وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابطہ. دونوں راہنماوں میں کرونا وبائی صورتحال سمیت دو طرفہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال۔ وزیر خارجہ نے اپنی اور وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت کے حوالے سے خیریت دریافت کی۔ سعودی وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز پتے کی کامیاب سرجری کے بعد تیزی سے رو بصحت ہو رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے ان کی جلد صحت یابی اور درازی ء عمر کیلئے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب کو پاکستان کی جانب سے کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن سمیت اٹھائے گئے موثر اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سمارٹ لاک ڈاؤن حکمت عملی کے سبب نہ صرف کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح کم ہوئی بلکہ شرح اموات میں بھی کافی حد تک کمی واقع ہوئی۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب میں بھی کرونا وبائی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں سعودی عرب کی دفاعی تنصیبات پر حوثی ملیشیا کی طرف سے کیے گئے میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیااور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین امسال حج کی محدود ادائیگی کے حوالے سے بھی تبادلہ ء خیال کیا گیا۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ امسال محدود پیمانے پر حج کی ادائیگی کا فیصلہ کرونا عالمی وبائی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے حوالے سے بھی تبادلہ ء خیال ہوا۔
Category: اہم خبریں
-

مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا اُسے دل کی آنکھ سے دیکھے۔صدر آزاد جموں وکشمیر
آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا اُسے دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرے کیونکہ وہاں رونما ہونے والے واقعات دلخراش ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تذلیل بھی ہیں۔ مقبوضہ ریاست میں بھارت کے اقدامات انسانی اقدار، تہذیب، بین الاقوامی انسانی قوانین اور ورلڈ آرڈر کو پاؤں کے نیچے روندنے کے مترادف ہیں جنہیں اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری خاموشی سے دیکھ رہی ہے اور اس کی یہ خاموشی بھارت کو انسانیت کے خلاف مزید جرائم کے ارتکاب کا حوصلہ دے رہی ہے۔ بین الاقوامی تنظیم جسٹس فار آل کے زیر اہتمام ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے مقبوضہ کشمیر کا پورا علاقہ ایک کھلا جیل اور پوری آبادی قیدی بنی ہوئی ہے لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان سمیت وہ مغربی اقوام جو انسانی قانون اور انسانی حقوق کی محافظ کہلاتی ہیں پُر اسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ویبی نار سے امریکہ میں مقیم ممتاز سکالر ڈاکٹر عبدالمالک مجاہد، مقبوضہ کشمیر سے ڈاکٹر مرزا صاحب بیگ، برطانیہ سے مزمل ایوب ٹھوکر، شائستہ صفی، مقبوضہ کشمیر سے شاہانہ بٹ، امریکہ سے سردار ذوالفقار خان، ڈاکٹر اطہر ضیا، پاکستان سے سید فیض نقشبندی، احمد بن قاسم، امریکہ سے امام عبدالجبار، حنا زبیری، محمد عاطف عباسی اور بابر ڈار نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد انسانیت، انسانی وقار اور آفاقی انسانی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ہے اور کشمیریوں کو اگر اس جدوجہد میں ناکامی ہوئی تو یہ پوری انسانیت کی ناکامی ہوی گی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے اکتوبر 1947ء میں کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں قتل وغارت گری کا جو سلسلہ شروع کیا وہ 73سال گزر جانے کے بعد آج بھی جاری ہے اور ان سات دہائیوں میں بھارت نے آزادی، حق خود ارادیت اور انسانی حقوق مانگنے والے پانچ لاکھ انسانوں کو قتل کر دیا اور آج بھی مقبوضہ کشمیر کے ہر شہر، قصبہ اور گاؤں میں بھارتی فوج محاصرے اور تلاشی کے نام پر نوجوانوں کو چُن چُن کر قتل کر رہی ہے تاکہ آزادی، حق خودارادیت اور انسانی حقوق کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کر دیا جائے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر پر چڑھائی کر کے ریاست پر دوبارہ قبضہ کیا، اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ان دو حصوں کو دہلی کے ماتحت کر کے یہ پیغام دیا کہ ریاست کے نظم ونسق اور اس کے مستقبل کو طے کرنے میں وہاں کے عوام کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس سال اپریل میں کرونا وائرس کی وبا کے دوران رات کی تاریکی میں بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین متعارف کروا کر کشمیریوں کے روزگار، ملازمتوں، کاروبار کے حقوق چھین لئے اور اُن کی زمین پر بھارتی شہریوں کو بسانے کا ایک گھناؤنا منصوبہ شروع کیا تاکہ کشمیریوں کو اُن کی اپنی سرزمین میں بے زمین کر دیا جائے اور اُن کو اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے۔ بھارت کے مقبوضہ ریاست کے اندر یہ تمام اقدامات نہ صرف بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے زمرے میں بھی آتے ہیں جن سے سلامتی کونسل کے ارکان کا نظریں چرانا، اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے کے مترادف ہے۔ صدر آزادکشمیر نے ویبی نار کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ پانچ اگست کے بعد بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کے لئے پیدا ہونے والے نئے مواقع سے استفادہ کریں اور دنیا بھر میں پھیلی ہوئی دس ملین کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے اثر ورسوخ سے فائدہ اٹھا کر مختلف ممالک کی پارلیمان کے ارکان، اعلیٰ حکومت عہدیداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی تک رسائی حاصل کر کے کشمیریوں کی آواز اُن تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ بظاہر کشمیر کی صورتحال سے لا تعلق نظر آتی ہے لیکن ہمیں اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ہر فورم کے دروازے پر دستک دینے کا سلسلہ جاری رکھنا ہو گا اور اس بات کا اہتمام بھی کرنا ہو گا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں کشمیر کے حوالے سے جاری انفرادی کوششوں کو کسی اجتماعی فورم کے تابع کیا جائے تاکہ ان کوششوں کے مثبت اثرات مرتب ہو سکیں۔
-

5 اگست کو پوری قوم بھارت کے غاصبانہ اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منائے گی۔وزیراعظم آزادکشمیر
وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدرنے کہا ہے کہ 5 اگست کو پوری قوم بھارت کے غاصبانہ اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منائے گی ۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام اکیلے نہیں ہیں ہم ان کی پشت پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ5 اگست کو سینیٹ کا خصوصی اجلاس مظفرآباد میں ہو گا۔ مظفرآباد میں سینٹ کا خصوصی اجلاس تحریک آزادی کشمیر کے تناظر میں سنگ میل ثابت ہو گا ،راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ بین الاقوامی صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہ دینا بھارتی حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ بھارت نے ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو خصوصی حراستی مراکز میں بند کر رکھا ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر ایک انسانی جیل بن چکا ہے ،راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنی مرضی کے مطابق مستقبل کے فیصلے کا حق دیا جائے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے جنوبی ایشیاء میں پائدار امن قائم ہو گا ،راجہ فاروق حیدرنے مطالبہ کیا کہ یورپی ممالک مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کا نوٹس لیں۔
-

عمران خان کا حسینہ واجد کوفون کامیاب سفارتکاری ،’بنگلہ دیش کا جھکاؤ پاکستان اور چین کی جانب بڑھنے لگا’عالمی میڈیا
نئی دہلی:عمران خان کا حسینہ واجد کوفون کامیاب سفارتکاری ،’بنگلہ دیش کا جھکاؤ پاکستان اور چین کی جانب بڑھنے لگا’عالمی میڈیا ،اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کے ایک معروف اخبار کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے بھارتی ہائی کمشنر کی متعدد درخواستوں کے باوجود گزشتہ 4 ماہ سے ان سے ملاقات نہیں کی جو نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے اور قریبی تعلقات پاکستان اور چین کی جانب منتقل ہونے کا اشارہ دیتے ہیں۔
