اسلام آباد :پالیسی میں بھی تبدیلی آگئی :دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کومشروط الیکشن لڑنےکی اجازت دینےکا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے دہری شہریت کےحامل پاکستانیوں کوالیکشن لڑنےکی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے دہری شہریت کےحامل پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے سے متعلق بل منظور کرلیا۔
ذرائع کے مطابق آرٹیکل 63 ون سی تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترمیمی بل کی منظوری دی گئی ہے، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئینی ترمیمی بل وزارت پارلیمانی امور کو ارسال کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی قانونی کیسز نے دہری شہریت رکھنے والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی مخالفت کی تھی تاہم وفاقی کابینہ نےکابینہ کمیٹی برائے قانونی کیسز کا فیصلہ رد کرتے ہوئے ترمیمی بل کی منظوری دی۔
ذرائع کے مطابق بعض وزراء نے بھی دہری شہریت رکھنے والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی مخالفت کی۔ذرائع کے مطابق ترمیمی بل کے تحت دہری شہریت کے حامل افراد کو حلف اٹھانے سے قبل غیر ملکی شہریت ترک کرنا ہوگی۔
پاک فوج بارش اور سیلاب کے متاثرین کی امدادی سرگرمیوں کے لیے خوشاب پہنچ گئی
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق حالیہ بارشوں سے خوشاب کے 10 دیہات زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق منگلا کور کے دستے متاثرہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیوں اورنقصانات کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہیں۔خیال رہے کہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے نالے بپھر گئے ہیں اورچکوال میں چھتیں گرنے کے دو مختلف واقعات میں 8 جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
پنجاب کے ضلع چکوال میں موسلادھاربارش کے باعث دو مکانوں کی چھتیں گرنے سے 8 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔لکھوال میں مکان کی چھت گرنے سے جانی نقصان ہوا۔ جاں بحق ہونے والوں میں تین خواتین، ایک بچہ اور ایک نوجوان بھی شامل ہیں۔
چنیوٹ میں بھی بارشوں کے باعث مکانوں پر پہاڑی تودہ گر گیا جس سے تین بچوں اور تین عورتوں سمیت آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق پہاڑی تودہ گرنے سے چار مکانات متاثر ہوئے۔تمام زخمیوں کو ملبے سے نکال کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعہ چناب نگر کے علاقی درہ سٹاپ پر بارش کی وجہ سے پیش آیا۔ پہاڑی تودہ گرنے سے 3 بچوں اور 3 عورتوں سمیت 8 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔
شانگلہ میں بھی بارش اور سیلاب سے 5افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جب کہ درجنوں مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔سیلاب سے شانگلہ کی طرف جانے والی سڑک بھی متاثر ہوئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر شانگلہ عمران حسین کا کہنا ہے کہ مین روڈز کھولنے کے لیے امدادی کارروائیاں ی جاری ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق معاون خصوصی لیفٹنٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے آج وزیر اعظم عمران خان کو اپنا استعفی پیش کیا جو وزیر اعظم نے قبول نہیں کیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ لیفٹنٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے جو ثبوت اور وضاحت پیش کی گئی ہے وہ اس سے مطمئن ہیں لہذا وزیر اعظم نے انہیں بطور معاون خصوصی کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آپ نے جواب دے دیا ہے، آپ کام جاری رکھیں،عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے جو ثبوت اور وضاحت پیش کی گئی اس سے مطمئن ہوں وزیراعظم نے عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ مسترد کر دیا ہے
