Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بھارتی فوج کی ایل او سی کی خلاف ورزی،2 بچوں سمیت 5 شہری زخمی

    بھارتی فوج کی ایل او سی کی خلاف ورزی،2 بچوں سمیت 5 شہری زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر ایک بار پھر بلااشتعال فائرنگ کی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے نکیال سیکٹر میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا،بھارتی فوج کی فائرنگ سے 5شہری زخمی ہو گئے جنہیں ابتدائی طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق زخمیوں میں 2 لڑکے اور 2 بزرگ خواتین بھی شامل ہیں،پاک فوج کی جانب سے بھارتی فائرنگ کا فوری اور موثر جواب دیاگیا،

    یوم یکجہتی کشمیر، پاک فوج نے جاری کیا کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے ملی نغمہ "کشمیر ہوں میں”

    یوم یکجہتی کشمیر پر علی امین گنڈا پور نے کی قوم سے بڑی اپیل، کیا کہا؟

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    کشمیری اکیلے نہیں،ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، غیر متزلزل حمایت جاری رہے گی،آرمی چیف

    مسلح افواج کشمیریوں کے ساتھ ہیں، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا پیغام

    خون کے آخری قطرے تک کشمیریوں کے ساتھ، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    رواں سال بھارت سیز فائر معاہد ے کی ایک ہزار90  خلاف ورزی کی گئی،بھارتی فورسز کی طرف سے مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنایاجارہا ہے، بھارتی اشتعال انگیزیوں میں 13 شہری شہیداور112 زخمی ہوئے،

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا قابل مذمت ہے،بھارت کی اشتعال انگزیزی خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے، بھارت اپنی حرکتوں سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا،بھارت اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے، بھارت 2003کے جنگ بندی انتظام کی پاسداری کرے،

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین، اقدار کے منافی ہے،اقوام متحدہ فوجی مبصر مشن کو ایل او سی پر کام کرنے دیا جائے،

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    رواں سال ایل او سی پر بھارتی جارحیت میں مزید اضافہ ہو چکا ہے ،مودی نےآرایس ایس کے انتہا پسندنظریہ اورتشددکی پالیسی کو سرحد پار تک پھیلا دیا،ایل اوسی پرجنگ بندی کی خلاف ورزیوں کابھارتی ٹریک ریکارڈ بدسے بدتر ہوتاجارہا ہے

  • اور ڈاکٹر ظفر مرزا بھی کرونا کا شکار ہو گئے

    اور ڈاکٹر ظفر مرزا بھی کرونا کا شکار ہو گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئے

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کی ہدایت پر خود کو آئیسو لیٹ کردیا ہے،کورونا کے معمو لی علامات تھیں، ٹیسٹ کروانے پر کرونا مثبت آیا جس کے بعد خود کو آئسولیٹ کر لیا ہے

    واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا مریضوں میں اضافہ ہو رہاہے، وزیرخارجہ شاہ محمو دقریشی کو بھی کرونا ہو چکا ہے، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا گزشتہ روز کرونا ٹیسٹ منفی آ گیا

    پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 50 مریض جاں بحق ہوو گئے ہیں جبکہ 3344 نئے مریض سامنے آئے.

    پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 4ہزار762 ہوگئی ہے جبکہ ملک بھر میں کرونا کے 2لاکھ 31 ہزار 818 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکی جانب سے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ24 گھنٹوں میں کورونا سے صرف50 افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے 44 مریض ہسپتالوں اور6 کا انتقال گھروں میں ہوا. بلوچستان اور گلگت بلتستان میں گزشتہ روز کورونا وائرس سے کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔ پاکستان میں صحتیاب افراد کی تعداد ایک لاکھ 31 ہزار649 ہوگئی ہے.

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں 22 ہزار 271 ٹیسٹ کیے گئے اور اب تک ملک میں 14 لاکھ 20 ہزار 623 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد94ہزار528، پنجاب81ہزار963، خیبرپختونخوا28 ہزار 116، بلوچستان 10ہزار 814، اسلام آباد13ہزار494، آزاد جموں وکشمیرایک ہزار342 اور گلگت میں کورونا کیسز کی تعدادایک ہزار561ہوگئی ہے۔

    کورونا وائرس کے باعث آزاد کشمیر میں 35، بلوچستان میں 123، گلگت میں 28، اسلام آباد میں 134، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار20، پنجاب میں ایک ہزار 871اور سندھ میں ایک ہزار501 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں

     

  • آصف زرداری پر فرد جرم عائد کرنے کی کاروائی ایک بار پھر مؤخر

    آصف زرداری پر فرد جرم عائد کرنے کی کاروائی ایک بار پھر مؤخر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت اسلام آباد میں پارک لین کیس کی سماعت14جولائی تک ملتوی کر دی گئی

    سابق صدرآصف علی زرداری پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی پھر موخر کر دی گئی،آئندہ سماعت پر آصف زرداری کی متفرق درخواست پر نیب جواب داخل کرے گا

    آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے درخواست دائر کی،آصف زرداری پر فرد جرم عائد نہ کرنے کی درخواست دائرکی گئی، نیب نے کہا کہ آپ اس درخواست پرہمیں نوٹس جاری کریں، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی بہت سے کیسز ہیں، اس کیس میں جلدی کیوں ہے؟ہمیں مناسب وقت دیا جائے، ایک ماہ کا اسٹے آرڈر نہیں مانگ رہا ،نیب پراسکیویٹر نے کہا کہ جواب نیب کو داخل کرنا ہے توجواب کیلیےتوہمیں مہلت مانگنی چاہیےتھی،ریفرنس نقول دینےکےبعد7دن میں فرد جرم عائد کرناضروری ہے،

    آصف زرداری کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ جان بوجھ کر ڈیفالٹ کی گئی کمپنی کے لیے قانون واضح ہے،گورنر اسٹیٹ بینک کے لیے قانون کے مطابق نوٹس دینا ضروری تھا،اس کے لیے پڑھنا پڑتا ہے، چیزیں نکالنی پڑتی ہیں،

    عدالت نے کہا کہ اب فردجرم عائدکرنےکیلیےوڈیولنک کےانتظامات مکمل کرلیےگئےہیں،آپ کو چاہیے تھا کہ یہ درخواست پہلے دائر کرتے ،

    آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ آئندہ منگل کو کیس سماعت کے لیے رکھ لیں، ریسرچ کرنی ہے، جج اعظم خان نے کہا کہ آپ 9 جولائی کو پیش ہو جائیں، جس پر وکیل نے کہا کہ 9جولائی کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیس ہے،

    سابق صدر آصف زرداری کی وڈیو لنک کے ذریعے حاضری لگائی گئی،آصف زرداری کے وکیل نے کہا کہ درخواست دی ہے کہ فرد جرم عائد نہیں ہو سکتی، آصف زرداری نے وکیل سے پوچھا کہ اس کا اب پراسیس کیا ہو گا ؟ جس پر وکیل نے کہا کہ درخواست پر فیصلہ ہو گا اس کے بعد عدالت فرد جرم عائد کرنے کا بتائے گی،

    آصف زرداری نے وکیل سے پوچھا کہ اس کے بعد ٹرائل شروع ہو گا؟ جس پر وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جی اس کے بعد ٹرائل کا آغاز ہو گا،

    حدیث اور سائنس کی روشنی میں کرونا وائرس 12مئی کے بعد ختم ہوجائے گا؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    پیپلز پارٹی بمقابلہ اے آروائی ،مبشر لقمان اصل حقیقت منظر عام پر لے آئے

    جماعت اسلامی کیخلاف پروگرام پر انکی طرف سے کیا ردعمل آتا ہے؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    آسمان سے اہم پیغام آگیا،سمجھنے والوں کے لیے اشارہ کافی،سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    بڑی خبر آ گئی، آصف زرداری زندہ ہیں یا نہیں؟ سنئے حقیقت مبشر لقمان کی زبانی

    بڑی خوشخبری، پاکستان کی قسمت جاگنے والی ہے، کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے نیب کو پارک لین کے حوالہ سے جواب میں کہا تھا کہ پارک لین کمپنی 1989 میں صدرالدین ہاشوانی سے خریدی، اقبال میمن، کم عمر بلاول، رحمت اللہ، محمد یونس، الطاف حسین میرے شراکت دار تھے۔پارک لین کمپنی میں صرف 25 فیصد حصص کا مالک تھا، صدر بننے سے پہلے یکم ستمبر 2008 کو کمپنی ڈائریکٹرشپ سے مستفیٰ ہوا تھا

    نیب کے مطابق آصف زرداری پارک لین کمپنی کے 25 فیصد شیئرہولڈررہے،آصف زرداری نے جعلی کمپنی پارتھینون بنا کر ڈیڑھ ارب قرض لیا، آصف زرداری اورساتھیوں کی کرپشن،منی لانڈرنگ ثابت ہوگئی

  • پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری، مزید 50 اموات،مریضوں میں بھی اضافہ

    پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری، مزید 50 اموات،مریضوں میں بھی اضافہ

    پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری، مزید 50 اموات،مریضوں میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 50 مریض جاں بحق ہوو گئے ہیں جبکہ 3344 نئے مریض سامنے آئے.

    پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 4ہزار762 ہوگئی ہے جبکہ ملک بھر میں کرونا کے 2لاکھ 31ہزار818 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکی جانب سے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ24 گھنٹوں میں کورونا سے صرف50 افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے 44 مریض ہسپتالوں اور6 کا انتقال گھروں میں ہوا. بلوچستان اور گلگت بلتستان میں گزشتہ روز کورونا وائرس سے کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔ پاکستان میں صحتیاب افراد کی تعداد ایک لاکھ 31 ہزار649 ہوگئی ہے.

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں 22 ہزار 271 ٹیسٹ کیے گئے اور اب تک ملک میں 14 لاکھ 20 ہزار 623 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد94ہزار528، پنجاب81ہزار963، خیبرپختونخوا28 ہزار 116، بلوچستان 10ہزار 814، اسلام آباد13ہزار494، آزاد جموں وکشمیرایک ہزار342 اور گلگت میں کورونا کیسز کی تعدادایک ہزار561ہوگئی ہے۔

    کورونا وائرس کے باعث آزاد کشمیر میں 35، بلوچستان میں 123، گلگت میں 28، اسلام آباد میں 134، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار20، پنجاب میں ایک ہزار 871اور سندھ میں ایک ہزار501 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں

  • ایم ایٹ پر کام کا آغاز کردیا،پاکستان کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ، چیئرمین سی پیک اتھارٹی

