اسلام آباد :فلسطینی، پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں،وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی قوم کی ترجمانی کی :فلسطینی سفارتخانے کا وزیر اعظم سے اظہار تشکر،اطلاعات کے مطابق فلسطینی ریاست نے اسرائیل سے متعلق ‘سخت ردعمل’ دینے اور فلسطینی مقاصد کی حمایت کرنے پر وزیراعظم عمران سے تشکر کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں فلسطین کے سفارتخانے کی جانب سے جاری ایک بیان میں بھی فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ ‘فلسطینی پاکستان کو اپنا دوسرا گھر اور پاکستانیوں کا اپنا عزیز بھائی سمجھتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ دنیا کے ہر فورم پر فلسطین کی حمایت کی’۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین امن معاہدے پر کہا تھا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔
نجی چینل ‘دنیا نیوز’ کے پروگرام ‘دنیا کامران خان کے ساتھ’ میں اپنی حکومت کی 2 سالہ کارکردگی سے متعلق خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ‘قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ فلسطینیوں کو حق ملے گا تو اسرائیل کو تسلیم کریں گے’۔
"اسرائیل کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے۔ قائداعظم نے کہا تھا کہ جب تک فلسطینیوں کو اُنکے بنیادی حقوق اور علیحدہ ریاست نہیں ملتی، تب تک پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا۔"
عمران خان نے کہا تھا کہ اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کرلیں تو مقبوضہ کشمیر کو بھی چھوڑ دینا ہوگا کیونکہ دونوں کا معاملہ یکساں ہے۔متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے کے تناظر میں انہوں نے کہا تھا کہ ہر ریاست اپنی خارجہ پالیسی کی ذمہ دار ہے۔
اس حوالے سے آج جاری کردہ ایک بیان میں اسلام آباد میں قائم فلسطینی سفارتخانے کے حکام نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے ہمیشہ ان کے مقصد کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے بارے میں سوال کے جواب میں سفارتخانہ (وزیراعظم عمران خان) کے مؤقف کی دل سے داد دیتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ فلسطین کے ساتھ پاکستانیوں کی محبت کی وجہ سے ہی اسرائیلی اور پاکستانی تعلقات کبھی قائم نہیں ہوسکے۔بیان میں سفارتخانے نے وزیراعظم عمران خان کے سخت ردعمل دینے پر شکریہ ادا کیا اور ان تمام سیاسی جماعتوں، میڈیا اور سول سوسائٹی سمیت پاکستانیوں کی تعریف کی جو فلسطین کے ساتھ کسی بھی طرح سے اظہار یکجہتی کررہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ‘ہمیں اُمید ہے کہ جب تک یروشلم القدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم نہیں کیا جاتا پاکستان کی حمایت ہمارے ساتھ ہوگی’۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے معاون خصوصی عثمان ڈار اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں وزیراعظم کو کامیاب جوان پروگرام کے تازہ ترین اعداد و شمار پر بریفنگ دی گئی،پروگرام کے تحت نوجوانوان میں رقم کی تقسیم کا عمل تیز کرنے پر مشاورت کی گئی
وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ چند دنوں میں 30 ہزار سے زائد نوجوانوں نے رقم کے حصول کیلئے درخواستیں دیں، نوجوانوں کی سہولت کیلئے 21 بینک رقم کی تقسیم کا عمل مکمل کریں گے،اب تک 1 ارب روپے کی رقم نوجوانوں میں تقسیم کی جا چکی ہے, مزید 53 ارب روپے سے زائد رقم کے حصول کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں,
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ رقم کی تقسیم کا عمل مزید تیز اور شفاف انداز میں مکمل کیا جائے, کورونا کے ملکی معیشت پر منفی اثرات ختم کرنے کیلئے یہ پروگرام بہت ضروری ہے,معیشت اوپر اٹھانے کیلئے نوجوانوں کو اسٹیک ہولڈر بنانا ہو گا,نوجوانوں کو ہر وہ سہولت دیں گے جس وہ روزگار کے مواقع حاصل کریں, پروگرام کے دوران رقم کی تقسیم کے عمل پر مکمل نظر رکھیں,
