Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • میرا خواب ہے آئندہ ورلڈ کپ میں پاکستان کا ٹیلنٹ نظر آئے،وزیراعظم

    میرا خواب ہے آئندہ ورلڈ کپ میں پاکستان کا ٹیلنٹ نظر آئے،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آبادمیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے تقریب ہوئی

    پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ٹی وی میں تین سال کا معاہدہ طے پا گیا، پہلی اسائمنٹ نیشنل ٹی ٹونٹی کپ ہوگی، ڈومیسٹک کرکٹ کے نشریاتی حقوق کے معاہدے پر دستخط ہوئے،ڈومیسٹک کرکٹ کے نشریاتی حقوق کے 3سالہ معاہدے پر دستخط ہوئے ،معاہدے سے پی سی بی کو 200 ملین امریکی ڈالر کی آمدن متوقع ہے،

    تیس ستمبر سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ کی پراڈکشن پی سی بی اور براڈکاسٹنگ پی ٹی وی کرے گا،چیئرمین پی سی بی کا کہنا ہے کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے پر پی ٹی وی اور آئی میڈیا کیمونیکشن سروسز کو مبارکباد پیش کرتے ہیں،یہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی براڈکاسٹنگ ڈیل ہے، تین سالہ معاہدے سے پاکستان کی کرکٹ پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے،پی سی بی آئندہ تین سال میں قومی مینز اور ویمنز کرکٹ کے فروغ پر 15 بلین روپے خرچ کرے گا، یہ رقم ہائی پرفارمنس سنٹرز میں سابق کرکٹرز کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی خرچ ہوگی،

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے نشریاتی حقوق کے معاہدے پر دستخط اہم پیش رفت ہے،نشریاتی حقوق کے معاہدےسے کرکٹ کوفروغ ملے گا،ہمارے ملک میں جتنا ٹیلنٹ ہے دنیا میں اور جگہ نہیں ،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے کرکٹ کا ڈھانچہ تبدیل کیا تو ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا،ماضی میں کرکٹ انتظامیہ میں من پسند افراد کوجگہ دی گئی ،کھلاڑیوں کو بہترین بنانے کے لیے نظام کا مضبوط ہونا ضروری ہے، چیئرمین کرکٹ بورڈ نے کرکٹ نشریاتی حقوق کےمعاہدے کے لیے کام کیا،ایک وقت تھا جب سرکاری ٹی وی سب دیکھتے تھے ، ہم نےبہتر معیار پر آنا ہوگا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اداروں میں سفارش پرلوگوں کو بھرتی کرنا نظام کوکمزور کردیتا ہے ،میرا خواب ہے آئندہ ورلڈ کپ میں پاکستان کا ٹیلنٹ نظر آئے ،ہمیں ٹیلنٹ کو نکھارنےکرنے کی ضرورت ہے، آسٹریلیا کی ٹیم میں میرٹ ہے اس لیے وہ دنیا پر راج کر رہےہیں، سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ٹیلنٹ اوپرنہیں آرہا تھا،

    تین سالہ براڈکاسٹ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا اہم کردار رہا،احسان مانی گزشتہ 4 ماہ سے اس ڈیل پر کام کر رہے تھے ،احسان مانی اس سے قبل آئی سی سی اور پی سی بی کو منافع بخش براڈکاسٹ ڈیل کرانے میں شہرت رکھتے ہیں،اس معاہدے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کا بھارتی براڈکاسٹرز پر انحصار ختم ہوجائے گا،گزشتہ تین سالہ براڈکاسٹ ڈیل سے پی سی بی کو 60 ملین امریکی ڈالر کی آمدن ہوئی تھی

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،اپوزیشن بھی متحرک، اراکین کو ہدایات جاری،حکومت کا بھی بڑا فیصلہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،اپوزیشن بھی متحرک، اراکین کو ہدایات جاری،حکومت کا بھی بڑا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل اپوزیشن جماعتیں بھی متحرک ہو گئیں

    اپوزیشن جماعتوں کا اہم اجلاس ہوا،جس میں پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس میں ن لیگ اورپیپلزپارٹی کی تمام اراکین کوحاضری یقینی بنانےکی ہدایت کی گئی،ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے جے یو آئی ف سے بھی رابطہ کیا.

    مولانا اسعد محمود کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو اپنے موقف پر قائل کریں گے،موجودہ حکومت کے پاس قانون سازی کا کوئی اختیار نہیں،پارلیمنٹ میں اکثریت جعلی ہےحکومت کے پاس قانون سازی کا مینڈیٹ نہیں،

    دوسری جانب حکومتی اوراتحادی جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کااجلاس آج ہوگا، وزیراعظم عمران خان اجلاس کی زیرصدارت کریں گے، اجلاس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے متعلق مشاورت ہوگی اور ایف اے ٹی ایف سےمتعلق بلوں کی منظوری کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تمام ارکان کو اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاوس میں ہو گا، صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 کی شق 1 کے تحت طلب کیا ہے۔ اجلاس میں صدر، وزیر اعظم کی تنخواہوں اور مراعات کے دو ترمیمی بل بھی پیش کئے جائیں گے، مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق اہم قانون سازی بھی ہو گی۔

    اپوزیشن کی جانب سے اس بل کے تحت منی لانڈرنگ کی روک تھام کے حوالے سے نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کی تشکیل پر اعتراض اٹھایا گیا تھا کیونکہ اس مجوزہ کمیٹی میں مختلف اداروں کی طرح قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کو بھی شامل کیا جانا ہے۔

    اپوزیشن نے چیئرمین نیب کی کمیٹی میں شمولیت کو غیر ضروری اور غیر متعلقہ قرار دیتے ہوئے سینیٹ میں اس بل کی مخالفت کی تھی۔ منی لانڈرنگ کے الزام میں کسی شخص کو 60 روز تک حراست میں رکھنے کی اجازت ہوگی، تفتیش مکمل کرنے کے لئے جس میں مزید 60 روز کی توسیع کی جا سکے گا۔

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    اپوزیشن کو وارنٹ یاعدالتی اجازت کے بغیر صرف منی لانڈرنگ کے الزام پر گرفتاری کے اختیار پر اعتراض ہے، اپوزیشن کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ کے الزام میں بغیر وارنٹ گرفتاری فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا تقاضا نہیں ہے، جبکہ حکومتی موقف ہے کہ انسداد منی لانڈرنگ دوسرے ترمیمی بل میں شامل تمام شقیں ایف اے ٹی ایف کا تقاضا ہیںم

