باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف بھی نیب کے ریڈار پر آ گئے
نیب لاہور نے ن لیگی رکن اسمبلی خواجہ آصف کو طلب کر لیا، نیب لاہور نے خواجہ آصف کو 26 جون کو صبح 11 بجے طلب کر لیا۔
خواجہ آصف کو کینٹ ہاوسنگ سوسائٹی کیس میں طلب کرلیا گیا، نیب کی جانب سے خواجہ آصف کو کوئی سوالنامہ بھی نہیں بھیجا گیا،نیب نے خواجہ آصف کی طلبی کا نوٹس جاری کر دیا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لاہور کے مزید 7 علاقے سیل کرنے کاا علان کر دیا
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ گلشن راوی،ماڈل ٹاؤن،گلبرگ،فیصل ٹاؤن،گارڈن ٹاؤن ،ڈی ایچ اے،والڈ سٹی کوسیل کیاجارہاہے، سیل کیے گئے علاقوں میں بنیادی اشیا کی دکانیں کھلی رہیں گی ،سات مزید علاقوں کو لاک ڈاؤن کرنے کا اہم مقصد ہی کورونا سے بچاؤہے،ہم پوری کوشش کررہے ہیں کہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے،اسمارٹ لاک ڈاوَن کا مقصد کورونا کے پھیلاوَ کو روکنا ہے،گلبرگ، فیصل ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن سمیت 7 علاقوں کو رات12 بجے سے سیل کیا جارہا ہے،
یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے،جن علاقوں میں کورونا کیسز بڑے وہ مکمل سیل کررہے ہیں،پنجاب میں 30 سے 35 فیصدبیڈزدستیاب ہیں،کورونامریضوں کی ریکوری 20 ہزارکےقریب ہوگئی،پبلک سیکٹر میں 250ہائی ڈیپنڈیسی یونٹس ہیں،پبلک سیکٹر میں 60وینٹی لیٹرز موجود ہیں،تیس سے پچاس فیصد بیڈز اسپتالوں میں خالی پڑے ہیں
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ کورونا ختم نہیں ہوگا لیکن ایس او پیز پر عمل درآمد سے کم ضرور ہوگی،امید ہے جن علاقوں کو بند کیاجائے گا وہاں بھی کیسز کم آئیں گے،
دوسری جانب سمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت لاہور میں علاقوں کی بندش کا آٹھواں روز ہے، شہر کے دیگر علاقوں کی طرح رائل پارک کےعلاقے کو بھی بیریئر اور خار دار تاریں لگا کر بند رکھا گیا، داخلی و خارجی راستوں پر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
رائل پارک میں تقریباً 150 کے قریب گھر اور 120سے زائد کمرشل دکانیں ہیں جہاں پر ایک ہزار کے قریب افراد رہائش پذیر ہیں، رہائشیوں کی غیر ضروری آمدورفت پر پابندی ہے۔ شہریوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے ایک بار پھر علاقے کی سیمپلنگ کرانے کامطالبہ بھی کیا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت جاری ہے
قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کراچی طیارہ حادثے کے دن ہی انکوائری کمیشن تشکیل دیا،پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد 12 طیارہ حادثات ہوئے،کیاان حادثات کے ذمے داروں کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا؟
غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے کے 3 روز بعد فرانسیسی تفتیشی ٹیم پاکستان آ ئی، انکوائری میں سینیر پائلٹس کو بھی شامل کیا گیا، ایئر بس کی ٹیم نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا اور معلومات جمع کیں، صاف شفاف انکوائری ہورہی ہے، آج طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ پیش کررہے ہیں،
غلام سرور خان نے کہا کہ طیارہ گرنے سے 29 گھروں کونقصان پہنچا،جن گھروں پرطیارہ گرا ان کا سروے کروادیا ہے،جاں بحق ہونے والے 90 افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا گیا،طیارے کے پائلٹس طبی طور پر جہاز اڑانے کے لیے فٹ تھے ،پائلٹس نے دوران پرواز کسی قسم کی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی،ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارہ پرواز کے لیے سو فیصد فٹ تھا،
