لاہور:آہ ! مسلم دنیا عرب اورعجم میں تقسیم :امت مسلمہ پرکڑا وقت آگیا ہے،اطلاعات کےمطابق پاکستان کےمعروف صحافی اورسنیئرتجزیہ نگارمبشرلقمان نےامت مسلمہ کی تقسیم پرگہرے دکھ اوررنج کا اظہارکیا ہے،مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ہمیں تو یہ حکم تھا کہ عربوں اورعجموں کی تقسیم سے دور رہنا ہے مگروہی کردیا گیا جس کا خدشہ ظاہرکیا گیا تھا
باغی ٹی وی کے مطابق معروف صحافی جب بھی کوئی اہم ایشو پیش آتا ہے تو وہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پرآکراپنا نقطہ نظرپیش کرتے ہیں
The fast changing scenario of the #region may propel #PakIranGas pipeline to commence very soon. #Muslim World is further pushed in a divide between #Arabs and #Ajamis.
ذرائع کے مطابق عرب امارات اوراسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات پر انہوں نے بڑا محتاط رویہ اختیارکرتے ہوئے کہا ہے کہ عرب امارات اوراسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کے بعد دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا ہے ،
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس عمل نے عالم اسلام کو تقسیم کردیا ہے ،
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عرب امارات اوراسرائیل کے درمیان تعلقات کے قائم کرنے کے بعد وہ مشہورگیس پائپ لائن منصوبہ جوپاکستان اورایران کے درمیان معطل ہوگیا تھا اب یہ مکمل ہوتا ہوا نظر آتا ہے
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ اس ڈیل کے بعد امت مسلمہ تقسیم ہوتے ہوئے دکھائی دیتی ہے اوریہ نقصان کوئی معمولی نقصان نہیں بلکہ اس سے مستقبل قریب میں بہت سی تبدیلیاں متوقع ہیں جو کہ امت مسلمہ کو مزید مشکلات سے دوچارکرسکتی ہیں
نئی دہلی :بھارت کا یوم آزادی کشمیرمیں یوم سیاہ بن گیا،کشمیربنے گا پاکستان وادی کشمیرنعروں سے گونج اٹھی،اطلاعات کے مطابق بھارت کے یوم آزادی کے موقع کشمیر میں آج عام ہڑتال ہے اور خطے کے باشندے اسے یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔
بھارت کے یوم آزادی پر اس ملک کے زیر انتظام کشمیر میں آج کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر یوم سیاہ منایا جا رہا ہے اور مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے اور تمام کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں۔
اس موقع پر سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے فورسز کے اضافی دستے تعینات کئے گئے ہیں۔نئی دہلی سے ذرائع کے مطابق بھارت کو اس وقت سخت ندامت کا سامنا کرنا پڑا جب آج صبح سے ہی وادی میں جگہ جگہ کشمیربنے گا پاکستان کے نعرے گونج رہےہیں
دوسری جانب حریت رہنما یاسمین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا حق نہیں مل جاتا جدوجہد جاری رہے گی ۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بلیو اکانومی پالیسی بنانے پر وزارت بحری امور کو مبارک باد دی ہے
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بلیو اکانومی پالیسی شپنگ کے شعبے کو بحال کرے گی،بلیو اکانومی پالیسی سے زر مبادلہ کے ذخائرہ میں اضافہ ہوا گا،بلیو اکانومی پالیسی سے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بحری شعبے میں پاکستان کی استعداد کو پورا کیا جائےگا،
ماہ جولائی میں ایک اجلاس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے 2020 کو بلیو اکانومی کا سال قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بلیو اکانومی کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت ہے،ماضی میں اس شعبے کو نظرانداز کیا گیا۔بلیو اکانومی سے سرمایہ کاری روزگار،سیاحت،قابل تجدید توانائی کے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ شپنگ پالیسی 2019 کی بدولت سرمایہ کاروں کو آسانی ہو گی۔وزیراعظم نےگوادر بندرگاہ سے جڑے مستقبل کے منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گوادر بندرگاہ مستقبل میں ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہوگی۔
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے آفیشیل یوٹیوب چینل پر ایک پروگرام مین کہا تھا کہ دنیا جہاں اپنے آپ کو منوانے کے لئے معاشی طور پر مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہے وہیں پاکستانی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے وزیراعظم نے سیاحت ،کنسٹرکشن کی صنعت کے ساتھ ساتھ بلیو اکانومی پر بھی زور دینا شروع کر دیا اس پر کل انہیں بریفنگ بھی دی جا رہی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بلیو اکانومی کے اندر موجود پوٹیشنل کو دیکھتے ہوئے 2020 کو بلیو اکانومی کا سال قرار دیا، کیا اپوزیشن اس میں پاکستان کو مضبوط کرنے کے لئے حکومت کا ساتھ دے گی، ویسے بھی اب ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، ہم بچپن سے یہ بات سن رہے ہیں کتابوں میں بھی پڑھا ہے کہ کرہ ارض کا کل 30 فیصد حصہ زمین اور 70 فیصد پانی پر مشتمل ہے،195 میں سے 44 ممالک ایسے ہیں جن کے پاس سمندر نہیں ہیں، جن ممالک کے ساتھ بندرگاہیں موجود ہیں انکے پاس بلیو اکانومی کے ذریعے ترقی کرنے کے بہترین مواقع ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے ملک بلیو اکانومی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن پاکستان نے وہ فائدے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جو کئے جا سکتے ہیں اور اگر عمران خان نے اس سے فائدہ اٹھانے کا سوچ لیا ہے تو ہمیں اپنی انڈسٹری پر کام کرنے کی سخت ضرورت ہے، اس انڈسٹری میں ماہی گیر ،خوراک کی شپنگ،سنمدری پروسیسنگ، بندرگاہی، جہاز سازی کا سامان، آفشور آئل اینڈ گیس کی تلاش،سمند میں معدنیات کی تلاش، سمندری لہروں سے بجلی کا حصول و دیگر شامل ہیں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں چند ایک انڈسٹری پر تو کام ہوا ہے لیکن بہت سی ایسی انڈسٹریز ہیں جن پر کام ہونا باقی ہے،پاکستان بہترین سمندری وسائل سے مالا مال ہے، یہاں دو سمندر ٹھہرے ہوئے ایک ساتھ ملتے ہیں،پاکستان کی ساحلی پٹی سرکریک سے لے کر 1000 کلو میٹر ہے،اور اس پٹی کے علاوہ خصوصی معاشی زون 2 لاکھ 40 ہزار سکوئر کلومیٹر ہے اس وسیع و عریض معاشی زون کے 3 حصے ہیں،ایک سندھ میں ،دوسرا مکران بلوچستان ،اسکی لمبائی 720 کلومیٹر ہے تیسرا بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند کا درمیانی علاقہ ہے، یہ معاشی زون سب سے اہم ہے معدنیات کے علاوہ مچھلیاں، جھینگے وافر مقدار میں موجود ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب سے پاکستان بنا ہے اس پر کوئی توجہ نہیں رہی،اور دنیا بھر میں سمندر سے روزی حاصل کرنے والے خوشحال ہوتے ہین لیکن کراچی میں ماہی گیروں کی حالت یہ ہے کہ وہ غربت میں ہیں،پاکستان میں بہت زیادہ پوٹیشنل ہونے کے باوجود ماہی گیری کا شعبہ 0.4 فیصد حصہ ڈال رہا ہے اور اس سال 0.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے،جو کہ ابھی بڑا کم ہے، پاکستان میں بلیو اکانومی کو اگر جمپ دے دیا جائے تو اسکا جی ڈی پی 30 گنا زیادہ ہو سکتا ہے اور اس سلسلے میں اگر گوادر پر ہی توجہ دے لیں تو ہماری معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج بھی ٹرانسپوٹیشن کا سب سے سستا ذریعہ شپنگ ہے، گڈانی 1970 کی دہائی میں دنیا کی سب سے زیادہ جہاز چھوڑنے والی ایک تھی لیکن اب یہ بھارت اور بنگلہ دیش کے بعد تیسرے نمبر پر ہے،اگر اس صنعت کو زیادہ کیا جائے تو سالانہ جی ڈی پی میں کئی ملین اضافہ ہو سکتا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ساحلی سیاحت پر کوئی توجہ نہٰیں دی گئی،پاکستان میں 65 ہزار افراد سالانہ تھائی لینڈ جاتے ہیں، مالدیپ میں 6 ہزار ،پھچلے سال دبئی جانے والوں میں ایک فیصد کا اضافہ ہوا انکی تعداد 16 ملین بنتی ہے، ساحلی سیاحت پر توجہ دے دیں تو ہماری معیشت میں کتنا اضافہ ہو سکتا ہے،اس میں ہوٹلز بنیں گے،ریسٹورینٹس بنیں گے، ماضی میں اس پر توجہ نہیں دی گئی، اب پیک کی وجہ سے اور عمران خان کی بلیو اکانومی ویژن کی وجہ امید جاگ گئی ہے کہ ہو سکتا ہے اس پر توجہ دی جائے،اور پاکستان کی معیشت کو مضبوط کیا جا سکے حکومت کی کوشش کسی حد تک کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے توشہ خانہ ریفرنس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا
نواز شریف نے احتساب عدالت کا حکم نامہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا، نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا کہ احتساب عدالت کی کاروائی، اشتہار جاری کرنے کا حکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے،بیرون ملک علاج جاری ہے، نمائندے کے ذریعے ٹرائل سامنا کرنے کی اجازت دی جائے،
قبل ازیں توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی طلبی کا اشتہارجاری کر دیا گیا,نوازشریف کی طلبی کا اشتہارعوامی مقامات پرچسپاں کردیاگیا. احتساب عدالت کا کہنا ہے کہ نوازشریف جان بوجھ کرعدالتی کارروائی سے مفرور ہیں،نوازشریف کواشتہاری قراردینےکی کارروائی شروع کردی،
توشہ خانہ ریفرنس میں نوازشریف کوجواب کیلئے 17 اگست تک آخری موقع دیا گیا ہے،توشہ خانہ ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری نیب کوارسال کر دیئے گئے،آصف زرداری کے 50 ہزارمچلکوں کیساتھ قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیں
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ آصف زرداری ضامن کے ساتھ پیش نہ ہوئےتوگرفتارکرکے پیش کیا جائے
واضح رہے کہ اس کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے بھی عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں،گزشتہ سماعت پر نیب نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کا مکمل ریکارڈ حاصل کرلیا، عدالت نواز شریف کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کا حکم دے، نواز شریف کی طلبی کے لیے بیرون ملک اخبار میں اشتہار دیا جا سکتا ہے، نواز شریف ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں رہائش پذیر ہیں۔
توشہ خانہ ریفرنس پر سماعت کے دوران نیب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے یوسف رضا گیلانی سے غیر قانونی طور پر گاڑیاں حاصل کیں، آصف زرداری نے گاڑیوں کی صرف 15 فیصد ادائیگی کی، اور اس کی رقم جعلی اکاونٹس کے ذریعے ادا کی گئی۔
نیب کے مطابق آصف زرداری کو بطور صدر، لیبیا اور یو اے ای سے بھی گاڑیاں تحفے میں ملیں، آصف زرداری نے گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کیں۔
نیب کی جانب سے نواز شریف کے حوالہ سے عدالت کو بتایا گیا کہ سال 2008 میں وہ کسی بھی سرکاری عہدے پر نہیں تھے، اس کے باوجود نوازشریف کو بغیر کوئی درخواست دیئے توشہ خانے سے سرکاری گاڑی مہیا کی گئی۔
واضح رہے کہ رواں برس ماہ جنوی میں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں سابق صدرآصف زرداری،نوازشریف،یوسف رضا گیلانی کےخلاف بدعنوانی ریفرنس کی منظوری دی گئی تھی
ملزمان پرتوشہ خانہ سےتحائف کی گاڑیاں اونےپونےداموں تقسیم کرنےکاالزام ہے،توشہ خانہ کی گاڑیوں سے متعلق نواز شریف اوریوسف رضا گیلانی سے پوچھ گچھ کی جاچکی ہے،
واضح رہے کہ نیب توشہ خانہ کیس میں تحفوں کے ذاتی استعمال سے متعلق تحقیقات کررہا ہے ،اس حوالہ سے نیب نے نواز شریف سے جیل میں بھی تحقیقات کی تھییں اور اس کے لئے عدالت سے اجازت لی تھی،.
تفتیشی افسر راحیل اعظم ڈپٹی ڈائریکٹرنیب نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ نوازشریف سے بطورملزم تفتیش کی اجازت دی جائے،گاڑی 1997 میں سعودی عرب نے وزیراعظم پاکستان کو تحفے میں دی تھی ، مرسڈیزبینز یوسف رضاگیلانی نے غیر قانونی طورپر2008میں نوازشریف کو دی جیل میں نوازشریف سےتفتیش کی اجازت دی جائے .نیب نے جیل میں نواز شریف سے تحقیقات کی تھی.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور بل گیٹس کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور بل گیٹس کے درمیان ٹیلی فون پررابطہ ہوا ہے،ٹیلی فونک گفتگو میں پاکستان کی کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی اورانسداد پولیو مہم پر تبادلہ خیال کیاگیا.
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بل گیٹس نے پاکستان بھر میں انسدا دپولیو مہم کے لیے پاک فوج کی کامیاب اقدامات کی تعریف کی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پولیو فری پاکستان ایک قومی مقصد ہے ،پولیو کےخاتمے کے لیے ورکرز ، موبائل ٹیمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اہم کردار ہے،
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ این سی او سی کے ذریعے پاک فوج کے تعاون سے کورونا پر قابو پایاگیا،پولیو سے پاک پاکستان کےلیے کاوشیں قومی فریضہ ہے،
بل گیٹس نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کی صحت کی بہتری کے لیے تعاون جاری رکھیں گے، پاک فوج کی انسدا دپولیو مہم کےلیےکامیاب اقدامات قابل تعریف ہیں
واضح رہے کہ رواں برس 11 جون کو بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کورونا وائرس کے خطرات اور پاکستان میں انسداد پولیو مہم پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کورونا وائرس کے حوالے سے آگاہی کی فراہمی اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی بات چیت کی گئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کیئر وکرز انسداد پولیو مہم میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ صحت عامہ کے حوالے سے پاک فوج اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے، انسداد پولیو مہم کے ورکرز کورونا وباء میں بھی پیش پیش ہیں۔ کورونا وائرس کے باوجود آئندہ چند ہفتوں میں پولیو مہم شروع کی جائے گی۔
