Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا سعودی عرب کی سالمیت کے تحفظ کیلئے تعاون جاری رکھنے کا عزم

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا سعودی عرب کی سالمیت کے تحفظ کیلئے تعاون جاری رکھنے کا عزم

    اسلام آباد:وزیر خارجہ کا سعودی عرب کی سالمیت کے تحفظ کیلئے تعاون جاری رکھنے کا عزم‌ ‌،اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سالمیت کے تحفظ کیلئے تعاون جاری رکھے گا۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کورونا کی وبائی صورتحال سمیت دو طرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے اپنی اور وزیراعظم عمران خان کی طرف سے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت کے حوالے سے خیریت دریافت کی۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان کی سمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی کے سبب کورونا پھیلاؤ اور شرح اموات میں کمی ہوئی ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کی دفاعی تنصیبات پر حوثی ملیشیا کے میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انھیں یقین دیالا کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

    دونوں وزرائے خارجہ کے مابین رواں سال حج کی محدود ادائیگی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ محدود پیمانے پر حج کی ادائیگی کا فیصلہ عالمی وبائی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    دوران گفتگو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا جبکہ کورونا وبائی صورتحال سمیت اہم علاقائی اور دو طرفہ امور پر باہمی مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

  • پاک فوج نے پانڈو سیکٹرمیں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا، آئی ایس پی آر

    پاک فوج نے پانڈو سیکٹرمیں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا، آئی ایس پی آر

    راولپنڈی: پاک فوج نے پانڈو سیکٹرمیں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا،اطلاعات کےمطابق ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی ٹویٹ میں بتایا ہے کہ پاک فوج نے پانڈو سیکٹر میں بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا ہے۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے لکھا کہ بھار کا جاسوس کواڈ کاپٹر پاکستانی حدود میں 200 میٹر تک گھس آیا تھا۔ رواں سال گرایا جانے والا یہ 10واں بھارتی جاسوس ڈرون ہے۔

     

    خیال رہے کہ اس سے قبل 28 جون کو پاک فوج نے بھارت کا نواں بھارتی جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔ کواڈ کاپٹر ایل او سی کے تتہ پانی سیکٹر میں آٹھ سو پچاس میٹر پاکستانی حدود میں آ گیا تھا۔

    پانچ جون کو بھی پاک فوج نے ایل او سی کے خنجر سیکٹر میں بھارتی کواڈ کاپٹر کو مار گرایا تھا۔ یہ جاسوس کواڈ کاپٹر 500 میٹر تک پاکستانی حدود میں داخل ہوا تھا۔

    پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کے علاقے رکھ چکری سیکٹر میں انڈین ڈرون کو تباہ کیا تھا۔ یہ بھارتی کواڈ کاپٹر جاسوسی کے لیے پاکستانی حدود میں 650 میٹر تک گھس آیا تھا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال پاک فوج نے بھارت کے 3 ڈرون مار گرائے تھے، اس میں پہلا کواڈ کاپٹر سال کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کو باغ سیکٹر میں گرایا گیا تھا۔

    بعد ازاں ایک روز بعد ہی بھارت نے دوبارہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جسے پاک فوج نے ناکام بناتے ہوئے ستوال سیکٹر میں جاسوس ڈرون مار گرایا تھا۔

    علاوہ ازیں فروری میں پلوامہ واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ اور فضائی جھڑپ بھی ہوئی تھی جس کے کچھ روز بعد بھارت کا ایک جاسوس ڈرون پاکستانی حدود میں 150 میٹر گھس آیا تھا جسے ایل او سی کے رکھ چکری سیکٹر میں گرادیا گیا تھا۔

    چھ مارچ 2018ء کو ایل او سی کے مقام چری کوٹ سیکٹر میں پاک فوج نے بھارت کا جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا تھا۔

    اکتوبر 2017ء میں بھی پاک فوج نے ایل او سی کے قریب رکھ چکری سیکٹر میں جاسوسی کرنے والے بھارتی ڈرون کو مار گرایا تھا۔

    نومبر 2016ء میں بھارتی ڈرون کنٹرول لائن پر پاکستانی حدود میں 60 میٹر اندر آگیا تھا، جسے پاک فوج کی آگاہی پوسٹ نے نشانہ بنا کر گرادیا تھا۔