واضح رہے کہ گزشتہ روز عاصم سلیم باجوہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے اپنی اہلخانہ کے ساتھ مل کر معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ ہم نے یہی سوچا ہے کہ سی پیک اتھارٹی پر بہت زیادہ توجہ چاہیے اس لیے فیصلہ کیا کہ میں اپنا سارا زور سی پیک پر لگاؤں گا۔
معاون خصوصی نے کہا کہ سی پیک وزیر اعظم کی بہت بڑی ترجیح ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا مستقبل ہے اور سی پیک اتھارٹی میں مجھے میں 10ماہ گزارنے کے بعد میرا اپنا بھی یہی ماننا ہے لہٰذا مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم مجھے سی پیک زیادہ توجہ سے کام کی اجازت دے دیں گے۔
اس سے قبل گزشتہ روز انہوں نے اپنے اوپرلگائے جانے والے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ الزامات جھوٹے ہیں اوران کا مقصد سی پیک اوردوسرے جاری منصوبوں پراثراانداز ہونا تھا
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان الزامات کا مقصد میری اورمیرے خاندان کی شہرت کو نقصان پہنچانا تھا ،انہوں نےکہا تھا کہ وہ سی پیک کے حوالے سے اپنی کوششیں اور خدمات جاری رکھیں گے
مریم نواز کے شوہر کیپٹن ر صفدر کو عدالت نے دیا بڑا جھٹکا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی کیس میں کیپٹن ر صفدر و دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت خارج کر دی ہے
ایڈیشنل سیشن جج شکیل احمد نے درخواست ضمانت خارج کر دی ہے، آج کیس کی سماعت ہوئی تو عدالت نے درخواست ضمانت خارج کی، عدالت میں پولیس نے رپورٹ پیش کی اور استدعا کی کہ ضمانتیں خارج کی جائیں، عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا کہ ضمانت کی درخواست پر سماعت کی جائے، کیپٹن ر صفدر کے وکیل نے کہا کہ مقدمہ غیر قانونی ہے، پہلے پولیس کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا پھر کارکنان مشتعل ہوئے، ہمارا کوئی کردار نہیں،عدالت نے سماعت کے بعد ملزمان کی درخواست ضمانت خارج کر دی
مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر ن لیگی کارکنان کی جانب سے نیب دفتر پر حملے کے واقعہ کیخلاف نیب کی درخواست پر تھانہ چوہنگ میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز سمیت دیگر شخصیات،اراکین اسمبلی اور کارکنوں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
مقدمے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جن دیگر شخصیات کو نامزد کیا گیا ہے ان میں رانا ثناء اللہ، محمد زبیر، جاوید لطیف، بلال یاسین سمیت دیگر شامل ہیں،مسلم لیگ (ن) کیخلاف مقدمہ میں 353، 427، 148 اور 16 ایم پی او کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
درخواست کے متن میں کہا گیا تھا کہ مریم صفدر کی قیادت میں کارکنوں نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ مریم نواز نے اپنے شوہر صفدر اعوان کی ایما پر نیب پر حملہ کرایا۔ لیگی کارکنوں کے پتھراؤ سے نیب ملازمین سمیت 13 اہلکار زخمی ہوئے
قبل ازیں لاہور کی سیشن عدالت نے کیپٹن (ر) صفدر کی نیب سمیت دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا تھا،ایڈیشنل سیشن جج اعجز احمد گوندل نے کیپٹن (ر) صفدر کی وزیر اعظم عمران خان اور چیئرمین نیب سمیت دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ درخواست گزار کو سن کر قانون کے مطابق کاررواٸی کی جائے،
کیپٹن صفدر کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت اداروں کو استعمال کر رہی ہے، پراسیکیوشن ٹیم بھی بناٸی گٸی، اس کیس میں حکومت کی اتنی توجہ ہے کہ ایس پی خود عدالت میں پہنچے ہیں۔فرہاد علی شاہ نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ پولیس کی طرف سے پیش کی گٸی رپورٹ بھی جھوٹی ہے۔ بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ پتھر سے نہیں ٹوٹ سکتا، مریم نواز پر حملہ کیا گیا۔ پولیس آرڈر کے مطابق پولیس کی انویسٹی گیشن اور آپریشن ونگ علیحدہ ہے۔ ایس ایچ او کو کیسے پتا چل گیا کہ یہ درخواست غلط ہے۔
سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے جو درخواست مقدمہ کے لیے دی اس پر دستخط جعلی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر دستخط جعلی ہیں تو آپ عدالت میں درخواست دے دیں۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ نیب نے ان کو طلب کیا کہ جواب دیں لیکن یہ دھاوا بولنے چلے گئے، انکی گاڑیوں سے پتھر برآمد ہوئے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا ارادہ حملہ کرنے کا تھا لہذا درحواست مسترد کی جاٸے ۔
وزیر اعظم ، چیئرمین نیب اوردیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست کیپٹن (ر) صفدرنے دائر کی،درخواست میں وزیراعظم عمران خان، شہزاد اکبر، چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز کی پیشی کے دوران ان پر قاتلانہ حملہ اور سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا، وزیراعظم عمران خان، شہزاد اکبر، چیئرمین اور ڈی جی نیب کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دی مگر مقدمہ درج نہیں کیا جارہا،عدالت حملہ کرنے اور احکامات جاری کرنے والوں کیخلاف اندراج مقدمہ کا حکم صادر کرے۔
واضح رہے کہ ن لیگ کی رہنما مریم نواز کی نیب پیشی کے موقع پر گاڑی میں رائیونڈ سے پتھر بھر کر لائے گئے تھے اور نیب آفس کے باہر پولیس پر ن لیگی کارکنان کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تھا
،پولیس نے ن لیگی کارکنان کو نیب آفس جانے سے روکا تو ن لیگی کارکنان بپھر گئے اور پولیس پر پتھراؤ کرنا شروع کر دیا جس پر پولیس کی جانب سے لیگی کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کا استعمال کیا گیا
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق مریم نواز پیشی کے لئے جب رائیونڈ سے روانہ ہوئیں تو انکی سیکورٹی کی گاڑی میں پتھر رائیونڈ سے لائے گئے، نجی ٹی وی 92 کے مطابق مریم نواز کی چیف سیکورٹی آفیسر کی گاڑی میں پتھر کے 10 شاپنگ بیگ لائے گئے جب انہوں نے فوٹیج بنائی تو سیکورٹی عملے کی جانب سے بدتمیزی کی گئی، صحافی کا موبائل چھیننے کی کوشش کی گئی، اینٹوں کو توڑ کر پتھر بنائے گئے تھے،
دوسری جانب مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مریم نواز نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں مریم نواز کا کہنا ہے کہ پولیس نے میری گاڑی پر پتھراؤ کر کے شیشہ توڑ دیا، پولیس نیب کے آفس سے پتھراؤ اور شیلنگ کر رہی ہے، اگر آپ اتنا مسلم لیگ ن سے ڈرتے ہیں ،نواز شریف سے تو پھر مریم نواز کو بلاتے کیوں ہو، جب اتنا خوف ہے تو بلاتے کیوں ہو، بلاتے ہو تو حوصلہ رکھو
مفتی عبدالقوی کا ایک اور بڑا دھماکہ،اللہ سے وعدہ، اب یہ کام نہیں کریں گے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر اینکر پرسن راؤ اویس مہتاب نے کہا ہے کہ میرے ساتھ مفتی عبدالقوی موجود ہیں، انکو 12 سال سے جانتا ہوں، انکا مشہور پروگرام وینا ملک کے ساتھ تھا، وہاں سے ترقی کا سفر کرنا شروع کیا،پھر قندیل بلوچ ،حریم شاہ، صندل خٹک آئیں اور انکا سفر جاری رہا، اس دوران انہوں نے کافی وعدے بھی کئے،کہ آج کے بعد کوئی سیلفی نہیں ہو گی، آج انہوں نے اہم اعلان کیا ہے کہ کہ کسی بھی محترمہ کے ساتھ یہ انٹرویو نہیں کریں گے