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ شفافیت اور میرٹ پر کسی سطح پر بھی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئیے,کامیاب جوان پروگرام کی خود مانیٹرنگ کر رہا ہوں,وزیراعظم عمران خان نے پروگرام میں پیش رفت پر ماہانہ بریفنگ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم نے معاون خصوصی عثمان ڈار کو ہر ماہ بعد جائزہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی
عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ کامیاب جوان پروگرام سے 10 لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا, نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے پہلے کسی حکومت نے سنجیدہ کوشش نہیں کی,حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ کامیاب جوان پروگرام کا دائرہ کار پہلے سے وسیع کر دیا گیا ہے, نوجوانوں کیلئے آسان شرائط پر رقم کے حصول کا شاندار موقع ہے,
وزیراعظم عمران خان نے پروگرام میں اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر جاوید فیصل کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کا اجلاس ہوا
چیئرمین سینیٹ اورا سپیکر کی طرف سے حذف کیے جانے والے الفاظ کے معاملے پر بحث کی گئی،سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ حذف کیے گئے الفاظ کو نشر کرنے سےایوان کا استحقاق مجروع ہوتا ہے، سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ براہ راست تقاریر کے دوران الفاظ حذف کرنا نا ممکن ہے،
سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کےخلاف الفاظ چیئرمین سینیٹ نے حذف کیے،
دوسری جانب حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 21 اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا،وزارت پارلیمانی امور نے سمری صدر مملکت کو ارسال کر دی،20اگست کو نئے پارلیمانی سال کا آغاز ہو گا،صدر مملکت عارف علوی نئے پارلیمانی سال پر خطاب کریں گے
پی ٹی آئی حکومت قومی اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل ہو گیا,پارلیمانی سال کے130میں صرف اضافی 3د ن ہی کارروائی چل سکی،پارلیمانی سال کے 130دن کی کارروائی کورونا کے باعث متاثر ہوئی،حکومت کے دوسرے پارلیمانی سال میں 3 مشترکہ اجلاس بھی ہوئے
قومی اسمبلی میں 110 پرائیویٹ بلز،52 حکومتی بلز پیش ہوئے،کورونا کے 4 ماہ کے باوجود قومی اسمبلی نے 30 بلز منظور کئے، 19 بلزصدر مملکت کے دستخط کے بعد ایکٹ آف پارلیمنٹ بن سکے،وزیر اعظم پورے پارلیمانی سال میں صرف 7 مرتبہ ایوان میں آئے، شہبازشریف 3 مرتبہ جبکہ بلاول بھٹو 20 مرتبہ ایوان میں آئے
وزیر مملکت علی محمد اور وفاقی وزیر مراد سعید کی سب سے زیادہ حاضری رہی،اپوزیشن کی جانب سے سب سے زیادہ حاضری ایم ایم اے رکن مولانا عبدالکبر چترالی کی رہی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کیسز میں بتدریج کمی ہو رہی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے 11 اموات ہوئی ہیں جبکہ 613 نئے مریض سامنے آئے ہیں
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا کیسزکی تعداد 2 لاکھ 90 ہزار 445 تک پہنچ گئی ہے اورکرونا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد6ہزار201ہو گئی ہے۔
این سی او سی کے مطابق ملک میں کورونا کے ایکٹیو کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی ہو رہی ہے جو کہ اب 12 ہزار 116 ہے۔سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار 743 ہے۔ پنجاب میں 95 ہزار742، خیبرپختونخوا میں35 ہزار401، بلوچستان میں 12 ہزار370، اسلام آباد میں 15 ہزار412، آزاد کشمیر میں 2212 اور گلگت بلتستان میں 2565 افراد کرونا کے مریض ہیں
پنجاب میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہزار185، سندھ میں 2 ہزار331، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 239، اسلام آباد میں 175، بلوچستان میں 138، آزاد کشمیر میں 61 اور گلگت بلتستان میں 61 ہو چکی ہے۔این سی او سی کے مطابق گزشتہ24 گھنٹوں میں 22 ہزار 859 کوروناٹیسٹ کیے گئے اور تا حال ملک بھر میں اب تک 23 لاکھ 40 ہزار 72 ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔
این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کیسز کا گراف مسلسل نیچے آرہا ہے، لیکن کورونا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروری کو رجسٹرڈ ہوا اور ایک ہزاراموات 21 مئی تک ہوئیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کیسز میں اضافے کی رفتار کافی سست ہوچکی ہے لیکن پھر بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے اثرات تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور اگست کے پہلے دس روز میں صرف چھ ہزار کیسز رپورٹ ہوئے جو کہ ماضی کی نسبت سب سے کم ہیں۔
دوسری جانب پنجاب کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ نہیں ہوا۔کورونا وائرس کے کیسز میں واضح کمی کی وجہ سمارٹ لاک ڈاؤن، سمارٹ سمپلنگ اور بہترین حکومتی پالیسی ہے۔ دنیا میں کیسز بڑھ رہے ہیں جبکہ پاکستان میں حالات قابو میں ہیں۔ تاہم کورونا وائرس کی دوسری لہر سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اپنانا بہت ضروری ہے۔
اسلام آباد: اسرائیل کو ماننے کو میرا ضمیر کبھی نہیں مانے گا،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پاکستان نے کلیئر کر دیا تھا کہ جب تک فلسطینیوں کو حق نہیں ملتا، اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے ان خیالات کا اظہار دنیا نیوز کے پروگرام ‘’دنیا کامران خان کیساتھ’’ میں پہلے سیرحاصل ون آن ون میڈیا انٹرویو میں کیا۔
دوران انٹرویو انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی، پاک چین دوستی، اسرائیل، مسئلہ کشمیر، افغان امن عمل، معیشت، خطے کی صورتحال، ملکی مسائل اور سیاست سمیت مختلف ایشوز پر گفتگو کی۔
دوران انٹرویو وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کو ماننے کو میرا ضمیر کبھی نہیں مانے گا۔ اسرائیل کے بارے ہمارا موقف بڑا کلیئر ہے۔ پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتا۔ اگر ہم اسرائیل کوتسلیم کر لیں گے تو پھر کشمیر بھی چھوڑ دینا چاہیے۔ اسرائیل اور فلسطین بارے ہم نے اللہ کو بھی جواب دینا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج میرے ساتھ پاکستان کے مایہ ناز، تجزیہ کار، اینکر، رائیٹر ڈاکٹر معید پیر زادہ موجود ہیں، ان سے کئی سوال کرنے ہیں،
ڈاکٹر معید پیرزادہ سے سوال کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پانچ منٹ پہلے ایک ٹی وی نے خبر دی ہے کہ فارن منسٹر اور اعظم خان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی ہے، آپ اسلام آباد میں ہیں اس کی تصدیق کریں،جس پر ڈاکٹر معید پیر زادہ کا کہنا تھا کہ میں اس کو فالو نہیں کر سکا، کہ کیا ہوا ہے،مجھے اسکا کلیئر نہیں پتہ لیکن یہ ضرور ہے کہ اعظم خان اور پی ٹی آئی رہنماؤن میں ٹینشن رہتی ہے، جہانگیر ترین کے دور میں بھی ٹینشن تھی ، وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اعظم خان کے ساتھ کھچاؤ کی وجہ سے انکے ساتھ یہ سب کچھ ہوا، شاہ محمود قریشی کے ساتھ کیوں ہوا اسکا ابھی تک نہیں پتہ
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود اور جہانگیر ترین میں بڑے ڈفرنسز ہین جس طرح ایران اور سعودی عرب کے مابین ہیں، تو انکو اعظم خان کا بیسٹ فرینڈ ہونا چاہئے جس پر ڈاکٹر معید پیر زادہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ سے جو کمپلین پہنچی ہے کہ اعظم خان بہت زیادہ پاور چاہتے ہیں وہ وزیراعظم کے قریب ہیں اسلئے لوگ انکو ریئل پرائم منسٹر کہتے ہیں، وزیراعظم ان کی بات مانتے ہین اس لئے تناؤ ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جو مڈ ایسٹ میں تبدیلی نظر آ رہی ہے، فارن پالیسی کو ری وزٹ کیا جا رہا ہے، آنے والے دنوں میں اس کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں جس پر ڈاکٹر معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ مڈل ایسٹ میں مسلسل شفٹنگ ہو رہی ہے،جو پاور تھیں وہ عراق ،مصر تھیں،گزشتہ 30 برس میں جو تبدیلی آئی جیسے عراق، لیبیا،شام کمزور ہوئے،ایران ریزولیشن کے بعد شدید فاٹ لائن سے بچ گیا، نائن الیون کے بعد ان کنٹری میں شفٹ ہو گیا جن کو سعودی عرب نے لیڈ کیا، جو سٹیبل تھے، اب ان کنٹری میں بہت زیادہ مسئلہ ہے، سعودی عرب کی آبادی 35 ملین ہے، اسکا بجٹ مسلسل کم ہو رہا ہے، انکا گول تھا کہ 2020 تک جو آئل ریونیو کرنا تھا اس میں کامیابی نہیں ہوئی، محمد بن سلمان جس طرح پاور میں آئے انہوں نے 1930 جب سے سعودی عرب بنا تھا اسکے بیسک پرنسپل کو ڈسٹرب کر دیا، رولنگ لیڈ میں بھی ٹینشن ہے، محمد بن سلمان ویسٹ کو کوٹ کرنا چاہتے ہیں، فارن پالیسی میں تبدیلی پاکستان کی وجہ سے نہیں آ رہی، پاکستان نے اپنے کوئی کارڈ کھیلے کشمیر یا بھارت کے حوالہ سے ، ایسا نہیں، اسرائیلی لابی کو اپنے ڈومیسٹک مسائل میں وہ لانا چاہتے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل میں نے وی لاگ کیا جس میں میں نے بتایا کہ سب سے پہلا ملک جس نے اس نے تسلیم کیا وہ ترکی تھا،ایران نے بھی تسلیم کیا لیکن ایران ریزولیشن کے بعد بدل گیا، لیکن اردگان کے آنے کے بعد 2005 میں بھی ترکی کے اسرائیل سے اچھے تعلقات تھے، اردگان نے اسرایل کا دورہ کیا، 2011 میں انکے اختلافات پیدا ہوئے، لوگ بڑے سیخ پا ہو گئے ہیں،جس پر ڈاکٹر معید پیر زادہ کا کہنا تھا کہ ترکی بہت لبرل ،سیکولر تھا، انکی پوری پالیسی مشرق وسطیٰ اور مسلم ورلڈ کے حوالہ سے لاتعلقی کی تھی، وہ او آئی سی میں جاتے تھے،لیکن کبھی انہوں نے اموشنل پارٹی سپیٹ نہیں کیا،مشرق وسطیٰ اور مسلم ورلڈ کے حوالہ سے، 2002 میں اردگان نے جب وزیراعظم کی حیثت سے آئے تو انہوں نے ترکی کی سیاست کو تبدیل کرنا شروع کیا، آہستہ آہستہ انکی ٹرانسمیشن شروع ہوئی،اگلے دس بارہ برس میں جو صورتحال دیکھ رہے ہین، صوفیہ کی جو میوزیم سے مسجد میں بدلی گئی،ترکی کا ویسٹ سے ریلیشن شپ میں امریکہ، یورپ کے ساتھ تناؤ ہے، اسرائیل کے ساتھ بھی انکی فیلنگ بدلتی جا رہی ہے، اسرائیل بھی بیس برس پہلے بہت زیادہ سیکولر تھا،اسرائیل کے پہلے حکمران رائیٹ ونگ کے لوگ تھے، اسرائیل کی اپنی سیاسی اور ترکی کی شفٹ اسلامسٹ کی وجہ سے اب ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ نیتن یاہو لیڈر ہیں اسرائیل کے اندر ان کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں ان پر جو الزام میاں صاھب ہر لگتے تھے وہ لگ رہے ہیں، نیتن یاہو شاید زیادہ دیر تک نہ ٹھہر سکیں، جس پر ڈاکٹر معید پیر زادہ کا کہنا تھا کہ یو اے ای کے ساتھ اسرائیل کا معاہدہ اور ڈپلومیٹک انگیجمنٹ رہے گی، چند ہفتے پہلے یو اے ای کی ایمبسیڈر عتیبہ امریکہ نے اسرائیلی پبلک کو لکھا تھا،پاکستان میں وہ ڈسکس نہین ہوا لیکن مغربی دنیا میں بہت ڈسکس ہوا، یو اے ای ، اسرائیل تعلقات بڑھتے جائیں گے لیکن شاید اسرائیل کے فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات بہتر نہ ہو سکیں، یہ ممکن ہے کہ سعودی عرب،عمان ، یواے ای،یہ جو انگیج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں تو اسرائیل یہ بھی کرے،
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ پاک سعودی تعلقات کو کیسے دیکھتے ہیں جس پر ڈاکٹر معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ جو تبدیلی آ رہی ہے، پاکستان کی وجہ سے نہیں آ رہی ، یہ سعودی عرب اور جی سی سی کنٹریز کی وجہ سے آ رہی ہے، سعودی عرب کی یمن کے ساتھ جو جنگ ہے اس میں بہت سرمایہ ضائع ہو رہا ہے،انٹرنل سیکورٹی، آئل کی ریونیو بڑھ نہیں سکتیں، ان چیلجز کی وجہ سے اسرائیل کو انگیج کر رہے ہیں، پاکستان کو واچ کرنا پڑے گا کہ جی سی سی کنٹریز کا موڈ کیا ہے،جی سی سی ایک طرف بھارت کی طرف رہیں گی اسکی وجہ بھارت کی مارکیٹ بھی ہے اور ورک فورس بھی، یواے ای اور سعودی عرب میں بھارت کی ورک فورس بہت زیادہ ہے، پاکستان کو اب دیکھنا پڑے گا کہ کیا کرنا ہے،یہ بات اس طرح اب نہیں رہے گی، اس میں ٹینشن رہے گی،پاکستان کو بھی کچھ کرنا پڑے گا
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اب بڑے لوگ کہہ رہے ہیں کہ شاہ محمود قریشی کی وزارت بدل دی جائے گی،سعودیہ کے اوپر جو بات کی، اس میں کوئی صداقت ہے،جس پر ڈاکٹر معید پیر زادہ کا کہنا تھا کہ مشکل لگتا ہے،شاہ محمود شیری مزاری کے مقابلے میں مدھم شخصیت ہیں، قریشی کی پنجاب کی وجہ سے اہمیت ہے،شاہ محمود قریشی ان سیاستدانوں میں سے ہیں جن پر پرائم منسٹر تھوڑے تھوڑے خائف رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انکو پنجاب کا وزیراعلیٰ نہیں بنایا گیا.
بلاول کی چیخیں، جب ہماری سیاست ہی وصیت پر چل رہی ہو تو پیچھے کیا رہ گیا؟ مبشر لقمان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کراچی میں سب سے زیادہ ترقی جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوئی، ہر سال بلاول ہاؤس کی دیواریں تو اونچی ہو جاتی ہین لیکن کراچی کے عوام پر پیسہ خرچ نہیں ہوتا.