بھارتی اخبار دی ہندو نے ہفتے کے روز بنگلہ دیش کے ایک معروف اخبار بھوریر کاگوج کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2019 میں وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد تمام بھارتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں جبکہ چینی انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں کو ڈھاکا کی جانب سے زیادہ حمایت مل رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اخبار کے ایڈیٹر شرمل دتہ نے ایک مضمون میں کہا کہ ‘بھارت کی تشویش کے باوجود بنگلہ دیش نے سلہٹ میں ایئرپورٹ ٹرمینل بنانے کا ٹھیکہ ایک چینی کمپنی کو دیا، بھارتی ہائی کمشنر ریوا گنگولی داس چار ماہ سے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے لیے کوشش کررہے ہیں لیکن انہیں ملاقات کا وقت نہیں مل سکا، بنگلہ دیش نے کورونا وائرس کے لیے بھارتی امداد کے جواب میں بھارت کو سراہنے کا نوٹ بھی نہیں ارسال کیا’۔
دی ہندو کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس سے ڈھاکہ کا حالیہ جھکاؤ پاکستان اور چین کی جانب مڑتا نظر آرہا ہے اور اسی طرح کا اقدام ایران میں حال ہی میں نظر آیا تھا جس نے چاہ بہار بندرگاہ ریلوے منصوبے پر بھارت کے بغیر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا جس پر دونوں ممالک نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
بھوریر کاگوج کی رپورٹ میں بدھ کے روز وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپنی بنگلہ دیشی ہم منصب کو کی جانے والی ایک غیر معمولی فون کال کا بھی ذکر کیا گیا۔
بنگلہ دیشی اخبار کا کہنا تھا کہ بیجنگ اربن تعمیراتی گروپ (بی یو سی جی) کو سلہٹ کے ایم اے جی عثمانیہ ایئرپورٹ میں ایک نئے ٹرمینل کی تعمیر کا کنٹریکٹ ملا ہے جو بھارت کے شمال مشرقی خطے سے ملتا ہے اور اسی وجہ سے اسے نئی دہلی کے لیے حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
بنگلہ دیشی ہائی کمیشن کے ایک سفارتی ذرائع نے دی ہندو اخبار کو تصدیق کی کہ بھارتی سفیر نے شیخ حسینہ سے ملاقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن ایسا ہوا نہیں تاہم نہ ہی ڈھاکہ میں بھارت کے ہائی کمیشن اور نہ ہی بھارتی وزارت خارجہ نے اخبار کے سوالات کا جواب دیا۔
بھارتی مشن کے ایک سفارتکار نے بتایا کہ ہائی کمشنر گنگولی داس دورے پر ڈھاکہ سے باہر گئے ہیں۔
دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کے بارے میں تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے جب شیخ حسینہ واجد اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان بدھ کے روز ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا۔
اگرچہ ڈھاکہ نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات دینے سے انکار کردیا تھا لیکن پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی نے بتایا کہ عمران خان نے شیخ حسینہ کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا اور تنازع کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔
دی ہندو نے کہا کہ جمعرات کے روز بھارت نے بنگلہ دیش کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ ڈھاکہ کشمیر کو بھارت کا داخلی معاملہ سمجھتا ہے۔
دوسری طرف امریکی میڈیا بھی عمران خان کے حسینہ واجد کوفون کوبڑا اہم قراردے رہا ہے ، اکثرکا تویہ کہنا ہے کہ عمران خان کا حیسنہ واجد کوفون کرکے دورہ پاکستان کی دعوت دینا پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بدلاو ہے اوراب پاکستان بھارت کے ہمسائیہ ممالک میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں کامیاب نظرآتاہے
-

مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ فرقہ واریت کی حد تک جا پہنچا ہے۔ معید یوسف
معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے محاصرے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا فوجی محاصرہ فرقہ واریت کی حد تک جا پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک عروج پر ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم بڑھانے کے لئے کورونا وائرس کو بہانہ بنا رہا ہے۔ عالمی حقوق اور امدادی گروپوں کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی حاصل کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان کے اعدادو شمار ظاہر کررہے ہیں کہ کورونا وائرس کم ہورہا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کم ہورہا ہے۔
-

کورونا وائرس سے مزید 35 افراد جاں بحق ہو گئے، ایک ہزار 226 نئے کیسز رپورٹ
کورونا وائرس سے مزید 35 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک ہزار 226 نئے کیسز رپورٹ
باغی ٹی وی :پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 35 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک ہزار 226 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 5 ہزار 822 ہو گئی ہے اور 2 لاکھ 73 ہزار 113 افراد متاثر ہیں جبکہ ملک بھر میں کورونا کے دو لاکھ 37 ہزار 434 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔
پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا کے ایکٹیو کیسز کی تعداد 29 ہزار 875 ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 23 ہزار 254 ٹیسٹ کیے گئے۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر کورونا کے 18 لاکھ 68 ہزار 180 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ملک بھر میں کورونا کے ایکٹیو کیسز کی تعداد 29 ہزار504 ہو گئی ہے۔
سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 16 ہزار 800 ہوگئی۔ خیبرپختونخوا میں کورونا مریضوں کی تعداد 33,071 ہو گئی ہے۔ بلوچستان 11,550، اسلام آباد 14,821، آزاد جموں و کشمیر 2,012، گلگت بلتستان 1,942 اور پنجاب میں 91,691 کورونا مریض ہیں۔
پنجاب میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہزار 113، سندھ میں دو ہزار 110، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 170، اسلام آباد میں 162، بلوچستان میں 136، آزاد کشمیر میں 49 اور گلگت بلتستان میں 47 ہو چکی ہے۔این سی او سی کے مطابق ملک بھر کےاسپتالوں میں 238 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں جبکہ اسپتالوں میں کورونا وینٹی لیٹرز کی تعداد ایک ہزار859 ہے۔
ملک میں کورونا ٹیسٹنگ صلاحیت یومیہ 60 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ اور 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں۔ 30 شہروں میں ٹریس، ٹیسٹ اورقرنطینہ حکمت عملی موثر طریقے سے کام رہی ہے۔
-

بھارت میں موجود دہشتگرد عناصر سے پڑوسی ممالک کو خطرہ ہے: اقوام متحدہ
اسلام آباد: بھارت میں موجود دہشتگرد عناصر سے پڑوسی ممالک کو خطرہ ہے: اطلاعات کےمطابق اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں افغانستان سے دہشتگردی ہوتی ہے جبکہ بھارت میں موجود دہشتگرد عناصر سے پڑوسی ممالک کو خطرہ ہے۔
اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت افغانستان میں رہ کر پاکستان میں دہشتگرد کاروائیاں کرواتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نور ولی محسود، قاری امجد اور تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی پاکستان میں کئی دہشتگرد واقعات کی ذمہ داری قبول کر چکے، افغانستان میں داعش کی موجودگی خطے کے لئے خطرہ کا باعث بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں بھارت میں موجود دہشت گرد عناصر پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہندوستان میں موجود دہشتگرد عناصر سے پڑوسی ممالک کو خطرہ ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت پر دہشتگرد عناصر کے خلاف ایکشن لینے کے لیے عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
-

ٹریفک پولیس کی پھرتیاں: سائیکل پر بچوں کے کھلونے بیچنے والے کا چالان کرڈالا
کلفٹن کراچی میں ٹریفک پولیس کی پھرتیاں۔ عیدی بنانے کے چکر میں سائیکل پر بچوں کے کھلونے بیچنے والے کا چالان کرڈالا۔ غریب سائیکل سوارکا مخالف سمت سے ون وے کی خلاف ورزی کتا ہوا آرہا تھا۔جس پرغریب کا 520روپے کا چالان کیا گیا۔ سائیکل والا چلاتا رہا غلطی ہو گئی۔ گھر میں آٹا نہیں،500روپےکا چالان کیسے بھروں؟دلچسب بات یہ کہ سائیکل کا چالان 70سی سی موٹرسائیکل کٹیگری میں کردیا.
