باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی کی عوام کا درد پوری قوم محسوس کر رہی ہے،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مشکل اور تباہی کے بعد ہم مثبت سمت میں جارہے ہیں،وفاق سندھ حکومت کے ساتھ مل کر 3بڑے مسائل حل کرنے جا رہاہے،نالوں سے تجاوزات اور صفائی کا کام شروع کیا جا رہا ہے،کراچی کے نالوں کی مکمل صفائی کریں گے،
The whole nation feels the pain our people in Karachi are going through. However, out of this devastation & suffering there is now a positive development as my govt, along with the Sindh govt, is moving to immediately act & resolve 3 major problems of Karachi:
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ تجاوزات کا خاتمہ، سالڈ ویسٹ اور سیوریج کے مسائل کا مستقل حل نکالنا ترجیح ہے،کراچی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی کے اہم مسئلے کو حل کرنا ہے،
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا، اجلاس میں کراچی میں وفاق کے ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی کےعوام کو درپیش مسائل کا مکمل ادراک ہے،کراچی کے سیوریج، نکاسی آب اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر پلان تشکیل دیاجارہا ہے، کراچی کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وفاقی اداروں کو ہدایات دے دی گئیں،گرشتہ روز وزیر اعلیٰ سندھ سے کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد کی صورتحال پر گفتگو ہوئی،وفاق اور اداروں کی جانب سے ہر وزیراعلیٰ سندھ کو ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والا خطرناک کرونا وائرس پاکستان میں بتدریج کم ہو رہا ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں کرونا سے ایک موت ہوئی ہے جبکہ 319 نئے مریض سامنے آئے ہیں
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کورونا مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 95 ہزار 372 ہے جبکہ کرونا سے 6 ہزار 284 اموات ہوئی ہیں۔ ملک بھر میں کورونا ایکٹیو کیسز کی تعداد 8 ہزار 748 ہے اور 2 لاکھ 80 ہزار 340 کورونا متاثرین صحتیاب ہوچکے ہیں۔
کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار195 اور سندھ میں 2 ہزار394 اموات ہوئی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک ہزار250، اسلام آباد میں 175، بلوچستان میں 141، گلگت بلتستان میں 67 اور آزاد کشمیر میں کورونا سے اموات کی تعداد 61 ہے۔
سندھ میں ایک لاکھ29 ہزار81 اور پنجاب میں کورونا کے 96 ہزار636 کیسز سامنے آئے۔ خیبرپختونخوا میں 35 ہزار923، بلوچستان میں 12 ہزار742، اسلام آباد میں 15 ہزار578، آزادکشمیر میں 2ہزار277 اور گلگت بلتستان میں کورونا کے 2 ہزار816 مریض سامنے آئے
پاکستان میں اب تک کورونا کے 25 لاکھ 35 ہزار778 ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔ این سی او سی کے مطابق سپتالوں میں 114 مریض وینٹی لیٹرپر ہیں اور اسپتالوں میں کوروناوینٹی لیٹرزکی تعداد 1920 ہے۔ 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے سہولیات ہیں اور اس وقت ایک ہزار 76 مریض اسپتالوں میں داخل ہیں.