    اسلام آباد سے سینئر صحافی ارشد وحید چوھدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں اگر اپوزیشن کے تمام ارکان شریک نہ ہوئے تو حکومت اپنے بلز منظور کرا لے گی کیونکہ اپوزیشن کو مشترکہ اجلاس میں صرف 11 ارکان لی برتری حاصل ہے ، اب دیکھنا ہے کہ اپوزیشن کس حد تک اپنے ارکان کو اجلاس کے لئے اکھٹا کر پائے گی

    حکومت کو بڑا دھچکا،قومی اسمبلی سے منظور کردہ انسداد دہشت گردی تیسرا ترمیمی بل سینیٹ سے مسترد

  • حکومت کو بڑا دھچکا،قومی اسمبلی سے منظور کردہ انسداد دہشت گردی تیسرا ترمیمی بل سینیٹ سے مسترد

    حکومت کو بڑا دھچکا،قومی اسمبلی سے منظور کردہ انسداد دہشت گردی تیسرا ترمیمی بل سینیٹ سے مسترد

    حکومت کو بڑا دھچکا،قومی اسمبلی سے منظور کردہ انسداد دہشت گردی تیسرا ترمیمی بل سینیٹ سے مسترد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا

    سینیٹ اجلاس میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل مسترد کر دیا گیا،سینیٹ اجلاس میں انسداددہشتگردی ترمیمی بل کے حق میں 31 مخالفت میں 34 ووٹ پڑے،سینیٹ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل 2020 پیش کرنے کی تحریک پیش کی گئی، تحریک سینیٹر سجاد طوری کی جانب سے سینیٹ میں پیش کی گئی،ایوان کی جانب سے تحریک پیش کرنے کی منظوری دے دی گئی،انسداد دہشت گردی ایکٹ تیسرا ترمیمی بل مسترد کر دیا گیا

    گزشتہ روز قومی اسمبلی سے منظور کردہ انسداد دہشت گردی تیسرا ترمیمی بل سینیٹ میں اپوزیشن نے عددی برتری سے مسترد کر دیا،گزشتہ روز قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دی تھی،۔یہ بل فہیم خان کی جانب سے پیش کیا گیا جس کا مقصد دہشت گردی میں مالی معاونت کی روک تھام کرناہے۔

    گزشتہ روز فوجداری قانون کا ترمیمی بل2020 بھی ایوان میں پیش کیا گیا’ یہ بل امجد علی خان کی جانب سے پیش کیا گیا جس میں پاکستان کی مسلح افواج یا اس کے کسی اہلکار کی دانستہ طور پر تضحیک یا بدنام کرنے پر سزا دینے کے لئے پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ فوجداری میں ترامیم کی تجاویز دی گئی ہیں۔ایسے جرم کے مرتکب شخص کو دو سال کی قید یا پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا جاسکے گا۔اس ترمیم کا مقصد مسلح افواج کے خلاف نفرت اور عدم احترام کے رویوں کو روکنا ہے۔

    چیئرمین نیب استعفیٰ دیں اور گھر جائیں، فیس نہیں کیس دیکھنے کا مذاق بند ہونا چاہئے، بلاول

    نواز شریف کے ساتھ کتنے میں ڈیل ہوئی؟ مریم نواز کو جانے دیا جائیگا یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    نواز شریف کی طبیعت کیسی؟ کہاں سے علاج کروانا چاہتے ہیں، مریم نے اظہار کر دیا

    حریم شاہ باز نہ آئی، وفاقی وزیر کی ویڈیو لیک کرکے شرمناک الزامات عائد کر دیئے

    سینیٹ میں مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کا پیش کردہ کوآپریٹو سوسائٹیز ترمیمی بل منظورکر لیا گیا،بل کے مطابق رجسٹرار متعلقہ حکام کی درخواست پرسوسائٹی کےبینیفشل اونر،ممبران،افسران کی معلومات دےگا،رجسٹرارممبران سوسائٹی کے اثاثوں کی تفصیلات،ایڈریس متعلقہ حکام کو دے گا،رجسٹرارسوسائٹی کی املاک اورمالی صورتحال کی معلومات متعلقہ حکام کودے گا،قانون بننے کے 3 ماہ کے اندر سوسائٹی رجسٹرارکو بینفشل مالکان کی معلومات دے گی،

    بل کے مطابق اگرسوسائٹی معلومات فراہم نہیں کرے گی تو اس کی رجسٹریشن منسوخ کردی جائے گی،رجسٹراران سوسائٹیز کا رکارڈ 5 سال تک رکھے گا جن کی رجسٹریشن منسوخ ہوگی، کوئی سوسائٹی شیئر، شیئر وارنٹ، قرضہ کو الاٹ، جاری، فروخت یا تفویض نہیں کرےگی،قانون کی خلاف ورزی کرنے والی سوسائٹی، رکن افسر کو 10 لاکھ روپےجرمانہ ہوگا ،کو آپریٹوسوسائٹی کےرکن،ملازم،افسریا سیکرٹری کوفراڈ یا کرپشن پر5 سال تک قید،20لاکھ تک جرمانہ ہوگا،سوسائٹی فراڈ یا کرپشن میں ملوث ہوئی تواس پرسرمائے کا ایک چوتھائی یا1کروڑ روپےجرمانہ ہوگا

  • کینسر کا مریض ہوں، مجھے علاج کے لیے بیرون ملک جانا پڑتا ہے،شہباز شریف، ضمانت میں ہوئی توسیع

    کینسر کا مریض ہوں، مجھے علاج کے لیے بیرون ملک جانا پڑتا ہے،شہباز شریف، ضمانت میں ہوئی توسیع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں منی لانڈنگ کیس میں شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 21 ستمبر تک توسیع کر دی،عدالت نے کہا کہ پہلے بھی متعدد بار التوا کی درخواست منظور کر چکے ہیں ،زیادہ لمبی تاریخ نہیں دے سکتے،

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیب میں پیش ہوا تو مجھے کہا گیاکہ تفتیش مکمل ہو گئی ہے، میں خود پاکستان آیا ہوں،اپوزیشن کا لیڈر ہوں،ان کو مجھ سے پوچھنا ہے پوچھ لیں، کینسر کا مریض ہوں، مجھے علاج کے لیے بیرون ملک جانا پڑتا ہے،سماج کی بھلائی کے لیے 1988میں سیاست میں قدم رکھا،نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے، نیب انکوائری کے دوران اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا،

