Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آرمی فلڈ ایمرجنسی کنٹرول سینٹر کراچی میں قائم کردیا گیا، آئی ایس پی آر

    آرمی فلڈ ایمرجنسی کنٹرول سینٹر کراچی میں قائم کردیا گیا، آئی ایس پی آر

    کراچی: آرمی فلڈ ایمرجنسی کنٹرول سینٹر کراچی میں قائم کردیا گیا،اطلاعات کےمطابق پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث کئی لوگ مختلف مقامات پر پھنسے ہیں، آرمی فلڈ ایمرجنسی کنٹرول سینٹر کراچی میں قائم کردیا گیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شدید بارشوں کے باعث سندھ کے کئی علاقے زیر آب آئے ہیں، کراچی اور حیدرآباد میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، کراچی کے علاقوں گلبرگ، لیاقت آباد، نیو کراچی میں میڈیکل کیمپ قائم کردیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کراچی کے 36 سے زائد مقامات پر بارش کا پانی نکالنے کا کام جاری ہے، کراچی میں 10 ہزار سے زائد افراد میں تیار کھانا تقسیم کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ناردرن بائی پاس کے پاس ایم 9 پر حفاظتی بند قائم کردئیے گئے ہیں، انجینئرز کے ملیر، سعدی ٹاؤن، گرڈ اسٹیشن پر تین ڈی واٹرنگ پلانٹ کام کررہے ہیں۔

    حکام کے مطابق آرمی انجینئرز نے پانی کے بہاؤ کے کنٹرول کے لیے مختلف حفاظتی بند قائم کردئیے گئے ہیں، قائد آباد کے قریب ملیر ندی میں پڑھنے والا کٹاؤ بھر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ کراچی میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی جس کے باعث نظام زندگی مکمل طورپردرہم برہم ہوگیا۔ شہرمیں متعدد سڑکیں اورشاہراہیں ایک بار پھر تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے.

    آئی ایس پی آر کے مطابق لطیف آباد میں ریلیف اور میڈیکل کیمپ قائم کیا گیا ہے۔ متاثرہ آبادی کو کھانا مہیا کیا گیا۔ آرمی انجینئر مختلف علاقوں کو پانی بہانے میں مصروف ہیں، اس کے علاوہ دادو میں بھی فوجی دستوں کو آگے بڑھنے کے لئے ہروقت تیاررہنے کا حکم دے دیا گیا ہے

    پاک فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق تحصیل جھڈو ضلع میرپورخاص میں پورین نالے کے کنارے شدید بارش اور قریبی پانچ دیہات میں پانی داخل ہونے کی وجہ سے دم توڑ گیا ہے۔ ان علاقوں میں پانی کے بہاو کو روکنے کے لئے فوج کے جوانوں اور سول انتظامیہ کی مشترکہ کوششوں سے کی گئی حائل مشکلات کو ختم کردیا گیا ہے

    آئی ایس پی آر کی طرف سے ہنگامی بنیادوں پررابطے کرنےکےلیے درج ذیل نمبرزدیئے گئے ہیں‌ !

    34491082  021
    99247267   021
    02199207795

     

  • بارش نےتباہی مچادی ، چھتیں، دیواریں اور آسمانی بجلی گرنے سے 7 افراد جاں

    بارش نےتباہی مچادی ، چھتیں، دیواریں اور آسمانی بجلی گرنے سے 7 افراد جاں

    بارش نےتباہی مچادی ، چھتیں، دیواریں اور آسمانی بجلی گرنے سے 7 افراد جاں

    باغی ٹی وی :بارش نے جہاں کراچی کو تلاب بنا دیا وہاں ملک کے دوسرے حصوں میں‌ بھی تباہی مچا دی ہے . ملک بھر میں بارشوں نے ہر چیز ڈبو دی، گلیاں اور سڑکیں ندی نالوں میں بدل گئیں۔ چھتیں، دیواریں اور آسمانی بجلی گرنے سے 7 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔ چترال میں سیلاب متعدد گھروں کو بہا کر لے گیا۔

    سرگودھا میں نشیبی علاقے ڈوب گئے۔ گلیوں اور بازاروں میں کئی فٹ پانی جمع ہو گیا۔ کرنٹ لگنے اور چھت گرنے سے دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔پنڈدادن خان میں دیوار گرنے سے دو بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔ حافظ آباد میں آسمانی بجلی نے بچے سمیت تین افراد کی جان لے لی جبکہ دو زخمی بھی ہوئے۔ فیصل آباد، منڈی بہاءالدین، ظفر وال اور چشتیاں میں بھی جل تھل ایک ہو گیا۔

    اپر چترال میں سیلابی ریلے سے ریشن کے مقام پر پل بہہ گیا۔ وادی کیلاش کے گاؤں رمبور میں سیلاب کی زد میں آ کر چار مکان تباہ ہو گئے۔ ریشن گول نالہ میں پانچ گھر ریلے میں بہہ گئے۔ بیس سے زائد گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔ڈیرہ بگٹی میں چھت گرنے سے بچہ زخمی ہو گیا۔ چٹ ڈیم میں دراڑ پڑ گئی۔ ندی کا بند ٹوٹنے سے فصلوں کو نقصان پہنچا۔ سیہون میں سعید آباد ٹاؤن کمیٹی آفس ڈوب گیا۔

    میرپور خاص میں بھی بارش کے باعث گلی اور محلوں میں پانی کھڑا ہے۔ پنگریو کے قریب ایل بی او ڈی سیم نالے میں شگاف پڑ گیا۔ پاک فوج نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ادھر چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی ہے۔ ہیڈ مرالہ میں پانی کی آمد 2لاکھ 12ہزار کیوسک تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام آباد میں سملی ڈیم اور راول ڈیم کی سطح بلند ہونے پر سپل ویز کھولنے پڑ گئے۔سواں دریا میں پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافے کے بعد ضلعی انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ میرپور آزاد کشمیر میں ندی نالے بپھر گئے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔ مظفر آباد میں دریائے نیلم میں سیاح پھنس گئے، مقامی افراد نے ریسکیو کیا۔

    ایم ڈی واٹر بورڈ خالد شیخ کا کہنا ہے کہ حب ڈیم میں برساتی پانی کی تیزی سے آمد جاری ہے،جلد ڈیم کے اسپیل وے سے پانی کا اخراج شروع ہوجائے گا ،شہری و ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کردیا گیا ہے،واٹربورڈ کا عملہ بھی الرٹ ہے،قریبی آبادی احتیاط کرے،ڈیم اور حب ندی سے دور رہا جائے

    کراچی ملیر نادعلی لیاقت اسکوائر جناح اسکوائر۔لیاقت مارکیٹ اردو نگر اور سعوداباد کھوکھراپار جانے والے روڈ پانی سے بھر گئے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کے بعد روڈوں پر پانی جمع ہو گیا،

    پی سی ایچ ایس سوسائٹی بلاک 6 میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا،کلفٹن میں دو تلوار سے تین کے درمیان کے پی ٹی انڈر پاس میں پانی بھر گیا،شون سرکل سے پنجاب کالونی آنے جانے والے انڈرپاس میں بھی بارش کا پانی جمع ہو گیا،دونوں انڈر پاس کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ، کلفٹن میں دو تلوار سے تین کے درمیان کے پی ٹی انڈر پاس میں پانی بھر گیا، کلفٹن میں 3تلوار ، کے پی ٹی انڈر پاس میں پانی بھر گیا

  • کراچی میں بارش سے نقصان پر وزیراعظم کا تشویش کا اظہار، گورنر سندھ کو دیا بڑا حکم

    کراچی میں بارش سے نقصان پر وزیراعظم کا تشویش کا اظہار، گورنر سندھ کو دیا بڑا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گورنرسندھ عمران اسماعیل کوٹیلیفون کیا ہے

    وزیراعظم عمران خان نے شہر قائد کراچی میں بارشوں سے ہونیوالے نقصان پراظہار تشویش کیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کو ہدایت کی ہے گورنرسندھ لوگوں کو ریلیف کے لیےاقدامات کریں، ارکان قومی اسمبلی لوگوں کی مدد کیلئےحلقے میں نکلیں،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ‏متاثرہ شہریوں کو کھانے پینے کی اشیا بروقت فراہم کی جائیں،صوبہ سندھ بالخصوص کراچی کے حالات سے واقف ہوں،نشیبی علاقوں میں متاثرین کومناسب مقامات پرپہنچایاجائے،

    بلوچستان میں بارشوں سے زمینی رابطے منقطع،بچہ ڈوب کا جاں بحق،9 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    پاک بحریہ کا کراچی میں بارش سے متاثرہ علاقوں میں سرچ ، ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن

    شہر قائد میں بارش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی، نکاسی آب کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے,کراچی ملیر ناد علی لیاقت اسکوائر جناح اسکوائر۔لیاقت مارکیٹ اردو نگر اور سعوداباد کھوکھراپار جانے والے روڈ پانی سے بھر گئے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کے بعد روڈوں پر پانی جمع ہو گیا،

    پی سی ایچ ایس سوسائٹی بلاک 6 میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا،کلفٹن میں دو تلوار سے تین کے درمیان کے پی ٹی انڈر پاس میں پانی بھر گیا،شون سرکل سے پنجاب کالونی آنے جانے والے انڈرپاس میں بھی بارش کا پانی جمع ہو گیا،دونوں انڈر پاس کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ، کلفٹن میں دو تلوار سے تین کے درمیان کے پی ٹی انڈر پاس میں پانی بھر گیا، کلفٹن میں 3تلوار ، کے پی ٹی انڈر پاس میں پانی بھر گیا

    موسلا دھار بارش کے بعد فیڈرل بی ایریا میں بھی تباہی ہوئی ہے،گجر نالہ بپھر جانے سے رحمان آباد واطراف کی آبادی میں پانی داخل ہو چکا ہے،ایف بی ایریا بلاک 5 گلیوں اور مکانات میں کئی کئی فٹ پانی داخل ہو چکا ہے،گجر نالے کا پانی مسجد میں بھی داخل ، علاقہ مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے،

    بارش کے بعدکنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن نے ایمرجنسی نافذ کی ہے ترجمان کے مطابق عملہ اوربھاری مشینری علاقوں میں موجو دہے،کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کا علا قہ سمندر کے قریب ہے،پانی کی نکاسی ممکن نہیں،علاقہ مکینوں سے احتیاط اور گھر میں رہنے کی درخواست ہے،کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل ہیں،

    کراچی بارش، وزیراعلیٰ سندھ کا پھنسے شہریوں کو سکولوں میں منتقل کرنے کا حکم

  • کراچی میں بارش، سڑکیں تالاب بن گئیں، انڈرپاسز بند، حب ڈیم بھر گیا،پانی گھروں میں داخل

    کراچی میں بارش، سڑکیں تالاب بن گئیں، انڈرپاسز بند، حب ڈیم بھر گیا،پانی گھروں میں داخل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد میں بارش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی، نکاسی آب کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

    ‏حب ڈیم 13 سال بعد مکمل بھر گیا، سطح آب 338 اشاریہ 5 کا نشان عبور کر گئی ،339 فٹ کے بعد حب ڈیم کے اسپل ویز سے پانی گرنا شروع ہو جائے گا ،حب ٹیم آخری مرتبہ سال 2007 میں مکمل طور پر بھرا تھا۔ اسپل ویز سے خارج ہونے والا پانی میں حب ندی کے راستے سمندر میں گرے گا .