    ایم ایٹ پر کام کا آغاز کردیا،پاکستان کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ، چیئرمین سی پیک اتھارٹی

    اسلام آباد: ایم ایٹ پر کام کا آغاز کردیا،پاکستان کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ، چیئرمین سی پیک اتھارٹی،اطلاات کے مطابق سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین اور اطلاعات ونشریات کے معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ ایم ایٹ پر کام کا آغاز حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سینٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے 146 کلومیٹر طویل ہوشاب تا آواران روڈ کے لئے26 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کیچ اور آوران کے دور دراز اضلاع میں یہ شاہراہ پسماندہ جنوبی بلوچستان کے لئے امید کی ایک کرن ہے اور ان علاقوں کے لوگوں کی زندگی میں تبدیلی آئے گی۔

    عاصم سلیم باجوہ نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ 230 ملین ڈالر کی لاگت سے گوادر میں بین الاقوامی طرز کے ائیرپورٹ کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ گوادر ائیرپورٹ کی تعمیر سے شہر ترقی کے کے نئے دور میں شامل ہوگا۔

     

    انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت گوادر شہر کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ گوادر میں بین الاقوامی طرز کا ائیرپورٹ ہونا بھی انتہائی ضروری امر تھا۔ گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر کا آغاز گزشتہ سال ہوا تھا اور منصوبے پر کام زور و شور سے جاری ہے۔

    عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ گوادر کے جدید ترین ائیرپورٹ کے رن وے پر دنیا کے سب سے بڑے مسافر بردار طیارے A380 کو بھی لینڈنگ اور اڑان بھرنے کی سہولت موجود ہوگی۔

     

    چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایت کے مطابق گوادر میں جاری تمام ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ گوادر میں دو سو تیس ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والا ائیرپورٹ گوادر شہر اور پورٹ کے لیے پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ائیرپورٹ کی تعمیر سے جہاں گوادر بین الاقوامی شہر کا درجہ حاصل کرلے گا وہیں اس منصوبے سے روزگار کے مواقع اور شہر کی ترقی میں انتہائی معاون بھی ثابت ہوگا۔

  • بھارتی فوج کی کنٹرول لائن بٹل سیکٹر پر سیز فائرکی خلاف ورزی

    بھارتی فوج کی کنٹرول لائن بٹل سیکٹر پر سیز فائرکی خلاف ورزی

    ‏بھارتی فوج نے کنٹرول لائن بٹل سیکٹر پر سیز فائرکی خلاف ورزی کی ہے۔ بھارتی فوج کی طرف سے بلاجواز فائرنگ کی گئی جس کے نتیجہ میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق ‏22سالہ شہری زخمی ہو گیا ،ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ‏پاک فوج نےبھارتی فائرنگ کاموثرجواب دیا۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ‏بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ میں شہری آبادی کو مارٹر اوربھاری ہتھیاروں سےنشانہ بنایا گیا۔ جب کہ ‏بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پرسیز فائرکی خلاف ورزی گزشتہ رات کی۔

  • پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 2لاکھ 28 ہزار 274 ہو گئی

    پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 2لاکھ 28 ہزار 274 ہو گئی

    پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 2لاکھ 28 ہزار 274 ہو گئی

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق 24گھنٹے میں 93افرادکورونا کے باعث جاں بحق ہوئے اور3 ہزار 191 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔پاکستان میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد4 ہزار 712 ہو گئی ہے اور 2لاکھ 28 ہزار 274 افراد متاثر ہیں۔

    پاکستان میں گزشتہ24گھنٹوں میں 4ہزار736 مریضوں نے کورونا کو شکست دی اور 25 ہزار 527 ٹیسٹ کیے گئے۔ ملک میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 29 ہزار 830 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 90 ہزار 721 ہو گئی ہے جب کہ پنجاب میں 80 ہزار 297 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
    خیبر پختونخوا میں 27 ہزار 506، بلوچستان میں 10 ہزار 717، اسلام آباد میں 13 ہزار 292، آزاد جموں و کشمیر ایک ہزار 160 اور گلگت میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار 536 ہو گئی ہے۔

    کورونا وائرس کے باعث آزاد جموں و کشمیر میں 34، بلوچستان میں 122، گلگت میں 28، اسلام آباد میں 130، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 2، پنجاب میں ایک ہزار 844 اور سندھ میں ایک ہزار 459 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    آنے والے دنوں میں پاکستان میں کورونا کیسز اور اموات میں اضافہ متوقع ہے۔ معان خصوصی ظفر مرزا نے بھی خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا کیسزاوراموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز پر بھی مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے گنجان آباد علاقوں میں کورونا وائرس کے کیسز زیادہ ہیں.