امریکہ، چین آمنے سامنے، چین نے امریکہ کو آئینہ دکھا دیا، بھارت بھی دم دم مست قلندر کیلئے تیار،سنئے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چین نے امریکہ کو آئینہ دکھا دیا ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ چائنہ نے امریکی کی نو فلائی زون پر پرواز پر ری ایکشن دے دیا، دو میزائل ساؤتھ سی میں فائر کئے، چائنہ نے منہ توڑ جواب نہیں دے دیا جس پر مبشر لقمان نے کہا تھا کہ سپرپاور ٹو سپرپاور جو ہوتا ہے وہ مسل فلیکسنگ ہوتی ہے، اس طرح کے جواب ٹینشن نہیں بڑھاتے خطے میں اپنے اپنے پٹھو کو ایکٹو کرتے ہیں اور ان کو آپس میں لڑاتے ہیں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نو فلائی زون میں آنا تھا انہوں نے فائر کر کے دکھا دیا، انہوں نے انکے اندرفائر نہیں کیا، ابھی اس میں بڑا ٹائم ہے، اس سے پہلے بہت کچھ ہو گا،مجھے لگ رہا ہے کہ انڈیا پرتول رہا ہے، اسکو کچھ نہ کچھ کرنا ہے، اتنی ٹروپ انگیجمنٹ اور اسلحہ کی ترسیل ہو رہی ہے وہ صرف پاکستان کے لئے نہیں کر رہا پہلے انڈیا کی پاکستان اور چائنہ کے لئے معاملہ الگ تھا، اب چائنہ کے ساتھ ایگریسو موڈ میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں جس دن آ گئے ہو جائے گا دما دم مست قلندر
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ چین نے کہا کہ وہ افغانستان اور طالبان کے مابین جلد مذاکرات کا خواہاں ہے عمران خان نے ڈاکٹر عبداللہ سے گفتگو کی ،لگتا ہے امریکہ کی چھٹی ہونے والی ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ امریکہ ہانگ کانگ میں مداخلت کر رہا ہے، اب چین افغانستا ن میں آ کر مداخلت کر لے اور انکو مزید شہہ دے دیں اتنے سال سے امریکہ یہان ہے ،اتنے ڈالر خرچ کرنے کے باوجود لوگ مروانے کے باوجود وہ سٹیک ہولڈر نہیں ہے.جو سٹیک ہولڈر ہیں وہ چین کے ساتھ بیٹھے ہیں، امریکہ کو انہوں نے آئینہ دکھا دیا ہے کہ ہانگ کانگ سے باز آؤ ورنہ ہم یہ کریں گے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مڈل ایسٹ میں کئی ممالک ختم ہو نے والے ہیں
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ فرانس نے زور دیا ہے کہ لبنان میں اصلاحات نہ کئے گئے تو صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فرانس ان ممالک میں سے ہے جس کا لبنان میں بڑا انٹرسٹ ہے، لبنانی انگریزی کم اور فرنچ زیادہ بولتے ہیں وہ اپنے آپ کو فرنچ سپیکنگ کنٹری کہلوانا چاہتے ہیں، انکے کافی شاپ،میوزک، قہوہ خانوں میں فرنچ نظر آئے گا، جب دھماکہ ہوا تھا تو فرنچ صدر سب سے پہلے پہنچ گئے تھے اور بغیر سیکورٹی کے گھوم رہے تھے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں مڈل ایسٹ میں کئی ممالک ختم ہو نے والے ہیں، مطلب انکی جغرافیہ بدلنے والا ہے، عراق 3 ممالک میں تقسیم ہو گا، سیریا اور یمن اسکے اندر بھی کافی افرا تفری ہو گئی ہے، یمن اب شاید بچ جائے ایرانی اور چینی مداخلت جو ہونے لگی ہے اسکو تھوڑی رقم مل گئے تو وہ پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سیریا کو سپورٹ مل رہی ہے لیکن ملٹری سپورٹ، اکنامک سپورٹ پتہ نہیں ملتی ہے یا نہیں، لبنان کے اوپر بہت زیادہ سٹیک ہولڈر ہیں، لبنان کی حکومت ریلو کٹا حکومت تھی ،شپ والے انکی بات نہیں مان رہے تھے، اتنے سال سے جہاز کھڑا تھا وہ ہٹا نہیں رہے تھے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کیسی تھی، اب کوئی حکومت میں آنا نہیں چاہتا،پھر وہ قبیلوں میں تقسیم ہوں گے، اسکا مطلب ہے کہ لبنان کسی نہ کسی دویژن کی طرف بڑھ رہا ہے