    اسی طرح 15 جولائی 2015ء کو پاک فوج نے بھارت کے جاسوس ڈرون طیارے کو لائن آف کنٹرول کے قریب بھمبر کے علاقے میں گرایا تھا، طیارہ فضا سے پاکستانی علاقوں کی فوٹو گرافی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

  • سعودی عرب: حج کے لیے عازمین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا :ہرقدم پر ایس اوپیزکا اہتمام کرنا ضروری قرار

    سعودی عرب: حج کے لیے عازمین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا :ہرقدم پر ایس اوپیزکا اہتمام کرنا ضروری قرار

    مکہ المکرمہ :سعودی عرب: حج کے لیے عازمین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا :ہرقدم پر ایس اوپیزکا اہتمام کرنا ضروری قرار،اطلاعات کےمطابق سعودی عرب میں رواں برس 29 جولائی سے شرو ع ہونے والے حج کے لیے عازمین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

     

     

    واضح رہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی وجہ سے حج کو ایک ہزار افراد تک محدود کردیا گیا تھا جبکہ ہر سال دنیا بھر سے تقریباً 25 لاکھ افراد حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں۔عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق تمام ایک ہزارعازمین سعودی عرب کے رہائشی ہوں گے جس میں 700 غیرملکی ہیں۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=-rXVX-RZbmE

    خیال رہے کہ حج حکام نے کہا تھا کہ حج کو صرف ایک ہزار افراد تک محدود رکھا جائے گا جو کہ سعودی عرب میں پہلے سے موجود ہیں اور ان میں 70 فیصد غیر ملکی جبکہ بقیہ سعودی شہری ہوں گے۔

     

     

    700 سے غیرملکی عازمین میں شامل بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی خدیجہ نے بتایا کہ ‘جب انہیں معلوم چلا کہ وہ رواں برس حج کے لیے نامزد ہوچکی ہیں تو خوشی کے مارے آنسو نہیں تھم رہے تھے’۔انہوں نے کہا کہ ‘مجھے امید نہیں تھی کہ میری عرضی قبول ہوگی کیونکہ اس سال کا حج ہر لحاظ سے ایک غیر معمولی ہوگا’۔

    سعودی عرب میں رہائش پذیر تیونس کی ڈاکٹر حفا یوسف ہمڈون نے بھی محدود عازمین کی وجہ سے ناامید تھیں۔انہوں نے کہا کہ جب مجھے اپنی درخواست کی تصدیق ملی تو میں خوشی سے نہال ہوگئی، مجھے یقین نہیں آرہا تھا’۔

     

    سوڈان سے تعلق رکھنے والے موڈیز محمد نے ان کی اور دیگر حجاج کرام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عبادات کو بحفاظت طریقے سے ادا کرسکیں گے۔متعلقہ وزارت کے عہدیداروں تمام عازمین کی آمد کے بعد انہیں مکہ مکرمہ میں رہائش گاہ پر لے گئے۔

    خیال رہے کہ 29 جولائی کو شروع ہونے والے حج سے قبل تمام عازمین مکہ مکرمہ میں رہائش پذیر رہیں گے۔

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی بڑھتی تعداد کے باعث سعودی عرب نے رواں برس حج کی ادائیگی کے لیے حجاج کرام کی تعداد کو محدود کیا گیا ہے اور اس حوالے سے متعدد قواعد و ضوابط جاری کیے ہیں جن کے مطابق نماز اور طواف کے دوران خانہ کعبہ کو چھونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

     

    اس اقدام کا مقصد حج کو محفوظ طریقے سے انجام دینے کے ساتھ ساتھ حجاج کرام کو بچانے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر کی پاسداری کرتے ہوئے اور صحت اور حفاظت کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے اسلام کی تعلیمات پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہے۔

    حج کے حوالے سے نئی ہدایات رہائشی عمارات، کھانے، بسوں اور حجام کی دکانوں، عرفہ اور مزدلفہ، جمرات اور مسجد الحرام میں عبادات سے متعلق ہیں۔

     

     

    رپورٹ کے مطابق حکام 19 جولائی 2020 یعنی 28 ذیقعد 1441 ہجری سے لے کر 2 اگست، 2020 یعنی 12 ذی الحج تک منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں اجازت نامے کے بغیر داخلے کی ممانعت ہوگی۔