    ادھر وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے بہترین نتائج مل رہے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے قیام کو 100 دن مکمل ہونے پر وزیر اعظم نے سینٹر کا کا دورہ کیا اور کورونا وائرس کیخلاف ملک بھر میں مربوط اقدامات کو یقینی بنانے میں این سی او سی کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ،وفاقی وزراء ، اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔

  • مبشر لقمان کے ناکارہ گاڑیوں کے خلاف کئے گئے پروگرامز نتیجہ خیز ثابت ہوئے، گاڑیوں کا معیار کچھ بہتر ہوا ہے، قمر الزماں کائرہ

    مبشر لقمان کے ناکارہ گاڑیوں کے خلاف کئے گئے پروگرامز نتیجہ خیز ثابت ہوئے، گاڑیوں کا معیار کچھ بہتر ہوا ہے، قمر الزماں کائرہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما، سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے یوٹیوب چینل پر بات چیت کی

    قمر زمان کائرہ نے ملکی سیاسی صورتحال پر مبشر لقمان کے سوالات کا جواب دیا، وہیں آخر میں مبشر لقمان نے قمر زمان کائرہ کے بیٹے کی کار حادثے میں موت کا تذکرہ کیا اور انکے لئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے سوال کیا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کا جو گھر میں حادثہ ہوا، بیٹا اللہ کو پیارا ہو گیا، اللہ انکی مغفرت کرے، سوال یہ ہے کہ اسکے بعد کم ازکم 28 پروگرام کئے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر، گاڑیوں کی ساکھ کے اوپر، ڈیٹا جمع کر کے دیا، کہ 1 لاکھ 10 ہزار لوگ ان گاڑیوں کے حادثات میں مارے گئے، دہشت گردی میں مرنے والے تو سب نظر آ جاتے ہیں لیکن یہ کمرشل دہشت گردی ہمارے سڑکوں پر ہو رہی ہے اس پر ہمیں نظر نہیں آتا، 18 ایم این ایز، وزیروں، تحریک انصاف ،پی پی، ن لیگ کے اراکین نے وعدہ کیا لیکن آج تک اسمبلی میں کوئی پارٹی، حکومت فیصلہ نہیں کر سکی کہ ہم نے یہ سب سٹینڈرڈ گاڑیان کب بند کرنی ہیں، کب امپورٹڈ گاڑیوں کا فراڈ بند کرنا ہے کہ جن میں کٹس پوری نہیں ہوتیں اور لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں،جب عوام یہ دیکھتی ہے کہ تمام سیاستدان عوام کے مسائل کے لئے اکٹھے نہیں ہو سکتے اپنے مفادات کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں تو پھر معذرت کے ساتھ عوام کا سیاستدانوں پر اعتماد کم ہونا شروع ہو جاتا ہے

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    عمران خان کی حکومت کو کس سے خطرہ ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان اور مرتضی علی شاہ کی زبانی

    بڑے گھر سے خبر آ گئی، کوئی مائنس ون نہیں ہونے والا، سنیے اہم انکشافات مبشر لقمان اور کاشف عباسی کی زبانی

    ڈارک ویب کی پراسرار دنیا، اہم انکشافات ، سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    قاتل گاڑیاں سڑکوں پر، مبشر لقمان نے‌ آواز اٹھائی تو شہریوں نے دعائیں دیں

    قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ میں آپ کا اور تمام ساتھیوں کا مشکور ہوں، کہ دکھ میں ہمارے لئے دعائین کیں آج بھی دعا کی، اللہ آپ کو جزا دے، آپ کے پروگرام میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں جو بحث ہوئی اسکے نتیجے میں‌ فرق ضرور آیا،اب جو گاڑیاں آرہی ہیں اگر چھوٹی گاڑی سوزوکی بھی آ رہی ہے تو اس میں بھی دو دو ایئر بیگز لگ کر آ رہے ہیں، پریشر بلڈ ہوا ہے، یہ بات درست ہے کہ ڈاکٹر شیرافگن نیازی کا بیٹا ایکسڈینٹ میں فوت ہوا اسوقت ہم نے شور کیا اسمبلی میں بات کی،

    قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں جو سٹینڈرڈ مینٹین کرنے کا ہے، اداروں کو ریگو لیٹ کرنے والا ہے، انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنے والا ہے وہ بھی ایک پارٹی ہے، ہم ایک ایسے سماج میں ہیں جس میں چیزیں آسانی سے مینج ہو جاتی ہیں،کہ جو گاڑیاں پاس کی جاتی ہین کمرشل گاڑیاں، سواریوں والی، مال گاڑیاں، چھوتی سے بڑی، سوزوکی سے لے کر ٹریلر تک یہ ہر سال پاس ہوتے ہیں ٹیکنکلی،لیکن یہ کبھی ورکشاپ میں نہیں گئے،پیسے دے کر سرٹفکیٹ ایشو ہو جاتے ہیں،جو گاڑیاں امپورٹ ہو رہی ہیں،اس میں یہ بات بھی درست ہے کہ ہمارے ہاں اپنی گاڑیوں کو جب تک خراب نہین ہو جائیں سالانہ مینٹینس نہیں کرواتے،سرٹفکیٹ کا پراسس ہمارے ہاں نہیں ،دوسرا ہمارے ہاں اپنی گاڑیوں کا بھی مسئلہ ہے، بدقسمتی ہے کہ گاڑیاں چیک کے لئے نہیں بھیجتے، بیگز کے، بریک کے حادثات ہوتے ہیں،ان میں جو سسٹم لگے ہوتے ہیں، بعض اوقات ٹائر کی حالت دیکھیں ،جو ہمار نظام ہے ہم خود بھی دھیان ہیں کرتے،

    قمر زمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا ریگولیٹر سسٹم اتنا اچھا نہیں، امپورٹڈ گاڑیاں دس دس سال پرانی آ جاتی ہیں انکے اندار وہاں تو چیک ہوتا رہتا ہے لیکن جب یہاں 5 سال پرانی مزید ہوتی ہے تو اس میں زیادہ مینٹنس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم روٹین مینٹنس نہیں کرواتے،اسکو آگاہی کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے، اسکی کاسٹ ہوتی ہے،ہمارا یہ ایک پرابلم ہے اگر گاڑی جس طرح سپر فٹ ہونی چاہئے،استعمال کے لئے اس کے لئے کاسٹ ہے اکثرلوگ اس میں دیر نہیں کرتے جو دیر کرتے ہیں وہ کیئر نہیں کرتے.