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ سندھ میں تمام جماعتیں اکٹھی ہو گئی ہیں،کمیٹی بنا دی گئی تھی اور آپ نے کہا تھا کہ اس میں اختلافات آجائیں گے، اب وزیراعلیٰ سندھ بول پڑے کہ وفاق کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہمارے جتنے لوگ ہیں وہ خود مختار نہیں ہیں ، ہر ایک کے پیچھے کسی کی تاریں لگی ہوئی ہیں،جب وہ بلاول ہاؤس گیا ہو گا تو انکو جھاڑیں پڑی ہوں گی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی والوں کو بھی جھاڑیں پڑی ہوں گی، اب عوام کو سوچنا چاہئے کہ اس طرح کی جمہوریت چاہئے، میں آج کھل کر بات کرتا ہوں ، ان سے اچھا تو جنرل مشرف تھا جس کے دور میں کراچی میں ترقی ہوئی، اس نے ہر ایک کے مسئلے کو اپنا مسئلہ بنایا ،ایک جگہ اکٹھے ہو کر کراچی شہر کے مسائل کے لئے بات نہین کر سکتے، طریقہ کار نہیں شیئر ہونا کیونکہ میری چودھراہٹ ختم ہو جائے گی،تو پھر میں کیسے پیسے کھاؤں گا، کیسے ڈنڈی ماروں گا، 130 بلین سالانہ جو ریونیو ٹیکسز کی مد میں سندھ اکٹھا کرتا ہے وہ لگاتا کہاں ہے؟ کیا صرف بلاول ہاؤس کی دیوار ہر سال اونچی ہونی ہے، اب عوام کو بھی سوچنا چاہئے کہ حقیقی لیڈر کون ہے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ بلاول نے کہا ہے کہ مجھے اور فیملی کو پریشرائز کیا جا رہا ہے،پورے خاندان کو بھی گرفتار کرتے ہیں تو کر لیں اٹھارہویں ترمیم پر آنچ نہیں آنے دیں گے، جس کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اصل میں اٹھارہویں ترمیم کی کئی شقیں ایسی ہیں کہ جس میں پاکستان کو بہت ڈیوائیڈ کر رہی ہیں، بہت نقصان پہنچا رہی ہے، صحت اور تعلیم صوبائی کر دیا ہے، بلوچستان کے پاس وسائل نہین کہ وہ پنجاب کی طرح خرچ کرے تعلیم صحت پر ،وفاق نے ہی دینا تھا لیکن اٹھارہویں ترمیم آڑے آ گئی، اب یہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت شیئر لیتے ہیں، جو پیسے انکو ریونیو بورڈ جمع کرتا ہے وہ وفاق کو دینے نہیں ہیں، قرضے وفاق لے گا، انکو پیسے دے گا لیکن انہوں نے صرف خرچ کرنے ہیں، کہاں کرنے ہیں سب کو پتہ ہے، کمائیاں انہوں نے کرنی ہیں،اور کس کے گھرؤں میں جائیں گی سب کو پتہ ہے، جب ہماری سیاستیں وصیت ناموں پر چل رہی ہوں تو پیچھے کیا رہ گیا، کمال ہے، دنیا مین ایسی کوئی مثال نہیں ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نواز شریف حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لئے مولانا کو مشورہ اور حمایت دینے کی بجائے خود پاکستان آئیں اور لیڈ کریں، لگتا ہے اب انکے پلیٹ لیٹس ٹھک ہو گئے ہیں
مبشرلقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ اپوزیشن کی بھی کل بات کی تھی،کہ پی پی نے ایک ری ایکشن دیا تھا ن لیگ کے لئے آج نواز شریف نے کہہ دیا ہے پارٹی کو کہ ساری جماعتوں کو اکٹھا کریں اب حکومت کو جارحانہ انداز میں نمٹنے کا وقت آ گیا ہے، مولانا کا ساتھ دیں گے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ میاں صاحب کے پلیٹ لٹس ٹھیک ہو گئے ہیں ، تو پاکستان آ جائیں ،اور یہاں آ کر لیڈ کریں پھر ہمیں پتہ چلے، وہاں پر تو وہ کھابے کھا رہے ہیں، انہی اپارٹمنٹ میں ٹھہرے ہوئے ہیں جن کے بارے میں سپریم کورٹ میں قسم کھا کر کہا تھا کہ مجھے نہیں پتہ یہ کس کے ہیں، اب تو انکو یہ بھی پتہ چل گیا ہو گا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سپریم کورٹ کو چاہئے کہ والیم ٹین بھی کھول دے جے آئی ٹی کا، کتنے پردے رکھ لئے ہم نے، عوام کا حق ہے کہ انکو پتہ چلے کہ کیا ساز باز اور کیسے ہو رہی تھی، اس کا مطلب کہ نواز شریف صحتیاب ہو گئے، مریم جلد جلسے شروع کر دے گی، وہ عوام سے ملاقاتیں کرے گی، اور محرم کے بعد اس چیز میں گرمی آئے گی، لیکن یہ ہے کہ ان کے سپورٹرز یہ بھی سوچ لیں کہ ہمارے میاں صاحب نے غلطی کی ہے اور ا ن سے سوال پوچھ لیں کہ اب ٹھیک ہیں،میاںنواز شریف آ نہیں سکتے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے سابق سفیر اپنے کالم میں یہ بھی بتائیں کہ پاکستان کی وجہ سے شاہی خاندان بچا ہوا ہے، یہ تو بھی بتائیں کہ پاکستان کی فوج نہ ہوتی تو محمد بن سلمان کب کا…اب میں کیا بتاؤں بڑا بول نہیں بولنا چاہئے،پاکستان ،سعودی عرب کا مسئلہ ایک ہے کہ یمن کے اوپر پاکستانی فوج نے حملہ کیوں نہیں کیا، اس بات کی سزا وہ وقتا فوقتا دیتے ہیں اور ہم نے نہین کرنا اسلامی ملک پر ، بالکل بھی،
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ سندھ میں تمام جماعتیں اکٹھی ہو گئی ہیں،کمیٹی بنا دی گئی تھی اور آپ نے کہا تھا کہ اس میں اختلافات آجائیں گے، اب وزیراعلیٰ سندھ بول پڑے کہ وفاق کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہمارے جتنے لوگ ہیں وہ خود مختار نہیں ہیں ، ہر ایک کے پیچھے کسی کی تاریں لگی ہوئی ہیں،جب وہ بلاول ہاؤس گیا ہو گا تو انکو جھاڑیں پڑی ہوں گی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی والوں کو بھی جھاڑیں پڑی ہوں گی، اب عوام کو سوچنا چاہئے کہ اس طرح کی جمہوریت چاہئے، میں آج کھل کر بات کرتا ہوں ، ان سے اچھا تو جنرل مشرف تھا جس کے دور میں کراچی میں ترقی ہوئی، اس نے ہر ایک کے مسئلے کو اپنا مسئلہ بنایا ،ایک جگہ اکٹھے ہو کر کراچی شہر کے مسائل کے لئے بات نہین کر سکتے، طریقہ کار نہیں شیئر ہونا کیونکہ میری چودھراہٹ ختم ہو جائے گی،تو پھر میں کیسے پیسے کھاؤں گا، کیسے ڈنڈی ماروں گا، 130 بلین سالانہ جو ریونیو ٹیکسز کی مد میں سندھ اکٹھا کرتا ہے وہ لگاتا کہاں ہے؟ کیا صرف بلاول ہاؤس کی دیوار ہر سال اونچی ہونی ہے، اب عوام کو بھی سوچنا چاہئے کہ حقیقی لیڈر کون ہے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ اپوزیشن کی بھی کل بات کی تھی،کہ پی پی نے ایک ری ایکشن دیا تھا ن لیگ کے لئے آج نواز شریف نے کہہ دیا ہے پارٹی کو کہ ساری جماعتوں کو اکٹھا کریں اب حکومت کو جارحانہ انداز میں نمٹنے کا وقت آ گیا ہے، مولانا کا ساتھ دیں گے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ میاں صاحب کے پلیٹ لٹس ٹھیک ہو گئے ہیں ، تو پاکستان آ جائیں ،اور یہاں آ کر لیڈ کریں پھر ہمیں پتہ چلے، وہاں پر تو وہ کھابے کھا رہے ہیں، انہی اپارٹمنٹ میں ٹھہرے ہوئے ہیں جن کے بارے میں سپریم کورٹ میں قسم کھا کر کہا تھا کہ مجھے نہیں پتہ یہ کس کے ہیں، اب تو انکو یہ بھی پتہ چل گیا ہو گا اور اس کے بعد سپریم کورٹ کو چاہئے کہ والیم ٹین بھی کھول دے جے آئی ٹی کا، کتنے پردے رکھ لئے ہم نے، عوام کا حق ہے کہ انکو پتہ چلے کہ کیا ساز باز اور کیسے ہو رہی تھی، اس کا مطلب کہ نواز شریف صحتیاب ہو گئے، مریم جلد جلسے شروع کر دے گی، وہ عوام سے ملاقاتیں کرے گی، اور محرم کے بعد اس چیز میں گرمی آئے گی، لیکن یہ ہے کہ ان کے سپورٹرز یہ بھی سوچ لیں کہ ہمارے میاں صاحب نے غلطی کی ہے اور ا ن سے سوال پوچھ لیں کہ اب ٹھیک ہیں،میاںنواز شریف آ نہیں سکتے.