    ایم ڈی واٹر بورڈ خالد شیخ کا کہنا ہے کہ حب ڈیم میں برساتی پانی کی تیزی سے آمد جاری ہے،جلد ڈیم کے اسپیل وے سے پانی کا اخراج شروع ہوجائے گا ،شہری و ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کردیا گیا ہے،واٹربورڈ کا عملہ بھی الرٹ ہے،قریبی آبادی احتیاط کرے،ڈیم اور حب ندی سے دور رہا جائے

    کراچی ملیر نادعلی لیاقت اسکوائر جناح اسکوائر۔لیاقت مارکیٹ اردو نگر اور سعوداباد کھوکھراپار جانے والے روڈ پانی سے بھر گئے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کے بعد روڈوں پر پانی جمع ہو گیا،

    پی سی ایچ ایس سوسائٹی بلاک 6 میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا،کلفٹن میں دو تلوار سے تین کے درمیان کے پی ٹی انڈر پاس میں پانی بھر گیا،شون سرکل سے پنجاب کالونی آنے جانے والے انڈرپاس میں بھی بارش کا پانی جمع ہو گیا،دونوں انڈر پاس کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ، کلفٹن میں دو تلوار سے تین کے درمیان کے پی ٹی انڈر پاس میں پانی بھر گیا، کلفٹن میں 3تلوار ، کے پی ٹی انڈر پاس میں پانی بھر گیا

    موسلا دھار بارش کے بعد فیڈرل بی ایریا میں بھی تباہی ہوئی ہے،گجر نالہ بپھر جانے سے رحمان آباد واطراف کی آبادی میں پانی داخل ہو چکا ہے،ایف بی ایریا بلاک 5 گلیوں اور مکانات میں کئی کئی فٹ پانی داخل ہو چکا ہے،گجر نالے کا پانی مسجد میں بھی داخل ، علاقہ مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے،

    بارش کے بعدکنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن نے ایمرجنسی نافذ کی ہے ترجمان کے مطابق عملہ اوربھاری مشینری علاقوں میں موجو دہے،کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کا علا قہ سمندر کے قریب ہے،پانی کی نکاسی ممکن نہیں،علاقہ مکینوں سے احتیاط اور گھر میں رہنے کی درخواست ہے،کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل ہیں،

    بارش کے بعد ناظم آباد اور غریب آباد انڈر پاس ٹریفک کے لیے بندکر دئے گئے،انڈر پاس پانی کے بھر جانے کی وجہ سے بند کیا گیا ،گاڑیوں کو انڈر پاسز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں،

    کراچی میں طوفانی بارش کے دوران ٹریفک ایسٹ پولیس عملہ عوام کی خدمت کے لئے سڑکوں پرموجود ہے،کراچی میں تیز بارش کے بعد ٹریفک کی روانی کو چیک کرنے کے لئے ایس ایس پی ٹریفک فرح امبرین صاحبہ نے بذات خود ایریا کا جائزہ لیا۔ اور افسران کو مزید بہترین کام کرنے کی ھدایت جاری کی۔

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    دنیا پانی سے بجلی بناتی ۔ ہم بجلی سے پانی بناتے

    ایس ایس پی صاحبہ نے ٹیپو سلطان ٹریفک کی روانی کو بہتر دیکھ کر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عملے کو شاباسی دی۔ اس وقت پورے ایسٹ زون میں بمپر ٹو بمپر ٹریفک کی روانی برقرار ہے ،ایس ایس پی صاحبہ نے تمام DSP اور SO کو ھدایت دی کہ خود اپنے ایریا کا جائزہ بھی لیتے رہیں۔

    کراچی میں تیز طوفانی بارش کے بعد کافی تعداد میں گاڑیاں سڑک کنارے بند ہوتے دیکھ کر ٹریفک ایسٹ پولیس کے افسران و جوانوں نے ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لئے دھکے لگا کر گاڑیاں اسٹارٹ کروائیں، یا محفوظ جگہوں پر منتقل کروائی۔ ایس ایس پی صاحبہ نے ٹریفک کی روانی کے ساتھ ساتھ عوام کی مدد کرنے والے جوانوں کے جذبے کو سراہا اور شاباسی دی۔

    بلوچستان میں بارشوں سے زمینی رابطے منقطع،بچہ ڈوب کا جاں بحق،9 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ

  • تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالہ سے این سی او سی میں اہم اجلاس، بڑا فیصلہ

    تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالہ سے این سی او سی میں اہم اجلاس، بڑا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں تعلیمی اداروں کو کھولنے سے متعلق سی این او سی کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں نجی تعلیمی اداروں اورمدارس کے نمائندوں نے شرکت کی،اجلاس میں شرکاکورونا کی ملکی و عالمی سطح پرصورتحال سے آگاہ کیا گیا،شرکا کو تعلیمی ادارے کھولنے کے بعد طلبہ کو درپیش خطرات کا جائزہ لیاگیا

    وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں فیس ماسک کااستعمال اورسماجی فاصلے پرعملدرآمد چیلنج ہوگا،حتمی فیصلہ 7 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا،تعلیمی اداروں کو یونیورسٹی ، کالجز ، ہائی اسکولز کی ترتیب کے مطابق کھولا جائے گا،

    این سی او سی اجلاس میں شرکاء نے تجویز دی کہ تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولا جائے،تعلیمی اداروں کو بڑی سے چھوٹی کلاسز کی طرف مرحلہ وار کھولا جائے،پہلے یونیورسٹی پھر کالج اور بعد میں اسکول کھولے جائیں،تعلیمی اداروں میں زیادہ ہجوم والی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے،

