باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کیسز میں بتدریج کمی ہو رہی ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے 8 اموات ہوئی ہیں جبکہ 503 نئے مریض سامنے آئے ہیں
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 6209 ہوگئی ہے۔ملک بھر میں کورونا ایکٹوکیسز کی تعداد 11 ہزار 945ہے اور اب تک 2 لاکھ 72 ہزار 804 افراد کورونا متاثرین صحتیاب ہوچکے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 23 ہزار 670 ٹیسٹ ہوئے اور ملک بھر میں کورونا کے 23 لاکھ 63 ہزار 752 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔سندھ میں کورونا کے سب سے زیادہ 1لاکھ 27ہزار60 کیسز رپورٹ ہوئے۔ پنجاب میں 95 ہزار 800 ،خیبرپختونخوا میں 35 ہزار 468، اسلام آباد میں 15ہزار425، بلوچستان میں 12ہزار403، آزادکشمیر میں 2ہزار 219 اور گلگت بلتستان میں کورونا کیسز کی تعداد 2ہزار 583ہوگئی ہے۔
سندھ میں کورونا سے 2343 اموات ہوئی ہیں، پنجاب میں2186، خیبرپختونخوا میں ایک ہزار242، اسلام آباد میں 175، بلوچستان میں 139، گلگت بلتستان میں 63 اور آزادکشمیرمیں کورونا سے 61 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں
ملک بھرکےاسپتالوں میں130 مریض وینٹی لیٹرپر ہیں۔ اسپتالوں میں کورونا وینٹی لیٹرزکی تعدادا یک ہزار920 ہے۔ ملک بھر میں 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے سہولیات موجود ہیں اور اس وقت ایک ہزار 241 مریض اسپتالوں میں داخل ہیں،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک بہت ہی اہم خبر آئی ہے، سعودی فارن منسٹر نے کہا ہے کہ ہم یو اے ای کی پیروی کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے اور یہ بھی کہا کہ ہم تب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتے جب تک فلسطیینیوں کا ان کا حق نہ ملے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بیسکلی تو یہ بہت بڑا بیان ہے، بہت بڑی پالیسی سٹیٹمنٹ ہے، انڈین میڈیا جتنی چیخیں مار رہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تلخ کلامی اور شٹ اپ کال دی اب ان سب کو اوس پڑ جائے کہ سعودی عرب اور پاکستان کا موقف ایک ہے،ایک اور چیز بھی ہے کہ سعودی عرب کے اندر اسرائیل کو ایک ایکسیس ضرور حاصل ہے جب وہ ایئرسپیس استعمال کرتے ہیں، جب انکے فائٹر ایئر سپیس یوز کرتے ہیں،کافی الزامات ہیں لوگ کہتے ہیں انکے پاس ثبوت ہیں کہ اسرائیل کو تیل بھی یہیں سے جا رہا ہے اسکا مطلب ہے کہ بیک ڈور سب چل رہا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ محمد بن سلمان کا وہ کنٹرول جو مذہبی لوگ ہیں ان پر نہیں ،اسکا مطلب ہے کہ سعودی عرب کے اندر بہت زیادہ تشویش ہے،اگر کنگ سلمان کی صحت اچھی ہوتی تو شاید فیصلے مختلف ہوتے، اب کنگ سلمان وینیٹی لیٹر کے اوپر ہیں انکی زندگی کی ڈاکٹروں کو کوئی امید نہیں، ایم بی ایس کو لگ رہا ہے کہ ہاؤس آف سعود کے اندر سے انکے خلاف لوگ نہ ہو جائیں ، اسوقت انکو سٹیٹمنٹ دینا پڑی، دنیا میں اس کو سیریس لیا جائے گا،اب امریکہ اور سعودی تعلقات مین بھی تناؤ آ سکتا ہے، سعودی عرب پاکستان کے ساتھ سی پیک میں مزید انوالو ہو گا اور چائنہ کا ساتھ دے گا، اسوقت امریکہ بہت سے محاذوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے، وہ چائنہ کو سپرپاور بننے سے روک رہا ہے،ترکی کو خلافت عثمانیہ کے پھیلاؤ سے روک رہا ہے،پاکستان کو مضبوط ہونے سے روک رہا ہے تا کہ خطے میں کوئی نیا بلاک نہ بنے اور اسرائیل کی مدد کی جائے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسوقت چائنہ کو سپر پاور بننے سے روکنا اسرائل کے لئے ضروری ہے کیونکہ دنیا پر تسلط قایم کرنے کے لئے یہ ضروری ہے، ایک وقت تھا چائنہ کے ساتھ امریکہ کے تاریخی تعلقات تھے لیکن ہانگ کانگ قوانین مین تبدیلی، کرونا کے بعد کشیدگی عروج پر ہے، امریکہ کو ڈر ہے چائنہ اسکی جگہ نہ لے لے، ایف بی آئی نے چین کو امریکہ کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے.
وزارت خارجہ میں شاہ محمود قریشی کی جگہ کون لے سکتا ہے؟ مبشر لقمان کا تہلکہ خیز انکشاف
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیریں مزاری قریشی کی جگہ لے سکتی ہیں
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ شیریں مزاری نے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر اور عمران خان کو لیٹ ڈاؤں کیا ہے، قریشی سفارتکاری میں بوسیدہ طریقے استعمال کر رہے ہیں اور دوسری بات یہ کہ شیریں مزاری قریشی کی جگہ لے سکتی ہیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیریں مزاری قریشی کی جگہ لے سکتی ہیں، میں شیریں مزاری کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور میری ان سے بہت اچھی سلام دعا ہے، میں انکی عزت کرتا ہوں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں شاہ محمود کو بہت زیادہ جانتا ہوں، میرے وہ سکول کے سینئر ہیں تب سے ان کو جانتا ہوں مجھے ابھی بھی یہ لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگ آپس میں کمنٹ کر رہے ہوتے ہیں جیسے کور کمیٹی میں کر رہے ہوتے ہیں ویسے ہی باہر آ کر کر دیتے ہیں،یہاں پر ایسا نہیں ہونا چاہئے،وزیروں کو وزیروں کے اوپر پبلکلی کمنٹ نہیں کرنے چاہئے، کور کمیٹی ،کابینہ اجلاس میں بات کریں، باہر جب بات آتی ہے تو پبلک میں کنفیوژن پھیلتی ہے کیونکہ سیاق و سباق کا پتہ نہیں ہوتا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شیریں مزاری ہو سکتا ہے آ رہی ہوں یا ہو سکتا ہے نہ آ رہی ہوں، یہ باتیں کابینہ کے اندر رہنی چاہئے، دونوں قابل احترام ہیں اور دونوں کی رائے کا احترام ہے.
کوئٹہ: بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔اطلاعات کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل بھی کورونا کا شکار ہوگئے،جن لوگوں نے مجھ سے ملاقات کی وہ فوری اپنا ٹیسٹ کرائیں:اخترمینگل
ذرائع کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل بھی عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں، اخترمینگل نے اس حوالے سے تصدیق کردی ہے۔
I have been tested positive for COVID-19. I request everyone who has interacted with me to get tested immediately.
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں اخترمینگل کا کہنا تھا کہ میرا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے، جن لوگوں نے مجھ سے ملاقات کی وہ فوری اپنا ٹیسٹ کرائیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ آپ کے کورونا پازیٹو ہونے کی اطلاع کا سن کر افسوس ہوا، اللہ تعالی اختر مینگل سمیت تمام مریضوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔
چیرمین سینٹ صادق سنجرانی نے بھی سردار اختر مینگل کو ٹیلی فون کرکے ان کی خیریت دریافت کی، جب کہ چیرمین سینٹ نے اختر مینگل کی جلد صحیتابی کے لئے دعا کی۔
عمران خان کے تاریخی کارنامے،ساتھ ہی مبشر لقمان نے بلاول کو کیا "بے نقاب”
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بلاول کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی فیل ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر پرسن مریم خان نے سوال کیا کہ بلاول نے کہا ہے کہ کشمیر سے سعودیہ تک عمران خان کی دو سالوں میں خارجہ پالیسی ناکام رہی اس بات سے اتفاق کرتے ہین ، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پہلی بار مین نے زندگی مین دیکھا ہے،کہ پہلی بار کشمیر کا موقف انٹرنیشنلی سامنے آیا ہے، چار بار پی پی کی حکومت آئی انکے دور میں تو نہیں آیا، میں نے تو کبھی نہیں سنا،یہیں پر ہم بڑے ہوتے رہے ہیں دوسری چیز پہلی بار کشمیر فلیش پوائنٹ بن کر دنیا کے سامنے آیا ہے، تیسری بات آپ کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ جس دن سے عمران خان آئے ہیں اسدن پاکستان