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ بلاول نے کہا ہے کہ مجھے اور فیملی کو پریشرائز کیا جا رہا ہے،پورے خاندان کو بھی گرفتار کرتے ہیں تو کر لیں اٹھارہویں ترمیم پر آنچ نہیں آنے دیں گے، جس کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اصل میں اٹھارہویں ترمیم کی کئی شقیں ایسی ہیں کہ جس میں پاکستان کو بہت ڈیوائیڈ کر رہی ہیں، بہت نقصان پہنچا رہی ہے، صحت اور تعلیم صوبائی کر دیا ہے، بلوچستان کے پاس وسائل نہین کہ وہ پنجاب کی طرح خرچ کرے تعلیم صحت پر ،وفاق نے ہی دینا تھا لیکن اٹھارہویں ترمیم آڑے آ گئی، اب یہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت شیئر لیتے ہیں، جو پیسے انکو ریونیو بورڈ جمع کرتا ہے وہ وفاق کو دینے نہیں ہیں، قرضے وفاق لے گا، انکو پیسے دے گا لیکن انہوں نے صرف خرچ کرنے ہیں، کہاں کرنے ہیں سب کو پتہ ہے، کمائیاں انہوں نے کرنی ہیں،اور کس کے گھرؤں میں جائیں گی سب کو پتہ ہے، جب ہماری سیاستیں وصیت ناموں پر چل رہی ہوں تو پیچھے کیا رہ گیا، کمال ہے، دنیا مین ایسی کوئی مثال نہیں ہے،
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ مڈل ایسٹ میں نوکریوں سے لوگ فارغ ہو رہے ہین جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جو لوگ سالہا سال سے وہاں نوکریاں کر رہے ہیں اور جمع پونجی جمع کی ہوئی ہے، تو حکومت نے جو اقدام کیا ہے رئیل اسٹیٹ میں چھوٹ دینے کا تو ایک دم سے اوورسیز انویسمنٹ آنا شروع ہو گئی ہے، اب پاکستان کو کوشش کرنی چاہئے کہ یو اے ای ،سعودی، کویت سے بات کرے جہاں پاکستانی ملازمتیں کر رہے ہیں کہ انکی نوکریاں رہیں اور وہ کام کرتے رہیں، اوورسیز پاکستانیوں کی وجہ سے ہی ملک چلتا ہے، ہمیں اوورسیز پاکستانیز کو نہین چھوڑنا چاہئے، جو انویسمنٹ ہو رہی ہے وہ خوش آئند اور الارمنگ بھی ہے کہ اگلے سال کیا ہو گا
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ سعودی عرب کے سابق سفیر جو 2001 میں تھے انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے الزام لگایا ہے،یو این میں جو کشمیر پر بات ہوئی وہ سعودی عرب کی وجہ سے ہوئی، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کو پتہ ہے کہ مڈل ایسٹ میں لوگ شیشہ بہت پیتے ہیں ، پتہ نہیں وہ کس موومنٹ میں ہوںجب انہوں نے یہ بات کہہ دی،جو یواین میں تھا وہ صرف اور صرف عمران خان کی تقریرکی وجہ سے ہوا، عمران خان کی کئی چیزوں کو ہم جھٹلا سکتے ہیں، بزدار،اعظم خان، محمود خان کی تقرریوں کو جھٹلا سکتے ہیں لیکن عمران خان کی جو کریڈٹ ہے وہ کوئی نہین چھین سکتا، عمران خان نے کشمیر کو انٹرنیشنل ایشو بنایا، وہ سعودی عرب تھا جس نے ہزاروں لوگوں کو واشنگٹن ڈی سی میں جمع کیا تھا،سعودیہ نے تو سب اسرائیل کو دے دیا تھا جس کی وجہ سے سعودی کراؤن پرنس کا جہاز اسرائیل نے ہیک کر لیا تھا،اور وہ جہاز خدانخواستہ کریش ہو سکتا تھا،اور پھر کینیڈا کے اوپر سے واپس جانا پڑا، کس کا جہاز تھا وہ یہ تو نہیں انہوں نے آج تک بتایا کہ وہ کیسے ہیک ہوا اور کس نے کیا؟ میں اور آپ تو نہین کر سکتے، سیانی بلی کھمبا نوچ رہی ہے، قریشی نے ہر پاکستانی کے دل کی بات کی ہے سوائے احسن اقبال اور شہباز شریف کے،لیکن اکثریت اسے متفق ہیں کہ پراکسی وار ہمارے ملک میں نہیں ہونی چاہئے، فرقہ واریت کے نام پر بڑے قتل ہو چکے ہیں، سعودی عرب ابھی بھی،اب اوپر سے پڑ رہا ہے، جب آپ 9 سال یہاں ایمیسیڈر تھے اسوقت کیا کر لیا اب کالم لکھ رہے ہیں،یہ تو بھی بتائیں کہ پاکستان کی وجہ سے شاہی خاندان بچا ہوا ہے، یہ تو بھی بتائیں کہ پاکستان کی فوج نہ ہوتی تو محمد بن سلمان کب کا…اب میں کیا بتاؤں بڑا بول نہیں بولنا چاہئے،پاکستان ،سعودی عرب کا مسئلہ ایک ہے کہ یمن کے اوپر پاکستانی فوج نے حملہ کیوں نہیں کیا، اس بات کی سزا وہ وقتا فوقتا دیتے ہیں اور ہم نے نہین کرنا اسلامی ملک پر ، بالکل بھی،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کتنے اور کشمیری مریں گے، ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں، 20 ہزار سے زائد بچیوں کی عصمت دری ہو چکی ہے، نہ لوگ کام کر سکتے ہیں، نہ پیاروں کی تدفین کر سکتے ہیں، گھروں کے صحن میں امانتا دفنایا جا رہا ہے، نماز جنازہ، عید نہیں پڑھنے دیتے، کب بولیں گے جب یہ سب مر جائیں گے، ڈرامے کرتے رہتے ہیں،
