Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نوازشریف کے بیانیے نے ن لیگ کوتوڑدیا :31 دسمبر سے 20 فروری تک مسلم لیگ ش بنے گی، شیخ رشید کا دعویٰ

    نوازشریف کے بیانیے نے ن لیگ کوتوڑدیا :31 دسمبر سے 20 فروری تک مسلم لیگ ش بنے گی، شیخ رشید کا دعویٰ

    راولپنڈی:نوازشریف کے بیانیے نے ن لیگ کوتوڑدیا :31 دسمبر سے 20 فروری تک مسلم لیگ ش بنے گی، شیخ رشید کا دعویٰ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ 31دسمبر سے 20 فروری تک مسلم لیگ ش بنے گی، شہباز شریف اپنی حفاظت کے لیے خود اندر چلے گئے۔

    راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ شہباز شریف سیلف پروٹیکشن میں اندر چلاگیا ہے، اگلے چند ماہ اہم ہے، اکتیس دسمبر سے 20 فروری تک مسلم لیگ ش بن جائے گی، اگر اپوزیشن جماعتیں باہر نکلیں تو انہیں شکست ہی ہوگی، اپوزیشن شکست سے بچنا چاہتی ہے، مجھے ڈر ہے ان کے جلسوں میں وائرس نہ پھیل جائے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف غداری کا مقدمہ عام شہری نے درج کروایا، ریڑھی والے سے لے کر عام آدمی تک سب میرے ساتھ شوق سے تصاویر بنواتے ہیں، مجھے عام آدمی کا نمائندہ ہونے پر فخر ہے۔

    وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ’کابینہ اجلاس میں نوازشریف کو واپس لانے کے حوالے سے بات ہوئی، میں نے واپس لانے کے حق میں ووٹ دیا، حکومت کی کوشش ہے کہ انہیں واپس لاکر عدالتوں میں پیش کیا جائے‘۔

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، مجھے ڈر ہے اپوزیشن کے جلسوں کی وجہ سے ملک میں وائرس نہ پھیل جائے‘۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نےکبھی شکایت نہیں لگائی،اس عمرمیں جھوٹ نہیں بولتا، اسی ہفتےایم ایل ون منصوبے پر بھی کام شروع ہوجائےگا، میری بلاول سے لڑائی ہوگئی ہے اور اب ڈر ہے کہ رابطہ ہی منقطع نہ ہوجائے، مریم نواز کا اُس وقت تک احترام کروں گا جب تک وہ میرے بارے میں کچھ نہیں بولیں گی۔

  • انّہی ونڈے ریوڑیاں مُڑ مُڑ اپنیاں نوں:شہباز شریف کی تحفے دینے اورلینے کی دلچسپ کہانی

    انّہی ونڈے ریوڑیاں مُڑ مُڑ اپنیاں نوں:شہباز شریف کی تحفے دینے اورلینے کی دلچسپ کہانی

    لاہور: انّہی ونڈے ریوڑیاں مُڑ مُڑ اپنیاں نوں:شہباز شریف تحفے دینے اورلینے کی دلچسپ اورعجیب کہانی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کے اربوں روپے مالیت کے تحائف لینے اور دینے کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔

    نیب رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بیوی بچوں کو 24 کروڑ 22 لاکھ 77 ہزار 400 روپے تحائف میں دئیے، شہباز شریف نے اپنے صاحبزادوں سے 4 کروڑ 26 لاکھ 80 ہزاد 6 سو 78 روپے تحفے میں وصول کیے، شہباز شریف نے نصرت شہباز کو 749 کنال اراضی مختلف موضوعات کی تحفے میں دی۔

    نیب دستاویزات کے مطابق شہباز شریف کو 867 کنال 18 مرلے کی قیمتی اراضی والدہ سے تحفے میں ملی، شہباز شریف کو 748 کنال 19 مرلے کی قیمتی اراضی اپنے والد سے تحفے میں ملی، شہباز شریف نے 2011،12 میں سلمان شہباز کو 17 کروڑ 12 لاکھ 38 ہزار 200 روپے تحفے میں دئیے۔ حمزہ شہباز کو شہباز شریف نے 2013 میں 1 کروڑ 7 لاکھ روپے تحفے میں دئیے۔

    شہباز شریف نے حمزہ کو 2015 میں 2 کروڑ روپے بطور تحائف دئیے، شہباز شریف نے 2015 میں تہمینہ درانی کو ڈیفنس میں 2 کروڑ 40 لاکھ کا پلاٹ تحفے میں دیا، 2015 میں شہباز شریف نے تہمینہ درانی کو ہری پور میں ایک کاٹیچ اور ایک ولاز خرید کردیا، ہری پور میں خریدی گئی راضی کی مالیت 1 کروڑ 63 لاکھ 39 ہزار 200 ظاہر کی گئی ہے۔

    واضح رہےکہ 28 ستمبر کو نیب نے لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت خارج ہونے پر آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے کیس میں شہباز شریف کو گرفتار کیا تھا، جو اب 14 روزہ جسمانی ریمانڈ نیب کی حراست میں ہیں۔

  • عدالت یقینی بنائے گی کہ کلبھوشن یادیو کا حق زندگی بھی محفوظ بنایا جا سکے،کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت ملتوی

    عدالت یقینی بنائے گی کہ کلبھوشن یادیو کا حق زندگی بھی محفوظ بنایا جا سکے،کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت ملتوی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کے کیس پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر مکمل عملدر آمد کرانا مقصد ہے، یہ اس نوعیت کا پہلا کیس نہیں ہوگا اسی طرح کے کیسز پر فیصلے موجود ہوں گے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کردی آئین بھی صاف شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے،