    قبل ازیں احتساب عدالت لاہور نے منی لانڈرنگ ریفرنس کا گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا،عدالت نے سلمان شہباز اور ہارون یوسف کے دوبارہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے،عدالت نے وزارت خارجہ سے سلمان شہباز اور ہارون یوسف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر رپورٹ طلب کر لی

    تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ نصرت شہباز اور رابعہ عمران کو طلبی کے نوٹس بھجوائے گئے تعمیل کنندہ کی رپورٹ کے مطابق دونوں خواتین بیرون ملک فرار ہوگئیں ،عدالت نصرت شہباز اور رابعہ عمران کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتی ہے ،عدالت نے دونوں خواتین کے ایک لاکھ مچلکوں کے عوض وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دیا

    جوریہ علی نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی ،جوریہ علی نے کورونا ٹیسٹ کے لیے سمپل لیبارٹری بھیج دیا ہے،جوریہ علی کی حاضری سے استثنیٰ کی ایک دن کی درخواست منظور کی جاتی ہے، جیل ڈاکٹر امجد علی کے مطابق حمزہ شہباز کو کورونا ہوچکا ہے،احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کیا

    منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کا مؤقف ہے کہ نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے اور موجودہ حکومت کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کی ہے۔ انکوائری میں نیب کی جانب سے لگائے گئے الزامات عمومی نوعیت کے ہیں۔

    پانچ کمپنیوں میں 19 کروڑ کی منتقلی،حمزہ شہباز نیب کو مطمئن نہ کر سکے

    شہباز شریف کو لائف ٹائم ایوارڈ برائے کرپشن دیا جائے: شہباز گل

    حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کے خلاف درخواست دائر

    شہبازشریف فیملی کیخلاف منی لانڈرنگ ریفرنس،نیب کی خصوصی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل

    شہباز صاحب،جو آپ نے خدمت کی اس کا صلہ اللہ سے مانگیں،آپکا موقف سنیں گے،عدالت

    شہباز شریف بیٹی کے ہمراہ عدالت میں پیش، حمزہ شہباز جیل میں ہوئے بیمار

    جج صاحب،میں آج عدالت میں یہ چیز لے کر آیا ہوں،عدالت نے شہباز شریف کو دیا کھرا جواب

    نیب کا مؤقف ہے کہ شریف فیملی کی منی لانڈرنگ اور بے نامی کمپنیاں’ پچپن کے‘ نامی دفتر سے چلتی تھیں۔ نیب کے مطابق 2008 سے 2018 تک شہباز شریف خاندان کے چار ارکین کے اثاثوں میں چار سو پچاس فیصد جبکہ صرف سلمان شہباز کے اثاثوں میں نو سو فیصد اضافہ ہوا۔ 2009 میں شریف فیملی کے اثاثے اڑسٹھ کروڑ، تینتیس لاکھ سینتیس ہزار تھی جبکہ 2018 تک اثاثوں کی مالیت تین ارب اڑسٹھ کروڑ پندرہ ہزار روپے تک پہنچ چکی تھی۔

    دستاویزات کے مطابق 2008 میں سلمان شہباز کے کل اثاثوں کی مالیت اٹھائیس کروڑ چوبیس لاکھ روپے تھی جو نو سو فیصد اضافے کے بعد 2018میں دو ارب چونتیس کروڑ چھیانوے لاکھ روپے ہو گئے ہیں۔ حمزہ شہباز کے اثاثوں میں دس سال کے دوران تقریباً سو فیصد اضافہ ہوا۔

  • کوئی بھی خطرہ متحدقوم کےعزم کو متزلزل نہیں کر سکتا،لیفٹیننٹ ناصرحسین قوم کا بہادربیٹا تھا:  آرمی چیف

    کوئی بھی خطرہ متحدقوم کےعزم کو متزلزل نہیں کر سکتا،لیفٹیننٹ ناصرحسین قوم کا بہادربیٹا تھا: آرمی چیف

    راولپنڈی :کوئی بھی خطرہ متحدقوم کےعزم کو متزلزل نہیں کر سکتا،لیفٹیننٹ ناصرحسین قوم کا بہادربیٹا تھا:اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ ناصرحسین فرض کی ادائیگی کےدوران مادروطن کیلئے قربان ہوئے، کوئی بھی خطرہ متحدقوم کےعزم کومتزلزل نہیں کرسکتا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ لیفٹیننٹ ناصرحسین شہید کے گھر پہنچے اور شہید کی روح کےایصال ثواب کیلئےفاتحہ کی،

     

    آرمی چیف نےشہیدکی بہادری کوخراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ لیفٹیننٹ ناصرحسین فرض کی ادائیگی کےدوران مادروطن کیلئےقربان ہوئے، کوئی بھی خطرہ متحدقوم کےعزم کومتزلزل نہیں کرسکتا۔

    3 ستمبر کو شمالی وزیرستان میں فورسز کی گاڑی دیسی ساختہ بارودی سرنگ سےٹکرا گئی تھی جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ ناصرحسین، نائیک محمدعمران اور سپاہی عثمان اخترشہید ہوگئے تھے

     

    شہید لیفٹیننٹ ناصرحسین شہیدنےپی ایم اےمیں غیرمعمولی کارکردگی کامظاہرہ کیا، کارکردگی پرلیفٹیننٹ ناصرحسین کورائل ملٹری اکیڈمی ڈنٹرون آسٹریلیابھیجا گیا تھا۔

  • وائٹ ہاوس میں ٹرمپ کی موجودگی میں‌عرب اسرائیل معاہدے پر دستخط کردیے گئے

    وائٹ ہاوس میں ٹرمپ کی موجودگی میں‌عرب اسرائیل معاہدے پر دستخط کردیے گئے

    واشنگٹن:وائٹ ہاوس میں ٹرمپ کی موجودگی میں‌عرب اسرائیل معاہدے پر دستخط کردیے گئے،اطلاعات کے مطابق اسرائیل، متحدہ عرب امارات( یو اے ای) اور بحرین کے مابین باقائدہ سفارتی تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے پردستخط کردیے گئے۔

     

     

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یو اے ای، بحرین اور اسرائیل کے درمیان معاہدے پر دستخط کی تقریب وائٹ ہاؤس میں منعقد کی گئی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، ابوظہبی کے ولی عہد پرنس محمد بن زید النہیان اور عبدالطیف بن راشد نے شرکت کی، امن معاہدہ انگلش ،عربی اور عبرانی زبان میں لکھا گیا۔