پاکستان اسرائیل کو اگر تسلیم کر بھی لے تو….جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے بڑا دعویٰ کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ممتاز عسکری تجزیہ کار جنرل ر غلام مصطفیٰ نے کہا ہے کہ پاکستان اگر اسرائیل کو تسلیم کر بھی لے تو اسرائیل کبھی بھی پاکستان کو تسلیم نہیں کرے گا،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوال کیا کہ سچی بات یہ ہے کہ فلسطین یا فلسطینوں نے ،کشمیر کے لئے کبھی آواز نہیں اٹھائی ہم ان کے لئے اتنا دکھی کیوں رہتے ہیں، جس پر پر جنرل ر غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارا پہلے دن سے ایک بات سما گئی ہے کہ ہم امہ کی بات ، شاعر ملت نے جو بات کی تھی وہ ہمارے ذہن میں ہے لیکن آہستہ آہستہ دنیا کی حقیقت سامنے آنا شروع ہو گئی ہے ، پہلے ملک ہے، عربوں کے لئے پہلے ملک ہے، انکے لئے پاکستان معنی نہیں رکھتا، انکے مفادات انکو زیادہ عزیز ہین اور ہونے بھی چاہئے،وہ جو کر رہے ہیں اس پر کوئی گلہ نہیں لیکن پاکستان کو بھی اپنے مفادات کے لئے کھڑے ہونا چاہئے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ پاکستان کو بہت پہلے مذاکرات اسرائیل سے کرنے چاہیے تھے، مشرف کے دور میں کوشش بھی ہوئی،لیکن اس پر بات نہیں ہوئی،یہاں پر خواہ مخواہ کی مخالفت رہتی ہے یا تو لڑ جھگڑ کر لے لو، اگر نہیں لے سکتے تو ڈائیلاگ کرنا پڑے گا،کل یو اے ای نے پہل کر دی، آپ کو جو کلیم تھا امت مسلمہ کو لیڈ کرنے کا وہ بیک فٹ پر ہو گیا،جس پر جنرل رغلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ بحیثیت امہ ہم نے کسی مسئلے کو ڈیل نہیں کیا،ایک وقت تھا جب ہم نے تھوڑی دیر کے لئے فلسطین پر بات کی، ابھی پاکستان کے جو اسرائیل سے تعلقات ہیں اس میں ہمیں میجر چیز سمجھنے کی ضرورت ہے، الٹا لٹک جائے پاکستان، جو زائنسٹ ہیں وہ پاکستان کو پاکستان کبھی تسلیم نہیں کریں گے،
جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب تسلیم کرنے پر آپ تیار ہوں گے تو ان سے بھی کروا لیا جائے گا ، کے جواب میں جنرل ر غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو گا،پاکستان کا ایک وجود ہے، ایک جو ریزن ہے پاکستان کی، پاکستان کو اللہ نے خاص طاقت دی ہے وہ دنیا کو کھٹکتی ہے ، نہ کبھی زائنسٹ تیار ہو گا،اس میں آپ یہ بھول جائیں کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو تعلقات بہتر ہو جائیں گے، ایسا نہیں ہو گا
فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ خطے میں بڑی تیزی سے تبدیلی ہو رہی ہے، دو ڈفرنٹ بلاک آ رہے ہیں،یو اے ای اور اسرائیل نے ہاتھ ملا لیا ہے، میں بڑے عرصے سے کہہ رہا تھا کہ یہ ہونا ہے اور ہونا چاہئے،میرا خیال تھا کہ سعودی عرب کرے گا پہلے لیکن یو اے ای نے پہل کر لی،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب پر بیان دیا جس پر سعودی عرب نے احتجاج کیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو وہاں بلا لیا ہے، آج جنرل ر غلام مصطفیٰ ہمارے ساتھ ہیں،مبشر لقمان نے جنرل ر غلام مصطفیٰ سے سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ جنرل باجوہ سے سعودی عرب میں کن امور پر بات ہو گی
مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے جنرل ر غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ دیکھیں دو چیزیں ہیں،ایک تو جو فارن منسٹر نے بیان دیا، اس کے بعد سعودی جو ری ایکشن دے رہے ہیں، محمد بن سلمان نے پاکستان سے پیسے پہلے مانگ لیے تھے، تیل پاکستان اس سے لے نہیں رہا تھا، جو ری ایکشن ایم بی ایس نے دکھایا اس پر بات ہو گی، پاکستان بھی اپنی پوزیشن سمجھ رہا ہے اور اپنا وزن محسوس کر رہا ہے،اللہ تعالیٰ نے ہمیں خاص وزن عطا فرمایا ہے اور ہم اتنے گئے گزرے نہیں ہیں کہ ذرا سا کسی دھمکی سے ہم گھبرا جائیں گے، ہمارے چیف جا رہے ہیں، بات چیت ان باتوں پر ہو گی، بندے واپس بھیجنے کی بات ویسے ہی ہے ، وہ کہاں سے لائیں گے بندے،
جنرل ر غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ دیکھیں ایک چیز واضح ہونی چاہئے کہ مکہ اور مدینہ، حرمین شریفین کے لئے پاکستان تو کیا دنیا کا کوئی بھی مسلمان جان قربان کرنے سے کوئی دریغ نہیں کرے گا،لیکن ہاؤس آف سعود کے ساتھ کھڑے ہونا جو چالاکیاں کر رہے ہیں، پاکستان اب سمجھتا ہے کہ ایسے شخص کو جس نے خطے کو عدم استحکام کا شکار کیا، یمن سے شروع ہوا اور قطر تک گیا، پاکستان گھبرائے گا نہیں، اس لہجے میں بات کر سکتا ہے جس کی ضرورت پڑے گی سعودی عرب کو اگر کسی اور جگہ سے مدد مل سکتی ،سب کچھ ہو سکتا تو وہ شاید پاکستان کو پہلے ہی نظر انداز کر دیتا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا،پاکستان بھی یہ بات سمجھ گیا ہے اور شاہ محمود قریشی کا جو بیان تھا کم از کم میں تو ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے معاملات کو اوپن نہیں لانا چاہئے تھا ، سوچ سمجھا بیان تھا ، اس کا اثر ہوا ہے، اسکا اثر پاکستان کے حق میں ہو گا ان شاء اللہ.