کی کوئی جغرافی تو تبدیلی نہیں ہوئی، پاکستان کے ہمسائے تو نہیں بدلے،پاکستان کے لاسز تو نہیں ختم ہوئے، کوئی سونے کی کانیں تو نہیں نکل آئیں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دنیا میں جو تبدیلی ہو رہی ہے امریکہ اور چین کی لگ گئی ہے، عرب ورلڈ میں الگ بلاکس بن رہے ہیں، عربی، عجمی سامنے کھڑے ہو رہے ہیں، مفادات کی جنگ، کرونا آ گیا، ان سب چیزوں سے نبرد آزما مرضی سے تو نہیں کر رہے کہ کرونا آ جائے تو فائدہ ہو گا، یا انڈیا چائنہ کی لداخ میں جھڑپ ہو تو فائدہ ہوگا، پوری دنیا میں تبدیلی آ رہی ہے پاکستان اس کا حصہ ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بلاول کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی فیل ہے، ایران کے اوپر سے سیکشن ختم ہوئیں اس میں پاکستان کا رول ہے، کشمیر کا مسئلہ تاریخ میں ایسا پہلے کبھی سامنے نہیں آیا جو ابھی آیا، بلاول نے کہیں سنا ہو تو بتا دیں، ٹویٹر پر بیٹھ کر اپوزیشن کرنے کا فائدہ نہیں، یا تو بلاول سڑک پر آئیں پتہ چلے کہ مقبول لیڈر ہیں فیس بک اور ٹویٹر اس سے باہر نکلو اس سے عمران خان کی حکومت کو کچھ نہیں ہونا بلکہ وہ سوشل میڈیا میں ان سے تگڑا ہے
شوگر انکوائری کمیٹی کو سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے غیرآئینی قرار دینے پر مبشر لقمان نے دی حکومت و اپوزیشن کو تجویز
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ قانون میں سقم موجود ہیں، اس سقم کو دور کرنے کے لئے تمام جماعتوں کو ایک ساتھ کام کرنا پڑے گا
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری کمیٹی کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور نیب ،ایف بی آر کو کہا کہ آزادی سے تحقیقات کرنی چاہئے کیا حکومت اب تک عوام کو بے وقوف بناتی رہی ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان وہ واحد ملک رہ گیا جس نے لاز آف ایوی ڈینس ری وزٹ نہیں ہوئے، ہمارا آج بھی یہی ہے کہ اگر ایک دہشت گرد ہے تو اس کے سامنے کھڑے ہو کر گواہ نے عدالت میں گواہی دینی ہے،دہشت گرد کو گواہ کا پتہ چل جاتا ہے اور وہ اسکے گھر والوں کو نقصان پہنچاتا ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہمارے پارلیمنٹرینز لاء کو ری وزٹ نہیں کر سکے،بات کوتاہی کی نہیں، قانون میں سقم موجود ہیں، اس سقم کو دور کرنے کے لئے تمام جماعتوں کو ایک ساتھ کام کرنا پڑے گا، ہم کورٹ کو اکثر بلیم کر دیتے ہین کورٹ کا کام قانون کی تشریح اور قانون کی روشنی میں فیصلہ دینا ہے قانون بنانا نہیں، اگر قانون میں سقم موجود ہے جس سے کالی بھیڑیں بچ رہی ہے تو پارلیمنٹ میں جانا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہی کام اگر پی ٹی آئی کو سمجھ آ جائے کہ ہر وقت اپوزیشن سے لاکڑا کاکڑا نہیں کھیلنا ان سے لامیکنگ کروانی ہے، اپوزیشن کو سمجھ آ جائے کہ قوانین میں تبدیلی ہونی چاہئے انکو بھی حکومت کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہئے، جب لا میکنگ ہو جائے گی تو اس طرح کے سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی
عمران خان کابینہ میں موجود ان لوگوں سے جان چھڑا لے تو حکومت بالکل ٹھیک،مبشر لقمان کا وزیراعظم کو مشورہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان دو قسم کے لوگوں سے جان چھڑا لے تو انکی حکومت بالکل ٹھیک ہے