-

بلیو اکانومی پاکستان کے لئے گیم چینجر کیوں؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ دنیا جہاں اپنے آپ کو منوانے کے لئے معاشی طور پر مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہے وہیں پاکستانی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے وزیراعظم نے سیاحت ،کنسٹرکشن کی صنعت کے ساتھ ساتھ بلیو اکانومی پر بھی زور دینا شروع کر دیا اس پر کل انہیں بریفنگ بھی دی جا رہی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بلیو اکانومی کے اندر موجود پوٹیشنل کو دیکھتے ہوئے 2020 کو بلیو اکانومی کا سال قرار دیا، کیا اپوزیشن اس میں پاکستان کو مضبوط کرنے کے لئے حکومت کا ساتھ دے گی، ویسے بھی اب ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، ہم بچپن سے یہ بات سن رہے ہیں کتابوں میں بھی پڑھا ہے کہ کرہ ارض کا کل 30 فیصد حصہ زمین اور 70 فیصد پانی پر مشتمل ہے،195 میں سے 44 ممالک ایسے ہیں جن کے پاس سمندر نہیں ہیں، جن ممالک کے ساتھ بندرگاہیں موجود ہیں انکے پاس بلیو اکانومی کے ذریعے ترقی کرنے کے بہترین مواقع ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے ملک بلیو اکانومی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن پاکستان نے وہ فائدے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جو کئے جا سکتے ہیں اور اگر عمران خان نے اس سے فائدہ اٹھانے کا سوچ لیا ہے تو ہمیں اپنی انڈسٹری پر کام کرنے کی سخت ضرورت ہے، اس انڈسٹری میں ماہی گیر ،خوراک کی شپنگ،سنمدری پروسیسنگ، بندرگاہی، جہاز سازی کا سامان، آفشور آئل اینڈ گیس کی تلاش،سمند میں معدنیات کی تلاش، سمندری لہروں سے بجلی کا حصول و دیگر شامل ہیں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں چند ایک انڈسٹری پر تو کام ہوا ہے لیکن بہت سی ایسی انڈسٹریز ہیں جن پر کام ہونا باقی ہے،پاکستان بہترین سمندری وسائل سے مالا مال ہے، یہاں دو سمندر ٹھہرے ہوئے ایک ساتھ ملتے ہیں،پاکستان کی ساحلی پٹی سرکریک سے لے کر 1000 کلو میٹر ہے،اور اس پٹی کے علاوہ خصوصی معاشی زون 2 لاکھ 40 ہزار سکوئر کلومیٹر ہے اس وسیع و عریض معاشی زون کے 3 حصے ہیں،ایک سندھ میں ،دوسرا مکران بلوچستان ،اسکی لمبائی 720 کلومیٹر ہے تیسرا بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند کا درمیانی علاقہ ہے، یہ معاشی زون سب سے اہم ہے معدنیات کے علاوہ مچھلیاں، جھینگے وافر مقدار میں موجود ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب سے پاکستان بنا ہے اس پر کوئی توجہ نہیں رہی،اور دنیا بھر میں سمندر سے روزی حاصل کرنے والے خوشحال ہوتے ہین لیکن کراچی میں ماہی گیروں کی حالت یہ ہے کہ وہ غربت میں ہیں،پاکستان میں بہت زیادہ پوٹیشنل ہونے کے باوجود ماہی گیری کا شعبہ 0.4 فیصد حصہ ڈال رہا ہے اور اس سال 0.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے،جو کہ ابھی بڑا کم ہے، پاکستان میں بلیو اکانومی کو اگر جمپ دے دیا جائے تو اسکا جی ڈی پی 30 گنا زیادہ ہو سکتا ہے اور اس سلسلے میں اگر گوادر پر ہی توجہ دے لیں تو ہماری معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج بھی ٹرانسپوٹیشن کا سب سے سستا ذریعہ شپنگ ہے، گڈانی 1970 کی دہائی میں دنیا کی سب سے زیادہ جہاز چھوڑنے والی ایک تھی لیکن اب یہ بھارت اور بنگلہ دیش کے بعد تیسرے نمبر پر ہے،اگر اس صنعت کو زیادہ کیا جائے تو سالانہ جی ڈی پی میں کئی ملین اضافہ ہو سکتا ہے،
سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات
خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔
دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے
سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات
سعودی عرب اور اسرائیل کا نیا کھیل، سنئے اہم انکشافات مبشرلقمان کی زبانی
کرونا وائرس، امید کی کرن پیدا ہو گئی،وبا سے ملے گا جلد چھٹکارا،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی
محمد بن سلمان کے گرد گھیرا تنگ، خوف کا شکار، سنئے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ساحلی سیاحت پر کوئی توجہ نہٰیں دی گئی،پاکستان میں 65 ہزار افراد سالانہ تھائی لینڈ جاتے ہیں، مالدیپ میں 6 ہزار ،پھچلے سال دبئی جانے والوں میں ایک فیصد کا اضافہ ہوا انکی تعداد 16 ملین بنتی ہے، ساحلی سیاحت پر توجہ دے دیں تو ہماری معیشت میں کتنا اضافہ ہو سکتا ہے،اس میں ہوٹلز بنیں گے،ریسٹورینٹس بنیں گے، ماضی میں اس پر توجہ نہیں دی گئی، اب پیک کی وجہ سے اور عمران خان کی بلیو اکانومی ویژن کی وجہ امید جاگ گئی ہے کہ ہو سکتا ہے اس پر توجہ دی جائے،اور پاکستان کی معیشت کو مضبوط کیا جا سکے حکومت کی کوشش کسی حد تک کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے دو سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 16 ارب 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کم کرنے میں کامیاب ہو گئی، وبا کے دوران بھی کچھ کامیابی حاصٌل ہوئی ہے ، اب اپوزیشن بھی ایکٹو ہو گئی ہے اور اپوزیشن کے رہنماؤن کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن کی ملاقاتوں کا مقصد نیب کو ختم کروانا ہے،حکومت کو ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی کے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے، اسلئے اب اپوزیشن کوشش کر رہی ہے کہ حکومت کو بلیک میل کیا جائے،یہ قوانین کسی طرح پاس کروائے جائیں، آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا،
مودی کیلئے وقت ہے وہ اب بھی عمران خان کو فون کر کے مدد مانگ لے،مبشر لقمان کا مودی کو مشورہ
-

تربت میں دہشت گردوں کی سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ، لانس نائیک شہید، 3 جوان زخمی
راولپنڈی: تربت میں دہشت گردوں کی سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ، لانس نائیک شہید، 3 جوان زخمی،اطلاعات کے مطابق تربت میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ سے لانس نائیک جاوید کریم شہید اور 3 جوان زخمی ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق صوبہ بلوچستان کے علاقے تربت میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے لانس نائیک جاوید کریم شہید اور 3 جوان زخمی ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا، سرچ آپریشن جاری ہے، فائرنگ کا واقعہ تربت سے 35 کلو میٹر دور کیچ کے علاقے میں پیش آیا۔
اس سے قبل رواں ماہ 12 جولائی کو شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 4 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کے قافلے پر فائرنگ سے کیپٹن سمیت 2 جوان شہیداور 2 زخمی ہوگئے تھے، فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد بھی مارا گیا تھا۔