    این سی او سی اجلاس میں کہا گیا کہ تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے روٹیشن پالیسی اپنائی جائے گی ،حتمی فیصلے سے پہلے تعلیمی ادارے کورونا سے نمٹنے کےلیے تمام انتظامات تیار رکھیں

    این سی او سی اجلاس میں تمام صوبائی ، آزاد جموں و کشمیر کے مرکزی نمائندوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی ماہرین ، اور تھنک ٹینکس کے ساتھ خصوصی اور طویل مشاورت کے بعد ان چیلنجوں کو سامنے لایا گیا ہے ، خاص طور پر ہم تعلیمی ادارے کھولنے کے موقع پر کون کون سے کام کرنے ہیں۔

    تعلیمی ادارے کھولنے کے حتمی فیصلے سے قبل تعلیمی اداروں کو تمام کوڈ پروٹوکول کو یقینی بنانا چاہئے اور اسی کے مطابق تیاری کرنی ہوگی۔ این سی او سی نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ ٹریکنگ ، ٹریسنگ اور جانچ سے کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی۔

    ڈاکٹر فیصل سلطان نے شرکاء کو بتایا کہ این سی او سی اور وزارت صحت روزانہ کی بنیاد پر بیماریوں کے اعدادوشمار کی گہرائی سے نگرانی کریں گے ، خاص طور پر تعلیمی اداروں کے افتتاح پر بھی خیال رکھا جائے گا ، آئی ٹی پر مبنی مانیٹرنگ میکنزم تیار کیا جائے تاکہ صحت کی رہنما خطوط اور کوویڈ کنٹینمنٹ اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔

  • پاکستان میں کرونا سے مزید 6 اموات، 445 نئے مریض سامنے آ گئے

    پاکستان میں کرونا سے مزید 6 اموات، 445 نئے مریض سامنے آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس میں بتدریج کمی ہو رہی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں ‌کرونا کے 445 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 6 اموات ہوئی ہیں

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 94 ہزار 638 ہوگئی ہے اور اب تک 6 ہزار 274 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں

    پاکستان میں کورونا کے ایکٹیو کیسز8ہزار803رہ گئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 23 ہزار 441 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ملک میں کورونا سے صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 2 لاکھ 79 ہزار561 تک پہنچ گئی ہے۔

    کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار193 اور سندھ میں 2 ہزار384 اموات ہوئی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک ہزار248، اسلام آباد میں 175، بلوچستان میں 141، ‏گلگت بلتستان میں 65 اور آزاد کشمیر میں کورونا سے اموات کی تعداد 61 ہے۔پنجاب میں کورونا کے 96 ہزار 540 کیسز سامنے آئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 35 ہزار893، بلوچستان میں 12 ہزار721، اسلام آباد میں 15 ہزار562، آزادکشمیر میں 2272 اور گلگت بلتستان میں کورونا کے2ہزار773 مریض سامنے آئے ہیں

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں اب تک کورونا کے 25 لاکھ 35 ہزار778 ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔ سپتالوں میں 114 مریض وینٹی لیٹرپر ہیں اور اسپتالوں میں کوروناوینٹی لیٹرزکی تعداد 1920 ہے۔ 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کےلیے سہولیات ہیں اور اس وقت ایک ہزار 76 مریض اسپتالوں میں داخل ہیں

  • میر شکیل الرحمان کیس میں کیا غلط ہوا؟ سنئے مبشر لقمان کا کھرا سچ

    میر شکیل الرحمان کیس میں کیا غلط ہوا؟ سنئے مبشر لقمان کا کھرا سچ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میر شکیل الرحمان پر نیب نے بلا جواز کیس بنایا، میر شکیل پاکستان کے بڑے میڈیا ادارے کے مالک ہیں، اگر انکو جیل میں ڈال دیا گیا تو پھر کون محفوظ رہ سکتا ہے؟

    اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ آپ کے دوست لمبے پھنس گئے ہین انکا کیس نیب نے عدالت بھیج دیا، اور عدالت بھی انکو ریلیف نہیں دے رہی ،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کونسے دوست کی بات کر رہی ہیں ، اینکر مریم خان نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی بات کر رہی ہون، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بڑا مشکل ہے کہنا ،ہم نے تو میر شکیل اور انکے ادارے سے بڑی لمبی لڑائی کی ہے،ابھی تک ہمارے کئی کیسز آپس میں عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں، انہوں نے میرے اوپر اور میں نے ان کے اوپر کیے ہوئے ہیں، میں نے انکا نیب کا کیس دیکھا،یہ میرے خیال میں بلا جواز اور غلط ہے، جو ری ایکشن ہوا وہ انفرادی طور پر لوگوں نے دیا، کسی اینکر، وکیل ،تجزیہ کار ،سیاسی لیڈر نے دے دیا، پی بی اے ،اے پی این ایس، سی پی این ای کو اپنے ممبرز کو پروٹیکٹ کرنا چاہئے تھا، انکو دفاع کے لئے جانا چاہئے تھا،

    پاکستان اسرائیل کو تسلیم….چیئرمین سینیٹ نے سعودی سفیر سے ملاقات میں بڑا دعویٰ کر دیا

    ٹرمپ بضد، محمد بن سلمان سخت پریشان،سعودی عرب کا بڑا اعلان، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    شاہ محمود قریشی چین کیوں گئے؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    چین سے شاندار خبریں،تمام پروٹوکول ٹوٹ گئے،تاریخی معاہدے تیار، اندر کی کہانی، مبشر لقمان کی زبانی

    سرد جنگ کا خوفناک کھیل،پاکستان اہم ،امریکی پریشان ،ایران تگڑا اوراسرائیل میدان میں ، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    پاکستان نے کمال کر دیا، دنیا بھر کے سائنسدان پریشان، سنیے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس میں میر صاحب کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، نیب نے میر صاحب پر کوئی کیس کرنا تھا تو میرے سے پوچھ لیتے میں کوئی بہتر بتا دیتا، لیکن انہوں نے اب اسے نکل جانا ہے، یہ ایک غلط بیج پڑ گیا ،کسی بھی بات پر اندر کر دیا جاتا ہے،نیب کی پراسیکیوشن مجھے بہت کمزور لگ رہی ہے، میرا نہیں خیال کہ جو کیس انہوں نے دائر کیا اس پر زیادہ دیر جیل میں رہ سکیں، کیس بہت کمزور ہے، جسدن وہ سپریم کورٹ چلے گئے مجھے یقین ہے انکو ریلیز ملے گا،میر شکیل اور ان کے ادارے سے اختلافات اپنی جگہ لیکن جو بات غلط ہے، غلط ہے، اس پر سب کو ماننا پڑے گا، پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا کا ادارہ ہے،اسکے روح رواں کو اگر پکڑا جا سکتا ہے تو پھر کوئی بھی میڈیا والا غیر محفوظ ہو گا، ہمیں اس کے اوپر سوچ بچار کرنی چاہئے، سب کو ارباب اختیار کو بھی اور ہمیں بھی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب وہ اعلیٰ عدالت میں جائیں تو ہماری عدالتیں خود مختار ہیں اور میرٹ پر فیصلہ کرتی ہیں، آپ کی خواہش پوری نہیں ہو گی ،وہ رہا ہو جائیں گے،میں کل پرسوں آپ کو اس کیس کی مزید تفصیل بتاؤن گا،ہمیں پتہ تھا جب اے آر وائی پر پروگرام کیا تھا تو اسوقت 54 کنال کا ذکر کیا تھا، جو الزام لگے وہ سمجھ سے باہر ہیں، اگر وہ یہ کہتے کہ زمین کیوں خریدی،کیسے خریدی،یہ تو سمجھ آتا ہے لیکن جو بات انہوں نے کی وہ سمجھ میں نہیں آتی، اسوقت چیف منسٹر نواز شریف تھے، وہ چاہتے ہیں کہ میر صاحب ایفی ڈیوٹ دے دیں کہ نواز شریف نے یہ دیا، میاں صاحب تو کافی پی رہے ہیں لیکن باقی جو ایل ڈی اے کے لوگ ہیں وہ باہر ہیں انکو نہیں پکڑا ہوا، جس نے غلط کیا اسکو تو پکڑیں، نہ وہ وعدہ معاف گواہ بنے ہیں،پھر میرٹ پر یہ کیسے اندر؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میرا ایک کیس تھا اسلام آباد میں، کئی سال ہم نے بھگتا، میں اس پر کچھ نہیں کہنا چاہتا کیونکہ عدالتوں کی کاروائی پر بولنا صحیح نہیں ہوتا، جس نے بینر بنائے اسکوپولیس نے پکڑ لیا، میں اور میری ٹیم اسکو کبھی نہیں ملے،میں نے اسکو عدالت میں پہلی بار دیکھا،جب وہ پیش ہوا، اس کیس میں سب کی ضمانت ہو گئی،سوائے میرے، ایک آدمی کو مین ملا نہیں، کبھی فون پر بات نہیں لیکن میں پھنسا ہوا ہوں اور وہ بھائی جان نکل گئے،نیب کی کہانی بھی مجھے ایسی ہی لگتی ہے،نیب کو جواب دینا پڑے گا جس جس کو بھی اندر رکھا،فواد حسن فواد ہو، احد چیمہ،سعد رفیق،میر شکیل‌ صاحب،بھائی کیس ثابت تو کر لو،کیس کا کوئی نتیجہ نہیں،پراسیکیوشن ہی کمزور ہے،ہم کہتے ہیں کہ آج مریم نے اس رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں مجھے ثابت کرنا پڑے گا تصویر دکھانی پڑے گی، تاریخ اور ٹایم ہو گا، آپ اپنی آرگومنٹ کو پیش کریں، کوئی ثبوت، گواہ دے دیں، عدالت میں ثبوت دینے پڑتے ہیں جو میں دیکھا وہ نیب کے ہی خلاف ہے

  • نواز شریف کی رپورٹس غلط؟ عمران خان ڈٹ گئے،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    نواز شریف کی رپورٹس غلط؟ عمران خان ڈٹ گئے،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    نواز شریف کی رپورٹس غلط؟ عمران خان ڈٹ گئے،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عام تاثر یہ بن رہا ہے کہ یہ رپورٹ غلط ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف کی جو عمر ہے اس عمر میں ہر بندے کو کوئی نہ کوئی بیماری ہوتی ہے،ن لیگ کا مقصد لیڈر کو نکالنا تھا

    اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ آپ کے دوست لمبے پھنس گئے ہین انکا کیس نیب نے عدالت بھیج دیا، اور عدالت بھی انکو ریلیف نہیں دے رہی ،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کونسے دوست کی بات کر رہی ہیں ، اینکر مریم خان نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی بات کر رہی ہون، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بڑا مشکل ہے کہنا ،ہم نے تو میر شکیل اور انکے ادارے سے بڑی لمبی لڑائی کی ہے،ابھی تک ہمارے کئی کیسز آپس میں عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں، انہوں نے میرے اوپر اور میں نے ان کے اوپر کیے ہوئے ہیں، میں نے انکا نیب کا کیس دیکھا،یہ میرے خیال میں بلا جواز اور غلط ہے، جو ری ایکشن ہوا وہ انفرادی طور پر لوگوں نے دیا، کسی اینکر، وکیل ،تجزیہ کار ،سیاسی لیڈر نے دے دیا، پی بی اے ،اے پی این ایس، سی پی این ای کو اپنے ممبرز کو پروٹیکٹ کرنا چاہئے تھا، انکو دفاع کے لئے جانا چاہئے تھا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس میں میر صاحب کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، نیب نے میر صاحب پر کوئی کیس کرنا تھا تو میرے سے پوچھ لیتے میں کوئی بہتر بتا دیتا، لیکن انہوں نے اب اسے نکل جانا ہے، یہ ایک غلط بیج پڑ گیا ،کسی بھی بات پر اندر کر دیا جاتا ہے،نیب کی پراسیکیوشن مجھے بہت کمزور لگ رہی ہے، میرا نہیں خیال کہ جو کیس انہوں نے دائر کیا اس پر زیادہ دیر جیل میں رہ سکیں، کیس بہت کمزور ہے، جسدن وہ سپریم کورٹ چلے گئے مجھے یقین ہے انکو ریلیز ملے گا،میر شکیل اور ان کے ادارے سے اختلافات اپنی جگہ لیکن جو بات غلط ہے، غلط ہے، اس پر سب کو ماننا پڑے گا، پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا کا ادارہ ہے،اسکے روح رواں کو اگر پکڑا جا سکتا ہے تو پھر کوئی بھی میڈیا والا غیر محفوظ ہو گا، ہمیں اس کے اوپر سوچ بچار کرنی چاہئے، سب کو ارباب اختیار کو بھی اور ہمیں بھی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب وہ اعلیٰ عدالت میں جائیں تو ہماری عدالتیں خود مختار ہیں اور میرٹ پر فیصلہ کرتی ہیں، آپ کی خواہش پوری نہیں ہو گی ،وہ رہا ہو جائیں گے،میں کل پرسوں آپ کو اس کیس کی مزید تفصیل بتاؤن گا،ہمیں پتہ تھا جب اے آر وائی پر پروگرام کیا تھا تو اسوقت 54 کنال کا ذکر کیا تھا، جو الزام لگے وہ سمجھ سے باہر ہیں، اگر وہ یہ کہتے کہ زمین کیوں خریدی،کیسے خریدی،یہ تو سمجھ آتا ہے لیکن جو بات انہوں نے کی وہ سمجھ میں نہیں آتی، اسوقت چیف منسٹر نواز شریف تھے، وہ چاہتے ہیں کہ میر صاحب ایفی ڈیوٹ دے دیں کہ نواز شریف نے یہ دیا، میاں صاحب تو کافی پی رہے ہیں لیکن باقی جو ایل ڈی اے کے لوگ ہیں وہ باہر ہیں انکو نہیں پکڑا ہوا، جس نے غلط کیا اسکو تو پکڑیں، نہ وہ وعدہ معاف گواہ بنے ہیں،پھر میرٹ پر یہ کیسے اندر؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میرا ایک کیس تھا اسلام آباد میں، کئی سال ہم نے بھگتا، میں اس پر کچھ نہیں کہنا چاہتا کیونکہ عدالتوں کی کاروائی پر بولنا صحیح نہیں ہوتا، جس نے بینر بنائے اسکوپولیس نے پکڑ لیا، میں اور میری ٹیم اسکو کبھی نہیں ملے،میں نے اسکو عدالت میں پہلی بار دیکھا،جب وہ پیش ہوا، اس کیس میں سب کی ضمانت ہو گئی،سوائے میرے، ایک آدمی کو مین ملا نہیں، کبھی فون پر بات نہیں لیکن میں پھنسا ہوا ہوں اور وہ بھائی جان نکل گئے،نیب کی کہانی بھی مجھے ایسی ہی لگتی ہے،نیب کو جواب دینا پڑے گا جس جس کو بھی اندر رکھا،فواد حسن فواد ہو، احد چیمہ،سعد رفیق،میر شکیل‌ صاحب،بھائی کیس ثابت تو کر لو،کیس کا کوئی نتیجہ نہیں،پراسیکیوشن ہی کمزور ہے،ہم کہتے ہیں کہ آج مریم نے اس رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں مجھے ثابت کرنا پڑے گا تصویر دکھانی پڑے گی، تاریخ اور ٹایم ہو گا، آپ اپنی آرگومنٹ کو پیش کریں، کوئی ثبوت، گواہ دے دیں، عدالت میں ثبوت دینے پڑتے ہیں جو میں دیکھا وہ نیب کے ہی خلاف ہے

    اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ ن لیگ مولانا فضل الرحمان کو منانے انکی رہائشگاہ پہنچ گئی،اور تمام اپوزیشن پارٹیوں کو ایوان میں اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ اس پروگرام کو مولانا لیڈ کریں گے، ایوان میں لانے کی کیا بات ہے،مولانا کو آگے ضرور لگا رہے ہیں لیکن لیڈر شپ کی بھاگ دوڑ دینے میں گھبرا رہے ہیں کیونکہ ایوان میں مولانا نہیں ہے، لیکن یہ ہے کہ ن لیگ ،پی پی کا ایک کمال تو ہے کہ یہ سیاسی جماعتیں ہیں اور انکو سیاسی انگیج کرنا آتا ہے لوگوں کو، ضروری نہیں کہ میں انکے ایجنڈہ سے متفق ہوں لیکن وہ ماحول ضرور بناتے ہیں،میں نے کہا تھا کہ محرم کے فوری بعد رابطے شروع ہو جائیں گے ، وہ پہلے شروع ہو گئے

    اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کے تحریک انصاف کے لوگ جعلی قرار دے رہے ہیں جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد کہہ رہی ہیں کہ وہ رپورٹ درست ہے،آپ کو نہیں لگتا کہ پارٹی کے اندر اتفاق نہیں ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتاکہ رپورٹ درست تھی،یاسمین راشد غلط کہہ رہی ہے، جو کنڈیشن عدالت میں بتائی گئی کہ جی یہ سروائیو نہیں کرنا اس مریض نے عدالت نے کہا کہ زندگی کی گارنٹی تو حکومتی وکیل نے ہاتھ کھڑے کر دیئے،لوگوں نے یہ تاثر پایا کہ ابھی گئے اس طرح کی خبریں چلوائی گئیں پھر وہ گئے اور جس طرح وہ گئے سیڑھیاں چڑ کر گئے،جہاز میں بیٹھے، قطر مین سٹے کیا، پھر لندن پہنچے، لندن میں ایک رات ہسپتال میں نہیں رہے،پھر اسکے بعد وہ کبھی اس کافی شاپ میں، کبھی شاپنگ، کبھی واک کر رہے ہیں، عام تاثر یہ بن رہا ہے کہ یہ رپورٹ غلط ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف کی جو عمر ہے اس عمر میں ہر بندے کو کوئی نہ کوئی بیماری ہوتی ہے،ن لیگ کا مقصد لیڈر کو نکالنا تھا وہ نکال لی، اب پی ٹی آئی ایک پیج پر نہیں ، یا تو یاسمین راشد، یا پھر وفاقی وزرا غلط ہیں، دونوں میں سے ایک پر ایکشن ہونا چاہئے، اگر ایکشن نہیں ہوتا تو حکومت کی نااہلی ہو گی، یا یاسمین راشد کو فارغ کریں یا وزرا کو

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تو سلمان شہباز، اسحاق ڈار کو نہیں لا سکے، عابد شیر علی کو نہیں لا سکے، جہانگیر ترین چلے گئے، تو میاں صاحب کو کہاں سے لا سکتے ہیں، اس طرح کی چیزں اپوزیشن کے لئے ہوتی ہیں، ن لیگ کو نیچے لگانے کے لئے انکے لیڈر کی دوڑیں لگواتی ہیں، یہ ہو رہا ہے کہ تم حکومت پر پریشر کم کرو، نواز شریف آئیں گے وہ تب آئیں گے جب انکی چوائس ہو گی، آپکی او رمیری خواہش پر انہوں نے نہیں آنا، الطاف حسین کا اوپن کیس ہے، اس حکومت کا کونسا ادارہ ہے جس نے الطاف حسین کو عمران فاروق قتل کیس میں برطانوی اداروں سے الطاف کو واپس لانے کی کوشش کی، باتیں کرنے کی اور ہوتی ہیں عملی جامہ پہنانا اور بات ہے

  • پاکستان نے بھارتی ایجنسی کی نام نہاد ’’چارج شیٹ‘‘ کو واضح طور پر مسترد کر دیا،بھارت الزام تراشی سے بازآجائے

    پاکستان نے بھارتی ایجنسی کی نام نہاد ’’چارج شیٹ‘‘ کو واضح طور پر مسترد کر دیا،بھارت الزام تراشی سے بازآجائے

    اسلام آباد:پاکستان نے بھارتی ایجنسی کی نام نہاد ’’چارج شیٹ‘‘ کو واضح طور پر مسترد کر دیا،بھارت الزام تراشی سے بازآجائے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے بھارتی ایجنسی این آئی اے کی نام نہاد ’’چارج شیٹ‘‘ کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پلوامہ حملے میں شرارتی طور پر پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن پاکستان نے بھارتی ایجنسی این آئی اے کی نام نہاد ’چارج شیٹ‘ کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ چارج شیٹ بی جے پی کے پاکستان مخالف بیان اور سیاسی مفاد کو بڑھانے کے لیے تیار کی گئی، ابتدا ہی میں پاکستان نے بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا پاکستان نے کسی قابل عمل معلومات کی بنیاد پر تعاون بڑھانے پر آمادگی کا بھی اظہار کیا تھا لیکن بھارت اپنے محرکات کے لیے کوئی قابل اعتماد ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا، بھارت پلوامہ حملے کو پاکستان کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا پلوامہ حملہ بھارت میں لوک سبھا انتخابات سے محض 2 ماہ قبل کیا گیا، حملے میں استعمال ہونے والا دھماکا خیز مواد آئی او جے کے اندر سے اکٹھا کیا گیا تھا، اور حملے میں ملوث اہم ملزم پہلے ہی بھارتی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں، دنیا جانتی ہے پلوامہ حملے سے کس نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا اور انتخابی منافع حاصل کیا۔

    پاکستان نے پلوامہ حملے کے مندرجات کی جانچ کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی، ترجمان کے مطابق بھارت اپنے پروپیگنڈے کے ذریعے عالمی برادری کو گمراہ نہیں کر سکتا، الزام تراشی کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، بھارت انسانی حقوق کی پامالیوں، آر ایس ایس، بی جے پی کی غلط بیانی چھپانا چاہتا ہے۔

    یاد رہے بھارتی طیارہ 26 فروری 2019 کو پاکستان کے خلاف کارروائی میں مصروف تھا، پاکستان نے پاک فضائیہ کے ذریعے بھارتی بد انتظامی کا مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں 2 ہندوستانی جنگی طیارے گرے، اور ایک بھارتی پائلٹ پکڑا گیا، بھارتی اشتعال انگیزیوں کے باوجود پائلٹ کو امن کے اشارے کے طور پر رہا کیا گیا۔

  • پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی بھارتی انٹیلیجنس کی رپورٹ،پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی بھارتی انٹیلیجنس کی رپورٹ،پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پلوامہ واقعہ سے متعلق بھارتی انٹیلیجنس کی رپورٹ پاکستان کے خلاف مزموم ایجنڈے کا حصہ ہے۔

    دفترخارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں پاکستان نے پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی بھارتی انٹیلیجنس کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ پاکستان کے خلاف مذموم ایجنڈے کا حصہ ہے، جسے کشمیریوں پرمظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے جاری کیا گیا۔ ھارتی ایجنسی این آئی اے نے پلوامہ حملے میں پاکستان کو ملوث کرنے کی ناکام کوشش کی ہے، چارج شیٹ میں بی جے پی کے پاکستان مخالف بیانیے کوآگے بڑھایا گیا ہے، بھارتی حکمرانوں کا پاکستان مخالف بیانیے کا مقصد داخلی سیاسی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی لوک سبھاکے الیکشن سے قبل پلوامہ کا ڈرامہ رچایا گیا، واقعہ کے بعد بھارت مسلسل پاکستان مخالف پروپیگنڈا چلا رہا ہے، پاکستان نے پلوامہ واقعہ کے فوری بعد تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی، پلوامہ حملہ پرنامکمل بھارتی معلومات پر بھی پاکستان نے مکمل تحقیقات کیں۔ 26 فروری کو بھارتی فوجی جہازوں نے پاکستان کے خلاف ناکام کارروائی کی، پاکستان نے اس ناکام بھارتی مہم جوئی کامنہ توڑجواب دیا، پاک فضائیہ کی مؤثرجوابی کارروائی سے بھارت کے دو جنگی جہاز تباہ ہوئے، بھارتی اشتعال انگیزیوں کے باوجود پاکستان نے امن کی خاطر بھارتی پائلٹ کو رہا کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی انتخابات سے قبل حملہ کی ٹائمنگ، مرکزی ملزم کا مارا جانا سوالات کو جنم دیتا ہے، دنیا جانتی ہے بھارتی انتخابات میں پلوامہ حملہ کا فائدہ کس نے اٹھایا، بھارت مقبوضہ کشمیرمیں ریاستی دہشتگردی سےتوجہ ہٹانا چاہتا ہے، ایسا پروپیگنڈا کر کے بین الاقوامی رائےعامہ کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا، پاکستان بھارتی فالس فلیگ آپریشن کے خدشے سے عالمی برادری کو آگاہ کرچکا ہے، بھارت میں ریاستی انتخابات سے پہلے سیاسی فائدے کے لیے پاکستان پرالزام تراشی کی جارہی ہے۔

    واضح رہے کہ بھارتی کی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر سمیت 19 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ چارج شیٹ جموں میں واقع این آئی اے کی خصوصی عدالت میں داخل کی گئی۔ این آئی اے نے پلوامہ خود کش حملے کے 18 ماہ بعد تیرہ ہزار پانچ سو صفحات کی چارج شیٹ فائل کر دی ہے۔ اس چارج شیٹ میں جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر سمیت 19 افراد کا نام بطور ملزم شامل کیا گیا ہے۔چارج شیٹ میں جیش محمد چیف کے علاوہ ان کے بھائی عبدالروف اصغر اور عمار علوی اور بھیتجے عمر فاروق کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ 14 فروری 2019 کو پلوامہ کے لیتھہ پورہ علاقے ہوئے خود کش حملے میں سی آر پی ایف کے 40 جوان ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں بہت زیادہ تلخی آگئی تھی۔اس چارج شیٹ میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔

    چارج شیٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے پاس سے فون ملے ہیں، جس میں خود کش حملے سے پہلے کے کئی منصوبے اور تصویریں برآمد ہوئی ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق چارج شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ کہ لیتھ پورہ میں فرنیچر کی دوکان کرنے والے شخص نے عادل ڈار کو نیم فوجی دستے کے قافلے کی پوری اطلاع دی، جس کے بعد اس حملے کو انجام دیا گیا۔چارج شیٹ میں جن 19 افراد کا نام شامل ہے ان میں سے سات این آئی اے کی حراست میں ہیں۔ چارج شیٹ میں مسعود اظہر، روف اصغر علوی، عمار علوی اور محمد اسماعیل کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چارج شیٹ میں پلوامہ کے کاکہ پورہ کا شاکر بشیر، انشا جان، پیر طارق احمد شاہ، محمد عباس راتھر، پلوامہ کے لال ہار کے بلال احمد کھچے، بڈگام کے چرار شریف کے رہنے والے محمد اقبال راتھر، سرینگر کے واعظ الاسلام، سمیر احمد ڈار ساکنہ کاکہ پورہ پلوامہ، عاشق احمد ننگرو ساکنہ راجپورہ پلوامہ، ہلاک شدہ عادل احمد ڈار، محمد عمر فاروق ، محمد کامران علی ، سجاد احمد بٹ ساکنہ بجہباڑہ، مدثر احمد خان ساکنہ اونتی پورہ پلوامہ، قاری یاسر شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس پلوامہ حملے میں چالیس سے زائد بھارتی فوج ہلاک ہو گئے تھے، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگایا تھا اور بھارت نے بالا کوٹ میں سرجیکل سٹرائیک کی ناکام کوشش تھی. 27 فروری کو بھارت کے دو طیارے پاک فضائیہ نے گرائے تھے. پلوامہ حملے کے بعد بھارت کے طیارے بالا کوٹ پے رول گرا کر فرار ہو گئے تھے جس کے بعد اگلے روز پاکستان نے بھارت کے دو طیارے مار گرائےتھے اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا تھا جسے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے رہا کرنے کا اعلان کیا تھا

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    مقبوضہ کشمیر، پلوامہ میں کار بم دھماکا

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام