Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم عمران خان سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی ملاقات

    وزیراعظم عمران خان سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی ملاقات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتایا کہ میری وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں کئی اہم امور پر بات چیت کی گئی

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے بارے میں تفصیلی بریف کیا کہ کس طرح وزارت ہوا بازی اپنی صنعت کو تباہ کر رہی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے میری طویل بات چیت ہوئی،وزیراعظم نے کچھ سیاسی معاملات پر بھی بات چیت کی اور اپنے موقف سے آگاہ کیا

    ملاقات کے موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل بھی موجود تھے

    یورپی ممالک نے پی آئی اے پر چھ ماہ کیلئے پابندی عائد کر دی، مبشر لقمان

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    طیارے کا کپتان جہاز اڑانے کے قابل نہیں تھا،مبشر لقمان کھرا سچ سامنے لے آئے

    پروازوں کی بندش، یورپی ممالک میں تعینات پی آئی اے عملہ بارے بڑا فیصلہ

    مبشرلقمان کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ، وباء سے متعلق خصوصی پیغام کیا دیں گے؟؟؟

     

  • نوازشریف نے اسامہ بن  لادن سے کتنی بار ملاقات کی؟ شیخ رشید کے نواز شریف سے دس سوال

    نوازشریف نے اسامہ بن لادن سے کتنی بار ملاقات کی؟ شیخ رشید کے نواز شریف سے دس سوال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ 15اکتوبر سے ریلوے کا پرانا شیڈول بحال ہوگا،

    لاہور میں ہفتہ وار اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ 20اکتوبر سے فریٹ ٹرین کی بکنگ لاہور سے شروع کی جائے گی،کسی شخص نے میری بات پر یہ نہیں کہا میں غلط کہہ رہاہوں،میں کسی سے ہدایات لیکر بات نہیں کرتا، یہ قومی ایشوز پر بات کرتے ہیں،

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف نے اسامہ بن لادن سے کتنی بار ملاقات کی؟ اجمل قصاب کے گھر کا پتہ غیرملکیوں کو کس نے دیا؟ عدالت طلب کرتی ہے توبہانہ بنایا جاتا ہے کہ طبیعت ٹھیک نہیں،میں سیاست میں بہت زیادہ سینئر ہوں،یہ سب لوگ مجھ سےبہت جونیئرہیں،نوازشریف ووٹ کی بات توکرتےہیں مگرکورٹ کی بات کیوں نہیں کرتے،

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ آج نوازشریف کے لیے دس سوال چھوڑکرجارہا ہوں،نوازشریف بتائیں اسامہ سے کتنی ملاقاتیں ہوئیں اور کتنا چندہ کیوں لیا،اجمل قصاب کے گھر کا پتہ غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کو کس نے دیا؟ بے نظیر کی بدنامی کے لئے پیٹر گلیبرگ کا لیٹر کس نے جاری کرایا؟ نوازشریف بتائیں وہ ملک سے باہرجاکرمودی کوکیوں کال کرتے تھے اورکتنی کالزکیں؟ نوازشریف بتائیں،سجاد علی شاہ پرحملے کے لیے لاہورسے بسیں کس نے بھیجیں؟ لندن سے نیب پر پتھراؤ کی منصوبہ بندی کتنے دنوں میں ہوئی؟ ووٹ کی بات کرتے ہیں کورٹ کی بات کیوں نہیں کرتے؟ عدالت طلب کرتی ہے تو بہانہ بنایا جاتا ہے کہ طبیعت ٹھیک نہیں، یہ قومی ایشوز پر ملاقات کرتے ہیں اور ذاتی ایجنڈے پر بات کرتے ہیں، قوم کو آگاہ کیا جائے انتخابات کیلئے قطر سے کتنی رقم آئی؟

    شیخ رشید اھمد کا مزید کہنا تھا کہ میں آرمی چیف سے ملاقات کروں تو میرے لیے اعزاز کی بات ہے،کسی ادارے کا ترجمان نہیں ہوں،میں کسی کا مشورہ لیتا نہیں دیتا ہوں،میں خفیہ ملاقاتیں نہیں کرتا ،دن میں ملتا ہوں اورخوشی سے ملاقات کرتا ہوں ،پیپلزپارٹی سندھ سے استعفا نہیں دے گی،ن لیگ کے کئی لوگ استعفا نہیں دیں گے جودیں گے انکی نشستوں پردوبارہ انتخابات ہونگے،نیب پرپتھراؤ کی سیاست لندن سے ہوئی،’’نون‘‘ اور’’شین ‘‘لیگ میں سے طوطا لیگ نہ نکل آئے،’’شین‘‘ لیگ بہتری کا راستہ اختیارکرنا چاہتی ہے،

