اسلام آباد: سزاپوری ہونے کے باوجود ہمارے 4 جاسوسوں کورہا نہیں کیا جارہا ،بھارت نے رہائی کیلیےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکردی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے فوجی عدالت سے سزا پانے والے 4 مجرمان کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔
اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے فوجی عدالت سے سزا پانے والے اپنے 4 مجرمان کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے، بھارتی ہائی کمیشن اور قیدیوں نے بیرسٹر ملک شاہ نواز نون کے ذریعے درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ بھارتی قیدی برچو، بنگ کمار، ستیش بھگ اور سونو سنگھ کو رہا کیا جائے۔
درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا کہ لاہور جیل میں قید 3 بھارتی مجرم اور کراچی جیل کے ایک مجرم کو پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گرد کاروائیوں پر سزا ہوئی ، جیل میں موجود بھارتی قیدی اپنی سزا پوری کر چکے،
بھارت کی طرف سے دائرکی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانونی طور پر ایسی کوئی وجہ نہیں کہ وہ جیل میں قید رہیں، سزا پوری کرنے کے بعد قیدیوں کو جیل میں رکھنا آئین پاکستان کے تحت دی جانے والے حقوق کی خلاف ورزی ہے، قیدیوں کو رہا کرکے واپس بھارت بھیجنے کی ہدایت کی جائے، اور قیدیوں کو ان کے ملک بھارت میں بھیجنے کے لئے انتظامات کرنے کا حکم دیا جائے۔
آصف زرداری کی مشکلات بڑھ گئیں، نیب نے بڑا حکم دے دیا
باغی ٹی وی : سابق صدر آصف زرداری کی مشکلات میں اضافہ، قومی احتساب بیورو نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں 8 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن سے متعلق ضمنی ریفرنس میں آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔
اسلام آباد سے جاری اعلامیے کے مطابق چیئرمین نیب نے آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری پر دستخط کر دیئے۔ نیب کا موقف ہے کہ آصف زرداری اربوں روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن کے کیس میں مطلوب ہیں، سابق صدر نے 8 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن کے ذریعے ذاتی گھر خریدا، نیب کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے سابق صدر کی ضمانت مسترد کرنے کی استدعا کی جائے گی۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں عدالت عالیہ کا دو رکنی بنچ آج 8 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن کیس میں آصف زرداری کی درخواست ضمانت پر سماعت کرے گا۔ عدالت نے آصف زرداری کو آج تک عبوری ضمانت دے رکھی ہے۔ عدالت نے آصف زرداری کے وکیل اور نیب سے دلائل طلب کر رکھے ہیں۔
واضح رہے کہ سال 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور بڑے بڑے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں، اس سلسلے میں ایف آئی اے نے ابتدائی طور پر معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد گزشتہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
کرونا سے مزید 13 افراد جاں بحق ، مجموعی تعداد 6ہزار 614 ہوگئی