    عدالت نے استفسار کیا کہ کمانڈر یادیوکو گزشتہ عدالتی حکم کی کاپی دے دی گئی تھی؟کیا یہ عدالت اپنے طورکلبھوشن کیلیےوکیل مقرر کر سکتی ہے؟اس نکتے پربھی معاونت کریں بھارت یا کلبھوشن کی مرضی کے بغیروکیل مقرر کرنے کے کیا اثرات ہونگے؟کیا یہ موثر نظر ثانی کے قانونی تقاضے پورے کرے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ درخواست دے اورقانونی طریقے سے دستاویزات حاصل کرے عدالتی حکم کی تعمیل پرآرڈر کی کاپی فراہم کردی گئی

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ بھارت کو مواقع دیئے، لیکن بھارت ہچکچاہ رہا ہے. چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وکیل مقرر کرنے سے پہلے معاونت کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت پر اس کیس میں کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے دو مرحلےہیں، پہلا مرحلہ وکیل مقرر کرنا دوسرا مرحلہ وکیل کا اپیل دائر کرنا ہے، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا کیس عدالت میں پیش کروں گا تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو،ہمیں تین سے چار ہفتے کا وقت چاہیے ہو گا،

    جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ کلبھوشن یادیو کے حق زندگی کا کیس ہے، عدالت یقینی بنائے گی کہ کلبھوشن یادیو کا حق زندگی بھی محفوظ بنایا جا سکے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم چاہتےہیں عالمی عدالت انصاف کےفیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو،اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارت جان بوجھ کر کلبھوشن کیس سے بھاگ رہا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 9 نومبر تک ملتوی کر دی

    قبل ازیں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کےلئے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کا معاملہ ،کلبھوشن یادو کے لیے وکیل مقرر کرنے کی درخواست پر عدالتی معاونین نے عدالتی معاونت سے معذرت کر لی تھی،عدالتی معاونین مخدوم علی خان اور عابد حسن منٹو نے ہائی کورٹ میں جواب جمع کرادی ،مخدوم علی خان اور عابد حسن منٹو نے عدالت کی معاونت سے معذرت کرلی ،عابد حسن منٹو نے خراب صحت اور مخدوم علی خان نے پروفیشنل وجوہات کی بنیاد پر پیش ہونے سے معذرت کی

    عابد حسن منٹو نے کہا کہ اپنی عمر اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہوں، کچھ سال قبل وکالت سے ریٹائر ہوچکا ہوں، اعزاز کی بات ہے عدالت نے معاون مقرر کیا، عدالت معذرت قبول کرے کیوں کہ خراب صحت کے باعث معاونت کرنے کی پوزیشن میں نہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالتی معاون کرنا میرے لیے باعث فخر ہے، پروفیشنل وجوہات کی بنیاد پر عدالتی معاونت نہیں کرسکتا،

    واضح رہے کہ بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی سزا سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد ،حکومت نے فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے

    وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،حکومت نے حال ہی میں جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے تحت درخواست دائر کی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی مفاد میں عدالت بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرے،

    دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ کلبھوشن یادیونےسزاکیخلاف اپیل سےانکارکیا، کلبھوشن بھارتی معاونت کے بغیر پاکستان میں وکیل مقررنہیں کرسکتا،بھارت بھی آرڈیننس کے تحت سہولت حاصل کرنے سے گریزاں ہے،

    واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2018ء کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، یہ بھارتی جاسوس بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر اور ”را“ کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پر حکومت پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کرکے انڈین جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔ اس کے بعد کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔

    کلبھوشن کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد اپریل 2018ء میں اس کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

    پاکستان کا کلبھوشن کے معاملے پربھارت سے دوبارہ رابطہ

    کلبھوشن کا وکیل مقرر کرنے کی درخواست پر سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل

    کلبھوشن کی سزا کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے کی مدت ختم

    کلبھوشن کا نام لینے یا نہ لینے پر حب الوطنی یا غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتاتھا اب سہولت کاری کیلیے قانون بن رہا ہے، خواجہ آصف

    کلبھوشن یادیوتک قونصلر رسائی، بھارت مان گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا ایک اور موقع دے دیا

    کلبھوشن یادیو کیس ،حکومت کا عالمی عدالت انصاف آرڈیننس میں توسیع کا فیصلہ

    گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی

    کلبھوشن کیس میں بھارت کی کیا کوشش ہے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

  • ریاستی اداروں کے خلاف بولنے والوں کو نشان عبرت بنائیں گے،شہر یار آفریدی

    ریاستی اداروں کے خلاف بولنے والوں کو نشان عبرت بنائیں گے،شہر یار آفریدی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین کشمیر کمیٹی شہر یار آفریدی نے کہا ہے کہ اداروں کے خلاف مہم ملک کو کمزور کرنے کی سازش ہے،

    لاہو رمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہر یار آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمیں ریاستی اداروں کو مضبوط بنانا ہے،بھارت چاہتا ہے پاکستان میں بدامنی ہو،نوازشریف کے بیانات پر وزیراعظم کے بیان کی تائید کرتا ہوں، نوازشریف نے ایک گھنٹہ تقریر کی کسی نے پابندی نہیں لگائی،ریاست پاکستان بنانا ری پبلک نہیں ہے،

    شہر یار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے فیصلے ملک سے باہر نہیں ہوں گے،نوازشریف ووٹ کو عزت دینا چاہتے ہیں تو وطن واپس آئیں ،پی ٹی آئی اورعمران خان پر تنقید کریں لیکن ملک پر سمجھوتہ نہیں ہوگا،ریاستی ادارے اور ملک ایک پیج پر ہیں،ریاستی اداروں کےخلاف بولنے والوں کو نشان عبرت بنائیں گے،