مشبر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ حکومت نے دو سال مکمل کر لئے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مبارک ہو، پاکستان کی حکومت ہے،مریم خان نے سوال کیا کہ اپوزیشن نے حکومت کی کارکردگی کو تباہ کن قرار دیا ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس سینس میں اپوزیشن بات کرتی ہے میں اس کو ڈس اون نہیں کروں گا، اپوزیشن حکومت کی کارکردگی پر بات کرتی ہے،پی ٹی آئی سپورٹر کی بات بتاؤں ، یہ مین بتاتا ہوں کہ گورننس پر بڑے سوالیہ نشان ہین فنانس ٹیم ہے،پنجاب، کے پی کا جو چیف منسٹر ہے انکی پرفارمنس نہیں ہے، میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان نے جس دن الیکشن جیتا تھا ہمارے لئے وہی کافی تھا، پاکستان میں موروثی سیاست کو اس نے اڑا دیا، ن لیگ، پی پی، ایم کیو ایم، اے این پی ، فضل الرحمان اڑے، یہ چھوٹی بات نہیں تھی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب نئے ناموں کی عادت ہو گئی ہے، زرتاج گل یا عثمان بزدار یا محمود خان،شبلی فراز، یہ وہ لوگ نہیں ہیں جن کو ہم پچھلے تیس سال سے دیکھ رہے تھے، ہمیں یہ تو بتا دیں کہ انکو واقعی کام آتا ہے،ہم نے انکے نام ہی سنے، تیس سالوں میں اور یہ آ گئے ،ہمارے لئے یہ نئے ہیں، لیکن وہ نئے لوگوں کو لانے کی تو بات ہو رہی تھی، عمران خان کی کابینہ میں کون کون لوگ پرفارم نہیں کر رہے ایک وہ ہیں جو تحریک انصاف کے سفر میں شریک نہیں تھے ، چاہے وہ عثمان بزدار ہوں،فواد چوھدری ہو، اور لوگ ہوں جو کینٹینر پر نہیں تھے، ایک وہ جو کہنے کو ٹیکنو کریٹ ہے اور اب عمران خان کی ٹیم ہیں،وہ لوگ حکومت میں ہیں اور ہر حکومت میں ہوتے ہیں، اگر ان لوگوں سے عمران خان جان چھڑا لے تو پھر حکومت بالکل ٹھیک ہے،پھر کچھ غلط نہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ گڈ پرفارمنس ، بیڈ پرفارمنس یہ چلے گا لیکن ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ الگے الیکشن تک عمران خان ہمیں موروثی سیاست سے آزاد کروا سکتا ہے یا نہیں، ایک بات تو کلیئر ہے اور اس کی گارنٹی ہے کہ عمران خان کا بیٹا پی ٹی آئی کا چیئرمین نہیں بنے گا اور کس پارٹی میں یہ گارنٹی ہے،یہ بہت بڑی ڈیولمنٹ ہے، جو کرپشن ختم کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا وہ نہیں ہو سکا، جس گورننس کا وعدہ کیا تھا وہ ہم امید کر رہے ہیں کہ جلد شروع ہو جائے گا لیکن اگر عمران خان کابینہ میں ان دو قسم کے لوگوں کو بدل لیں تو پھر اگلے ایک سال میں انکا کافی گراف بہتر ہو گا، جو جو سمجھتا تھا کہ دنیا میں میرے بغیر کام نہین چلتا وہ اب دفن ہوئے پڑے ہیں.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مودی نے ہندوتوا سے جو انڈیا میں آگ لگائی وہ ہر سطح پر نظر آ رہی ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پراینکر مریم خان نے سوال کیا کہ عامر خان نے ترکی کے فرسٹ لیڈی سے ملاقات کی تھی،انکو بہت زیادہ تنقید اور غدار کہا جا رہا ہے جبکہ مودی نے طیب اردگان سے ملاقات کی تھی انکو تو کچھ نہیں کہا گیا جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مودی مسلمان نہیں تھا، عامر خان مسلمان ہے، ایک بات ہم بھول جاتے ہیں کہ ہالی ووڈ ہو یا بالی ووڈ ہو،لالی ووڈ ہو، ایکٹرز ہیرو نہیں ہوتے، وہ کیریکٹرز پلے کر رہے ہوتے ہیں وہ انسان ہوتے ہیں ہماری طرح ، انکی فالورز اکراس دی بارڈر ہوتی ہے،مجھے کسی کی ایکٹنگ اچھی لگتی ہے تو یہ مطلب نہیں کہ غیر پاکستانی کو پسند کر رہا ہوں تو غدار ہو گیا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی نے ہندوتوا سے جو انڈیا میں آگ لگائی وہ ہر سطح پر نظر آ رہی ہے،میں کافی عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ بھارت ٹوٹ رہا ہے، ٹوٹ رہا ہے، یہی سوشل فائبر ہے بھارت کا ،یہ اب ایک دوسرے کے ساتھ رہ نہیں سکیں گے، ہماری زندگی میں خالصتان،مانی پور، ناگالینڈ بنے گا، ابھی تو بہت سارے ہندوستان پاکستان میں بننے ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگلے دو تین سال میں دیکھیں گے کہ پاکستان کے ہمسایوں میں بہت ساری تبدیلی ہونی ہے، کیونکہ انڈیا رہے گا ہی نہیں، ادھر خالصتان ہو گا، پھر مانی پور ہو گا،آگے ناگالینڈ ہو گا ،یہ ہندوتوا سوچ کی وجہ سے ہے، جو کام انڈیا کے دشمن نہیں کر سکتے وہ مودی نے کر دیا