اسلام آباد :پاکستان کی اشرافیہ نے حکومت گرانے کی کوشش کی،مسائل پیدا کئے گئے ، اللہ نے کامیابی سے نوازا،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ کو قانون کے داہرے کار میں لانے کے لیے اقدامات اٹھائے تو انہوں نے حکومت گرانے کی کوشش کی۔
نجی چینل دنیا نیوز کے پروگرام ‘دنیا کامران خان کے ساتھ’ میں اپنی حکومت کی 2 سالہ کارکردگی سے متعلق خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘جب حکومت سنبھالی تو ایک سمت میں توجہ دینا ناممکن تھا کیونکہ تمام ادارے بحران سے دوچار تھے’۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘پاکستان میں اشرافیہ طبقہ کے پاس تمام مراحات ہیں جبکہ وہ ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے، شوگر مافیا بنے ہوئے ہیں اور طبقات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے احساس پروگرام لے کر آئے تاکہ نیم متوسطہ طبقہ بھی ترقی کرسکے’۔انہوں نے کہا کہ ‘بالکل اسی طرح اسمال انڈسٹری متعدد چیلنجز سے دوچار ہیں جو دراصل ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں جبکہ بڑے صنعت کار اپنے اثرو رسوخ سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں’۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اشرافیہ طبقہ سمجھتا ہے کہ وہ قانون سے بالا تر ہے اور قانون کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا اس لیے اشرافیہ کو قانونی داہرے میں لانے کے لیے گزشتہ دو برس میں متعدد فیصلے کیے گئے جس کی وجہ سے بہت شور شرابا ہے۔
معیشت سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘میرے نزدیک تین بڑے چیلنجز ہیں جس میں پہلا 10 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جس کا براہ راست معیشت پر منفی اثر تھا۔انہوں نے کہا کہ ‘اس کے نتیجے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوتی ہے تو بجلی مہنگی ہوجاتی ہے، مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے تو غریب آدمی پستا ہے’۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘گزشتہ 2 برس کی مشقت کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ معیشت کے بعد پاکستان میں بڑا چیلنج توانائی کا ہے جس کی ایک بڑی وجہ سابق حکومت نے بجلی کے مہنگے معاہدے کیے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر قرضوں کی قسطیں نہ دینی پڑے تو اپنے اخراجات کو کنٹرول کرکے ملک کو بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں قرضوں کی قسطوں کے لیے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں۔
ملک میں توانائی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے مہنگے معاہدے کیے جس کی وجہ سے اب ملک میں بجلی مہنگی تیار ہورہی ہے جبکہ عوام کو ‘سستی’ بیچ رہے ہیں یعنی ریٹ میں خسارہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بجلی کی قیمت نہیں بڑھاتے تو گردشی قرضے بڑھ جاتے ہیں، بجلی مہنگی ہونے کا مطلب ہے کہ مقامی صنعت پر مزید دباؤ جو بھارت اور بنگلہ دیش کا صنعتی شعبہ میں مقابلہ ہی نہیں کرسکے گی اور اگر صنعت کو سبسڈی دیتے ہیں تو خسارہ بڑھ جاتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں مہنگی ترین بجلی بن رہی ہے اور یہ معاہدے سابقہ حکومتوں نے آئی پی پیز کے ساتھ کیے لیکن آئی پی پیز کے ساتھ حالیہ معاہدے پر ان شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آئی پی پیز چاہتے تو ہمارے ساتھ از سر نو معاہدے نہیں کرتے اور عالمی عدالت میں پہنچ جاتے ہیں جہاں پاکستان کو ناکامی ہوتی کیونکہ سابقہ حکومتوں نے ان سے معاہدے کیے
اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے آج کابینہ اجلاس میں کہا ہے کہ 24 سالہ جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی، معاشرے کے کمزور طبقہ کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے، جتنا بھی مشکل وقت آئے، عوام کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، عام آدمی کی زندگی بہتر بنانا جدو جہد کا اصل مقصد ہے۔
کابینہ اجلاس سے عمران خان کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مشکل وقت میں کامیابی حاصل کی، ہماری جدوجہد کا محور ہر کمزور پاکستانی ہے، کمزور طبقے کیلئے سوچنا اصل ایمان ہے، مدینہ کی فلاحی ریاست کے تصور کو عملی شکل دینا چاہتا ہوں، تعلیمی نصاب میں مدینہ کی فلاحی ریاست کا تصور شامل کریں گے، شفقت محمود سے کہا ہے نصاب میں ریاست مدینہ کا تصور شامل کریں، ابتدائی طور پر آٹھویں اور نویں جماعت کیلئے نصاب تیار ہوگا۔