وفاقی وزیر غلام سرور نے کہا کہ کنٹرولر نے3بارپائلٹس کی توجہ مبذول کروائی کہ لینڈنگ نہ کریں ایک چکر اور لگائیں ،پائلٹس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات کو نظر انداز کیا،
وفاقی وزیر غلام سرور کا کہنا تھا کہ رن وے کی ٹوٹل لینتھ 11 ہزار ہوتی ہے جو گائیڈ لائن ہیں اس میں 1500 پر ٹچ کرنا چاہئے، جہاز لینڈنگ گیر کے بغیر ٹچ ہوا،4500 فٹ پر انجن پر ٹچ ڈاؤن کرتا ہے، ویڈیو میرے پاس موجود ہے، 3 بار جہاز لگتا ہے، پھر جمپ لیتا ہے، جہاز 3 ہزار سے 4 ہزار فٹ تک رن وے پر رگڑیں کھاتا رہا،اس رگڑیں کھانے کے بعد انجن کافی حد تک متاثر ہوا، اسی دوران پائلٹ نے دوبارہ جہاز اٹھا لیا، کوئی ہدایت نہیں دی گئی، دونوں طرف سے کوتاہی ہوئی، جہاز کا انجن ٹچ ہوا تو اے ٹی سی کو ہدایات دینی چاہئے تھے
غلام سرور خان کا مزید کہنا تھا کہ جہاز دوبارہ ٹیک آف ہوا تو دونوں انجن متاثر ہو چکے تھے ،پائلٹ نے دوبارہ لینڈنگ کی اجازت مانگی لیکن جو اپروچ اسے دی گئی وہ اس تک نہ پہنچ سکا اور سول آبادی تک گر گیا، جن لوگوں کی ہلاکتین جہاز گرنے کے بعد ہوئی، آگ لگنے کے بعد دو لوگ بچ گئے، میری ان سے ملاقات ہوئی،ایک کی کرسی جب گری تو مکان کے تھرڈ سٹوری پر گری اور بال کی طرح گرا اور فرسٹ فلور پر آیا پھر اسے ریسکیو کیا گیا، وہ معمولی زخمی تھا اس نے پہلی بات کی اور کہا کہ میری بات میری ماں سے کروائین، اس نے پہلی کال ماں کو کی اور کہا کہ ماں کی دعا سے بچ گیا ہوں
غلام سرور خان نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق پائلٹ اور کنٹرولر نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا، پائلٹ نے نظر انداز کیا اور ایئر ٹریفک کنٹرولر نے انجن کی رگڑیں کھانے کے حوالہ سے آگاہ نہیں کیا، میں نے خود وائس ریکارڈنگ سنی، آخری آدھے گھنٹے کی، بدقسمتی سے کاک پٹ پر جانے سے پہلے یا بعد پائلٹ کے آخری الفاظ تین بار یا اللہ ، یا اللہ تھی ،لیکن تھرو آؤٹ جو ڈسکشن تھی وہ کرونا کے بارے میں تھی، پائلٹ اور کو پائلٹ فوکس نہیں تھے، انکے ذہن پر کرونا سوار تھا ،لیندنگ پوزیشن پر آیا تو کنٹرولر نےا سے منع کیا کہ آپ بلندی پر ہیں ،صحیح لینڈنگ نہیں کر رہے تو پائلٹ نے کہا کہ میں مینج کر لوں گا
غلام سرور خان کا مزید کہنا تھا کہ جہاز مکمل طور پر ٹھیک تھا اور آٹو لینڈنگ میں لگا ہوا تھا، آٹو لینڈنگ سے پائلٹ نے نکالا اور مینوئل پر لایا، بدقسمتی سے یہ واقعہ ہوا میں پائلٹ کے گھر گیا، پائلٹ کی فٹنس ،کارکردگی جنتی اسکی فلائٹس تھی وہ تجربہ کار تھا، افسوس اس بات کا ہے کہ پائلٹ اور کو پائلٹ کے فوکس نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں اس سانحہ سے گزرنا پڑا،
اس واقعہ کی ذمہ داری کریو کیبن اور اے ٹی سی کی بنتی ہے ، جو دنیا سے چلے گئے اللہ مغفرت فرمائے،مکمل رپورٹ ایک سال میں دی جائے گی، جو بھی ذمہ دار ہیں وہ بچ نہیں پائیں گے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، ملک بھرمیں کوروناکیسزکی تعدادایک لاکھ 88 ہزار 926ہوگئی ہے، 24گھنٹوں کےدوران مزید60 افرادکوروناسے جاں بحق ہوئے ہیں
ملک بھرمیں کوروناسےاموات کی تعداد3ہزار755ہوگئی ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں سندھ میں 72ہزا656 کوروناکیسزرپورٹ ہوئے،پنجاب میں69ہزار536کوروناوائرس کے کیسز،خیبرپختونخوا23ہزار388 ،بلوچستان میں کوروناکے9ہزار634 کرونا مریض ہیں.