    حج کے درمیان منتظمین کے لیے طواف کے دوران ہجوم میں کمی کے لیے عازمین حج کو تقسیم کرنا لازمی ہوگا جبکہ ہر شخص کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ ہوگا۔

     

    مسجد الحرام کے منتظمین اس امر کو لازمی یقینی بنائیں گے کہ زائرین، سعی کی ہر منزل پر موجود ہوں اور اس دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے ٹریک لائنز بنائی جائیں۔

    علاوہ ازیں مطاف اور صفا و مروہ کی جگہ کو حج زائرین کے ہر کاررواں کے طواف اور سعی کے بعد سینیٹائز کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔رواں برس خانہ کعبہ اور حجر اسود کو چھونا منع ہوگا اور ان مقامات تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں لگائی جائیں گی۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=QiyJa7kEZfM

    ساتھ ہی مسجد الحرام سے قالین ہٹادیے جائیں گے جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات میں کمی کے لیے ہر حاجی کو اپنی جائے نماز استعمال کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔مسجد الحرام میں کھانے کی اشیا لانے پر پابندی ہوگی اور مسجد کے صحن میں بھی کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    حجاج کرام کے داخلے اور باہر نکلنے کو آسان بنانے، ہجوم اور بھگدڑ سے بچاؤ کے لیے مخصوص داخلی اور خارجی مقامات مختص کیے جائیں گے۔

     

    ہر حاجی کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ
    عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق حج کے درمیان منتظمین کے لیے طواف کے دوران ہجوم میں کمی کے لیے عازمین حج کو تقسیم کرنا لازمی ہوگا جبکہ ہر شخص کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ ہوگا۔

    مسجد الحرام کے منتظمین اس امر کو لازمی یقینی بنائیں گے کہ زائرین، سعی کی ہر منزل پر موجود ہوں اور اس دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے ٹریک لائنز بنائی جائیں۔

    علاوہ ازیں مطاف اور صفا و مروہ کی جگہ کو حج زائرین کے ہر کاررواں کے طواف اور سعی کے بعد سینیٹائز کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

     

    https://www.youtube.com/watch?v=2DsqBnHj7eM

    رواں برس خانہ کعبہ اور حجر اسود کو چھونا منع ہوگا اور ان مقامات تک پہنچنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں لگائی جائیں گی۔

    ساتھ ہی مسجد الحرام سے قالین ہٹادیے جائیں گے جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات میں کمی کے لیے ہر حاجی کو اپنی جائے نماز استعمال کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔

    مسجد الحرام میں کھانے کی اشیا لانے پر پابندی ہوگی اور مسجد کے صحن میں بھی کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    حجاج کرام کے داخلے اور باہر نکلنے کو آسان بنانے، ہجوم اور بھگدڑ سے بچاؤ کے لیے مخصوص داخلی اور خارجی مقامات مختص کیے جائیں گے۔

    بیگیج کلیم ایریا، ریسٹورنٹس اور بس اسٹاپس پر ڈیڑھ میٹر کے فاصلے سے سماجی فاصلے کے لیے نشانات لگائے جائیں گے۔

    مزدلفہ اور عرفات
    حج کے دوران تمام اہلکاروں، گائیڈز، حجاج کرام اور ورکرز کا درجہ حرارت لازمی جانچا جائے گا جبکہ ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

     

    مزدلفہ اور عرفات میں عازمین کو ہر وقت سماجی فاصلے پر لازمی عمل کرنا ہوگا، ماسکس پہننے ہوں گے اور منتظمین کے لیے 50 مربع گز کے خیمے میں 10 سے زائد عازمین حج موجود نہ ہوں اور ہر ایک کے درمیان ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ یقینی ہو۔

    عازمین کے لیے متعلقہ راستوں پر عمل لازمی ہوگا جبکہ منتظمین کو تمام عازمین کی جانب سے سماجی فاصلے کے قواعد پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔

    مزدلفہ اور عرفات میں قیام کے دوران تیار شدہ کھانے کی فراہمی کو محدود کیا جائے گا اور عازمین کے درمیان سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