     

     

    یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے عرب لیگ کے 22 ممالک کو ہدف بنایا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ باقائدہ سفارتی تعلقات قائم کریں تاہم یواے ای اور بحرین کو صیہونی ریاست تسلیم کرنے پر سخت عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔

    خیال رہے کہ دنیا بھر میں مقیم فلسطینی آج کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں جبکہ انہوں نے بحرین، عرب امارات سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ معاہدے پر دستخط نہ کریں۔

    واضح رہے کہ آج یو اے ای اور بحرین کے معاہدے کےبعد اسرائیل کو تسلیم کرنے والے عربریاستوں کی تعداد 4ہوگئی ہے، مصر نے 1979میں اور اردن نے 1994میں اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔

  • 620 روپے کے چیک کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی،اداکار راشد محمود کا بڑا اعلان، مبشر لقمان کے ہمراہ

    620 روپے کے چیک کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی،اداکار راشد محمود کا بڑا اعلان، مبشر لقمان کے ہمراہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بہت ہی ایک شرمناک ،دردناک واقعہ ہوا، پی ٹی وی کے حوالہ سے، شاید خبر سن لی ہو،لیکن کل مجھے پتہ چلا اور میں کل سے بڑی تکلیف میں ہوں ،بہت ہی سینئر کے ساتھ پی ٹی وی نے جو سلوک کیا، چند سو کا چیک دیا، پھر ہم کہتے ہین کہ فائن آرٹس کیوں نہیں چلتے، ہمارے ملک میں بن گیا ہے کہ فائن آرٹس والے کو دبا کر اس پر فائن کرو، پھر اسکا مذاق اڑاؤ

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک چیز پڑھی تھی جب میں گورنمنٹ کالج میں تھا کہ ایکٹنگ از سفرنگ، جو ایکتنگ کرتا ہے اسکو سفر کرنا پڑتا ہے چاہے وہ کردار کے لئے یا معاشرتی مقام پرآج مجھے یہ جملہ سمجھ آ گیا ہے،

    سینئر اداکار راشد محمود نے کہا کہ آپ نے میرا مان رکھا ہے، ملک کے بڑے، ببانگ دہل بات کرنے والے ہیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ جس کا مرضی نام لے لیں، ڈرامے میں، فلم میں، مسئلہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کا ہماری زندگی میں حصہ ہے، بغیر ملے ہوئے بھی آپ لوگوں کو ہم بھول جائیں تو زندگی کے بہت بڑے حصے کو تاریک کرنا پڑے گا جس پر راشد محمود نے کہا کہ یہی میری بات ہے اس ایونٹ کے بعد، شاٹ لفظوں میں میری کیفیت، نہج کو لفظوں میں پر کیا، ساری زندگی اپنی زمین، کلچر، ملک،سے جڑا ہوا پاکستانی ہوں، مجھے فخر ہے کہ میں پاکستانی ہوں، یہ میری جنم بھومی ہے، ساری زندگی وقار سے کام کیا،میں نے کبھی کسی ادارے سے بھیک یا امداد کبھی نہیں لی، ریڈیو پاکستان پر کام کیا، جیسے ان کا طریقہ تھا، اب بھی کبھی کبھی جاتا ہوں جب وہ بلاتے ہیں، پی ٹی وی پر ایک نہیں اس ملک کے سارے کریکٹرز جس میں میرے بڑے بھی شامل کر لئے جائیں ان سب کے رول ٹوٹل کاؤنٹ کر لیں، میرے اکیلے زیادہ ہیں،ساٹھ پینسٹھ رول پی ٹی وی پر وہ ہیں جس میں ان کریکترز کے نام سے ملک میں نہیں بیرون ملک میں بھی جانے جاتے ہیں، لوگوں نے اون کیا مجھے، میں سفید بالوں سے جب منڈا میک اپ مین بناتا ہے تو منوا لیتا ہوں کہ میں منڈا ہوں، دو برس ہو گئے جب سے یہ نیا پاکستان بنا، ٹی وی پر تو کوئی کام نہیں ہوا، اور بھی متاثریں تھے ،میں کوئی اکیلا نہیں تھا،جیسے ٹوٹل من حیث القوم جو چل رہا تھا میں بھی شامل تھا، دال روٹی کے وعدے جو اوپر والے کہے،براڈ کاسٹر مجھے کہہیں نہ کہیں بول کر بھی مل جاتے، میں زندگی میں اگر کسی کو کچھ دینے کے قابل نہیں رہا تو مجھے مانگنا بھی نہیں پڑا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک زمانہ تھا کہ پی ٹی وی پر فیض صاحب، حیبب جالب آئے، سارے پڑھے لکھےلوگ تھے، انور سجاد صاحب، پی ٹی وی میں ادب تھا ،جب وہ نکلا تو پی ٹی وی کا اپنا ادب ختم ہو گیا جس پر راشد محمود کا کہنا تھا کہ میں صرف اپنی بات نہیں کر رہا، بہت بڑے نام ہیں جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا، جو مجھے کتابیں نہیں سکھا سکیں، میں نے ان کی گفتگو سنی، آج بھی مجھے کوئی چیز سمجھ نہ آئے تو پوچھ لیتا ہوں،میرے علم میں اضافہ ہو رہا ہوں، میں نے ایسے ایسے رول کئے اس ملک میں سبحانی و یونس اور محمد قوی خان محترم ہیں، ان سے بہت کچھ سیکھا ہے، بڑی محبت، شفقت کرتے ہیں، مرزا غالب تیسرا وہ شخص ہوں جو پی ٹی وی پر کیا اور اب بھی کتنے برسوں سے پورشن پر میرے والا چلتا ہے،ساغر صدیقی، ایکسلوسو لوگ ہیں، ان کا رول ایک امریکن ٹیم آ کر زندگی کی بائیو گرافک بنا کر گئی، میں نے ساغر صدیقی کو نیم نارمل حالت میں بھی دیکھا،اور پھر اس میں بھی دیکھا جب انکی آنکھوں کی الائمنٹ اور وہ کالی کفنی میں آئے، چاندنی اور موتیے کے پھول کتنے سادہ ہیں، زندگی کے اصول ،یہ ان کا ہے،میرے ملک میں آئی ایس پی آر کے جتنے پروجیکٹس بنے، سب میں کام کیا، عسکری اداروں کی جو ٹریننگ فلمز بنا کر تی تھی،ڈاکٹر اعجاز میر نے بنائیں، کراچی میں مشتاق صاحب ایک زمانے میں تھے، میں نے اس میں سے اگر ہزار بنے ہیں، تو 900 کی آڈیو گرافی میں نے کی ہے ، ٹی وی پر 70 ہفتے کا پروگرام تھا جس میں مختلف شہروں کی بائیو گرافی اور شاعر تھے، وہ میرے پروگرام آج بھی چل رہے ہیں، اس سب کا صلہ دیکھیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب پی ٹی وی نے آپکو 620 روپے کا چیک دیا، تو آپ نے منہ پر نہیں مارا ان کے، جس پر راشد محمود کا کہنا تھا کہ وہ مجھے بعد میں ملا،مجھے اسوقت تھوڑی ہی ملا، یہاں تو دو دو سال لوگوں کو پیسے نہیں ملتے، میں اس کام کو پہلی بار مجھے انہوں نے بلایا کہ بس یہ انیس پڑھنا ہے، میں نے کہا کہ مجھے کیوں بلا رہے ہوں، اتنے آرٹسٹ ہیں انکو بلاؤ، پہلے تو میر انیس کو سمجھنے کے لئے ہارڈ ڈسک میں کچھ ہو گا تو پڑھو گے،میں نے کہا اوکے، میں نے جو ریکوائر تھا، کوشش کر کے اور داد لے کر وہاں سے نکلا، نویں اور دسویں محرم کو کافی بار چل گیا، مجھے بھی خوش ہوا، کہ محرم میں حاضری بھی قبول ہو گئی، پی ٹی وی میں برسا برس سے یوم دفاع، پاکستان ڈے، یوم آزادی پر سلوگن بولتا ہوں، میں کرتا ہوں، کبھی پیسے نہیں لئے، میرا اس پاکستان میں براڈ کاسٹنگ کے حوالہ سے میری ڈیوٹی، فرائض میں شامل ہے، میں نے کوئی پیسے نہیں لئے، اسکی بھی کوئی توقع نہیں تھی،اور میں ریلیکس تھا، اچانک مجھے ایک چیک ملتا ہے 620 روپے کا، اور میرا جو اسسٹنٹ ہے سید عامر، اسکو میں نے کہا یہ چیک کس کا ہے، میں نے تو کچھ کیا ہی نہیں،تو انہوں نے کہا کہ جو مرثیہ پڑھ کر آئے تھے یہ اسکا ہے،اس طرح کا چیک کیوں دے رہے ہو،میں پہلے بھی نہیں لیتا، اس چیک میں پرائڈ آف پرفارمنس جس کو ملا ہوتا ہے اسکے 500 ایڈ ہوتے ہیں اور 120 روپے جو مرثیہ پڑھا اسکے دیے جاتے ہیں، ابے میں سموسے لے کر آیا ہوں جس کی پے منٹ دی جا رہی ہے، میں بڑا ہرٹ ہوا، میرے کلیجے میں بڑی تکلیف ہوئی، سارے پرائیویٹ سیکٹر میں میں کام کرتا ہوں،پیار سے اون کرتے ہیں،ہر چیز پہلے سے طے ہوتی ہے، یہ وہ میڈیم ہے جس میں میں نے زندگی گزاری،مجھے کسی چیز کا پوچھنا نہیں پڑتا تھا، ہوئی ہوئی آئی ہر چیز ملتی تھی.

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن آپ کو پتہ ہے جہاں جہاں پاکستانی ہیں وہ آپکے فین ہیں، جس پر راشد محمود کا کہنا تھا کہ میں بڑا مشکور ہوں ،آپ کا اور سب کا،مجھے چینل پر کبھی کبھی غصہ آتا تھا،کہ گیمنگ پر زیادہ توجہ ہے، مجھے فیل ہوا کہ اس ملک میں لاکھوں ،کروڑوں لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اس دکھ کو میرے ساتھ ایسے شیئر کیا جیسے انکا دکھ ہو، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں اینکر بعد میں ہوں ،آپ کا فین پہلے ہوں، راشد محمود کا کہنا تھا کہ میں نے اس دکھ کا ایک کلپ ڈال دیا کہ کیسے کہوں اور کس کو کہوں،لیکن یہ بات میرے اندر اس قدر تھی کہ یہ کیا ہے؟ کلپ پر شور مچ گیا، اس سے اگلے دن گاڑی پر مجھے اور عامر کو جب ہم کہیں جا رہے تھے فون آیا اسلام آباد سے ایم ڈی پی ٹی وی کا راشد محمود صاحب دیکھا ہے یہ کیا کیا ہوا ہے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسے کہنا تھا کہ تمہیں شرم نہیں آئی، اصل میں ایم ڈی پی ٹی وی وہ ہے جس کا پی ٹی وی سے تعلق نہیں ہے، اور ایم ڈی پی ٹی وی بہت گیمیں کر کے لگے ہیں، وہ آئی ٹی سے ہیں ، ابھی بھی جو گیمیں ہو رہی ہیں وہ سب کو پتہ ہے،ہم انکے بھبھوڑے کھولنے لگے ہیں انکو ٹھنڈ پڑنے لگی ہے، ہمارے آئیکون کے ساتھ یہ سلوک کرنا ہے تو پھر وہ ادارے میں نہیں بچیں گے،

    راشد محمود نے کہا کہ ایم ڈی پی ٹی وی کا کہنا تھا کہ کچھ کنفیوژن ہو گیا ہے میں معذرت کرتا ہوں، میں نے کہا کہ میں کسی پروگرام میں اس طرح بلاتے ہیں تو 20 ہزار دیتے ہوئے جان نکلتی ہے اور جن کو محلے میں بھی کوئی نہیں جانتا انکو دو دو لاکھ دیتے ہیں، ایک دو نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں اور عینی شاہد ہوں کہ کیسے کیسے اس پی ٹی وی کو لوٹا گیا،مجھ سے پوچھیں گے تو میں بتا سکتا ہوں، دریا جو سیریل تھی اس میں ہمارا سچ مچ کا ھادثہ ہو گیا تھا ، ہسپتال میں ایڈمٹ رہے، لطیفی صاحب راشد ڈار کے والد، طاہرہ ورثہ کی والدہ اور پتہ نہٰن کون کون سے تھے، یہ میرا پاکستان کا ٹی وی ہے فیملی ٹی وی ہے، گھس بیٹھئے جو وہاں آتے رہے ہیں،وہ اس طرح کے کام کرتے ہیں، ہماری مصیبت یہ ہے کہ جس عہدے پر جس کو ہونا چاہئے، وہاں اسکو نہیں بٹھایا جاتا،اس طرح کی مثالیں ہیں لیکن ہم کرتے رہے کہ میں نے ساری زندگی یہی کام کرنا ہے، ایم ڈی پی ٹی وی کو میں نے کہا کہ آپ نے تو معذرت کر لی، جس سٹیشن پر یہ ہوا ان سے پوچھیں لیکن یہ کیوں ہوا، کوئی وجہ نہیں بتائی گئی،پھر مین نے وہ ریکارڈ کیا کہ کل کچھ نہ کہہ دیں، ایک طرف پروگرام منیجر اور جنرل منیجر کو بٹھایا، پروڈیوسر کا نام بھی لیا، یہ کیوں ہوا، آپ نے معذرت کر لی، چلو اتنی قدر تو پی ٹی وی میں باقی ہے،لیکن میرے دل نے نہیں مانا.