  • اپوزیشن مانے یا نہ مانے، دنیا مان گئی،ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان کو بڑا اعزاز دے دیا

    اپوزیشن مانے یا نہ مانے، دنیا مان گئی،ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان کو بڑا اعزاز دے دیا

    ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان کو ” چمپیئن فار نیچر” کا اعزاز نواز دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم نے ملک امین اسلم کو چمپئن فار نیچر کا اعزاز وصول کرنے کی دعوت دیدی،چمپئن آف نیچر کا اعزاز لینے کے لیے ورلڈ اکنامک فورم نے معاون خصوصی ماحولیات کو مراسلہ لکھا ہے.

    ملک امین اسلم ورلڈ اکنامک فورم سے پاکستان کو ملنے والا عالمی اعزاز وصول کریں گے،پاکستان کو عالمی اعزاز کورونا کے دوران ماحول دوست فیصلے کرنے پر دیا گیا،کورونا کے دوران حکومت پاکستان نے درخت لگانے کی ہزاروں ملازمتیں دیں ،بلین ٹری سونامی، نیشنل پارکس بنانے ،پلاسٹ بیگز پر پابندی بھی عالمی اعزاز کا باعث بنی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    جنگ شروع ہوئی تو ختم نہیں ہو سکے گی،بھارت کا تذکرہ مناسب نہیں، وزیراعظم

    ملک امین اسلم کا کہنا ہے کہ کلین گرین پاکستان اور وزیر اعظم کی پالیسیوں کی بدولت بھی عالمی اعزاز ملا،

    اس سے قبل بھی بلین ٹری سونامی منصوبے کی عالمی سطح پر پذیرائی سامنے آ رہی ہے، عالمی تنظیموں نے وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کو مثالی قرار دیا تھا۔ عالمی تنظیموں کا لکھا گیا خط وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم نے کابینہ میں پڑھ کر سنایا تھا،عالمی تنظیم کے خط میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان کے ویژن پر عمل کرتے ہوئے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنا آسان ہو گا، کورونا کے دوران بھی شجر کاری مہم کا سلسلہ بہترین اقدام ہے۔ خط میں مزید کہا گیا کہ بیروزگاری، ماحولیاتی مسائل، جنگلات کی کمی، زیر زمین پانی کی کمی جیسے مسائل حل ہو سکیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کا بلین ٹری منصوبہ کامیاب رہا۔

    یاد رہے کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے لیکن اس ملک نے پائیدار ترقی کے حوالے سے طے شدہ تیرہواں ہدف مقررہ مدت سے دس برس پہلے ہی حاصل کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ نے پاکستان کو مبارک باد دی تھی۔ اقوام متحدہ کی پائیدار ترقی کے حوالے سے سالانہ رپورٹ پیش کی گئی، جس کے مطابق پاکستان نے کلائمیٹ ایکشن‘ کا ہدف نمبر تیرہ دس برس پہلے ہی حاصل کر لیا ہے۔

    سالانہ رپورٹ میں پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کی پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ہدف نمبر 13 کا مقصد زیادہ سے زیادہ پودے لگانا، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ اور ماحول دوست یا صاف توانائی میں سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرنا شامل ہیں۔

    پاکستان نے تینوں اہداف کے لیے متعدد پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔ ان میں 10 بلین ٹری سونامی پروگرام، کلین گرین پاکستان انیشی ایٹیو، کلین گرین پاکستان انڈیکس، پروٹیکٹیڈ ایریاز انشیایٹیو (15 نئے نیشنل پارکس کا قیام) اور گرین گروتھ جیسے پروگرام شامل ہیں۔ پاکستان پروگرامو‌ں پر عمل درآمد یو این ڈی پی کے تعاون سے جاری رکھے ہوئے ہے۔

    پاکستان میں پائیدار ترقی اور اہداف کے حوالے سے وزیر اعظم کے مشیر ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ بہت خوشی کا دن ہے کہ اس سال پائیدار ترقی کا تیرہواں ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔

    ملک امین اسلم نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے تمام ممالک کے ساتھ مل کر 2015ء میں پائیدار ترقی کے حوالے سے 17 اہداف مقرر کیے تھے اور انہیں 2030ء تک مکمل کیا جانا ہے، یہ تیرہواں ہدف ہماری وزارت نے بھی حاصل کرنا تھا، جو بڑی خوشی کی بات ہے کہ وقت سے پہلے ہی حاصل کر لیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق ایک عرصے تک پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا رہا ہے، جہاں جنگلاتی رقبہ ہمیشہ کم ہوتا رہا ہے لیکن حالیہ چند برسوں کے دوران اس صورتحال میں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ ورلڈ وائڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے حال ہی میں بلین ٹری منصوبے کا آغاز کیا تھا، جس کی وجہ سے صوبہ خیبرپختونخوا میں جنگلاتی رقبے میں چھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    ملک امین اسلم کا مزید کہنا تھا کہ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان پائیدار ترقی کے طے شدہ اہداف حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

    اقوام متحدہ کی پاکستان میں ترقیاتی عمل کی نگران نائب نمائندہ ایلونا نِکولیت کی طرف سے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام کی طرف سے ہم پاکستان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ سالانہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور فخر ہے کہ پاکستان نے پائیدار ترقی کے حوالے سے تیرہواں ہدف حاصل کر لیا ہے۔ پاکستان ماحول دوست توانائی کی جانب بڑھ رہا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی برادری کے بھی مفاد میں ہے۔

    تحفظ ماحول کے لیے سرگرم تنظیم جرمن واچ انڈیکس کی امسالہ رپورٹ کے مطابق اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے پاکستان کا شمار گزشتہ بیس برسوں کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دس ممالک میں ہوتا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں برس ماہ جنوری میں وزیراعظم عمران خان نے ورلڈ اکنامک فورم کے ایگزیکٹو چیئرمین پروفیسر کلاز شواب سے عالمی اقتصادی فورم کے کانگریس سنٹر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیراعظم نے پروفیسر شواب کو 50 ویں اجلاس پر مبارکباد دی۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ اس سال ورلڈ اکنامک فورم میں اجاگر کئے گئے مسائل پاکستان سے بھی متعلقہ ہیں۔ کلین اینڈ گرین پروگرام کے تحت دس ارب دررخت لگائے جا رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے ملک میں شجرکاری کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ نوجوان طبقے کو معاشی ترقی میں شراکت دار بنانے کے لئے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بڑھا رہے ہیں، فورم غربت کے خاتمے اور تعلیم کے حوالے سے پاکستان سے شرکت داری کر سکتا ہے

  • حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس رہتی دنیا تک کے انسانوں کیلئے حتمی نمونہ ہے۔ وزیراعظم

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس رہتی دنیا تک کے انسانوں کیلئے حتمی نمونہ ہے۔ وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی بنی نوع انسان کیلیے ہر دور میں مشعل راہ ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے رسولِ محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس رہتی دنیا تک کے انسانوں کیلئے حتمی نمونہ ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں قران مجید کی آیت کی تصویر بھی شیئر کی ہے،وزیراعظم عمران خان نے رب زدنی علما،یہ آیت شیئر کی جس کا ترجمہ بھی لکھا ہوا ہے کہ یا رب میرے علم میں اضافہ فرما

  • اسلاموفوبیا کے خاتمے کیلیے عالمی دن منایا جائے، وزیراعظم کا مطالبہ

    اسلاموفوبیا کے خاتمے کیلیے عالمی دن منایا جائے، وزیراعظم کا مطالبہ

    پاکستان : اسلاموفوبیا کے خاتمے کیلیے عالمی دن منایا جائے، وزیراعظم کا مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نےجنرل اسمبلی سے مطالبہ کرتے ہوئےکہا کہ اسلاموفوبیا کا خاتمہ کرنے کے لیے عالمی یوم منانے کا اعلان کیا جائے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کورونانے دنیاکوایک دوسرےسےقریب ہونے کا موقع فراہم کیا لیکن افسوس اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے مختلف ممالک نے اسلام مخالف جذبات کو بھڑکایا اورمسلمانوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا گیا،مزارات کو توڑا گیا، کسی ملک میں ہمارے نبی ﷺ کی توہین کی تو کسی ملک میں قرآن پاک کے بے حرمتی کی گئی اور یہ سب کچھ آزادی اظہار رائے کے نام پر کیا گیا، چارلی ہیبڈو میں دوبارہ شائع ہونے والے گستاخانہ خاکے اس کی مثال ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے خاتمے کیلیے عالمی دن منایا جائے ، دنیا کویہ پیغام دیا جائے کہ اسلام امن کا مذہب ہے اوراسلام ہی نجات کا مذہب ہے ، انہوں نے کہا کہ مسلمان یہ گستاخیاں کب تک برداشت کرتے رہیں گے

