اسلام آباد:سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے سے خارج کرنے کا بھارتی مطالبہ مسترد،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کو ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑ گیا، مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے سے خارج کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا گیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے کو سیکورٹی کونسل کے ایجنڈے سے خارج کرنے کا بھارت کا مطالبہ بے بنیاد قرار دے دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ روز بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے "بھارت پاکستان سوال” کے ایجنڈے آئٹم کے تحت مسئلہ کشمیر کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بھارتی مطالبے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ایک ممبر نے کہا کہ کوئی ریاست یکطرفہ طور پر ایجنڈے کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ایجنڈے کی تشکیل قواعد و ضوابط کے مطابق کی گئی ہے۔ صرف 15 رکنی کونسل کے اتفاق رائے سے ہی اسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مودی اور آر ایس ایس50 لاکھ ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کر کے مسلمانوں کو کشمیر سے دیس نکالا دینے اور کشمیر کا نام نقشہ سے مٹانے پر تل گئے ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اٴْن کے اس شیطانی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان اور آزاد کشمیر کے تیرہ کروڑ نوجوان اٴْٹھ کھڑے ہوں اور سیاست، سفارتکاری، ابلاغی محاذ اور اگر ضرورت پڑی تو عسکری محاذ پر بھارت کو شکست دے کر کشمیر کو بچائیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے پی سی آئی سی بنا دی ہے
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کرونا میں کامیابی کا ایک راز یہ تھا کہ ہم نے ایک کمیٹی بنا لی تھی جس کی وجہ سے ہم نے فیصلے بہتر کئے، کمیٹی تمام صوبوں کی مشاورت کے ساتھ بنائی گئی تھی، اب فیصلہ کیا کہ کراچی اور بلوچستان میں بھی سیلاب آیا، سوات بھی متاثر ہوا، میانوالی میں بھی لوگ مشکل میں ہیں، بارشوں کی وجہ سے اللہ نے ایک اور امتحان میں ڈال دیا، پہلے کراچی جہاں زیادہ بارش ہوئی اور تباہی مچی ، اسی فلڈ اور بارشوں کی وجہ سے اور دیگر مسئلوں کو بھی ایک ہی وقت میں حل کریں گے، ہمیں پہلے آ جانا چاہئے تھا لیکن پہلے ہم نے مشاورت کی،جس طرح کرونا پر انفراسٹرکچر بنایا تھا اسی طرح کراچی کے لئے بھی بنایا
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے اس میں سب سٹیک ہولڈر ہوں گے،پاک فوج کا فلڈ میں اہم رول ہے، دنیا میں جب بھی ااس طرح کے فلڈ آتے ہیں تو آرمی سامنے آتی ہے اور کام کرتی ہے، پی سی آئی سی فیصلے کرے گی، 11 سو ارب کا تاریخ پیکج کراچی کے لئے لے کر آئے ہیں، ہم اور صوبائی حکومت کا ملکر پیکج 11 سو ارب روپے کا ہے
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے،ہماری کوشش ہے کہ اسکو جلدی حل کریں ہم نے ابھی اس پر بات کی، ہم 3 سال تک کراچی میں پانی کا مسئلہ حل کر دیں گے، دوسرا مسئلہ نالوں کا ہے، وہاں تجاوزات ہیں، این ڈی ایم اے نالے صاف کرے گی،جو غریب ترین لوگ ہیں انکو سندھ حکومت نے ذمہ داری لی ہے کہ سیٹلمنٹ کرے گی، سیوریج سسٹم بھی کراچی کا بہت بڑا ایشو ہے، اس پیکج میں سیوریج سسٹم بھی ٹھیک کیا جائے گا،سرکلر ریلوے،سڑکوں پر بھی کام کریں گے، ہم اب مسائل حل کریں گے،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی میں کچھ چیزیں صوبائی حکومت اور کچھ وفاقی حکومت کے تحت آتی تھی، پی سی آئی سی بن جانے کی وجہ سے فیصلے کرنے آسان ہوں گے، پلان بن جاتے ہیں عمل نہیں ہوتا، مانیٹرنگ کمیٹی بھی ایک ہو گی جو پی سی آئی سی کو دیکھے گی،مجھے امید ہے کہ مشکل وقت گزارا ہے اب بہتری آئے گی،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں بھی لوگ مشکل میں ہیں، کے پی میں بھی یہی صورتحال ہے، سوات، چترال میں بھی سیلاب ہے، اللہ نے اس سال ہمیں امتحانوں میں ڈالا ہوا ہے، کرونا بھی بہت بڑا امتحان تھا. ہمارا شارٹ ٹرم پروگرام ایک سال اور 3 سال میں ہم نے تمام منصوبے مکمل کرنے ہیں