    مڈٹرم الیکشن اور مائنس ون، اصل حقیقت کیا؟ قمر الزمان کائرہ نے سب بتا دیا

  • مڈٹرم الیکشن اور مائنس ون، اصل حقیقت کیا؟ قمر الزمان کائرہ نے سب بتا دیا

    مڈٹرم الیکشن اور مائنس ون، اصل حقیقت کیا؟ قمر الزمان کائرہ نے سب بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آجکل اسلام آباد میں سیاسی بہت کچھ ہو رہا ہے، میں نے سوچا کسی سیاسی شخصیت کو بلاؤں جو قدآور ،قابل احترام ہو اور جس کے اوپر لوگوں کا اعتماد بھی ہو، کہ یہ بندہ بات صحیح کرے گا چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے ہو،آج ہمارے ساتھ قمر الزمان کائرہ موجود ہیں

    مبشر لقمان نے پہلا سوال کرتے ہوئے کہا کہ قمرالزمان کائرہ صاحب کیا کھچڑی پک رہی ہے اسلام آباد میں کہ وزیراعظم عمران خان کو مائنس ون منہ سے کہنا پڑ گیا،یہ نوبت کیوں آ گئی ہے،جس پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ جو حکومتیں فلسفے اور نظریئے کے تحت نہیں بنتیں اور وہ جماعتیں جو بنگلوں میں پودے اگائے جاتے ہیں وہ زمین میں نہیں اگتے ،اس جماعت کا پرابلم یہ ہے کہ اس میں جولوگ ہین وہ ایک جماعت کی طرح اکٹھے نہیں اسلئے کہ انکا ماضی نہیں وہ الگ الگ جماعتوں سے آئے اور ایک خاص وقت پر آکر ان کو مخصوص اشارے ملے جو ہمارے ملک میں ملا کرتے ہیں اور ان مخصوص اشاروں کے تحت وہ لوگ اقتدار کے لئے الیکشن جیت کر حکومت انجوائے کرنے کے لئے وہ تبدیلی، کسی سماجی بہتری، انصاف کے لئے نہیں بلکہ اقتدار کے لئے اکٹھے ہوئے، کس طرح ملک میں طاقتور لوگ اس طرح کے اشارے دیتے ہیں لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں الیکشن سے قبل ایسا ہوتا ہے،چند شاید پرانے چہرے پی ٹی آئی میں نظر آئیں، الیکشن میں جو انہوں نے سلوگن دیا تھا وہ ٹھیک تھا کہ ہم انصاف لائیں گے، قرضے نہیں لیں گے، پٹرول، چینی سستی کریں گے، یہ نعرے لگتے رہے اور یہ کہ پہلے والے لوٹ کر کھا گئے ہیں ہم دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں گے، لوگوں کو خواب دکھانا تو آسان ہے،لیکن جب اسکی عملی تعبیر کی طرف جائیں تو پھر پتہ چلتا ہے کہ آپ کتنے مجبور ہیں، پی ٹی آئی نے جتنے نعرے مارے تھے، دعوے کئے تھے وہ سب یوٹرن کا شکار ہو گئے اور وہ لوگ جنہوں نے خواب دیکھے تھے آپ جیسے لوگ اور میرے جیسے اور دیگر سب اس خواب میں گئے، طاقتور لوگ بھی ان کے ساتھ تھے ،اس خواب میں بھی لوگ گئے کہ شاید باقی جماعتیں ڈلیور نہیں کر سکیں، خان صاحب آئیں گے تو ڈلیور کر دیں گے لیکن ایسا نہیں ہے،ایک یہ ہے کہ ڈلیور کر نہیں کر سکتے دوسرا اس پر ماضی کی حکومتوں جن کو مورد الزام ٹھہراتے رہے آج بھی دو سال بعد آپ اپوزیشن لیڈر کے طور پر تقریریں کر رہے ہیں،وہ جماعتیں کی پرمارمنس آپ سے کہیں بہتر تھی ان میں ٹیم ورک بہتر تھا، روزگار ،ریونیو بہتر تھا، آپ کے آنے سے سارے حالات خراب ہوئے، میڈیا کے اوپر بھی قدغنیں لگ گئیں، لوگوں کے خواب ٹوٹے، جن لوگوں نے خان صاحب کو ووٹ دئے، اب اسکا ریورس گیئر شروع ہو گیا، میڈیا بھی کب تک برداشت کرتا، کب تک انتظار کرتا، آخر انہوں نے سچ باتیں دکھانی ہیں،ہم تو اپوزیشن کی جماعتیں ہیں اپنی بات کریں گے لیکن جب نیوٹرل آوازوں نے کہنا شروع کیا تو سوکالڈ جو سلیکٹرز ہیں ان میں بھی ڈیبیٹ شروع ہو گئی کہ اگر آپ کی ٹیم مسلسل فیل ہو رہی ہے اسکی فیلڈنگ، بیٹنگ خراب ہے اور آپس میں وہ لڑ رہے ہیں، ٹیم پر کنٹرول نہیں، پھر صرف ٹیم بری رہ نہیں جاتی، چارپانچ میچ جب ہار جاتے ہیں تو صرف ٹیم پر نہیں پھر سیلکٹرز پر بات آتی ہے، مجھے لگتا یوں ہے کہ پاکستان کے لوگوں کا دباؤ، میڈیا کے ذریعے حکومت، ان کے اتحادیوں پر پڑا ہے، جماعت میں جو اختلافات بڑے ہوئے اور سو کالڈ سیلکٹرز کو بھی دباؤ کا سامنا ہے کہ اب ڈلیور تو یہ کر ہی‌نہیں رہے، خان صاحب ماضی کے نعروں کی طرح کہ چھوڑیں گے نہیں پکڑ لیں گے، ڈاکو ہیں، چور ہیں ،فلاض ہیں ،لگا رہے ہیں، بھائی بہت ہو گیا،اب آپ اپنی کارکردگی کی بھی بات کریں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کا طعنہ مجھے بڑا لگ رہا ہے، سچی بات یہ ہے کہ میں نے تحریک انصاف کی کھل کر سپورٹ کی ہے،جس پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ آپ نے ٹھیک کیا، خواب دیکھ کر کیا، کہ باقی جماعتیں توقع پر پوری نہیں اتریں شاید یہ اتریں ،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جتنی آزادی مجھے پیپلز پارٹی کےد ور میں تھی اسکی آدھی بھی آج نہیں ہے،یہ بھی ایک حقیقت ہے

    قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ یہی بات میں نے کی ہے، لوگ ہماری پرفارمنس دیکھیں گے،لوگوں کو ریلیف دیکھیں گے، تنخواہیں،معیشت، جی ڈی پی اسوقت چلیجنر کتنے بڑے تھے، عالمی بحران ،دہشت گردی تھی،لیکن پبلک میں وہ صورتحال نہیں آج پبلک بھی تنگ ہے،ڈلیور بھی کچھ نہیں،‌آزادی بھی نہین اور پھر ہر وقت کوئی نہ کوئی مافیا کا ذکر ہوتا ہے، خان صاھب جب کوئی نوٹس لیتے ہیں وہ چیز مہنگی ہو جاتی ہے کوئی چیز سستی نہیں ہوتی، آٹے، دوائی، چینی کا نوٹس لیا وہ سب مہنگے ہوئے، سستے نہیں ہوئے، اسی طرح پٹرول کی صورتحال ہوئی، وزیراعظم اس میں فیل ہوئے،جو انکا نعرہ تھا کہ ہم دیانتداری لائیں گے لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے وہ بھی نظر نہیں آئی، دو سو ارب ڈالر کو جو کہتے تھے واپس لائیں گے وہ بھی نہیں آیا،پاکستان کے اندر لوگوں پر کیسز ہیں، سپریم کورٹ،ہائی کورٹ ثبوت مانگ رہی ہیں،سالوں سے لوگوں کو جیلوں میں رکھا ہوا ہے، انکے خلاف ریفرنس نہیں بن رہے، پھر بھی الزام دے رہے ہیں کہ مافیا ہے، اپوزیشن پہلے ہی بات کر رہی تھی، اسکو بھی موقع ملا، اسکے نتیجے میں خان صاحب کی اپنی ہی سانس اکھڑی ہے،جس پر خان صاحب کو شک ہوا،میں ؤاضح طور پر کہہ دیتا ہوں کہ پیپلز پارٹی نہ مائنس ون فارمولے پر یقین رکھتی ہے نہ سوچ سکتی ہے،اسی لئے مائنس ون کا فارمولا ضیاالحق کے دور کا تھا کہ بھٹو، بے نظیر کو ہٹا دو پی پی قابل قبول ہے، مشرف کے دور میں تھا کہ بے نظیر کو ہٹا دو پی پی قبول ہے، پھر بعد میں کہا گیا کہ آصف زرداری کو ہٹا دو تو پی پی قبول ہے، یعنی آمرانہ ادوار کے آمرانہ فارمولا مائنس ون ہے، پی پی مائنس ون کو نہیں مانتی، جمہوریت میں جماعت کی حکومت ہے انکے اتحادی ہیں،لیکن یہ حکومت فیل ہو چکی ہے،اسمیں کوئی شک نہیں ، اسکے ساتھ ہی مداخلت نہیں ہونی چاہئے عوامی نمائندے ہیں، عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو حق ملنا چاہئے،کہ وہ ایوان کے اندر سے ایک جماعت اکثریت میں نہیں ہیں اور کوئی نیا الائنس بنے جو حکومت بنائی اس کو بنانے دی جائے، اگر یہ نہین ہوتا تو پھر نئے الیکشن کی طرف جایا جائے، اس جماعت کی حکومت اگر عمران خان سے نہین چل سکی، تو اسکی جماعت مین جن ناموں کا ذکر سن رہے ہیں جو یونیفارم سلوائے پھرتے ہین ، انکی کوئی حیثیت ہے کہ وہ جماعت کو چلا سکیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ووٹ ہیں 158،اگر میں میینگل صاحب کو شامل کروں تو 162، بجٹ پاس ہوتا ہے تو ووٹ نہیں لے سکتے، اپوزیشن بھی ڈھیر ہو گئی ہے حکومت کے سامنے، جس پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے اپوزیشن کا الائنس نہیں ہے، اپوزیشن کو بہتر پرفارمنس کرنا چاہئے تھا، اراکین کو اسمبلی میں لانا چاہئے تھا ، سوال یہ ہے کہ اپوزیشن اسلئے اپوزیشن ہوتی ہے کیونکہ وہ اقلیت میں ہوتی ہے اگر اپوزیشن کے 49 اور حکومت کے 50 ووٹ ہوتے تو بجٹ پھر بھی پاس ہو جاتا، حکومت کو اپنی جو اخلاقی برتری تھی، پچاس فیصد ووٹ کا جو گولڈن نمبر ہوتا ہے،حکومت وہ اچیو نہین کر سکی، حکومت کے لئے اب زیادہ مشکل ہے، اپوزیشن بھی نمبر اپنا نہیں دے سکی، اپوزیشن کی ساری جماعتوں نے ایک ریزولیشن سائن کیا جس میں انہوں نے بجٹ کو مسترد کیا،اگر وہ جماعتیں اگر حکومت بنانے کے لئے اکٹھی ہو جائیں تو اور لوگ بھی آ سکتے ہیں،پی تی آئی کا پتہ نہیں پھر کیا حال رہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب سینیٹ کا الیکشن ہو رہا تھا تو اسوقت آپ کے اپنے پیپلز پارٹی کے سینیٹرز نے آپ کی مرضی کے خلاف ووٹ ڈالا یا نہیں، اگر سینیٹرز نے دھوکہ دیا تو کیا پیپلز پارٹی نے انکے حوالہ سے تحقیقات کیں اور انکو بے نقاب کیا کہ وہ کون لوگ تھے جس پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ جو سینیٹ کا الیکشن تھا وہ خان صاحب یا چیئرمین سینیٹ کی محبت میں نہیں تھا وہ ووٹ کیسے پڑے سب جانتے ہیں ، پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم بین السطور ہی باتیں کرتے ہیں،کہ ہمارے ان دوستوں کو چاہئے کہ عوام کے اجتماعی شعور کو کام کر دیں، سلیکٹڈ شعور نے کبھی کام نہین کیا،وہاں پر کیا ہوا، کہ خفیہ بیلٹ میں ووٹ زیادہ پڑے تھے،لیکن جب کھل کر ووٹ دینے کا وقت آیا،اسوقت وہ ووٹ نہیں تھے، وزیراعظم کے ووٹ مین ووٹنگ میں اوپن ڈویژن ہوتی ہے، اگر لیول پلینگ فیلڈ دے دیا جائے اور سوکالڈ سلیکٹرز پیھچے ہٹ جائیں تو پھر خان صاحب کی جماعت کا کیا حال ہے اور پھر کون سے اتحادی ان کے ساتھ رہتے ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیا آپ مڈٹرم الیکشن دیکھ رہے ہیں،جس پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ جی یہ حکومت تو فیل ہو گئی اب اس کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا یا شام،یہ اگر جاتی ہے تو پھر نئی حکومت پارلیمان کے اندر سے نہیں بنتی اور اگر مداخلت کر کے کوئی نئی حکومت بنائی گئی کہ کچھ پیپلز پارٹی سے لوگ لئے گئے اور کچھ کہیں سے ،تو یہ اس سے بھی بڑا نقصان ہو گا،جو اسوقت صورتحال ہے اسے بھی بڑا نقصان ہو گا، اگر الائنس کی حکومت آتی ہے اور وہ سسٹم کو بہتری کی طرف لے کر جاتی ہے تو ٹھیک ورنہ اسکے علاوہ کیا چوائس بچتی ہے، الیکشن کے بغیر پھر کچھ نہیں رہتا.

