باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے افغان قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کو ٹیلی فون کیا ہے
دونوں رہنماوَں کےدرمیان پاک افغان تعلقات کےفروغ پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعظم عمران خان نے پاک افغان دو طرفہ تعلقات کی اہمیت پرزوردیا،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دوطرفہ تعلقات مذہب،ثقافت،مشترکہ تاریخ اورلوگوں کےمابین برادرانہ تعلقات پرمبنی ہیں،وزیراعظم نے برادرانہ تعلقات کومزید گہراکرنے اورتمام شعبوں میں تعاون بڑھانےکےعزم کااعادہ کیا
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں،بات چیت اورسیاسی تصفیہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، افغان امن عمل میں پاکستان کا مثبت کردارہے،افغان رہنماوَں کوپائیدارامن کے لیے سیاسی تصفیے کے تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانا ہو گا،پاکستان جلدازجلدانٹرا افغان مذاکرات کے آغازکا منتظرہے،
وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ کے لیے بطورقومی مفاہمتی کونسل کے چیئرمین نیک خواہشات کااظہار کیا،اور کہا کہ امید ہے کہ کونسل کامیابی کےساتھ اپنے مقاصد کوحاصل کرے گی،وزیراعظم نے ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ کوجلد از جلد پاکستان آنے کی دعوت کااعادہ بھی کیا.
وزیراعظم نے وفاقی اداروں کو کراچی کے شہریوں کو ہر ممکن ریلیف دینے کی ہدایت جاری کردی
باغی ٹی و ی :وزیراعظم نے شہر قائد میں بارش کے بعد کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی اداروں کو کراچی کے شہریوں کو ہر ممکن ریلیف دینے کی ہدایت جاری کردی
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی ادارے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔ عمران خان نے این ڈی ایم اے اور پاک فوج کے اقدامات کی تعریف کی ہے۔
کراچی میں رات گئے پھر بارش، کورنگی ندی میں پھنسے 6 افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا، 2 دن سے شدید بارشوں کے باعث ملیر ندی میں کئی مقامات پر بند میں شگاف پڑ گئے، دادا بھائی ٹاؤن اور سکھن ندی کا بند ٹوٹنے سے پانی علاقے اور گھروں میں داخل ہوگیا، کئی علاقوں میں بجلی غائب ہوگئی۔بلوچ کالونی، شاہراہ فیصل، نرسری، پی ای سی ایچ ایس، فیروز آباد، محمود آباد، کینٹ سٹیشن، قیوم آباد، ڈیفنس، گلشن اقبال، لیاقت آباد، ناظم آباد میں بھی بارش ہوئی۔ کورنگی کازوے ندی میں 6 افراد پھنس گئے۔ ایدھی رضا کاروں نے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا، پھنسے افراد میں پولیس اہلکار بھی شامل تھا۔
سکھن ندی کے بند ٹوٹ گئے، پانی عرفات ٹاؤن، مدینہ کالونی، خلد آباد، مرغی خانہ اور نیشنل ہائی وے تک پہنچ گیا جبکہ کئی گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا، حفاظتی اقدامات کے تحت نیشنل ہائی وے کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا۔ نیشنل ہائی وے کی ٹریفک ملیر کی جانب موڑ دی گئی۔کراچی میں بلوچ کالونی دادا بھائی میں پانی آبادی میں داخل ہوگیا۔ سعید غنی بھی علاقے میں پہنچے، وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ بند نہیں ٹوٹا، صرف دروازہ ٹوٹا ہے، گیٹ لگا کر پانی کا بہاؤ روک دیا گیا، آبادی سے پانی نکالنے کیلئے مشینری نے کام شروع کر دیا۔
اس سے پہلے وزیر تعلیم سندھ نے کراچی کے مختلف علاقوں کے دورے کئے، یونیورسٹی روڈ، ابو الحسن اصفحانی روڈ، گلستان جوہر کا علاقہ کلئیر ہونے کی وڈیوز پوسٹ کیں، سٹارگیٹ، منور سہروردی انڈر پاس، نرسری، میٹرو پول کی وڈیوز بھی پوسٹ کیں.