قبل ازین وزیر اعظم عمران خان کراچی پہنچے موزیر اطلاعات شبلی فراز اور رکن قومی اسمبلی عامر محمود کیانی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں،وزیر اعظم عمران خان نے کراچی کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کا فضائی جائزہ لیا
کراچی پہنچنے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ عمران اسماعیل نے انکا استقبال کیا، اسوقت وزیراعظم عمران خان گورنر ہاؤس پہنچ چکے ہیں، سخت ترین سیکورٹی میں وزیراعظم گورنر ہاؤس پہنچے ہیں،گورنر ہاؤس میں اجلاس جاری ہے،
وزیر اعظم کے دورے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا دورہ بھی شیڈول تھا جو منسوخ کر دیا گیا۔ اس دوران وزیر اعظم کی اسٹاک ایکسچینج بورڈ آف ڈائریکٹرز سے ملاقات تھی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم سے اراکین اسمبلی، اتحادی جماعتوں کے رہنما اور ممتاز تاجر و کاروباری شخصیات کی بھی ملاقات ہو گی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس جاری ہے
اجلاس میں وفاقی وزراء اسد عمر، شبلی فراز، علی زیدی اور امین الحق بھی شریک ہیں۔ اس کے علاوہ گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ بھی اجلاس میں موجود ہیں۔
ٹرانسفارمیشن پروگرام کے تحت منصوبوں کی نگرانی کے لئے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق کمیٹی میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے نمائندے شامل ہوں گے، کمیٹی کراچی کے تمام معاملات کو دیکھے گی،
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان کی کراچی آمد پر انکا شکریہ ادا کیا،وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں کراچی میں بارشوں سے ہونے والے نقصان بارے بھی بریفنگ دی،
وزیراعظم کی صدارت میں ’کراچی ٹرانسفارمیشن پلان‘ کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں مسائل کے حل کیلئے بااختیار ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے
قبل ازین وزیر اعظم عمران خان کراچی پہنچے موزیر اطلاعات شبلی فراز اور رکن قومی اسمبلی عامر محمود کیانی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں،وزیر اعظم عمران خان نے کراچی کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کا فضائی جائزہ لیا
کراچی پہنچنے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ عمران اسماعیل نے انکا استقبال کیا، اسوقت وزیراعظم عمران خان گورنر ہاؤس پہنچ چکے ہیں، سخت ترین سیکورٹی میں وزیراعظم گورنر ہاؤس پہنچے ہیں،گورنر ہاؤس میں اجلاس جاری ہے،
نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم اپنے دورہ کراچی میں کراچی کے ساتھ پورے صوبہ سندھ کے لیے بڑے پیکج کا اعلان کریں گے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ پیکج اربوں روپے مالیت کا ہوگا۔ عمران خان کی جانب سے کراچی کی بحالی کے لیے شارٹ ٹرم ،مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم پیکجوں کا اعلان متوقع ہے۔ وزیراعظم جن پیکجوں کا اعلان کریں گے ان میں شہر کی صفائی، نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے منصوبے، صاف پانی کی فراہمی اور کچرا ٹھکانے لگانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
