پاک فوج کی شہر قائد میں امدادی سرگرمیاں جاری ، سول انتظامیہ کیساتھ مختلف مقامات پر 32 میڈیکل کیمپ قائم
باغی ٹی وی : بارش کے بعد ہنگامی صورتحال کے پیش نظر پاک فوج کی شہر قائد میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ سول انتظامیہ کیساتھ مختلف مقامات پر 32 میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سرجانی ٹاؤن، قیوم آباد اور سعدی ٹاؤن میں آرمی کے 3 موبائل ہسپتال بھی قائم ہیں، اس کے علاوہ متاثرہ افراد کے لیے 56 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔
کراچی کے 9 مختلف مقامات پر نکاسی آب کے لیے کام کیا گیا ہے۔ پاک فوج کے جوان متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ بارش سے متاثرہ افراد کو طبی امداد دینے کیلئے سرجانی ٹاؤن میں 50 بیڈز کا ہسپتال قائم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حیدر آباد، بدین اور دادو میں بھی پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
ادھر وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا، اجلاس میں کراچی میں وفاق کے ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی کےعوام کو درپیش مسائل کا مکمل ادراک ہے،کراچی کے سیوریج، نکاسی آب اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر پلان تشکیل دیاجارہا ہے، کراچی کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وفاقی اداروں کو ہدایات دے دی گئیں،گرشتہ روز وزیر اعلیٰ سندھ سے کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد کی صورتحال پر گفتگو ہوئی،وفاق اور اداروں کی جانب سے ہر وزیراعلیٰ سندھ کو ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کا اہم ترین شہر ہے،ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروکار لائےجائیں گے
کراچی پاکستان کا اہم ترین شہر،وزیراعظم کا کراچی کے مسائل کے حل کیلئے بڑا اعلان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا، اجلاس میں کراچی میں وفاق کے ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی کےعوام کو درپیش مسائل کا مکمل ادراک ہے،کراچی کے سیوریج، نکاسی آب اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر پلان تشکیل دیاجارہا ہے، کراچی کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وفاقی اداروں کو ہدایات دے دی گئیں،گرشتہ روز وزیر اعلیٰ سندھ سے کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد کی صورتحال پر گفتگو ہوئی،وفاق اور اداروں کی جانب سے ہر وزیراعلیٰ سندھ کو ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کا اہم ترین شہر ہے،ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروکار لائےجائیں گے،
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی ویڈیولنک کےذریعےاین سی سی اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتہ میں کورونا کی صورتحال کم رہی،ہمیں کورونا کے ساتھ رہنا اورسیکھنا ہوگا،بچوں اور بزرگوں کو خاص طور پر بچنا ہوگا،تعلیمی ادارے ایس او پیزکےتحت کھولنے چاہئیں،
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں بارش کا گزشتہ ریکارڈ ٹوٹ گیا،پاک آرمی، نیوی اوراین ڈی ایم اے سپورٹ کررہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کی جانب سےامدادکی پیشکش پراظہارتشکر کیا،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سندھ میں آپ کے ساتھ بیٹھ کر پلان بناؤں گا،وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے کہا کہ پورا صوبہ بارش سے متاثر ہے،وزیراعظم نے کہا ہےاگلے ہفتے کراچی آرہے ہیں
پاکستان میں کرونا کیسز میں بتدریج کمی،24 گھنٹوں میں 425 مریض رپورٹ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے خطرناک کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں پاکستان میں بتدریج کمی ہو رہی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں 9 اموات ہوئی ہیں جبکہ 425 نئے مریض سامنے آئے ہیں
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 95 ہزار53 ہے اور 6ہزار283 اموات ہوئی ہیں۔ پاکستان میں کورونا ایکٹیو کیسز کی تعداد 8 ہزار 833 ہے اور 2 لاکھ 79 ہزار 937 کورونا متاثرین صحتیاب ہوچکے ہیں۔
کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار193 اور سندھ میں 2 ہزار388 اموات ہوئی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک ہزار249، اسلام آباد میں 175، بلوچستان میں 141، گلگت بلتستان میں 67 اور آزاد کشمیر میں کورونا سے اموات کی تعداد 61 ہے۔
سندھ میں ایک لاکھ 28 ہزار877 اور پنجاب میں کورونا کے 96 ہزار540 کیسز سامنے آئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 35 ہزار893، بلوچستان میں 12 ہزار721، اسلام آباد میں 15 ہزار562، آزادکشمیر میں 2272 اور گلگت بلتستان میں کورونا کے 2ہزار773 مریض سامنے آئے ہیں
پاکستان میں اب تک کورونا کے 25 لاکھ 35 ہزار778 ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔ این سی او سی کے مطابق سپتالوں میں 114 مریض وینٹی لیٹرپر ہیں اور اسپتالوں میں کوروناوینٹی لیٹرزکی تعداد 1920 ہے۔ 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کےلیے سہولیات ہیں اور اس وقت ایک ہزار 76 مریض اسپتالوں میں داخل ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج انڈیا سے میری درخؤاست پر دفاعی تجزیہ نگار کرنل ر دنویر سنگھ نے جوائن کیا ہے ،انڈیا اور چائنہ کے درمیان گلوان ویلی لداخ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اب انڈیا اور چائنہ کے لئے نہیں بلکہ ریجن کے لئے ایک پوائنٹ آف کنسرن بنتا جا رہا ہے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ گلوان ویلی میں کیا ہو رہا ہے، انڈیا بھی بیف اپ کر رہا ہے فوج کو ، چین بھی، تو یہ معاملہ کہاںجا کررکے گا، جس پر کرنل ر دنویر سنگھ نے کہا کہ لداخ میں دونوں ممالک کی فورسز تعینات ہیں، گلوان میں ہی نہیں انڈین نیوی بھی کافی الرٹ ہے، اسکا فوکس بھی چین کی طرف ہے، انڈیا کا الائنس آسٹریلیا، جاپان، امریکہ ان کے ساتھ بھی کافی ایکسرسائز ہو چکی ہیں، دنیا کی جو میجر طاقتیں ہیں وہ سب الائن ہیں، فرانس بھی اہم رول کردار ادا کر رہا ہے انڈیا کے لئے،ساتھ ہی بھارت کی اچھی دوستی روس کے ساتھ رہی ہے، روس نے اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم کی فروخت روکی ہوئی ہے اس طرح پورے خطے میں یہ صورتحال ہے، یہ ہم کسی کشیدگی کی طرف ہی جا رہے ہیں کیونکہ انڈیا نے چائنہ کے ساتھ مذاکرات کئے جو کامیاب نہیں ہوئے، ایئر ڈیفیس زون چائنہ نے اسٹیبلش کیا تھا اس کا کل ہی اعلان کیا، چائنہ سی کی بات کر رہا ہوں جہاں الرٹ ہیں، اسطرح بساط بچھی ہوئی ہے،دوسری طرف چائنہ ،پاکستان اور ایران الگ ہو رہے ہیں، اس طریقے سے دنیا بٹی ہوئی ہے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ جب پاکستان آرمی کی بات کرتا ہوں تو پاک فوج کو یہ ایڈوانٹج حاصل ہے کہ پچلے دس سال سے واراینڈ ٹیرر لڑ رہی ہے، انڈیا کی آرمی میں ضرور کوالٹی ہو گی لیکن جو لاجسٹک سپورٹ چاہئے جس طرح چاینہ کے پاس ہے کہ ہر چیز کی