پاک فوج کے سربراہ کی کورکمانڈر کو ہرممکن امداد کی ہدایت ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں اذیت سے دوچار شہریوں کی ہر ممکن امداد کی جائے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )کے مطابق آرمی چیف نے کور کمانڈر کراچی کو شہر قائد میں ہر ممکن امداد یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔آرمی چیف کا کہنا ہے کہ کراچی اور سندھ میں سیلابی صورتحال پر ریلیف آپریشن تیز کریں، جوان فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچیں لوگوں کی مدد کریں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فوجی دستے دور دراز علاقوں میں پہنچ کر متاثرین کی مدد کریں، اذیت سے دوچار شہریوں کی ہر ممکن امداد کی جائے۔واضح رہے کہ اس سے قبل آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کراچی میں سیلابی صورتحال سے متعدد علاقے متاثر ہوئے، آرمی انجینئرز ایم 9 شاہراہ پر کاموں میں مصروف ہیں
کراچی میں رات گئے پھر بارش ، حالات مزید مشکل ہو گئے
کراچی میں رات گئے پھر بارش، کورنگی ندی میں پھنسے 6 افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا، 2 دن سے شدید بارشوں کے باعث ملیر ندی میں کئی مقامات پر بند میں شگاف پڑ گئے، دادا بھائی ٹاؤن اور سکھن ندی کا بند ٹوٹنے سے پانی علاقے اور گھروں میں داخل ہوگیا، کئی علاقوں میں بجلی غائب ہوگئی۔بلوچ کالونی، شاہراہ فیصل، نرسری، پی ای سی ایچ ایس، فیروز آباد، محمود آباد، کینٹ سٹیشن، قیوم آباد، ڈیفنس، گلشن اقبال، لیاقت آباد، ناظم آباد میں بھی بارش ہوئی۔ کورنگی کازوے ندی میں 6 افراد پھنس گئے۔ ایدھی رضا کاروں نے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا، پھنسے افراد میں پولیس اہلکار بھی شامل تھا۔
سکھن ندی کے بند ٹوٹ گئے، پانی عرفات ٹاؤن، مدینہ کالونی، خلد آباد، مرغی خانہ اور نیشنل ہائی وے تک پہنچ گیا جبکہ کئی گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا، حفاظتی اقدامات کے تحت نیشنل ہائی وے کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا۔ نیشنل ہائی وے کی ٹریفک ملیر کی جانب موڑ دی گئی۔کراچی میں بلوچ کالونی دادا بھائی میں پانی آبادی میں داخل ہوگیا۔ سعید غنی بھی علاقے میں پہنچے، وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ بند نہیں ٹوٹا، صرف دروازہ ٹوٹا ہے، گیٹ لگا کر پانی کا بہاؤ روک دیا گیا، آبادی سے پانی نکالنے کیلئے مشینری نے کام شروع کر دیا۔
اس سے پہلے وزیر تعلیم سندھ نے کراچی کے مختلف علاقوں کے دورے کئے، یونیورسٹی روڈ، ابو الحسن اصفحانی روڈ، گلستان جوہر کا علاقہ کلئیر ہونے کی وڈیوز پوسٹ کیں، سٹارگیٹ، منور سہروردی انڈر پاس، نرسری، میٹرو پول کی وڈیوز بھی پوسٹ کیں.
پاک فوج کے سربراہ کی کورکمانڈر کو ہرممکن امداد کی ہدایت ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں اذیت سے دوچار شہریوں کی ہر ممکن امداد کی جائے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )کے مطابق آرمی چیف نے کور کمانڈر کراچی کو شہر قائد میں ہر ممکن امداد یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔آرمی چیف کا کہنا ہے کہ کراچی اور سندھ میں سیلابی صورتحال پر ریلیف آپریشن تیز کریں، جوان فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچیں لوگوں کی مدد کریں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فوجی دستے دور دراز علاقوں میں پہنچ کر متاثرین کی مدد کریں، اذیت سے دوچار شہریوں کی ہر ممکن امداد کی جائے۔واضح رہے کہ اس سے قبل آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کراچی میں سیلابی صورتحال سے متعدد علاقے متاثر ہوئے، آرمی انجینئرز ایم 9 شاہراہ پر کاموں میں مصروف ہیں۔
راولپنڈی:کراچی میں سیلابی صورتحال : پاک فوج کے سربراہ کی کورکمانڈر کو ہرممکن امداد کی ہدایت ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں اذیت سے دوچار شہریوں کی ہر ممکن امداد کی جائے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )کے مطابق آرمی چیف نے کور کمانڈر کراچی کو شہر قائد میں ہر ممکن امداد یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔آرمی چیف کا کہنا ہے کہ کراچی اور سندھ میں سیلابی صورتحال پر ریلیف آپریشن تیز کریں، جوان فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچیں لوگوں کی مدد کریں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ فوجی دستے دور دراز علاقوں میں پہنچ کر متاثرین کی مدد کریں، اذیت سے دوچار شہریوں کی ہر ممکن امداد کی جائے۔واضح رہے کہ اس سے قبل آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کراچی میں سیلابی صورتحال سے متعدد علاقے متاثر ہوئے، آرمی انجینئرز ایم 9 شاہراہ پر کاموں میں مصروف ہیں۔
#COAS directed karachi Corps to step up flood relief operations to assist affected people due to recent rains in interior Sindh and #Karachi. “Troops must reach out to affected population in distress and extend all necessary care”, COAS.
آئی ایس پی آر کے مطابق شدید بارشوں سے تھڈو ڈیم میں گنجائش سے زیادہ پانی موجود ہے جبکہ قائد آباد کے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے، متاثرہ افراد میں خوراک اور دیگر اشیا کی تقسیم کی گئی۔
آرمی کی تین ٹیمیں سعدی ٹاؤن، ملیر کینٹ اور کے الیکٹرک کے گرد اسٹیشن پر تعینات ہیں، ریسکیو ٹیمیں لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کررہی ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آرمی انجینئرز نے ایم نائن کو سیلاب سے بچانے کے لیے بند بنایا، آرمی انجینئرز نے 200 میٹر لمبا 4 فٹ اونچا بند تعمیر کیا ہے، بند پانی کو مناسب طریقے سے ریگولیٹ کرنے کے لیے تعمیر کیا گیا۔
کراچی :کراچی میں سیلابی صورتحال، امدادی کارروائیاں جاری ہیں، پاک فوج کے جوان خدمت میں مصروف ہیں :،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے قوم کوتسلی دیتے ہوئے کہا ہےکہ کراچی مین پاک فوج کے جوان خدمت اورریسکیو کے کاموں میں مسلسل مصروف ہیں
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کراچی کی ملیر ندی میں پانی کا دباؤ تیز ہوگیا، پاک فوج، رینجرز کے جوان ریلیف، ریسکیو کاموں میں مصروف ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کراچی میں سیلابی صورتحال سے متعدد علاقے متاثر ہوئے، آرمی انجینئرز ایم 9 شاہراہ پر کاموں میں مصروف ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شدید بارشوں سے تھڈو ڈیم میں گنجائش سے زیادہ پانی موجود ہے جبکہ قائد آباد کے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے، متاثرہ افراد میں خوراک اور دیگر اشیا کی تقسیم کی گئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق لٹھ ڈیم اوورفلو ہونے کی وجہ سے نادرن بائی پاس اور ملیر ندی میں شدید سیلابی صورتحال ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان آرمی اور رینجرز کی 70 ٹیمیں سول انتظامیہ کی مدد کررہی ہیں۔ یہ ٹیمیں متاثر علاقوں میں امدادی سرگرمیاں کررہی ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی ریسکیوز ٹیمیں قائدہ آباد میں متاثرہ افراد کو آرمی انجینئرز کی کشتیوں میں محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہیں۔ بارش سے متاثرہ علاقوں میں ڈی ایچ اے ،گزری،کیماڑی ،نارتھ کراچی،ناظم آباد ،صدر،لانڈھی، ائرپورٹ ، یونیورسٹی روڈ، فیصل بیس، جناح ٹرمینل، صادی ٹائون، قائد آباد، یوسف گوٹھ ، پی اے ایف فیصل، پی اے ایف مسرور اور گلشن جوہر شامل ہیں۔ بارشوں سے شہر قائد کے متعدد علاقے متاثر ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی انجینئرز نے 200 میٹرطویل اور 4 فٹ اونچا بند تعمیر کیا۔ بندکی تعمیر کا مقصد ایم نائن کو بچانا اور پانی کا بہاؤ کنٹرول کرنا ہے۔ کے الیکٹرک گرڈ بچانے کیلئے آرمی کی 3 ٹیمیں مہران نالہ پرکام کر رہی ہیں۔
اس سے قبل شہر میں اگست کے مہینے میں ہونے والی سابقہ بارشوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، حالیہ مون سون سسٹم کے تحت سابقہ 89سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔
فیصل بیس پر رواں سال اگست میں 345 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی ہے، فیصل بیس کا سابقہ ریکارڈ 298.4 ملی میٹر ہے، مسرور بیس کا ریکارڈ 272 ملی میٹر ہے، ایئرپورٹ پرموجود آبزرویٹری کا سابقہ ریکارڈ 262.5 ملی میٹر ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں 1931 کے بعد اگست 2020ء میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ ہوئی۔
یاد رہے کہ اگست کے مہینے میں ہونے والا بارش کا تیسرا سپیل ہے جہاں اس سے قبل بھی دو مرتبہ شہر میں موسلا دھار بارش سے کئی علاقے زیر آب آ گئے تھے۔ گزشتہ روز 24 اگست کو بھی تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش میں مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
اس سے قبل کراچی سمیت سندھ بھر میں مون سون کے پانچویں سپیل کا آغاز 21 اگست کو ہوا تھا جس کے دوران مختلف حادثات کے نتیجے میں 7 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔
پانچویں سپیل کی بارشوں کے باعث کراچی کے علاقے خصوصاً نیو کراچی سمیت متعدد نشیبی علاقوں میں موجود بارش کا پانی نہیں نکلا جا سکا تھا کہ چھٹے اسپیل کی طوفانی بارش کے باعث صورتحال مزید گھمبیر ہوگئی ہے۔
یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ 21 اگست کے روز سب سے زیادہ 185.7 ملی میٹر بارش کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ہوئی تھی جہاں متعدد علاقوں میں گھروں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے مکینوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔
آرمی کی تین ٹیمیں سعدی ٹاؤن، ملیر کینٹ اور کے الیکٹرک کے گرد اسٹیشن پر تعینات ہیں، ریسکیو ٹیمیں لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کررہی ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی انجینئرز نے ایم نائن کو سیلاب سے بچانے کے لیے بند بنایا، آرمی انجینئرز نے 200 میٹر لمبا 4 فٹ اونچا بند تعمیر کیا ہے، بند پانی کو مناسب طریقے سے ریگولیٹ کرنے کے لیے تعمیر کیا گیا۔
حکام کے مطابق کے الیکٹرک گرڈ اسٹیشن کو پانی سے بچانے کے لیے آرمی کی تین ٹیمیں مہران ڈرین پر تعینات ہیں۔
واضح رہے کہ شہرقائد سمیت سندھ بھر میں ہونے والی موسلادھار بارش نے نظام زندگی درہم برہم کردیا، کراچی میں سڑکیں تالاب بن گئیں اور پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ بیشتر علاقوں میں بجلی معطل ہے۔
حراسیت کے نام پر گھناؤنا کھیل جاری،خاتون صحافی نے بلاول اور مریم کو عمران خان سے ٹیوشن لینے کا کیوں کہا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کچھ دنوں سے کچھ خواتین ہیں جو سیلف کلیم صحافی بھی ہیں، انکی صحافت کا بیک گراؤنڈ بھی سب کو پتہ ہے،جو انکا این جی ااوز کا اور ایجنڈہ ہے وہ بھی سب کو پتہ ہے، وہ کہتی ہیں کہ ہمیں پی ٹی آئی کے لوگ ٹرول کرتے ہیں، حکومت والے اگر انکی فیک خبروں پر لکھ دیتے ہیں تو وہ ٹرول ہو گیا،
جب وہ خود ٹرول کرنے پر آتی ہیں تو سب کچھ آزادی رائے کے حق میں آتے ہیں، میں خود متاثر ہوں، انبیا کرام کے بارے میں بھی گری ہوئی باتیں کیں، آپ ہمارے انبیا، اکابرین ، بزرگوں کے بارے میں جو دل کرتا ہے بول دیتی ہیں، اور ہم ڈیفنڈ بھی نہ کریں، اگر کریں تو برے بن جاتے ہیں، تنگ نظر بن جاتے ہیں، عجیب عجیب حرکتیں ہوتی ہیں، آج میرے ساتھ ملیحہ ہاشمی ہیں،یہ اسلام آباد میں ہوتی ہیں،ان خواتین کا بیک گراؤنڈ کیا ہے؟ کہ انکو کبھی انڈیا پروموٹ کرتا ہے، کبھی بی بی سی پر جا کر کوئی بیٹھ جاتی ہے، وہ جو مرضی کہہ دیں میں کسی کو بھینس بھی کہہ دوں تو غلط بات ہو جائے گی
ملیحہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ عجیب بات یہ ہے ہراسمنٹ کو لے کر جس طرح یہ خواتین اجازت مانگ رہی ہے کہ ہم تو کسی کا مذاق بھی اڑا سکتے ہیں، کسی کے خلاف پروپیگنڈہ کر سکتے ہیں لیکن جوابا ہمیں یہ نہ بتایا جائے کہ ہم غلط کر رہے ہیں،پچھلے بارہ چودہ دن سے ہم جو سن رہے ہیں انکا مقصد یہ ہے کہ ہماری فیک نیوز کو ایکسپوز نہ کریں، جس طرح بغیر کسی ثبوت کے یہ بات کرتی ہیں، حکومتی عہدیداران کا نام بھی انہوں نے لیا، مجھے وہ دن نہیں بھولا جب آپ کو اور مہر بخاریکو جس طرح کی ریڈیکول کیا گیا، آج تک کسی نے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی، وہ جو ویڈیو سامنے آئی تھی اس میں سب کلیئر تھا ،کوئی کسی سے رشوت یا چیز لینے دینے کی کوئی بات نہیں کی گئی،اکاؤنٹ دیکھے گئے تو سب کلیئر تھا، کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آئی تھی، پروپیگنڈہ ہو گیا لیکن جو لوگ افکیٹ پوئے کسی نے پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ وہ بے قصور ہیں
عام طور پر ہم دیکھتے ہٰیں کہ سوشل میڈیا پر غلط خبریں دیتے ہیں تو کم لوگوں تک پہنچتی ہے لیکن جب ٹی وی پر غلط خبریں دیتے ہیں تو گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگ خاص کر عمران خان کے خلاف پروپگنڈہ ہوتا رہا تو کوئی بھی عوام کو جا کر حقائق بتانے نہیں جاتا، غلط خبروں سے لوگوں کا ذہن بن جاتا ہے،یہ حراسمنٹ نہیں ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب یہ اپنے گھروں کے نوکروں کو پیسے نہ دیں، حبس بے جا میں رکھیں، یا سرکاری کھاتوں میں حج کرتے رہیں اور اگر کوئی نشاندہی کرے تو کیا یہ ٹرولنگ ہے جس پر ملیحہ ہاشمی نے کہا یہ ٹرولنگ نہیں ہے، یہ حقائق ہیں، غریدہ فاروقی کا جب میڈ والا قصہ سامنے آیا تو میں نے اور آپ نے تو نہیں بتایا ، نہ ہم نے خوشی کا اظہار کیا، اس میڈ کے حق میں عوام کھڑی ہو گئی، یہ کوئی بات نہیں کہ بچے سے کام لیں اور تنخواہ نہ دیں، انڈین میڈیا کی بات ہو رہی تھی، میں انڈین میڈیا اور انٹرنیشنل میڈیا کو ری پریزنٹ کرتی ہیں،انڈین میڈیا پر بالخصوص ہمارے چند اینکر پرسن ہیں جن کے نام لے کر وہان کے صحافی کہتے ہیں کہ انکا بیانیہ انکے سٹیٹ کے بیانیہ کے خلاف ہے، اس پر کیا عوام انکو پھولوں کے ہار بنائے، یہ کوئی ٹرولنگ نہیں، لوگ سمجھ چکے ہیں،بے جا تنقید بھی لوگ سمجھ چکے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انکو وہ لیڈر سپورٹ کرتے ہیں جو خود کسی وصیت کے صلے میں آ کر لیڈر بن جاتے ہیں، ایک دن کام نہیں کیا، کمایا نہیں اور کہیں گے کہ لاکھوں کروڑوں کو نوکریاں دیں گے، وصیت بھی اصلی ہے یا نہیں میں نہیں جانتا لیکن وصیتوں پر موروثی سیاست کرنے والے لوگ جب انکو پروٹیکٹ کرتے ہیں تو یہ خود کو بڑا فیل کرتے ہیں، جس پر ملیحہ ہاشمی نے کہا کہ موروثی سیاست ن لیگ اور پی پی میں ہے، ان دونوں پارٹیوں میں غلامی ہے،بے چارے ساری زندگی 30 30 سال جدوجہد کر کے آئے جیلیں کاٹیں، آج انکو غلام بن کر کھڑا کرنا ہوتا ہے، آج عوام نے غلامی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے، سوشل میڈیا کی بات کی جائے تو بلاول اور مریم سے آپ کے چینل سے درخواست کرتی ہیں کہ عمران خان سے کچھ سیکھیں ، عمران خان نے کبھی ٹرول کرنے والے کو فالو نہیں کیا نہ کوئی ایسی ٹویٹ ری ٹویٹ کی جس پر غلط ٹویٹ کی گئی ہو یا کسی پر الزام لگایا گیا ہو
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میرے اوپر تو خود بختاور بی بی ٹویٹ کر چکی ہیں،کاشف پر بلاول کر چکے ہیں، جس میٹنگ کا آپ حوالہ دے رہے ہیں فرحت اللہ بابر تیسری رو میں بیٹھے ہوئے تھے جس پر ملیحہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ موروثی سیاست میں میرٹ کا قتل عام ہو گیا، خواتین کی بات کی جائے تو یہ کاز غلط نہیں ہے،ہراسمنٹ ایشو ہے، اسکو ایڈریس کرنا چاہئے جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ ہراسمنٹ مردوں کی بھی ہوتی ہے، ملیحہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ بالکل،یہ جینڈس ایشو نہ بنائیں،بارہ چودہ خواتین جوہر وقت عمران خان کے خلاف بات کرتی ہیں اور انصاف لینے بلاول کے پاس مسئلہ لے کر گئیں جو خود ٹرولر کے شاہکار ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب جیسمین منظور کو ایم کیو ایم تھریٹ کرتی ہے اور وہ رو رو کر ملک چھوڑ دیتی ہیں تو اس وقت ایک بھی موم بتی نہیں چلائی گئی جس پر ملیحہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ عزیز میمن نے بلاول کے ٹرین مارچ میں کرائے کے لوگوں کو ایکسپوز کیا،اس کو دن دہاڑے قتل کر دیا جاتا ہے،اسکے گھر بلاول صاحب نہ گئے، جس طرح مطیع اللہ کے گھر گئے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہے کہ مطیع اللہ جان ہر دلعزیز صحافی ہیں،لیکن الیکشن کلب کے ہوئے اس میں انکی ضمانت ضبط ہو گئی آپ نے کیوں ووٹ نہیں دئے جس پر ملیحہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ جو خواتین بتیاں پکڑ کر بلاول کے پاس جا رہی ہیں انکے اکاؤنٹ دیکھیں تو انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان جو قومی ہیرو ہیں انکو نشانہ بنایا، عمران خان پر تنقید کی گئی ، عمران خان کی بیوی بشریٰ بیگم پر گھٹیا حملے کئے گئے، کوئی طلاق کروا رہا تھا کوئی کچھ، ڈاکٹر شہباز گل کو قادیانی بنا دیا،جب دلائل ختم ہو جائیں تو پھر ایسا ہوتا ہے، صحافی ہراسمنٹ کا شکار رہ چکے ہیں ، بارہ چودہ خواتین اس پوری کاز کو متاثر نہ کریں، عورت مارچ والوں نے خواتین کے حقوق کی مہم کا بیڑہ غرق کر دیا، صحافیوںکو جو پروٹیکشن ملنی چاہئے اسکا یہ خواتین جنازہ نکال رہی ہیں.