راؤ اویس مہتاب نے مفتی عبدالقوی سے سوال کیا کہ کتنے عرصے کے لئے یہ وعدہ کیا ہے جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ انسان کی زندگی میں کچھ مراحل آتے ہیں، غیب سے کچھ اشارے ملتے ہیں یا قرآن و حدیث سے کوئی آیت یا حدیث آپ کے ذہن میں آتی ہے تو زندگی میں انقلاب آجا تا ہے، تاریخ اسلامی میں دیکھیں بڑے بڑے حضرات کے ذہن میں تبدیلی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ رات کو سوئے ، فلاں آیت سامنے آئی تو زندگی کے فلاں کام کو ترک کر دیا آج میں جو فیصلہ کرنے جا رہا ہوں اس میں نہایت مقدس شخصیات کی طرف سے بطور اشارہ، قرآن مجید کی تلاوت، سب سے بڑی بات محرم اسلامی سال کا مہینہ، میں نے اس میں فیصلہ کیا، اب میں چاہ رہا ہون کہ زندگی کے باقی سال کو انکے اندر میں وقف دوں حضور کے علم کے حوالہ سے، میں وہ خوش نصیب ہوں اللہ نے حفظ قرآن کی نعمت عطا فرمائی ،احادیث پڑھنے اور پڑھانے کا موقع ملا،میں نے طے کیا کہ حضور کا جو علم ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں ہے اس پر کام کروں ،دجال کون ہے، دجال کی آمد پر میرے نبی رحمت نے کیا فرمایا،اس پر کام کروں گا
راؤ اویس مہتاب نے کہا کہ آپ کے پاس علم آج نہیں آیا، 25 سال سے علم کے سمندر ہیں آپ، ایک علم، ایک شخصیت ہوتی ہے،علم اور شخصیت جب آپس مین میچ کرتے ہیں تو نئی چیز بن جاتی ہے، آپ اپنی شخصیت میں کیا تبدیلی لے کر آئیں گے جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ 1982 میں میری پہلی تصنیف آئی، اس وقت دینی مدارس میں نصاب کے حوالہ سے سب سے زیادہ چھپنے والی یہ کتاب ہے،آدمی جب دیکھتا ہے کہ زندگی کے ایام مختصر ہیں تو جانے سے پہلے میں ایسے قیمتی دستاویزات امت کی طرف منتقل کروں، اکابر کی روشنی میں، عالمی حالات کے تناظر میں مفتی کا دینی فریضہ ہے کہ امت کو بتائے کہ حضرت مسیح، دجال کے بارے میں، اقوام اور ادیان کے بارے میں ، امام مہدی کی تشریف آوری کے بارے میں نبی رحمت نے کیا کہا، انسان کے اندر تبدیلی آتی ہے، قرآن بھی اس کی طرف اشارہ کرتا ہے، تبدیلی دینے والا اللہ ہے، اسی سے انسان کو اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے، 3 فیصلے ہم اپنی طرف سے کر رہے ہیں، ایک انفرادی زندگی کے حوالہ سے کہ خواتین سے معذرت کے ساتھ آج کے بعد ،90 ہزار سیلفیاں میری بنی ہیں اور زیادہ تر خواتین کے ساتھ ہیں، ان بچوں سے معذرت کے ساتھ سیلفی اور تصاویر ، انٹرویو کے بارے میں کہہ رہا ہوں ، نوجوانوںکو چینل پر علمی و روحانی بات کروں گا، ہمارا ہر پروگرام صرف اور صرف اسی چینل پر اور اسی سٹوڈیو پر ہو گا، اسی سٹوڈیو پر ہم مستقبل کی بات کریں گے،
راؤ اویس مہتاب نے سوال کیا کہ جو فیم ہوتا ہے یہ خوفناک چیز ہے،آپ کے نزدیک وجہ شہرت آپ کیا ہے جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ دینی مدارس اور علماء کے پاس میرا تعارف 1982 سے ہے، سب سے پہلے جب میں سکرین پر آیا تو لوگ اسلئے مجھے سنتے ہیں کہ حکمت کی بات کرتا ہوں، سننے والے لوگ کہتے ہیں کہ جب بات کرتے ہیں تو جرات کی بات کرتے ہیں،قرآن،حدیث کی بات کرتے ہیں، درمیان میں چار پانچ سال ایسے آئے جو خواتین سے ملتے جلتے تھے وہ بہت ہٹ ہوئے، جب آدمی اللہ سے وعدہ کر لیتا ہے، جس عمر کے حصے میں میں ہوں، میرا خیال ہے کہ مفتی عبدالقوی کی شہرت کے لئے خواتین، یا خواتین کے ساتھ انٹرویو کمزوری نہین ہو رہی، اب علم، تحقیق، روحانیت کی بات ہو گی،لوگ مجھے پہلے سے زیادہ سنیں گے
مفتی عبدالقوی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میرا نام مفتی عبدالقوی ہے، میرے ساتھ آپ کا علمی و روحانی تعلق ہے، اسکو بڑھاتے ہوئے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آج کے بعد ہمارا موضوع صرف اور صرف قرآن و سنت ہو گا،آج کے اس دور کے حوالہ سے کتاب الفتن ، ہماری گفتگو اس حوالہ سے ہو گی، فیصلہ کیا ہے کہ آج کے بعد کسی اپنی بیٹی، کسی محترمہ کے ساتھ ہمارا کوئی پروگرام کرنٹ افیئرز، حالات حاضرہ، انترویو کے حوالہ سے نہیں ہو گا، آج کے بعد مفتی عبد القوی نے اپنے آ پ کو علم، روحانیت کے لئے مختص کر دیا ہے، آج کے بعد آپ دیکھیں گے مفتی عبدالقوی کو نئے انداز کے ساتھ، علم، تحقیق اور روحانیت کے ساتھ، آج کے بعد نئی زندگی ، نئی بات ،روحانیت کی بات، علم کی بات،فقاہت کی بات، قرآن و سنت کی روشنی میں ہو گی، آج کے بعد ہمارا کوئی انٹرویو، گفتگو کسی محترمہ کے ساتھ نہیں ہو گی.
شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کی اہم میٹنگ 30 نومبر کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہوگی جس کی میزبانی چئیرمین کونسل بھارت کرےگا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے سیکرٹری (ویسٹ)وکاس سروپ نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ میٹنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے8رکن ممالک کے سربراہان حکومت شرکت کریں گے۔ رکن ممالک میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ چین، روس، کرغستان، تاجکستان، ازبکستان اور قازقستان شامل ہیں۔ بھارت کی چئیرمین شپ میں کونسل کی یہ آخری میٹنگ ہو گی جس میں آئندہ چئیرمین کا انتخاب بھی کیا جائے گا۔ بھارتی دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان اور چین سمیت تمام رکن ممالک کو میٹنگ میں شرکت کے دعوت نامے اس سال کے شروع میں ہی بھجوا دئیے گئے تھے۔ پاکستان میں اس وقت کے بھارتی ہائی کمشنراجے بساریہ نے بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستان کو دعوت نامہ دے دیا تھا۔ کورونا وائرس کے باعث یہ میٹنگ ورچوئل ہو گی یا تمام سربراہان نئی دہلی پہنچیں گے اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ اس وقت پاکستان اور چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں کشیدگی عروج پر ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا کونسل کی میٹنگ میں شرکت کے لئےبھارت کادورہ ممکن ہو گا یا نہیں اس حوالے سے باغی ٹی وی نے دفتر خارجہ کے اعلی حکام سے رابطہ کیا تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔
حکومت پلان کرتی رہی اوریو اے ای والے امداد دے گئے،حکومت کی سست روی پر مبشرلقمان برس پڑے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کراچی والوں کو حکومتوں نے مایوس کر دیا، پانی آ کر بھی چلا گیا اور یہ ابھی تک منصوبہ بندی کر رہے ہیں
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ عمران خان نے کراچی کے لئے پیکج کا اعلان کیا، وہ کراچی بھی جا رہے ہیں، آرمی چیف نے بھی کہا ہے کہ کراچی کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،شہباز شریف اٹھارہویں ترمیم بچانے کے لئے جا رہے ہیں لیکن جو باخبر لوگ ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم ختم کرنے کے لئے جا رہے ہیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ تو سارے کہہ رہے ہیں کہ ہم کریں گے، یو اے ای کی حکومت نے آج جا کر فوڈ پیکجز دے دیا ہے، بلوچستان کے لئے بھی دیا ہے،میڈیکل پیکجز بھی دیئے ہیں، باہر سے کوئی آیا وہ دے کر بھی چلا گیا، انہوں نے دس دن پہلے تو پلان کیا ہو گا، ہم تو ابھی تک پلان کر رہے ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پانی آیا اور اتر گیا، بہت سست کام کیا حکومت نے، شہباز شریف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے گئے ، وہ نہ جاتے تب بھی برا کہتے گئے تب بھی بات کر رہے ہیں، پی پی، ایم کیو ایم کیا کر رہی ہے جن کی وہان حکومت ہے، سچی بات یہ ہے کہ اہل کراچی بہت ہی مشکل میں ہیں، ہر جماعت کو وہ آزما چکے ہیں، وہ بیچارے کیا کریں، کس کے پاس جائیں ، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کہوں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے تو سندھ کودو صوبوں میں کر دینا چاہئے، کراچی اور سندھ کو الگ الگ، اپر سندھ کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے،انکے اپنے ریزیڈنس کبھی سی ایم نہیں بنتے، سی ایم انٹریئر سے آتا ہے، لائنیں وہی چلتی رہتی ہیں پھر،بدین، نوابشاہ، گڑھی خدا بخش،سندھ میں کراچی اور حیدر آباد کو مل ہی کچھ نہیں رہا، وہ بڑے شہر ہیں، کل جو اناؤنس ہو گا ہو سکتا ہے اس میں گورنر راج آ جائے، فیڈرل حکومت کے ساتھ ملا دیں، کوئی نئی بات سامنے آ جائے، لیکن اس طرح معاملہ چلے گا نہیں
