Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آرمی چیف کا چینی سفیر کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ،پاک چین تعلقات کوپروان چڑھانے پرخراج تحسین بھی پیش کیا

    آرمی چیف کا چینی سفیر کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ،پاک چین تعلقات کوپروان چڑھانے پرخراج تحسین بھی پیش کیا

    راولپنڈی: آرمی چیف کا چینی سفیر کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ،پاک چین تعلقات کوپروان چڑھانے پرخراج تحسین بھی پیش کیا ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان میں سبکدوش ہونے والے چینی سفیر کے اعزاز میں عشائیہ دیا، عشائیے میں باہمی دلچسپی و تعاون، علاقائی سیکیورٹی پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان میں سبکدوش ہونے والے چین کے سفیر یاؤ جنگ کے اعزاز میں عشائیہ دیا، آرمی چیف نے چینی سفیر کی خدمات کو سراہا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے مسئلہ کشمیر پر چین کے موقف کو سراہا، جنرل قمر جاوید باجوہ نے چین کی جانب سے سیکیورٹی تعاون کی بھی تعریف کی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملاقات کے دوران چینی سفیر نے خطے میں پاکستانی کے مثبت کردار اور سفارتی تعاون بڑھانے کےعزم کو بھی دہرایا۔

    واضح رہے کہ آرمی چیف سے ملاقات سے قبل چینی سفیر نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ سے ملاقات کی تھی، اس ملاقات میں بھی باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    چین کے سفیر یاؤ جنگ کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں ہونے والا ایف اے ٹی ایف کا جائزہ اجلاس پاکستان کے لیے اچھا ثابت ہو گا، ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے سبکدوش ہونے والے چینی سفیر یاؤ جنگ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں پاکستان اور چین کے تعلقات مضبوط ہوئے۔

  • ثبوت ہی اتنے ٹھوس ہیں کہ چند ہفتوں میں شہباز شریف نااہل اور جیل میں ہونگے، شیخ رشید احمد کا دعویٰ

    ثبوت ہی اتنے ٹھوس ہیں کہ چند ہفتوں میں شہباز شریف نااہل اور جیل میں ہونگے، شیخ رشید احمد کا دعویٰ

    اسلام آباد:ثبوت ہی اتنے ٹھوس ہیں کہ چند ہفتوں میں شہباز شریف نااہل اور جیل میں ہونگے ،اطلاعات کے مطابق سیاسی نجومی کے طورپرمعروف پاکستان کے مشہورسیاستدان وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کیخلاف شواہد موجود ہیں، چند ہفتوں کے اندر وہ نااہل اور جیل میں ہونگے۔

    شیخ رشید احمد نے یہ دعویٰ دنیا نیوز کے پروگرام ‘’دنیا کامران خان کیساتھ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) میں شہباز شریف کیخلاف کیس سب سے زیادہ مضبوط ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز قانون سازی کے موقع پر ایوان میں اپوزیشن کے 34 اراکین کم آئے۔ اپوزیشن کو اس بات کا پتا تھا، کیا انہوں نے نوٹس لیا۔ اپوزیشن میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو کرتی ہے۔

    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ اس قانون کے بعد شہباز شریف کی ضمانت بھی سوالیہ نشان ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں یہ صرف تماشا لگائیں گے۔ جس اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کا بیٹا بیٹھا ہو، یہ کس منہ سے اسے غیر آئینی کہتے ہیں۔

    وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں بولنے کا موقع اسے ہی ملتا ہے جس نے ترمیم پیش کی ہو۔ شاہد خاقان عباسی نے ترمیم پیش کی انھیں بولنے کا موقع دیا گیا۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ قانون سازی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ڈیمانڈ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اسمبلی میں تاریخی تقریر کی۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی طاقتیں پاکستان میں بدامنی پھیلانا چاہتی ہیں۔ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان میں فسادات کرانے کی بھارتی سازش پکڑی گئی ہے۔

  • چین نہیں بلکہ بھارت اور ترنگا سکھوں کا اصل دشمن ہے۔

    چین نہیں بلکہ بھارت اور ترنگا سکھوں کا اصل دشمن ہے۔

    امریکہ میں قائم سکھوں کی عالمی تنظیم سکھ فار جسٹس کے سربراہ سردار گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا ہے کہ چین کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لئے بھارتی حکومت سکھ فوجیوں کو لائین آف ایکچوئل کنٹرول پر تعینات کر رہی ہے اور انہیں ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
    لداخ میں چینی فوج کے خلاف لڑنے والے بھارتی سکھ فوجیوں کے نام ایک ویڈیو پیغام میں سردار گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ چین سکھوں کا دشمن نہیں بلکہ بھارت اور ترنگا سکھوں کا اصل دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی ترنگا ہے جسے 1984 میں بھارتی فوج نے امرتسر میں سکھوں کے مقدس دربار صاحب کو منہدم کرکے وہاں لہرایا تھا جب کہ سکھوں کی نسل کشی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ کانپور میں سکھ فوجی جوان کے 13 دن کے بچے کو دھکتے تندور میں بھون دینے کا واقعہ سکھ فوجی کیسے بھول سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی ترنگے کے سائے تلے دہلی میں سکھوں کی ماوں بہنوں اور بیٹیوں کی سرعام عزتیں پامال کی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی بھارت اسی ترنگے تلے سکھ فوجیوں کو ورغلا رہا ہے اور انہیں ڈھال بنا کر بارڈر پر لڑنے کے لئے بھیج رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جن فوجیوں کو بارڈر پر بھارتی فوج استعمال کر رہی ہے ان کے خاندان کےمکمل افراد کی فہرستیں تیار کی جارہی ہیں۔ ان کی عزت کوپامال کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سال نومبر میں خالصتان کے قیام کے لئے عالمی ریفرنڈم کروا رہے ہیں۔ انہوں نے سکھ فوجیوں سے اپیل کی کہ وہ ہتھیاروں کو چھوڑ کر سکھ فار جسٹس کے سفیر بن جائیں انہیں جتنی تنخواہ بھارت میں ملتی ہے وہ انہیں اس سے دس ہزار روپے زیادہ دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ آج اس بات کاموقعہ آگیا ہے کہ سکھ فوجیوں کو بتایا جائے کہ چین ان کا دشمن نہیں بلکہ ان کااصل دشمن بھارت اور ترنگا ہے۔ 