اسلام آباد میں کوروناکیسزکی تعداد11ہزار483ہوگئی،گلگت بلتستان میں کوروناکیسزکی تعدادایک ہزار337ہوگئی،آزادکشمیرمیں کورونا وائرس کیسز کی تعداد892 ہے،
کورونا وائرس سے زیادہ ایک ہزار516اموات پنجاب میں رپورٹ ہوئی ہیں.سندھ ایک ہزار124اورکےپی میں 855اموات ،بلوچستان میں کوروناوائرس سے106 اموات رپورٹ ہوئی ہیں.اسلام آباد میں 108 افرادکوروناسےجان بحق ہوئے،گلگت بلتستان اورآزادکشمیرمیں کورونا سےاموات کی 23،23 ہوگئیں
ملک بھر میں 77 ہزار 754 کورونا متاثرہ افراد صحت یاب ہوچکےہیں،گزشتہ 24گھنٹوں میں23ہزار380ٹیسٹ کیے گئے ،اکوروناٹیسٹ کی مجموعی تعداد 11لاکھ 50 ہزر141 ہے،ملک میں 769اسپتالوں میں کورونامریضوں کےلیے سہولیات موجود ہیں،اس وقت ملک بھرمیں 6256 کورونامتاثرہ افراد اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں
این سی او سی کے مطابق ملک بھرمیں ایک ہزار539وینٹی لیٹرزکورونامتاثرین کے لیے مختص کئے گئے ہیں.اس وقت 549 مریض وینٹی لیٹر پرہیں،کورونامتاثرین کےلیےایک ہزار895مزیدوینٹی لیٹرزفراہم کیےجائیں گے،جولائی کےآخرتک وینٹی لیٹر انتہائی نگہداشت کے وارڈز کےلیےدستیاب ہوں گے
این سی او سی کے مطابق آزادکشمیراورگلگت بلتستان میں کوئی کورونامریض وینٹی لیٹرپرنہیں،اسلام آباد میں 250 بیڈز پر مشتمل وبائی امراض کااسپتال بھی جلد فعال ہوجائےگا،اسلام آبادمیں اسپتال کےفعال ہونےسےدیگراسپتالوں پردباوَ کم ہوگا ،گلگت بلتستان میں 200 آکسیجن سلنڈر بھجوا دیئے گئے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عنقریب دیکھیں گے کہ ایک دو سال یا اس سے پہلے پاکستان کے لئے بہت ہی اچھی خبر ہے، میں انڈو چائنہ وار پر بات کر رہا ہوں، میں ایک الگ بات کر رہا ہوں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چین انڈیا تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے، 11 ہزار سکھ فوجیوں سے بھارتی فوج سے استعفیٰ لیا جا رہا ہے کیونکہ ان پر اعتبار ہی نہیں رہا، حیرت کی بات ہے کہ جب چین سے بات کرنی پڑی تو بھارت نے ایک سکھ آفیسر کو ہی بھیجا کیونکہ باقی سب سامنے جانے کو تیار نہیں تھے، ڈرے اور سہمے ہوئے تھے،ہندو بریگیڈیئرز وغیرہ
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کچھ سال پہلے یاد ہو گا کہ ہانگ کانگ برٹش رول کے اندر تھا اور پھر اسکے ٹایم پیریڈ ہونے کے بعد چائنہ کو واپس دیا گیا یہ کافی سال پہلے کی بات ہے، اسوقت ہانگ کانگ سے بزنس اور پیسہ کراچی شفٹ ہو رہا تھا اسی لئے فورا پورٹ قاسم بننا شروع ہو گیا کیونکہ ایک سے زیادہ پورٹ چاہئے تھے، کراچی میں ہائی ویز، سپر ہائی ویز بھی نئے سرے سے بننا شروع ہو گئی
ایم کیو ایم ابھرتی ہے اور لسانی فسادات وہاں شروع ہو جاتے ہیں،مہاجر پشتون کی لڑائی شروع ہو جاتی ہے، کراچی میں اسوقت دو آبادیاں تھیں، ایک کام کرنیوالے پختون تھے جو کے پی کے وغیرہ سے گئے ہوئے تھے اور کام کرتے تھے، ان سے کام لینے والے اردو سپیکنگ تھے، دونوں کا اچھا ساتھ تھا لیکن اس میں رخنہ ڈالا گیا، پھر پنجابی پختون اتحاد بنی پھر اور بننا شروع ہو گئیں،بھر بلوچ قومیں بھی آنا شروع ہو گئیں اور آباد کاریاں بڑھ گئیں، ہر طرح کی لسانی جنگ شروع ہو گئی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کراچی