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نےنبی پاکؐ کی ریاست مدینہ کےتصورپرنئےپاکستان کاماڈل تشکیل دی ہے، کورونا کے دوران احساس پروگرام کےتحت چھوٹےکاروبار اورغریب افرادکونقد رقم دی گئی، حکومت کی تمام پالیسیوں کامقصد شہریوں کےمعیار زندگی میں اضافہ ہے۔

    وزیر اعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یو این کی 75 ویں سالگرہ انتہائی اہم سنگ میل ہے، وولکن اوسکر کو جنرل اسمبلی کا 75واں صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

  • بھارت میں سیکیولرازم کی جگہ ہندو راشٹریہ نے لی ہے،کہاں ہیں نام نہاد عالمی طاقتیں‌،بھارت کا محاسبہ کریں: وزیراعظم کا اقوام عالم سے تاریخی خطاب

    بھارت میں سیکیولرازم کی جگہ ہندو راشٹریہ نے لی ہے،کہاں ہیں نام نہاد عالمی طاقتیں‌،بھارت کا محاسبہ کریں: وزیراعظم کا اقوام عالم سے تاریخی خطاب

    اسلام آباد : بھارت میں سیکیولرازم کی جگہ ہندو راشٹریہ نے لی ہے، وزیراعظم کا اقوام عالم سے تاریخی خطاب ،اطلاعات کے مطابق بھارت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس انتہا پسند نظریے کی تشکیل 1920 کی دہائی میں کی ہوئی اور اس کے بانی اراکین نازی نظریات سے متاثر تھے، نازی یہودیوں کو نشانہ بناتے تھے اور آر ایس ایس مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نازی یہودیوں کو نشانہ بناتے تھے، آر ایس ایس مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں اور عیسائیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ ان کا ماننا ہے بھارت صرف ہندوؤں کے لیے ہے اور دیگر برابر کے شہری نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گاندھی اور نہرو کے سیکولرزم کی جگہ ہندو راشٹریہ بنانے کے خواب نے لی ہے اور یہاں تک کہ 20 کروڑ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ختم کرکے ہندو ریاست بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ 1992 میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا اور 2002 میں تقریباً دو ہزار مسلمانوں کا قتل عام وزیراعلی مودی کی قیادت میں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 2007 میں آر ایس ایس کے غنڈوں نے سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین پر سوار 50 سے زائد مسلمانوں کو زندگی جلادیا۔ان کا کہنا تھا کہ آسام میں امتیازی قوانین کے ذریعے 20 لاکھ مسلمانوں کو جبراً شہریت سے محروم کیے جانے کا خطرہ ہے۔

    بھارت میں اقلیتوں کو درپیش مظالم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ بھارت کے مسلمان شہریوں کی بڑی تعداد کو حراستی کیمپوں میں بھیجا جارہا یے، مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے جھوٹے الزام کے تحت بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو بعض اوقات طبی امداد سے بھی محروم رکھا جاتا اور ان کے کاروبار کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گاؤ رکھشا مسلمانوں پر بلا خوف و خطر حملے کررہے ہیں اور قتل کررہے ہیں، نئی دہلی میں گزشتہ فروری میں پولیس کی ملی بھگت سے مسلمانوں کو چن چن کر قتل کیا گیا، ماضی میں بڑے پیمانے پر رجسٹریشن کا عمل نسل کشی کا باعث بن چکا ہے۔

    مثالوں سےواضح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جرمنی 1935 میں نیورمبرگ قوانین اور 1982 میں میانمار کی مثال ہے، ہندو روا نظریہ کا مقصد 30 کروڑ سے زائد انسانوں مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کو محدود کرنا ہے، جس کی تارخ میں مثال نہیں ملتی اور بھارت کے مستقبل کے لیے بھی یہ نیک شگون نہیں ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان نےاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتےہوئے بھارتی مظالم اور گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اٹھادیا

    وزیراعظم عمران خان نےاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتےہوئے بھارتی مظالم اور گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اٹھادیا