  • امریکی اسلحہ، بھارت کو تحفہ وہ بھی براستہ پاکستان،افغانستان میں بھارت کا کھیل ختم؟ رحیم اللہ یوسفزئی کا خصوصی تبصرہ

    امریکی اسلحہ، بھارت کو تحفہ وہ بھی براستہ پاکستان،افغانستان میں بھارت کا کھیل ختم؟ رحیم اللہ یوسفزئی کا خصوصی تبصرہ

    امریکی اسلحہ، بھارت کو تحفہ وہ بھی براستہ پاکستان،افغانستان میں بھارت کا کھیل ختم؟ رحیم اللہ یوسفزئی کا خصوصی تبصرہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ خطے میں بڑی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے خاص کر افغانستان میں،چائنہ نے آفر کر دی ہے وہاں انفراسٹرکچر ڈیولپ کرنے کے لئے، امریکہ وہاں سے ٹروپ نکال رہا ہے،انڈیا وہاں کسی نی کسی طرح ری کنسٹرکشن کا حصہ دار بننا چاہتا ہے لیکن پاکستان کی خواہش ہے کہ وہ نہ بنے،مجھے زیادہ حالات کا نہیں پتہ، سینئر دوست کو دعوت دی ہے جن کو حالات کا زیادہ پتہ ہے، رحیم اللہ یوسفزئی

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ یہ بتایئے گا کہ افغانستان پیس عمل شروع ہو گا، یہ صحیح تھا، پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا ،پہلے بھی چھ مہینے لیٹ ہو گیا کرونا کی وجہ سے ،جس پر رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ کرونا بھی ایک وجہ تھی لیکن اصل وجہ یہ تھی کہ دونوں میں طالبان امریکہ کا 29 فروری کو معاہدہ ہوا، اس میں کچھ پوائنٹس تھے،انکے اوپر عملدرآمد نہیں ہو سکا، 6 ہزار قیدیوں‌کے تبادلے کا امریکہ نے وعدہ کیا تھا ان میں سے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے سے بہانے کئے جا رہے تھے، 1005 قیدی رہا کر دیئے، اس میں ساڑھے چھ مہینے کی دیر ہو گئی،ورنہ افغان مذاکرات دس دن کے بعد معاہدے کے شروع ہونے تھے اور قیدی رہا ہونے تھے لیکن وہ نہیں ہو سکے، اب بالآخر مذاکرات شروع ہو چکے ہیں، کئی دور ہو چکے ہیں ،کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، افغان حکومت کا مطالبہ ہے کہ طالبان جنگ بندی کا اعلان کریں لیکن طالبان نے جواب نہیں دیا، بات چیت جاری ہے، امید ہے اس میں پیشرفت آگے جا کر ہو سکتی ہے

    مبشر لقمان نے سوال کہ آپ افغانستان کا مستقبل دیکھ کیا رہے ہیں جس پر رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ 42 سال سے جنگ ہو رہی ہے، سوویت یونین نے حملہ کیا، پھر شکست ہوئی تو واپس چلے گئے، پھر امریکہ نے اتحادیوں کے ساتھ ملکر حملہ کر دیا اور کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے امریکہ کے اوپر نائن الیون کا حملہ ہوا جو اسامہ نے کیا اور طالبان نے اسکو پناہ دی ہوئی ہے،امریکہ اور نیٹو جنگ کر رہے ہیں ان کو ناکامی ہوئی، براہ راست امریکہ نے طالبان سے 18 مہینے مذاکرات کئے، طالبان کی بات مان لی گئی کہ افغان حکومت کو مذاکرات سے باہر رکھا جائے گا کیونکہ اصل فریق امریکہ اور طالبان ہیں، معاہدہ تو ہو گیا،ٹرمپ نے اعلان کر دیا کہ مذاکرات ختم ہین ہم طالبان کو شکست دیں گے، پھر پاکستان نے کوشش کی،طالبان کے وفد کو دعوت دی، وفد اسلام آباد آیا،پاکستان نے انکی ملاقات کروائی، پھر مذاکرات شروع ہو گئے،مستبقل کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ اس بار جتنی امید ہے کہ شاید معاملات آگے بڑھیں یا طے پا جائیں اتنی امید پہلے کبھی نہیں تھی، اب سیاسی حل نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہمسایہ ممالک ایران کے علاوہ اس میں شامل ہیں، اس بار اصل فریق اور افغان عوام کی شدید خواہش ہے کہ سیاسی حل نکالا جائے