میں اتنی زیادہ ٹارگٹ کلنگ ہوئی کہ ہانگ کانگ کا جو انویسٹر تھا وہ ڈر گیا اور اس نے اپنا پیسہ دبئی لے جانا شروع کر دیا، دبئی میں پھچلے 25 سال پہلے کی انویمنٹ دیکھ لیں جو وہاں گئی وہ پاکستان آنا تھی، کراچی مین جب بھی لسانیت اور فرقہ واریت کی بات ہوتی ہے تو ہمیشہ ایک سوالیہ نشان آتا ہے کہ اس میں امارات، قطر، عرب کنٹریز کا کیا رول ہے کیونکہ یہاں پر بد امنی کرکے انہوں نے دبئی کو بلڈ اپ کرنا تھا، اور دبئی بلڈ اپ ہو گیا،یہاں کے لوگ دبئی میں کاروبار کر رہے ہیں وہاں فلیٹ لے رہے ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے پہلے ہو یہ رہا تھا کہ دبئی کی بہت بڑی فیملیز الفتیم ہو یا اور انکے بچے کراچی میں آکر پڑھتے تھے، وہاں زیر تعلیم تھے، دبئی میں اردو بولی جاتی تھی، 72 تک وہاں تک کرنسی کو بھی روپیہ کہتے تھے، اسکے بعد انڈیا کا بھی تھا وہاں ہندی فلمیں زیادہ جا رہی تھیں، پشتو فلمیں بھی بہت جا رہی تھیں، دبئی میں کون لوگ ہیں جو رولنگ لیڈز ہیں، وہان گورا ہے، امریکن ہے ،کچھ جرمن بھی ہیں، یہ کہاں سے آئے، ہانگ کانگ سے، وہ دبئی میں آئے اور انکو دبئی میں اچھی سہولیات ملیں، ماڈل دبئی میں نائٹ کلب، ڈسکوز سنٹر ہیں، وہاں سور کا گوشت سپر مارکیٹ میں ملتا ہے، اس کو لبرل طور پر استعمال کرنا شروع کیا.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسکے برعکس کراچی میں جو کسینو بن رہا تھا وہ بند ہو گیا،کراچی میں جو ساری ہماری اقلیتیں تھیں وہ نیچے جانا شروع ہو گئیں،اور لوگوں کو ڈر پڑنا شروع ہو گیا، لوگ کراچی جاتے ہوئے بھی ڈرنے لگتے تھے، کراچی میں خون خرابہ کر کے سب کچھ دبئی لے جایا گیا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چین بھارت کا جو تنازعہ ہے یہ حقیقت میں دو تین سپر پاورز کا تنازعہ ہے،جس میں چائنہ، امرئکہ، کچھ حد تک روس بھی ہے بھارت خود انوالو ہے، ادھر سے تھریٹس یہ آ رہی ہیں کہ امریکہ تائیوان کے لئے فیڈز بیچ رہا ہے اور تائیوان کے اوپر انگیج کر کے انہوں نے پھر یہ کہنا ہے کہ ہانگ کانگ کو جو مراعات دی تھیں ٹریڈ کی اور ٹیکس کی وہ واپس لے لیتے ہیں ،یہ وہ وار ہیں جو چائنہ کو کارنر کرنے کے لئے ہو رہی ہیں، ہانگ کانگ کا آفیشل بینفشری چائنہ ہے ابھی تک، جو کسی چیز چائنہ اپنے بینر کے نیچے نہیں کر سکتا وہ ہانگ کانگ کے تھرو کروا لیتا ہے، ہانگ کانگ کی ویلیو ختم ہو جائے اورامریکہ اس سے مراعات واپس لے لے تو ہانگ کانگ کی افادیت بالکل ختم ہو جائے گی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ان انویسٹرز جو ٹیکس فری کے طور پر آفشور کے طور پر کام کر رہے تھے ،پانامہ کا نام سنا،پانامہ سیکنڈل آیا، اور ایسی بہت سی جگہیں ہیں آفشور کے لئے لیکن ہانگ کانگ سنٹرل ہے،وہاں پر ایکسپورٹ سنٹرل ایشیا میں بہت اہم ہے، یہاں پر آئل پرائسیز کی قیمتیں کم ہو گئیں،گیس کی قیمتیں، ڈاؤن ہو گئیں، دبئی کی اکانومی بے انتہا پاسٹ ہو رہی ہے اگر یہ کرونا کا زیادہ چلتا ہے تو تیل کی ترسیل تو کہیں ہونے والی نہیں،سعودی عرب، گلف کے ممالک، ابو ظہبی انکی اکانومی اگلے تین چار سال سدھرنے والی نہیں،دبئی میں 2020 کا جو ایکسپو ہے اسکا وہ جنازہ پڑھ لیں، فاتحہ پڑھ چکے میرے خیال میں اس میں بلین