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کا جو گھر میں حادثہ ہوا، بیٹا اللہ کو پیارا ہو گیا، اللہ انکی مغفرت کرے، سوال یہ ہے کہ اسکے بعد کم ازکم 28 پروگرام کئے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر، گاڑیوں کی ساکھ کے اوپر، ڈیٹا جمع کر کے دیا، کہ 1 لاکھ 10 ہزار لوگ ان گاڑیوں کے حادثات میں مارے گئے، دہشت گردی میں مرنے والے تو سب نظر آ جاتے ہیں لیکن یہ کمرشل دہشت گردی ہمارے سڑکوں پر ہو رہی ہے اس پر ہمیں نظر نہیں آتا، 18 ایم این ایز، وزیروں، تحریک انصاف ،پی پی، ن لیگ کے اراکین نے وعدہ کیا لیکن آج تک اسمبلی میں کوئی پارٹی، حکومت فیصلہ نہیں کر سکی کہ ہم نے یہ سب سٹینڈرڈ گاڑیان کب بند کرنی ہیں، کب امپورٹڈ گاڑیوں کا فراڈ بند کرنا ہے کہ جن میں کٹس پوری نہیں ہوتیں اور لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں،جب عوام یہ دیکھتی ہے کہ تمام سیاستدان عوام کے مسائل کے لئے اکٹھے نہیں ہو سکتے اپنے مفادات کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں تو پھر معذرت کے ساتھ عوام کا سیاستدانوں پر اعتماد کم ہونا شروع ہو جاتا ہے