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں تھوڑا سا تناؤ اس وجہ سے بھی ہے کہ امریکہ کہتا ہے کہ بیت اللہ محسود کو ہم نے آپکی خدمت میں پیش کر دیا لیکن آپ حقانی کو ابھی تک بچا کر رکھ رہے ہیں، کیا آنے والے دنوں میں مزید ٹینشن ہو گی؟ جس پر رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں، پاکستان کے خلاف امریکہ کو شکایت تھی کہ پاکستان نے طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو پناہ دی، کچھ امریکی حکام اور تجزیہ نگار کہتے تھے کہ پاکستان کی وجہ سے امریکہ کو افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی، پاکستان کو شکایت تھی کہ ملک دشمن قوتیں، تحریک طالبان پاکستان اور انکے اتحادیوں کو افغانستان میں پناہ ملی ہوئی ہے، افغان خفیہ ادارے اور بھارتی خفیہ ادارے را افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کے لئے استعمال کر رہے ہیں، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے، بیت اللہ محسود کو امریکہ نے ڈرون حملے میں وزیرستان میں مار دیا،اسے پاکستان کی شکایت کافی حد تک دور ہو گئی کہ امریکہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف تعاون کر رہا ہے، طالبان کو میز پر لانے کے لئے پاکستان کے تعاون کا امریکہ نے اعتراف کیا ہے،اسوقت تعلقات میں بہتری آئی ہے، ابھی پاکستان کو ایک شکایت ہے کہ امریکہ پاکستان اور چین کے تعلقات کے اوپر ناراض ہے، سابقہ امریکی ڈیفنس سیکرٹری نے ایک بار کہا تھا کہ سی پیک کا منصوبہ متنازع گلگت بلتستان سے گزرتا ہے، اس طرح کی باتیں ہیں امریکہ کو تحفظات ہیں لیکن جب تک امریکہ کی افغانستان سے جان نہیں چھوٹتی تب تک پاکستان کا حمایت اور تعاون امریکہ کو درکار ہے، پاکستان کو نظر انداز نہین کیا جا سکتا

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ امریکہ کے الیکشن نومبر میں ہو رہے ہیں کیا نومبر سے قبل افغانستان سے امریکہ کا مکمل انخلا ممکن ہے جس پر رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ امریکہ انتظامیہ کہہ چکی ہے کہ وہ کچھ فوجی رکھیں گے ، جو طالبان کے ساتھ دوحہ میں معاہدہ ہوا تھا اس میں بھی تحریر ہے کہ 14 ماہ میں فوج کی واپسی ہو گی، اگلے سال مئی تک چار پانچ ہزار فوجی رہیں گے،یہ طالبان نے مان لیا حالانکہ طالبان کا مطالبہ تھا کہ امریکی فوجیوں‌کو نکالا جائے، سب فریقوں نے کچھ کمپرومائیز کئے معاہدے میں ، طالبان نے مان لیا کہ براہ راست افغان حکومت سے معاہدے کریں گے، معاہدے میں افغان حکومت شامل نہیں تھی لیکن اس نے طالبان کے قیدی رہا کر دیئے،مذاکرات کے لئے جو وہ تیار ہوئے انکی نیت ہے کہ کچھ لے دے کر معاملات طے کریں، امریکہ کے صدارتی انتخاب پر بھی باتوں کا انحصار ہے کہ جنگ سے نکلنا چاہئے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ غیر مصدقہ خبر سنا رہا ہوں کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے جتنے کینٹینر براستہ لاہور واہگہ سے ہو کر انڈیا جا رہے ہیں، انکے اندر امریکہ اپنا اسلحہ ٹرانسپورٹ کر رہا ہے اور وہ انڈیا کو دے رہا ہے تا کہ انڈیا پاکستان اور چین کے خلاف استعمال کر سکے، کیا اس خبر میں کوئی صداقت ہے جس پر سینئر تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ امریکی اسلحہ بے تحاشا ہے اسکے فوجی اڈے بے شمار ہیں، 5 فوجی اڈوں کو فی الحال خالی کر رہا ہے، فوجیں باقی اڈوں میں جا رہی ہیں، جو بڑا فوجی اڈہ ہے اسکو بھی خالی کر رہے ہیں،ایران کے بارڈر کے قریب اسکو شاید ایران کی تسلی کے لئے، افغان حکومت کا مطالبہ تھا کہ اسلحہ انکو دیا جائے، چھوٹا اسلحہ افغان حکومت کو دیا جا رہا ہے،لیکن ہیوی اسلحہ اور طیارے امریکہ انکو نہیں دے گا، پاکستان کی بھی خواہش تھئ لیکن پاکستان کو بھی نہیں دے جا رہے، امریکہ کے کئی فوجی اڈے اس خطے میں موجود ہیں، بحرین، قطر و دیگر شہروں میں شاید وہاں اسلحہ منتقل کر دے، کینیٹر جو پاکستان سے جاتے ہیں قانونی طور پر انکی تلاشی ہونی چاہئے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ہے پاکستان نے بھارت کو الاؤ کیا ہے،انڈیا کی چیزیں واہگہ کے راستے چیزیں نہیں جا سکتیں بلکہ کراچی سے جا سکتی ہیں، یہ سیریس معاملہ ہے اسکو تو پاکستان کو دیکھنا چاہئے.