مشرق وسطیٰ کی تباہی ٹرمپ کا خواب کیوں؟کون کونسے ممالک ٹوٹنے والے ہیں،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ٹرمپ اور پومپو ایک امریکی الیکشن کے لئے مڈل ایسٹ میں آگ لگانے کے لئے گریز نہیں کر رہے،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ بحرین نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے امریکی دباؤ کو مسترد کر دیا ہے یہ ایف 35 ڈیل کی ناکامی کی وجہ ہو سکتی ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ ڈیل کی ناکامی نہیں ہے، امریکہ نے وہ بیچنے ہیں اور وہ خؤد منوائے گا، عرب ممالک کے اپنے خطرات ہیں وہاں لبرل فیصلوں کو کچھ لوگ قبول نہیں کرتے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں آپ یا عمران خان، شہباز شریف، آصف زرداری ہم سب فلسطین کی بات کرتے ہیں، جس طرح کشمیر میں ہمارے ہاں لوگوں کے رشتے دار ہیں جس طرح ہم اور آپ بات کرتے ہیں اس سے بھی سخت طریقے سے وہ فلسطین بارے بات کرتے ہیں، اس سب کو خراب کرنے کا ذمہ دار ٹرمپ اور پومپو کی ٹویٹس ہیں، ایک امریکی الیکشن کے لئے مڈل ایسٹ میں آگ لگانے کے لئے گریز نہیں کر رہے، بحرین فیصلہ کر بھی لے یا نہ بھی کرے انکو اتنا وقت دیں کہ وہ اہنے لوگوں کو اعتماد میں لیں، پھر کوئی بات کریں، آپ انکی حساسیت کا خیال نہیں رکھ رہے، صبح اٹھ کر ایک ٹویٹ کر دیتے ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دور بیٹھ کر مسائل کا پتہ نہیں، آپ کا اسلحہ بکنا چاہئے اور تیل کی بھی اب آپ کو ضرورت نہیں، بس آپ یہ چاہتے ہیں کہ اس خطے میں آپ کی صرف حاکمیت ہو، میرا خیال ہے کہ ٹرمپ اور پومپو نے کافی ڈیمج کیا مڈل ایسٹ کی پیس کاز کو، اور کل مائیک پومپو نے ایک اور حرکت کر دی ہے جس کا انکو ابھی نقصان ہوا ہے، ری پنلکن کنونشن میں شرکت کی، اس سے لگتا ہے کہ آفیشیل لوگ سیاست میں مداخلت کر رہے ہیں جو انکے آفیشیل ایکٹ کے خلاف ہے اب دیکھتے ہیں کہ امریکی سینیٹ اور سپریم کورٹ پومپو کے خلاف کیا کرتا ہے،پومپو کے لئے گھر کے اندر سے بری خبریں آنے والی ہیں
بڑا کارنامہ ، سندھ حکومت نے کراچی ڈیم بنا دیا، مبشر لقمان برس پڑے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں سوچ رہا تھا کہ ہم کراچی والوں کی بد نصیبی دیکھ رہے تھے بارش میں جو حال ہوا ہے اللہ رحم کرے، یہاں بزدار نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی،وہ لاہور کو بھی کراچی بنانا چاہتے ہیں، حکومت تو بعد میں ڈیم بنائے گی،صوبائی حکومتوں نے پہلے ہی منی ڈیم بنانا شروع کر دیئے ہیں شہروں میں، اس سے بڑی نااہلی کیا ہو گی، ہر سال کوئی مسئلہ ہوتا ہے، کوئی آفت آتی ہے، کبھی گندم ،کبھی چینی، آٹا، بارش، سیوریج اور ہر سال وہی وعدے ہوتے ہیں ساروں کے، ہمیں جمہوریت کا لیکچر دیا جاتا ہے، بارش نے ریکارڈ توڑا ہم بھی سو سال کی کرپشن اور نااہلی کے ریکارڈ توڑ چکے ہیں
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ بحرین نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے امریکی دباؤ کو مسترد کر دیا ہے یہ ایف 35 ڈیل کی ناکامی کی وجہ ہو سکتی ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ ڈیل کی ناکامی نہیں ہے، امریکہ نے وہ بیچنے ہیں اور وہ خؤد منوائے گا، عرب ممالک کے اپنے خطرات ہیں وہاں لبرل فیصلوں کو کچھ لوگ قبول نہیں کرتے، میں آپ یا عمران خان، شہباز شریف، آصف زرداری ہم سب فلسطین کی بات کرتے ہیں، جس طرح کشمیر میں ہمارے ہاں لوگوں کے رشتے دار ہیں جس طرح ہم اور آپ بات کرتے ہیں اس سے بھی سخت طریقے سے وہ فلسطین بارے بات کرتے ہیں، اس سب کو خراب کرنے کا ذمہ دار ٹرمپ اور پومپو کی ٹویٹس ہیں، ایک امریکی الیکشن کے لئے مڈل ایسٹ میں آگ لگانے کے لئے گریز نہیں کر رہے، بحرین فیصلہ کر بھی لے یا نہ بھی کرے انکو اتنا وقت دیں کہ وہ اہنے لوگوں کو اعتماد میں لیں، پھر کوئی بات کریں، آپ انکی حساسیت کا خیال نہیں رکھ رہے، صبح اٹھ کر ایک ٹویٹ کر دیتے ہیں، دور بیٹھ کر مسائل کا پتہ نہیں، آپ کا اسلحہ بکنا چاہئے اور تیل کی بھی اب آپ کو ضرورت نہیں، بس آپ یہ چاہتے ہیں کہ اس خطے میں آپ کی صرف حاکمیت ہو، میرا خیال ہے کہ ٹرمپ اور پومپو نے کافی ڈیمج کیا مڈل ایسٹ کی پیس کاز کو، اور کل مائیک پومپو نے ایک اور حرکت کر دی ہے جس کا انکو ابھی نقصان ہوا ہے، ری پنلکن کنونشن میں شرکت کی، اس سے لگتا ہے کہ آفیشیل لوگ سیاست میں مداخلت کر رہے ہیں جو انکے آفیشیل ایکٹ کے خلاف ہے اب دیکھتے ہیں کہ امریکی سینیٹ اور سپریم کورٹ پومپو کے خلاف کیا کرتا ہے،پومپو کے لئے گھر کے اندر سے بری خبریں آنے والی ہیں
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ چائنہ نے امریکی کی نو فلائی زون پر پرواز پر ری ایکشن دے دیا، دو میزائل ساؤتھ سی میں فائر کئے، چائنہ نے منہ توڑ جواب نہیں دے دیا جس پر مبشر لقمان نے کہا تھا کہ سپرپاور ٹو سپرپاور جو ہوتا ہے وہ مسل فلیکسنگ ہوتی ہے، اس طرح کے جواب ٹینشن نہیں بڑھاتے خطے میں اپنے اپنے پٹھو کو ایکٹو کرتے ہیں اور ان کو آپس میں لڑاتے ہیں، انہوں نے نو فلائی زون میں آنا تھا انہوں نے فائر کر کے دکھا دیا، انہوں نے انکے اندرفائر نہیں کیا، ابھی اس میں بڑا ٹائم ہے، اس سے پہلے بہت کچھ ہو گا،مجھے لگ رہا ہے کہ انڈیا پرتول رہا ہے، اسکو کچھ نہ کچھ کرنا ہے، اتنی ٹروپ انگیجمنٹ اور اسلحہ کی ترسیل ہو رہی ہے وہ صرف پاکستان کے لئے نہیں کر رہا پہلے انڈیا کی پاکستان اور چائنہ کے لئے معاملہ الگ تھا، اب چائنہ کے ساتھ ایگریسو موڈ میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں جس دن آ گئے ہو جائے گا دما دم مست قلندر
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ فرانس نے زور دیا ہے کہ لبنان میں اصلاحات نہ کئے گئے تو صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فرانس ان ممالک میں سے ہے جس کا لبنان میں بڑا انٹرسٹ ہے، لبنانی انگریزی کم اور فرنچ زیادہ بولتے ہیں وہ اپنے آپ کو فرنچ سپیکنگ کنٹری کہلوانا چاہتے ہیں، انکے کافی شاپ،میوزک، قہوہ خانوں میں فرنچ نظر آئے گا، جب دھماکہ ہوا تھا تو فرنچ صدر سب سے پہلے پہنچ گئے تھے اور بغیر سیکورٹی کے گھوم رہے تھے، آنے والے دنوں میں مڈل ایسٹ میں کئی ممالک ختم ہو نے والے ہیں، مطلب انکی جغرافیہ بدلنے والا ہے، عراق 3 ممالک میں تقسیم ہو گا، سیریا اور یمن اسکے اندر بھی کافی افرا تفری ہو گئی ہے، یمن اب شاید بچ جائے ایرانی اور چینی مداخلت جو ہونے لگی ہے اسکو تھوڑی رقم مل گئے تو وہ پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا سیریا کو سپورٹ مل رہی ہے لیکن ملٹری سپورٹ، اکنامک سپورٹ پتہ نہیں ملتی ہے یا نہیں، لبنان کے اوپر بہت زیادہ سٹیک ہولڈر ہیں، لبنان کی حکومت ریلو کٹا حکومت تھی ،شپ والے انکی بات نہیں مان رہے تھے، اتنے سال سے جہاز کھڑا تھا وہ ہٹا نہیں رہے تھے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کیسی تھی، اب کوئی حکومت میں آنا نہیں چاہتا،پھر وہ قبیلوں میں تقسیم ہوں گے، اسکا مطلب ہے کہ لبنان کسی نہ کسی دویژن کی طرف بڑھ رہا ہے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ ایران نے یونائیٹڈ نیشن کو دو سسپیکٹڈ نیوکلیر سائٹس کی ایکسیس دے دی ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ کونسی دو سائٹس ہیں، یہ وہی ہیں جن کی وجہ سے امریکہ نے ان پر پابندی لگوائی تھی، اقوام متحدہ میں امریکہ کی جو استدعا تھی ایران نے اسے مسترد کروا دیا، 15 میں سے 13 ممالک نے ایران کے حق میں ووٹ دیا، اب ایران سمجھتا ہے کہ ان سے تعلقات بنانے کے لئے ایکسیس دے دی جائے تا کہ وہ دیکھ لیں کہ ہمارا کس طرح کا پروجیکٹ ہے، ہمارا پیس فل پروجیکٹ ہے وہ خود امریکہ کو بتاتے رہیں گے، انہوں نے بیسکلی اقوام متحدہ کو عزت دی ہے کہ وہ اسکے لئے کھڑا ہوا،جس نے ہمیں عزت دی اسکو ہم اتنی عزت دیں کہ وہ امریکہ کے سامنے مستقل کھڑا ہو جائے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ چین نے کہا کہ وہ افغانستان اور طالبان کے مابین جلد مذاکرات کا خواہاں ہے عمران خان نے ڈاکٹر عبداللہ سے گفتگو کی ،لگتا ہے امریکہ کی چھٹی ہونے والی ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ امریکہ ہانگ کانگ میں مداخلت کر رہا ہے، اب چین افغانستا ن میں آ کر مداخلت کر لے اور انکو مزید شہہ دے دیں اتنے سال سے امریکہ یہان ہے ،اتنے ڈالر خرچ کرنے کے باوجود لوگ مروانے کے باوجود وہ سٹیک ہولڈر نہیں ہے.جو سٹیک ہولڈر ہیں وہ چین کے ساتھ بیٹھے ہیں، امریکہ کو انہوں نے آئینہ دکھا دیا ہے کہ ہانگ کانگ سے باز آؤ ورنہ ہم یہ کریں گے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ خلا میں چھوڑے جانے والے جتنے سیارے ہوتے ہیں ان میں سے ہر پانچواں سیارہ ملٹری سیارہ ہے اور وہ جاسوسی کے لئے استعمال ہوتا ہے جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ مجھے اس پر حیرانی ہے کہ پانچواں ہے، شاید تیسرا ہو، محتاط اندازے سے بات رہا ہوں کہ اسوقت خلا میں تقریبا 40 ہزار سیارے ہوں گے، شام کو اگر بیٹھیں ہوں گے تو میں دکھاؤں گا کہ سٹار اور سیٹلائٹ میں کیا فرق ہے،زیادہ بڑی، روشن ہو گی،اس کی وجہ یہ ہے کہ ایوریج سیٹلائٹ پہلے جتنی آٹھ دس ہزار تھی اسکے بعد انہوں نے اسکو ڈیجیٹل کر دیا ، وہ ری پلیس ہو گئیں، ہر سیٹلائٹ کی عمر ہوتی ہے، 15 سے 20 سال، اب ہو سکتا ہے زیادہ ہو، ہم جو پروگرام کرتے ہیں چینل پر پاک سیٹ یا ایشیا سیٹ پر اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ 5 ہزار چینل دے رہے ہیں جب ایک سیٹلائٹ ڈیڈ ہو جاتی ہے تو دوسری پر ڈیتا منتقل کرتے ہیں،جو ڈیڈ ہوتی ہے وہ گھومتی رہتی ہے کہیں جاتی نہیں،وہ کسی کو ضرورت نہیں اسکو اسی طرح چھوڑتے ہیں،ملٹری اسلئے بھی ہوتی ہیں ،بہت سی سویلین بھی ہوتی ہے لیکن وہ ملٹری کو رپورٹ کر رہی ہوتی ہیں، موسم والوں کی سیٹلائٹ ہے اور وہ سپارکو کے انڈر آتی ہے تو ان کیس آف وار اسکی فوٹیجز بتائیں گی کہ یہاں سے ویدر آ رہا ہے، یہاں سے کیا ہونا ہے، تصاویر لیتے ہیں، ایمرجنسی میں بہت سی سیٹلائٹ ملٹری نہ ہوتے ہوئے بھی کنورٹ ہو سکتی ہے، ڈیٹا ٹرانسمیشن کی جتنی سیٹلائٹ ہیں، پاکستان کا انٹرنیٹ فائبر آپٹکس کے ذریعے یو اے ای سے جا کر ملتا ہے ، وہاں سے ڈیٹا جنریٹ ہوتا ہے، یہ سارا پانی کے اندر کیبل ہے، بہت بڑی کیبل ہے اسکو سب میرین کیبل کہتے ہیں، جب انٹرنیٹ خراب ہو تو سب میرینز کو جانا پڑتا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب جارج بش نے نیو ورلڈ آرڈر کہا تھا تو اس میں 3 چیزیں تھیں، ایک کنٹرولنگ انفارمیشن، اکانومی اور پروٹیکٹنگ انوائرمنٹ تھی، جو ملک ترقی یافتہ ہے اسکے پاس انفارمیشن ہے، وہ اکنامک ایکتوٹی کا حب ہے،وہاں درخت نہیں کاٹنے دیئے جاتے، انوائرمنٹ بہت ہے،جن ملکوں کو ختم کرنا ہوتا ہے ، جیسے سیریا، ایران، لبنان وہان سب سے پہلے جو انوائر منٹ ہے اسکو ڈیمج کیا جاتا ہے پھر ہیلتھ کے مسائل ہوتے ہیں، انہی کو لڑتے رہتے ہیں پھر ساری عمر بجائے اسکے کے ترقی یافتہ ممالک کے آگے آ کر کھڑے ہوں .
اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی کوششوں اور حکمت عملی کی بدولت کورونا کے پھیلاﺅ کو روکا گیا ہے، خطرہ ابھی موجود ہے جس سے نمٹنے کے لئے پوری قوم کا تعاون درکار ہے، محرم الحرام میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، کراچی میں ہونے والی تباہی اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے مکمل تعاون کرے گی، سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے صوبائی حکومتوں سکولوں کی انتظامیہ اور دیگر متعلقین کی مشاورت سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کوویڈ 19 کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسد عمر، شفقت محمود ، غلام سرور خان، مخدوم خسرو بختیار، محمد حماد اظہر، سید فخر امام، مشیران ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، معاونین خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈاکٹر فیصل سلطان ، لیفٹنٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، ڈاکٹر معید یوسف، چئیرمین این ڈی ایم اے اور دیگر سینئر افسران شریک۔ وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور صوبائی وزرائے اعلیٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت-
وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کوویڈ -19 کا اجلاس ، اہم فیصلے pic.twitter.com/nd9QWOSiVC
اجلاس میں محرم الحرام کے دوران کورونا کے پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روکنے کے لئے اقدامات، سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی، ٹیسٹنگ، ٹریکنگ اور کوارنٹین اسٹرٹیجی پر عملدرآمد، مختلف شعبوں خصوصاً سیاحت کے حوالے سے ٹیسٹنگ کی حکمت عملی، مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن اور ہوائی شعبے کے حوالے سے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ-
وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اجلاس کو کورونا کے پھیلاؤ کی مجموعی صورتحال کے بارے میں تفصیلی طور پر بریفنگ دی۔ اس حوالے سے انہوں نے عالمی اور علاقائی ممالک اور پاکستان کی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا سے بچاؤ کے خلاف حکومت پاکستان کی جانب سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم اور حکومتی حکمت عملی کی بدولت پاکستان میں بیرونی دنیا اور خصوصاً ہمسایہ ممالک کی نسبت کورونا کے حوالے سے حالات میں واضح بہتری پائی جاتی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موثر اقدامات کی بدولت کورونا پازیٹیویٹی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔
اجلاس کو محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوسوں کے حوالے سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی اور ایس اوپیز پر عمل درآمد پر بریف کیا گیا۔
بہتر حالات کے پیش نظر سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے روڈ میپ ، سکولوں میں حفاظتی انتظامات اور ایس او پیز کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال-
وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کورونا کی بہتر صورتحال پر این سی او سی، میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، صوبائی حکومتوں اور دیگر تمام متعلقین کو مبارکباد دی اور کہا کہ موثر کوارڈینیشن اور جامع حکمت عملی کی بدولت کورونا کے خلاف کامیابی نصیب ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی کاوشوں اور حکمت عملی کی بدولت کورونا کے پھیلاؤ کو روکا گیا ہے تاہم ابھی خطرہ موجود ہے جس کے لئے پوری قوم کا تعاون درکار ہے۔ محرم الحرام کے دوران کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے ضمن میں وزیرِ اعظم نے ماسک و دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت پر خاص طور پر زور دیا۔ محرم الحرام کے دوران تعاون پر وزیرِ اعظم نے علمائے کرام ، ذاکرین اور مذہبی رہنماؤں کی جانب سے تعاون پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی رہنماؤں نے کورونا کے خلاف جنگ میں جس تعاون کا مظاہرہ کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔
وزیرِ اعظم نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سے کراچی کے حالات پر خصوصی طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہونے والی تباہی اور اس کے نتیجے میں عوام کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلے میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے ہر ممکن تعاون کرے گی اور اس ضمن میں تمام وفاقی اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ ریلیف سرگرمیوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے طویل المدتی پلان تشکیل دیا جا رہا ہے ۔ وہ آئندہ چند روز میں خود کراچی جائیں گے اور حالات کا جائزہ لیں گے۔
سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں صوبائی حکومتوں ، سکولوں کی انتظامیہ اور دیگر متعلقین کی مشاورت سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے تاکہ 15ستمبر کو سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے سات ستمبر کے اجلاس میں حتمی فیصلہ لیا جا سکے۔
اجلاس میں کورونا کی بہتر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اندرون ملک ہوائی سفر کے حوالے سے ہیلتھ پروٹوکولز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا
اسلام آباد : عوام کے دل کی آواز : دوہری شہریت کے حامل افراد پر پارلیمنٹ کا حصہ بننے پر پابندی لگانےکا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے دوہری شہریت کے حامل افراد پر پارلیمنٹ کا حصہ بننے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت آئین کے آرٹیکل 63 ون سی میں ترمیم کی جائے گی، ترمیم سے دوہری شہریت والوں کیلئے الیکشن جیتے کے بعد دوہری شہریت چھوڑنا لازم ہوگا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے ایک نئی آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت دوہری شہریت کے حامل افراد کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کیلئے آئین میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی دارالحکومت سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے آئین کے آرٹیکل 63 ون سی میں ترمیم کی منظوری دیدی ہے۔
ذرائع کے مطابق ترمیم کا مسودہ چند روز میں پارلیمنٹ سے بھی منظور کروایا جائے گا۔ ترمیم کے بعد دوہری شہریت رکھنے والا الیکشن جیتنے کے بعد اپنی نشست یا غیرملکی شہریت دونوں میں سے ایک چھوڑنے کا فیصلہ کرے گا۔مجوزہ ترمیم کے مطابق کہ الیکشن لڑنے کیلئے دوہری شہریت ترک کرنا لازمی نہیں ہوگا۔
یاد رہے سپریم کورٹ میں وزیراعظم کے دوہری شہریت کے حامل خصوصی معاونین اور وزیر اعظم کے ایک مشیر کی تقرری کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دینے اور مطلوبہ عہدوں پر تقرری کے نوٹیفکیشن کو واپس لینے کے لیے دوبارہ درخواست دائرکردی گئی ہے۔ یہ درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ کے 30 جولائی کو مسترد ہونے والی درخواست کے خلاف اپیل ہے۔
لاہور:عرب امارات کے وزیرخارجہ مبشرلقمان کے تجزیوں اورتبصروں سے متاثر، ٹویٹ کوری ٹویٹ کرکے اپنے اعتماد کا ثبوت دیا ،اطلاعات کے مطابق عرب امارات اوراسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کے تناظرمیں معروف صحافی مبشرلقمان کے تجزیوں اورتبصروں سے عرب امارات مکمل اتفاق کرتے ہوئے نظرآتے ہیں
باغی ٹی وی کےمطابق ابھی تھوڑی دیرپہلے عرب امارات کےوزیرخارجہ نے مبشرلقمان کی ٹویٹ کوری ٹویٹ کرکے اسے ایک حقیقت تسلیم کیا ،
ذرائع کےمطابق اس ٹویٹ میں سنیئر صحافی نے اب قوتوں کومخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ وہ قوتیں جوخود اسرائیل سے تنہائی میں محبت کی ڈوریں مضبوط کرتے ہیں آج وہ عرب امارات کو طعنے دیتے ہیں
اپنی ٹویٹ میں مبشرلقمان نے کہا تھا کہ یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک طرف اسرائیل سے خفیہ رابطے ہیں اوراگرعرب امارات نے عربوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی اختیارکی ہے تواس کی بلا جواز مخالفتکیجارہیہے
باغی ٹی وی کے مطابق معروف صحافی مبشرلقمان نے کہا تھا کہ ان ممالک کی شدید ترمخالفت کے باوجود خلیج تعاون کونسل کے وجود کو قائم رکھا ہے اوراسے فعال کرنے میںکردار ادا کیا ہے اس پراگرعرب امارات حکومت کی حکمت عملی کو نہ سراہا جائے تو یہ انصاف نہیں ہوگا
معروف صحافی کے ان تجزیوں اورتبصروں سے عرب امارات کی حکومت نہ صرف اتفاق کرتی ہے بلکہ سراہتی ہے بھی جیسا کہ ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرکے اپنا پیغام دیا ہے
یاد رہےکہ معروف صحافی جنوبی ایشیا ،مشرق وسطیٰ کے دفاعی ،معاشی اورسیاستی حالات پرگہری نظررکھتے ہیں اورہر اہم موقع پراپنا پیغام داغ کراپنی موجودی کا احساس دلاتے ہیں
تعلیمی سرگرمیوں کو بحال کرنے کیلئے حتمی شکل دی جائے، وزیراعظم
باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے صوبائی حکومتوں، سکولوں کی انتظامیہ اور دیگر متعلقین کی مشاورت سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے۔اس کے علاوہ اجلاس میں بہتر حالات کے پیش نظر سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے روڈ میپ، سکولوں میں حفاظتی انتظامات اور ایس او پیز کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کوویڈ 19 کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی کوششوں اور حکمت عملی کی بدولت کورونا کے پھیلاﺅ کو روکا گیا ہے، تاہم خطرہ ابھی موجود ہے جس سے نمٹنے کے لئے پوری قوم کا تعاون درکار ہے۔
اجلاس میں محرم الحرام کے دوران کورونا کے پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روکنے کے لئے اقدامات، سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی، ٹیسٹنگ، ٹریکنگ اور کوارنٹین سٹرٹیجی پر عملدرآمد، مختلف شعبوں خصوصاً سیاحت کے حوالے سے ٹیسٹنگ کی حکمت عملی، مائیکرو سمارٹ لاک ڈاؤن اور ہوائی شعبے کے حوالے سے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اجلاس کو کورونا کے پھیلاؤ کی مجموعی صورتحال کے بارے میں تفصیلی طور پر بریفنگ دی۔ اس حوالے سے انہوں نے عالمی اور علاقائی ممالک اور پاکستان کی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا سے بچاؤ کے خلاف حکومت پاکستان کی جانب سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ اللہ تعالی کے فضل وکرم اور حکومتی حکمت عملی کی بدولت پاکستان میں بیرونی دنیا اور خصوصاً ہمسایہ ممالک کی نسبت کورونا کے حوالے سے حالات میں ور دیا۔
اس سے قبل وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں فیس ماسک کااستعمال اورسماجی فاصلے پرعملدرآمد چیلنج ہوگا،حتمی فیصلہ 7 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا،تعلیمی اداروں کو یونیورسٹی ، کالجز ، ہائی اسکولز کی ترتیب کے مطابق کھولا جائے گا،
این سی او سی اجلاس میں شرکاء نے تجویز دی کہ تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولا جائے،تعلیمی اداروں کو بڑی سے چھوٹی کلاسز کی طرف مرحلہ وار کھولا جائے،پہلے یونیورسٹی پھر کالج اور بعد میں اسکول کھولے جائیں،تعلیمی اداروں میں زیادہ ہجوم والی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے،
این سی او سی اجلاس میں کہا گیا کہ تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے روٹیشن پالیسی اپنائی جائے گی ،حتمی فیصلے سے پہلے تعلیمی ادارے کورونا سے نمٹنے کےلیے تمام انتظامات تیار رکھیں