باغی ٹی وی :کورونا وائرس سے 13 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 6 ہزار 614 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 3 لاکھ 21 ہزار 218 ہوگئی۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 756 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں ایک لاکھ ایک ہزار 237، سندھ میں ایک لاکھ 40 ہزار 997، خیبر پختونخوا میں 38 ہزار 464، بلوچستان میں 15 ہزار 599، گلگت بلتستان میں 3 ہزار 982، اسلام آباد میں 17 ہزار 681 جبکہ آزاد کشمیر میں 3 ہزار 258 کیسز رپورٹ ہوئے۔
اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 17 ہزار681 ہوگئی ہے۔ پنجاب ایک لاکھ ایک ہزار237، سندھ میں ایک لاکھ 40 ہزار997، خیبر پختونخوا میں 38 ہزار464، بلوچستان میں 15 ہزار599، گلگت بلتستان میں 3 ہزار 982 اور آزاد کشمیر میں3 ہزار258 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
پاکستان کے 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کےلیے سہولیات ہیں اور اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کیلئے وینٹی لیٹرزکی تعدادایک ہزار920 ہے۔حکومت کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کا گراف مسلسل نیچے آرہا ہے لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ جون کو سب سے زیادہ ایک سو تریپن اموات رپورٹ ہوئیں لیکن اب کورونا کا گراف تیزی سے نیچے آرہا ہے۔
پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروری کو رجسٹرڈ ہوا اور ایک ہزاراموات 21 مئی تک ہوئیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کیسز میں اضافے کی رفتار کافی سست ہوچکی ہے لیکن پھر بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر پر غداری کے مقدمے پر کشمیریوں کے کیا ہیں جذبات؟ ایاز صادق نے بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگی رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان میں کوئی آدمی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ وہ زیادہ پاکستانی ہے اور ہم کم ہیں، ہم غدار اور دوسرا پاک صاف ہے،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوال کیا کہ سی سی پی او لاہور نے تو مان لیا کہ غداری کا مقدمہ انکے علم میں تھا یا انکے کہنے پر کیا ہو گا، اسکا مطلب ہے کہ اب پولیس میں ایسی پوسٹنگز ہو رہی ہیں کہ آپ کو سبق سکھایا جائے،
جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جی سکھا لیں سبق، مشرف کے دور میں بھی سبق سکھایا گیا تھا اب مشرف کا نام کوئی نہیں لیتا،نواز شریف کو آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں، پولیس کا سسٹم آتا جاتا رہتا ہے، مجھے افسوس ہوا جب انہوں نے غداری کا کیس واپس لیا، میں بھی اس کیٹگری میں آگیا جس میں فاطمہ جناح کو غدار کہا گیا، غداری فخر کی بات تھی، پاکستان میں کوئی آدمی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ وہ زیادہ پاکستانی ہے اور ہم کم ہیں، ہم غدار اور دوسرا پاک صاف ہے،
ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہم کسی کو غدار نہیں کہتے لیکن یاد رکھیں تاریخ کیسے یاد رکھے گی، آزاد کشمیر کے وزیراعظم پر پرچہ کاٹنا ،عمران خان کے ہاتھوں سقوط کشمیر ہوا،انہوں نے پرچہ کاٹ کر انڈیا کو پیغام دیا کہ میں سٹنگ پرائم منسٹر پر پرچہ کروا سکتا ہوں ،آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی عمران خان کے خلاف نفرت بڑھی ہے، یہ برا میسج گیا ہے کشمیریوں کے لئے اور بھارت کو اچھا میسج کیا ، یہ وہی مودی ہے جس کے بارے میں عمران خان کہتے تھے کہ مودی الیکشن جیتے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا، کشمیریوں کو ڈی مورالائز کرنا انڈیا کا مشن ہے ہماری حکومت نے بھی کچھ نہیں کیا