اینڈ بلین ڈالرز کا نقصان ہوا،40 فیصد ریئل سٹیٹ خالی ہے،کوئی انویسٹر نہیں آ رہا، کم ازکم 25 فیصد ہوٹلز بکنے کو تیار ہیں، نائیٹ کلب لیز کے لئے آفر ہو رہے ہیں ، وہاں پر انویسٹرز نہیں آتا اور ہانگ کانگ اگر وہاں پر بند ہو جاتا ہے تو پھر دنیا کو بہترین ایکسیسی گوادر یا پورٹ قاسم سے ملنی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اور جو دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے م،سنٹرل ایشین ریبلکس، انرجی ریسورس وہاں پر، مائینز بھی وہاں پر اور اسکا سب سے بڑا خریدار چائنہ ہے،جس کی وجہ سے مڈل ایسٹ کو پرابلم ہے، امریکہ کو پرابلم ہے کہ سی پیک کا جو منصوبہ ہے اسکو روکیں ، اگر گوادر آپریشنل ہو جاتا ہے تو سنٹرل ایشیا کنٹریکٹ ہو جاتا ہے، چائنہ کی جتنی ایکسپورٹ ہیں وہ ساری دنیا میں پاکستان کے تھروجاتی ہیں،روپے کی بجائے چار آنے اسکا خرچ ہوتا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہانگ کانگ، دبئی مشکل میں ہے اور دنیا کے لئے اب ترجیح کراچی ہو گی، اہلیان کراچی کے لئے خوشخبری ہے، بہت جلدی پاکستان ٹریڈنگ زون بن جائے گا، پاکستان کی اہمیت انتہائی اہم ہے، ایک طرف ایران ہے، ایک طرف چائنہ ہے، ایک طرف گوادر ہے اور اس سے پوری دنیا کو سرکولیشن کرنی ہے، یہ پاکستان میں بالعموم اور کراچی، سندھ میں بالخصوص انتہائی خوش آئند بات ہو گی، اس خطے کی جو جیو پولٹیکل اہمیت ہے وہ دوبارہ سے اجاگر ہونے جا رہی ہے، آنے والے دنوں میں پاکستان کے لئے اچھی خبریں ہیں، اللہ کرے کہ ایسا ہو،
اسلام آباد :بھارتی وزارت خارجہ کے الزامات مسترد، پاکستان کا منہ توڑ جواب،پاکستان بھی بھرپورجواب دے گا،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کے بے بنیاد الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے الزامات بھارتی ہائی کمیشن کی غیرقانونی سرگرمیاں چھپا نہیں سکتے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کی لفظی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بے بنیاد الزامات کی تردید کردی ہے، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی الزامات پاکستانی ہائی کمیشن کے اسٹاف میں کمی کیلئے بہانہ ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ہائی کمیشن کےعملے میں کمی پر ویانا کنونشن کے الزامات بے بنیاد ہیں اور پاکستان ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کے بھارتی الزامات مسترد کرتا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستانی سفارتکار ہمیشہ سفارتی اصولوں کے دائرہ کار میں رہتے ہیں، بھارتی سفارتی عملے کو اسلام آباد میں دھمکانے کے الزامات مسترد کرتے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ بھی طلب کیا اور بھارتی ناظم الامور کو ہائی کمیشن عملے میں 50 فیصد کمی کے فیصلے سے آگاہ کیا۔
ترجمان نے کہا کہ ایسے الزامات بھارتی ہائی کمیشن کی غیر قانونی سرگرمیاں چھپا نہیں سکتے، بھارتی ہائی کمیشن کے ارکان غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہائے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت نے پاکستانی ہائی کمیشن عملے میں 50 فیصد کمی کے بہانے پر الزامات لگائے تھے۔