اسلام آباد : وزیر اعظم کے معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ کا مستعفی ہونے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی اہلخانہ کے ساتھ مل کر معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ ہم نے یہی سوچا ہے کہ سی پیک اتھارٹی پر بہت زیادہ توجہ چاہیے اس لیے فیصلہ کیا کہ میں اپنا سارا زور سی پیک پر لگاؤں گا۔
عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ وزارت اطلاعات میں مزید قابل لوگ موجود ہیں تو اس لیے وہ کام میں ان کے لیے چھوڑوں گا اور میں اپنا فوکس ادھر ہی رکھوں گا۔
انہوں نے کہا کہ ابھی میں نے اس حوالے سے فیصلہ کیا ہے اور صبح اپنا استعفیٰ پیش کروں گا اور درخواست دوں گا کہ مجھے اس عہدے سے ریلیف دے دیں۔
معاون خصوصی نے کہا کہ سی پیک وزیر اعظم کی بہت بڑی ترجیح ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا مستقبل ہے اور سی پیک اتھارٹی میں مجھے میں 10ماہ گزارنے کے بعد میرا اپنا بھی یہی ماننا ہے لہٰذا مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم مجھے سی پیک زیادہ توجہ سے کام کی اجازت دے دیں گے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے آج انہوں نے اپنے اوپرلگائے جانے والے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ الزامات جھوٹے ہیں اوران کا مقصد سی پیک اوردوسرے جاری منصوبوں پراثراانداز ہونا تھا
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان الزامات کا مقصد میری اورمیرے خاندان کی شہرت کو نقصان پہنچانا تھا ،انہوں نےکہا تھا کہ وہ سی پیک کے حوالے سے اپنی کوششیں اور خدمات جاری رکھیں گے
میڈیا کس کے اشاروں پر ناچ رہا ہے؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہمارا میڈیا کیا ہے کہ ہی سیڈ، شی سیڈ، انہوں نے یہ کہا ہم نے یہ کہا آپ یہ کیا کہیں گے، یہ ہماری رپورٹنگ ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پراینکر مریم خان نے سوال کیا کہ گزشتہ 12 برسوں سے ہمارے میڈیا کی کوریج یہی ہوتی ہے کہ حکومت آج جا رہی ہے، کل جا رہی ہے، اس میں سب افواہیں ہوتی ہیں، افواہوں کا فائدہ کس کو پہنچتا ہے، پاکستان کے لئے تو وہ بہتر نہیں ہوتی،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بیسکلی ہماری قوم تماش بین ہے، آج ہم باتیں کریں کہ کسی سیاستدان نے شادی کر لی، دیکھیں ویڈیو کتنی شیئر ہوتی ہے،کسی کی طلاق کی بات کریں تو ویڈیو دیکھیں کتنی شیئر ہوتی ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگر ہم یہ بات کریں کہ ہماری ایگریکلچر کو ہم کس طرح بہتر کر سکتے ہیں، جی ڈی پی، اکانومی بہتر ہو گی اگر دس ہزار لوگ بھی اس کو دیکھ لیں تو بڑی بات ہو گی، دوسری چیز ہمارے میڈیا اونرز ہیں وہ کاروباری لوگ ہیں، وہ سٹوریز پر انویسٹ نہیں کرتے، نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ ابھی تک کیوں چھپ رہے ہیں، دنیا میں تو اخبار بند نہیں ہو رہے، صرف پاکستان میں کیوں انٹرنیٹ کا پرابلم ہو رہا ہے، اسلئے کہ انکے رائیٹرز ٹریول کرتے ہیں، انکی لیگل ٹیمز ہیں، آرٹیکلز کو دیکھتے ہیں، لا کی مشین سے گزارتے ہیں کہ کسی ہیومن رائٹ کی وائلیشن تو نہیں ہو رہی، پھر وہ پبلش ہوتا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دیکھیں کتنا عرصہ ہو گیا شہباز شریف ڈیلی میل کو سو کرنے گئے تھے ،ابھی تک نوٹس تو ملا نہیں جس کو وہ جواب دیں نواز شریف کے بارے میں جو کتاب آ چکی ہے،میڈیا اونر شعیب شیخ کے بارے میں نیو یارک ٹائمز نے جعلی ڈگریوں کے بارے میں بات کی، انکو سو کیا کسی نے ،؟ نہیں ، انکی سٹوریز پکی ہیں، وہ انویسٹ کرتے ہیں، ہمارا میڈیا کیا ہے کہ ہی سیڈ، شی سیڈ، انہوں نے یہ کہا ہم نے یہ کہا آپ یہ کیا کہیں گے، یہ ہماری رپورٹنگ ہے
5th جنریشن وار، پاکستان کو بڑا جھٹکا،تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کشمیر پر رپورٹنگ کرنے کی وجہ سے باغی ٹی وی کے فیس بک پیجز بھی بند ہوئے ہیں.