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ انڈیا کا کیا مستقبل دیکھتے ہین افغانستان کے حوالہ سے جس پر رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ انڈیا نے بڑی کوشش کی ہے کہ انڈیا نے بڑی کوشش کی ہے کہ افغانستان میں اسکی واپسی ہو، 1978 میں جب افغانستان میں کمیونسٹ آئے تو انڈیا نے اسکی حمایت کی تھی اور پاکستان نے مخالفت کی تھی، پاکستان نے افغان مجاہدین کو پناہ دی دیگرممالک نے بھی ساتھ دیا لیکن بھارت نے کمیونسٹوں کا ساتھ دیا، لیکن جب مجاہدین کی حکومت آئی تو انکے تعلقات انڈیا کے ساتھ بالکل نہیں تھے، اب بھارت کو یہ فکر ہے کہ امریکہ کی واپسی ہو گئی اور طالبان سیاسی نظام کا حصہ بن گئے، تو پاکستان کو کریڈٹ ملے گا جس کے لئے وہ تیار نہیں، انڈیا امریکی فوجی کی واپسی کے خلاف تھا، امریکہ نے معاہدہ کر لیا، افغان حکومت بات چیت کر رہی ہے، انڈیا نے مشکل سے حمایت کی لیکن موقع کی تلاش میں ہے، اس نے 3 ارب ڈالر خرچ کئے، ترقیاتی کام بھی کئے، افغان فوجیوں کو تربیت بھی بھارت میں ملتی ہے اسنے کافی کچھ کیا،تعلقات قریبی ہیں، پاکستان اور بھارت کے معاملات میں افغانستان غیر جانبدار نہیں ہے، سارک سمٹ جو اسلام آباد میں ہونی تھی پہلے انڈیا نے بائیکاٹ کیا پھر افغانستان نے بھی بائیکاٹ کیا جسکہ وجہ سے کانفرنس ملتوی ہوئی، انڈیا چاہے گا کہ پاکستان کو جو پہلے ایک اہمیت حاصل تھی افغانستان میں وہ نہ حاصل ہو ،اگر ایسا ہوا تو افغانستان میں انڈیا کا کردار کم ہو جائے گا، پاکستان کے پاس شواہد ہیں کہ بھارت کی را اور افغان کی این ڈی اے ملکر تحریک طالبان پاکستان، داعش کی حمایت کر رہے ہیں تا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے

    مبشر لقمان نے کہا کہ افغانستان سے امریکی فوجی مئی تک نکل جائے گی، افغان کا ہرہوائی اڈہ امریکہ کے پاس ہے کیا وہ خالی کرے گا، جس پر رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ معاہدے میں ہے کہ 5 اڈے خالی کرنے ہیں، اور اس میں فوجی اڈے شامل ہیں، بقیہ جو اڈے ہیں انکے بارے میں اگلے سال مئی میں جب سارے غیر ملکی فوجی نکل جائیں گے تو خالی کرنے پڑیں گے، طالبان نے کہا ہے کہ مئی کے بعد ایک بھی غیر ملکی فوجی نہیں رہے گا، پھر انکو جانا پڑے گا،ٹرمپ سمجھتا ہے کہ اس معاہدے سے الیکشن میں کوئی فائدہ ملتا ہے تو معاہدہ کیا، آگے جا کر کیا ہوتا ہے افغانستان میں امن قائم نہیں ہوا تو طالبان ہاوی ہوں گے، ممکن ہے کہ وہ یہ معاہدہ بھی ختم کر دیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ایک ناقابل اعتبار شخصیت ہے.

  • ملزم محمد نوازشریف کوہرصورت پاکستان واپس لایا جائے : اسلام آباد ہائی کورٹ کا سیکرٹری خارجہ کوحکم

    ملزم محمد نوازشریف کوہرصورت پاکستان واپس لایا جائے : اسلام آباد ہائی کورٹ کا سیکرٹری خارجہ کوحکم

    اسلام آباد :ملزم محمد نوازشریف کوہرصورت پاکستان واپس لایا جائے ، اسلام آباد ہائی کورٹ کا سیکرٹری خارجہ کوحکم،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار نے سابق وزیراعظم نوازشریف کےوارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ کو 22 ستمبر کو عدالت میں ان کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

    اسسٹنٹ رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری وارنٹ میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے 15 ستمبر کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر سماعت کےدوران ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

    سیکریٹری خارجہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ نواز شریف کی 22 ستمبر کو صبح 11 بجے عدالت میں حاضری یقینی بنانے کے لیے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے وارنٹ بھیجے جائیں اور نواز شریف کو عدالت کی جانب سے مقرر کردہ تاریخ میں پیش کیا جائے۔اسسٹنٹ رجسڑار کی جانب سے جاری حکم نامے میں خط بھی جاری کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری اور طلبی کےتمام حکم نامے بھی برطانیہ ارسال کردیے گئے ہیں، نوازشریف کےوارنٹ گرفتاری پارک لین لندن کے پتہ پرارسال کیے گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ 15 سمتبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔

    جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل عدالت کے دو رکنی بینچ نے نمائندے کے ذریعے اپیلوں کی پیروی کی درخواست بھی مسترد کی تھی۔

    قبل ازیں عدالت نے 10 ستمبر کو مقدمے کی سماعت کے دوران نواز شریف کو سرینڈر کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ دوسری عدالت میں انہیں مفرور قرار دیا گیا ہے جبکہ ان کی درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی گئی تھی۔

  • بھارت چین کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گا

    بھارت چین کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گا

    بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آج پھر ملک کو یقین دہانی کروائی کہ بھارت مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول پر شریک حیثیت بدلنے کی چین کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ کسی بھی قیمت پر ملک کی پیشانی نہیں جھکنے دی جائے گی۔ مشرقی لداخ کی صورتحال پر راجیہ سبھا میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کو سیاسی، سفارتی اور فوجی سطح پر بھارت کے موقف سے آگاہ کر دیا گیا ہے کہ بھارت تمام مسائل کو پرامن مذاکرات سے حل کرنے کاحامی ہے لیکن ایل اے سی پر شریک حیثیت کو بدلنے کی کسی بھی یکطرفہ کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
    انہوں نے کہا،’ ہم نے چین کو سفارتی اور فوجی چینل کے توسط سے آگاہ کروا دیا کہ چین کی سرگرمیاں شریک حیثیت کو یکطرفہ بدلنے کی کوشش ہیں۔ یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ یہ کوشش ہمیں کسی بھی طور منظور نہیں ہے‘۔

  • مشرق وسطیٰ میں نئی گیم شروع،پاکستان پربھی دباوبڑھ سکتا ہے ، مبشرلقمان

    مشرق وسطیٰ میں نئی گیم شروع،پاکستان پربھی دباوبڑھ سکتا ہے ، مبشرلقمان

    لاہور:مشرق وسطیٰ میں نئی گیم شروع،پاکستان پربھی دباوبڑھ سکتا ہے ،اطلاعات کےمطابق مشرق وسطیٰ اورجنوبی ایشیا کے امورکے ماہرتجزیہ نگار،معروف صحافی مبشرلقمان نے خبردارکرتے ہوئےکہا ہےکہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں بہت بڑی نئی گیم کھیلی جانے والی ہے اوراس گیم میں پاکستان پربھی بہت دباو بڑھ سکتا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ وہ اگلے چند دنوں میں مشرق وسطیٰ میں بہت تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس سارے کھیل کا چیمپین ہوگا

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس سارے کھیل میں پاکستان پربھی بہت زیادہ دباودیکھنے میں آرہا ہے وہ قوتیں جوپاکستان کے بہت قریب جانی جاتی ہیں ان کی طرف سے پاکستان پردباوبڑھایا جائے گا کہ وہ کھل کران کی حمایت میں آگے آئے

    مبشرلقمان کہتے ہین کہ وہ اب پاکستان کے نیوٹرکردارکوبدلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں‌ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ وقت پاکستان کے پالیسی سازاداروں کے لیے بھی بڑا مشکل ہوگا کہ وہ اس ساری کھیل میں پاکستان کو کیسے غیرجانبداررکھ سکتے ہیں‌

  • وزیراعظم عمران خان 25 ستمبر کوایک بارپھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب کریں گے

    وزیراعظم عمران خان 25 ستمبر کوایک بارپھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب کریں گے

    اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان 25 ستمبر کوایک بارپھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب کریں گے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ نے وزیراعظم کے خطاب کی ترتیب سےمتعلق پاکستان کو مطلع کردیا ہے، وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں دوپہر کے سیشن میں خطاب تیسرے نمبر پر ہوگا۔

    اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق 25 ستمبر کو پاکستانی وقت کے مطابق رات 11:45 پر وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ برس وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اٹھایا تھا اور اس بات بھی امکان ہے کہ ان کی تقریر میں مسئلہ کشمیر کو ہی مرکزیت حاصل ہوگی۔

    واضح رہے کہ کورونا وائرس کے باعث رواں سال اقوام متحدہ کی جنرل ا سمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے عالمی رہنما نیویارک میں جمع نہیں ہوں گے۔کورونا کے باعث جنرل ا سمبلی کے سالانہ اجلاس میں عالمی رہنما جمع نہیں ہوں گے

    اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق 193 ارکان پر مبنی جنرل اسمبلی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تمام رہنما اپنا ویڈیو بیان بھیجیں گے۔

    فیصلے کے مطابق تمام حکمران پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام بھیج سکتے ہیں جو کہ اجلاس کے دوران نیویارک میں موجود تمام ملکوں کے مندوبین کی جانب سے تعارف کے بعد پیش کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ پچھلے سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خاں کے خطاب کودنیا بھرمیں سراہا گیا تھا یہی وجہ ہے کہ اس بار بھی دنیا ان کے تاریخی خطاب کوسننے کےلیےبے تاب بیھٹی ہے

  • نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ،برطانوی ہائی کمیشن کے ذریعے تعمیل کا حکم

    نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ،برطانوی ہائی کمیشن کے ذریعے تعمیل کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری سیکرٹری خارجہ کو ارسال کر دیئے گئے