حکومت نے اپوزیشن سے ہاتھ کر دیا،ایاز صادق بھی پھٹ پڑے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ن لیگ کے سینئر رہنما، سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ گوجرانوالہ جلسہ کی وجہ سے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، جمعہ کی شام کبھی پارلیمنٹ کا سیشن نہیں بلایا گیا
مبشر لقمان آفییشل یوٹیوب چینل پر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوال کیا کہ 16 اکتوبر کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلا لیا گیا وہ دھڑا دھڑ قانون سازی کر لیں گے ،جو انکو کرنی تھی، اور آپ لوگ تو یہاں پر ہوں گے،
جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک بوکھلاہٹ ہے، کبھی سیشن جمعہ کی شام کو نہیں بلایا گیا، جمعہ کی نماز سے پہلے سیشن ختم کر دیا جاتا ہے، ایک بجے جمعہ کی بریک ہوتی ہے، اسکے بعد ایم این ایز نے ہفتہ اتوار اپنے علاقوں میں گزارنا ہوتا ہے، 2002 سے لے کر 2020 تک کا جو میرا وقت ہے یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جمعہ کو ساڑھے چار بجے سیشن رکھا گیا، کر لیں جو کرنا ہے، اس دن ہم میدان جنگ میں ہوں گے، یہ حکومت کی طرف سے بلایا گیا سیشن ہے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کہ ہم نے طاہر القادری کا دھرنا دیکھا، پی پی کی حکومت کو کچھ نہیں ہوا،پی ٹی آئی کا دھرنا تھا میں خود بھی اس میں شامل تھا، ن لیگ کی حکومت کوکچھ نہیں ہوا، آپ کے دھرنے میں ایسا کیا ہو گا کہ حکومت خود گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گی جس کے جواب میں ایاز صادق کا کہنا تھا کہ میں نے کینٹینر پر کھڑے ہو کر خود دو دفعہ ترغیب دی تھی مولانا کے دھرنے کی، اگر انکو کمپیئر کریں باقی دھرنوں سے تو زمین آسمان کا فرق ہے، وہ جو دھرنا تھا اس میں آنکھوں میں چمکتے جذبات کینٹینر پر چڑھ کر نظر آتے تھے،وہ ڈیڑھ سو دو والا نہیں کہ رات گھر چلے جائیں اور صبح آ کر گانا بجانا شروع کر دیں،پارلیمنٹ لاجز سے ہمیں نظر آ جاتا تھا میں خود کئی بار وہاں گیا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے میں خالی کرسیاں ہوتی تھی، کبھی بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ تھے،جب قومی اسمبلی پر انہوں نے حملہ کیا تھا تب تھوڑے لوگ زیادہ تھے، جب میں نے ایف آئی آر کٹوائی تھی عمران خان اور طاہر القادری پر ،تب لوگ زیادہ تھے،
16 اکتوبر کو کیا ہو گا؟ جلسے کے لئے عوام میں کتنا جوش و خروش؟ ایاز صادق نے حقیقت بتا دی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کا 16 کو جلسہ ہے گوجرانوالہ میں، اس سے اپوزیشن کو کافی امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں، گوجرانوالہ ن لیگ کا گڑھ ہے وہاں بڑا جلسہ نہ ہونا انکے لئے خطرے کی علامت ہو گی، ن لیگ اس جلسے سے کیا کرنے جا رہی ہے؟ سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ہمارے پاس موجود ہیں