اسلام آباد: پاکستان اوربھارت کے درمیان حالات کشیدہ:بھارت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے 50 فیصد عملے کو نکل جانے کا حکم دیدیا،اطلاعات کےمطابق بوکھلاہٹ کا شکار بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں قائم پاکستانی ہائی کمیشن کے پچاس فیصد عملے کو واپس جانے کا حکم دیدیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارت نے اسلام آباد میں اپنے ہائی کمیشن سے بھی 50 فیصد عملہ واپس بلوانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے پر عملدرآمد آئندہ سات روز میں ہو گا۔
بھارت نے پاکستانی ناظم الامور کو فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے یہ اقدام اسلام آباد میں دو بھارتی اہلکاروں کی حراست کے بعد طیش میں آتے ہوئے اٹھایا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے دو اہلکاروں کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب انہوں نے تیز رفتار گاڑی چلاتے ہوئے ایک شہری کو ٹکر مار دی تھی۔
انڈین اہلکاروں کی شناخت سلوادیس پال اور داوامو براہمو کے نام سے ہوئی ہے۔ دوران حراست دونوں کے قبضے سے جعلی کرنسی بھی برآمد ہوئی تھی۔
پولیس نے دونوں کیخلاف مقدمہ درج کرکے مزید کارروائی شروع کی تھی تاہم سفارتی استثنیٰ کی وجہ سے بعد ازاں انھیں رہا کر دیا گیا۔
اسلام آباد :پاکستان چین کے سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم میں شامل ہونے والا پہلا غیر ملکی ملک بن گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان چین کے سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم میں شامل ہونے والا پہلا غیر ملکی ملک بن گیا، بی ڈی ایس سہولیات کا استعمال نقل و حمل ، زراعت ، آفات کی تباہی میں کمی اور ریلیف کے لئے ہوتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چین اور پاکستان کے مابین ایرو اسپیس اور ہوا بازی میں تعاون پوری غور و خوض کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، چائینہ سیٹلائٹ نیویگیشن آفس (سی ایس این او) کے ڈائریکٹر جنرل اور بیڈو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم (بی ڈی ایس) کے ترجمان آر این چینکی نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان سیٹلائٹ نیویگیشن پروگرام میں ایک اہم شراکت دار ہے۔
ترجمان نے کہا پاکستان پہلا ملک ہے جس نے بیڈو سیٹلائٹ سسٹم (بی ڈی ایس) کا تیار کردہ چین کا گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس)کا استعمال کیا ہے۔
خیال رہے کہ بی ڈی ایس سہولیات کا استعمال نقل و حمل ، زراعت ، آفات کی تباہی میں کمی اور ریلیف کے لئے ہوتا ہے، چین بی ڈی ایس سروسز کے دائرہ کارکو بی آر آئی کے شراکت دار ممالک تک بڑھانے کا خواہاں ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے ، جس نے بی ڈی ایس پر باضابطہ تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چینی پیپلز لبریشن آرمی کے وفد کی ملاقات، اہم معاملات پرگفتگو
باغی ٹی وی :آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چینی پیپلز لبریشن آرمی کے وفد نے ملاقات کی جس میں کورونا کی صورتحال اور پاکستان کی موثر حکمت عملی پر بات چیت کی گئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کرنے والوں میں چینی پیپلز لبریشن آرمی کی 10 رکنی میڈیکل ٹیم شامل تھی جس کی قیادت میجر جنرل ڈاکٹر ژو کر رہے تھے۔