    دفترخارجہ کو برطانیہ میں ہائی کمیشن کے ذریعے وارنٹ کی تعمیل کا حکم دے دیا گیا،عدالت نے کہا کہ نوازشریف کی 22ستمبر اور دیگر تاریخوں پرحاضری یقینی بنائی جائے،وارنٹس اسسٹنٹ رجسٹرار کی جانب سے سیکرٹری خارجہ کو ارسال کیے گئے،جسٹس عامرفاروق کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نےناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیےتھے،ایون فیلڈاورالعزیزیہ ریفرنس میں سزاکیخلاف اپیلوں کی سماعت پرحاضری کیلیےوارنٹ جاری کیے گئے

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں،عدالت نے نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے،جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے نواز شریف کی درخواستیں مسترد کر دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حاضری سے استثنی اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں

    عدالت نے نواز شریف کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا.نوا زشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری 22 ستمبر کیلئےجاری کیےگئے، نوازشریف کو مفرور قرار دینےکی کارروائی شروع کر دی گئی نمائندے کے ذریعے پیروی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عدالت نے خواجہ حارث سے سوال پوچھ رکھا ہے، پہلے سن لیتے ہیں، خواجہ حارث کو دلائل دینے دیں کہ کیا اشتہاری ہوتے ہوئے نواز شریف کی اپیل سنی جا سکتی ہے؟اگر نواز شریف کی عدم حاضری پر اپیل سنی جا سکتی ہے تو پھر نیب کو بھی سن لیتے ہیں،

    جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ عدالت میں درخواست کیوں دائر کی گئی؟ ابھی توطے کرنا ہے کہ کیا نواز شریف کی درخواست سنی بھی جا سکتی ہے یا نہیں؟ پہلے نواز شریف کی حاضری سے استثنٰی کی درخواست پر سماعت کرتے ہیں، پریس میں ایک بات غلط رپورٹ ہوئی کہ اپیلوں پر سماعت کی بات کی گئی، ہم صرف نواز شریف کی متفرق درخواستوں پر سماعت کی بات کر رہے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں خواجہ حارث نے دوران سماعت مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا، خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو دوسری عدالت نے اشتہاری قرار دے دیا ہے،بغیر سنے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا گیا،خواجہ حارث نے سابق صدر پرویز مشرف کیس کا بھی حوالہ دیا، جس پر عدالت نے کہا کہ جب کوئی اشتہاری قرار دے دیا جائے تو کیا ضمانت منسوخی کی الگ ضرورت ہے، کیا اشتہاری قرار دینے والے ملزم کی درخواست سن سکتے ہیں؟

    نیب نے عدالت میں کہا کہ نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں ضمانت منسوخ کی جائے،نواز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست احتیاطی تدابیر کے طور پر دائر کی،جس پر عدالت نے کہا کہ پہلے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر سماعت کرتے ہیں، ابھی طے کرنا ہے کیا نواز شریف کی درخواست سنی جاسکتی ہے یا نہیں؟ ابھی نیب کی نواز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست التوا میں رکھ رہے ہیں،اگر نواز شریف کی درخواستیں قابل سماعت قرار دیں تو اس کو سنیں گے،

    نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد نواز شریف جیل میں تھے،اسی عدالت نے نواز شریف کو ضمانت دی تھی،اس وقت نواز شریف بیرون ملک علاج کے لئے گئے ہوئے ہیں، جب وہ پاکستان میں تھے تو عدالتوں میں پیش ہوتے رہے،

    خواجہ حارث نے کہا کہ سوال تھا کہ کیا مشرف اشتہاری ہوتے ہوئے کوئی درخواست دائر کر سکتےہیں؟ مشرف کیس میں سوال یہ تھا کیا اشتہاری اپنا وکیل مقرر کر سکتا ہے؟ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کی درخواستوں میں تو یہی لکھا ہوا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ میں العزیزیہ کیس میں استثنا نہیں مانگ رہا ہوں ،عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ کے دیے گئے حوالے یہاں قابل قبول ہیں؟یہاں تو ہم ایک کرمنل کیس سن رہے ہیں جس میں آپ استثنا مانگ رہے ہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ یہاں تو ہماری درخواست بھی پہلے دائرہوئی،وکیل بھی پہلے موجود ہے، سپریم کورٹ نے ایک کیس میں تو اشتہاری ہوتے ہوئے بھی مشرف کو سنا، جس پر عدالت نے کہا کہ اب وہ غیر معمولی حالات بتا دیں جو آپ سمجھتے ہیں، اس کیس میں لاگو ہوتے ہیں،

    خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مفرور ملزم کی درخواست کو مختلف وجوہات کی بنا پرسنا، نوازشریف کا کیس بھی اس سے ملتا جلتا ہے،نوازشریف نے بھی سزا کے بعد جیل میں قید کاٹی اور اپیل دائر کی، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ نے جس کیس کا حوالہ دیا اس میں تو ملزم جیل توڑ کر مفرور ہوا تھا،خواجہ حارث نے کہا کہ یہ تو زیادہ سنگین جرم تھا جس میں مفرور ملزم کی اپیل کا میرٹ پر فیصلہ کیا گیا،عدالت نے کہا کہ جہاں نیب لاء خاموش ہو وہاں ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوتا ہے

    جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ نے جن کیسسز کا حوالہ دیا وہ یہی کہتے ہیں کہ میرٹ پر چلنا ہے، اس عدالت نے میرٹ پر ہی چلنا ہے،

    خواجہ حارث نے کہا کہ بتانا چاہتا ہوں کہ نواز شریف فی الحال عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے،جس پر عدالت نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ اپیلوں پر سماعت ملتوی کر دی جائے، یا پھرنواز شریف کی غیر موجودگی میں ان پر سماعت کر لی جائے، خواجہ حارث نے کہا کہ میری عدالت سے یہی استدعا ہے، عدالت نے کہا کہ اگر ہم نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،

    نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہو گئے،ایڈیشنل پراسیکوٹر نیب جہانزیب بھروانہ کے دلائل شروع ہو گئے،ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالت نے نواز شریف کو سرنڈر کرنے کا حکم دیا،نواز شریف کی دائر درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت ختم ہو چکی ہے،یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ نواز شریف عدالت میں پیش نہیں ہوئے،

    نیب حکام نے عدالت میں کہا کہ نیب عدالتوں کے حوالے دیئے ہیں جن میں مفرور ملزم کی اپیلیں مسترد کر دی گئیں،قانون کے بھگوڑے کو ریلیف دینے سے انصاف کا نظام متاثر ہو گا،عدالت سرنڈر کرنے کا موقع فراہم کر چکی ہے، عدالت نے کہا کہ ابھی اس عدالت نے نواز شریف کو مفرور قرار نہیں دیا،خواجہ حارث کہہ رہے ہیں کہ فیصلہ میرٹ پر کر دیں نواز شریف پیش نہیں ہو رہے،نیب کا موقف ہے جب تک نواز شریف پیش نہیں ہو جاتے تب تک اپیلوں کو میرٹ پر سنا نہیں جا سکتا،اگر نواز شریف پیش نہیں ہوتے تو نیب کی فلیگ شپ ریفرنس کی اپیل کیسے سنیں گے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کیا نواز شریف کی غیر موجودگی میں نیب کی اپیل سنی جا سکتی ہے؟ پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ نیب کی اپیل پر نواز شریف کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا،عدالت نے کہا کہ العزیزیہ کیس میں مفرور قرار دینے کے بعد بھی نیب ایون فیلڈ میں ضمانت منسوخی چاہتا ہے،

    جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نواز شریف کو مفرور قرار دینے کی کارروائی شروع کر دیتے ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے مجھے پہلے سننے کی یقین دہانی کرائی تھی، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم آپ کی درخواستوں کو بعد میں سن لیں گے،عدالت کا ضمانت کا ایک فیصلہ ختم ہو چکا ہے یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، یہ پورے نظام انصاف پر سوال کھڑا کر دے گا،

    خواجہ حارث نے کہا کہ وجہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ نواز شریف کیوں پیش نہیں ہو سکے، عدالت نے کہا کہ ضمانت دی گئی جو ختم ہو چکی ہے اس عدالت کو کیا کرنا چاہیے، خواجہ حارث نے کہا کہ میں یہ مانتا ہوں کہ نواز شریف کو ضمانت دی گئی جو ختم ہو چکی ہے، نواز شریف لندن میں زیرعلاج ہیں اور وہ واپس آنے کی حالت میں نہیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو ضمانت دی لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالا،

    نیب کی نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت،عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کیوں نہیں کی؟ راجہ بشارت نے کیا اہم انکشاف

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    مریم نواز عدالت پہنچ گئی، بہارہ کہو میں کارکنان نے کیا استقبال

    عدالت پہنچنے پر مریم نواز نے کارکنان کے لئے جاری کیا حکم،ن لیگی رہنماؤں کو روک دیا گیا

    میری ضد ہو گی کہ نواز شریف یہ کام کریں، مریم نواز کی غیر رسمی گفتگو

    نواز شریف ضمانت پر نہیں، وکیل کا عدالت میں اعتراف،ہمیں سزا معطلی سے متعلق بتائیں، عدالت

    نواز شریف کے لندن ڈاکٹر کی رپورٹ باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

    جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پھر تو بہت آسان ہو جائے گا،کوئی بھی اپیل ہو اور کسی دوسری ہائیکورٹ سے آرڈر لے کر باہر چلا جائے، جس ہائیکورٹ میں اپیل چل رہی ہے وہ گورنن نہیں کریگی،کوئی دوسری ہائیکورٹ گورنن کرے گی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ نواز شریف کو عدالت نے بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی، نیب نے لاہور ہائی کورٹ کو نہیں بتایا کہ نواز شریف کی سزا مخصوص وقت کیلئے معطل ہے، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کوئی ای سی ایل کا آرڈر ایسا نہیں ہو سکتا نہ کوئی عدالت ایسا کر سکتی ہے،کیا ای سی ایل کا آرڈر اپیل کو سپرسیڈ کر سکتا ہے؟پنجاب حکومت نے نواز شریف کی ضمانت مسترد کی،نوازشریف نے فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا، اب جب ضمانت مسترد ہو چکی ہے تو اس عدالت نے کچھ تو کرنا ہے نا،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی واپسی سے متعلق معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے،ہمارے سامنے صرف ایک سوال ہے کہ ضمانت دی تھی جو ختم ہو گئی، اب ہم کیا کریں،