مبشر لقمان نے کہا کہ 16 کے جلسے کو کیسا دیکھ رہے ہیں جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ پر ہمارا مضبوط ہولڈ ہے، ہمارا خیال تھا کہ گوجرانوالہ کا جلسہ ہو جائے گا لیکن ہمارے لئے مشکل ہو رہی ہے حلقے کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے بھی جانا ہے، اراکین اسمبلی کے حلقوں سے لوگ رابطہ کر رہے ہیں، لوگوں کا خود کتنا انٹرسٹ ہے میں خود حیران ہوں ، یہ ہماری توقع سے بڑھ کر جلسہ ہو گا،اگر یہ جلسہ لاہور میں ہوتا تو شاید بڑا ہوتا میرا خیال یہ تھا لیکن اب لوگوں کے فون آ رہے ہیں کہ ہم کیسے جائیں، موٹر سائیکل پر یا گاڑی پر، پہلے بھی جلسے ہوتے رہے لیکن ایسا جوش پہلے کبھی نظر نہیں آیا، غیر سیاسی لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے ملک میں تباہی کر دی، مہنگائی ہو گئی ہے، ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے، برداشت سے باہر ہے، اگر یہ بے روزگار ہیں تو وہاں جا کر میلہ ہی دیکھ آئیں گے اس طرح کے بھی لوگوں کے کمنٹس ہیں، سپیشل برانچ والے آئے تھے آج، اس سے دو دن پہلے ریس کورس تھانے والے آئے تھے، وہ یہ پوچھتے ہیں کہ انکا یہی گھر ہے، گاڑی کا نمبر بتا دیں، ایسے سوال کر رہے ہیں کہ میں خود حیران ہوں، انکو یہ نہیں پتہ کہ سابق سپیکر کا گھر کونسا ہے تا باقیوں کا کیا پتہ ہے، آج صدر سے کچھ لوگوں کو اٹھایا ہے ، وہ اپنا کام کریں ہم اپنا کام کریں گے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ ایاز صاحب مجھے تھوڑی دیر پہلے پتہ چلا ہے کہ پہلی ایف آئی آرگوجرانوالہ میں کٹی ہے کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر حکومت یہ کر رہی ہے تو جلسے کی اجازت مل جائے گی، جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جلسے کی اجازت نہیں دیں گے تو سڑکوں پر جلسے کریں گے، جب یہ پنڈی میں اپنا جلسہ کر رہے تھے اسوقت کرونا یاد نہیں تھا، آج انہیں کرونا یاد آ گیا ،ان پر بھی تو پرچے کاٹیں، یہ ہتھکنڈے بوکھلاہٹ کے ہیں ،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر ایس او پیز دیکھا جائے تو مجھے پورے لاہور میں دکھا دیں کہ ایس او پیز کہاں فالو ہو رہا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پہلی دفعہ آج 15 ڈیتھ ہوئی ہیں، ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اب ٹیسٹنگ شروع کر دی ہے، کسی ہسپتال میں پہلے ٹیسٹنگ نہیں ہو رہی تھی، ڈاکٹر مریضوں کو پہلے ویسے ہی واپس بھیج رہے تھے ،اب ٹیسٹ ہو رہے ہیں تو سب سامنے آ رہا ہے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ پہلا جلسہ،دوسرا، تیسرا جلسہ، ان جلسوں کے بعد الٹی میٹ کیا ہو گا، جس کے جواب میں ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہمارا پی ڈی ایم کا جو الائنس بنا تھا اس میٹنگ میں تھا، ہماری سٹیرنگ کمیٹی میں بھی تھا، وہاں یہی بات بنی کہ ن لیگ کی موبلائزیشن کرنی ہے، ورکرز کنونشن کے بعد گوجرانوالہ،کراچی،کوئٹہ،پشاور جلسہ ہو گا، لاہور کے جلسہ کے بعد مارچ ہو گا، یہ بات یاد رکھیں کہ اگر انکا ایک کزن تھا تو ہمارے 11 کزن ہیں
سی پیک اتھارٹی اور عاصم باجوہ کے بارے میں ایاز صادق نے سب بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ سی پیک کے حوالہ سے آرڈیننس جون میں ختم ہو گیا ہے، جون کے بعد سے کسی کو تنخواہ نہیں ملی
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوال کیا کہ جنرل ر عاصم سلیم باجوہ پر وی لاگ کیا تھا، کہ سی پیک اتھارٹی کے حوالہ سے قانون سازی نہیں ہوئی، وہ چیئرمین سی پیک نہیں رہے،آپ سپیکر رہے ہیں اس معاملے کو کلیئر کر سکتے ہیں
جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہماری سی پیک کمیٹی کی ہفتہ پہلے میٹنگ ہوئی تھی، چیئرمین میٹنگ کو چیئر کر رہے تھے اور اس میٹنگ میں ایک سیکرٹری صاحب بیٹھے ہوئے تھے، میں نے سوال کیا کہ سی پیک سے کوئی آدمی میٹنگ میں ہے جس پر ان صاحب نے کہا کہ میں بیٹھا ہوں، میں نے سوال کیا کہ آپ کون ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں سیکرٹری ہوں،میں نے کہا کہ آپکو تنخواہ مل رہی جس پر انہوں نے کہا کہ نہیں مل رہی، میں نے کہا کہ آرڈیننس ختم ہو گیا،یہ میٹنگ غیر قانونی ہے، اگر آپ نے بیٹھنا ہے تو پیچھے بیٹھ جائیں وہ جا کر پیچھے بیٹھ گئے،
