Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سویڈن کے بعد ناروے میں قرآن مجید کی بیحرمتی : کتاب الٰہی کے اوراق پھاڑ دیے

    سویڈن کے بعد ناروے میں قرآن مجید کی بیحرمتی : کتاب الٰہی کے اوراق پھاڑ دیے

    اوسلو:سویڈن کے بعد ناروے میں قرآن مجید کی بیحرمتی : کتاب الٰہی کے اوراق پھاڑ دیے گٸے،اطلاعات کے مطابق یورپی ملک سویڈن کے بعد ایک اور اسلامو فوبیا کے شکار ملک ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں قرآن مجید بے حرمتی کا واقعہ رونما ہوگیا۔

     

     

    گزشتہ روز سے اوسلو میں قرآن مجید بےحرمتی کا واقعہ رونما ہوا جس میں مسلمانوں ک مقدس کتاب قرآن مجید کے اوراق پھاڑے گٸے۔جس کے بعد ناروے میں احتجاجی مظاہروں ک نارکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ناروے پولیس نے فریقین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ 30 افراد کو گرفتار کر لیا۔

    اسلام مخالف ریلی کا انعقاد ‘اسٹاپ اسلامائزیشن آف ناروے‘ نامی گروپ نے ملکی پارلیمانی عمارت کے قریب کیا گیا۔

    جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق اس مظاہرے کے خلاف بھی ایسے سینکڑوں افراد وہاں جمع ہوئے، جنہوں نے ‘ہماری گلیوں میں نسل پرستوں کی گنجائش نہیں‘ جیسے نعرے بلند کیے۔

     

     

    میڈیا رپورٹس کے مطابق صورت حال اُس وقت کشیدہ ہو گئی، جب ایک اسلام مخالف خاتون نے قرآن کے اوراق پھاڑ ڈالے۔ اس خاتون کو پہلے بھی نفرت انگیز تقاریر کرنے پر جرمانہ کیا جا چکا ہے۔ اس خاتون نے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے اشتعال دلایا کہ ”دیکھو اب میں تمہارے قرآن کی بے حرمتی کروں گی۔‘‘

    اس کے بعد وہاں موجود افراد نے اسلام مخالفین پر انڈے برسائے اور بعض نے پولیس رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اس خاتون تک پہنچنے کی کوشش کی۔ پولیس نے صورتحال کو بے قابو ہوتے دیکھ کر پیپر اسپرے کا بھی استعمال کیا اور اسلام مخالف ریلی وقت سے پہلی ہی ختم کر دی گئی۔ناروے کے سرکاری ٹیلی وژن این آر کے نے بتایا ہے کہ پولیس نے 29 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں متعدد کم عمر ہیں۔

    یاد رہے ناروے میں اسلام مخالف مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں ہفتے جمعہ کے روز سویڈن کے شہر مالمو میں دائیں بازو کے انتہاپسندوں نے قرآن کی ایک کاپی کو آگ لگا دی تھی۔

  • جنوبی وزیرستان:دہشت گردوں کی فائرنگ سے 3 جوان شہید،4زخمی

    جنوبی وزیرستان:دہشت گردوں کی فائرنگ سے 3 جوان شہید،4زخمی

    راولپنڈی:جنوبی وزیرستان:دہشت گردوں کی فائرنگ سے 3 جوان شہید،4زخمی،اطلاعات کے مطابق آج پھردہشت گردوں کی طرف سے پاک فوج کے جوانوں پرحملہ ہوا ہے ،اس حملے میں‌ خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 3 فوجی جوان شہید ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنوبی وزیرستان میں سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں فائرنگ سے 3 جوان شہید ہوگئے۔

     

    دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والوں میں سپاہی سلیم، صوبیدار ندیم اور لائنس نائیک مصور شامل ہیں۔

     

     

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 فوجی جوان زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

     

     

    واضح رہے کہ جولائی میں شمالی وزیرستان میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد مارے گئے۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 اہلکار شہید ہوگئے ،
    یاد رہے کہ رواں سال 26 اپریل کو شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 9 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

  • مقبوضہ کشمیر:یوم عاشورہ کے دن بھی بھارتی مظالم جاری:محرم کے جلوسوں پر پیلٹ گنز،آنسو گیس شیلنگ،پاکستان کی مذمت

    مقبوضہ کشمیر:یوم عاشورہ کے دن بھی بھارتی مظالم جاری:محرم کے جلوسوں پر پیلٹ گنز،آنسو گیس شیلنگ،پاکستان کی مذمت

    اسلام آباد:مقبوضہ کشمیر:یوم عاشورہ کے دن بھی بھارتی مظالم جاری:محرم کے جلوسوں پر پیلٹ گنز،آنسو گیس شیلنگ،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں محرم کے جلوسوں پر پیلٹ گنز کے استعما ل اور آنسو گیس کی شیلنگ کی شدید مذمت کی ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے آج ایک بیان میں کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیلٹ گنز سے شہریوں کو بلا اشتعال نشا نہ بنا کر انہیں شدید زخمی کرنا اور معذور بنانا حتیٰ کہ قتل کردینا انسانی حقوق اور اس سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت طاقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہتھیاروں کے استعمال اور قانون نافذ کرنیوالے حکام کے لئے اقوام متحدہ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا ارتکاب کر رہا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ محرم جلوس پر پیلٹ فائرنگ کے باعث درجنوں کشمیری زخمی اور کئی بینائی کھو بیٹھے۔ بھارت 2010ء سے کشمیریوں کیخلاف پیلٹ گنز استعمال کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس مہلک مہم میں کشمیری نوجوانوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ سویلین ابادی کو پیلٹ گنز سے نشانہ بنانا انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ بھارتی افواج کے غیر قانونی اقدامات کی ذمہ دار بی جے پی قیادت ہے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔

  • چین نے گالوان ویلی سے اپنی فوجیں نہ ہٹانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

    چین نے گالوان ویلی سے اپنی فوجیں نہ ہٹانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

    پیپلز ری پبلکن آرمی نے گالوان ویلی میں زیر زمین فائبر آپٹک تاروں کا جال بچھا دیا ہے۔ اس سلسلے میں زیر زمین سرنگ کے راستے انتہائی تیزی سے کام کیا گیچین نے گالوان ویلی سے اپنی فوجیں نہ ہٹانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ بیجنگ میں انتہائی قابل اعتماد ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیپلز ری پبلکن آرمی نے گالوان ویلی میں زیر زمین فائبر آپٹک تاروں کا جال بچھا دیا ہے۔ اس سلسلے میں زیر زمین سرنگ کے راستے انتہائی تیزی سے کام کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کام پینگانگ لیک کے علاقے میں کیا گیا۔ اور اطلاعات یہ بھی ہیں کہ چین سرنگ کو مزید آگے لے جانے کے لئے بھی تیزی سے کام کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت کو چین کی ان تمام تیاریوں کا علم اس سال کے شروع میں ہوا تھا تاہم بھارت کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایک ایسے علاقے میں جہاں نہ تو شہری آبادی زیادہ ہے اور نہ ہی مواصلاتی رابطوں کو بڑھانے کی کوئی خاص ضرورت ہے چین فائبر آپٹک تاروں کی تنصیب کیوں کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق چین کا اس علاقے میں فائبر آپٹک تاروں کی تنصیب کا اہم مقصد یو اے وی ڈرونز ( Unmaned Aerial Vehicals Drones) کا بھرپور آغاز اور استعمال کرنا ہے جن کو اسی فائبر آپٹک کیبل کے جال سے کنٹرول کی جائے گا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ علاقے میں چینی فوج کے جوانوں کو آنے والے سخت سردی کے موسم میں کم سے کم ڈیوٹیاں دی جائیں گی جب کہ ان کی جگہ ڈرونز کا استعمال کثرت سے ہوگا۔ بھارت کو اس بات کا اندازہ ہے کہ سخت سردی کے موسم جنگ کرنا مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت ایل اے سی پر تعینات اپنی تیس ہزار کے قریب فوج کو سخت سردی برداشت کرنے کے قابل بنا رہا ہے اوراس مقصد کے لئےایک خطیر رقم بھی خرچ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے ایم 777 طیارہ شکن توپیں، ٹی 90 میزائل فائرنگ ٹینک اور کندھے پر رکھ کر چلانے والا جدید ترین اینٹی ٹینک میزائل سسٹم ایل اے سی کی قریبی چوکیوں پر پہنچا دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی فضائیہ کےسی 17ہیوی لفٹرز کے ساتھ ساتھ اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹرز اورسی 130 سپیشل آپریشنز ائرکرافٹ اوربھارتی بحریہ کے سرویجلنس طیاروں کو بھی قریبی علاقوں میں پہنچا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت کی کوشش ہے کہ اگر چین نے علاقے سے فوجیں واپس نہ بلائیں تو آنے والے سردی کے موسم میں فوجی طریقہ استعمال کرکے اپنی برتری ثابت کرے اورگالوان ویلی کا علاقہ جہاں کبھی بھارت کا مکمل کنٹرول ہوا کرتا تھا ایک بار پھر سے اس کا کنٹرول بحال ہو جائے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت جنگ کے موڈ میں ہے لیکن چین کے مقابلے میں اس کی پوزیشن بے حد کمزور ہے۔ 

    An M114 155 mm Howitzer in firing position.

  • مقبوضہ کشمیر میں ‘اسرائیلی طرز پر مودی کی آباد کاری اسکیم’، 4 لاکھ سے زائد نئے ڈومیسائل جاری

    مقبوضہ کشمیر میں ‘اسرائیلی طرز پر مودی کی آباد کاری اسکیم’، 4 لاکھ سے زائد نئے ڈومیسائل جاری

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر میں ‘مودی کی آباد کاری اسکیم’، 4 لاکھ سے زائد نئے ڈومیسائل جاری،اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے 1947 کے بعد پہلی مرتبہ مقبوضہ کشمیر کے رہائشی قانون میں تبدیلی کی گئی، جسے بظاہر وادی کے حوالے سے درپیش چیلنج کو طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے کیے گئے آباد کاری کے اقدامات کی طرز پر عمل درآمد کرتے ہوئے مودی کی ہندو انتہا پسند حکومت مقبوضہ کشمیر کے مسلمان اکثریتی خطے کی شناخت کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

    وزیراعظم نریندر مودی کی پہلی حکومت ہے جس نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 1947 کے بعد سے پہلی مرتبہ شہریت کے قوانین میں ترامیم کی ہیں۔
    خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق انڈیا وادی کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو اسی انداز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جیسے اسرائیل نے فلسطین میں یہودی بستیاں آباد کر کے کیا ہے۔اے ایف پی نے وادی کشمیر میں متعارف کرائے جانے والے نئے قوانین اور اس کے ایک کروڑ چالیس لاکھ شہریوں پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

    5 اگست 2019 کو نریندر مودی نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی جن کے تحت انہیں جزوی خودمختاری اور دیگر حقوق حاصل تھے۔

    قوم پرست جماعت بی جے پی کی قیادت میں انڈین حکومت نے یکطرفہ طور پر وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ اس دوران کئی کشمیری رہنماؤں اور شہریوں کو گرفتار کیا گیا اورانٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی سہولت مکمل منقطع کر دی گئی تاکہ باہر کی دنیا سے کوئی رابطہ نہ ہو سکے۔وادی کشمیر میں اس وقت پانچ لاکھ سے زیادہ انڈین فوجی تعینات ہیں۔

    نئے آئینی آرڈر، کانسٹیٹیوشن آرڈر 2019 کی منظوری کے بعد ریاست جموں کشمیر کو دو یونین ٹیریٹوریز لداخ، اور جموں و کشمیر میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔
    نریندر مودی کی حکومت کے اس اقدام سے نہ صرف کشمیر بلکہ انڈیا میں رہنے والے 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی کہ بی جے پی کی حکومت ’ہندو‘ قوم کی تخلیق چاہتی ہے۔

    نریندر مودی کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ آرٹیکل 35 اے بھی ختم ہو گیا تھا جس کے تحت وادی کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیدادکا مالک نہیں بن سکتا تھا، سرکاری نوکری حاصل نہیں کرسکتا تھا اور نہ ہی کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا تھا۔ 1927 میں مرتب کیے گئے ان قوانین کے خاتمے کے بعد انڈیا کا کوئی بھی شہری ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ لے کر یہ تمام حقوق حاصل کر سکتا ہے۔

    نئی پالیسی کے تحت وادی کشمیر کے مقامی رہائشیوں کو بھی شہریت کے تحت ملنے والے تمام حقوق حاصل کرنے کے لیے ڈومیسائل سرٹیفیکٹ لینا ہوگا۔ ڈومیسائل کے لیے انہیں 1927 میں جاری کیا گیا مستقل رہائش کا سرٹیفیکٹ دکھانا ضروری ہے۔

    انڈین حکومت کی اس پالیسی کے نفاذ کے بعد سے 4 لاکھ تیس ہزار ڈومیسائل جاری ہو چکے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے ڈومیسائل مقامی افراد کو جاری کیے گئے ہیں۔کشمیریوں کو خوف ہے کہ غیر مسلموں کے کشمیر میں آباد ہونے سے ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قبضہ ہو سکتا ہے

    دوسری طرف وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں رہائش اختیار کرنے سے متعلق قوانین میں سات عشروں سے بھی زائد عرصے میں پہلی بار تبدیلی کر دی ہے۔ گزشتہ برس انہوں نے جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت بھی ختم کر دی تھی۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت مشرق وسطیٰ میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری کے سے انداز میں ریاست جموں و کشمیر کے معاشرتی طبقات کی شناخت اور آبادی کی ہیئت تبدیلی کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

    مودی حکومت نے پانچ اگست سن 2019 کے روز بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر کی خصوصی نیم خود مختار شناخت بھی ملکی دستور میں ترمیم کر کے ختم کر دی تھی۔ اس ترمیم سے کشمیر کے جھنڈے اور علیحدہ آئین سمیت دوسرے حقوق بھی ختم ہو گئے تھے۔

    بھارت کے زیر انتظام کشمیر مسلم اکثریتی آبادی والا علاقہ ہے۔ اس میں قریب پینسٹھ فیصد مسلمان ہیں اور مزاحمتی تحریک والے علاقوں میں مسلم آبادی کا تناسب تقریباً سو فیصد ہے۔ نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی سخت گیر اساسی جماعت راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) برسوں سے کشمیر کے زمینی حقائق تبدیل کرنے کی وکالت جاری رکھے ہوئے ہے۔

    ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آر ایس ایس کا دیرینہ پلان اب تکمیل کے قریب ہے۔ کشمیر میں مستقل رہائش اختیار کرنے کے قوانین سن 1927 میں لاگو ہوئے تھے۔ انہی قوانین کے تحت مقامی آبادی کو جائیداد کی خرید و فروخت، حکومتی محکموں میں ملازمت کے مواقع، یونیورسٹی میں داخلے اور بلدیاتی انتخابات میں حق رائے دہی جیسے حقوق حاصل ہیں۔

    نئی قانون سازی سے بھارت کے کسی بھی حصے سے کوئی بھی شخص کشمیری علاقے کا رہائشی ڈومیسائل حاصل کر سکتا ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو پچھلے پندرہ سال سے کشمیر ہی میں مختلف مقامات پر رہ رہے ہیں۔ شناخت نامے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دیہاڑی پر کام کرنے والے تقریباً 1.75 ملین مزدور بھی لے سکتے ہیں۔

    سات برس تک کشمیر میں ملازمت کرنے والے سرکاری ملازمین اور ان کے بچے بھی ڈومیسائل حاصل کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلا ڈومیسائل ریاست بہار کے ایک سینیئر بیوروکریٹ نوین کمار چوہدری کو جاری کیا گیا ہے، جو کئی برسوں سے کشمیر ہی میں تعینات ہیں۔ کشیری تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبا بھی مقامی شناخت نامہ حاصل کر سکیں گے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ اس نئی پیش رفت سے بھارت میں بسنے والے دو سو ملین مسلمانوں میں پریشانی کی نئی لہر پیدا ہو گی۔ ماہرین سماجیات کے مطابق یہ مسلمان ہی اصل میں بھارت کی سیکولر شناخت کو سنبھالے ہوئے ہیں اور ایسے اقدامات سے یہ شناخت مزید دھندلا جائے گی۔

    واضح رہے کہ ہمالیہ کا یہ خطہ 1947 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم ہوگیا تھا۔

  • کراچی :مختلف علاقوں میں ڈی واٹرنگ کا کام کیا جا رہا ہے،بہت سے انڈرپاس ٹریفک کےلیے کلیئرکردیئے:آئی ایس پی آر

    کراچی :مختلف علاقوں میں ڈی واٹرنگ کا کام کیا جا رہا ہے،بہت سے انڈرپاس ٹریفک کےلیے کلیئرکردیئے:آئی ایس پی آر

    راولپنڈی:کراچی کے مختلف علاقوں میں ڈی واٹرنگ کا کام کیا جا رہا ہے،بہت سے انڈرپاس ٹریفک کےلیے کلیئرکردیئے،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے ترجمان ادارے ئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں ڈی واٹرنگ کا کام کیا جا رہا ہے۔آئی ایس پی آرکا کہنا ہے کہ بہت سے انڈرپاس ٹریفک کےلیے کلیئرکردیئے

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج اور پاک بحریہ کی کراچی کے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی انجینئرز نے کے پی ٹی،سوک سینٹر انڈر پاس کو کلیئرکر دیا،محسن بھوپالی،گولیمار انڈر پاس کو کلیئر کر دیا گیا،گزری انڈر پاس پر کام جاری ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں ڈی واٹرنگ کا کام کیا جا رہا ہے،آرمی موبائل وہیکل مختلف مقامات پر امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

    ذرائع کے مطابق محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کہ خلیج بنگال میں بننے والا بارشوں کا سسٹم بحیرہ عرب سے نمی لے کر زیریں سندھ پر اثر انداز ہوگیا ہے جس کے تحت آج شام کراچی میں بھی بارش ہوسکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے ترجمان نے کہا کہ زیریں سندھ میں یہ سسٹم بارشیں برسا رہا ہے اور مون سون کے ساتویں اسپیل کے آج شام کراچی میں داخل ہونے کا بھی امکان ہے۔

  • بہادر کشمیری بدترین جبر و ظلم کے خلاف برسرپیکار ہیں، شہدائے کربلا سے سبق سیکھیں ،ان کی جدوجہد کامیاب ہو گی:عمران خان

    بہادر کشمیری بدترین جبر و ظلم کے خلاف برسرپیکار ہیں، شہدائے کربلا سے سبق سیکھیں ،ان کی جدوجہد کامیاب ہو گی:عمران خان

    اسلام آباد :بہادر کشمیری بدترین جبر و ظلم کے خلاف برسرپیکار ہیں، شہدائے کربلا سے سبق سیکھیں ،ان کی جدوجہد کامیاب ہو گی ،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بہادر کشمیری بدترین جبر و ظلم کے خلاف برسرپیکار ہیں، انہیں کربلا سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ثابت قدم رہنا چاہیے کیونکہ ظلم اور نا انصافی کے خلاف ان کی جدوجہد کامیاب ہو گی اور یہی شہدائے کربلا نے ہمیں دکھایا ہے۔

     

     

     

     

     

     

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین، ان کے اہل خانہ اور پیروکاروں کی قربانی نے ہمیں تین پیغامات دیے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘انہوں نے ابدیت حاصل کی جنہوں نے ظلم اور نا انصافی کے خلاف ڈٹ کر اپنی جانوں کی قربانی دی، یہ صرف امیر، طاقتور یا تعلیم یافتہ ہونے سے حاصل نہیں ہوتی’۔

     

     

    وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ کئی عظیم مسلمان کربلا سے متاثر ہوئے ہیں اور انہوں نے ظلم، نوآبادیاتی حکمرانی اور نا انصافی کے خلاف کھڑے ہو کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں بھی ظلم و انصافی کے خلاف جدوجہد جاری ہے۔

  • 110سالہ خاتون نے کورونا وائرس کو شکست دے دی

    110سالہ خاتون نے کورونا وائرس کو شکست دے دی

    بھارتی ریاست کیرالہ کے ملاپورم ضلع سے تعلق رکھنے والی 110 سالہ خاتون نے وبائی مرض کورونا کو شکست دے کر بھارت کی پہلی سب سے بوڑھی صحت یاب ہونے والی خاتون کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خاتون جس کا نام رندتھنی واریاتھ پاتھو ہے۔ 18 اگست کو سرکاری میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا تو اس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔ اسے فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا جہاں اس خاتون نے اپنے علاج کے لئے ڈاکٹروں کا بھرپور ساتھ دیا اور اپنی بیماری کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ مسلسل علاج کے بعد گزشتہ روز اس کا دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا تو وہ منفی آگیا جس کے بعد اس خاتون کوہسپتال سے فارغ کر کے گھر بھیج دیا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس خاتون کو کورونا وائرس اس کی بیٹی سے منتقل ہوا۔ اس کی بیٹی گھر پر ہی زیرعلاج تھی جو کہ اب صحت یاب ہو چکی ہے۔ کیرالہ کے وزیر صحت کے کے شیلجا نے 110 سالہ خاتون کے کورونا کو شکست دینے کو بڑا واقعہ قرار دیتے ہوئے اسپتال کے ڈاکٹروں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وزیر صحت نے خاتون کو صحت یاب ہونے پر پھولوں کا گلدستہ بھی بھجوایا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خاتون کی مزید چند دن خصوصی دیکھ بھال کی جائے گی اور ایک ڈاکٹر روزانہ اس کے گھر جا کر اس کا چیک اپ کرے گا۔ 

  • کراچی بارشیں: پاک فوج کے جوان خدمت میں‌مصروف : شاہراہ فیصل پر انڈر پاس کلیئر

    کراچی بارشیں: پاک فوج کے جوان خدمت میں‌مصروف : شاہراہ فیصل پر انڈر پاس کلیئر

    کراچی:کراچی بارشیں: پاک فوج کے جوان خدمت میں‌مصروف : شاہراہ فیصل پر انڈر پاس کلیئر ،اطلاعات کے مطابق شہر قائد میں ہونے والی تاریخ کی بدترین بارش کے بعد پاک فوج اور نیوی امدادی کاموں میں مصروف ہے۔ جہاں پر شاہراہ فیصل پر انڈر پاس کلیئر کر دیا گیا ہے۔

    پاک فوج کےترجمان ادارے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کراچی میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں آرمی اور نیوی کی ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران پاک آرمی نے شاہراہ فیصل پر انڈر پاس کلیئر کر دیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے شاہراہ فیصل پر ٹریفک رواں کر دی ہے، آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج پانی میں پھنسی گاڑیاں بھی کلیئر کر رہی ہے، کراچی ایئر پورٹ بھی امدادی کام جاری ہیں بکہ زیرآب علاقوں میں نکاسی کاعمل بھی جاری ہے۔ پاک فوج کی امدادی موبائل ٹیمیں متحرک ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق قیوم آباد، سرجانی اور سعدی ٹاؤن میں 3 آرمی فیلڈ میڈیکل مراکز کام کررہے ہیں، آرمی ڈاکٹرز اور طبی عملہ متاثرین کو سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی 32 ایمرجنسی موبائل میڈیکل ٹیمیں کام کر رہی ہیں، پاک فوج کے 56 میڈیکل کیمپ طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں، سیلاب کے متاثرین تک کھانا بھی پہنچایا گیا۔

  • وزیراعظم کراچی کی طرح گلگت بلتستان میں بھی این ڈی ایم اے کو فعال کریں: بلاول بھٹو زرداری

    وزیراعظم کراچی کی طرح گلگت بلتستان میں بھی این ڈی ایم اے کو فعال کریں: بلاول بھٹو زرداری

    کراچی: وزیراعظم کراچی کی طرح گلگت بلتستان میں بھی این ڈی ایم اے کو فعال کریں،اطلاعات کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں عوام اور بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کے لئے این ڈی ایم اے کو فعال کرے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا گلگت بلتستان میں تیز بارش کے بعد کھڑی فصلیں اور باغات تباہ ہوگئے، شاہراہ قراقرم پر بنی سرنگ کی مرمت کے لئے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ گر سکتی ہے،

    چیئرمیں پیپلزپارٹی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکن متاثرین کی ہر ممکن مدد کریں۔ وفاقی اور گلگت بلتستان کی حکومت شہریوں کی مدد کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے۔