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ پرویز خٹک کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ کے پی ان کی مرضی کے بغیر ہل بھی نہیں سکتے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک کا دعویٰ ڈائریکٹلی اور ان ڈائریکٹلی دونوں طرح سے صحیح ہے،کچھ تو وہ پرویز خٹک کی وجہ سے کرتے ہیں، بہت کچھ وہ اعظم خان کی مرضی کی وجہ سے کرتے ہیں، اعظم خان پرویز خٹک کے لائے ہوئے وہ ہیں، جب پر ویز خٹک وزیراعلیٰ تھے تو اعظم خان چیف سیکرٹری تھے، اب سوات میں سیلاب آیا تو محمود خان نے وزٹ نہیں کیا، یہ بے حسی ہے اس کے ساتھ کرپشن کی آوازیں آنا شروع ہو جائیں انکے اپنے وزیروں نے استعفیٰ دیئے کرپشن کی وجہ سے، انہون نے جینا دو بھر کیا ہے لوگوں کا ،پرویز خٹک کو پارٹی کی طرف سے شو کاز نوٹس نہیں ملا، اسکا مطلب ہے کہ صوبے خود مختار نہیں، لوگوں کو حق نہیں مل رہا، جمہوریت ڈیلیور نہیں کر رہی،میں اور آپ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ کیا ایسی لولی لنگڑی جمہوریت ہمیں چاہئے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ عمران خان نے کراچی کے لئے پیکج کا اعلان کیا، وہ کراچی بھی جا رہے ہیں، آرمی چیف نے بھی کہا ہے کہ کراچی کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،شہباز شریف اٹھارہویں ترمیم بچانے کے لئے جا رہے ہیں لیکن جو باخبر لوگ ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم ختم کرنے کے لئے جا رہے ہیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ تو سارے کہہ رہے ہیں کہ ہم کریں گے، یو اے ای کی حکومت نے آج جا کر فوڈ پیکجز دے دیا ہے، بلوچستان کے لئے بھی دیا ہے،میڈیکل پیکجز بھی دیئے ہیں، باہر سے کوئی آیا وہ دے کر بھی چلا گیا، انہوں نے دس دن پہلے تو پلان کیا ہو گا، ہم تو ابھی تک پلان کر رہے ہیں، پانی آیا اور اتر گیا، بہت سست کام کیا حکومت نے، شہباز شریف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے گئے ، وہ نہ جاتے تب بھی برا کہتے گئے تب بھی بات کر رہے ہیں، پی پی، ایم کیو ایم کیا کر رہی ہے جن کی وہانحکومت ہے، سچی بات یہ ہے کہ اہل کراچی بہت ہی مشکل میں ہیں، ہر جماعت کو وہ آزما چکے ہیں، وہ بیچارے کیا کریں، کس کے پاس جائیں ، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کہوں، پہلے تو سندھ کودو صوبوں میں کر دینا چاہئے، کراچی اور سندھ کو الگ الگ، اپر سندھ کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے،انکے اپنے ریزیڈنس کبھی سی ایم نہیں بنتے، سی ایم انٹریئر سے آتا ہے، لائنیں وہی چلتی رہتی ہیں پھر،بدین، نوابشاہ، گڑھی خدا بخش،سندھ میں کراچی اور حیدر آباد کو مل ہی کچھ نہیں رہا، وہ بڑے شہر ہیں، کل جو اناؤنس ہو گا ہو سکتا ہے اس میں گورنر راج آ جائے، فیڈرل حکومت کے ساتھ ملا دیں، کوئی نئی بات سامنے آ جائے، لیکن اس طرح معاملہ چلے گا نہیں
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ گزشتہ 12 برسوں سے ہمارے میڈیا کی کوریج یہی ہوتی ہے کہ حکومت آج جا رہی ہے، کل جا رہی ہے، اس میں سب افواہیں ہوتی ہیں، افواہوں کا فائدہ کس کو پہنچتا ہے، پاکستان کے لئے تو وہ بہتر نہیں ہوتی،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بیسکلی ہماری قوم تماش بین ہے، آج ہم باتیں کریں کہ کسی سیاستدان نے شادی کر لی، دیکھیں ویڈیو کتنی شیئر ہوتی ہے،کسی کی طلاق کی بات کریں تو ویڈیو دیکھیں کتنی شیئر ہوتی ہے،ہم یہ بات کریں کہ ہماری ایگریکلچر کو ہم کس طرح بہتر کر سکتے ہیں، جی ڈی پی، اکانومی بہتر ہو گی اگر دس ہزار لوگ بھی اس کو دیکھ لیں تو بڑی بات ہو گی، دوسری چیز ہمارے میڈیا اونرز ہیں وہ کاروباری لوگ ہیں، وہ سٹوریز پر انویسٹ نہیں کرتے، نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ ابھی تک کیوں چھپ رہے ہیں، دنیا میں تو اخبار بند نہیں ہو رہے، صرف پاکستان میں کیوں انٹرنیٹ کا پرابلم ہو رہا ہے، اسلئے کہ انکے رائیٹرز ٹریول کرتے ہیں، انکی لیگل ٹیمز ہیں، آرٹیکلز کو دیکھتے ہیں، لا کی مشین سے گزارتے ہیں کہ کسی ہیومن رائٹ کی وائلیشن تو نہیں ہو رہی، پھر وہ پبلش ہوتا ہے،دیکھیں کتنا عرصہ ہو گیا شہباز شریف ڈیلی میل کو سو کرنے گئے تھے ،ابھی تک نوٹس تو ملا نہیں جس کو وہ جواب دیں نواز شریف کے بارے میں جو کتاب آ چکی ہے،میڈیا اونر شعیب شیخ کے بارے میں نیو یارک ٹائمز نے جعلی ڈگریوں کے بارے میں بات کی، انکو سو کیا کسی نے ،؟ نہیں ، انکی سٹوریز پکی ہیں، وہ انویسٹ کرتے ہیں، ہمارا میڈیا کیا ہے کہ ہی سیڈ، شی سیڈ، انہوں نے یہ کہا ہم نے یہ کہا آپ یہ کیا کہیں گے، یہ ہماری رپورٹنگ ہے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ فیس بک نے پاکستان کے 453 فیس بک اکاؤنٹس، پیجز، بین کئے، انڈیا میں جب بہت زیادہ ہیٹ سپیچ ہوئی تھی تو وہاں تو فیس بک نے کچھ نہیں کیا، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہمارے بھی پیجز بھی کیا، باغی ٹی وی کے پیجز بھی بند ہوئے، کیونکہ اس پر کشمیر کی بہت رپورٹنگ ہے،بچوں کو پیلٹ لگنے کی تصویریں، تشدد کی تصویریں ہیں، فیس بک کا انڈیا بہت بڑا کلائنٹ ہے، دنیا میں اب لوگوں کو فیس بک سے اتنی دلچسپی نہیں رہی جو چار پانچ سال پہلے تھی، اب اور بڑی ایپلی کیشن پاپولر ہو رہی ہیں، فیس بک انڈیا والوں کو ناراض نہیں کر سکتا،ہماری حکومتتوں نے آج تک ایسا کوئی کام نہیں کیا کہ سوشل میڈیا والوں کو کوئی جگہ دیں یا متبادل پلیٹ فارم دیں، میں نے کوئی چینل نہیں دیکھا جہاں کشمیر پر ڈے ٹو ڈے بیسز پر رپورٹنگ ہو رہی ہے، سوشل میڈیا کا بند ہونا انڈیا کی بہت جیت ہے، یہ ففتھ جنریشن وار ہے، بلاکنگ انفارمیشن، مس انفارمیشن ،یہی تو ہے ففتھ جنریشن وار.