ایاز صادق کا مزید کہنا تھا کہ ہماری ان کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہیں، اس وقت کوئی سی پیک اتھارٹی اور چیئرمین نہیں، اگر جون کے بعد کی سیلری دیں گے تو قانون پر بات آئے گی کیونکہ وہ کام ہی نہیں کر رہے،یہ دیکھیں کہ اب اتنی بحث ہو گئی ہے کہ عاصم باجوہ کے بارے میں، انویسمنٹ انکی امریکہ میں ہے اور امریکہ چین کے تعلقات کشیدہ ہیں، انکو اس بحث سے نکلنا ہو گا، نیشنل انٹرسٹ کی خاطر اگر انہیں دوبارہ چیئرمین لگایا جاتا ہے تو یہ ہماری ریلیشن شپ کے لئے بہتر نہین ہو گا، میں وثوق سے بات کرتا ہوں، میری چینی سفیر اور عملے سے بات ہوتی رہتی ہے اگر وہ دوبارہ آئے تو یہ زیادتی ہو گی،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کا 16 کو جلسہ ہے گوجرانوالہ میں، اس سے اپوزیشن کو کافی امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں، گوجرانوالہ ن لیگ کا گڑھ ہے وہاں بڑا جلسہ نہ ہونا انکے لئے خطرے کی علامت ہو گی، ن لیگ اس جلسے سے کیا کرنے جا رہی ہے؟ سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ہمارے پاس موجود ہیں
مبشر لقمان نے کہا کہ 16 کے جلسے کو کیسا دیکھ رہے ہیں جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ پر ہمارا مضبوط ہولڈ ہے، ہمارا خیال تھا کہ گوجرانوالہ کا جلسہ ہو جائے گا لیکن ہمارے لئے مشکل ہو رہی ہے حلقے کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے بھی جانا ہے، اراکین اسمبلی کے حلقوں سے لوگ رابطہ کر رہے ہیں، لوگوں کا خود کتنا انٹرسٹ ہے میں خود حیران ہوں ، یہ ہماری توقع سے بڑھ کر جلسہ ہو گا،اگر یہ جلسہ لاہور میں ہوتا تو شاید بڑا ہوتا میرا خیال یہ تھا لیکن اب لوگوں کے فون آ رہے ہیں کہ ہم کیسے جائیں، موٹر سائیکل پر یا گاڑی پر، پہلے بھی جلسے ہوتے رہے لیکن ایسا جوش پہلے کبھی نظر نہیں آیا، غیر سیاسی لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے ملک میں تباہی کر دی، مہنگائی ہو گئی ہے، ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے، برداشت سے باہر ہے، اگر یہ بے روزگار ہیں تو وہاں جا کر میلہ ہی دیکھ آئیں گے اس طرح کے بھی لوگوں کے کمنٹس ہیں، سپیشل برانچ والے آئے تھے آج، اس سے دو دن پہلے ریس کورس تھانے والے آئے تھے، وہ یہ پوچھتے ہیں کہ انکا یہی گھر ہے، گاڑی کا نمبر بتا دیں، ایسے سوال کر رہے ہیں کہ میں خود حیران ہوں، انکو یہ نہیں پتہ کہ سابق سپیکر کا گھر کونسا ہے تا باقیوں کا کیا پتہ ہے، آج صدر سے کچھ لوگوں کو اٹھایا ہے ، وہ اپنا کام کریں ہم اپنا کام کریں گے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ ایاز صاحب مجھے تھوڑی دیر پہلے پتہ چلا ہے کہ پہلی ایف آئی آرگوجرانوالہ میں کٹی ہے کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر حکومت یہ کر رہی ہے تو جلسے کی اجازت مل جائے گی، جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جلسے کی اجازت نہیں دیں گے تو سڑکوں پر جلسے کریں گے، جب یہ پنڈی میں اپنا جلسہ کر رہے تھے اسوقت کرونا یاد نہیں تھا، آج انہیں کرونا یاد آ گیا ،ان پر بھی تو پرچے کاٹیں، یہ ہتھکنڈے بوکھلاہٹ کے ہیں ،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر ایس او پیز دیکھا جائے تو مجھے پورے لاہور میں دکھا دیں کہ ایس او پیز کہاں فالو ہو رہا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پہلی دفعہ آج 15 ڈیتھ ہوئی ہیں، ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اب ٹیسٹنگ شروع کر دی ہے، کسی ہسپتال میں پہلے ٹیسٹنگ نہیں ہو رہی تھی، ڈاکٹر مریضوں کو پہلے ویسے ہی واپس بھیج رہے تھے ،اب ٹیسٹ ہو رہے ہیں تو سب سامنے آ رہا ہے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ پہلا جلسہ،دوسرا، تیسرا جلسہ، ان جلسوں کے بعد الٹی میٹ کیا ہو گا، جس کے جواب میں ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہمارا پی ڈی ایم کا جو الائنس بنا تھا اس میٹنگ میں تھا، ہماری سٹیرنگ کمیٹی میں بھی تھا، وہاں یہی بات بنی کہ ن لیگ کی موبلائزیشن کرنی ہے، ورکرز کنونشن کے بعد گوجرانوالہ،کراچی،کوئٹہ،پشاور جلسہ ہو گا، لاہور کے جلسہ کے بعد مارچ ہو گا، یہ بات یاد رکھیں کہ اگر انکا ایک کزن تھا تو ہمارے 11 کزن ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہم نے طاہر القادری کا دھرنا دیکھا، پی پی کی حکومت کو کچھ نہیں ہوا،پی ٹی آئی کا دھرنا تھا میں خود بھی اس میں شامل تھا، ن لیگ کی حکومت کوکچھ نہیں ہوا، آپ کے دھرنے میں ایسا کیا ہو گا کہ حکومت خود گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گی جس کے جواب میں ایاز صادق کا کہنا تھا کہ میں نے کینٹینر پر کھڑے ہو کر خود دو دفعہ ترغیب دی تھی مولانا کے دھرنے کی، اگر انکو کمپیئر کریں باقی دھرنوں سے تو زمین آسمان کا فرق ہے، وہ جو دھرنا تھا اس میں آنکھوں میں چمکتے جذبات کینٹینر پر چڑھ کر نظر آتے تھے،وہ ڈیڑھ سو دو والا نہیں کہ رات گھر چلے جائیں اور صبح آ کر گانا بجانا شروع کر دیں،پارلیمنٹ لاجز سے ہمیں نظر آ جاتا تھا میں خود کئی بار وہاں گیا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے میں خالی کرسیاں ہوتی تھی، کبھی بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ تھے،جب قومی اسمبلی پر انہوں نے حملہ کیا تھا تب تھوڑے لوگ زیادہ تھے، جب میں نے ایف آئی آر کٹوائی تھی عمران خان اور طاہر القادری پر ،تب لوگ زیادہ تھے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ 16 کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلا لیا گیا وہ دھڑا دھڑ قانون سازی کر لیں گے ،جو انکو کرنی تھی، اور آپ لوگ تو یہاں پر ہوں گے، جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک بوکھلاہٹ ہے، کبھی سیشن جمعہ کی شام کو نہیں بلایا گیا، جمعہ کی نماز سے پہلے سیشن ختم کر دیا جاتا ہے، ایک بجے جمعہ کی بریک ہوتی ہے، اسکے بعد ایم این ایز نے ہفتہ اتوار اپنے علاقوں میں گزارنا ہوتا ہے، 2002 سے لے کر 2020 تک کا جو میرا وقت ہے یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جمعہ کو ساڑھے چار بجے سیشن رکھا گیا، کر لیں جو کرنا ہے، اس دن ہم میدان جنگ میں ہوں گے، یہ حکومت کی طرف سے بلایا گیا سیشن ہے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ سی سی پی او لاہور نے تو مان لیا کہ غداری کا مقدمہ انکے علم میں تھا یا انکے کہنے پر کیا ہو گا، اسکا مطلب ہے کہ اب پولیس میں ایسی پوسٹنگز ہو رہی ہیں کہ آپ کو سبق سکھایا جائے،جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جی سکھا لیں سبق، مشرف کے دور میں بھی سبق سکھایا گیا تھا اب مشرف کا نام کوئی نہیں لیتا،نواز شریف کو آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں، پولیس کا سسٹم آتا جاتا رہتا ہے، مجھے افسوس ہوا جب انہوں نے غداری کا کیس واپس لیا، میں بھی اس کیٹگری میں آگیا جس میں فاطمہ جناح کو غدار کہا گیا، غداری فخر کی بات تھی، پاکستان میں کوئی آدمی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ وہ زیادہ پاکستانی ہے اور ہم کم ہیں، ہم غدار اور دوسرا پاک صاف ہے، ہم کسی کو غدار نہیں کہتے لیکن یاد رکھیں تاریخ کیسے یاد رکھے گی، آزاد کشمیر کے وزیراعظم پر پرچہ کاٹنا ،عمران خان کے ہاتھوں سقوط کشمیر ہوا،انہوں نے پرچہ کاٹ کر انڈیا کو پیغام دیا کہ میں سٹنگ پرائم منسٹر پر پرچہ کروا سکتا ہوں ،آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی عمران خان کے خلاف نفرت بڑھی ہے، یہ برا میسج گیا ہے کشمیریوں کے لئے اور بھارت کو اچھا میسج کیا ، یہ وہی مودی ہے جس کے بارے میں عمران خان کہتے تھے کہ مودی الیکشن جیتے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا، کشمیریوں کو ڈی مورالائز کرنا انڈیا کا مشن ہے ہماری حکومت نے بھی کچھ نہیں کیا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تین دن پہلے جنرل باجوہ کی سٹیٹمنٹ آئی کہ ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں تو ایسا جب تک حکومت اور آرمی ایک پیج پر ہیں ان جلسوں سے حکومت کتنا کمزور ہو گی،جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اگر وہ پولیٹکلی کھڑے ہیں تو ہمیں کہیں کہ ہم پولیٹکلی ہیں تب تو بات ہے، یہ ہر فوجی چیف کہے گا کہ ہم پاکستان اور حکومت کے ساتھ ہیں، یہ انکی ذمہ داری ہے،مگر اگر وہ یہ کہیں کہ ہم پولیٹکلی ساتھ کھڑے ہیں یہ الارمنگ ہے، انکا میسج نئی چیز نہیں تھی، روٹین کی تقریر تھی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جنرل ر عاصم سلیم باجوہ پر وی لاگ کیا تھا، قانون سازی نہیں ہوئی، وہ چیئرمین سی پیک نہیں رہے،آپ سپیکر رہے ہیں اس معاملے کو کلیئر کر سکتے ہیں جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ہماری سی پیک کمیٹی کی ہفتہ پہلے میٹنگ ہوئی تھی، چیئرمین میٹنگ کو چیئر کر رہے تھے اور اس میٹنگ میں ایک سیکرٹری صاحب بیٹھے ہوئے تھے، میں نے سوال کیا کہ سی پیک سے کوئی آدمی میٹنگ میں ہے جس پر ان صاحب نے کہا کہ میں بیٹھا ہوں، میں نے سوال کیا کہ آپ کون ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں سیکرٹری ہوں،میں نے کہا کہ آپکو تنخواہ مل رہی جس پر انہوں نے کہا کہ نہیں مل رہی، میں نے کہا کہ آرڈیننس ختم ہو گیا،یہ میٹنگ غیر قانونی ہے، اگر آپ نے بیٹھنا ہے تو پیچھے بیٹھ جائیں وہ جا کر پیچھے بیٹھ گئے، ہماری ان کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہیں، اس وقت کوئی سی پیک اتھارٹی اور چیئرمین نہیں، اگر جون کے بعد کی سیلری دیں گے تو قانون پر بات آئے گی کیونکہ وہ کام ہی نہیں کر رہے،یہ دیکھیں کہ اب اتنی بحث ہو گئی ہے کہ عاصم باجوہ کے بارے میں، انویسمنٹ انکی امریکہ میں ہے اور امریکہ چین کے تعلقات کشیدہ ہیں، انکو اس بحث سے نکلنا ہو گا، نیشنل انٹرسٹ کی خاطر اگر انہیں دوبارہ چیئرمین لگایا جاتا ہے تو یہ ہماری ریلیشن شپ کے لئے بہتر نہین ہو گا، میں وثوق سے بات کرتا ہوں، میری چینی سفیر اور عملے سے بات ہوتی رہتی ہے اگر وہ دوبارہ آئے تو یہ زیادتی ہو گی،