    شہر یار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف ملک سے محبت رکھتے ہیں تو یہاں آنا چاہیے نواز شریف عدالتوں میں نہیں جارہے نواز شریف اقتدار کیلئے اس سطح پر آگئے ہیں،ہر ایک کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق مقدمہ کرا سکتا ہے

    شہباز شریف اور مریم پہنچے کوٹ لکھپت، شہباز شریف کی گاڑی کی ٹکر سے کارکن ہوا زخمی

    کرونا کے باوجود ، باؤ جی ، لندن میں علاج کرواتے ہوئے

    نواز شریف کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    نواز شریف نے منگل کو لندن میں جس سفارتخانے میں ملاقات کی ہمیں علم ہے،شہباز گل

    لاہور میں نواز شریف و دیگر ن لیگی قیادت کے خلاف مقدمہ درج

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    نواز شریف ہوٹل کیوں گئے تھے؟ حسین نواز نے ایسا انکشاف کہ ن لیگی رہنما دنگ رہ گئے

    مریم نواز کی نئے کیس میں طلبی، پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

    مریم نوازجلد جیل میں ہوں گی، ن لیگ نے بھی یوٹرن لے لیا، ایسا کس نے کہا؟

    مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

    پشتون تحفظ موومنٹ کے حق میں بلاول کے بعد مریم نواز بھی بول پڑیں

    مریم نواز کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہونے لگا

    غداری کا مقدمہ درج ہونے کے بعد ن لیگ کی وزیراعلیٰ پنجاب کو دھمکی

    غداری کا مقدمہ، کیپٹن ر صفدر کی درخواست ضمانت پر لاہور ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ

    ن لیگی قیادت پر غداری کا مقدمہ درج کروانے والے بدر رشید کی گورنر پنجاب کے ساتھ تصاویر وائرل

    شہر یار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ زیراعظم عمران خان نے وزرا کو ملک اور بیرون ملک بھارت کی جانب سے پانچ اگست 2019 کے اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ کشمیری شہدا کو پاکستان کے پرچم کے ساتھ سپرد خاک کررہے ہیں۔ بھارت جموں وکشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔

    ن لیگی قیادت پر بغاوت کے مقدمے کا مدعی خود ریکارڈ یافتہ ملزم نکلا

  • بھارت کاجارحانہ رویہ خطے کے امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ شاہ محمود قریشی

    بھارت کاجارحانہ رویہ خطے کے امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ شاہ محمود قریشی

    وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ بھارت کاجارحانہ رویہ خطے کے امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔پاکستان کے ہم خیال دوست ملکوں کے آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہاکہ انہوں نے بھارتی رویے پراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدر کو متعدد خطوط لکھے ہیں۔ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیرمیں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کاحوالہ دیتے ہوئے شاہ محمودقریشی نے کہاکہ پچھلے سال پانچ اگست کو بھارت نے غیرقانونی اوریکطرفہ طورپرعلاقے کی متنازعہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کرکے عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے علاقے میں اضافی فوجی تعینات کئے جوپہلے ہی دنیامیں سب سے بڑا فوجی علاقہ ہے۔کشمیری رہنماوں کوجیلوں میں ڈال کراوربے گناہ نوجوان کشمیریوں کاماورائے عدالت قتل، حق خودارادیت کیلئے جدوجہدکرنے والوں کےعزم کے خاتمے کےلئے ہتھکنڈے ہیں۔یہ حقائق انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں میں عیاں ہیں۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ افغانوں کے درمیان مذاکرات کاآغازاہم اورعلاقائی امن کے لئے مثبت پیشرفت ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اس سال کے آغاز میں دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کےلئے سہولت فراہم کی۔ ملکی صورتحال کے بارے میں شاہ محمودقریشی نے کہاکہ کوروناوائرس  کی وبا سے درپیش چیلنج سے قطع نظر موجودہ حکومت کی طرف سے شروع کی گئی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں بہتری آناشروع ہوگئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری ٹیکس وصولی میں تیس فیصداضافہ ہوا جبکہ پہلی دفعہ ترسیلات زر بیس ارب ڈالرسے تجاوزکرگئی ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اعتمادمیں اضافہ ہواہے۔ برطانیہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے وزیرخارجہ نے کہاکہ دونوں ملکوں میں شاندارتعلقات ہیں اوراسے مزید مستحکم کریں گے۔

  • کرپشن کے خاتمے کے لئے مبشر لقمان نے دیا حکومت کو اہم مشورہ

    کرپشن کے خاتمے کے لئے مبشر لقمان نے دیا حکومت کو اہم مشورہ

    کرپشن کے خاتمے کے لئے مبشر لقمان نے دیا حکومت کو اہم مشورہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں نے حکومت کو ایک اور مشورہ دیا تھا کرپشن ختم کرنے کے لئے کہ دس روپے سے اوپر سارے نوٹ ختم کر دیں، ہر قسم کا ٹیکس ختم کر دیں، کوئی ٹیکس نہیں لیکن ہر ٹرانزکشن پر بینک کی ون پرسنٹ کٹوتی کر لیں