وزیر اعظم کے دورے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا دورہ بھی شیڈول تھا جو منسوخ کر دیا گیا۔ اس دوران وزیر اعظم کی اسٹاک ایکسچینج بورڈ آف ڈائریکٹرز سے ملاقات تھی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم سے اراکین اسمبلی، اتحادی جماعتوں کے رہنما اور ممتاز تاجر و کاروباری شخصیات کی بھی ملاقات ہو گی اور این ڈی ایم اے کے حکام وزیراعظم کو شہر کی صورتحال پر بریفنگ بھی دیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ہمارے شہدا، ہمارے ہیرو ہیں، ہرگھڑی تیارکامران ہیں ہم، پاکستان کی مسلح افواج کادفاع وطن سےعزم،
واضح رہے کہ ملک بھر میں 55 واں یوم دفاع پاکستان کل 6 ستمبر بروز اتوار کو ملی جوش و خروش ، قومی جذبے اور پروقار طریقے سے منایا جائیگا جبکہ شہداء کی یاد گاروں پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی جائیگی اور مساجد میں بھی قرآن خوانیوں کا اہتمام کیاجائیگا ۔
یوم دفاع پاکستان کے سلسلہ میں تمام کنٹونمنٹس کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں میں چھوٹی ، بڑی سادہ مگر پر وقار تقاریب کا اہتمام کیاجائیگا اور ہلال پاکستان لہرانے سمیت 6 ستمبر 1965ء کی جنگ میں جام شہادت نوش اور دفاع وطن کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سمیت نشان حیدر پانے والے شہداء افواج پاکستان کی یاد گاروں پر پھول چڑھائے جائیں گے اور فاتحہ خوانی کی جائیگی۔
یوم دفاع پاکستان 6 ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے جب بزدل بھارتی افواج نے مغربی پاکستان کے محا ز پر جنگ چھیڑی اور اچانک لاہور پر حملہ کر دیا ۔ اس موقع پر پاک افواج کے جوانوں نے اپنی سرحدوں کی حفاظت کا حق ادا کرتے ہوئے دشمن افواج کو ایسا سبق سکھایا کہ اس کی کئی نسلیں اسے یاد رکھیں گی۔
یوم دفاع پاکستان کے موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا پیغام پڑھ کر سنایا جائیگا۔ یوم دفاع پاکستان کے موقع پر شہداء کو خراج عقیدت ، غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے علاوہ ملک کی سلامتی ، دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے ،عوامی خوشحالی ، قومی فلاح کیلئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی ۔ اس موقع پروفاقی دارالحکومت میں 31 جبکہ صوبائی دارالحکومت میں 21،21 توپوں کی سلامی دی جائے گی۔
یوم دفاع کے موقع پر میجر شبیر شریف شہید (نشان حیدر)، میجر عزیزبھٹی شہید ( نشان حیدر) سمیت دیگر شہدائے افواج پاکستان کی آخری آرام گاہوں پر بھی خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جائیگا اور پھولوں کی چادریں چڑھاتے ہوئے فاتحہ خوانی کی جائیگی۔اسی نوعیت کی دیگر تقریبات جنگ ستمبر کی یاد میں تعمیر کی گئی یادگاروں پر بھی منعقد کی جائیں گی جن میں پاک فوج کے افسران و جوانوں کے علاوہ سکولز و کالجز کے طلباء و طالبات اور عوام الناس بھی بڑی تعداد میں شریک ہوں گے۔
پاکستان نے(نواوبلیگیشن ریٹرن ٹو انڈیا) نوری ویزا کے حامل پاکستانیوں کی بھارت واپسی کاشیڈول تبدیل کر دیا۔ 363 نوری ویزاکے حامل پاکستانی7 ستمبر کی بجائے اب 15 ستمبر کو واپس بھارت جائیں گے۔ کورونا وائرس اور پاک بھارت سرحدیں بند ہونے کے باعث پاکستان میں پھنسے نوری ویزا والوں کے ساتھ مقیم 37 بھارتی شہری بھی واپس چلےجائیں گے۔اس سلسلے میں وزارت خارجہ نے واہگہ بارڈرخصوصی طور پر کھولنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا۔ وزارت داخلہ نے ڈی جی رینجرز پنجاب کوبھی خط بھیج دیا۔ نوری ویزا ہولڈرایسے پاکستانی ہیں جو طویل مدتی ویزا پر بھارت میں مقیم ہیں۔ لیکن ان پاکستانیوں کو ابھی تک بھارتی شہریت نہیں دی گئی۔ ایسے افرادکو واپس پاکستان آنے کے لیے بھارتی حکومت نواوبلیگیشن ریٹرن ٹو انڈیا کا ویزا جاری کرتی ہے۔ نوری ویزا والوں میں زیادہ تر افراد کا تعلق ہندو کمیونٹی سے ہے۔جب کہ کچھ ایسی مسلمان خواتین بھی شامل ہیں جن کی شادی بھارت میں ہوئی۔ یہ لوگ مارچ میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے واپس پاکستان آئے تھے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان آج ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچیں گے،