اسلام آباد :اپوزیشن نے قومی اسمبلی سے منظور ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اہم حکومتی بل سینیٹ میں اکثریت سے مسترد کردیا،اطلاعات کے مطابق سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹرشہزاد وسیم کے بیان پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے منظور شدہ بلوں کو مسترد کردیا اور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی وزارت خارجہ میں نہیں بنتی۔
ذرائع کےمطابق چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا اوراپوزیشن نے وقفہ سوالات مؤخر کرنے پر ایوان میں احتجاج کیا اور واک آؤٹ کیا۔اس موقع پر سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ وقفہ سوالات مؤخر کرنا درست عمل نہیں ہے۔
سابق چیئرمین رضاربانی کا کہنا تھا کہ جب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق بل بلڈوز کرنا ہی ہے تو سوالات کو مؤخر کیوں کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت احتساب سے کیوں بھاگ رہی ہے۔
سینیٹ میں اپوزیشن کی طرف سے ایف اے ٹی ایف بل کے مسترد ہونے کی خبرسب سے پہلے معروف رپورٹرصدیق جان نے دی ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے اپنے مفاد کی خاطر قومی مفاد کو قربان کردیا اوردوبلوں کو جو قومی اسمبلی سے پاس ہوئے تھے مسترد کردیا ہے
بریکنگ نیوز اپوزیشن نے سینیٹ میں اکثریت سے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اہم حکومتی بل مسترد کردیا حکومت اب جوائنٹ سیشن بلا کر قانون سازی کرائے گی
سینیٹ میں کورم پورا نہ ہونے پر اراکین کو جمع کرنے کے لیے پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں جبکہ اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا جس پر کارروائی آدھے گھنٹے کے لیے معطل کردی گئی۔
سینیٹ کا اجلاس جب دوبارہ شروع ہوا تو بلوچستان سے تعلق رکھنے والی اپوزیشن سینیٹر کلثوم پروین نے محرم الحرام کے دوران موبائل سروس معطل کرنے کی مخالفت کی۔انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران تین دن موبائل فون بند کرنے کا فیصلہ کا گیا اور اس طرح کے فیصلے پہلے بھی ہوئے ہیں۔
سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ جہاں سے ماتمی جلوس نکلیں صرف وہاں سروس معطل کی جائے، پورے ملک کو بند کیا جائے گا تو کچھ حادثات ویسے ہی ہوجائیں گے۔
باغی ٹی وی : کراچی میں سیلابی صورتحال ایمرجنسی کا نفاز کر دیا گیا ، اگلے 24 گھنٹے اھم قرار دے دیے گئے.
موجودہ بارش سے 5لاکھ سے زائد افراد کا بے گھر ھونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے. پوری بستیاں سیلابی ریلے میں ڈوب گئے.جمعرات تک کاروباری سرگرمیاں معطل کرنے پر غور کی کیا جارہا ہے اس سلسلے میں وزیر اعلی سندھ کا ھنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے .
Rain emergency has been declared in the province by CM Sindh
کراچی کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ کورنگی، لانڈھی، ڈیفنس، منظور کالونی، ملیر، شاہ فیصل کالونی، اورنگی ٹاوَن، آئی آئی چندریگر روڈ، صدر، کھارادر، نارتھ کراچی، ناگن چورنگی، گلبرگ، بفرزون ،عزیز آباد اور لیاقت آباد میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
کراچی کے مکین بجلی کی فراہمی کے مسائل سے بھی دوچار ہیں۔ سرجانی ٹاؤن اور نیو کراچی کے مختلف علاقوں میں تین دن بعد بھی بجلی کی فراہمی بحال نہیں ہو سکی۔ جس سے علاقہ مکین سخت اذیت سے دوچار ہیں
کراچی میں کورنگی، لانڈھی، ڈیفنس، منظور کالونی، ملیر، گلشن اقبال سرجانی ٹاؤن سمیت کئی علاقوں میں کہیں ہلکی کہیں تیز بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا جس سے سڑکیں ندی نالے بن گئیں، شہر کے نشیبی علاقوں میں دوبارہ اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔
زیریں سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی موسلا دھار بارشوں نے تباہی مچا دی، حیدر آباد، میر پور خاص، ٹھٹھہ اور دیگر شہروں میں نشیبی علاقے زیر آب آگئے، بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ پانی کی نکاسی نہ ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس ہوا
وفاقی کابینہ اجلاس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی وطن واپسی ،مریم نوازکی حالیہ سرگرمیوں کامعاملہ بھی زیربحث آیا، وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ مریم نوازنے نیب کے باہرجوکیا اس پرانہیں گرفتارکیا جانا چاہیئے،کچھ بھی ہو جائے مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے
وزرانےگزشتہ روز قومی اسمبلی اجلاس میں ہنگامہ آرائی کا معاملہ بھی اٹھایا،کابینہ اراکین نے کہا کہ سابق وزیراعظم نےکل قومی اسمبلی میں افسوسناک زبان استعمال کی ،فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ عوام سے ووٹ گالیاں سننے کیلئے نہیں لیےتھے، آئندہ ہمیں گالی دی گئی تو منہ توڑ جواب دیں گے،
اسد عمر کا کہنا تھا کہ اسپیکرکوبدزبانی کے مرتکب ارکان کی رکنیت معطل کرنی چاہیئے،وفاقی کابینہ اجلاس میں نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے قانونی طریقہ کار پر بھی مشاورت کی گئی
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو فورا وطن واپس لانا چاہیے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے،کسی بھی قسم کی کوئی بلیک میلنگ برداشت نہیں کرونگا، نواز شریف کو واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے،
کابینہ اجلاس میں ایم ایل ون ، گندم اور چینی کی امپورٹ پر بھی بات چیت کی گئی،وزیراعظم نے گندم اور چینی کے معاملات پر بھی بریفنگ لی
نواز شریف لندن میں علاج کے لئے گئے تھے کرونا وائرس کے آنے کے بعد نواز شریف کے علاج بارے ذاتی معالج بھی خاموش ہیں نواز شریف کے پلیٹ لٹس کے اتار چڑھاؤ بارے کوئی خبر نہیں دی جا رہی.
اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف، فیملی ممبران اور ڈاکٹر عدنان بھی میاں نواز شریف کی صحت بارے خاموش ہیں،میاں نواز شریف کی صحت بارے معلومات کے لئے رابطہ کیا تو جواب نہیں دیا جا رہا
شہباز شریف بھی نواز شریف کے ہمراہ لندن گئے تھے لیکن وہ کرونا کے پھیلاؤ کے بعد واپس آچکے ہیں، شہباز شریف کرونا کے حوالہ سے حکومت پر روزانہ تنقید تو کر رہے ہیں لیکن نواز شریف کی صحت بارے وہ بھی خاموش ہیں، مریم نواز نے بھی لندن جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن حکومت نے جانے کی اجازت نہیں دی، مریم نواز نے بھی والد کی صحت بارے ابھی تک کوئی ٹویٹ نہیں کی.
دوسری جانب وفاقی حکومت نے نواز شریف کی واپسی کے لئے برطانوی حکومت کو خط لکھ دیا ہے، نواز شریف کی واپسی کے لئے خط پنجاب حکومت کی سفارش پر لکھا گیا ہے.
خط میں کہا گیا کہ نواز شریف سزا یافتہ مجرم ہیں، انہیں واپس بھجوایا جائے، نواز شریف کی ضمانت کی مدت ختم ہو چکی ہے، وزارت خارجہ نے خط برطانوی حکومت کو لکھا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سزا یافتہ مجرم کو واپس بھجوایا جائے تا کہ وہ پاکستان آ کر اپنی سزا مکمل کریں، چار ہفتوں کی ضمانت کا وقت ختم ہو چکا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے جعلی بنک اکاؤنٹ کیس کے مرکزی ملزم انور مجید کی درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ستمبر تک جواب طلب کر لیا۔
جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے جعلی بنک اکاؤنٹس کیس کے مرکزی ملزم انور مجید کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ سماعت وڈیو لنک پر ہوئی انور مجید کی وکیل منیر اے ملک نے کراچی رجسٹری سے وڈیو لنک پر دلائل دیے۔
دوران سماعت بنچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے وکیل منیر اے ملک سے کہا آپ انور مجید کی ضمانت نہیں مانگ رہے بلکہ انہیں باہر جانے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ وکیل منیر اے ملک نے جواب دیا جی بالکل زندگی کی ضمانت آئین دیتا ہے اپنی پسند کے مطابق علاج کرانا ملزم کا حق ہے۔
جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا ملزم کی واپسی کی کیا ضمانت ہے منیر اے ملک نے کہا عدالت اپنی تسلی کے مطابق جو ضمانت چاہے لے لے۔ جسٹس قاضی امین نے دعا دیتے ہوئے کہا اللہ انور مجید کو صحت دے ساتھ میں ریمارکس دیے بدقسمتی سے بیرون ملک علاج کے حوالے سے ماضی کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔
وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ انور مجید کا آپریشن بیرون ملک ہی ہو سکتا ہے۔ جو سرجری انور مجید کی ہونی ہے وہ پاکستان میں زیادہ کامیاب نہیں۔ عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ستمبر تک جواب طلب کر لیا کیس کی مزید سماعت دو ستمبر تک ملتوی کر دی گئی
واضح رہے کہ سال 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور بڑے بڑے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں، اس سلسلے میں ایف آئی اے نے ابتدائی طور پر معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد گزشتہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔
جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب نے ملزمان سے اب تک 11 ارب 16 کروڑ روپے کی ریکوری کر لی گئی ،کراچی اسٹیل مل کی 10ارب 66کروڑکی اراضی ملزمان سے واپس لے لی،اراضی کراچی اسٹیل مل کو واپس بھی کر دی گئی،ایک اور ملزم سے پلی بار گین کی مد میں 48کروڑ روپے بھی وصول کئے گئے،