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

    860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    عمران خان کی حکومت کو کس سے خطرہ ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان اور مرتضی علی شاہ کی زبانی

    بڑے گھر سے خبر آ گئی، کوئی مائنس ون نہیں ہونے والا، سنیے اہم انکشافات مبشر لقمان اور کاشف عباسی کی زبانی

    قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ میں آپ کا اور تمام ساتھیوں کا مشکور ہوں، کہ دکھ میں ہمارے لئے دعائین کیں آج بھی دعا کی، اللہ آپ کو جزا دے، آپ کے پروگرام میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں جو بحث ہوئی اسکے نتیجے میں‌ فرق ضرور آیا،اب جو گاڑیاں آرہی ہیں اگر چھوٹی گاڑی سوزوکی بھی آ رہی ہے تو اس میں بھی دو دو ایئر بیگز لگ کر آ رہے ہیں، پریشر بلڈ ہوا ہے، یہ بات درست ہے کہ ڈاکٹر شیرافگن نیازی کا بیٹا ایکسڈینٹ میں فوت ہوا اسوقت ہم نے شور کیا اسمبلی میں بات کی، ہمارے ہاں جو سٹینڈرڈ مینٹین کرنے کا ہے، اداروں کو ریگو لیٹ کرنے والا ہے، انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنے والا ہے وہ بھی ایک پارٹی ہے، ہم ایک ایسے سماج میں ہیں جس میں چیزیں آسانی سے مینج ہو جاتی ہیں،کہ جو گاڑیاں پاس کی جاتی ہین کمرشل گاڑیاں، سواریوں والی، مال گاڑیاں، چھوتی سے بڑی، سوزوکی سے لے کر ٹریلر تک یہ ہر سال پاس ہوتے ہیں ٹیکنکلی،لیکن یہ کبھی ورکشاپ میں نہیں گئے،پیسے دے کر سرٹفکیٹ ایشو ہو جاتے ہیں،جو گاڑیاں امپورٹ ہو رہی ہیں،اس میں یہ بات بھی درست ہے کہ ہمارے ہاں اپنی گاڑیوں کو جب تک خراب نہین ہو جائیں سالانہ مینٹینس نہیں کرواتے،سرٹفکیٹ کا پراسس ہمارے ہاں نہیں ،دوسرا ہمارے ہاں اپنی گاڑیوں کا بھی مسئلہ ہے، بدقسمتی ہے کہ گاڑیاں چیک کے لئے نہیں بھیجتے، بیگز کے، بریک کے حادثات ہوتے ہیں،ان میں جو سسٹم لگے ہوتے ہیں، بعض اوقات ٹائر کی حالت دیکھیں ،جو ہمار نظام ہے ہم خود بھی دھیان ہیں کرتے،ہمارا ریگولیٹر سسٹم اتنا اچھا نہیں، امپورٹڈ گاڑیاں دس دس سال پرانی آ جاتی ہیں انکے اندار وہاں تو چیک ہوتا رہتا ہے لیکن جب یہاں 5 سال پرانی مزید ہوتی ہے تو اس میں زیادہ مینٹنس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم روٹین مینٹنس نہیں کرواتے،اسکو آگاہی کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے، اسکی کاسٹ ہوتی ہے،ہمارا یہ ایک پرابلم ہے اگر گاڑی جس طرح سپر فٹ ہونی چاہئے،استعمال کے لئے اس کے لئے کاسٹ ہے اکثرلوگ اس میں دیر نہیں کرتے جو دیر کرتے ہیں وہ کیئر نہیں کرتے.

    ڈارک ویب کی پراسرار دنیا، اہم انکشافات ، سنئے مبشر لقمان کی زبانی

  • وزیراعظم کا نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول آپریشن سینٹر کا دورہ،بریفنگ ،اعلامیہ جاری

    وزیراعظم کا نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول آپریشن سینٹر کا دورہ،بریفنگ ،اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ این سی او سی نے جن مشکل حالات میں کام کیا قوم کو اس پر فخر ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے بہترین نتائج مل رہے ہیں۔

    وزیر اعظم کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں کورونا کی صورت حال پر اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء، معاونین خصوصی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت اعلٰی عسکری حکام بھی شریک ہوئے۔

    اجلاس میں نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) اور محکمہ صحت کے حکام نے کورونا کی تازہ صورت حال پر بریفنگ دی۔

    اس موقع پر وزیراعظم کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی 100 روزہ کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی جس پر وزیراعظم نے این سی او سی کو خراج تحسین پیش کیا۔

    وزیراعظم کو ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے نتائج پر بھی بریفنگ دی گئی، جس پر ان کا کہنا تھا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے بہترین نتائج موصول ہو رہے ہیں۔

    دوسری طرف نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی)کے خدمت اور قومی کاوش کے 100دن مکمل ہوگئے، این سی و سی نے اِن100دِنوں میں قومی یکجہتی اور وَبا سے نمٹنے کے لئے دِن رات بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے اور معیشت کو بحال رکھنے کی حکمت عملی وضع کی۔

    این سی او سی کے مطابق الحمدللہ آج ملک میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد مثبت کیسز سے زیادہ ہوچکی ہے۔ ملک بھر میں ایک لاکھ 25ہزار 94 کورونا مریض مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں۔