واضح رہے کہ عامر خان کی تُرک خاتون اول کے ساتھ تصاویر وائرل ہونے کےبعد بھارتی حکمران جماعت بی جے پی اور بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیم وشوا ہندو پریشد نے بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ ایک طرف طیب اردوان کشمیر میں آرٹیکل 370 کے نفاذ پر پاکستان کا ساتھ دیتے ہوئے بھارت پر تنقید کرتے ہیں دوسری جانب ہمارے ہی اداکار اُن کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور تصاویر بنا رہے ہیں۔
بھارتی جنتا پارٹی نے عامر خان نے سے ملاقات کی وضاحت مانگتے ہوئے یہ بھی کہا کہ عامر خان بتائیں کہ اس ملاقات کے پیچھے کیا مقصد تھا۔
واضح رہے کہ عامر خان کی اپنی پروڈکشن میں بننے والی ’ لعل سنگھ چڈھا‘ امریکن ڈرامہ ’فارسٹ گم‘ کی کہانی پر مبنی فلم ہے فلم کی عکس بندی اب تک بھارت کے متعدد مقامات پر کی جا چکی ہے باقی شوٹنگ ترکی میں مکمل کی جا رہی ہے۔فلم میں عامر خان لعل سنگھ چڈھا کا کر دار ادا کر رہے ہیں جبکہ اُن کے ہمراہ کرینہ کپور مرکزی کردار میں نطر آئیں گی-
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے یوٹیوب آفیشیل چینل پر سعودی فرماں روا شاہ سلمان بارے اہم انکشاف کیا ہے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ حکومت نے دو سال مکمل کر لئے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مبارک ہو، پاکستان کی حکومت ہے،مریم خان نے سوال کیا کہ اپوزیشن نے حکومت کی کارکردگی کو تباہ کن قرار دیا ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جس سینس میں اپوزیشن بات کرتی ہے میں اس کو ڈس اون نہیں کروں گا، اپوزیشن حکومت کی کارکردگی پر بات کرتی ہے،پی ٹی آئی سپورٹر کی بات بتاؤں ، یہ مین بتاتا ہوں کہ گورننس پر بڑے سوالیہ نشان ہین فنانس ٹیم ہے،پنجاب، کے پی کا جو چیف منسٹر ہے انکی پرفارمنس نہیں ہے، میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان نے جس دن الیکشن جیتا تھا ہمارے لئے وہی کافی تھا، پاکستان میں موروثی سیاست کو اس نے اڑا دیا، ن لیگ، پی پی، ایم کیو ایم، اے این پی ، فضل الرحمان اڑے، یہ چھوٹی بات نہیں تھی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب نئے ناموں کی عادت ہو گئی ہے، زرتاج گل یا عثمان بزدار یا محمود خان،شبلی فراز، یہ وہ لوگ نہیں ہیں جن کو ہم پچھلے تیس سال سے دیکھ رہے تھے، ہمیں یہ تو بتا دیں کہ انکو واقعی کام آتا ہے،ہم نے انکے نام ہی سنے، تیس سالوں میں اور یہ آ گئے ،ہمارے لئے یہ نئے ہیں، لیکن وہ نئے لوگوں کو لانے کی تو بات ہو رہی تھی، عمران خان کی کابینہ میں کون کون لوگ پرفارم نہیں کر رہے ایک وہ ہیں جو تحریک انصاف کے سفر میں شریک نہیں تھے ، چاہے وہ عثمان بزدار ہوں،فواد چوھدری ہو، اور لوگ ہوں جو کینٹینر پر نہیں تھے، ایک وہ جو کہنے کو ٹیکنو کریٹ ہے اور اب عمران خان کی ٹیم ہیں،وہ لوگ حکومت میں ہیں اور ہر حکومت میں ہوتے ہیں، اگر ان لوگوں سے عمران خان جان چھڑا لے تو پھر حکومت بالکل ٹھیک ہے،پھر کچھ غلط نہیں، گڈ پرفارمنس ، بیڈ پرفارمنس یہ چلے گا لیکن ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ الگے الیکشن تک عمران خان ہمیں موروثی سیاست سے آزاد کروا سکتا ہے یا نہیں، ایک بات تو کلیئر ہے اور اس کی گارنٹی ہے کہ عمران خان کا بیٹا پی ٹی آئی کا چیئرمین نہیں بنے گا اور کس پارٹی میں یہ گارنٹی ہے،یہ بہت بڑی ڈیولمنٹ ہے، جو کرپشن ختم کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا وہ نہیں ہو سکا، جس گورننس کا وعدہ کیا تھا وہ ہم امید کر رہے ہیں کہ جلد شروع ہو جائے گا لیکن اگر عمران خان کابینہ میں ان دو قسم کے لوگوں کو بدل لیں تو پھر اگلے ایک سال میں انکا کافی گراف بہتر ہو گا، جو جو سمجھتا تھا کہ دنیا میں میرے بغیر کام نہین چلتا وہ اب دفن ہوئے پڑے ہیں.