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ جنرل صاحب آپ کی اور ریٹائرڈ افسران کی آرمی چیف سے ملاقات ہوئی ہے چند روز قبل،جنرل راحیل شریف بھی سعودی عرب سے خصوصی طور پر آئے تھے،اس ملاقات میں بھی کوئی اس طرح کی بات ہوئی،جس پر جنرل ر غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے جو تعلقات ہیں مختلف ممالک کے ساتھ اس پر بات چیت ہوئی،جو ہمارے سوچ سمجھ تھی اس کے مطابق ہمارے لوگوں نے رائے دی، خاص کوئی بات ایسی سامنے نہیں آئی، جنرل بات ہوئی کہ ممالک سے تعلقات بہتر ہیں،
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ جب ہر آدمی وہان نوکری کرنے کو تیار ہوتا ہے،جنرل راحیل نوکری چھوڑ کر وہاں فوری نوکری کرنے چلے گئے، وہ ہماری عزت کیسے کریں گے جس پر جنرل ر غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ یہی ہماری کمزوری ہے،مجھے یاد ہے میں قطر میں ڈیپوٹیشن پر تھا ضیا الحق آئے تھے انہوں نے بڑی پتے کی بات کی تھی کہ عربوں کے ساتھ تعلقات جب برابری کی سطح پر ڈیل کریں گے اس وقت تک ٹھیک رہے گا،لیکن جس دن اپنی کمزوری انکو پکڑا دی، یا کوئی ڈیمانڈ رکھ دی اس کے بعد وہ آپ کی عزت ختم کر دیں گے اور غلاموں کی طرح ٹریٹ کریں گے،ہمار یہی صورتحال رہی ہے، نوکری پیسہ ہماری ضرورت ہے انکو ہماری ضرورت ہے وہ سمجھتے ہیں کہ غلاموں کی طرح ٹریٹ کرتے رہیں گے اور ہم برداشت کرتے رہیں گے میرے خیال میں یہ انکی ناسمجھی ہے،اور اب عام طور پر یہ بات سمجھتے ہیں قبائلی انکا طرز زندگی ہے، وہ معاملات کو سمجھتے ہیں، ہمارے لوگوں نے کس طرح جا کر کیا،ورکرز ، ان پڑھ لوگ ہیں ان لوگوں کا جو رویہ تھا سمجھ آتی ہے، پاکستان کو اب بتانا پڑے گا کہ ہم رفیق نہیں ہیں، وہ ہمیں رفیق کہتے ہیں، دوست نہیں کہتے،
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ سچی بات یہ ہے کہ فلسطین یا فلسطینوں نے،کشمیر کے لئے کبھی آواز نہیں اٹھائی ہم ان کے لئے اتنا دکھی کیوں رہتے ہیں، جس پر پر جنرل ر غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارا پہلے دن سے ایک بات سما گئی ہے کہ ہم امہ کی بات ، شاعر ملت نے جو بات کی تھی وہ ہمارے ذہن میں ہے لیکن آہستہ آہستہ دنیا کی حقیقت سامنے آنا شروع ہو گئی ہے ، پہلے ملک ہے، عربوں کے لئے پہلے ملک ہے، انکے لئے پاکستان معنی نہیں رکھتا، انکے مفادات انکو زیادہ عزیز ہین اور ہونے بھی چاہئے،وہ جو کر رہے ہیں اس پر کوئی گلہ نہیں لیکن پاکستان کو بھی اپنے مفادات کے لئے کھڑے ہونا چاہئے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ پاکستان کو بہت پہلے مذاکرات اسرائیل سے کرنے چاہیے تھے، مشرف کے دور میں کوشش بھی ہوئی،لیکن اس پر بات نہیں ہوئی،یہاں پر خواہ مخواہ کی مخالفت رہتی ہے یا تو لڑ جھگڑ کر لے لو، اگر نہیں لے سکتے تو ڈائیلاگ کرنا پڑے گا،کل یو اے ای نے پہل کر دی، آپ کو جو کلیم تھا امت مسلمہ کو لیڈ کرنے کا وہ بیک فٹ پر ہو گیا،جس پر جنرل رغلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ بحیثیت امہ ہم نے کسی مسئلے کو ڈیل نہیں کیا،ایک وقت تھا جب ہم نے تھوڑی دیر کے لئے فلسطین پر بات کی، ابھی پاکستان کے جو اسرائیل سے تعلقات ہیں اس میں ہمیں میجر چیز سمجھنے کی ضرورت ہے، الٹا لٹک جائے پاکستان، جو زائنسٹ ہیں وہ پاکستان کو پاکستان کبھی تسلیم نہیں کریں گے،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب تسلیم کرنے پر آپ تیار ہوں گے تو ان سے بھی کروا لیا جائے گا ، کے جواب میں جنرل ر غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو گا،پاکستان کا ایک وجود ہے، ایک جو ریزن ہے پاکستان کی، پاکستان کو اللہ نے خاص طاقت دی ہے وہ دنیا کو کھٹکتی ہے ، نہ کبھی زائنسٹ تیار ہو گا،اس میں آپ یہ بھول جائیں کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو تعلقات بہتر ہو جائیں گے، ایسا نہیں ہو گا
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ مودی کو آپ بہت کھٹک رہے ہیں وہ بڑا اسلحہ جمع کر رہا ہے، اس نے دیوالی کے لئے تو اسلحہ نہیں لیا،کہیں تو استعمال کرے گا جس پر جنرل ر غلام مصطفیٰ نے کہا کہ کل ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کی ہے پاکستان نے واضح بات کی ہے، سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ 500 رافیل بھی آ جائیں تو پاکستانکو پریشانی کی ضرورت نہین، بھارت جو مرضی کر لے، اگر وہ کچھ کر سکتا، تو بہت پہلے کر لیتا، ہم اسکو سبق سکھا سکتے ہیں جو شاید اس کے لئے قابل قبول نہیں ہو گا، میں اس میں نیو کلیئر ویپن کی بات نہیں کر ہا