A ten member People’s Liberation Army (PLA) Medical Team led by Major General Doctor Zhou Feihu, Chief of ICU Department, PLA General Hospital, called on General Qamar Javed Bajwa, COAS, today. During the interaction, matters related to COVID containment and Pakistan's… (1/3) pic.twitter.com/1wB1jNsjkL
آرمی چیف نے ملاقات کے دوران طبی سامان اور چینی ماہرین کی مدد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا ابھی تک کورونا کا علاج ڈھونڈ رہی ہے۔ کورونا کی وبا پر قابو پانے کیلئے عالمی تعاون ضروری ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدرآصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی پنجاب کےصدر قمر زمان کائرہ اورجنرل سیکرٹری چوہدری منظوراحمد کو ٹیلی فون کیا ہے
آصف علی زرداری نے پنجاب کی قیادت سے تازہ ترین صورتحال اورپارٹی امورپرتفصیلی تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ پنجاب میں جیالے متحدرہیں جلداچھاوقت آنے والا ہے۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مقدمات کا کوئی خوف نہیں، پہلے بھی عدالتوں میں مقابلہ کیا اب بھی کریں گے
آصف زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت نے لوگوں کیلئےکچھ نہیں کیا تو خوفناک صورتحال جنم لے سکتی ہے،پیپلز پارٹی نے 2008 کے عالمی بحران میں کسانوں اور مزدوروں کو سپورٹ کیا،کسانوں اور محنت کشوں کیلئے سپورٹ پروگرامز سے ملکی معیشت واپس آئی،وفاقی حکومت صوبوں کو مضبوط بنانے کی بجائے انہیں مزید کمزور کررہی ہے،
آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ وفاق میں بیٹھے لوگ سیاسی ادراک نہیں رکھتے، ہر بحران کو مزید گہرا کر دیتے ہیں،میں نے ٹڈی دل کی ایک سال پہلے وارننگ دی تھی لیکن ان کو سمجھ ہی نہیں آئی,ہم گندم،چینی اور کپاس کو برآمد کر رہے تھے یہ درآمد کر رہے ہیں،
آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ میں سمجھتا تھا ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں واپس لانا میری ذمہ داری ہے۔2008 کے الیکشن میں بلوچستان کی تمام قوم پرست جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔ہماری کوششوں سے 2013 کے الیکشن میں بلوچستان کی تمام جماعتیں قومی دھارے میں واپس آئیں۔حکمران نہ آئین ،نہ کسی اصول اور نہ ہی کسی تہذیب کو مانتے ہیں۔بلکہ ہر چیز توڑ پھوڑ دینا چاہتے ہیں۔ کوئی ذاتی جرم نہیں کیا تھا کہ میں نے بلوچستان سے معافی مانگی تھی
آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ آج اگر اختر مینگل سے بات کر رہے ہیں تو اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی آج بھی بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے شرط یہ ہے کہ بلوچ نوجوان مسلح جدوجہد کو ترک کر کے سیاسی جدوجہد میں واپس آئیں۔ ریاست کو بھی بلوچستان میں اب زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے ۔اگر اکبربگٹی جیسا کوئی دوسرا واقعہ ہوگیا تو حالات کو سنبھالنا کسی کے بس میں نہی رہے گا۔