    رمی جمرات کیلئے سینیٹائزڈ کنکریاں
    خیال رہے کہ حجاج کرام 10، 11، 12 اور 13 ذی الحج کو منیٰ میں رمی جمرات کرتے ہیں اور اس مرتبہ عازمین کو سینیٹائزڈ کنکریاں فراہم کی جائیں گی جو تھیلیوں میں بند ہوں گی۔

    اس دوران 50 افراد پر مشتمل ایک گروہ کو رمی کی اجازت دی جائے گی اور عازمین کے درمیان ڈیڑھ سے دو میٹر تک کا فاصلہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔

    اس کے ساتھ ہی دیگر ہدایات میں رمی کے دوران تمام عازمین اور ورکرز کو فیس ماسک اور سینیٹائزر کی فراہمی شامل ہے۔

    رہائشی عمارات
    گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق رواں برس حج سیزن سے متعلق رہائشی عمارتوں کے حوالے سے بھی ہدایات شامل ہیں، خاص طور پر استقبالیے پر کام کرتے وقت اور مہمان خانے میں داخل ہونے سے پہلے عملے کا ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

    اس کے ساتھ ہی مہمانوں کو اپنے کمرے سے باہر رہنے کے اوقات کے دوران ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

    دیگر ہدایات میں سطحوں کی باقاعدہ اور شیڈول کے مطابق صفائی، زیادہ رابطے کے مقامات پر توجہ خاص طور پر دن کے دوران، جیسا کہ استقبالیہ اور انتظار گاہوں، دروازوں کے ہینڈلر، کھانے کی میز، سیٹ ریسٹس اور لفٹس کی صفائی یقینی بنانا شامل ہیں۔

    کھانے سے متعلق ہدایات
    کھانے کی جگہوں سے متعلق جاری کردہ ہدایات اور قواعد و ضوابط میں پینے کا پانی اور آب زم زم کو انفرادی یا ایک مرتبہ استعمال ہونے والے برتنوں میں پینا شامل ہے۔

    اس کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ کے مقدس مقامات سے تمام فریج ہٹادیے یا بند کردیے جائیں گے اور کھانے کو عازمین کو انفرادی طور پر تیار شدہ اور پیک خوراک تک محدود کیا جائے گا۔

    ورکرز کے لیے باقاعدگی سے اور بار بار کم از کم 40 سیکنڈز تک ہاتھ دھونا اور صابن اور پانی نہ ہونے کی صورت میں 20 سیکنڈز تک سینیٹائزر استعمال کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ گروہوں کے درمیان براہ راست رابطے میں کمی کے لیے ورکنگ گروپس میں ملازمین شفٹس میں کام کریں گے۔

    ٹرانسپورٹ
    حج کے دوران ہر گروہ کے لیے بس مختص ہوگی اور ہر حاجی کے لیے ایک نشست نمبر مقرر کیا جائے، کسی حاجی کو بس میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور خاندانوں کو ایک ساتھ بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔

    دیگر قواعد و ضوابط میں بسوں میں سوار ہونے اور اترنے کے لیے مختلف دروازے مختص کرنا، ان لوگوں کے علاوہ جنہیں جسمانی مشکلات کے باعث مدد کی ضرورت ہوگا۔

    علاوہ ازیں اگر کسی مسافر میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو تو مکمل ڈس انفیکشن سے قبل بس نہیں چلائی جائے گی۔

    ہر مسافر کیبن میں ہینڈ سینیٹائزر اور سینیٹری پیپرز فراہم کیے جائیں گے، ہر کمپارٹمنٹ میں کم از کم 3 ڈس انفیکٹنٹس تقسیم اور نصب کیے جائیں گے۔

    ہدایات کے مطابق بس میں مسافروں کی تعداد مجموعی صلاحیت کے 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی، مجوزہ پالیسی کے ذریعے سماجی فاصلے کو برقرار رکھا جائے اور ہر مسافر کے درمیان کم از کم ایک نشست خالی چھوڑی جائے گی۔

    جن عازمین کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہونے پر انہیں مکمل طبی معائنے کے بعد حج کی اجازت دی جائے گی اور انہیں مشتبہ کیسز کے مخصوص گروہوں میں شامل کیا جائے گا، ان کی حالت کو دیکھ کر متعلقہ رہائش گاہ اور الگ ٹریکس کی بسیں مختص کی جائیں گی۔