مبشر لقمان نے کہا کہ اگر آپ کو کوئی عمران خان کو کوئی میسج دینا ہو کہ نظام کو بچائیں تو وہ میسج کیا ہو گا، جس پر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ میں عمران خان کو میسج نہیں دوں گا، عمران خان اگر سوچتے ہیں کہ لوگوں کو گالم گلوچ کر کے، جھوٹے الزامات لگا کر اپوزیشن ختم کر دیں گے، وہ نیک پاک ہیں، انکو چینی کا سیکنڈل، آٹے، دوائیوں، بی آر ٹی، مالم جبہ کا سیکنڈل نظر نہیں آتا، جس دن وہ گورنمنٹ بن جائیں گے وہ اپوزیشن سے نہیں نکل سکیں گے،حکومت اور اپوزیشن دو پہئے ہوتے ہیں انکو ساتھ ساتھ چلنا ہوتا ہے، دنیا میں اپوزیشن کا ایک رول ہوتا ہے، شاید انہوں نے حکومت کبھی چلائی ہی نہیں، انہوں نے یونین کونسل نہیں چلائی، کمیٹی کی میٹنگ کبھی اٹینڈ نہیں کی اسوجہ سے انکی حکومت کا یہ حال ہے، اگر اپوزیشن کو عزت دیتے تو عزت مل جاتی ، انکے خمیر میں ہی نہیں کسی کو عزت دینا، وہ قریبی ساتھی کے ساتھ جو کر رہے ہیں،اور کرنے والے ہیں سب کو پتہ ہے، انکو گورنمنٹ میں رہنا چاہئے تھا لیکن وہ اپوزیشن وارڈ میں چل رہے ہیں، جو انکے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں.
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک سے کوئی پریشان نہیں اور حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپوزیشن سے مفاہمت نہیں ہو گی۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمان کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران ملکی تازہ سیاسی صورت حال اپوزیشن کی تحریک اور مہنگائی پر مشاورت کی گئی۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے حکومتی ترجمانوں کو 2017ء میں این اے 120 ضمنی انتخاب میں اڑھائی ارب روپے کے خرچ کے معاملے کو منظر عام پر لانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سابق خاتون اوّل کلثوم نواز کی کامیابی کےلئے اڑھائی ارب روپے کے فنڈز خرچ کئے گئے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے دوران ترجمانوں نے مہنگائی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ وزیراعظم کی جانب سے مہنگائی پر ترجمانوں کو بریفنگ دی گئی۔اجلاس کے دوران خاطب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے خاتمےکےلئے اقدامات لئے جارہے ہیں۔ مہنگائی پر جلد قابو پا لیا جائیگا۔ اشیائے خردونوش کی دستیابی کو یقینی بنانے کےلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی جلد کم کرلیں گے۔ مہنگائی زخیرہ اندوزی بلیک کی نشاندہی کےلئے ٹائیگر فورس کو استعمال کر رہے ہیں۔ پوری توجہ مہنگائی میں کمی اور معیشت کی بہتری پر مرکوز کر دی ہے۔ کنزیومر پروٹیکشن کے معاملات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
بلوچستان میں کوہلو لیویز کیو آر ایف کی کارروائی کے نتیجے میں مبینہ طور پر بھارتی دہشت گردی کی بڑی کارروائی کو ناکام بنا دیا گیا۔ ریجنل ٹیلی گراف کو دستیاب معلومات کے مطابق کیو آر ایف نے سوراب نالہ تحصیل کاہان میں دہشت گردوں کے کمپاؤنڈپر کارروائی کی اور بھاری تعداد میں گولہ بارود و دھماکہ خیز مواد برآمد کر کے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ اس موقع پر رسالدار میجر شیر محمد مری نے لیویز لائن میں پریس کانفرنس کرتے ھوئے کہا کہ کاروائی میں1ائی-ای-ڈی 3عدد، 2اے-ٹی-ایم 7عدد، 3اے-پی-ایم 7عدد، 4ڈور ہینڈ گرنیڈ ، عدد، 538مارٹر گولے 140عدد،م 638مارٹر فرنٹ فیوز 106عدد، 738 مارٹر بیک فیوز 86عدد، 8اے-جی-ایس 17(گرنیڈ) 354عدد دوران کاروائی دہشت گردوں کے ٹھکانے سے انڈین اور روسی ساخت کا اسلحہ برآمد کر لیے ۔ کاروائی میں 60 سے زیادہ اہلکاروں نے حصہ لیا۔