وزیراعظم عمران کان کراچی ٹرانسفارمیشن کمیٹی اجلاس کی صدارت کریں گے اور ٹرانسفارمیشن پلان کا اعلان کریں گے، وزیراعظم کا پاکستان سٹاک ایکسچینج کا دورہ بھی متوقع ہے، اتحادیوں سے ملاقات کا بھی پروگرام ہے۔
وزیراعظم عمران خان آج گورنر ہاؤس میں کراچی ٹرانسفارمیشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے، اجلاس میں شہر کے لیے 50 سے زائد منصوبوں کا اعلان ہوگا۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی تیاری اور ترقیاتی منصوبوں پر 802 ارب خرچ ہوں گے، 300 ارب روپے کا کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ بھی ٹرانسفارمیشن پلان کا حصہ ہوگا۔ سرکلر ریلوے کے لیے 250 ارب روپے چینی حکومت فراہم کرے گی۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ ماس ٹرانزٹ سسٹم کے منصوبوں پر 447 ارب 45 کروڑ خرچ ہوں گے، پلان کے تحت ماس ٹرانزٹ سسٹم کے 6 منصوبوں کا اعلان کیا جائے گا، سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبوں کا تخمینہ 62 ارب 30 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کراچی کو اربوں روپے کا وفاقی پیکج دینے کا اعلان کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کراچی کی بحالی کا شارٹ ٹرم ،مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم پیکج دیں گے۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں صفائی، نالوں کی صفائی، نکاس آب کےمنصوبے شامل ہیں، صاف پانی کی فراہمی اور کچرا ٹھکانے لگانے کے منصوبے بھی کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کا حصہ ہے۔وزیر اعظم کراچی میں ٹرانسپورٹ اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی فنڈز کا بھی اعلان کریں گے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جسدن زرداری اقتدار میں آ گئے اسی دن شہباز شریف کا پیار پھر سڑکوں پر آ جائے گا
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ شہباز شریف نے کہا تھا کہ زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے،لیکن آج ہم نے دیکھا ان میں بہت زیادہ پیار ہے، جس پر مبشر لقمان نے کہا یہ کوئی سیاست نہیں، جس دن زرداری صاحب حکومت میں آ گئے اس دن یہ پیار سڑکوں پر آ ہی جائے گا، اللہ بڑے بول بولنے والوں کو دنیا میں ہی دکھا دیتا ہے کہ اللہ بڑا ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو ایک دوسرے سے ملنا چاہئے، کل جو بات ہو گئی اسکو انہوں نے دھو لیا، شہباز شریف اور نواز کا ایک موقف ہے، جب نواز شریف میثاق جمہوریت کر رہے تھے تو شہباز شریف راضی نہیں تھے لیکن بڑے بھائی کی عزت کے وجہ سے پی پی سے ہاتھ ملا لیا، ن لیگ میں ایک بڑا حلقہ تھا جو پی پی سے ہاتھ ملانے کے حق میں نہیں تھا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف نے اب یہ سٹیٹمنٹ کب دی تھی، اسکا بیک گراؤنڈ کیا تھا کل کامران خان نے بھی اپنے شو میں اس پر لگایا، اسکو تاریخ بھی لکھنی چاہئے تھی، بغیر تاریخ لکھے جب سامنے آتا ہے تو لگتا ہے کل کی بات ہے، سیاق و سباق پتہ ہو تو پھر بندہ کمنٹ بھی کر سکتا ہے
سول ملٹری تعلقات بے مثال،عمران خان نے یہ بیان کیوں دیا؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کے ساتھ نہ کھڑی ہو تو پی ٹی آئی کے بلنڈر اتنے زیادہ ہین گزارہ مشکل ہو جائے گا