    علاوہ ازیں وقایہ کے قواعد و ضوابط میں ہدایت کی گئی ہے کہ وائرس کی علامات (بخار، کھانسی، زکام، گلے میں سوزش اور چکھنے اور سونگھنے کی حس اچانک ختم ہونے) کی صورت میں کسی اہلکار کو علامات ختم ہونے کے بعد ڈاکٹر کی جانب سے صحت مند قرار دینے تک کام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ہدایات کے مطابق اے ٹی ایمز، ٹچ-اسکرین گائیڈز اور وینڈنگ مشینز کے برابر میں سینیٹائزرز لازمی رکھے جائیں گے جبکہ کورونا وائرس کی ممکنہ منتقلی میں کمی کے لیے تمام مطبوعہ میگزین اور اخبارات ہٹادیے جائیں گے۔

  • وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابط

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابط

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابطہ. دونوں راہنماوں میں کرونا وبائی صورتحال سمیت دو طرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال۔ وزیر خارجہ نے اپنی اور وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت کے حوالے سے خیریت دریافت کی۔ سعودی وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز پتے کی کامیاب سرجری کے بعد تیزی سے رو بصحت ہو رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے ان کی جلد صحت یابی اور درازی ء عمر کیلئے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب کو پاکستان کی جانب سے کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن سمیت اٹھائے گئے موثر اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی کے سبب نہ صرف کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح کم ہوئی بلکہ شرح اموات میں بھی کافی حد تک کمی واقع ہوئی۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب میں بھی کرونا وبائی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں سعودی عرب کی دفاعی تنصیبات پر حوثی ملیشیا کی طرف سے کیے گئے میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیااور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین امسال حج کی محدود ادائیگی کے حوالے سے بھی تبادلہ ء خیال کیا گیا۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ امسال محدود پیمانے پر حج کی ادائیگی کا فیصلہ کرونا عالمی وبائی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے حوالے سے بھی تبادلہ ء خیال ہوا۔

  • مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا اُسے دل کی آنکھ سے دیکھے۔صدر آزاد جموں وکشمیر

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا اُسے دل کی آنکھ سے دیکھے۔صدر آزاد جموں وکشمیر

    آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا اُسے دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرے کیونکہ وہاں رونما ہونے والے واقعات دلخراش ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تذلیل بھی ہیں۔ مقبوضہ ریاست میں بھارت کے اقدامات انسانی اقدار، تہذیب، بین الاقوامی انسانی قوانین اور ورلڈ آرڈر کو پاؤں کے نیچے روندنے کے مترادف ہیں جنہیں اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری خاموشی سے دیکھ رہی ہے اور اس کی یہ خاموشی بھارت کو انسانیت کے خلاف مزید جرائم کے ارتکاب کا حوصلہ دے رہی ہے۔ بین الاقوامی تنظیم جسٹس فار آل کے زیر اہتمام ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے مقبوضہ کشمیر کا پورا علاقہ ایک کھلا جیل اور پوری آبادی قیدی بنی ہوئی ہے لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان سمیت وہ مغربی اقوام جو انسانی قانون اور انسانی حقوق کی محافظ کہلاتی ہیں پُر اسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ویبی نار سے امریکہ میں مقیم ممتاز سکالر ڈاکٹر عبدالمالک مجاہد، مقبوضہ کشمیر سے ڈاکٹر مرزا صاحب بیگ، برطانیہ سے مزمل ایوب ٹھوکر، شائستہ صفی، مقبوضہ کشمیر سے شاہانہ بٹ، امریکہ سے سردار ذوالفقار خان، ڈاکٹر اطہر ضیا، پاکستان سے سید فیض نقشبندی، احمد بن قاسم، امریکہ سے امام عبدالجبار، حنا زبیری، محمد عاطف عباسی اور بابر ڈار نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد انسانیت، انسانی وقار اور آفاقی انسانی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ہے اور کشمیریوں کو اگر اس جدوجہد میں ناکامی ہوئی تو یہ پوری انسانیت کی ناکامی ہوی گی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے اکتوبر 1947ء میں کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں قتل وغارت گری کا جو سلسلہ شروع کیا وہ 73سال گزر جانے کے بعد آج بھی جاری ہے اور ان سات دہائیوں میں بھارت نے آزادی، حق خود ارادیت اور انسانی حقوق مانگنے والے پانچ لاکھ انسانوں کو قتل کر دیا اور آج بھی مقبوضہ کشمیر کے ہر شہر، قصبہ اور گاؤں میں بھارتی فوج محاصرے اور تلاشی کے نام پر نوجوانوں کو چُن چُن کر قتل کر رہی ہے تاکہ آزادی، حق خودارادیت اور انسانی حقوق کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کر دیا جائے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر پر چڑھائی کر کے ریاست پر دوبارہ قبضہ کیا، اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ان دو حصوں کو دہلی کے ماتحت کر کے یہ پیغام دیا کہ ریاست کے نظم ونسق اور اس کے مستقبل کو طے کرنے میں وہاں کے عوام کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس سال اپریل میں کرونا وائرس کی وبا کے دوران رات کی تاریکی میں بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کروا کر کشمیریوں کے روزگار، ملازمتوں، کاروبار کے حقوق چھین لئے اور اُن کی زمین پر بھارتی شہریوں کو بسانے کا ایک گھناؤنا منصوبہ شروع کیا تاکہ کشمیریوں کو اُن کی اپنی سرزمین میں بے زمین کر دیا جائے اور اُن کو اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے۔ بھارت کے مقبوضہ ریاست کے اندر یہ تمام اقدامات نہ صرف بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتے ہیں جن سے سلامتی کونسل کے ارکان کا نظریں چرانا، اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے کے مترادف ہے۔ صدر آزادکشمیر نے ویبی نار کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ پانچ اگست کے بعد بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کے لئے پیدا ہونے والے نئے مواقع سے استفادہ کریں اور دنیا بھر میں پھیلی ہوئی دس ملین کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے اثر ورسوخ سے فائدہ اٹھا کر مختلف ممالک کی پارلیمان کے ارکان، اعلیٰ حکومت عہدیداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی تک رسائی حاصل کر کے کشمیریوں کی آواز اُن تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ بظاہر کشمیر کی صورتحال سے لا تعلق نظر آتی ہے لیکن ہمیں اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ہر فورم کے دروازے پر دستک دینے کا سلسلہ جاری رکھنا ہو گا اور اس بات کا اہتمام بھی کرنا ہو گا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں کشمیر کے حوالے سے جاری انفرادی کوششوں کو کسی اجتماعی فورم کے تابع کیا جائے تاکہ ان کوششوں کے مثبت اثرات مرتب ہو سکیں۔

  • 5 اگست کو پوری قوم بھارت کے غاصبانہ اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منائے گی۔وزیراعظم آزادکشمیر

    5 اگست کو پوری قوم بھارت کے غاصبانہ اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منائے گی۔وزیراعظم آزادکشمیر

    وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدرنے کہا ہے کہ 5 اگست کو پوری قوم بھارت کے غاصبانہ اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منائے گی ۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام اکیلے نہیں ہیں ہم ان کی پشت پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ5 اگست کو سینیٹ کا خصوصی اجلاس مظفرآباد میں ہو گا۔ مظفرآباد میں سینٹ کا خصوصی اجلاس تحریک آزادی کشمیر کے تناظر میں سنگ میل ثابت ہو گا ،راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ بین الاقوامی صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہ دینا بھارتی حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ بھارت نے ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو خصوصی حراستی مراکز میں بند کر رکھا ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر ایک انسانی جیل بن چکا ہے ،راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنی مرضی کے مطابق مستقبل کے فیصلے کا حق دیا جائے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے جنوبی ایشیاء میں پائدار امن قائم ہو گا ،راجہ فاروق حیدرنے مطالبہ کیا کہ یورپی ممالک مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کا نوٹس لیں۔

  • عمران خان کا حسینہ واجد کوفون کامیاب سفارتکاری ،’بنگلہ دیش کا جھکاؤ پاکستان اور چین کی جانب بڑھنے لگا’عالمی میڈیا