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ ہمارا جسم چائنہ کے ساتھ ہے، دل امریکہ کے ساتھ،اب وقت آ رہا ہے کہ دو بلاکس بنیں گے ،دنیا بٹ رہی ہے ہمیں چوز کرنا ہے، جس پر جنرل ر غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ چوائس مشکل ہے، امریکہ کے ساتھ محبت کبھی کبھی بڑھ جاتی ہے،چین جس طرح اس خطے میں آ رہا ہے اور امریکہ جس طرح چین کو کمزور کرنے کے لئے اقدامات اٹھا رہا ہے،کل جو یو اے ای کے ساتھ کیا یہ بہت بڑا ریزن ہے، ایران مین چین ،عمان میں چین ہے،لبنان نے بھی چین کو پکارا ہے، امریکہ کے لئے تو مسئلہ ہی ہے،پاکستان کو کسی سٹیج پر چوز کرنا پڑے گا، پاکستان کے لئے مشکل نہیں ہو گی، پیسہ ایک چیز ہے، چائنہ کو پاکستان کی ضرورت ہے، سی پیک میں جو مین ہے وہ گوادر ہے اس کو نکال دیں سی پیک دھڑام سے گر جائے گا، جتنی پاکستان کو چین کی ضرورت ہے اس طرح چین کو بھی پاکستان کی ضرورت ہے، پاکستان کے بغیر چین کو اس خطے میں موو کرنا مشکل ہو گا
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو امریکہ، سعودی عرب، ترکی، ایران کے بیچ میں فیصلہ کرنا پڑے گا،جس پر جنرل ر غلام مصطفیٰ نے کہا کہ فیصلے ہو چکے ہیں، اب انکو عملی جامہ پہنانے کے لئے بات کس طرح سامنے آتی ہے وہ بعد کی بات ہے، فیصلہ ہو گیا کہ جو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہو گا پاکستان اس کے ساتھ کھڑا ہو گا،اس میں کوئی دوستی بھائی چارے کی بات نہیں، پاکستان اپنے مفادات کی نگہداشت کو تیار ہے،لگتا یوں ہے کہ مسلم امہ کی لیڈر شپ پاکستان کے ہاتھ میں آ جائے گی، پاکستان نے اپنے فیصلے کر لئے،اور اگر نہیں کئے تو پاکستان بہت لیٹ ہو گیا، اسکا پھر نقصان ہو گا.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ سعودی عرب کیا تبدیلی لائے گا؟ مبشر لقمان نے بتا دیا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے حوالہ سے جو رپورٹ کی تھی کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جلد دورہ کریں گے، آرمی چیف نے اب جانا ہے، میں نے کہا تھا وہ بلا رہے ہیں، اب بلا لیا ہے، دورے میں سب کچھ ہوتا ہے، معاشیات اہم ہے، سب کچھ معیشت سے لنکڈ ہوتا ہے،اب مجھے لگتا ہے کہ سعودی عرب پریشان ہو رہا ہے کیونکہ یمن مین چائنہ اور ایران ملکرانویسمنٹ کر رہے ہیں توانائی کے منصوبوں میں اور بیس بنانے لگے ہیں اوراگر یہ وہ کر لیتے ہیں تو پھر سعودی عرب کی وہاں سے ایکسپورٹ نہیں ہو سکتی آئل کی، پھر روز وہاں آتشبازی ہو گی،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اب دیکھ رہا ہے کہ وہ وہاں اب کس حالت میں ہو گا، اس کو اب افواج پاکستان کی ضرورت ہے،بڑی بات یہ ہے کہ آج کے دن محمد بن سلمان کی اتنی زیادہ مخالف فیملی میں ہو گئی ہے کہ شاید کوئی بندہ فیملی کا ہی اس پر ہی حملہ آور نہ ہو جائے، اب اس نے اکیلے رہنا شروع کر دیا ہے، اب ان کے پیلس پر دو دو فائٹر جیٹس کھڑے ہیں، اتنی زیادہ سیکورٹی ہے، فائٹر جیٹ تو وائیٹ ہاؤس میں کھڑے نہیں ہوتے، یہ سیکورٹی بھی ہے اور ڈر بھی ، خطرہ ہے تو سب کچھ ہے دیکھیں کیا ہوتا ہے
اب بنے گا پاکستان، سعودی عرب کی جگہ نیا مسلم لیڈر؟ تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اگر چین پاکستان کو امت مسلمہ کا نیا لیڈر بنانے کے لئے دھکا دینا چاہتا ہے تو ٹھیک، لیکن پاکستان ابھی تیار نہیں،پاکستان کے اندرونی مسائل ہیں، ترکی اس پوزیشن پر آ رہا ہے
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ کہا جا رہا ہے کہ چین سعودی عرب کی جگہ پاکستان کو امت مسلمہ کا لیڈر بنانا چاہتا ہے، کیا یہ ممکن ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان خود تو تیار ہو، پاکستان کو یقین ہی نہیں آئے گا،ہم امت مسلمہ کے لیڈر ضرور بن سکتے ہیں پاکستان واحد ایٹمی اسلامی ملک ہے، یہ سیریس پوزیشن ہے، امت مسلمہ کے لیڈر کو فورس فل بھی ہونا پڑتا ہے وہ جی جی کر کے برداشت نہیں کرتا پاکستان اس رول کے لئے ابھی ریڈی نہیں، ابھی تو اندرونی مسائل بڑے ہیں، مذہبی مسائل کا سامنا ہے،سب سے بڑی بات ہے کہ سعودی عرب اس قابل نہین رہا کہ وہ امت مسلمہ کی سربراہی کرے اس وقت جو ملک پوزیشن کر رہا ہے اس پوسٹ کے لئے وہ ترکی ہے اور ترکی کی تاریخ دیکھیں ،مجھے لگتا ہے کہ ترکی مضبوط