  • حالات وہاں تک مت لے جاو جہاں قوت برداشت  جواب دے جائے،مولانا فضل الرحمان

    حالات وہاں تک مت لے جاو جہاں قوت برداشت جواب دے جائے،مولانا فضل الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چترال میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان نے تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات وہاں تک مت لے جاو جہاں قوت برداشت جواب دے جائے

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم دوسروں پر رعب ڈالنا جانتے ہیں مگر کسی کا رعب قبول کرنا نہیں ایسے ماؤں کے گود میں پلے ہیں کہ وہاں خوف کی ہوا تک ہمیں نہیں پہنچی ہے،مجھے پھانسی کی سزا سنائی جائے تب بھی میں اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ ہمارے سامنے پھنے خان بن کر رعب کی زبان استعمال مت کرو

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں دھمکیاں مت دو، عرب کی زبان مت استعمال کرو، بہت ہو گیا، مزید ہم ناجائز بالا دستی کو قبول نہیں کر سکتے، ہم نے ملک کو انارکی سے بچایا ہے، ہم نے وطن عزیز کو خونریزی سے بچایا، ہم نےقومی یکجہتی کا درس دیا،پھر ایسے حالات پیدا کر دیئے جاتے ہیں، کون ذمہ دار ہے اسکا،کیا وجہ ہے کہ قانون موجود ہے ،آئین موجود ہے، کوئی شخص قانون ہاتھ میں لیتا ہے.فرض ہے کہ ریاست حرکت میں آئے اور اس ہاتھ کو توڑے لیکن یہاں پر ایک فرقے کے مقابلے میں دوسرے فرقے کو لاکر کھڑا کر دیا جاتا ہے، فرقوں کو لڑاؤ اور حکومت کرو، یہ فرعون کی طرز حکمرانی ہے،فرعون نے تسلط اختیار کیا تو زمین والوں‌ کو لڑایا، ایسا انگریز نے بھی کیا، ہماری تحریک اس طرز حکمرانی کا خاتمہ ہے، ہم آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں.

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں احتساب سے ڈرایا جارہا ھے۔انشاءاللہ ہم آپ کا احتساب کرینگے۔دھاندلیوں کی پیداوار حکومت آئین پاکستان کے تحفظ میں ناکام ہوئی ہے،امن چاہتے ہیں ہمیں دبایا نہیں جا سکتا،کسی سے دبنے والے نہیں،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ عجیب صورتحال پیدا ہو گئی ہے، بڑی جرت کے ساتھ ناموس رسالت پر حملہ کردو، عقیدہ ختم نبوت پر حملہ کر دو، ریاست خاموش اور پھر دنیا میں جا کر کہتے ہیں کہ ہمیں پاکستان میں مسائل ہیں، شہریت دو، باہر کی پناہ حاصل کرنے کی سہولت ہمارے حکمران مہیا کرتے ہیں، کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں ایک شخص نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں بازاری زبان استعمال کی، مجال ہے کسی نے کچھ کہا ہو۔ ایف آئی آر درج ہو چکا لیکن اسکو راستہ دے کر برطانیہ پہنچایا گیا، ایسی صورتحال میں آپ بتائیں، انکے بڑے کہتے ہیں کہ ہم نے اس کی تقریر پر پابندی لگائی تھی ، اجازت کس نے دی،

    پاکستان میں ہر کوئی اسرائیل کا سفیر بنا ہوا ہے،مولانا فضل الرحمان نے کیا پشاور میں اہم اعلان

    ن لیگ کی ناراض "مولانا ” کو ایک بار پھر منانے کی کوشش

    نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

    تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

    بلی بارگین کرنے والے کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہئے، نیب ترمیمی بل سینیٹ میں پیش

    نیب آرڈیننس میں ترامیم کے بعد نیا مسودہ تیار

    نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی مدت ختم، نیب کو پھر مل گئے وسیع اختیارات

    احسن اقبال کی گرفتاری، مریم اورنگزیب چیئرمین نیب پر برس پڑیں کہا جو "کرنا” ہے کر لو

    نواز شریف ایٹمی دھماکے کے مخالف تھے،میں ایٹمی دھماکوں کیلئے کس کو ملا تھا، شیخ رشید نے بتا دیا

    پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ کا امکان ؟ شیخ رشید نے کی پیشنگوئی

    شیخ رشید کا ٹویٹر اکاؤنٹ بنانے اور چلانے والا چل بسا

    کرونا سے صحتیابی کی بعد شیخ رشید نے دیا صدقہ،کہا حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں،ایک لاکھ نوکریوں کا بھی اعلان

    ریلوے ٹریک ڈیتھ ٹریک بن چکا، سیکرٹری ، سی ای او اور تمام ڈی ایس فارغ کرنا پڑیں گے، چیف جسٹس

    الیکشن سے پہلے جھاڑو پھر جائے گا،پاکستان بدلنے جا رہا ہے، شیخ رشید

    مریم نواز کی طرف سے ملاقات کی باضابطہ دعوت نہیں آئی،مولانا نے شکوہ کر ہی دیا

    پشاور میں جے یو آئی کی تاریخی کانفرنس، عوام کا جم غفیر،مولانا فضل الرحمان کا خصوصی خطاب