    عمران خان کا حسینہ واجد کوفون کامیاب سفارتکاری ،’بنگلہ دیش کا جھکاؤ پاکستان اور چین کی جانب بڑھنے لگا’عالمی میڈیا

    نئی دہلی:عمران خان کا حسینہ واجد کوفون کامیاب سفارتکاری ،’بنگلہ دیش کا جھکاؤ پاکستان اور چین کی جانب بڑھنے لگا’عالمی میڈیا ،اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کے ایک معروف اخبار کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے بھارتی ہائی کمشنر کی متعدد درخواستوں کے باوجود گزشتہ 4 ماہ سے ان سے ملاقات نہیں کی جو نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے اور قریبی تعلقات پاکستان اور چین کی جانب منتقل ہونے کا اشارہ دیتے ہیں۔

    بھارتی اخبار دی ہندو نے ہفتے کے روز بنگلہ دیش کے ایک معروف اخبار بھوریر کاگوج کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2019 میں وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد تمام بھارتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں جبکہ چینی انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں کو ڈھاکا کی جانب سے زیادہ حمایت مل رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اخبار کے ایڈیٹر شرمل دتہ نے ایک مضمون میں کہا کہ ‘بھارت کی تشویش کے باوجود بنگلہ دیش نے سلہٹ میں ایئرپورٹ ٹرمینل بنانے کا ٹھیکہ ایک چینی کمپنی کو دیا، بھارتی ہائی کمشنر ریوا گنگولی داس چار ماہ سے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے لیے کوشش کررہے ہیں لیکن انہیں ملاقات کا وقت نہیں مل سکا، بنگلہ دیش نے کورونا وائرس کے لیے بھارتی امداد کے جواب میں بھارت کو سراہنے کا نوٹ بھی نہیں ارسال کیا’۔

    دی ہندو کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس سے ڈھاکہ کا حالیہ جھکاؤ پاکستان اور چین کی جانب مڑتا نظر آرہا ہے اور اسی طرح کا اقدام ایران میں حال ہی میں نظر آیا تھا جس نے چاہ بہار بندرگاہ ریلوے منصوبے پر بھارت کے بغیر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا جس پر دونوں ممالک نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

    بھوریر کاگوج کی رپورٹ میں بدھ کے روز وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپنی بنگلہ دیشی ہم منصب کو کی جانے والی ایک غیر معمولی فون کال کا بھی ذکر کیا گیا۔

    بنگلہ دیشی اخبار کا کہنا تھا کہ بیجنگ اربن تعمیراتی گروپ (بی یو سی جی) کو سلہٹ کے ایم اے جی عثمانیہ ایئرپورٹ میں ایک نئے ٹرمینل کی تعمیر کا کنٹریکٹ ملا ہے جو بھارت کے شمال مشرقی خطے سے ملتا ہے اور اسی وجہ سے اسے نئی دہلی کے لیے حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

    بنگلہ دیشی ہائی کمیشن کے ایک سفارتی ذرائع نے دی ہندو اخبار کو تصدیق کی کہ بھارتی سفیر نے شیخ حسینہ سے ملاقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن ایسا ہوا نہیں تاہم نہ ہی ڈھاکہ میں بھارت کے ہائی کمیشن اور نہ ہی بھارتی وزارت خارجہ نے اخبار کے سوالات کا جواب دیا۔

    بھارتی مشن کے ایک سفارتکار نے بتایا کہ ہائی کمشنر گنگولی داس دورے پر ڈھاکہ سے باہر گئے ہیں۔

    دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کے بارے میں تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے جب شیخ حسینہ واجد اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان بدھ کے روز ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا۔

    اگرچہ ڈھاکہ نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات دینے سے انکار کردیا تھا لیکن پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی نے بتایا کہ عمران خان نے شیخ حسینہ کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا اور تنازع کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔

    دی ہندو نے کہا کہ جمعرات کے روز بھارت نے بنگلہ دیش کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ ڈھاکہ کشمیر کو بھارت کا داخلی معاملہ سمجھتا ہے۔

    دوسری طرف امریکی میڈیا بھی عمران خان کے حسینہ واجد کوفون کوبڑا اہم قراردے رہا ہے ، اکثرکا تویہ کہنا ہے کہ عمران خان کا حیسنہ واجد کوفون کرکے دورہ پاکستان کی دعوت دینا پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بدلاو ہے اوراب پاکستان بھارت کے ہمسائیہ ممالک میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں کامیاب نظرآتاہے

  • مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ فرقہ واریت کی حد تک جا پہنچا ہے۔ معید یوسف

    مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ فرقہ واریت کی حد تک جا پہنچا ہے۔ معید یوسف

    معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے محاصرے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ فرقہ واریت کی حد تک جا پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک عروج پر ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم بڑھانے کے لئے کورونا وائرس کو بہانہ بنا رہا ہے۔ عالمی حقوق اور امدادی گروپوں کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی حاصل کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان کے اعدادو شمار ظاہر کررہے ہیں کہ کورونا وائرس کم ہورہا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کم ہورہا ہے۔

  • کورونا وائرس سے مزید 35 افراد جاں بحق ہو گئے، ایک ہزار 226 نئے کیسز رپورٹ

    کورونا وائرس سے مزید 35 افراد جاں بحق ہو گئے، ایک ہزار 226 نئے کیسز رپورٹ

    کورونا وائرس سے مزید 35 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک ہزار 226 نئے کیسز رپورٹ

    باغی ٹی وی :پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 35 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک ہزار 226 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 5 ہزار 822 ہو گئی ہے اور 2 لاکھ 73 ہزار 113 افراد متاثر ہیں جبکہ ملک بھر میں کورونا کے دو لاکھ 37 ہزار 434 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

    پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا کے ایکٹیو کیسز کی تعداد 29 ہزار 875 ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 23 ہزار 254 ٹیسٹ کیے گئے۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر کورونا کے 18 لاکھ 68 ہزار 180 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ملک بھر میں کورونا کے ایکٹیو کیسز کی تعداد 29 ہزار504 ہو گئی ہے۔

    سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 16 ہزار 800 ہوگئی۔ خیبرپختونخوا میں کورونا مریضوں کی تعداد 33,071 ہو گئی ہے۔ بلوچستان 11,550، اسلام آباد 14,821، آزاد جموں و کشمیر 2,012، گلگت بلتستان 1,942 اور پنجاب میں 91,691 کورونا مریض ہیں۔
    پنجاب میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہزار 113، سندھ میں دو ہزار 110، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 170، اسلام آباد میں 162، بلوچستان میں 136، آزاد کشمیر میں 49 اور گلگت بلتستان میں 47 ہو چکی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق ‏ملک بھر کےاسپتالوں میں 238 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں جبکہ اسپتالوں میں کورونا وینٹی لیٹرز کی تعداد ایک ہزار859 ہے۔

    ملک میں کورونا ٹیسٹنگ صلاحیت یومیہ 60 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ اور 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں۔ 30 شہروں میں ٹریس، ٹیسٹ اورقرنطینہ حکمت عملی موثر طریقے سے کام رہی ہے۔

  • بھارت میں موجود دہشتگرد عناصر سے پڑوسی ممالک کو خطرہ ہے: اقوام متحدہ

    بھارت میں موجود دہشتگرد عناصر سے پڑوسی ممالک کو خطرہ ہے: اقوام متحدہ

    اسلام آباد: بھارت میں موجود دہشتگرد عناصر سے پڑوسی ممالک کو خطرہ ہے: اطلاعات کےمطابق اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں افغانستان سے دہشتگردی ہوتی ہے جبکہ بھارت میں موجود دہشتگرد عناصر سے پڑوسی ممالک کو خطرہ ہے۔

    اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت افغانستان میں رہ کر پاکستان میں دہشتگرد کاروائیاں کرواتے ہیں۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نور ولی محسود، قاری امجد اور تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی پاکستان میں کئی دہشتگرد واقعات کی ذمہ داری قبول کر چکے، افغانستان میں داعش کی موجودگی خطے کے لئے خطرہ کا باعث بن سکتی ہے۔

    رپورٹ میں بھارت میں موجود دہشت گرد عناصر پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہندوستان میں موجود دہشتگرد عناصر سے پڑوسی ممالک کو خطرہ ہے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت پر دہشتگرد عناصر کے خلاف ایکشن لینے کے لیے عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے۔