ہے اس پوزیشن کے لئے لیکن اگر چائنہ نے پاکستان کو دھکا دے دیا تو پھر ٹھیک ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جو رپورٹ کی تھی، آرمی چیف نے اب جانا ہے، میں نے کہا تھا وہ بلا رہے ہیں، اب بلا لیا ہے، دورے میں سب کچھ ہوتا ہے، معاشیات اہم ہے، سب کچھ معیشت سے لنکڈ ہوتا ہے،اب مجھے لگتا ہے کہ سعودی عرب پریشان ہو رہا ہے کیونکہ یمن مین چائنہ اور ایران ملکرانویسمنٹ کر رہے ہیں توانائی کے منصوبوں میں اور بیس بنانے لگے ہیں اوراگر یہ وہ کر لیتے ہیں تو پھر سعودی عرب کی وہاں سے ایکسپورٹ نہیں ہو سکتی آئل کی، پھر روز وہاں آتشبازی ہو گی،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اب دیکھ رہا ہے کہ وہ وہاناب کس حالت میں ہو گا، اس کو اب افواج پاکستان کی ضرورت ہے،بڑی بات یہ ہے کہ آج کے دن محمد بن سلمان کی اتنی زیادہ مخالف فیملی میں ہو گئی ہے کہ شاید کوئی بندہ فیملی کا ہی اس پر ہی حملہ آور نہ ہو جائے، اب اس نے اکیلے رہنا شروع کر دیا ہے، اب ان کے پیلس پر دو دو فائٹر جیٹس کھڑے ہیں، اتنی زیادہ سیکورٹی ہے، فائٹر جیٹ تو وائیٹ ہاؤس میں کھڑے نہیں ہوتے، یہ سیکورٹی بھی ہے اور ڈر بھی ، خطرہ ہے تو سب کچھ ہے دیکھیں کیا ہوتا ہے
اینکر پرسن مریم خان نے سوال کیا کہ ایران نے سٹیٹ آف ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پکڑا اور 5 گھنٹے میں قبضے میں رکھا، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ جب کوئی بغیر اطلاع کے جا رہا ہوتا ہے کاغذات میں کمی ہو تو پھر اس کو روکا جاتا ہے، چھوڑنے کا مطلب ہے کہ تحقیقات مکمل کر لی گئی تب چھوڑا،یو اے ای کے اندر دو سو نیشنلٹی کے لوگ ہیں دنیا کے اور یو اے ای دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اتنی تعداد میں مختلف لوگ ایک جگہ کام کرتے ہیں، وہانپر کھانے پینے کی آزادی ہے، نائٹ کلبز بھی ہیں، مساجد بھی ہیں اور عبادتگاہیں بھی ہیں،یواے ای سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے وہ کسی کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتا، ایران اور یو اے ای کے بہت گہرے تعلقات ہیں،جو لانچس کا ٹریڈ ہے وہ ایران اور یو اے ای کا بہت زیادہ ہے، دبئی سے لانچ نے کراچی آنا ہے تو تین چار دن لگیں گے لیکن وہاں فوری پہنچ جاتی ہے، دوائیاں، کپڑے سب یو اے ای سے وہاں جاتے ہیں، شپ نے کوئی غلطی کی ہو گی تبھی چھوڑ دیا ورنہ ایران کسی کے رعب میں آنے والا نہیں
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ چین تائیوان کو ون چائنہ کا حصہ سمجھتا ہے،امریکہ کے وزیر صحت نے تائیوان کا دورہ کیا ، چینی کمیونسٹ پارٹی کے مخالف رہنما سے ملاقات کی جس پر چین نے کہا کہ امریکہ آگ سے کھیل رہا ہے، پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو پتہ ہے کہ وہ کس سے کھیل رہا ہے اور چین کو بھی پتہ ہے، اس میں کچھ ممالک بھینٹ بھی چڑھیں گے، انڈیا خاص کر ، زیادہ کود رہا ہے وہ، امریکہ کی محبت زیادہ ہو رہی ہے کہ شائد وہ ریجن کی سپر پاور بن جائے، چین نے انڈیا اور امریکہ کو کلیئر میسج دے دیا ہے کہ چاہ بہار اور گوادرکو جو کنٹیکٹ کیا، انڈیا کا جو گیٹ وے ہے یورپ کا وہ بلاک ہو جاتا ہے اور پھر وہ ریڈ سیز سے ہوتا ہوا یورپ تک پہنچے گا، دو سال میں جب پورٹس لنکڈ ہوتے ہیں پھر انڈیا کو دیکھیے گا کہ اس کا کیا ہوتا ہے، چائنہ اور امریکہ آنکھیں دکھائیں گے، تیور بدلیں گے سب کچھ ہو گا، حملہ نہیں ہو گا، تیل کس دھار بیٹھتا ہے ،دیکھتے ہیں
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ پاکستانی ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے کہا کہ دشمن کی طرف سے ہتھیاروں کا ذخیرہ کرنے سے کبھی مرعوب نہیں ہوں گے، آئی ایس پی آر نے بھی کہا کہ بھارت 500 رافیل بھی لے آئے تو ہم تیار ہیں،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتہ آئی ایس پی آر نے کس بات پر یہ سٹیٹمنٹ دی ہے،لیکن یہ ہے کہ ہم تیار ضرور ہیں،جنگ میں یہ پتہ نہین ہوتا آپ لمیٹڈ کر رہے ہوتے ہیں اور وہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے، اگر کوئی نیوکلیئر ہو گیا دونوں ممالک میں تو وہ پھر کسی بھی سمت جا سکتا ہے، ہمیں یا تو ڈی فیوز کرنا چاہئے،یا اگر پاکستان نے کچھ کرنا ہے تو چلیں کشمیریوں کو انکا حق دلواتے ہیں،چلیں وہ بھی دیکھ لیتے ہیں،ہم ڈیفنسو موڈ میں ہیں، ہم ڈیفنڈ کر سکتے ہیں لیکن ہم افینسو نہیں ہو سکتے.
