واشنگٹن :امریکی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے بے بس ہوں وہ کرونا وائرس کی ویکسین کے بارے اپنی مرضی کررہے ہیں ،اطلاعات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ یا کوئی اور کورونا وائرس کے خلاف ویکسین لانے نہیں دے رہا۔
صدر ٹرمپ کو خدشہ ہے کہ کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کا ٹرائل اس لیے شروع نہیں کیا جا رہا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ یا کوئی اور چاہتا ہے کہ ویکسین کا معاملہ 3 نومبر کے صدارتی انتخابات تک تاخیر کا شکار رہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر ڈیموکریٹ رہنما نینسی پلوسی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو سیاست زدہ نہ کیا جائے، دوائیاں موثر ہونے کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہیں، وائٹ ہاؤس کے اعلامیوں پر نہیں۔
امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا کہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دواؤں کو ان کی سیفٹی اور مؤثر ہونے کی بنیاد پر جانچے نہ کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کام تیزکرو کے اعلامیوں کی بنیاد پر۔
نینسی پلوسی نے کہا کہ صدر کی جانب سے ایسا بیان امریکی افواج کے لیے خطرناک ہے اور یہ ناقابل برداشت ہے۔ امریکی افواج نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھرمیں اپناایک اثررکھتی ہیں اوروہ امریکی سلامتی کےلیے کسی صدرکی مرضی کی محتاج نہیں ہیں
خیال رہے کہ امریکامیں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار ہوگئی ہے اور وبا کے سبب معیشت اور انتخابی مہم بری طرح متاثر ہے۔
وزیر اعظم عمران خان پانچ سو مسلم شخصیات میں مین آف دا ائیر منتخب
باغی ٹی وی : 2020کی پانچ سو بااثر مسلم شخصیات پر کتاب جاری کردی گئی ہے، وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو ’مین آف دی ایئر‘ اور امریکی کانگریس کی راشدہ تلیب کو ’وومن آف دی ایئر‘ قرار دیا گیا ہے۔
کتاب میں سے پہلی 50 شخصیات کا تعلق مذہبی اسکالرز اور سربراہان مملکت سے ہے جبکہ 450 دیگر کا تعلق سیاسی، سماجی اور میڈیا سمیت 13 کیٹیگریز سے ہے۔
کتاب میں وضاحت کی گئی ہے کہ اثرورسوخ سے مراد کسی بھی شخص کے پاس (خواہ وہ ثقافتی، نظریاتی، مالیاتی، سیاسی یا دیگر) کو بدلنے کی طاقت ہو جس کا مسلم دنیا پر خاص اثر پڑے گا۔ کتاب میں کہا گیا ہے کہ یہ اثر مثبت بھی ہوسکتا ہے اور منفی بھی جس کا انحصار کسی کے نقطہ نظر پر ہے۔
کتاب میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ اس اشاعت کیلئے لوگوں کا انتخاب کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کے خیالات کی توثیق کرتے ہیں بلکہ ہم صرف ان کے اثرو رسوخ کی پیمائش کرنے کی سادہ سی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ اثرورسوخ کسی مذہبی اسکالر کا ہوسکتا ہے جو براہ راست مسلمانوں کو مخاطب کرے اور ان کے عقائد اور نظریات کو متاثر کرے یا یہ ایک سماجی و معاشی عوامل کو تشکیل دینے والا حکمران ہوسکتا ہے جس میں لوگ اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔
کتاب کی پانچ سو با اثر مسلم شخصیات میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو ’مین آف دی ایئر‘ اور امریکی کانگریس کی خاتون مسلم رہنماء راشدہ تلیب کو ’وومن آف دی ایئر‘ قرار دیا گیا ہے۔
دیگر پاکستانی بااثر مسلم شخصیات میں مذہبی اسکالر مفتی محمد تقی عثمانی، تبلیغی جماعت کے امیر مولانا نذر الرحمان،مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل، پروفیسر اکبر احمد، صادق خان، شیخ الیاس قادری، ملالہ یوسفزئی، خاور قریشی شامل ہیں۔
دیگر با اثر مسلم شخصیات میں ایران کے آیت اللہ خمینی، ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان، ترک صدر رجب طیب اردوگان، سعوی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبد العزیز، حزب اللہ کے سید حسن نصر اللہ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، سنگاپور کی صدر حلیمہ یعقوب وغیرہ شامل ہیں
پاکستان میں کورونا وائرس کے591 نئے کیسز ، 4 افراد کی اموات
باغی ٹی وی :این سی او سی کے مطابق گزشتہ24گھنٹوں کے دوران 24 ہزار 956 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر کیے گئے ٹیسٹوں کی تعداد 24 لاکھ 39 ہزار858 ہو گئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری تازہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے ایکٹیو کیسزکی صرف10 ہزار 694 رہ گئی ہے۔
ملک بھر میں کورونا سےمجموعی اموات کی تعداد 6 ہزار235 ہوگئی ہے اور 2 لاکھ 75 ہزار 836 افراد کورونا سے صحت یاب ہوئے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے مجموعی طور پر2 لاکھ92ہزار 765 افراد متاثر ہوئے۔
سندھ ایک لاکھ 27 ہزار 965 کورونا کیسزکے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ پنجاب 96 ہزار178 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا35 ہزار750، اسلام آباد 15 ہزار493 اور بلوچستان میں 12 ہزار507 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ؎آزاد کشمیر 2 ہزار 241 اور گلگت میں میں کورونا کیسز کی تعداد 2 ہزار 638 ہے۔
کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار 188 اور سندھ میں 2 ہزار 357 اموات ہوئی ہیں۔ خیبر پختونخوا ایک ہزار 246، اسلام آباد 175، بلوچستان 141، گلگت بلتستان 63 اور آزاد کشمیر میں کورونا سے اموات کی تعداد 61 ہے۔
ملک میں 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں اور متعدد شہروں میں ٹریس، ٹیسٹ اورقرنطینہ حکمت عملی موثر طریقے سے کام رہی ہے۔
حکومت کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کا گراف مسلسل نیچے آرہا ہے، لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔
پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروری کو رجسٹرڈ ہوا اور ایک ہزاراموات 21 مئی تک ہوئیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کیسز میں اضافے کی رفتار کافی سست ہوچکی ہے لیکن پھر بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے اثرات تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور اگست کے پہلے دس روز میں صرف چھ ہزار کیسز رپورٹ ہوئے جو کہ ماضی کی نسبت سب سے کم ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) کی جانب سے محرم الحرام میں کورونا کے دوبارہ پھیلاؤ کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کے دوران کورونا وائرس کے خلاف موثر اقدامات کے ذریعے عوام کے تحفظ اور فلاح وبہبود کو یقینی بنایا جائے گا
یو اے ای کا اسرائیل کو تسلیم کرنا اچھا فیصلہ کیوں نہیں؟ سابق وزیر خارجہ بیگم عابدہ حسین کا مبشر لقمان کے ہمراہ انٹرویو
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل ہم نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کا انٹرویو کیا تھا،وہ بہت ہی بہتر انداز تھا، آج میرے پاس بہت ہی بڑا نام ہے، پاکستان فارن آفس، ایمبسڈر لیول پر بات کر سکتے ہیں بیگم عابدہ حسین، انکی تمام ریجن ،خطے کے امورپر گہری نظر ہے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ آپ شاہ محمود قریشی کے سعودی عرب کے بارے میں بیان کو کیسے دیکھتی ہیں آج تو انہوں نے بیان دیاکہ حالات بہتر، ورنہ پہلے تو ایک لمحے کے لئے بڑی پرابلم شروع ہو گئی تھیں جس پر بیگم عابدہ حسین کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو بیان دیا، شاہ محمود نے وہ پاکستان کے نقطہ نظر سے تو صحیح تھا ہماری سعودی عرب کے ساتھ ریلیشن شپ مثبت رہی ہے لیکن ہمارے جو لوگ وہاں کام کرنے جاتے ہیں انکے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں ہوتا، اس بیان سے شاہ محمود کا وہ اپنی جگہ درست تھا
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ خطے میں بڑی ڈیولپمنٹ ہو رہی ہے ایک امریکی بلاک ایک چینی بلاک، مستبقل میں کیا ہو گا، جس پر بیگم عابدہ حسین نے کہا کہ چین کا بھارت کے ساتھ اچھے روابط نہیں ہیں ،بھارت کے بارڈر پر انہوں نے کچھ فوجیوں کو قتل کیا، اسکے علاوہ سی پیک کا منصوبہ ، یہ ہمارے لئےبڑا مفید ہے،مثبت منصوبہ ہے، ہم چائنہ کے بلاک میں ہیں، چین کے ساتھ تعلقات اچھے رہے اور مزید بھی رہیں گے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ امریکہ بڑا پریشرائز کر رہا ہے سعودی عرب کو، سعودی عرب کی ٹائمنگ صحیح نہیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی،ایسی صورت میں ٹرمپ پریشرائز کر رہے ہیں، اسے وہ چائنہ بلاک کی طرف آ سکتے ہیں اگلے ایک دو سال میں اس مناسبت سے سعودی عرب ایران کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں،خطے میں امن ہو سکتا ہے، جس پر بیگم عابدہ حسین نے کہا کہ میں ایگری کرتی ہوں، سعودی ایران کے تعلقات بہتر ہو جائیں تو اس سے اچھی بات اور کوئی نہیں، امریکہ کو بھی یہ ایک مثبت جواب ہو گا سعودی عرب کی طرف سے جو امریکا کر پریشر ہے اس کو ریلیز کرنے کے لئے ایران کے ساتھ تعلقات سود مند ہو گا
بیگم عابدہ حسین نے کہا کہ جوبائڈن کے آنے سے ہمارے تعلقات میں فرق نہیں پڑے گا،امریکہ پاکستان کے تعلقات گرمجوشی کے نہیں، وہ ہماری کسی قسم کی مدد نہیں کر رہا ،جیسے تعلقات ہیں ویسے ہی رہیں گے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کافی لوگ رائے رکھتے ہین کہ اسرائیل کو ہمیں تسلیم کر لینا چاہئے، اسرائیل نے فلسیطینیوں کی پاور بند کر دی ، ہسپتالوں میں بھی بجلی نہین، کیا امت مسلمہ کو ملکر کہنا نہیں چاہئے کہ باز آ جاؤ جس پر بیگم عابدہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے ہمیں کوئی فائدہ نہین ہوتا، بہت پہلے کرتے تو کوئی اور بات تھی،اسلامی ریاستوں کو بیک زبان اسرائیل سے مخاطب ہو کر احتجاج کرنا چاہئے کہ وہ جو فلسطینیوں کے ساتھ کر رہے ہیں وہ قابل قبول نہیں
بیگم عابدہ حسین کا مزید کہنا تھا کہ یو اے ای نے میں سمجھتی ہوں کہ اچھا نہیں کیا، یہ بین الاسلام کے لئے اسرائیل کی جانب جانا اس سٹیج پر مثبت قدم نہیں، ہمیں قطعی طور پر اس کو نہیں سہرانا چاہئے،کشمیر کے حوالہ سے سوال پر بیگم عابدہ حسین کا کہنا تھا کہ ہماری فارن پالیسی صحیح سمت میں ہے، روس کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے ہوں گے، اسکا قرب حاصل کرنے سے فائدہ ہو گا، ایران کے ساتھ قرب حاصل کرنا چاہئے، ایران ، ترکی پاکستان کا بڑا مثبت بلاک بن جاتا ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق علی ظفر کے وہ کام جس کا وہ ڈھنڈورا نہیں پیٹتے..لیکن آج مبشر لقمان نے سب بتا دیا
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکرمریم خان نے سوال کیا کہ ایک اور اسی طرح کا کیس ہے، علی ظفر کو پرائیڈ آف پرفارمنس دیا گیا، لوگوں نے اعتراض کیا، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ علی ظفر نیشنل آئیکون ہیں، سپر سٹار ہیں، علی ظفر کی ایک فاؤنڈیشن ہے جس نے خواتین، بچیوں کو سکالر شپ دی، بچیوں کی شادیاں کروائیں ، اسکا حساب ہی نہیں، وہ آدمی ڈھنڈورا نہیں پیٹتا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ علی ظفر پر الزام لگایا گیا جو غلط ہے، میشا شفیع خود تو کورٹ میں آتی ہی نہیں، اس نے جھوٹا الزام لگایا، مہوش حیات کو کتنا ٹرول کیا جب اسکو ایوارڈ ملا، اس کے متعلق کیا کچھ گھٹیا بات نہیں کی گئی، اس نے سب سے زیادہ ہٹ فلمیں دیں، علی ظفر نے اس زمانے میں فلم کو ہٹ کروایا جب کوئی دیکھتا ہی نہیں تھا، اس نے نیشنل سانگ کئے ، خواتین کے لیے کام کیا، راشن تقسیم کیا وہ بھول گئے، آپ لوگوں نے کیا، شاید ان کا وزن بڑھ گیا ہو گا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تاھ کہ شور کرنا اور احتجاج انکا کام ہے جو فلاں فلاں این جی اوز کے ایجنڈہ پر چل رہے ہوتے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آئی یہ چاہتے کیا ہیں، موم بتیاں رکھی ہوئی ہین وہ پوری نہیں چلتی، پھر وہی اٹھا کر لے آتے ہیں،جس طرح سے یہ ٹرولنگ کرتے ہیں، بلاول نے کاشف عباسی کو ٹرول کیا، میرے اوپر بختاور نے ٹویٹ کیں، میرے اوپر الطاف حسین نے فائرنگ کروائی، اس پر نہیں بولیں گے، میرے اوپر جعلی کیس بنے اس پر نہیں بنیں گے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ابھینندن کو پکڑا تو 18 عورتیں کھڑی ہو گئیں کہ اسے رہا کرو، کیوں رہا کرو، اس نے پاکستان پر حملہ کیا، اسکو لتر پڑنے چاہئے تھے، ابھی تک انڈیا میں یہ آواز نہیں اٹھی تھی، یہاں اٹھ گئی، لیکن کشمیر میں 18 ہزار بچیوں کی عصمت دری کی گئی،ایک لاکھ 20 ہزار لوگ شہید ہو گئے، ابھی تک ایک بھی موم بتی نہیں جلی، ان کو موت ہو جاتی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ امریکہ میں جا کر کریں نہ ٹرولنگ کہ گوانتا نامو بے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ، گھر والوں کو اٹھا کر لے جائیں گے، انڈیا میں جا کر کریں، عامر خان اردگان کی بیوی کو ملا تو اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے، اللہ کا شکر کرو پاکستان میں آزاد رہ رہے ہو، ہماری کوتاہیوں کے باوجو داللہ نے ہم پر کرم کیا ہوا ہے، اس ملک کی قدر کرو.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ وہ خواتین کس طرح سے ٹرولنگ کرتی ہیں میں بتا سکتا ہوں، اگر یہ خواتین ٹرولنگ کریں تو ٹھیک ہے،کوئی اور اگر ان سے سوال کرے تو ٹھیک نہیں
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پراینکر مریم خان نے سوال کیا کہ 14 سے 15 خواتین نے سینیٹ قائمہ کمیٹی میں بلاول کے ساتھ ملاقات کی اور پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ وہ ہمیں ہراساں کرتے ہیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بلاول کی حالت اتنی ہوئی ہوئی ہے کہ اگر آپ بھی کہہ دیں کہ میں پی ٹی آئی کی ہوں اور میرا میاں مجھے خرچہ نہیں دے رہا، تو شاید بلاول اسے بھی بلا لے سٹینڈنگ کمیٹی میں،کہ اس کی ایسی کی تیسی ، پی ٹی آئی کا آدمی ہے، عورتوں کے حقوق مار رہا ہے،بیوی کے حقوق نہیں دے رہا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ بے کار باتیں ہیں، وہ خواتین کس طرح سے ٹرولنگ کرتی ہیں میں بتا سکتا ہوں، اگر یہ خواتین ٹرولنگ کریں تو ٹھیک ہے،کوئی اور اگر ان سے سوال کرے تو ٹھیک نہیں، ڈاکٹر اے کیو خان کے بارے میں کتنی گھٹیا گھٹیا باتیں کی انہوں نے،کیا کیا نہیں کہا؟ وہ ہیرو ہیں، انکے فینز بھی ہین، اب اگر وہ انکو جواب دیتے ہیں تو اس پر چیخیں مارتی ہیں، اس میں پی ٹی آئی کا کیا قصور ہے،ن لیگ بھی ٹرولنگ کرتی ہے،پی پی بھی ٹرولنگ کرتی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کل ہم نے اس پر شو کیا مہر بخاری کے ساتھ، آج ٹویٹر پرکمنتس دیکھے، گالم گلوچ کے ساتھ لوگ ٹرول کر رہے تھے، ہمارے ساتھ بھی واقعہ ہوا،ہماری بڑی برائیاں کرتے رہے،کسی نے رابطہ نہیں کیا،کوئی موقف نہیں لیا،جب سپریم کورٹ نے فیصلہ ہمارے حق میں دیا وہ رپورٹ تک نہیں ہوا، یہ کونسے جرنلسٹ ہیں، سیفما مین کام کرنا جرنلسٹ ہوتا ہے، انڈین میڈیا میں بیٹھ کر سارے انٹرویو دے رہے ہیں، آپ وہ بات کر رہے ہیں جو دشمن کو سپورٹ کر رہی ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ جانوں کو خطرہ ہے،انکو اس سے فائدہ بی بی سی میں آنا ہے،انکو ٹائمز آف انڈیا میں آنا ہے،یہی ان کو ٹھرک ہے، میک اپ اتارو،تمہارے گھر والے بھی تمہیں کتنا پہچانتے ہیں، پھر دیکھیں گے کہ تم کتنے بڑے لوگ ہو،
واضح رہے کہ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کو انٹرویو دیتے ہوئے اینکر مہر بخاری کا کہنا تھا کہ جب آپ نے اس کا نام ’فیمیل جرنلسٹ آف پاکستان‘ رکھ دیا ہے تو یہ ایک بڑا موضوع بن جاتا ہے، انڈیا میں بھی اس پر بات شروع ہو جاتی ہے اور سفارتخانوں سے بھی فون آنے لگ جاتے ہیں کہ آپ کی کہانی میں کتنی صداقت ہے تو پھر اس میں سب کو شامل کرنا ضروری تھا، میرے نزدیک یہ زیادتی ہے۔ اس سے قبل ایک بڑی کال دینا چاہیے تھی تاکہ اس شعبے سے منسلک دیگر تمام خواتین بھی شرکت کرتیں۔
مہر بخاری کا کہنا تھا کہ کہ ایک کمرے میں بیٹھ کر سب اپنی اپنی کہانی بیان کرتیں اور ایک جامع قسم کی قرارداد تیار ہوتی تاکہ وہ سیاسی اور ایجنڈے کے مطابق نہ لگتی۔ میری پوری ہمدردی اور احترام آپ کے ساتھ ہے لیکن بہتر ہوتا کہ آپ ماریہ میمن، فریحہ ادریس، جیسمین منظور اور کیمرے کے پیچھے رہ کر کام کرنے والے دیگر خواتین صحافیوں کو بھی بلاتیں۔ ان میں سے ایک دو خواتین نے یہ کہا کہ جمہوریت پسند خواتین صحافیوں کو زیادہ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ بڑی غلط بات ہے، اگر کل میں کہوں کہ اس سے تو تاثر یہ بن رہا ہے کہ اصل میں جو غیر جانبدار ہیں انہیں آپ متعصب کہہ رہے ہیں اور جو متعصب ہیں انہیں آپ جمہوریت پسند کہہ رہے ہیں تو پھر یہ آپ کو بھی اچھا نہیں لگے گا۔
مہر بخاری کا مزید کہنا تھا کہ اس دستاویز پر دستخط کرنے والی خواتین میں سے کچھ پچھلے 15 سال مجھے خود ٹرول کرتی آئی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس ملک میں تمام ادارے ٹرول کرتے آئے ہیں، سیاسی جماعتیں ٹرول کرتی آئی ہیں حتیٰ کہ میرے اپنے شعبے کے آدمیوں اور خواتین نے ایسا ٹرول کیا ہے کہ آپ کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ یہ ہوا کیا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عثمان بزدار کی زات پر بہت سارے سوالیہ نشان ہیں، ایک تو وہ پرفارم نہیں کر رہے دوسرا جو کر رہے ہیں وہ بھی قابل اعتراض ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ عثمان بزدار کے خلاف نیب متحرک ہے،نیب نے ترقیاتی منصوبوں میں من پسند ٹھیکدار کو نوازنے پر انکوائری بٹھا دی ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کی زات پر بہت سارے سوالیہ نشان ہیں، ایک تو وہ پرفارم نہیں کر رہے دوسرا جو کر رہے ہیں وہ بھی قابل اعتراض ہے،اصولا تو انکو استعفیٰ دینا چاہئے تھا نیب کے پاس جاتے ہوئے، انہوں نے ڈی جی پر سارا بلیم ڈال دیا، ویک منیجر کی پہلی نشانی یہی ہوتی ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں بھی وزیر رہ چکا ہوں پنجاب میں ،میرے اس دور میں بے نظیر بھٹو کا حادثہ ہواراولپنڈی مین ہمارے پیروں سے تو زمین نکل گئی کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے،اوپر سے آپ کو یہ ہی نہیں پتہ کہ کیا کہوں اور کیا نہ کہوں کہ لوگ ری ایکٹ نہ کر دیں،اسوقت جو ہمارے متعلقہ بیورو کریسی تھی وہ آصف زرداری، رحمان ملک سے بات کر رہے تھے، ایک دو لوگ ہم ان میں سے گواہ تھے، مہینے بعد ان پر کچھ باتوں کا بلیم آیا کہ حکومت نے پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کروایا، جلدی صفائی کیوں ہو گئی، میں نے بھی اور ایک دو لوگوں نے کھڑے ہو کر سٹینڈ لیا کہ ہم بیوروکریٹ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم گواہ ہیں، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ انہوں نے کام نہیں روکا ، کھل کر کام کیا، بیورو کریسی کو حکومت کی نتھ چاہئے ہوتی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بیورو کریسی اتنی ہی اچھی ہوتی ہے جتنے اچھے اور قابل آپ ہیں، بیوروکریسی نے پھر ہمیں سپورٹ کیا، بزدار نے اپنے ڈی جی کو بھیڑیوں کے آگے ڈال دیا، وہ خود سے اتنا بڑا فیصلہ نہیں کر سکتا، کل سیکرٹری ایکسائز کو نیب بلا لے گی، ایسے میں باقی کام بھی پنجاب میں رک جائیں گے، اب دوسرا کیس آ گیا، اب کس پر بلیم ڈالیں گے، چیف منسٹر لکھتا نہیں ہے انکا پی ایس لکھتا ہے، پرویز الہیٰ، شہباز شریف نے بیورو کریسی کے لئے سٹینڈ لیا، شہباز شریف نے بڑا سٹینڈ لیا اس سے انسان کی عزت بڑھتی ہے جب ماتحت کے لئے سٹینڈ لیتے ہیں، نفع نقصان نہیں ہوتا، اس میں کریکٹر سامنے آتا ہے جب آپ کریڈٹ لے رہے ہیں تو بلیم بھی لینا چاہئے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب اور لوگ بزدار کے احکامات ماننے سے انکار کر دیں گے یا وعدہ معاف گواہ بننا شروع ہو جائیں گے، بزدار نہیں بچ سکتے، یہ مکافات عمل ہے،عمران خان اپنے ماتحت کو سپورٹ کر رہے ہیں،ایسی چیزیں لکھ کر نہیں دی جاتیں، کہی جاتی ہیں، میں نے ایڈیشنل سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سے کام کروائے ،وہ آج بھی سیکرٹری ایوی ایشن ہیں، جامی صاحب میرے محکمے میں ایڈیشنل سیکرٹری تھے، جب بھی انکو کہا کہ یہ کرنا ہے،پاور سیکرٹری کے ہاتھ میں ہوتی ہے،منسٹر کے ہاتھ مین لیگل پاور نہیں ہوتی، آج انہوں نے کیا، آج کوئی سوال کرلیتا ہے تو جامی صاحب کہیں کہ منسٹر صاحب نے کہا تو مجھے ماننا پڑے گا اور میں مانوں گا،ہو سکتا ہے کہ میری انفارمیشن غلط ہو لیکن میں نے فیصلہ کیا .
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا کیسز کم ہونے کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو جاتا ہے، انہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن کیا تو ہم نے مخالفت کی اور لاک ڈاؤن کا کہا لیکن وہ درست نکلے اور ہم غلط،
مبشر لقمان آفیشل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ دنیا حیران ہے کہ غربت، تباہ حال معیشت،گنجان آباد علاقے، خاندانی نظام کے باوجود 23 کروڑ آبادی میں کرونا سے اموات 6 ہزار ہیں، برطانیہ کی آبادی ساڑھے 6 کروڑ ہے اور 41 ہزار اموات ہوئی ہیں ، یہ کس طرح سے پاکستان نے کرونا پر قابو پایا، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کئی باری ہمارا انفراسٹرکچر نہ ہونا ہمیں راس آ گیا ہے، جن ممالک میں ٹرانسپورٹ سسٹم سٹرانگ ہے،وہاں پر زہریلی طریقے سے وائرس پھیلا ہے، لاک ڈاؤن سے پہلے ہر طرح کی لوکل ٹرانسپورٹ اور انٹرسٹی ٹرانسپورٹ بند کر دی گئی تھی اس سے وائرس ایک جگہ پہنچا تو مزید نہیں پھیل سکا، دوسرے شہروں میں نہیں جا سکا، مجھے ڈاکٹر فیصل سلطان نے بہت پہلے کہا تھا کہ جو ہم کر رہے ہیں اگر یہ صحیح ہو گیا تو دنیا میں کامیاب ترین فارمولا ہو گا، میں نے کہا کہ اگر نہ ہوئی تو انہوں نے جواب دیا کہ پھر سب جیسا حال ہو گا، کہنے کو تو 6 ہزار اموات ہوئی ہیں لیکن اس سے ہم ایک بار ہل گئے ہیں،گھروں میں، جاننے والوں میں اموات ہوئی ہیں، اللہ نے بڑا کرم کر دیا ہے، بحرحال ہم ہیں تو امت ہی، کمزور لوگ ہیں، یہ ہمارا فخر اور غرور بھی ہے، میرا خیال ہے کہ پاکستان میں جو لیک آف ٹرانسپورٹ سسٹم ہے، ٹرانسپورٹ لاک ہونے سے وائرس نہیں پھیلا اور جن علاقوں میں تھا وہیں رہا،جب کوئی ویکسین بنے گی تو پتہ چلے گا کہ اس مین کیا کیا چیزیں ہیں،پھر کچھ پتہ چلے گا، کھانے کی وجہ سے بچ گئے یا کسی اور وجہ سے، انوائر منٹ تو انڈیا کی بھی یہی ہے، لیکن ٹرانسپورٹ سسٹم کا فرق ہے، انہوں نے بعد میں اسکو روکا اور اسوقت تک انڈیا میں وائرس پھیل چکا تھا، جن شہروں میں ٹرانسپورٹ سسٹم بڑا ہے، وہاں یہ زیادہ پھیلا، ہم سب نے حکومت کی مخالفت کی تھی لیکن عمران خان کو اس بات پر کریڈٹ دینا پڑے گا، اگر ایسا نہ ہوتا تو گالیاں بھی انہیں پڑ رہی ہوتیں، ہم لوگ غلط تھے، وہ صحیح تھے، ہر حال میں جیت پاکستانی قوم کی ہوئی ہے، ایس او پیز کو ہم مینج نہیں کر رہے یہی وجہ ہے کہ کل بھی ہماری دس اموات ہوئی ہیں ، اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ بہت زیادہ ہوئی ہیں رجسٹرڈ نہیں تو یہ بھی جھوٹ ہے، پہلے کہتے تھے کہ مروانا چاہتے ہیں ایڈ کے لئے، جب اموات ہوئی ہیں تو ہر ایک کو پتہ چل جاتا ہے،میں چار نام لوں تو آدھا لاہور ان کو جانتا ہے،پاکستان کی حکومت نے خصوصا عمران خان کے یقین نے بہت فائدہ پہنچایا، اس کا کریڈٹ خان کو جاتا ہے، اللہ نے اسکو عزت دینی ہے دے دی.
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو مریم نواز پھنسا رہی ہیں، نواز شریف کو بلانے حکومت عدالت جا سکتی ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پہلے اپنے وزیروں کا تو احتساب کر لے جنہوں نے لکھ کر دیا تھا کہ جانے دیا جائے ورنہ مر جائے گا، اب بھائی جان کی ایک اور تصویر آئی ہے جس میں وہ باڈی بلڈرز کے ساتھ کھڑے ہیں انکے پلیٹ لیٹس کا مسئلہ نہیں ہے، اب ان کو خود آنا چاہئے اخلاقی طور پر، اخلاق اور ان چیزوں کا کیا تعلق ہے، جہاں تک مریم اور شہباز کی بات ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ خاندان میں دراڑ ہے ایک شہباز اور ایک مریم کیمپ ہے، مریم کیمپ زیادہ مضبوط اور پارٹی کو ٹیک اوور کرنا چاہتا ہے شیخ رشید کی پہلی بات صحیح ہے، دوسری بات کچھ حد تک صحیح ہے فیصلے شیخ رشید صاحب نے نہیں کرنے ، ان سے اوپر ہونے ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے
مریم خان نے سوال کیا کہ 14 سے 15 خواتین نے سینیٹ قائمہ کمیٹی میں بلاول کے ساتھ ملاقات کی اور پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ وہ ہمیں ہراساں کرتے ہیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بلاول کی حالت اتنی ہوئی ہوئی ہے کہ اگر آپ بھی کہہ دیں کہ میں پی ٹی آئی کی ہوں اور میرا میاں مجھے خرچہ نہیں دے رہا، تو شاید بلاول اسے بھی بلا لے سٹینڈنگ کمیٹی میں،کہ اس کی ایسی کی تیسی ، پی ٹی آئی کا آدمی ہے، عورتوں کے حقوق مار رہا ہے،بیوی کے حقوق نہیں دے رہا، بے کار باتیں ہیں، وہ خواتین کس طرح سے ٹرولنگ کرتی ہیں میں بتا سکتا ہوں، اگر یہ خواتین ٹرولنگ کریں تو ٹھیک ہے،کوئی اور اگر ان سے سوال کرے تو ٹھیک نہیں، ڈاکٹر اے کیو خان کے بارے میں کتنی گھٹیا گھٹیا باتیں کی انہوں نے،کیا کیا نہیں کہا؟ وہ ہیرو ہیں، انکے فینز بھی ہین، اب اگر وہ انکو جواب دیتے ہیں تو اس پر چیخیں مارتی ہیں، اس میں پی ٹی آئی کا کیا قصور ہے،ن لیگ بھی ٹرولنگ کرتی ہے،پی پی بھی ٹرولنگ کرتی ہے،کل ہم نے اس پر شو کیا مہر بخاری کے ساتھ، آج ٹویٹر پرکمنتس دیکھے، گالم گلوچ کے ساتھ لوگ ٹرول کر رہے تھے، ہمارے ساتھ بھی واقعہ ہوا،ہماری بڑی برائیاں کرتے رہے،کسی نے رابطہ نہیں کیا،کوئی موقف نہیں لیا،جب سپریم کورٹ نے فیصلہ ہمارے حق میں دیا وہ رپورٹ تک نہیں ہوا، یہ کونسے جرنلسٹ ہیں، سیفما مین کام کرنا جرنلسٹ ہوتا ہے، انڈین میڈیا میں بیٹھ کر سارے انٹرویو دے رہے ہیں، آپ وہ بات کر رہے ہیں جو دشمن کو سپورٹ کر رہی ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ جانوں کو خطرہ ہے،انکو اس سے فائدہ بی بی سی میں آنا ہے،انکو ٹائمز آف انڈیا میں آنا ہے،یہی ان کو ٹھرک ہے، میک اپ اتارو،تمہارے گھر والے بھی تمہیں کتنا پہچانتے ہیں، پھر دیکھیں گے کہ تم کتنے بڑے لوگ ہو،
مریم خان نے سوال کیا کہ ایک اور اسی طرح کا کیس ہے، علی ظفر کو پرائیڈ آف پرفارمنس دیا گیا، لوگوں نے اعتراض کیا، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ علی ظفر نیشنل آئیکون ہیں، سپر سٹار ہیں، علی ظفر کی ایک فاؤنڈیشن ہے جس نے خواتین، بچیوں کو سکالر شپ دی، بچیوں کی شادیاں کروائیں ، اسکا حساب ہی نہیں، وہ آدمی ڈھنڈورا نہیں پیٹتا، علی ظفر پر الزام لگایا گیا جو غلط ہے، میشا شفیع خود تو کورٹ میں آتی ہی نہیں، اس نے جھوٹا الزام لگایا، مہوش حیات کو کتنا ٹرول کیا جب اسکو ایوارڈ ملا، اس کے متعلق کیا کچھ گھٹیا بات نہیں کی گئی، اس نے سب سے زیادہ ہٹ فلمیں دیں، علی ظفر نے اس زمانے میں فلم کو ہٹ کروایا جب کوئی دیکھتا ہی نہیں تھا، اس نے نیشنل سانگ کئے ، خواتین کے لیے کام کیا، راشن تقسیم کیا وہ بھول گئے، آپ لوگوں نے کیا، شاید ان کا وزن بڑھ گیا ہو گا، انکا کام ہے کہ فلاں فلاں این جی اوز کے ایجنڈہ پر چل رہے ہوتے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آئی یہ چاہتے کیا ہیں، موم بتیاں رکھی ہوئی ہین وہ پوری نہیں چلتی، پھر وہی اٹھا کر لے آتے ہیں،جس طرح سے یہ ٹرولنگ کرتے ہیں، بلاول نے کاشف عباسی کو ٹرول کیا، میرے اوپر بختاور نے ٹویٹ کیں، میرے اوپر الطاف حسین نے فائرنگ کروائی، اس پر نہیں بولیں گے، میرے اوپر جعلی کیس بنے اس پر نہیں بنیں گے، ابھینندن کو پکڑا تو 18 عورتیں کھڑی ہو گئیں کہ اسے رہا کرو، کیوں رہا کرو، اس نے پاکستان پر حملہ کیا، اسکو لتر پڑنے چاہئے تھے، ابھی تک انڈیا میں یہ آواز نہیں اٹھی تھی، یہاں اٹھ گئی، لیکن کشمیر میں 18 ہزار بچیوں کی عصمت دری کی گئی،ایک لاکھ 20 ہزار لوگ شہید ہو گئے، ابھی تک ایک بھی موم بتی نہیں جلی، ان کو موت ہو جاتی ہے، آپ امریکہ میں جا کر کریں نہ ٹرولنگ کہ گوانتا نامو بے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ، گھر والوں کو اٹھا کر لے جائیں گے، انڈیا میں جا کر کریں، عامر خان اردگان کی بیوی کو ملا تو اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے، اللہ کا شکر کرو پاکستان میں آزاد رہ رہے ہو، ہماری کوتاہیوں کے باوجو داللہ نے ہم پر کرم کیا ہوا ہے، اس ملک کی قدر کرو.
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ عثمان بزدار کے خلاف نیب متحرک ہے،نیب نے ترقیاتی منصوبوں میں من پسند ٹھیکدار کو نوازنے پر انکوائری بٹھا دی ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کی زات پر بہت سارے سوالیہ نشان ہیں، ایک تو وہ پرفارم نہیں کر رہے دوسرا جو کر رہے ہیں وہ بھی قابل اعتراض ہے،اصولا تو انکو استعفیٰ دینا چاہئے تھا نیب کے پاس جاتے ہوئے، انہوں نے ڈی جی پر سارا بلیم ڈال دیا، ویک منیجر کی پہلی نشانی یہی ہوتی ہے،میں بھی وزیر رہ چکا ہوں پنجاب میں ،میرے اس دور میں بے نظیر بھٹو کا حادثہ ہواراولپنڈی مین ہمارے پیروں سے تو زمین نکل گئی کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے،اوپر سے آپ کو یہ ہی نہیں پتہ کہ کیا کہوں اور کیا نہ کہوں کہ لوگ ری ایکٹ نہ کر دیں،اسوقت جو ہمارے متعلقہ بیورو کریسی تھی وہ آصف زرداری، رحمان ملک سے بات کر رہے تھے، ایک دو لوگ ہم ان میں سے گواہ تھے، مہینے بعد ان پر کچھ باتوں کا بلیم آیا کہ حکومت نے پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کروایا، جلدی صفائی کیوں ہو گئی، میں نے بھی اور ایک دو لوگوں نے کھڑے ہو کر سٹینڈ لیا کہ ہم بیوروکریٹ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم گواہ ہیں، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ انہوں نے کام نہیں روکا ، کھل کر کام کیا، بیورو کریسی کو حکومت کی نتھ چاہئے ہوتی ہے، بیورو کریسی اتنی ہی اچھی ہوتی ہے جتنے اچھے اور قابل آپ ہیں، بیوروکریسی نے پھر ہمیں سپورٹ کیا، بزدار نے اپنے ڈی جی کو بھیڑیوں کے آگے ڈال دیا، وہ خود سے اتنا بڑا فیصلہ نہیں کر سکتا، کل سیکرٹری ایکسائز کو نیب بلا لے گی، ایسے میں باقی کام بھی پنجاب میں رک جائیں گے، اب دوسرا کیس آ گیا، اب کس پر بلیم ڈالیں گے، چیف منسٹر لکھتا نہیں ہے انکا پی ایس لکھتا ہے، پرویز الہیٰ، شہباز شریف نے بیورو کریسی کے لئے سٹینڈ لیا، شہباز شریف نے بڑا سٹینڈ لیا اس سے انسان کی عزت بڑھتی ہے جب ماتحت کے لئے سٹینڈ لیتے ہیں، نفع نقصان نہیں ہوتا، اس میں کریکٹر سامنے آتا ہے جب آپ کریڈٹ لے رہے ہیں تو بلیم بھی لینا چاہئے، اور لوگ بزدار کے احکامات ماننے سے انکار کر دیں گے یا وعدہ معاف گواہ بننا شروع ہو جائیں گے، بزدار نہیں بچ سکتے، یہ مکافات عمل ہے،عمران خان اپنے ماتحت کو سپورٹ کر رہے ہیں،ایسی چیزیں لکھ کر نہیں دی جاتیں، کہی جاتی ہیں، میں نے ایڈیشنل سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سے کام کروائے ،وہ آج بھی سیکرٹری ایوی ایشن ہیں، جامی صاحب میرے محکمے میں ایڈیشنل سیکرٹری تھے، جب بھی انکو کہا کہ یہ کرنا ہے،پاور سیکرٹری کے ہاتھ میں ہوتی ہے،منسٹر کے ہاتھ مین لیگل پاور نہیں ہوتی، آج انہوں نے کیا، آج کوئی سوال کرلیتا ہے تو جامی صاحب کہیں کہ منسٹر صاحب نے کہا تو مجھے ماننا پڑے گا اور میں مانوں گا،ہو سکتا ہے کہ میری انفارمیشن غلط ہو لیکن میں نے فیصلہ کیا .
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی پریس کلب کے عہدیداران و اراکین گورننگ باڈی نے باغی ٹی وی ٹیم پر حملے کی شدید مذمت کی ہے
کراچی پریس کلب کے صدرامتیاز فاراق،سیکرٹری جنرل ارمان صابر،سیکرٹری اطلاعات عبدالرحمان نے باغی ٹی وی کی رپورٹنگ ٹیم پر لاہور میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے حملے، تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ باغی ٹیم پر بار بار حملہ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، حکومت کو ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرنی چاہئے
کراچی پریس کلب کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے، حکومتی اداروں کی جانب سے میڈیا کا گلا دبانے کی ہمیشہ کوشش کی گئی جو قابل مذمت ہے، کراچی پریس کلب باغی ٹی وی ٹیم کے ساتھ کھڑا ہے،اور بھر پور یکجہتی کا اظہار کرتا ہے
کراچی پریس کلب کے سیکرٹری اطلاعات عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ باغی ٹی وی کی رپورٹنگ ٹیم پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف پنجاب کے سائیں بزدار کاروائی کریں، پہلے لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کے ساتھ بھی ٹریفک وارڈن نے بدتمیزی کی تھی اور یہ سلسلہ مسلسل بڑھتا چلا جا رہے، حکومت ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے لائحہ عمل بنائے
واضح رہے کہ پنجاب پولیس میں تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ، عوام کی آوازکو اعلیٰ حکام تک پہنچانے سے روکنے کے لیے پنجاب پولیس صحافیوں کی دشمن بن گئی ، لاہور میں باغی ٹی وی کی ٹیم کو حقیقت دکھانے اورسچ بتانے پرپنجاب پولیس کے غضب کا شکار ہونا پڑا
باغی ٹی وی کے مطابق گزشتہ روز لاہور شہر کے وسط میں ایک موقع پرجب باغی ٹی وی کی ٹیم عوام کے مسائل جاننے کےلیے شہریوں کے پاس پہنچی تو اس دوران پنجاب پولیس کے ٹریفک سے وابستہ وارڈن اہلکاروں نے نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ رپورٹنگ ٹیم پرحملہ کردیا
ذرائع کے مطابق اس دوران پولیس اہلکاروں نے رپورٹنگ ٹیم سے کیمرے چھیننے کی کوشش بھی کی ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ باغی ٹی وی ٹیم کے رپورٹراورکیمرہ مین اس دوران پولیس اہلکاروں کو نہ الجھنے کی درخواست بھی کرتے رہے لیکن پولیس والوں نے اپنی وردی کی آڑمیں تشدد کا بازار گرم رکھا ، یہ بھی یاد رہےکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی باغی ٹی وی ٹیم پرپولیس اہلکاروں کی طرف سے حملہ ہوچکا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے باغی ٹی وی کی ٹیم پر تشدد کی مذمت کی ہے
باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ باغی ٹی وی کی ٹیم پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے تشدد کے واقعہ کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں، پولیس ،انتظامیہ کا میڈیا کے خلاف کریک ڈاوں قابل مذمت ہے
لیاقت بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آتے رہے،حکومت کو ایسے عناصر کے خلاف کاروائی کرنی چاہئے، باغی ٹی وی عوام میں مقبول ہو رہا ہے، اسلئے اس طرح کی سزا دی جا رہی ہے، تشدد کرنے والے عناصر کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے
لیاقت بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ہم باغی ٹی وی کی ٹیم کے ساتھ مکمل یکجہتی کرتے ہیں
واضح رہے کہ پنجاب پولیس میں تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ، عوام کی آوازکو اعلیٰ حکام تک پہنچانے سے روکنے کے لیے پنجاب پولیس صحافیوں کی دشمن بن گئی ، لاہور میں باغی ٹی وی کی ٹیم کو حقیقت دکھانے اورسچ بتانے پرپنجاب پولیس کے غضب کا شکار ہونا پڑا
باغی ٹی وی کے مطابق گزشتہ روز لاہور شہر کے وسط میں ایک موقع پرجب باغی ٹی وی کی ٹیم عوام کے مسائل جاننے کےلیے شہریوں کے پاس پہنچی تو اس دوران پنجاب پولیس کے ٹریفک سے وابستہ وارڈن اہلکاروں نے نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ رپورٹنگ ٹیم پرحملہ کردیا
ذرائع کے مطابق اس دوران پولیس اہلکاروں نے رپورٹنگ ٹیم سے کیمرے چھیننے کی کوشش بھی کی ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ باغی ٹی وی ٹیم کے رپورٹراورکیمرہ مین اس دوران پولیس اہلکاروں کو نہ الجھنے کی درخواست بھی کرتے رہے لیکن پولیس والوں نے اپنی وردی کی آڑمیں تشدد کا بازار گرم رکھا ، یہ بھی یاد رہےکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی باغی ٹی وی ٹیم پرپولیس اہلکاروں کی طرف سے حملہ ہوچکا ہے