مریم خان نے سوال کیا کہ بلاول نے کہا ہے کہ کشمیر سے سعودیہ تک عمران خان کی دو سالوں میں خارجہ پالیسی ناکام رہی اس بات سے اتفاق کرتے ہین ، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پہلی بار مین نے زندگی مین دیکھا ہے،کہ پہلی بار کشمیر کا موقف انٹرنیشنلی سامنے آیا ہے، چار بار پی پی کی حکومت آئی انکے دور میں تو نہیں آیا، میں نے تو کبھی نہیں سنا،یہیں پر ہم بڑے ہوتے رہے ہیں دوسری چیز پہلی بار کشمیر فلیش پوائنٹ بن کر دنیا کے سامنے آیا ہے، تیسری بات آپ کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ جس دن سے عمران خان آئے ہیں اسدن پاکستان کی کوئی جغرافی تو تبدیلی نہیں ہوئی، پاکستان کے ہمسائے تو نہیں بدلے،پاکستان کے لاسز تو نہیں ختم ہوئے، کوئی سونے کی کانیں تو نہیں نکل آئیں، دنیا میں جو تبدیلی ہو رہی ہے امریکہ اور چین کی لگ گئی ہے، عرب ورلڈ میں الگ بلاکس بن رہے ہیں، عربی، عجمی سامنے کھڑے ہو رہے ہیں، مفادات کی جنگ، کرونا آ گیا، ان سب چیزوں سے نبرد آزما مرضی سے تو نہیں کر رہے کہ کرونا آ جائے تو فائدہ ہو گا، یا انڈیا چائنہ کی لداخ میں جھڑپ ہو تو فائدہ ہوگا، پوری دنیا میں تبدیلی آ رہی ہے پاکستان اس کا حصہ ہے، کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی فیل ہے، ایران کے اوپر سے سیکشن ختم ہوئیں اس میں پاکستان کا رول ہے، کشمیر کا مسئلہ تاریخ میں ایسا پہلے کبھی سامنے نہیں آیا جو ابھی آیا، بلاول نے کہیں سنا ہو تو بتا دیں، ٹویٹر پر بیٹھ کر اپوزیشن کرنے کا فائدہ نہیں، یا تو بلاول سڑک پر آئیں پتہ چلے کہ مقبول لیڈر ہیں فیس بک اور ٹویٹر اس سے باہر نکلو اس سے عمران خان کی حکومت کو کچھ نہیں ہونا بلکہ وہ سوشل میڈیا میں ان سے تگڑا ہے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ شیریں مزاری نے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر اور عمران خان کو لیٹ ڈاؤں کیا ہے، قریشی بوسیدہ طریقے استعمال کر رہے ہیں اور دوسری بات یہ کہ شیریں مزاری قریشی کی جگہ لے سکتی ہیں جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیریں مزاری قریشی کی جگہ لے سکتی ہیں، میں شیریں مزاری کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور میری ان سے بہت اچھی سلام دعا ہے، میں انکی عزت کرتا ہوں،میں شاہ محمود کو بہت زیادہ جانتا ہوں، میرے وہ سکول کے سینئر ہیں تب سے ان کو جانتا ہوں مجھے ابھی بھی یہ لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگ آپس میں کمنٹ کر رہے ہوتے ہیں جیسے کور کمیٹی میں کر رہے ہوتے ہیں ویسے ہی باہر آ کر کر دیتے ہیں،یہاں پر ایسا نہیں ہونا چاہئے،وزیروں کو وزیروں کے اوپر پبلکلی کمنٹ نہیں کرنے چاہئے، کور کمیٹی ،کابینہ اجلاس میں بات کریں، باہر جب بات آتی ہے تو پبلک میں کنفیوژن پھیلتی ہے کیونکہ سیاق و سباق کا پتہ نہیں ہوتا، شیریں مزاری ہو سکتا ہے آ رہی ہوں یا ہو سکتا ہے نہ آ رہی ہوں، یہ باتیں کابینہ کے اندر رہنی چاہئے، دونوں قابل احترام ہیں اور دونوں کی رائے کا احترام ہے.
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری کمیٹی کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور نیب ،ایف بی آر کو کہا کہ آزادی سے تحقیقات کرنی چاہئے کیا حکومت اب تک عوام کو بے وقوف بناتی رہی ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان وہ واحد ملک رہ گیا جس نے لاز آف ایوی ڈینس ری وزٹ نہیں ہوئے، ہمارا آج بھی یہی ہے کہ اگر ایک دہشت گرد ہے تو اس کے سامنے کھڑے ہو کر گواہ نے عدالت میں گواہی دینی ہے،دہشت گرد کو گواہ کا پتہ چل جاتا ہے اور وہ اسکے گھر والوں کو نقصان پہنچاتا ہے، ہمارے پارلیمنٹرینز لاء کو ری وزٹ نہیں کر سکے،بات کوتاہی کی نہیں، بات ہماری کافی چیزیں قانون میں سقم موجود ہیں، اس سقم کو دور کرنے کے لئے تمام جماعتوں کو ایک ساتھ کام کرنا پڑے گا، ہم کورٹ کو اکثر بلیم کر دیتے ہین کورٹ کا کام قانون کی تشریح اور قانون کی روشنی میں فیصلہ دینا ہے قانون بنانا نہیں، اگر قانون میں سقم موجود ہے جس سے کالی بھیڑیں بچ رہی ہے تو پارلیمنٹ میں جانا ہے، یہی کام اگر پی ٹی آئی کو سمجھ آ جائے کہ ہر وقت اپوزیشن سے لاکڑا کاکڑا نہیں کھیلنا ان سے لامیکنگ کروانی ہے، اپوزیشن کو سمجھ آ جائے کہ قوانین میں تبدیلی ہونی چاہئے انکو بھی حکومت کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہئے، جب لا میکنگ ہو جائے گی تو اس طرح کے سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ عامر خان نے ترکی کے فرسٹ لیڈی سے ملاقات کی تھی،انکو بہت زیادہ تنقید اور غدار کہا جا رہا ہے جبکہ مودی نے طیب اردگان سے ملاقات کی تھی انکو تو کچھ نہیں کہا گیا جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مودی مسلمان نہیں تھا، عامر خان مسلمان ہے، ایک بات ہم بھول جاتے ہیں کہ ہالی ووڈ ہو یا بالی ووڈ ہو،لالی ووڈ ہو، ایکٹرز ہیرو نہیں ہوتے، وہ کیریکٹرز پلے کر رہے ہوتے ہیں وہ انسان ہوتے ہیں ہماری طرح ، انکی فالورز اکراس دی بارڈر ہوتی ہے،مجھے کسی کی ایکٹنگ اچھی لگتی ہے تو یہ مطلب نہیں کہ غیر پاکستانی کو پسند کر رہا ہوں تو غدار ہو گیا،مودی نے ہندوتوا سے جو انڈیا میں آگ لگائی وہ ہر سطح پر نظر آ رہی ہے،میں کافی عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ بھارت ٹوٹ رہا ہے، ٹوٹ رہا ہے، یہی سوشل فائبر ہے بھارت کا ،یہ اب ایک دوسرے کے ساتھ رہ نہیں سکیں گے، ہماری زندگی میں خالصتان،مانی پور، ناگالینڈ بنے گا، ابھی تو بہت سارے ہندوستان پاکستان میں بننے ہیں، اگلے دو تین سال میں دیکھیں گے کہ پاکستان کے ہمسایوں میں بہت ساری تبدیلی ہونی ہے، کیونکہ انڈیا رہے گا ہی نہیں، ادھر خالصتان ہو گا، پھر مانی پور ہو گا،آگے ناگالینڈ ہو گا ،یہ ہندوتوا سوچ کی وجہ سے ہے، جو کام انڈیا کے دشمن نہیں کر سکتے وہ مودی نے کر دیا
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معاشی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب اسرائیل کا آج کا دوست نہیں ہے وہ بہت پرانا دوست ہے،یہ الگ بات ہے کہ وہ بیک اینڈ ڈپلومیسی سے ہو رہا ہے وہ فرنٹ پر نہیں آ رہے بلکہ مجھے یاد ہے کسی سیمینار میں مجھے بلایا گیا تھا وہان امریکہ کو سب برا بھلا کہہ رہے تھے تو میں نے کہا کہ پہلے مسلمان ملکوں کو دیکھ لیں جو آپس میں لڑ رہے ہیں بعد میں امریکہ کو دیکھیں ، تو مجھے نہیں لگتا کہ یہ میرا خیال ہے کہ وقت پر پتہ چلے گا، اللہ تعالیٰ سچ جانتا ہے مجھے غیب کا نہیں پتہ، آج صبح مجھے سعودی عرب سے کسی نے کہا کہ شاید شاہ سلمان کو زبردستی وینٹی لیٹر پر رکھا جا رہا ہے اسی لئے انہیں شفٹ کیا گیا ہے ایک ہسپتال میں تا کہ کسی کو کچھ پتہ نہ چلے، کوئی وزٹ نہ کرے اور ان کو اسوقت تک وینٹی لیٹر پر رکھا جائے گا تب تک انکو سوٹ کرے،تو اسکا مطلب ہے کہ وہاں اقتدار کی جنگ شروع ہو چکی ہے، اقتدار خوفناک چیز ہوتی ہے، بھائی بھائی کو نہین چھوڑتا ، بیٹا باپ کے خلاف ہو جاتا ہے، تین چیزیں زر ،زن اور زمین ، اس میں تینوں چیزیں ساتھ آ رہی ہیں اقتدار کی دوڑ میں، ہو سکتا ہے کہ اقتدارکو منوانے کے لئے ایک مہینے کے اندر اندر ریکگنائزکر لیں یا تین مہینے کے اندر کر لیں،لیکن اس سے زیادہ مجھے لگتا نہیں ہے،فیصلے پہلے کے کئے ہوئے ہیں، کام سب کچھ ہو رہا ہے صرف آفیشلی بیان دینا ہے، امریکہ بھی زور دے رہا ہے کہ اس سے ٹرمپ کی الیکشن میںبڑی مدد ہو جائے گا، اسوقت مجھے لگ رہا ہے کہ ٹرمپ آؤٹ ہو رہے ہیں اور شاید یہ چیزیں اس کو نہ بچا سکیں، مڈل ایسٹ کا نقشہ دوبارہ بدلنے والا ہے، سیکنڈ ورلڈ وار کے بعد پہلے بدلا تھا
مریم خان نے سوال کیا کہ جنرل باجوہ کے دورہ سعودی عرب کی بات کریں تو محمد بن سلمان سے ملاقات نہیں ہو سکی، تو کیا یہ کامیاب دورہ ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ جنرل باجوہ کا دورہ سعودی عرب پہلے سے طے ہو گا،اس لیول کے دورے اس طرح ہوتے ہیں کہ چلو ہم وہاں کھانا کھا آتے ہیں، دو دو مہینے پہلے طے ہوتے ہیں، ایجنڈہ تک طے ہوتا ہے، ہو سکتا ہے یہ ٹوٹل ڈیفنس ریلیٹڈ دورہ ہو اس لئے ڈیفنس منسٹر ملے، میں سٹوری نہیں جانتا اسلئے کچھ نہیں کہہ سکتا،ٹائمنگ ایسی ہے کہ باتیں بہت ہو رہی ہوں،یہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ اس نے اپنی ناراضگی ظاہر کرنی تھی اسلئے ملے نہیں، آفیشیل کال پروہ گئے اور ایٹمی ملک کے آرمی چیف ہیں، اگر ملنا ہوتا تو مل بھی لیتے ،ایسی بات نہیں.
پاکستان نے غلطی سے سرحد پار کر کے پاکستان پہنچ جانے والے بھارتی شہری کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھارت بھیج دیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی
پنجاب کے شہر گورداسپور سے چندر رام نامی ہندو شخص جس کا دماغی توازن درست نہیں تھا۔ 5 اگست کو نارووال کے قریب سرحد عبور کرکے پاکستان پہنچ گیا جہاں پاکستان رینجرز کے حکام نے اسے گرفتار کر لیا اور تحقیقات شروع کر دی تاہم چندر رام سے کوئی بھی قابل اعتراض شے برآمد نہیں ہوئی۔ پاکستانی حکام نے رام چندر کا طبی معائنہ کروایا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ ذہنی طور پر معذور ہے۔ پاکستانی حکام نے بھارتی حکام سے رابطہ کیا توانہوں نے تصدیق کی کہ رام چندر بھارتی شہری ہے اور غلطی سے سرحد عبور کرکے پاکستان چلا گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے آج شام تقریبا پونے چار بجے واہگہ بارڈر کے راستے چندر رام کو بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے حکام کے حوالے کردیا۔ واہگہ بارڈر پر چندر رام کو بغیر کسی دستاویز کے بھارت کے حوالے کیا گیا۔ بھارتی حکام نے چندر رام کو واپس کرنے پر پاکستانی حکام کا شکریہ ادا کیا۔