مریم خان نے سوال کیا کہ روس اور بھارت ایک اور 15 ارب ڈالر کا ڈیفنس معاہدہ کرنے جا رہے ہیں،جس میں بھارتی فوج کو کلاشنکوف دی جائے گی، ہو سکتا ہے کہ اس خبر پر یہ بیان آیا ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے، کلاشنکوف کو ہم نے دیکھا ہے اس پر میں نے کافی سٹڈی کی ہے،کئی سال پہلے کافی لوگ کہتے تھے کہ پاکستان آرمی کو جی تھری رائفل سے کلاشنکوف کے ساتھ ری پلیس کر لینا چاہئے، پاکستان آرمی کے پاس جی تھری رائفل ہے،اور انکی مین بات تھی کہ جی تھری ہیوی ہے، لیکن ہتھیار کا اصل ٹیسٹ جنگ میں ہوتا ہے جنگ میں کہیں مٹی،کیچڑ بارش ہے اس کی صفائی نہیں ہو رہی، جی تھری کلاشنکوف سے بہتر ہے،ٹارگٹ فائرنگ بھی ہے،جو بھی دہشت گرد ہوتا ہے اس کا فیورٹ ہتھیار کلاشنکوف ہے،اس سے بھارت کے مائنڈ سیٹ کا اندازہ لگا لیں کہ وہ اس سے دہشت گردی کرنا چاہ رہے ہیں،لیکن کلاشنکوف از نو میچ،جی تھری ایک پرانا ہتھیار ہے لیکن بہت سی وارز میں استعمال ہوا ، اس پر انحصار کیا جا سکتا ہے، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کلاشنکوف طالبان بڑی استعمال کر چکے ہیں وہ تباہ و برباد ہو گئے ، انڈیا بھی تباہ و برباد ہو گا، ان شاء اللہ
اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ بولی ووڈ کی بات کرنے ہیں،ایک مووی کا ٹریلر لانچ ہوا ہے وہ یوٹیوب پر بہت ڈس لائک کیا گیا،6.4 ملین ڈسلائکس ہوئے ہیں، ، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ جو رہا ہے سوشانت سنگھ کی موت کا ہو رہا ہے اسکے ہڈن فالورز نکلے ہیں،یہ لوگوں نے اپنا غصہ نکالا ہے، مہیش بھٹ نے ریکارڈ تو قائم کر لیا، وہ ا س بات پر خوش ہو گئے ہوں گے کہ فلم دیکھی گئی میں جانتا ہوں بھٹ صاحب کو اور پوجا کو، بھٹ صاحب بہت خوش ہوں گے،اب جو بھی دیکھے گا انکے علاوہ ہی دیکھے گا، 6.4 نہیں جا رہے،
یو اے ای اسرائیل معاہدہ،ترکی کے بعد پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے سے متعلق معاہدے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پیشرفت کے دور رس اثرات مرتب ہونگے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اسرائیل متحدہ عرب امارات امن معاہدے کے حوالے سے کہا ہے کہ ہم نے اس سلسلے میں اعلامیہ دیکھا ہے۔یہ ایک ایسی پیشرفت ہے جس کے دور رس نتائج ہوں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور جائز حقوق کی مکمل حمایت کرتاہے۔ مشرق وسطی میں امن و استحکام پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان منصفانہ ، جامع اور دیرپا امن کے لئے اقوام متحدہ اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ریاستی حل کی حمایت کی ہے۔
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 14, 2020
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے حقوق اور امنگوں کے مطابق اور علاقائی امن وسلامتی اور استحکام کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا نکتہ نظر بیان کرتا ہے
واضح رہے کہ خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی ،اطلاعات کے مطابق خطے میں اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان کی ڈیل کا سپشل اعلان کیا گیا ہے
ذرائع کے مطابق اس ڈیل کا تذکرہ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ سرائل اور متحدہ عرب امارات نے تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق کیا ہے
امریکی صدر ٹرمپ ، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ابوظہبی ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید نے ایک مشترکہ بیان کدیا ہے کہ انھیں امید ہے کہ "تاریخی پیشرفت مشرق وسطی میں امن کو آگے بڑھے گی”۔
اس کے نتیجے میں ، انہوں نے مزید کہا ، اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے بڑے حصوں کو منسلک کرنے کے اپنے منصوبوں کو معطل کردے گا۔
اب تک اسرائیل کے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں ،تاہم ، ایران کے علاقائی اثر و رسوخ پر مشترکہ خدشات کے نتیجے میں ان کے مابین غیر سر کاری رابطے ہوئے ہیں۔