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ حکومت اور فوج میں مکمل ہم آہنگی ہے، جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ عمران خان کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پڑی، کونسی ایسی بات ہے کہ انکو یہ بیان دینا پڑا، کہ ہم ایک ہیں، ملکر ہم کر رہے ہیں،فوج کرپشن کے خاتمے کے لئے کیوں شامل ہو گئی، اسکا کیا رول ہو گا، یہ غلط بات ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فوج کا کام تو پاکستان جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ہے،فوج کا کام کرپشن فائٹنگ یا لوکل پالیسنگ نہین ہے، فوج کا کام یہ نہین کہ کراچی میں پانی کنٹرول ٹھیک نہیں ہو رہا تو فوج کو بلاؤ، زلزلہ ، سیلاب آیا تو فوج کو بلاؤ،ٹھیک ہے آپ بلا لیتے ہیں لیکن سول اداروں کو بھی مضبوط کرنا چاہیے جنکو پیسے بجٹ، تنخواہیں ملتی ہیں، عمران خان سے پوچھنا چاہئے کہ اس بیان کی ضرورت کیوں پڑی، اب میں پتہ کروں گا کہ یہ بیان کیوں دیا
مریم خان نے سوال کیا کہ ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن کے لئے انہوں نے یہ بات کی ہو جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ اپوزیشن کو نہیں پتہ، وہ تو سلیکٹڈ کہتے ہیں، سیلکٹ کون کرتا ہے، اپوزیشن کو پتہ ہے کہ وہ ایک پیج پر ہے،اگر اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کے ساتھ نہ کھڑی ہو تو پی ٹی آئی کے بلنڈر اتنے زیادہ ہین گزارہ مشکل ہو جائے گا
اسرائیل کو پاکستان سے کیا چاہیے ؟ مبشر لقمان نے کیا تہلکہ خیز انکشاف
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اسرائیل پاکستان سے بھارت جانے کے لئے ایئر سپیس لینے کا خواہشمند ہے لیکن عمران خان نہیں مانیں گے
اینکر پرسن مریم خان نے کہا کہ اسرائیل چاہتا ہے بھارت جانے والی فلائٹ کو پاکستانی ایئر سپیس مل جائے جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ ہمیں اس پر انکار کرنے کی ضرورت نہیں، ہم انکو مانیں یا نہ مانیں ایک مسلمہ حقیقت ہے،ہمارے نہ ماننے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا لیکن اگر وہ ایئر سپیس استعمال کرتے ہیں تو کتنا ریونیو آئے گا، کتنا فائدہ آئے گا یہ بتانے کی ضرورت ہے،وہ ہمیں پیسے دیں گے ہماری ایئر سپیس استعمال کرنے کے لئے، مجھے پتہ ہے لوگ انکار کریں گے، طعنے ماریں گے، آپ ان سے کوئی فیسلٹی نہیں لے رہے، ایئر سپیس کا کرایہ لے رہے ہیں لے لیں، ملکی طور پر مجھے لگتا ہے عمران خان نہیں مانیں گے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ عمران خان نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف پر اپوزیشن اور بھارت ایک پیج پر ہے،عمران خان کا اپوزیشن کے ساتھ روایہ وہ ہے جو بھارت کے ساتھ رکھا ہے،جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کا بڑا فالٹ یہ ہے کہ وہ سیاسی ایکٹوٹیز میں انگیج نہیں ہوئی، ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسکو ایک ملک کی اکثریت نے الیکٹ کیا، وہ ایوانوں میں ہے ہمارے، ہم جب انکو رد کرتے ہیں تو ہم اپنے ہی لوگوں کو بے وقوف کہہ رہے ہیں، پی ٹی آئی کے پاس ٹو تھرڈ میجورٹی نہیں ہے جس کے لئے پی ٹی آئی کو ہر بل پاس کروانے کے لےئے اپوزیشن کے پاس جانا پڑے گا،اپوزیشن کی ضرورت ہے، یہ مارچ تک کا انتظار کر رہے ہیں، انکا خیال ہے کہ مارچ تک سینیٹ میں پی ٹی آئی کی اکثریت ہو جائے گی،تو دو چار مہینے رہ گئے ہیں ،پھر سینیٹ سے بھی سب کچھ اپروو ہو جائے گا، سیاسی ایکٹوٹی کو بائی پاس کرتے ہیں تو پھر آپ غیر ضروری طاقتوں کو دعوت دے رہے ہوتے ہیں کبھی مصالحت ، کبھی مرضی کے لئے، پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر اپوزیشن کو انگیج کرنا چاہئے،