فیکٹری چائنہ کے اندر ہے انکو روس یا کسی اور ملک سے مدد کی ضروری نہیں،تو وہاں پر ایک گیپس آتا ہے،جس پر کرنل ر دنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ چائنہ کی جو ڈیفنس سپلائیز ہیں وہ سیلف ہیں، بھارت میں ابھی وہ صلاحیت نہیں لیکن بھارت نے اپنی فوجیں رکھی ہین وہ 62 کی جنگ کو، کارگل کی ہو یا جو ہم پراکسی وار لڑ رہے ہیں کشمیر میں یا لائن آف کنٹرول پر، ہماری سپلائی چین سیکور ہے، آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا سپلائی چین میں کوئی مسئلہ ہوا ہے،اس میں پیسے بہت خرچ ہو جاتے ہیں، جہاں تک اگر جنگ ہوتا ہے تو میں آپ کو بھارتی دفاعی تجزیہ نگار کے طور پر جو ریسرچ کرتے ہیں وہ بتاتا ہوں کہ چائنہ نے کوئی جنگ نہیں لڑی اور ایک ہی جنگ میں وہ کامیاب ہوئے بھارت کے خلاف 1962 میں، 1967 میں ایک منی وار چائنہ اور انڈیا کے بیچ ہوا تھا جس میں چائنہ کا برا حال ہوا تھا اسکے بعد روس کے ساتھ ٹکراؤ ہو،یا ویتنام کے ساتھ لڑائی ہو، چینی وار نہیں لڑے،چین کے پاس جو ٹرائبل جہاز جب پرواز کرتے ہیں تو انڈین ریڈار میں پکڑے گئے اسکے انجن روس کے ہیں، ٹیکنیکل بات کر رہا ہوں کیپیبلٹی کو اچیو کرنے کے لئے ریشو چین کی کمزور ہے،انکے پاس کوالٹی نہین ہے، مقدار زیادہ ہے، جب آپ ارینج کی بات کریں تو اس میں جغرافیہ بھی آتا ہے، چائنیز کو 12 سے 14 ہزار کی اونچائی سے ٹیک آف کرنا پڑے گا، ایک ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر جو بھارت اور پاکستان کے پاس ہے وہ سردیوں میں 28 ٹروپس لے کر جا سکتا ہے وہی گرمیوں میں ٹیک آف کرتا ہے تو وہ 2 ٹروپس سے زیادہ نہیں لے جا سکتا، اور اگر چائنیز یونان سے ٹیک آف کرتے ہیں انڈین ٹارگٹ کو انگیج کرنے آتے ہیں تو ٹائم اتنا بڑھ جاتا ہے کہ ایڈوانٹیج ڈس ایڈوانٹیج میں بدل جاتا ہے، ویتنام الرٹ پر ہے، میں بھارتی سولجر ہوں میں تو یہی کہوں گا کہ ہمارے ساتھ لڑائی ہوئی تو وہ ہارے گا
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ آپ لوگ لڑیں اچھی طرح چین اور آپ، پلوامہ سے ہائی وے جو جا رہی ہے سیاچین کی طرف لاجسٹک سپورٹ لے کر ہم آرام سے گرمیوں میں جا کر بیٹھ جائیں گے جس پر کرنل ر دنویر سنگھ نے کہا کہ اس فال آؤٹ کے لئے انڈیا اور پوری دنیا تیار ہے، آپ یہ سمجھ کر چلیں کہ چین کے ساتھ جنگ لداخ تک نہیں ہوگی، روس کا پریشر بھی ہے، یو ایس پریشر بھی ہے، اس سے زیادہ مڈل ایسٹ، اور فرانس کا پریشر ہے جس کو لوگ نظر انداز کر دیتےہیں، یہ کسی کے فائدے میں نہیں ہو گا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن دونوں ٹویٹر فیس بک، پی آئی ڈی کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتیں،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر پرسن مریم خان نے سوال کیا کہ 24 گھنٹوں میں اووسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری شروع کرنے کے لئے روشن ڈیجیٹل کاڑد کے سوا کسی کی ضرورت نہیں ہو گی جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابھی پریس کانفرنس یاٹویٹر پر بات ہوئی ہو گی، جب عملی کام ہو گا تو پتہ چلے گا، آج کچھ مسافر آئے لندن سے انکے بیگز کے تالے ٹوٹے ہوئے ہیں،کسٹم والوں نے انکی چیزیں نکال لیں، اب وہ کدھر شکایت کریں، انکی پرسنل چیزیں کیمرہ، کمپیوٹر، پرفیومز تک غائب ہوئے ہیں،
مبشر لقمان کا مزدی کہنا تھا کہ یہ لوگ سرمایہ کاری کرنے آئے تھے، اوورسیز پاکستانیوں کے لئے اپنے ایئر پورٹ کو تو صحیح کر لو، یہ ملک چل نہیں رڑ رہا ہے گیند کی طرح،اللہ کو پتہ ہے اتنی زیادہ ظلم ، ناانصافی،کسی اور معاشرے میں دیکھی جو ہمارے اندر پیدا ہو چکی ہے؟ اور حکومت اپوزیشن دونوں ٹویٹر فیس بک، پی آئی ڈی کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ عنقریب سڑک پر آںے والے ہیں کہ ہمیں ایسی جمہوریت نہیں چاہئے، ہم عثمان بزدار کی کرپشن بتا بتا کر گئے آپ کہتے ہیں آئی بی سے چیک کروایا،اب اس کا مطلب ہے کہ آئی بی کرپٹ ہو گئی ہے،چڑیل نے خبر دی ہے کہ آئی بی عثمان بزدار کی کرپشن پر وزیراعظم کو خبریں دے چکی ہے، اب کیوں نہیں ہٹ رہا میری سمجھ سے باہر ہے، میں نے جب بھی ذکر کیا وزیراعظم مجھ سے ناراض ہو گئے کہ بزدار کے بارے میں کچھ نہیں کہنا، میں نے کہا کہ کرپشن کر رہا ہے کرپشن میں بھی ویژن نہیں ہے سادگی کا لیکن وزیراعظم نہیں مانتے، میں توصرف بتا سکتا ہوں،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کراچی میں پچھلے 15 سال میں جتنی کرپشن ہوئی اور جنتی بے دردی سے لوگوں نے مسائل کو دیکھا میرا نہیں خیال کہ اس میں کوئی بھی قابل معافی ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ کراچی میں مون سون کی بارشوں کا 89 سالہ ریکارڈ صرف اگست میں ہی ٹوٹ گیا، کراچی کے حالات ہر کسی کو پتہ ہیں لیکن کوئی کراچی کو اون کرنے کو تیار نہین، اصل مجرم کون ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پچھلے 15 سال میں جتنی کرپشن ہوئی اور جنتی بے دردی سے لوگوں نے مسائل کو دیکھا میرا نہیں خیال کہ اس میں کوئی بھی قابل معافی ہے، وہ ساری جماعتوں کو کہہ رہا ہوں، ایک کو نہیں، مجھے واٹس ایپ پر لوگ مذاق بھیج رہے ہیں کہ کراچی کو فوج کی بجائے نیوی کے حوالہ کر دو،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جو لوگ سفر کر رہے ہیں جن کے گھروں میں پانی ہے، گھر اجڑ گئے ہیں ، انکا برا حال ہے، انکی نظر سے سوچیں تو کون اچھا ہے، کوئی بھی نہیں اچھا، یہ سارے مجرم ،چور ،ذمہ دار ہیں کراچی والوں کے،انکے ساتھ جو ہو رہا ہے اس میں پی پی، ن لیگ، ایم کیوایم، پی ٹی آئی سب مشترکہ مجرم ہیں، بلیم گیم کرتے رہتے ہیں، آج اسد عمر کی ٹویٹ دیکھی کہ اگلے مہینے جامع پلین بنا رہے ہیں، بھائی تم پچھلے دو سال سے کیا کر رہے تھے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کی مجبوری کا مذاق اڑانا، جملہ کیا لکھا ہے کہ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے، تو اس سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کے زیادہ ایم این اے بھی آپ کے ہیں،وہ کیوں اسوقت وہاں سڑکوں پر لوگوں کی مدد کیوں نہیں کر رہے، اپنے حلقوں میں عوام کے ساتھ کیوں نہیں، اپوزیشن اور حکومت ٹویٹر پر کھیل رہی ہیں،ہمارے یہاں پر اس گھر کے قریب 3 ڈکیتیاں دو دن میں ہوئی گن پوائنٹ پر ابھی تک ایف آئی آر نہیں ہوئی،گن پوائنٹ پر ڈکیتی کی ایف آئی آر میں اتنا وقت لگ رہا ہے، اسی گھر میں پہلے ڈکیتی ہوئی،سی سی ٹی وی فوٹیج میں لوگ آئے انکو بھی پولیس نے نہیں پکڑا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں جہانگیر ترین کی مشکلات میں اضافہ ہونے والا ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل ہر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ آپ نے جو خبر بریک کی اس پر بات کرتے ہیں، ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور انکی فیملی کے اکاؤنٹ کی منی لانڈرنگ کے حوالہ سے جانچ پڑتال شروع کر دی ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ خبر اے آر وائی کی ہے، اے آر وائی میں میرے دوست ہیں سارے انہوں نے اس خبر کو میرے ساتھ شیئر کیا، انکی خبر چلنے کے بعد میں نے ٹویٹ کی، جنہوں نے ٹی وی نہیں دیکھا تھا انہوں نے سمجھا کہ یہ خبر میری ہے،حالانکہ یہ خبر انکی تھی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہو یہ رہا ہے کہ دو ادارے ایس ای سی پی اور ایف آئی اے انہوں نے جہانگیر ترین کے خلاف منی لانڈرنگ الزام میں تحقیقات شروع کر دی ہیں،42 ملین سے زیادہ کا اماؤنٹ ہے جو جیٹ کو پے ہوا کراچی میں ،اور کہا جاتا ہے کہ یہ انہوں نے یوز نہیں کیا، انکے پاس اپنے جہاز تھے، یہ پیسے باہر نکالے گئے،اور اس میں جو انکوائری اب ہو رہی ہے اس میں کئی ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں ڈی ایچ اے، بحریہ انکو بھی خط لکھے گئے ہیں کہ انکی کون کونسی پراپرٹیز ہیں، جہانگیر ترین انکے بیٹے، وائف سب کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہے، میرے پاس لسٹ موجود ہے جو سب کو گئی،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں یہ سمجھ رہا تھا کہ حکومت شاید اب جہانگیر ترین پر ایزی ہو گی،جہانگیر ترین آئیں گے اور دوبارہ جہاز اڑائیں گے لوگوں کو ٹھنڈا کریں گے، اسکے بعد لگتا ہے کہ اب جہانگیر ترین کا آنا بہت مشکل ہے، اس کو انہوں نے شوگر منی سیلنگ کی ہے، کہا یہ شوگر مافیا نے پیسہ کمایا اسکی منی لانڈرنگ کی گئی، دو دن پہلے عمران خان کا انٹرویو تھا جس میں انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے جہانگیر ترین کا نام دیا میں نے کہا کہ وہ اس میں رسپانسبل نہیں ہے، پھر جہانگیر ترین نے فورا شو میں آ کر شکریہ کا میسج عمران خان کو پہنچایا کہ تھینک یو بتاؤ میں آؤن کہ نہ آؤں، اب یہ رپورٹ آ گئی ہے، گورنمنٹ نے دکھائی سجی اور ماری کھبی ہے، اب جہانگیر ترین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا
شہباز شریف نااہل ہونگے یا نواز شریف واپس آئیں گے ؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو واپس نہیں لا سکتے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ آپ نے جو خبر بریک کی اس پر بات کرتے ہیں، ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور انکی فیملی کے اکاؤنٹ کی منی لانڈرنگ کے حوالہ سے جانچ پڑتال شروع کر دی ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ خبر اے آر وائی کی ہے، اے آر وائی میں میرے دوست ہیں سارے انہوں نے اس خبر کو میرے ساتھ شیئر کیا، انکی خبر چلنے کے بعد میں نے ٹویٹ کی، جنہوں نے ٹی وی نہیں دیکھا تھا انہوں نے سمجھا کہ یہ خبر میری ہے،حالانکہ یہ خبر انکی تھی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہو یہ رہا ہے کہ دو ادارے ایس ای سی پی اور ایف آئی اے انہوں نے جہانگیر ترین کے خلاف منی لانڈرنگ الزام میں تحقیقات شروع کر دی ہیں،42 ملین سے زیادہ کا اماؤنٹ ہے جو جیٹ کو پے ہوا کراچی میں ،اور کہا جاتا ہے کہ یہ انہوں نے یوز نہیں کیا، انکے پاس اپنے جہاز تھے، یہ پیسے باہر نکالے گئے،اور اس میں جو انکوائری اب ہو رہی ہے اس میں کئی ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں ڈی ایچ اے، بحریہ انکو بھی خط لکھے گئے ہیں کہ انکی کون کونسی پراپرٹیز ہیں، جہانگیر ترین انکے بیٹے، وائف سب کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہے، میرے پاس لسٹ موجود ہے جو سب کو گئی،میں یہ سمجھ رہا تھا کہ حکومت شائد اب جہانگیر ترین پر ایزی ہو گی،جہانگیر ترین آئیں گے اور دوبارہ جہاز اڑائیں گے لوگوں کو ٹھنڈا کریں گے، اسکے بعد لگتا ہے کہ اب جہانگیر ترین کا آنا بہت مشکل ہے، اس کو انہوں نے شوگر منی سیلنگ کی ہے، کہا یہ شوگر مافیا نے پیسہ کمایا اسکی منی لانڈرنگ کی گئی، دو دن پہلے عمران خان کا انٹرویو تھا جس میں انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے جہانگیر ترین کا نام دیا میں نے کہا کہ وہ اس میں رسپانسبل نہیں ہے، پھر جہانگیر ترین نے فورا شو میں آ کر شکریہ کا میسج عمران خان کو پہنچایا کہ تھینک یو بتاؤ میں آؤن کہ نہ آؤں، اب یہ رپورٹ آ گئی ہے، گورنمنٹ نے دکھائی سجی اور ماری کھبی ہے، اب جہانگیر ترین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا
مریم خان نے سوال کیا کہ شیخ رشید نے کہا عمران خان نے کابینہ میٹنگ میں کہا کہ تمام وسائل بروئے کار لائیں اور نواز شریف کو واپس لے کر آئیں تو کیسے لے کر آئیں گے حالانکہ برطانیہ کے ساتھ معاہدہ بھی نہیں ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو واپس نہیں لا سکتے،ایک اور کام ہو سکتا ہے، شہباز شریف کی کمبختی آئے گی، شہباز شریف نے نواز شریف کی ضمانت کے لئے پرسنل باؤنڈز دیا تھا ہمارا پینل کوڈ کہتا ہے کہ فرض کریں میں نے آپکی پرسنل گارنٹی دی ہے آپ نہیں آئیں گی تو میں اندر جاؤں گا، یا تو میاں صاحب بھائی کی محبت میں آئیں گے اور اس کا چانس مجھے کم لگ رہا ہے، یا پھر شہباز شریف اندر جائین گے اور اسکا بھی چانس مجھے کم لگ رہا ہے کیونکہ حکومت ڈرا رہی ہے،اور یہ ساری باتیں کہلوا رہی ہے پبلک میں ،تا کہ سب کو پتہ چل جائے کہ دونوں بھائی بھاگ گئے، حکومت انکو ہینڈل نہیں کرنا چاہ رہی، جیل میں جا کر دونوں بڑے جاتے ہیں، یہ باتیں پبلک کرنے کا مطلب ہے کہ ڈر جاؤ اور بھاگ جاؤ، ابھی تک نام ای سی ایل میں نہیں ڈلا،پاسپورٹ ابھی تک کسی نے لیا نہیں، مجھے تو یہ ملی بھگت لگ رہی ہے، شہباز شریف نااہل ہو کیون جائیں گے، کہنے کا کیا مطلب ہے اسی طرح سب کو دوڑاتے ہیں، ابھی بھی ایکٹ نہیں کر رہے، بعد میں کہیں گے کہ وہ بھاگ گیا کیا کریں.
مریم خان نے سوال کیا کہ کراچی میں مون سون کی بارشوں کا 89 سالہ ریکارڈ صرف اگست میں ہی ٹوٹ گیا، کراچی کے حالات ہر کسی کو پتہ ہیں لیکن کوئی کراچی کو اون کرنے کو تیار نہین، اصل مجرم کون ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پچھلے 15 سال میں جتنی کرپشن ہوئی اور جنتی بے دردی سے لوگوں نے مسائل کو دیکھا میرا نہیں خیال کہ اس میں کوئی بھی قابل معافی ہے، وہ ساری جماعتوں کو کہہ رہا ہوں، ایک کو نہیں، مجھے واٹس ایپ پر لوگ مذاق بھیج رہے ہیں کہ کراچی کو فوج کی بجائے نیوی کے حوالہ کر دو،جو لوگ سفر کر رہے ہیں جن کے گھروں میں پانی ہے، گھر اجڑ گئے ہیں ، انکا برا حال ہے، انکی نظر سے سوچیں تو کون اچھا ہے، کوئی بھی نہیں اچھا، یہ سارے مجرم ،چور ،ذمہ دار ہیں کراچی والوں کے،انکے ساتھ جو ہو رہا ہے اس میں پی پی، ن لیگ، ایم کیوایم، پی ٹی آئی سب مشترکہ مجرم ہیں، بلیم گیم کرتے رہتے ہیں، آج اسد عمر کی ٹویٹ دیکھی کہ اگلے مہینے جامع پلین بنا رہے ہیں، بھائی تم پچھلے دو سال سے کیا کر رہے تھے، لوگوں کی مجبوری کا مذاق اڑانا، جملہ کیا لکھا ہے کہ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے، تو اس سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کے زیادہ ایم این اے بھی آپ کے ہیں،وہ کیوں اسوقت وہاں سڑکوں پر لوگوں کی مدد کیوں نہیں کر رہے، اپنے حلقوں میں عوام کے ساتھ کیوں نہیں، اپوزیشن اور حکومت ٹویٹر پر کھیل رہی ہیں،ہمارے یہاں پر اس گھر کے قریب 3 ڈکیتیاں دو دن میں ہوئی گن پوائنٹ پر ابھی تک ایف آئی آر نہیں ہوئی،گن پوائنٹ پر ڈکیتی کی ایف آئی آر میں اتنا وقت لگ رہا ہے، اسی گھر میں پہلے ڈکیتی ہوئی،سی سی ٹی وی فوٹیج میں لوگ آئے انکو بھی پولیس نے نہیں پکڑا
مریم خان نے سوال کیا کہ سینیٹ میں اپوزیشن نے فیٹف سے متعلقہ بل کثرت رائے سے مسترد کر دیا، حکمران جماعت کہتی ہے کہ یہ این آر او مانگ رہی ہیں، اپوزیشن کہتی ہے کہ کچھ شقیں ناقابل قبول ہیں، جس پر مبشر لقمان نے سوال کیا کہ وہ کونسی شقیں ہینَ یہ بتائیں کونسی شقیں ناقابل قبول ہیں تا کہ لوگوں کو بھی پتہ چلے کہ کونسی شقیں ہیں، اس میں حکومت کی بھی نااہلی ہیں وہ سمجھتے ہیں بجٹ پاس ہو گیا، چیئرمین سینیٹ بچ گیا، ہر کام زور سے نہیں ہوتا، حکومت پولیٹکیلی اپوزیشن کو انگیج نہیں کرتی، جب اعداد کم ہون تو مطلب کے لئے جو قومی مفاد میں کام ہے انکو بغیر حیل وحجت کے کروانا چاہئے، یہ حکومت کی نااہلی ہے، حکومت کے اندر ایسے لوگ ہیں جن کو پتہ ہی نہیں کہ پارلیمانی تہذیب ہوتی کیا ہے، لڑائی اپنی جگہ پر لیکن سب سے مل کر رہتے ہیں، یہ ہونا تھا،ہو گیا،اسکا کوئی جلدی حل نہیں نکلے گا، پاکستان بلیک لسٹ نہیں ہو گا، انڈیا، اسرائیل کی گریٹر گیم کے طور پر ایف اے ٹی ایف نے کوئی تلوار لٹکانی ہے تو لٹکا دے ویسے پاکستان نے فیٹف کی سب باتیں پوری کر دی ہیں
مریم خان نے سوال کیا کہ 24 گھنٹوں میں اووسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری شروع کرنے کے لئے روشن ڈیجیٹل کاڑد کے سوا کسی کی ضرورت نہیں ہو گی جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابھی پریس کانفرنس یاٹویٹر پر بات ہوئی ہو گی، جب عملی کام ہو گا تو پتہ چلے گا، آج کچھ مسافر آئے لندن سے انکے بیگز کے تالے ٹوٹے ہوئے ہیں،کسٹم والوں نے انکی چیزیں نکال لیں، اب وہ کدھر شکایت کریں، انکی پرسنل چیزیں کیمرہ، کمپیوٹر، پرفیومز تک غائب ہوئے ہیں،یہ لوگ سرمایہ کاری کرنے آئے تھے، اوورسیز پاکستانیوں کے لئے اپنے ایئر پورٹ کو تو صحیح کر لو، یہ ملک چل نہیں رڑ رہا ہے گیند کی طرح،اللہ کو پتہ ہے اتنی زیادہ ظلم ، ناانصافی،کسی اور معاشرے میں دیکھی جو ہمارے اندر پیدا ہو چکی ہے؟ اور حکومت اپوزیشن دونوں ٹویٹر فیس بک، پی آئی ڈی کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتیں، لوگ عنقریب سڑک پر آںے والے ہیں کہ ہمیں ایسی جمہوریت نہیں چاہئے، عثمان بزدار کی کرپشن بتا بتا کر گئے آپ کہتے ہیں آئی بی سے چیک کروایا،اب اس کا مطلب ہے کہ آئی بی کرپٹ ہو گئی ہے،چڑیل نے خبر دی ہے کہ آئی بی عثمان بزدار کی کرپشن پر وزیراعظم کو خبریں دے چکی ہے، اب کیوں نہیں ہٹ رہا میری سمجھ سے باہر ہے، میں نے جب بھی ذکر کیا وزیراعظم مجھ سے ناراض ہو گئے کہ بزدار کے بارے میں کچھ نہیں کہنا، میں نے کہا کہ کرپشن کر رہا ہے کرپشن میں بھی ویژن نہیں ہے سادگی کا لیکن وزیراعظم نہیں مانتے، میں توصرف بتا سکتا ہوں،
کراچی :سندھ اورکراچی میںعوام کی مشکلات کا بہت احساس ہے،نگرانی بھی کررہا ہوں:وزیراعظم کی اہل سندھ کوتسلّیاں ،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ انہیں سندھ اورکراچی میںعوام کی مشکلات کا بہت احساس ہے،نگرانی بھی کررہا ہوں اوررابطے میں بھی ہوں ،وزیراعظم کا اہل سندھ کوپیغام،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم پاکستان نے اہل سندھ کے نام اپنے پیغام میں کہاہےکہ انہیں سندھ اورکراچی کے عوام کی مشکلات کو بہت زیادہ احساس ہے اوروہ اس سلسلے میں تمام ذمہ داران سے رابطے میں ہیں
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ کراچی میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن کو خود مانیٹر کررہا ہوں، چیئرمین این ڈی ایم اے، گورنر سندھ سے متواتر رابطے میں ہوں۔عمران خان نے کہا کہ چیئرمین این ڈی ایم اے کو ریسکیو کی ہدایت کی ہے، چیئرمین این ڈی ایم اے کو متاثرین کی طبی امداد، کھانا اور پناہ گاہ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی میں نکاسی آب کے لیے جامع منصوبے کا جلد اعلان کریں گے، نکاسی اور فراہمی آب کا مسئلہ مستقل طور پر حل کریں گے، شہر کے عوام کو بحران کے وقت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔اس سے قبل گورنرسندھ عمران اسماعیل نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ کراچی میں بارش کی صورتحال پر وزیراعظم کو بریفنگ دی ، کراچی کو خصوصی توجہ اور غیر معمولی صورتحال میں ہنگامی اقدمات کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کراچی میں بارشوں نے تباہی مچادی ہے، پورے شہر میں سیلاب کی صورتحال ہیں ، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہے جبکہ بارش کا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا ہے۔
اسلام آباد : چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب رولز کا مجوزہ مسودہ سپریم کورٹ میں جمع کروادیا،اطلاعات کے مطابق آج سپریم کورٹ کے حکم پر نیب آرڈیننس کی روشنی میں نیب رولز کا مجوزہ مسودہ تیار کیا گیا ہے۔
مسودے کے مطابق نیب شکایت وصولی کے ایک ماہ میں ریجنل بورڈ کے سامنے معاملہ رکھتا ہے جبکہ انکوائری کا عمل چار ماہ کے اندر مکمل کیا جانا ہوتا ہے۔
چیئرمین نیب کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے جانے والے نیب مسودے کے مطابق چیئرمین نیب کو انکوائری کی مدت میں مزید 3 ماہ توسیع کا اختیار ہے۔ اس میں مزید بتایا گیا کہ نیب کا تفتیشی 4 ماہ میں تفتیش مکمل کر کے ریجنل بورڈ کے سامنے رکھتا ہے۔
مجوزہ مسودے میں بتایا گیا کہ ضرورت کے تحت مجاز اتھارٹی تحقیقات کی مدت بڑھا بھی سکتی ہے۔اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تحقیقات کی تکمیل چیئرمین نیب ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دیتے ہیں، ریفرنس دائر کرنے یا نہ کرنے کا حتمی اختیار چیئرمین نیب کے پاس ہے۔
چیئرمین نیب کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے جانے والے نیب مسودے کے مطابق چیئرمین نیب کے فیصلے پر نیب اتھارٹی سوال نہیں اٹھا سکتی، چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد ریفرنس ایک ماہ میں دائر کیا جاتا ہے۔ مجوزہ مسودے کے مطابق چیئرمین نیب انکوائری کے دوران کسی مرحلے پر ملزم کی گرفتاری حکم دے سکتے ہیں۔
چیئرمین نیب کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے جانے والے نیب مسودے کے مطابق نیب قانونی تقاضے پورے کر کے وزارتِ داخلہ کو ملزم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کر سکتا ہے۔مجوزہ مسودے کے مطابق بینک ڈیفالٹ پر ریکوری کر کے 3 فیصد رقم فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کروائی جاتی ہے۔نیب مسودے میں بتایا گیا کہ کرپشن سے کمائے گئے پیسے کا 25 فیصد فیڈرل کنسولیڈیٹڈفنڈ میں جمع کروایا جاتا ہے۔
جوزہ مسودے کے مطابق چیئرمین نیب انکوائری کے دوران کسی مرحلے پر ملزم کی گرفتاری حکم دے سکتے ہیں۔اس میں مزید بتایا گیا کہ نیب قانونی تقاضے پورے کر کے وزارتِ داخلہ کو ملزم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کر سکتا ہے۔ مجوزہ مسودے کے مطابق بینک ڈیفالٹ پر ریکوری کر کے 3 فیصد رقم فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کروائی جاتی ہے۔
نیب مسودے میں بتایا گیا کہ کرپشن سے کمائے گئے پیسے کا 25 فیصد فیڈرل کنسولیڈیٹڈفنڈ میں جمع کروایا جاتا ہے