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر زین علی نے سوال کیا کہ نیب کیسز کو دیکھ لیں جتنے بھی کیسز چلے کسی میں ایک روپے کی بھی ریکوری نہیں ہوئی جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نہیں ہوئی ہے، لیکن سیاستدانوں سے نہیں ہوئی، نیب پر اس سے زیادہ خرچہ ہو گیا ہے، انکی پراسیکیوشن کمزور ہے، وائٹ کالر کرائم کو ایکسپوز کرنا اتنا آسان نہیں ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابھی تو کہہ رہے ہیں کہ پیسہ باہر نہیں آ رہا، آپ اناؤنس کریں نوٹوں کے رنگ بدل دیں، سارے نوٹ بینک میں ایک بار آ جائیں گے جتنے بھی ہوں، چاہے وہ میرا ڈرائیور یا کک لے کر جائے ایک بار تو اندراج ہو گا رقم جائے گی جو تہہ خانوں میں رکھی ہوئی ہے، حکومت کو ایسے فیصلے کرنے چاہئے، آپ کے پاس اگر 5 ہزار کا ایک لاکھ نوٹ ہے اور حکومت نے رنگ بدل دیا، تو انکا ایک مہینے بعد کیا کرنا ہے، انکو بدلنا پڑے گا،پیسہ تو باہر آئے گا ناں اور ڈاکومنٹ ہو جائے گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے حکومت کو ایک اور مشورہ دیا تھا کرپشن ختم کرنے کے لئے کہ دس روپے سے اوپر سارے نوٹ ختم کر دیں، ہر قسم کا ٹیکس ختم کر دیں، کوئی ٹیکس نہیں لیکن ہر ٹرانزکشن پر بینک کی ون پرسنٹ کٹوتی کر لیں، کوئی بھی ٹرانزکشن بینک سے ہو، ایک فیصد ٹیکس ہو، میں نے دو کروڑ رشوت دینی ہے اور دس سے اوپر کا نوٹ نہیں ہے تو پھر شہہ زور کروانی پڑے گی اور رکھیں گے کہاں؟ ویٹر کو یا کسی کو ٹپ دینے کے لئے پچاس سو تو دے دیں گے لیکن اس سے بڑی ہر ٹرانزکشن الیکٹرانک ہو جائے گی اور ارب پتی، ہزار پتی کے لئے ایک فیصد ٹیکس ہو گا، یکساں ٹیکس ہو گا اور ٹیکس بہت بہتر ہو گا، بینک ارن کریں گے انکے پاس سرپلس ہو گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں اکانومسٹ نہیں ہوں لیکن جو حل دے رہا ہوں وہ اکنامک کی باتوں میں نہیں لیکن جو سیکھا ہے وہ شیئر کر رہا ہوں، ابھی جو ٹیکس چوری کر رہا ہے اسکو نقصان نہیں ہو رہا اور جو ٹیکس دے رہا ہے اسکو فائدہ نہیں ہو رہا، جب آپکو ٹیکس ہی ایک پرسنٹ ہو گا تو چوری نہیں کریں گے،حکومت میں بیٹھے لوگ آئی ایم ایف کے غلام ہیں، انکا ایجنڈہ مختلف ہیں، حفیظ شیخ زرداری صاحب کے ساتھ بھی تھے، آپ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے،آپ کو اپنے کاشتکار کو پیروں پر کھڑا کرنا ہے، آپ کے دوست ہیں، کیو موبائل ہے، کیو موبائل کو ٹیکسوں میں کیسوں میں پھنسا دیں وہ کسی کو دے رہا ہے کھلا رہا ہے، آپ کہہ دیں کہ ایک فیصد ٹیکس ہے وہ کیوں چوری کرے گا، کہے گا سو کروڑ کما رہا ہوں ایک فیصد ٹیکس دے رہا ہوں، چوری کرنے پر کسی پر مجبور نہ کریں، بیوپاری چوری نہین کرنا چاہتا وہ کہتا ہے کہ میں ٹیکس دے رہا ہوں سڑک بھی ٹھیک ہو، پانی بھی ہو، بجلی بھی ہو،سیکورٹی بھی ہو امن و امان بھی ہو اب یہ آپ کا کام ہے،جب آپ تیکس نیٹ ون کر دیتے ہین تو کئی کروڑ ٹرانزکشن ایک دن میں ہو جائیں گی اتنا تو ایف بی آر ٹیکس میں جمع نہیں کر رہا جتنا ایک دن میں ہو جائے گا.

  • نواز شریف اکیلے نہیں، غدار کون؟ مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    نواز شریف اکیلے نہیں، غدار کون؟ مبشر لقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہر ملک میں صدر ،وزیراعظم بدلتے ہیں، سٹیٹ سیکرٹ آؤٹ نہیں کرتے، 3 بار وزیراعظم رہنے کے باوجود سٹیٹ سیکرٹ آؤٹ کر رہے ہیں یہ تو‌غداری ہے، آرٹیکل سکس کے منافی ہے

    مبشر لقمان آفیشل یوٹیوب چینل پر اینکر زین علی نے مبشر لقمان سے سوال کیا کہ نواز شریف اکیلے نہیں، باغی ٹی وی نے کچھ دن پہلے خبر دی تھی، مریم نواز کی ملاقاتیں اور نواز شریف کی کس سے ہو رہی ہیں، کیا حقیقت ہے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انڈین ہائی کمیشن کے کچھ لوگ ہیں وہ رات کو گیارہ بجے گئے ہیں،جس گاڑی پر گئے ہیں اس پر نہیں دوسری پر واپس گئے،صبح ناشتہ کر کے نکلے،پھر وہی لوگ شہباز شریف کے پاس بھی گئے،وہاں ان سے بھی ملاقات کی، آپ ویسے ملیں انڈین ہائی کمیشن کے لوگوں کو، کوئی مسئلہ نہیں، لیکن جب رات کی روشنی میں نان ڈکلیر ڈپلومیٹ جس کو اسلام آباد سے نکلنے کی اجازت نہ ہو ، لاہور آئے رات کے ٹائم، وہ صبح جائے آپ اناؤنس بھی نہ کریں پھر آپ کے چاچے کو بھی ملنے جائے تو یہ انتہائی مشکوک ہو جاتا ہے، انکے رابطے تو ہیں، بھارتی ایجنسی اور بھارتی لوگوں سے،اجمل قصاب کے ٹائم سے شروع ہو جائیں، جندل کا آنا،نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کو نکال دینا، کافی مشکوک سرگرمیاں ہیں انکی،

    اینکر زین علی نے سوال کیا کہ نواز شریف جو بول رہے ہیں انکو ظاہر ہے کسی نے تھپکی دی ، کیا تھپکی وہاں سے ملی؟ جو ملاقاتیں چل رہی ہیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میجر گوارف نے کچھ مہینےپہلے یو ٹیوب کا جو کیا تھا میاں نواز شریف کی تقریر کا پورا سکرپٹ ہی وہی تھا، اور وہ اسی کے حوالے دے رہے تھے، پھر پورا جو انڈین ویب سائٹ پر چھپا اسی کو انہوں نے سوالوں کی شکل میں پیش کیا، اب سوال تو یہ بنتا ہے کہ انکا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں یا اپنا؟ سوالیہ نشان ہے، دنیا کا پہلا وزیراعظم نہیں ہے جس کی پاور چھینی گئی ہے، ہر ملک میں صدر ،وزیراعظم بدلتے ہیں، سٹیٹ سیکرٹ آؤٹ نہیں کرتے، 3 بار وزیراعظم رہنے کے باوجود سٹیٹ سیکرٹ آؤٹ کر رہے ہیں یہ تو‌غداری ہے، آرٹیکل سکس کے منافی ہے

    اینکر زین علی نے کہا کہ آج تو غداری کا مقدمہ درج ہو چکا ہے، کیا یہ ٹھیک ہوا لوگ بڑی رائے دے رہے ہیں کہ غداری کے سرٹفکیٹ کھلے عام بانٹ رہے ہیں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان، فاٹا میں کیا ہو رہا ہے، ہمارے اندر آرگنائزیشن ہیں جو انڈین نیریٹو کو لے کر چل رہی ہے جیسے سیفما ہیں اور بھی کچھ ہیں،جب آپ اگر انکو شروع میں سبق سکھا دیتے توپھر سرٹفکیٹ نہ دینے پڑتے، بہت سے لوگ انجانے میں کر رہے ہوتے ہیں اسی نیرٹو کو اپنی دشمنی میں آگے لے کر جاتے ہیں، میری اگر کسی وزیر سے لڑائی ہے تو میں پوری پی ٹی آئی کی حکومت کو غلط نہیں کہہ سکتا،میں مثال دے رہا ہوں کہ اگر مجھے جنرل باجوہ اچھے نہیں لگتے تو مجھے یہ اجازت نہیں کہ پورے ادارے کو برا کہنا شروع کر دوں، میں ایک فرد واحد تک رہوں،یہ فرق لوگوں کو سمجھ آنا چاہئے، باہر کہیں اس طرح سے بات کریں؟ امریکہ میں جوپائیڈن کرے نا پینٹا گون یا سی آئی اے کے اوپر بات، کسی پر بات کر کے دیکھیں اسکو ہوتا کیا ہے

    اینکر زین علی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کبھی سزا کسی کو نہیں ہوئی،نواز شریف ، مریم سب پر غداری کے مقدمے درج ہو گئے، مبشر لقمان نے کہا کہ اب انکو ڈیفنڈ کرنا پڑے گا، اگر وہ نہیں آتے تو پھر ایکس پارٹی ڈیسیژن ہوگا، جو لوگ یہاں موجود ہیں، انکو ڈیفنڈ کرنا پڑے گا، وہ بتائیں کہ انکا اور انڈیا کا نیریٹو ایک کیوں ہے؟ انڈیا میں آپ کہہ کر دیکھیں کہ بھارتی فوج کشمیر میں غلط کر رہی ہے پھر دیکھیں کہ کون کونسا مقدمہ آپ کے اوپر ہوتا ہے،اور ہوا ہے، ایک انڈین صحافی نے سینئر ایڈیٹر ہیں اخبار کی، انہوں نے ہمارے چینل پر انٹرویو دیا کہ مودی جو کشمیر اور کرونا پر کر رہا ہے وہ غلط ہے، رات ساڑھے گیارہ بجے مجھے اسکا روتے ہوئے فون آیا کہ آپ میرا انٹرویو ان پبلش کر دیں ،میرے گھر میں آر ایس ایس والوں نے حملہ کر دیا، اگلے دن اس پر غداری کا مقدمہ ہو گیا رائے کا اظہار، یہاں سٹیٹ سیکرٹ اوپن کر رہے ہیں، دنیا میں ایسا نہیں ہوتا، اگر اس ملک کو بچانا ہے تو جو ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہے، اسکو سزا دیتے ہوئے ہمیں شرم نہیں آنی چاہئے

  • مولانا پھرنیب ریڈار پر،نیب کا بڑا اعلان، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    مولانا پھرنیب ریڈار پر،نیب کا بڑا اعلان، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اگر اس ملک کو بچانا ہے تو جو ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہے، اسکو سزا دیتے ہوئے ہمیں شرم نہیں آنی چاہئے

    زین علی نے کہا کہ آج اپوزیشن کے لئے خاص اچھا دن نہیں ہے، ن لیگ کے تمام رہنماؤں بشمول نواز شریف سب پر غداری کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مولانا فضل الرحمان کے خلاف چیئرمین نیب نے انکوائری کی منظوری دے دی ہے، کچھ دن پہلے باغی ٹی وی نے خبر دی تھی کہ نواز شریف اکیلے نہیں وہ اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں،شہباز گل نے بھی کل ملاقاتوں کا ذکر کیا اور کہا کہ مریم نواز نے لاہور میں کچھ اہم ملاقاتیں کیں

    اینکر زین علی نے مبشر لقمان سے سوال کیا کہ نواز شریف اکیلے نہیں، باغی ٹی وی نے کچھ دن پہلے خبر دی تھی، مریم نواز کی ملاقاتیں اور نواز شریف کی کس سے ہو رہی ہیں، کیا حقیقت ہے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انڈین ہائی کمیشن کے کچھ لوگ ہیں وہ رات کو گیارہ بجے گئے ہیں،جس گاڑی پر گئے ہیں اس پر نہیں دوسری پر واپس گئے،صبح ناشتہ کر کے نکلے،پھر وہی لوگ شہباز شریف کے پاس بھی گئے،وہاں ان سے بھی ملاقات کی، آپ ویسے ملیں انڈین ہائی کمیشن کے لوگوں کو، کوئی مسئلہ نہیں، لیکن جب رات کی روشنی میں نان ڈکلیر ڈپلومیٹ جس کو اسلام آباد سے نکلنے کی اجازت نہ ہو ، لاہور آئے رات کے ٹائم، وہ صبح جائے آپ اناؤنس بھی نہ کریں پھر آپ کے چاچے کو بھی ملنے جائے تو یہ انتہائی مشکوک ہو جاتا ہے، انکے رابطے تو ہیں، بھارتی ایجنسی اور بھارتی لوگوں سے،اجمل قصاب کے ٹائم سے شروع ہو جائیں، جندل کا آنا،نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کو نکال دینا، کافی مشکوک سرگرمیاں ہیں انکی،

    اینکر زین علی نے سوال کیا کہ نواز شریف جو بول رہے ہیں انکو ظاہر ہے کسی نے تھپکی دی ، کیا تھپکی وہاں سے ملی؟ جو ملاقاتیں چل رہی ہیں، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میجر گوارف نے کچھ مہینےپہلے یو ٹیوب کا جو کیا تھا میاں نواز شریف کی تقریر کا پورا سکرپٹ ہی وہی تھا، اور وہ اسی کے حوالے دے رہے تھے، پھر پورا جو انڈین ویب سائٹ پر چھپا اسی کو انہوں نے سوالوں کی شکل میں پیش کیا، اب سوال تو یہ بنتا ہے کہ انکا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں یا اپنا؟ سوالیہ نشان ہے، دنیا کا پہلا وزیراعظم نہیں ہے جس کی پاور چھینی گئی ہے، ہر ملک میں صدر ،وزیراعظم بدلتے ہیں، سٹیٹ سیکرٹ آؤٹ نہیں کرتے، 3 بار وزیراعظم رہنے کے باوجود سٹیٹ سیکرٹ آؤٹ کر رہے ہیں یہ تو‌غداری ہے، آرٹیکل سکس کے منافی ہے

    اینکر زین علی نے کہا کہ آج تو غداری کا مقدمہ درج ہو چکا ہے، کیا یہ ٹھیک ہوا لوگ بڑی رائے دے رہے ہیں کہ غداری کے سرٹفکیٹ کھلے عام بانٹ رہے ہیں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان، فاٹا میں کیا ہو رہا ہے، ہمارے اندر آرگنائزیشن ہیں جو انڈین نیریٹو کو لے کر چل رہی ہے جیسے سیفما ہیں اور بھی کچھ ہیں،جب آپ اگر انکو شروع میں سبق سکھا دیتے توپھر سرٹفکیٹ نہ دینے پڑتے، بہت سے لوگ انجانے میں کر رہے ہوتے ہیں اسی نیرٹو کو اپنی دشمنی میں آگے لے کر جاتے ہیں، میری اگر کسی وزیر سے لڑائی ہے تو میں پوری پی ٹی آئی کی حکومت کو غلط نہیں کہہ سکتا،میں مثال دے رہا ہوں کہ اگر مجھے جنرل باجوہ اچھے نہیں لگتے تو مجھے یہ اجازت نہیں کہ پورے ادارے کو برا کہنا شروع کر دوں، میں ایک فرد واحد تک رہوں،یہ فرق لوگوں کو سمجھ آنا چاہئے، باہر کہیں اس طرح سے بات کریں؟ امریکہ میں جوپائیڈن کرے نا پینٹا گون یا سی آئی اے کے اوپر بات، کسی پر بات کر کے دیکھیں اسکو ہوتا کیا ہے

    اینکر زین علی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کبھی سزا کسی کو نہیں ہوئی،نواز شریف ، مریم سب پر غداری کے مقدمے درج ہو گئے، مبشر لقمان نے کہا کہ اب انکو ڈیفنڈ کرنا پڑے گا، اگر وہ نہیں آتے تو پھر ایکس پارٹی ڈیسیژن ہوگا، جو لوگ یہاں موجود ہیں، انکو ڈیفنڈ کرنا پڑے گا، وہ بتائیں کہ انکا اور انڈیا کا نیریٹو ایک کیوں ہے؟ انڈیا میں آپ کہہ کر دیکھیں کہ بھارتی فوج کشمیر میں غلط کر رہی ہے پھر دیکھیں کہ کون کونسا مقدمہ آپ کے اوپر ہوتا ہے،اور ہوا ہے، ایک انڈین صحافی نے سینئر ایڈیٹر ہیں اخبار کی، انہوں نے ہمارے چینل پر انٹرویو دیا کہ مودی جو کشمیر اور کرونا پر کر رہا ہے وہ غلط ہے، رات ساڑھے گیارہ بجے مجھے اسکا روتے ہوئے فون آیا کہ آپ میرا انٹرویو ان پبلش کر دیں ،میرے گھر میں آر ایس ایس والوں نے حملہ کر دیا، اگلے دن اس پر غداری کا مقدمہ ہو گیا رائے کا اظہار، یہاں سٹیٹ سیکرٹ اوپن کر رہے ہیں، دنیا میں ایسا نہیں ہوتا، اگر اس ملک کو بچانا ہے تو جو ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہے، اسکو سزا دیتے ہوئے ہمیں شرم نہیں آنی چاہئے

    اینکر زین علی نے سوال کیا کہ پی ڈی ایم نے پہلا جلسہ منسوخ کر دیا، آج مولانا فضل الرحمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری کی منظوری ہو گئی ہے،اس تحریک کا انجام کیا ہو گا، جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ جب تحریک چلے گی تو پتہ چلے گا ابھی تک تو تحریک چلتی نظر نہیں آ رہی مجھے اس میں صرف مولانا فضل الرحمان نظر آ رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی طور پر چاہے وہ صحیح ہو حکومت نے یہ صحیح نہیں کیا تا کہ مولانا اور اپوزیشن الگ الگ ہوتے، اب لگتا ہے کہ ساری اپوزیشن اکٹھی ہو گئی ہے، مولانا فضل الرحمان کو ایک دو مہینے کا وقفہ دے دیتے اور انکوپولٹکلی انگیج کر کے کہہ دیتے کہ یہ سوال ہیں انکے جواب دے دو، مولانا زیرک آدمی ہین، کوئی درمیانی راستہ نکل آتا، مولانا ابھی تک مجرم تو نہیں، حکومت نے یہ جلد بازی کی، یہ سیاسی سوجھ بوجھ کی کمی ہے، اگر اب کوئی تحریک چلی تو وہ صرف مولانا چلا سکتے ہیں، باقی کسی میں ہمت نہیں، مولانا کو جس دن نیب نے بلایا نیب کے لوگوں کو لگ پتہ جائے گا کیونکہ انکا ورکر کمٹڈ ہے، ان سے عشق کرتا ہے، میرا مطلب ہے کہ جب آپ بڑے لوگوں سے سوال بھی کرتے ہیں تو عزت دے کر کرتے ہیں، شہباز شریف کی آٹھ بار ضمانت میں توسیع ہوئی، کیوں ہوئی؟ مانیں یا نہ مانیں بڑے لوگوں کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی صفائی پیش کر دیں عزت کے ساتھ، میں سمجھتا ہوں کہ حکومت چارج شیٹ لگا رہی ہے تو حکومت بیک آف ہوتی ہے، این آر او ہوتا ہے تو پھر اس میں یہ بھی خراب ہوں گے

    اینکر زین علی نے سوال کیا کہ نیب کیسز کو دیکھ لیں جتنے بھی کیسز چلے کسی میں ایک روپے کی بھی ریکوری نہیں ہوئی جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نہیں ہوئی ہے، لیکن سیاستدانوں سے نہیں ہوئی، نیب پر اس سے زیادہ خرچہ ہو گیا ہے، انکی پراسیکیوشن کمزور ہے، وائٹ کالر کرائم کو ایکسپوز کرنا اتنا آسان نہیں ہے،ابھی تو کہہ رہے ہیں کہ پیسہ باہر نہیں آ رہا، آپ اناؤنس کریں نوٹوں کے رنگ بدل دیں، سارے نوٹ بینک میں ایک بار آ جائیں گے جتنے بھی ہوں، چاہے وہ میرا ڈرائیور یا کک لے کر جائے ایک بار تو اندراج ہو گا رقم جائے گی جو تہہ خانوں میں رکھی ہوئی ہے، حکومت کو ایسے فیصلے کرنے چاہئے، آپ کے پاس اگر 5 ہزار کا ایک لاکھ نوٹ ہے اور حکومت نے رنگ بدل دیا، تو انکا ایک مہینے بعد کیا کرنا ہے، انکو بدلنا پڑے گا،پیسہ تو باہر آئے گا ناں اور ڈاکومنٹ ہو جائے گا،میں نے حکومت کو ایک اور مشورہ دیا تھا کرپشن ختم کرنے کے لئے کہ دس روپے سے اوپر سارے نوٹ ختم کر دیں، ہر قسم کا ٹیکس ختم کر دیں، کوئی ٹیکس نہیں لیکن ہر ٹرانزکشن پر بینک کی ون پرسنٹ کٹوتی کر لیں، کوئی بھی ٹرانزکشن بینک سے ہو، ایک فیصد ٹیکس ہو، میں نے دو کروڑ رشوت دینی ہے اور دس سے اوپر کا نوٹ نہیں ہے تو پھر شہہ زور کروانی پڑے گی اور رکھیں گے کہاں؟ ویٹر کو یا کسی کو ٹپ دینے کے لئے پچاس سو تو دے دیں گے لیکن اس سے بڑی ہر ٹرانزکشن الیکٹرانک ہو جائے گی اور ارب پتی، ہزار پتی کے لئے ایک فیصد ٹیکس ہو گا، یکساں ٹیکس ہو گا اور ٹیکس بہت بہتر ہو گا، بینک ارن کریں گے انکے پاس سرپلس ہو گا، میں اکانومسٹ نہیں ہوں لیکن جو حل دے رہا ہوں وہ اکنامک کی باتوں میں نہیں لیکن جو سیکھا ہے وہ شیئر کر رہا ہوں، ابھی جو ٹیکس چوری کر رہا ہے اسکو نقصان نہیں ہو رہا اور جو ٹیکس دے رہا ہے اسکو فائدہ نہیں ہو رہا، جب آپکو ٹیکس ہی ایک پرسنٹ ہو گا تو چوری نہیں کریں گے،حکومت میں بیٹھے لوگ آئی ایم ایف کے غلام ہیں، انکا ایجنڈہ مختلف ہیں، حفیظ شیخ زرداری صاحب کے ساتھ بھی تھے، آپ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے،آپ کو اپنے کاشتکار کو پیروں پر کھڑا کرنا ہے، آپ کے دوست ہیں، کیو موبائل ہے، کیو موبائل کو ٹیکسوں میں کیسوں میں پھنسا دیں وہ کسی کو دے رہا ہے کھلا رہا ہے، آپ کہہ دیں کہ ایک فیصد ٹیکس ہے وہ کیوں چوری کرے گا، کہے گا سو کروڑ کما رہا ہوں ایک فیصد ٹیکس دے رہا ہوں، چوری کرنے پر کسی پر مجبور نہ کریں، بیوپاری چوری نہین کرنا چاہتا وہ کہتا ہے کہ میں ٹیکس دے رہا ہوں سڑک بھی ٹھیک ہو، پانی بھی ہو، بجلی بھی ہو،سیکورٹی بھی ہو امن و امان بھی ہو اب یہ آپ کا کام ہے،جب آپ تیکس نیٹ ون کر دیتے ہین تو کئی کروڑ ٹرانزکشن ایک دن میں ہو جائیں گی اتنا تو ایف بی آر ٹیکس میں جمع نہیں کر رہا جتنا ایک دن میں ہو جائے گا.

  • سمندر پار بیٹھ کر سازشیں کرنے والوں کے متعلق آرمی چیف نے دو ٹوک پیغام دے دیا

    سمندر پار بیٹھ کر سازشیں کرنے والوں کے متعلق آرمی چیف نے دو ٹوک پیغام دے دیا

    سمندر پار بیٹھ کر سازشیں کرنے والوں کے متعلق آرمی چیف نے دو ٹوک پیغام دے دیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں باور کرادیا ہے کہ جو لوگ سمندر پار بیٹھ کر فوج کو برا بھلا کہتے ہیں. انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ جب تک پاک فوج کے بہادر سپاہی موجود ہیں تب تک پاکستان کے خلاف ہر سازش اور برے ارادے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا.
    انہوں نے کہا کہ جلد ایسے لوگ قانون کی گرفت میں ہوں‌گے ، ملک پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی.

  • پیپلز پارٹی کا اعتراض ، پی ڈی ایم کے 18 اکتوبر کے جلسے کی جگہ تبدیل

    پیپلز پارٹی کا اعتراض ، پی ڈی ایم کے 18 اکتوبر کے جلسے کی جگہ تبدیل

    پیپلز پارٹی کا اعتراض ، پی ڈی ایم کے 18 اکتوبر کے جلسے کی جگہ تبدیل

    باغی ٹی وی : پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتراض کے بعد اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک (پی ڈی ایم) نے کوئٹہ میں ہونے والا جلسے کی تاریخ تبدیل کر دی ہے، یہ جلسہ 18 اکتوبر کو کوئٹہ کے بجائے کراچی میں ہو گا، جبکہ اپوزیشن اتحاد کا پہلا جلسہ 16 اکتوبر گوجرانوالہ میں ہو گا۔

    پی ڈی ایم میں کوئٹہ جلسہ کی تاریخ پر اختلاف سامنے آگیا ، پی ڈی ایم اسٹیئرنگ کمیٹی نے جلسہ 11 اکتوبر کو رکھنےکااعلان کیا تھا تاہم جے یو آئی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے جلسہ 18 اکتوبر تک ملتوی کر دیا تھا۔

    پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کے تنظیمی ڈھانچے اور 18 اکتوبر کی تاریخ پر تحفظات ظاہر کیے،کیونکہ پیپلزپارٹی 18اکتوبر کو سانحہ کارساز کی برسی مناتی ہے اور سانحہ پر کراچی میں جلسہ کرے گی۔پی پی کا کہنا تھا کہ کراچی جلسہ پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ، سانحہ کار ساز میں177افراد شہید اور 610 زخمی ہوئے تھے۔

    دوسری طرف پاکستان ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی ایم) نے کوئٹہ میں ہونے والے جلسے کو کراچی منتقل کر دیا ہے جس کی میزبانی پیپلز پارٹی کرے گی۔پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 16 اکتوبر کو پی ڈی ایم کا جلسہ گوجرانوالہ میں ہو گا، 18 اکتوبر کو کراچی میں جلسہ ہو گا، 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں جلسہ ہو گا۔ 22 نومبر کو پشاور میں جلسہ ہو گا۔30 نومبر کو ملتان میں میدان سجے گا۔13 دسمبر کو تاریخ سب سے بڑا جلسہ لاہور میں ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کو پی ڈی ایم کا جنرل سیکرٹری مقرر کر دیا ہے۔ اجلاس کے بعد بات کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، اجلاس میں بغاوت کے مقدمات کی پر زور مذمت کی گئی.

    خیال رہےکہ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ہونے والے پی ڈی ایم کےاجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے 11 اکتوبر کو کوئٹہ میں تحریک کے پہلے جلسہ عام کا اعلان کیا تھا۔

    ایک دوسرے پرالزامات کا سلسلہ جاری :پی ڈی ایم کا کوئٹہ میں 11 اکتوبر کو ہونے والا پہلا جلسہ ملتوی

    واضح رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت 11 جماعتیں شامل ہیں جبکہ جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان پی ڈی ایم کے سربراہ ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ 18اکتوبر کوکوئٹہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے پہلے جلسےکی میزبانی جے یو آئی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کرے گی۔