارنی جنرل عدالت کو وفاقی حکومت کے موقف سے آگاہ کریں،
وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے وزیراعظم کو گاڑیوں کی امپورٹ سے پابندی ختم کرنے کی تجویز دی،فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی ایکسپورٹ سے پابندی ختم کی جائے تا کہ مقابلہ کی فضا بنے،وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی تجویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ فیصل واوڈا کو زیادہ پتا ہے اس کے پاس گاڑیوں کی اچھی کلیکشن ہے،
-

سانحہ بلدیہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا،رحمان بھولا ،زبیر چریا کو سزائے موت، ایم کیو ایم رہنما بری
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اے ٹی سی کراچی نے سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ سنادیا
رحمان عرف بھولا پر فیکٹری کو آگ لگانے کا الزام ثابت ہو گیا،انسداد دہشت گردی عدالت نے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنادی گئی اے ٹی سی کراچی نے ایم کیو ایم کے رہنما روَف صدیقی کو بری کردیا،سانحہ بلدیہ کیس میں 400گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے
عدالت نے ادیب خانم ،علی حسن قادری ،عبد الستارکو بھی بری کردیا ،اس کے علاوہ باقی چار ملزمان کو سہولت کاری میں سزا سنائی گئی ہے،سزا پانے والے سہولت کاروں میں ارشد محمود ، فضل، شاہ رخ اورعلی احمد شامل ہیں
اے ٹی سی کراچی نے سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ 8سال بعد سنایا،آگ لگانے کی اہم وجہ فیکٹری مالکان سے مانگا گیا بھتہ تھا،رحمان عرف بھولا اورزبیر چریا پر فیکٹری کو آگ لگانے کا الزام ثابت ہوا،2014میں فیکٹری مالکان ارشد بھائیلہ،شاہد بھائیلہ اورعبدالعزیز دبئی چلے گئے
گزشتہ سماعت پرانسداد دہشت گردی عدالت نےفیصلہ محفوظ کیا تھا، آٹھ سال میں کیس پر ایک سو ستر سماعتیں ہوئی ہیں،کیس کی ابتدا سے انجام تک کئی موڑ آئے 11 ستمبر2012 کو ڈھائی سو خاندانوں پرقیامت ٹوٹی جب فیکٹری کو آگ لگائی گئی 12 ستمبر 2012 فیکٹری مالکان کے خلاف ہی مقدمہ درج کیا گیا ،14 ستمبر2014 فیکٹری مالکان عبدالعزيز بھائلہ، ارشد بھائلہ اورراشد بھائلہ نے سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت حاصل کی عوامی دباؤ بڑھا تو سندھ حکومت نے سندھ ہائیکورٹ کے سابق جج زاہد قربان کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹربیونل قائم کیا گیا
تحقیقاتی ٹوبیونل نے واقعے کو شارٹ سرکٹ کا نتیجہ قرار دیا،واقعہ کا بھانڈا اس وقت پھوٹا جب ایم کیو ایم کے کارکن رضوان قریشی کے خلاف تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کی گئی7 فروری 2015 کو پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ بلدیہ کی فیکٹری میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی 23 فروری 2016 کو ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی میں بننے والی جے آئی ٹی نے بھی اسی طرح کی رپورٹ دی اور مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی بھی سفارش کردی
11 مارچ 2017 کو مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کردیا گیا تھا،19 ستمبر 2019مقدمہ ميں اہم موڑ آیا جب جلنے والے فیکٹری کے مالک ارشد بھائلہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروایا،21 نومبر 2019 استغاثہ کی جانب سے شواہد مکمل ہوئے،عدالت نے چار سو گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے ،3 فروری 2020 کوفریقین کے وکلا کے حتمی دلائل کا آغاز ہوا 2ستمبر کو دلائل مکمل ہونے پر فيصلہ محفوظ کیا گیا تھا
کیس کے 3تفتیشی افسران تبدیل ہوئے اور 4سیشن ججزنے سماعت سے معذرت کی تھی ،6 سرکاری وکلا نے دھمکیاں ملنے کے بعد مقدمہ کی پیروی چھوڑدی تھی،جنوری 2019 کو دالرحمان بھولا اور زبیر چریا فیکٹری میں آگ لگانے کے بیان سےمکرگئے تھے
کیس میں رحمان بھولا، زبیرچریااوردیگرملزمان نامزد تھے۔ فروری 2017 میں اس کیس میں ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی، رحمان بھولا، زبیر چریا اور دیگر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ کیس میں 400عینی شاہدین اور دیگر نے اپنے بیان ریکارڈ کرائے ہیں،
سانحہ بلدیہ، تفتیشی افسر کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون میں 11 ستمبر 2012 کو خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 260 کے قریب ملازمین جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔ بعد ازاں سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فیکڑی میں آتشزدگی کا واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی گئی۔ عبدالرحمان بھولا نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے حماد صدیقی کے کہنے پر ہی بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی،