باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملی رکشہ یونین نے باغی ٹی وی ٹیم پر ٹریفک پولیس اہلکار کی جانب سے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا ہے
صدر ملی رکشہ یونین پنجاب رانا شمشاد نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ باغی ٹی وی کی ٹیم پر حملہ آزادی صحافت پر حملہ ہے ملی رکشہ یونین اس کی پر زور مذمت کرتی ہے
رانا شمشاد کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ ٹریفک وارڈن کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو ملی رکشہ یونین سی ٹی او آفس کے سامنے بھرپور احتجاج کرے گی
واضح رہے کہ پنجاب پولیس میں تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ، عوام کی آوازکو اعلیٰ حکام تک پہنچانے سے روکنے کے لیے پنجاب پولیس صحافیوں کی دشمن بن گئی ، لاہور میں باغی ٹی وی کی ٹیم کو حقیقت دکھانے اورسچ بتانے پرپنجاب پولیس کے غضب کا شکار ہونا پڑا
باغی ٹی وی کے مطابق گزشتہ روز لاہور شہر کے وسط میں ایک موقع پرجب باغی ٹی وی کی ٹیم عوام کے مسائل جاننے کےلیے شہریوں کے پاس پہنچی تو اس دوران پنجاب پولیس کے ٹریفک سے وابستہ وارڈن اہلکاروں نے نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ رپورٹنگ ٹیم پرحملہ کردیا
ذرائع کے مطابق اس دوران پولیس اہلکاروں نے رپورٹنگ ٹیم سے کیمرے چھیننے کی کوشش بھی کی ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ باغی ٹی وی ٹیم کے رپورٹراورکیمرہ مین اس دوران پولیس اہلکاروں کو نہ الجھنے کی درخواست بھی کرتے رہے لیکن پولیس والوں نے اپنی وردی کی آڑمیں تشدد کا بازار گرم رکھا ، یہ بھی یاد رہےکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی باغی ٹی وی ٹیم پرپولیس اہلکاروں کی طرف سے حملہ ہوچکا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کل مسالک علماء بورڈ کے چیئرمین مولانا محمد عاصم مخدوم نے باغی ٹی وی ٹیم پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے تشدد اور بدتمیزی کے واقعہ کی مذمت کی ہے
مولانا محمد عاصم مخدوم کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے لاہور میں باغی ٹیم کے ساتھ بدتمیزی اور بد اخلاقی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، متعدد بار ایسا ہوا کہ سینئر صحافیوں کے ساتھ ،مختلف ٹی وی چینلز کی ٹیم کے ساتھ بد اخلاقی کی گئی
مولانا محمد عاصم مخدوم کا کہنا تھا کہ میڈیا پاکستان میں آزاد حیثیت رکھتا ہے اور ہر ایک کو حق حاصل ہے کہ شہر یا صوبے کے مسائل کی نشاندہی کرے اور حکمرانوں کو آگاہ کرے، حکمران اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا کر مسائل حل کریں
مولانا عاصم مخدوم کا مزید کہنا تھا کہ ریاست ان مسائل کو دیکھ رہی ہے اور خاموش ہے، ریاست کی خاموشی لمحہ فکریہ اور سوالیہ نشان ہے، ان واقعات کی روک تھام نہ ہوئی تو صحافیوں کے کام میں رخنہ پیدا ہو گا، اعلیٰ حکام نوٹس لیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے کردار ادا کریں، ایسا نہ ہو کہ ملک کسی اور طرف چلا جائے، میڈیا ورکرز کا صبر لبریز ہو جائے، وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے کردار ادا کرنا چاہئے، میں باغی ٹی وی ٹیم پر پولیس حملے کی مذمت کرتا ہوں اور تشویش کا اظہار کرتا ہوں
واضح رہے کہ پنجاب پولیس میں تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ، عوام کی آوازکو اعلیٰ حکام تک پہنچانے سے روکنے کے لیے پنجاب پولیس صحافیوں کی دشمن بن گئی ، لاہور میں باغی ٹی وی کی ٹیم کو حقیقت دکھانے اورسچ بتانے پرپنجاب پولیس کے غضب کا شکار ہونا پڑا
باغی ٹی وی کے مطابق گزشتہ روز لاہور شہر کے وسط میں ایک موقع پرجب باغی ٹی وی کی ٹیم عوام کے مسائل جاننے کےلیے شہریوں کے پاس پہنچی تو اس دوران پنجاب پولیس کے ٹریفک سے وابستہ وارڈن اہلکاروں نے نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ رپورٹنگ ٹیم پرحملہ کردیا
ذرائع کے مطابق اس دوران پولیس اہلکاروں نے رپورٹنگ ٹیم سے کیمرے چھیننے کی کوشش بھی کی ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ باغی ٹی وی ٹیم کے رپورٹراورکیمرہ مین اس دوران پولیس اہلکاروں کو نہ الجھنے کی درخواست بھی کرتے رہے لیکن پولیس والوں نے اپنی وردی کی آڑمیں تشدد کا بازار گرم رکھا ، یہ بھی یاد رہےکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی باغی ٹی وی ٹیم پرپولیس اہلکاروں کی طرف سے حملہ ہوچکا ہے
باغی ٹی وی کی ٹیم پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کی بدتمیزی قابل مذمت،میاں اشرف عاصمی ایڈوکیٹ،چیئرمین ہیومن رائٹس فرنٹ انٹرنیشنل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین تاجدار ختم نبوت کمیٹی لاہور ہائی کورٹ بار،چیئرمین ہیومن رائٹس فرنٹ انٹرنیشنل میاں محمد اشرف عاصمی ایڈوکیٹ نے باغی ٹی وی ٹیم پر ٹریفک پولیس حملے کی شدید مذمت کی ہے
باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمد اشرف عاصمی ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ باغی ٹی وی کی ٹیم پر ٹریفک پولیس نے جو بد تمیزی کی ہے اس کی پر زور مذمت کرتا ہوں اور ٹریفک پولیس کے حوالہ سے ویسے بھی شکایت زبان زد عام ہیں کہ عوام ان سے بہت تنگ آئے ہوئے ہیں
میاں اشرف عاصمی ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی انجام دینے کی بجائے، اصلاح احوال کے حوالہ سے میڈیا کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جو انتہائی افسوسناک امر ہے، باغی ٹی وی کے رپورٹرز اور ٹیم کے ساتھ جو ٹریفک پولیس نے بدتمیزی کی اس کی پرزور مذمت اور اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں.
واضح رہے کہ پنجاب پولیس میں تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ، عوام کی آوازکو اعلیٰ حکام تک پہنچانے سے روکنے کے لیے پنجاب پولیس صحافیوں کی دشمن بن گئی ، لاہور میں باغی ٹی وی کی ٹیم کو حقیقت دکھانے اورسچ بتانے پرپنجاب پولیس کے غضب کا شکار ہونا پڑا
باغی ٹی وی کے مطابق گزشتہ روز لاہور شہر کے وسط میں ایک موقع پرجب باغی ٹی وی کی ٹیم عوام کے مسائل جاننے کےلیے شہریوں کے پاس پہنچی تو اس دوران پنجاب پولیس کے ٹریفک سے وابستہ وارڈن اہلکاروں نے نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ رپورٹنگ ٹیم پرحملہ کردیا
ذرائع کے مطابق اس دوران پولیس اہلکاروں نے رپورٹنگ ٹیم سے کیمرے چھیننے کی کوشش بھی کی ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ باغی ٹی وی ٹیم کے رپورٹراورکیمرہ مین اس دوران پولیس اہلکاروں کو نہ الجھنے کی درخواست بھی کرتے رہے لیکن پولیس والوں نے اپنی وردی کی آڑمیں تشدد کا بازار گرم رکھا ، یہ بھی یاد رہےکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی باغی ٹی وی ٹیم پرپولیس اہلکاروں کی طرف سے حملہ ہوچکا ہے
باغی ٹی وی ٹیم پر پولیس کا حملہ کھلی دہشت گردی،کاروائی نہ ہوئی تو سڑکوں پر نکلیں گے،ریلوے لیبر یونین کا اعلان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق باغی ٹی وی کی ٹیم پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے بدتمیزی اور حملے پر ریلوے لیبر یونین نے احتجاج کیا ہے
ریلوے لیبر یونین کے مرکزی صدر عنایت علی گجر نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ ریلوے کے مزدور بیان ریکارڈ کروا رہے ہین کہ باغی ٹی وی جو مزدوروں کی آواز ہے اور ہماری آواز ایوانوں تک پہنچاتا ہے،ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے ان پر حملہ کیا ہم اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں
عنایت علی گجر کا مزید کہنا تھا کہ یہ آزادی صحافت پر کھلا حملہ ہے،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے، ورنہ ریلوے مزدور سڑکوں پر نکلیں گے اور احتجاج کریں گے پھر حالات کہ ذمہ داری حکومت پر ہو گی، پنجاب پولیس دیشت گردی کر رہی ہے، جن اہلکاروں نے باغی ٹی وی پر حملہ کیا آئی جی پنجاب فوری ایکشن لیں اور انکے خلاف کاروائی کریں
عنایت علی گجر کا مزید کہنا تھا کہ آزادی صحافت کے بغیر کوئی ملک، ادارہ ترقی نہین کر سکتا، صحافت ملک کا ستون ہے،باغی ٹی وی کی ٹیم پر پولیس کا حملہ کھلی دہشت گردی ہے.ہم شدید مذمت کے ساتھ ٹریفک پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں
واضح رہے کہ پنجاب پولیس میں تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ، عوام کی آوازکو اعلیٰ حکام تک پہنچانے سے روکنے کے لیے پنجاب پولیس صحافیوں کی دشمن بن گئی ، لاہور میں باغی ٹی وی کی ٹیم کو حقیقت دکھانے اورسچ بتانے پرپنجاب پولیس کے غضب کا شکار ہونا پڑا
باغی ٹی وی کے مطابق گزشتہ روز لاہور شہر کے وسط میں ایک موقع پرجب باغی ٹی وی کی ٹیم عوام کے مسائل جاننے کےلیے شہریوں کے پاس پہنچی تو اس دوران پنجاب پولیس کے ٹریفک سے وابستہ وارڈن اہلکاروں نے نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ رپورٹنگ ٹیم پرحملہ کردیا
ذرائع کے مطابق اس دوران پولیس اہلکاروں نے رپورٹنگ ٹیم سے کیمرے چھیننے کی کوشش بھی کی ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ باغی ٹی وی ٹیم کے رپورٹراورکیمرہ مین اس دوران پولیس اہلکاروں کو نہ الجھنے کی درخواست بھی کرتے رہے لیکن پولیس والوں نے اپنی وردی کی آڑمیں تشدد کا بازار گرم رکھا ، یہ بھی یاد رہےکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی باغی ٹی وی ٹیم پرپولیس اہلکاروں کی طرف سے حملہ ہوچکا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کیسز میںبتدریج کمی ہو رہی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کرونا سے مزید 10 اموات ہوئی ہیں جبکہ 586 نئے مریض سامنے آئے ہیں
پاکستان میں کرونا سے اموات کی مجموعی تعداد 6 ہزار 229 ہو گئی ہے۔ جبکہ مریضوں کی مجموعی تعداد2 لاکھ91 ہزار588 ہوگئی ہے۔
کرونا وائرس کے حوالہ سے پاکستان میں بنائے گئے نیشنل کمانڈ آینڈ آپریشن سنٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تاحال کورونا کے 2 لاکھ 73 ہزار 579 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جب کہ ملک بھر میں کورونا ایکٹو کیسز کی تعداد 10 ہزار 626 رہ گئی ہے۔
سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 27ہزار381 ہوگئی ہے۔ پنجاب میں 95 ہزار958، خیبرپختونخوا میں 35 ہزار545، اسلام آباد میں 15 ہزار453، بلوچستان میں 12 ہزار424، آزاد کشمیر میں 2ہزار223 اورگلگت میں 2ہزار604 کرونا کے کیسز سامنے آئے ہیں
کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2ہزار186 اور سندھ میں 2ہزار343 اموات ہوئی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں ایک ہزار242، اسلام آباد میں 175، بلوچستان139، گلگت بلتستان63 اور آزادکشمیرمیں کورونا سے اموات کی تعداد61 ہو گئی ہے.
این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر میں کورونا کے 25 ہزار 537 ٹیسٹ کیے گئے۔ اسپتالوں میں کورونا وینٹی لیٹرزکی تعدادا یک ہزار920 ہے۔ ملک بھر میں 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے سہولیات موجود ہیں اور اس وقت ایک ہزار 241 مریض اسپتالوں میں داخل ہیں،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ابھی چین سے جو خبریں آئی ہیں وہ اتنی خوش آئند ہیں کہ جتنے بھارتی ہیں انکی پھوپھی مر گئی ہو گی کل تک شاید نانی بھی مرجائے،اب تو چائنہ اور پاکستان ایک اگلے لیول پر جانے والے ہیں ملٹری کو آپریشن ہونے والی ہے، ہر محاذ پر انڈیا کے دانت کھٹے ہونے ہیں،
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ بھارت نے بنگلہ دیش کو کہا ہے کہ وہ کرونا کی ویکسین سب سے پہلے اس کو دے گا جس پر مبشر لقمان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ پہلے اپنے مرنے والوں کو تو بچا لیں پھر کسی اور کو آفر کریں ، نہ نو من تیل ہو گا ،نہ رادھا ناچے گی، بنگلہ دیش سی پیک کا حصہ بن رہا ہے اس سے بھارت کو مروڑ اٹھ رہی ہے، وہ ویکسین بھی لے لیں گے لیکن بھارت کی بات نہیں مانیں گے،یہاں نہیں ہوتا لوگ بریانی کہیں اور سے کھاتے ہیں ووٹ کسی اور کو دیتے ہیں، بنگلہ دیش میں بھی وہی ہو گا
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ اسرائیل نے فلسطین میں پاور پلانٹس کا تیل بند کر دیا ہے ، ہسپتال سمیت بہت جگہوں کی لائٹ بند کر دی، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ بہت دکھ کی بات ہے، جب سارے مسلمان ملک ایک پیج پر نہ ہوں تو وہ جو مرضی کرتا رہے، کس ملک نے مذمت کی، ایران اور پاکستان کر دیں گے باقی سب چپ رہیں گے، ہمارے اندر جب بگاڑ ہے تو باقی کسی کو کیا کہنا ہے، یہ بہت بڑی ہیومن رائیٹ وایلیشن ہے، اسکا دنیا کو اثر لینا چاہئے اور سدباب ہو
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ آپ کو لگتا ہے کہ ترکی کے ہاتھ خزانہ لگ گیا، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اللہ کرے، ترکی ہمارا برادر ملک ہے، اسکے ہاتھ خزانہ لگتا ہےتو ہمیں لگے گا کہ ہمارے ہاتھ لگ گیا، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابھی خزانہ ہاتھ لگا نہیں، ابھی دریافت ہوا جس کا اردگان نے ذکر کیا، اب اللہ کرے کہ باقی یورپین کنٹریز اس کو اس پر کام کرنے دیں، پاکستان میں جو آئل کی بات تھی وہ امریکی کمپنی نے بند کر دی تھی یہ کہہ کر یہ مہنگا ہے حالانکہ ہمیں پتہ ہے کہ پاکستان کے پاس بہت تیل ہے، ہمارے ترکی سے اچھے تعلقات ہین، پاکستانی محبت کرتے ہیں اردگان سے،تو پاکستان کوچاہئے کہ ترکی سے درخواست کریں، کہ پاکستان میں آفشور آئل کی ڈرلنگ کریں اس میں سے جو انٹرنیشنل کنٹریکٹ ہوتا ہے وہ کریں ،اس سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہو گا، فرانس جمپ ان کر گیا ہے، اٹلی ابھی آئے گا،کہیں ملٹری کانفلکٹ میں تبدیل نہ ہوجائے چیز
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ آپ کے نزدیک وزیراعظم عمران خان اور محمد بن سلمان کی درمیان ناراضگی کی کیا وجہ ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ان دونوں کے مابین کوئی ناراضگی ہے،یہ غلط فہمی ہے، محمد بن سلمان اور عمران خان اپنے اپنے ملک کے دونوں سیاق و سباق ہیں وہ ذاتیات پر ناراض نہیں ہوں گے، اپنے اپنے ملک کے لئے بہتر سوچنے کی بات ہے، میں سعودی حکومت کے خلاف بات کرتا ہوں اسکے باوجود سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات بہت زیادہ گہرے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانیوں کا وہاں لائف سٹایل بہتر ہو، 9 ہزار پاکستانی جیل میں ہیں وہ نکل آئیں، انڈیا سے زیادہ پاکستان کو اہمیت دیں،ہم ان سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے،سعودی عرب میں تو پاکستانیوں کا دل ہے ،کیونکہ جہاں روضہ رسول، خانہ کعبہ ہے، مسجد نبوی ہے یہ مسلمان کے لئے ہر رشتے سے مقدم ہیں، ہماری شخصی ناراضگی تو ہو سکتی ہے، ہماری ملکوں یا علاقوں سے ناراضگی نہٰن، ہم چاہتے ہیں کہ یمن میں امن ہو، سعودی اور ایران پراکسی وار ختم کریں سب سے زیادہ اسکی قیمت پاکستان ادا کرتا ہے، عمران خان اور ایم بی ایس کی ذاتی ناراضگی زیرو ہے اس میں کوئی صداقت نہین، میں ایم بی ایس کو نہیں جانتا ،لیکن میں عمران خان کو ضرور جانتا ہوں، عمران خان اس طرح کی باتیں نہیں کرتے.
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ شاہ محمود قریشی چین کے دورے پر گئے اور وہاں جا کر انہوں نے بیان دیا کہ سعودی عرب سے ہمارے تعلقات اچھے ہین اور رہیں گے،اسکا مطلب ہے کہ وہاں پر سعودی عرب پر بات ہوئی ہے جس پرمبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آف کورس اب اس کا مطلب ہے کہ سعودی عرب سی پیک کا ور بڑا حصہ بنے گا، چین پاکستا ن نے ڈسکس کیا کہ سعودی عرب ہماری ضرورت ہے یہ ریجن کے لئے خوش آئند بات ہے اس میں ٹریڈ ہو، سب کو فائدہ ہے، یہ شاہ محمود کا بیان انڈین میڈیا کے سینے پر سانپ لوٹتا رہے گا ، اس کی ٹائمگ بہت اہم ہے، اسکا مطلب ہے کہ پاک سعودی تعلقات نارمل رہین گے، انڈین جو بھونکتے رہے ہیں انکو منہ کی کھانی پڑے گی، اب ان کو ٹھنڈ پڑ گئی ہو گی.
سرد جنگ کا خوفناک کھیل،پاکستان اہم ،امریکی پریشان ،ایران تگڑا اوراسرائیل میدان میں ، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ امریکہ جس جارحیت اور تیزی کے ساتھ اپنے اتحادیوں پر پوزیشن واضح کرنے کے لئے دباؤ ڈالتا جا رہا ہے اس سے تو یہ خطرہ پیدا ہو رہا ہے کہ امریکہ چائنہ کے ساتھ تجارتی جنگ کو اور طرح کے تصادم میں تبدیل کر سکتا ہے،چائنہ اگر فوجی تصادم سے گریز کی پالیسی پر قائم رہتا ہے تو اسے بدامنی کا سامنا ہو سکتا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ خود امریکی اتحادیوں کو بھی عدم استحکام سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے،تا کہ انہیں دوسرے کیمپ میں جانے سے روکا جا سے، چین اور امریکہ کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے،امریکہ چائنہ کے قونصل خانوں کو بند کرنا اور سفارتکاروں پرپابندی تازہ مثال ہے،چائنہ اور یران کے مابین اربوں ڈالر کے معاہدے امریکہ کو کھٹک رہے ہیں، ایران پر پابندیوں کے حوالہ سے امریکہ کو سبکی ہوئی اس کا مطلب ہے کہ ایران اب اکیلا نہیں رہا، چائنہ اور روس ایران کی بیک پر کھڑے ہیں،اب سیکورٹی کونسل میں اپنی مرضی کے فیصلے کروانا امریکہ کے لئے ممکن نہیں رہا، امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ ایران کو معاشی طور پر کمزور کرنے لئے تیل اور گیس کی ایکسپورٹ کو کسی طرح روکیں، ساتھ ہی ایران نیا اسلحہ بھی حاصل نہ کر سکے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اس وقت خطے میں چائنہ، ایران اور روس کی حکمت عملی سے پریشان ہے جنہوں نے خلیج عمان میں مشترکہ فوجی مشقیں کی تھیں جو امریکہ کے لئے پیغام تھا،دوسری جانب امریکی کیمپ کے ممالک کو بھی دانہ ڈالتا نظر آ رہا ہے،چائنہ نے حال ہی میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو ڈالر کی بجائے اپنی کرنسیز میں تجارت کی پیشکش کی،امریکی اثرمیں ہونے کی وجہ سے فی الحال اس تجویز پر عمل ہوتا نظر نہیں آ رہا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چائنہ نے اس خطے میں ایران اور اسرائیل کو ساتھ ملا لیا، امریکہ اس صورتحال میں اپنے اتحادی اسرائیل کو سامنے لے آیا، اسرائیل اور بھارت کے تعلقات خوشگوار ہیں، امریکہ دوست ممالک کو بھی اسرائیل کی جانب راغب کر رہا ہے امریکہ اب اسرائیل سے وہ کام لینا چاہ رہا ہے جو پاکستان ،سعودی عرب اور دیگر ممالک امریکی کیمپ میں رہ کر کر چکے ہیں،اگر خدانخواستہ اس وقت خطے میں کوئی بھی جنگ چھڑ جاتی ہے تو امریکہ کے لئے اسرائیل کردار ادا کرے گا، امریکہ نے جو جنگی حکمت عملی کی ہے اس مین چائنہ کو براستہ جنوبی چائنہ کے لئے تیل اور دیگر سامان کی فراہمی کے لئے روکا جائے گا اس میں وہ پہلے ہی کامیاب ہو چکا ہے، کیونکہ امریکہ نے اس علاقے میں چائنہ مخالف ممالک کا حصار بنا لیا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چائنہ بھارت اور آسٹریلیا کے مابین معاہدہ کروا چکا ہے وہ ایک دوسرے کی زمین استعمال کر سکتے ہیں، بھارت شہہ دے رہا ہے کہ چینی بحری جہازوں کے لئے راستہ بند کر دیں، اس کے بعد چائنہ گوادر پر مکمل انحصار کرے گا،یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی سی پیک کے مخالف ہیں،کیونکہ اس سے چائنہ کو متبادل روٹ ملے گا، یہ سب چاہتے ہین کہ پاکستان امریکی گاڑی پر سوار ہو، اس تمام منظر نامے میں پاکستان نازک مرحلے میں ہے، پاکستان کو امریکہ کہاں اور کس طرح دیکھنا چاہتا ہے، کیا پاکستان قومی مفادت کے مطابق فیصلہ کر سکے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے لئے اب ضروری ہے کہ اب سیاسی اور عسکری قیادت ملکر فیصلہ کرے، عرب ممالک کشمیر پر ساتھ دینے کو تیار نہیں، پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں تنہا کرنے کا عمل امریکی کیمپ مین شروع ہوا،وہ دیگر ممالک کے لئے مسئلہ نہیں لیکن پاکستان کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہے، امریکہ کی کوشش ہے کہ پاکستان کو گھسیٹ کر امریکی کیمپ میں لایا جائے،پاکستان کو ایسے دوست تلاش کرنےہوں گے جو امریکی کیمپ میں پاکستان کے مفادات کا خیال رکھیں، اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو اپنے فیصلے قومی مفادات کے تناظر میں کرنے ہوں گے،اہنے پڑوسی ممالک چین، روس، افغانستان، مشرق وسطیٰ کے ممالک اور سی پیک کو دیکھتے ہوئے کرے،امریکہ چین کی باقاعدہ جنگ تو نہیں ہو رہی، امریکہ چائنہ کے تعلقات مزید سرد ہوتے جا رہے ہیں، ایک جانب کاروبار اور دوسری جانب ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں، چائنہ کی سب سے بڑی مارکیٹ امریکہ ہے، یہ اسٹیبلشمنٹ کی جنگ ہے اگر جوبائڈن بھی صدر بن جاتے ہیں تو یہ جاری رہے گی، دنیا ایک نئے عہد میں داخل ہو چکی ہے، یہ سرد جنگ عالمی امن کے لئے زیادہ خطرناک ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بڑی کمال کی خبر آئی ہے، چائنہ سے، چڑیل کو میں نے اس پر لگایا ہوا تھا کہ جیسے ہی کوئی ڈیولپ ہوتی ہے تو فوری بتانی ہے،اب اندر کی خبر آئی ہے،سب سے پہلے ایک خاص ویڈیو سامنے آئی ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو قریشی کے اپنے ہم منصب سے ملاقات کی ہے،اس ویڈیو کو غور سے دیکھیں تو انہوں نے کرونا کے ایس او پیز کو بالائے طاق رکھ کر گرمجوشی سے استقبال کیا، ورنہ وہ چار فٹ کے فاٌصلے پر رہتے ہیں، گلوز، ماسک پہن کر رکھتے ہیں،اور ملتے ہیں، پاکستانی وزیر خارجہ کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور اسکی ویڈیو بنائی یہ دکھانے کے لئے کہ مودی کی نانی آج مارنی ہے،اسکو اتنے مروڑ اٹھیں کہ اس کو لگ پتہ جائے کہ پاکستان اور چائنہ ایک پیج پر ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور چائنہ کے اہم معاہدے ہونے جا رہے ہیں، ایک دفاعی معاہدہ ہے جو بھارت کی نیندیں اڑانے کے لئے کافی ہیں،اب چین پاکستان سے ہر طرح کی ٹیکنالوجی بھی شیئر کرے گا، پاک ، چائنہ کی فوج ایک پیج پر ہو گی، انٹیلی جینس شیئرنگ ہو گی، دونوں ممالک ملکر ایک دوسرے کے دفاع کے لئے کھڑے ہو گے،اب آپ سوچ سکتے ہیں اس ڈر سے انڈیا میں کتنی میتیں اٹھ سکتی ہیں، جو بہت اہم بات ہوئی وہاںپر، کہ چائنہ نے کہہ دیا کہ قریشی نے کہا کہ افغانستان کے اندر بھی سی پیک کے ثمرات آئیں گے، جس طرح چائنہ نے ایران کو ساتھ ملایا اب افغانستان کو ساتھ ملائے گا، اس طرح پاکستان،ایران، افغانستان، چائنہ ترکی،یہ سارے ممالک اور روس،سنٹرل ایشیا ری پبلک ایک پیج پر ہوں گی، دنیا کی نئی عالمی منڈی بن کر ابھرے گی، یہ بھارت کے لئے بہت بڑا دھچکا ہے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چائنہ اور ایران ایک ہونے جا رہے تھے تو انڈیا کا چاہ بہار میں کتنا پیسہ خرچ ہو رہا تھا اایران نے اس کو وہاں سے لاتیں مار کر نکال دیا، اب ایران کے بعد افغانستان وہ ملک ہو گا جہاں سے انڈیا کو نکالا جائے گا، پاکستان کا دشمن وہاں بیٹھ کر دہشت گردی کی کاروائیاں نہیں کر سکے گا،قریشی نے کہا کہ افغانستان میں بڑی واضح تبدیلی آنے والی ہے اور چند دن میں اچھی خبریں ملیں گی، اپنے دوست ممالک کی توقعات پر پورا اتریں گے، یہ دیکھیں کہ نیپال ایک لینڈ لاک کنٹری ہے، انڈیا کو اس نے بڑا تنگ کیا ہوا ہے نیپال چھوٹا ملک اور پر امن ، محبت کرنے والے لوگ ہیں، نیپال کو اگر سی پیک کا حصہ بنا لیتا ہے پاکستان تو انکے لئے گوادر بڑا آؤٹ لیٹ ہو جائے گا، انکی اقتصادی حالت امپرو ہو جائے گا انکا انڈیا پر انحصار ختم ہو گا اورپھر انڈیا کو آنکھیں دکھائیں گے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نیپال، بھوٹان ، بنگلہ دیش، مودی کس طرح باتیں کر رہا ہے کہ ویکسین بنے گی تو سب سے پہلے بنگلہ دیش کو دیں گے،پہلے اپنے مرتے ہوئے لوگوں کو تو بچاؤ پھر کسی اور کو ویکسین دو، لیکن اصل میں وہ بنگلہ دیش کو پیغام دے رہا ہے کہ آنکھیں نہ دکھاؤ، سی پیک کا حصہ نہ بنو،چائنہ ، پاکستان کے ساتھ روابہ بہتر نہ کرو، ہم تمہارے لئے بہتر ہیں، اب ایران اور افغانستان میں چائنہ آتا ہے تو دو ممالک آؤت ہوتے ہیں ایک امریکہ ، دوسرا انڈیا، اس سے پاکستان میں دہشت گردی تو بالکل ختم ہو جائے گی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چینی صدر پاکستان آ رہے ہیں کونسے پروجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں، کن کا افتتاح کرنا ہے، یہ بہت اچھی خبریں ہیں پاکستان کے لئے انڈین میڈیا جو بڑی بغلیں بجا رہا تھا انکو یہ نہیں پتہ کہ شاہ محمود قریشی نے وہاں جا کر ایک بیان دیا، چائنہ کے اندر ایک بیان دیا کہ سعودی عرب سے ہمارے بڑے اچھے تعلقات ہیں اسکا مطلب ہے کہ سعودی عرب بھی پاکستان اور چائنہ کے ساتھ آن بورڈ ہے، انکی دیرینہ خواہش دراڑ پڑنے کی وہ پوری نہیں ہو گی، انڈیا کو منہ کی کھانی پڑے گی، سی پیک کی وجہ سے آنے والے دنوں میں خطے میں اہم تبدیلی آنے والی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چینی اور پاکستانی فوج میں اب روابط بڑھیں گے، پہلے جوائنٹ مشقیں کرتے تھے، اب ٹیکنالوجی، انفارمیشن شیئرنگ ہو گی، اور دونوں فوجیں ایک لیول پر ہوں گی، اس میں جوائنٹ ملٹری کمیشن بھی ہو گا، یہ پاکستان کے لئے بہت خوشخبری کی بات ہے، سی پیک پارٹ ٹومیں سندھ کے لئے اچھی خبریں آ سکتی ہیں، کراچی، سندھ میں انفراسٹرکچر ڈیولپ ہو تا کہ اہل کراچی کو اس کے ثمرات ملیں یہ بہت بڑی لیپ ہو گی اگر پارٹ ٹو سائن ہو جاتا ہے، ٹرانسپورٹ کوریڈور پاکستان کی خواہش ہے کہ کھٹمنڈو اور پاکستان کے بیچ سسٹم بن جائے، اسکی وجہ سے نیپال کی اکانومی کھل جائے گی اسکو انڈیا کا تابع نہیں رہنا پڑے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چائنہ نے پاکستان کو یقین دہانی کروا دی ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے پیچھے کھڑا ہے اور فل کھڑا ہے،اور اگلے مہینے سیکورٹی کونسل کی جو میٹنگ ہونے والی ہے پاکستان اور چائنہ ڈسکس کر رہے ہیں کہ اس میں کشمیر کو کس طرح مزید اٹھایا جا سکتا ہے تا کہ انڈیا پر پریشر پڑے اور وہ وہاں سے فوجیں نکالے، کشمیر جسے انڈیا نے دنیا کی سب سے بڑی جیل بنایا ہوا ہے
اسلام آباد :پاک چین وزرائے خارجہ مشترکہ پریس کانفرنس ،افغانستان،سی پیک سمیت پریکجان :کرونا ویکسین کی مشترکہ تیاری پر اتفاق چینی حنان میں پاک چین وزرائے خارجہ ملاقات میں کرونا کے انسداد کےلیے ویکسین کی مشترکہ تیار پر اتفاق کیا گیا۔وزارت خارجہ کی جانب سے پاک چین وزرائے خارجہ ملاقات کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، اعلامیے کے مطابق شاہ محمود قریشی اور وانگ ژی میں اسٹریٹجک مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوا ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ کرونا وائرس، تعلقات، عالمی اور علاقائی معاملات پر گفتگو کی اور مشترکہ مفادات کے تحفظ، امن اور خطے کی ترقی کے اقدامات پر اتفاق ہوا۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں کے درمیان وزرائے خارجہ نے کرونا کے انسدا کےلیے ویکسین کی مشترکہ تیاری پر بھی اتفاق کیا جبکہ دونوں وزرائے خارجہ نے کرونا کو سیاسی رنگ اور القاب دینے کی مخالفت کی۔
دونوں رہنماوں نے عالمی صحت پر ڈبلیو ایچ او کے کردار کی حمایت کی اور ایک دوسرے کے قومی مفادات کو تحفظ دینے پر اتفاق کیا۔اعلامیے کے مطابق چین نے پاک چین آہنی بھائیوں کے عزم کو دہرایا اور چین نے پاکستان کے خطے میں مضبوط شراکت ہونے کا اعادہ کیا۔
شاہ محمود قریشی نے اپنے چینی ہم منصب کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے، بھارت کی ہندتوا پالیسی کو پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے افغان امن عمل اور اس حوالے سے اب تک ہونے والی پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اس متعلق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہناتھاکہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے خلوص نیت کے ساتھ اپنی مصالحانہ کاوشیں کیں۔دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں امن و امان کے حوالے سے درپیش خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متفقہ لائحہ عمل اپنانے اور مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر اتفاق کیا۔
ریاض :سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اشارہ دے دیا:فلسطینی ریاست کے قیام کی قیمت پراسرائیل سے تعلقات بحال کرے گا،اطلاعات کے مطابق سعودی شاہی خاندان کے سینئر رکن نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اس قیمت پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گا جب خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق شہزادہ ترکی الفیصل نے بظاہر یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے ردعمل میں دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ سعودی عرب بھی، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدے میں شامل ہوجائے گا۔انہوں نے سعودی اخبار ‘الشرق الأوسط’ میں لکھا کہ ‘کوئی بھی عرب ریاست جو متحدہ عرب امارات کے راستے پر چلنا چاہتی ہے اسے بدلے میں قیمت کا مطالبہ کرنا چاہیے، جبکہ یہ قیمت بڑی ہونی چاہیے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘سعودی عرب نے اسرائیل اور عربوں کے درمیان امن کی قیمت مقرر کر لی ہے اور یہ خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔’
خیال رہے کہ 2002 کے عرب لیگ کے منصوبے میں اسرائیل کو تمام قابض علاقوں (مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم) سے پیچھے ہٹنے کے بدلے تعلقات معمول پر لانے کی پیشکش کی گئی تھی، فلسطین کے ان علاقوں پر اس نے 1967 کی مشرق وسطیٰ جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے اپنے مضمون میں متحدہ عرب امارات کے فیصلے کے حق میں بھی بات کی اور کہا کہ ریاض کے قریبی اتحادی نے اہم شرط منوالی ہے کہ اور وہ اسرائیل کے انضمام کے منصوبوں کو روکنا ہے۔امریکا میں سابق سعودی سفیر اور سابق انٹیلی جنس سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل کے پاس اس وقت کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے لیکن وہ کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز کے چیئرمین کی حیثیت سے اب بھی بااثر ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ‘امن معاہدہ’ ہوا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بحال ہوجائیں گے۔معاہدے کے مطابق اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ یہ منصوبہ اب بھی موجود ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے حوالے سے پہلے ردعمل میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحال نے کہا تھا کہ ریاض، متحدہ عرب امارات کی تقلید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اس وقت تک قائم نہیں کرسکتا جب تک یہودی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کردے۔