    اسلام آباد : عمران خان نےاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتےہوئے بھارتی مظالم اور گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اٹھادیا
    وزیرااعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس میں آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب سے میری حکومت آئی ہے پاکستان کو نیاپاکستان بنارہے ہیں جو ریاست مدینہ کی طرز پر قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں امن و استحکام کی ضرورت ہے جومذاکرات سے ممکن ہے۔جنرل اسمبلی دنیا میں واحد ادارہ ہے جو امن حاصل کرنے میں ہماری مدد کرسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اندرونی معاملات میں مداخلت سمیت دیگر معاملات پر عمل مفقود ہوچکا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمگیر وبا نے غریب ممالک کی معاشی حالت کو مزید ابتر کردیا ہے

    وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمگیر وبا نے غریب ممالک کی معاشی حالت کو مزید ابتر کردیا ہےانہوں کہا کہ دنیا میں کوئی محفوظ نہیں ہے لاک ڈاؤن سے دنیا میں کساد بازاری ہوئی اور تمام ممالک غریب ہوئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن سے قبل ہم نے لاک ڈاؤن کے باعث بھوک سے زیادہ ہلاکتوں کے خدشے پر ہم نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی اور ہم نے زراعت کے شعبے کو فوری کھول دیا جس کے بعد تعمیراتی شعبے کو بھی کھول دیا۔

     

    وزیراعظم نے کہا کہ میری حکومت نے 8 ارب ڈالر صحت کے شعبے اور احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں کی مدد کے لیے مختص کیا، اس سے ہم نے نہ صرف وائرس کو پھیلنے سے روکا بلکہ معیشت کو بھی بحال رکھا۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے اقدامات کورونا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایک کامیاب کہانی بن چکی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے لیے پاکستان نے اگلے تین برسوں میں 10 ارب درخت لگانے کا پروگرام شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ وبا انسانیت کو متحد کرنے کے لیے ایک موقع تھا لیکن بدقسمتی سے قوم پرستی، بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہوا اور مذہبی سطح پر نفرت میں اضافہ ہوا اور اسلاموفوبیا بھی سر چڑھ کر بولنے لگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مقدس مزارات کو نشانہ بنایا گیا ہمارے پیغبمر ﷺ کی گستاخی کی گئی، قرآن کو جلایاگیا اور یہ سب کچھ اظہار آزادی کے نام پر کیا گیا، چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کی بات کی جو حالیہ مثال ہے۔

  • بہار میں بی جے پی کے غنڈوں کا مخالف پارٹی کے جلوس پر حملہ

    بہار میں بی جے پی کے غنڈوں کا مخالف پارٹی کے جلوس پر حملہ

    بھارتی صوبہ بہار میں انتخابات قریب آتے ہی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ بی جے پی کے غنڈوں نے مخالف جان ادھیکار پارٹی کی مقبولیت سے خائف ہو کر ان کے انتخابی جلسوں اورجلوسوں

    پر ڈنڈوں سے حملے شروع کردئے ہیں جان ادھیکار پارٹی کے سربراہ پپو یادیو،جو کہ اس وقت لوک سبھا کے رکن بھی ہیں، نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے جلوس پر جس طریقے سے حملہ کیا گیا اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے سبب 243ارکان پر مشتمل بہار قانون ساز اسمبلی کے لئے تین مراحل میں انتخابات ہونے جارہے ہیں اور 28 اکتوبر، 3 نومبر اور 7 نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 10 نومبر کو ہوگی۔ 

  • اقوام متحدہ میں خطاب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان کا افغان صدر اشرف غنی کوفون پاکستان کی بھرپورحمایت کا اعادہ کیا

    اقوام متحدہ میں خطاب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان کا افغان صدر اشرف غنی کوفون پاکستان کی بھرپورحمایت کا اعادہ کیا

    اسلام آباد:اقوام متحدہ میں خطاب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان کا افغان صدر اشرف غنی کوفون پاکستان کی بھرپورحمایت کا اعادہ کیا،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے رابطہ کرکے افغان امن عمل کے لیے ایک بار پھر پاکستان کی پختہ حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

    وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور افغان امن عمل و دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔

    وزیر اعظم نے افغان امن عمل کے لیے پاکستان کی پختہ حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ ان کوششوں سے امریکا ۔ طالبان امن معاہدہ اور بین الافغان مذاکرات کے آغاز کی صورت میں مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

    انہوں نے دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے متعلقہ فریقین کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا اور افغانستان میں فائر بندی کے سلسلے میں تشدد میں کمی کے لیے کام کرنے والے تمام افغان فریقین کی اہمیت پر زور دیا۔

    عمران خان نے کہا کہ تمام افغان شراکت داروں کو اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغان حکومت اور افغان عوام کی قیادت میں اجتماعی جامع سیاسی معاہدے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغان عوام کی جانب سے اپنے مستقبل کے لیے کیے جانے والے فیصلوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

    وزیراعظم عمران خان نے دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے کہا کہ پاکستان، افغانستان کے ساتھ تعمیری تعلقات اور افغان عوام کے لیے امن، استحکام و خوشحالی کو بڑی اہمیت دیتا ہےوزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغان قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداﷲ عبداﷲ آئندہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔انہوں نے افغانستان کے دورہ کی دعوت دینے پر صدر اشرف غنی کا شکریہ ادا کیا اور جلد دورہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ٕ

    واضح رہے کہ پاکستان مسلسل افغانستان کے فریقین کے درمیان بین الافغان مذاکرات کے آغاز اور ملک میں دیرپا امن و استحکام کے لیے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتا اور اس حوالے سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی پیشکش کرتا آیا ہے۔اسی سلسلے میں گزشتہ ماہ افغان طالبان کے وفد نے ملا عبدالغنی کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

    خیال رہے کہ 12 ستمبر کو قطر کے دارالحکومت دوحا میں مذاکرات کے آغاز کے بعد طالبان اور افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیمیں ملاقاتیں کر رہی ہیں، لیکن اب تک معاملات زیادہ آگے نہیں بڑھ سکے ہیں۔

    مذاکراتی ٹیموں کے درمیان دوحا میں تقریباً روز ہونے والی ملاقاتوں میں اب تک امن عمل کے قواعد و ضوابط پر ہی بحث ہو رہی ہے اور بیشتر اہم معاملات پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔

  • اپوزیشن استعفےدےاگلےروزانتخابات کرادیں‌ گے:ادارےملک میں کرپشن کےخلاف ہیں ،یہی ہماری حمایت ہے:وزیراعظم عمران خان

    اپوزیشن استعفےدےاگلےروزانتخابات کرادیں‌ گے:ادارےملک میں کرپشن کےخلاف ہیں ،یہی ہماری حمایت ہے:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد:اپوزیشن استعفے دے، اگلے روزانتخابات کرادیں‌ گے:ادارے ملک میں کرپشن کے خلاف ہیں،اسی لیے وہ ہماری حمایت کرتے ہیں‌،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ اگر اپوزیشن استعفے دے گی تو اگلے روز ضمنی انتخابات کرادیں گے۔

    اسلام آباد میں ٹی وی چیلنز کے نیوز ڈائریکٹرز سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی تقریر بھارت کے بیان کی عکاسی اور حکومت و آرمی کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی سازش تھی، ہم نے تقریر نشر کرنے کی اجازت اس لیے دی کہ آزادی اظہارِ رائے کا شور برپا ہوجاتا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے، فوجی قیادت ہمارے فیصلوں کی حمایت یا تائید اس لیے کرتی ہے کہ ہماری حکومت کرپٹ نہیں ہے‘۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میرا وژن ایک ایسا پاکستان ہے جس کےہاتھ میں کشکول نہ ہو‘۔

    عمران خان نے اعلان کیا کہ ’اگر اپوزیشن کے استعفے آئے تو ان نشستوں پر دوبارہ ضمنی انتخابات کرادیں گے، میں کرپشن پرکسی کو این آر او نہیں دوں گا، ضمنی انتخابات میں اپوزیشن ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکے گی‘۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’نوازشریف اور آصف زرداری کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں دیکھتا، یہ مولانا فضل الرحمان کو اپنے ساتھ اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس افرادی قوت نہیں ہے، جو فوجی قیادت سے چھپ کر ملتے ہیں ان کے بارے میں کیا کہوں کیونکہ مجھے اُن ملاقاتوں کا علم ہوتا ہے‘۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’اگلےسال سے ملک میں چینی اورگندم کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے حکمت عملی مرتب کرلی ہے، گیس بحران آئے گا جس کے لیے عوام کو تیار رہنا ہوگا کیونکہ ہم مہنگی گیس نہیں خرید سکتے‘۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ ملک میں 27 فیصد لوگ پائپ لائن، 73 فیصد لوگ بغیر پائپ لائن کے گیس استعمال کرسکتے ہیں،ہمیں عوام کو گیس کے استعمال سے متعلق آگاہی دینا ہوگی‘۔