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ حکومت اور فوج میں مکمل ہم آہنگی ہے،جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ عمران خان کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پڑی، کونسی ایسی بات ہے کہ انکو یہ بیان دینا پڑا، کہ ہم ایک ہیں، ملکر ہم کر رہے ہیں،فوج کرپشن کے خاتمے کے لئے کیوں شامل ہو گئی، اسکا کیا رول ہو گا، یہ غلط بات ہے، فوج کا کام تو پاکستان جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ہے،فوج کا کام کرپشن فائٹنگ یا لوکل پالیسنگ نہین ہے، فوج کا کام یہ نہین کہ کراچی میں پانی کنٹرول ٹھیک نہیں ہو رہا تو فوج کو بلاؤ، زلزلہ ، سیلاب آیا تو فوج کو بلاؤ،ٹھیک ہے آپ بلا لیتے ہیں لیکن سول اداروں کو بھی مضبوط کرنا چاہیے جنکو پیسے بجٹ، تنخواہیں ملتی ہیں،عمران خان سے پوچھنا چاہئے کہ اس بیان کی ضرورت کیوں پڑی، اب میں پتہ کروں گا کہ یہ بیان کیوں دیا
مریم خان نے سوال کیا کہ ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن کے لئے انہوں نے یہ بات کی ہو جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ اپوزیشن کو نہیں پتہ، وہ تو سلیکٹڈ کہتے ہیں، سیلکٹ کون کرتا ہے، اپوزیشن کو پتہ ہے کہ وہ ایک پیج پر ہے،اگر اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کے ساتھ نہ کھڑی ہو تو پی ٹی آئی کے بلنڈر اتنے زیادہ ہین گزارہ مشکل ہو جائے گا
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ کیا سمجھتے ہیں کہ نواز شریف نے قوم کو دھوکا دیا، جعلی رپورٹس بنوا کر ملک سے فرار ہوئے جس پر مبشر لقمان نے کہ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں لیکن دکھ کی بات ہے کہ اس میں پی ٹی آئی سے بہت لوگ شامل ہیں جنہوں نے اپنے مفادات کے لئے نواز شریف کو جعلی رپورٹس دیں، سب سے بڑھ کر اس میں عثمان بزدار، یاسمین راشد، پی ٹی آئی کے نامزد ڈاکٹر شامل ہیں، نواز شریف کو واپس بلانا ہے تو بلائیں لیکن پہلے ان لوگوں کو تو پکڑیں
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ شہباز شریف نے کہا تھا کہ زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے،لیکن آج ہم نے دیکھا ان میں بہت زیادہ پیار ہے، جس پر مبشر لقمان نے کہا یہ کوئی سیاست نہیں، جس دن زرداری صاحب حکومت میں آ گئے اس دن یہ پیار سڑکوں پر آ ہی جائے گا، اللہ بڑے بول بولنے والوں کو دنیا میں ہی دکھا دیتا ہے کہ اللہ بڑا ہے، اپوزیشن کو ایک دوسرے سے ملنا چاہئے، کل جو بات ہو گئی اسکو انہوں نے دھو لیا، شہباز شریف اور نواز کا ایک موقف ہے، جب نواز شریف میثاق جمہوریت کر رہے تھے تو شہباز شریف راضی نہیں تھے لیکن بڑے بھائی کی عزت کے وجہ سے پی پی سے ہاتھ ملا لیا، ن لیگ میں ایک بڑا حلقہ تھا جو پی پی سے ہاتھ ملانے کے حق میں نہیں تھا، اب یہ سٹیٹمنٹ کب دی تھی، اسکا بیک گراؤنڈ کیا تھا کل کامران خان نے بھی اپنے شو میں اس پر لگایا، اسکو تاریخ بھی لکھنی چاہئے تھی، بغیر تاریخ لکھے جب سامنے آتا ہے تو لگتا ہے کل کی بات ہے، سیاق و سباق پتہ ہو تو پھر بندہ کمنٹ بھی کر سکتا ہے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ امریکی ادارے کی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان سٹاک ایکسچینج کو ایشیا میں بہترین کارکردگی کا ایوارڈ حاصل ہوا ہے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں اب سٹاک ایکسچینج میں انسائیڈ ٹریڈنگ کتنی ہو رہی ہے، حکومت کتنی کروا رہی ہے، لیکن جب اکنامک حالت دیکھتا ہوں ڈالر اور کرنسی کی جو کنٹرول ہی نہیں ہو رہے، بے قابو ہو رہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آتا، ایک چیز سمجھ آتی ہے،پہلے تو ریٹ آف انٹرسٹ زیادہ تھا وہ فائدہ ہو جاتا تھا اب وہ بھی کم ہے، بڑی بات ہے کرپشن کے علاوہ کہیں ہمارا نمبر اوپر آیا.
کراچی :وزیراعظم عمران خان کا کراچی کا تاریخی دورہ :802 ارب سے زائد کے 50 سے زائد منصوبوں کا اعلان کریں گے،اطلاعات کے مطابق بارشوں کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم عمران خان کل کراچی کا دورہ کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزراء، نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) حکام اور پارٹی قائدین وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے، وہ دورے میں گورنر سندھ اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سے بھی ملاقات کریں گے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم سے ارکان اسمبلی، اتحادی رہنما اور تاجر بھی ملاقات کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کراچی کو اربوں روپے کا وفاقی پیکج دینے کا اعلان کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کراچی کی بحالی کا شارٹ ٹرم ،مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم پیکج دیں گے۔
ذرائع کے مطابق کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں صفائی، نالوں کی صفائی، نکاس آب کےمنصوبے شامل ہیں، صاف پانی کی فراہمی اور کچرا ٹھکانے لگانے کے منصوبے بھی کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کا حصہ ہے۔وزیر اعظم کراچی میں ٹرانسپورٹ اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی فنڈز کا بھی اعلان کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کراچی کے لیے 50 سے زائد منصوبوں کا اعلان کریں گے، کراچی ٹرانسفارمیشن پلان تیار ہے، ترقیاتی منصوبوں پر 802 ارب خرچ ہوں گے۔
تین سو ارب مالیت کا کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ بھی ٹرانسمیشن پلان میں شامل ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے کے لیے 250 ارب روپے چینی حکومت فراہم کرے گی۔
ماس ٹرانزٹ سسٹم کے منصوبوں پر 447 ارب 45 کروڑ خرچ ہوں گے، پلان کے تحت ماس ٹرانزٹ سسٹم کے چھ منصوبوں کا اعلان کیا جائے گا۔۔
سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے منصوبوں کا تخمینہ 62 ارب 30 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ واٹر ڈرینز کے دو منصوبوں کی لاگت کا تخمینہ 4 ارب 60 کروڑ روپے ہے۔
سیوریج کے آٹھ منصوبوں کا تخمینہ 162 ارب 60 کروڑ روپے ہےجب کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے چار منصوبوں پر چودہ ارب 86کرولا روپے خرچ ہوں گے۔
وزیراعظم عمران خان کے دورہ کراچی کے پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان ہفتے کی دوپہر کراچی پہنچیں گے۔ وفاقی وزراء این ڈی ایم اے کے حکام اور پارٹی قائدین بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔
وزیراعظم کل گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے الگ الگ ملاقات کریں گے جب کہ وزیراعظم سے اراکین اسمبلی، تاجر برادری اور اتحادی جماعتوں کے رہنماوں کی ملاقات بھی ہوگی۔
وزیراعظم کی جانب سے کراچی اور سندھ بھر کیلئے پیکج کا اعلان متوقع ہے۔ وزیراعظم کراچی کو اربوں روپے کا وفاقی پیکج دینے کا بھی اعلان کریں گے۔