    راشد محمود کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ویڈیو کلب میں پھر اس سے کہا کہ میں انکی معذرت قبول کرتا ہوں لیکن جو میرے اندر کا راشد محمود ہے وہ کہتا ہے کہ بول ناں دل میں کیا ہے، وہ نہیں مان رہا، معذرت کو قبول کرتا ہوں‌ لیکن میں اب پی ٹی وی کام نہیں کروں گا، یہ فیصلہ کر لیا گیا، اب تو اس قدر سوشل میڈیا میں اللہ نے آسانیاں دی ہوئی ہیں کہ لوگ مس یوز کرتے ہیں، میں پازیٹولی کرتا ہوں، میں نے پی ٹی وی میں بہت کام کر لیا، اب نہیں کروں گا، اسکے بعد کا نیا ری ایکشن آیا کہ مجھے ایک اور چیک بھیجا گیا ہے وہ 9600 کا ہے، میں نے دونوں چیک رکھ لئے اسکو کیش نہیں کروں گا، میں نے اسسٹنٹ کو کہا کہ اسکے پرنٹ کرواؤ اور میرے بیڈ روم میں لگاؤ کہ ریٹائرمنٹ پر جو مجھے ملک نے بینیفٹ دیا وہ 620 روپے ہے، زندگی میں میرے جانے کے بعد میرے بچوں ،دوستوں میں سے تو کوئی بائیو گرافی لکھے گا تو اسکے پاس وائینڈ اپ پوشن پہلے سے موجود ہو گا.

    راشد محمود کا کہنا تھا کہ مبشر صاحب آپ ہمارے اپنے ہیں،میں آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے میرے دکھ کو اپنے بڑے کا دکھ محسوس کیا، میں آپ کا شکر گزار ہوں، ریحام خان، سلیم صافی، علیم ظفر و دیگر نے میرے بارے میں بات کی، یہ وہ لوگ ہیں جن سے میں کبھی نہیں ملا، دل نے کہا کہ راشد محمود انہوں نے یہ سلوک کیا ، دیکھ دنیا تجھ سے کتنا پیار کرتی ہے.

  • وزیراعظم کی زیرصدارت پنجاب میں امن وامان، اشیائےضروریہ کی دستیابی اورفلاحی منصوبوں کےحوالےسے اعلی سطح اجلاس

    وزیراعظم کی زیرصدارت پنجاب میں امن وامان، اشیائےضروریہ کی دستیابی اورفلاحی منصوبوں کےحوالےسے اعلی سطح اجلاس

    لاہور:وزیراعظم کی زیرصدارت پنجاب میں امن وامان، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور ان کی قیمتوں اور فلاحی منصوبوں کے حوالے سے اعلی سطح اجلاس،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت لاہور میں صوبہ پنجاب میں امن وامان، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور ان کی قیمتوں اور فلاحی منصوبوں کے حوالے سے اعلی سطح اجلاس ہوا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق اس اجلاس میں وفاقی وزراء شفقت محمود، فیصل واوڈا، مشیر وزیر اعظم شہزاد اکبر، سینیٹر فیصل جاوید، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، صوبائی وزرا محمد بشارت راجہ، فیاض الحسن چوہان، مخدوم ہاشم جواں بخت، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس پنجاب اور سینیئر افسران شریک ہیں‌

    ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں وزیر اعظم کو صوبہ پنجاب میں امن وامان، اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور ان کی قیمتوں اور فلاحی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آئی جی پولیس کی جانب سے سنگین جرائم بشمول قتل، اغوا، بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتیوں، نشہ آور اشیاء کی فروخت، جوئے، قبضہ مافیا اور عمومی امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی ہے

    وزیراعظم کی زیرصدارت اس اجلاس میں‌ خاتون زیادتی کیس میں پیشرفت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی اس موقع پر وزیر اعظم نے اس کیس کو منطقی انجام اور مجرموں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا تک پہنچانے کا عزم کیا

    اس اجلاس میں ملک بھر میں ایک ایمر جنسی نمبر نافذ کرنے اور جرائم کا سنٹرل ڈیٹابیس قائم کرنے پر غورکیا گیا ، وزیر اعظم نے بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہارکیا گیا ، وزیر اعظم نے نشہ آور مصنوعات فروخت کرنے والے عناصراور قبضہ مافیا کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم بھی دیا

    ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اشیائے ضروریہ خصوصا گندم کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔وزیر اعظم کو پناہ گاہوں اور لنگر خانوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی

    وزیر اعظم نے کہا کہ عوامی سہولیات کی فراہمی کا مقصد غرباء اور نادار افراد کی خدمت کرنا ہے۔ وزیر اعظم نے خصوصی تاکید کی کہ پناہ گاہوں اور لنگر خانوں میں آنے والے افراد کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔ دہاڑی داد طبقے پر خاص توجہ دی جائے۔

    وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ضرورت کے پیش نظر مزید پناہ گاہوں اور لنگر خانوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ انصاف، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی اور بنیادی سطح پر عوام کو بااخیتار بنانا اور ان کو نمائندگی دینے سے ہی بہتر طرز حکومت اور عوامی خدمت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

    وزیر اعظم نے واضح کیاکہ فلاحی ریاست کی طرف سفر ہی قوم کی خوشحالی کا سفر ہے۔مشکلات ضرور ہیں لیکن مایوس نہیں‌

  • آج پوری دنیا چین کی ترقی سے خوفزدہ ہے، وزیراعظم

    آج پوری دنیا چین کی ترقی سے خوفزدہ ہے، وزیراعظم

    آج پوری دنیا چین کی ترقی سے خوفزدہ ہے، وزیر اعظم

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین نے ستر کروڑ لوگوں کو پہلے غربت سے نکالا۔ آج پوری دنیا اس کی ترقی سے خوفزدہ ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ان خیالات کا اظہار راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ راوی ریور منصوبہ آسان نہیں بلکہ بڑا مشکل ہے۔ نیا شہر بنانے میں رکاوٹیں آئیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ راوی ریور منصوبے کی لاہور کو ضرورت ہے کیونکہ شہر کی چالیس فیصد کچی آبادی ہے۔ ان میں رہنے والوں کا کبھی کسی نے سوچا ہی نہیں، سارے فیصلے چھوٹے سے طبقے کے لیے کیے جاتے تھے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا کے دوران مجھے اٹلی اور سپین کی طرح لاک ڈاؤن کا مشورہ دیا گیا۔ جب میں نے پوچھا کہ کچی آبادیوں والوں کا کیا ہوگا؟ تو کسی نے جواب نہ دیا۔ چھوٹا سا طبقہ کورونا کے دوران صرف اپنا سوچ رہا تھا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کدھر ہے نیا پاکستان؟ نئے پاکستان میں پہلی بار غریبوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے گئے۔ کبھی کسی نے سڑکوں پر سونے والوں کیلئے نہیں سوچا تھا۔ ہم نے ان کیلئے پناہ گاہیں بنائیں جن کے معیار کو مزید بہتر کیا جائے گا۔ پہلے روٹی، کپڑا اور مکان ایک نعرہ تھا لیکن آج پہلی بار غریبوں کیلئے مکان بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ احساس پروگرام ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ راوی ریور منصوبے میں نیا پاکستان کا تصور نظر آ رہا ہے۔

    سابق حکمرانوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کی ترجیح راوی ریور منصوبہ نہیں بلکہ دولت بنانا تھا۔ ملک کو مقروض کرکے چلے گئے تو مشکلات تو آئیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں صاف پانی کا مسئلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لاہور کا سارا سیوریج دریائے راوی میں آتا ہے۔ راوی کے پانی میں آرسینک ہے جس سے ہیپاٹائٹس کا مرض بڑھ رہا ہے۔

    انہوں نے حکام کو واضح ہدایات جاری کیں کہ ریور راوی منصوبے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے، کوئی بھی مسئلہ ہوگا تو وفاق بھرپور مدد کرے گا۔

    وفاقی کابینہ اجلاس،دہری شہریت والوں کوالیکشن لڑنے کا حق دینے کا آئینی ترمیمی بل منظور

  • نواز شریف کو عدالت نے دیا بڑا جھٹکا، درخواست مسترد،نا قابل ضمانت وارنٹ جاری

    نواز شریف کو عدالت نے دیا بڑا جھٹکا، درخواست مسترد،نا قابل ضمانت وارنٹ جاری

    نواز شریف کی درخواستوں پر اسلام آبا د ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں

    عدالت نے نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے،جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے نواز شریف کی درخواستیں مسترد کر دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حاضری سے استثنی اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں

    عدالت نے نواز شریف کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا.نوا زشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری 22 ستمبر کیلئےجاری کیےگئے، نوازشریف کو مفرور قرار دینےکی کارروائی شروع کر دی گئی نمائندے کے ذریعے پیروی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی،جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عدالت نے خواجہ حارث سے سوال پوچھ رکھا ہے، پہلے سن لیتے ہیں، خواجہ حارث کو دلائل دینے دیں کہ کیا اشتہاری ہوتے ہوئے نواز شریف کی اپیل سنی جا سکتی ہے؟اگر نواز شریف کی عدم حاضری پر اپیل سنی جا سکتی ہے تو پھر نیب کو بھی سن لیتے ہیں،

    جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ عدالت میں درخواست کیوں دائر کی گئی؟ ابھی توطے کرنا ہے کہ کیا نواز شریف کی درخواست سنی بھی جا سکتی ہے یا نہیں؟ پہلے نواز شریف کی حاضری سے استثنٰی کی درخواست پر سماعت کرتے ہیں، پریس میں ایک بات غلط رپورٹ ہوئی کہ اپیلوں پر سماعت کی بات کی گئی، ہم صرف نواز شریف کی متفرق درخواستوں پر سماعت کی بات کر رہے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں خواجہ حارث نے دوران سماعت مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا، خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو دوسری عدالت نے اشتہاری قرار دے دیا ہے،بغیر سنے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا گیا،خواجہ حارث نے سابق صدر پرویز مشرف کیس کا بھی حوالہ دیا، جس پر عدالت نے کہا کہ جب کوئی اشتہاری قرار دے دیا جائے تو کیا ضمانت منسوخی کی الگ ضرورت ہے، کیا اشتہاری قرار دینے والے ملزم کی درخواست سن سکتے ہیں؟

    نیب نے عدالت میں کہا کہ نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں ضمانت منسوخ کی جائے،نواز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست احتیاطی تدابیر کے طور پر دائر کی،جس پر عدالت نے کہا کہ پہلے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر سماعت کرتے ہیں، ابھی طے کرنا ہے کیا نواز شریف کی درخواست سنی جاسکتی ہے یا نہیں؟ ابھی نیب کی نواز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست التوا میں رکھ رہے ہیں،اگر نواز شریف کی درخواستیں قابل سماعت قرار دیں تو اس کو سنیں گے،

    نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد نواز شریف جیل میں تھے،اسی عدالت نے نواز شریف کو ضمانت دی تھی،اس وقت نواز شریف بیرون ملک علاج کے لئے گئے ہوئے ہیں، جب وہ پاکستان میں تھے تو عدالتوں میں پیش ہوتے رہے،

    خواجہ حارث نے کہا کہ سوال تھا کہ کیا مشرف اشتہاری ہوتے ہوئے کوئی درخواست دائر کر سکتےہیں؟ مشرف کیس میں سوال یہ تھا کیا اشتہاری اپنا وکیل مقرر کر سکتا ہے؟ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کی درخواستوں میں تو یہی لکھا ہوا ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ میں العزیزیہ کیس میں استثنا نہیں مانگ رہا ہوں ،عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ کے دیے گئے حوالے یہاں قابل قبول ہیں؟یہاں تو ہم ایک کرمنل کیس سن رہے ہیں جس میں آپ استثنا مانگ رہے ہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ یہاں تو ہماری درخواست بھی پہلے دائرہوئی،وکیل بھی پہلے موجود ہے، سپریم کورٹ نے ایک کیس میں تو اشتہاری ہوتے ہوئے بھی مشرف کو سنا، جس پر عدالت نے کہا کہ اب وہ غیر معمولی حالات بتا دیں جو آپ سمجھتے ہیں، اس کیس میں لاگو ہوتے ہیں،

    خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مفرور ملزم کی درخواست کو مختلف وجوہات کی بنا پرسنا، نوازشریف کا کیس بھی اس سے ملتا جلتا ہے،نوازشریف نے بھی سزا کے بعد جیل میں قید کاٹی اور اپیل دائر کی، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ نے جس کیس کا حوالہ دیا اس میں تو ملزم جیل توڑ کر مفرور ہوا تھا،خواجہ حارث نے کہا کہ یہ تو زیادہ سنگین جرم تھا جس میں مفرور ملزم کی اپیل کا میرٹ پر فیصلہ کیا گیا،عدالت نے کہا کہ جہاں نیب لاء خاموش ہو وہاں ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوتا ہے

    جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ نے جن کیسسز کا حوالہ دیا وہ یہی کہتے ہیں کہ میرٹ پر چلنا ہے، اس عدالت نے میرٹ پر ہی چلنا ہے،

    خواجہ حارث نے کہا کہ بتانا چاہتا ہوں کہ نواز شریف فی الحال عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے،جس پر عدالت نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ اپیلوں پر سماعت ملتوی کر دی جائے، یا پھرنواز شریف کی غیر موجودگی میں ان پر سماعت کر لی جائے، خواجہ حارث نے کہا کہ میری عدالت سے یہی استدعا ہے، عدالت نے کہا کہ اگر ہم نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،

    نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہو گئے،ایڈیشنل پراسیکوٹر نیب جہانزیب بھروانہ کے دلائل شروع ہو گئے،ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالت نے نواز شریف کو سرنڈر کرنے کا حکم دیا،نواز شریف کی دائر درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت ختم ہو چکی ہے،یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ نواز شریف عدالت میں پیش نہیں ہوئے،

    نیب حکام نے عدالت میں کہا کہ نیب عدالتوں کے حوالے دیئے ہیں جن میں مفرور ملزم کی اپیلیں مسترد کر دی گئیں،قانون کے بھگوڑے کو ریلیف دینے سے انصاف کا نظام متاثر ہو گا،عدالت سرنڈر کرنے کا موقع فراہم کر چکی ہے، عدالت نے کہا کہ ابھی اس عدالت نے نواز شریف کو مفرور قرار نہیں دیا،خواجہ حارث کہہ رہے ہیں کہ فیصلہ میرٹ پر کر دیں نواز شریف پیش نہیں ہو رہے،نیب کا موقف ہے جب تک نواز شریف پیش نہیں ہو جاتے تب تک اپیلوں کو میرٹ پر سنا نہیں جا سکتا،اگر نواز شریف پیش نہیں ہوتے تو نیب کی فلیگ شپ ریفرنس کی اپیل کیسے سنیں گے،

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کیا نواز شریف کی غیر موجودگی میں نیب کی اپیل سنی جا سکتی ہے؟ پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ نیب کی اپیل پر نواز شریف کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا،عدالت نے کہا کہ العزیزیہ کیس میں مفرور قرار دینے کے بعد بھی نیب ایون فیلڈ میں ضمانت منسوخی چاہتا ہے،

    جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نواز شریف کو مفرور قرار دینے کی کارروائی شروع کر دیتے ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے مجھے پہلے سننے کی یقین دہانی کرائی تھی، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم آپ کی درخواستوں کو بعد میں سن لیں گے،عدالت کا ضمانت کا ایک فیصلہ ختم ہو چکا ہے یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، یہ پورے نظام انصاف پر سوال کھڑا کر دے گا،

    خواجہ حارث نے کہا کہ وجہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ نواز شریف کیوں پیش نہیں ہو سکے، عدالت نے کہا کہ ضمانت دی گئی جو ختم ہو چکی ہے اس عدالت کو کیا کرنا چاہیے، خواجہ حارث نے کہا کہ میں یہ مانتا ہوں کہ نواز شریف کو ضمانت دی گئی جو ختم ہو چکی ہے، نواز شریف لندن میں زیرعلاج ہیں اور وہ واپس آنے کی حالت میں نہیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو ضمانت دی لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالا،

    نیب کی نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت،عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کیوں نہیں کی؟ راجہ بشارت نے کیا اہم انکشاف

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    مریم نواز عدالت پہنچ گئی، بہارہ کہو میں کارکنان نے کیا استقبال

    عدالت پہنچنے پر مریم نواز نے کارکنان کے لئے جاری کیا حکم،ن لیگی رہنماؤں کو روک دیا گیا

    میری ضد ہو گی کہ نواز شریف یہ کام کریں، مریم نواز کی غیر رسمی گفتگو

    نواز شریف ضمانت پر نہیں، وکیل کا عدالت میں اعتراف،ہمیں سزا معطلی سے متعلق بتائیں، عدالت

    نواز شریف کے لندن ڈاکٹر کی رپورٹ باغی ٹی وی نے حاصل کر لی

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

    جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پھر تو بہت آسان ہو جائے گا،کوئی بھی اپیل ہو اور کسی دوسری ہائیکورٹ سے آرڈر لے کر باہر چلا جائے، جس ہائیکورٹ میں اپیل چل رہی ہے وہ گورنن نہیں کریگی،کوئی دوسری ہائیکورٹ گورنن کرے گی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ نواز شریف کو عدالت نے بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی، نیب نے لاہور ہائی کورٹ کو نہیں بتایا کہ نواز شریف کی سزا مخصوص وقت کیلئے معطل ہے، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کوئی ای سی ایل کا آرڈر ایسا نہیں ہو سکتا نہ کوئی عدالت ایسا کر سکتی ہے،کیا ای سی ایل کا آرڈر اپیل کو سپرسیڈ کر سکتا ہے؟پنجاب حکومت نے نواز شریف کی ضمانت مسترد کی،نوازشریف نے فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا، اب جب ضمانت مسترد ہو چکی ہے تو اس عدالت نے کچھ تو کرنا ہے نا،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی واپسی سے متعلق معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے،ہمارے سامنے صرف ایک سوال ہے کہ ضمانت دی تھی جو ختم ہو گئی، اب ہم کیا کریں،