Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • شہباز شریف کا کرونا ٹیسٹ مثبت آگیا، کچھ ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے، ن لیگی رہنما

    شہباز شریف کا کرونا ٹیسٹ مثبت آگیا، کچھ ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے، ن لیگی رہنما

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر ،قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے۔

    کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے پر شہباز شریف نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے،مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہا کہ شہباز شریف کو ان حالات میں نیب میں طلب کر کے انکی زندگی کو خطرے میں ڈالا گیا، تحریری طور پر نیب کو متعدد بار آگاہ کیا کہ میاں شہباز شریف کینسر کے مرض میں مبتلا رہے ہیں اور ان کی قوت مدافعت عام لوگوں کی نسبت کم ہے، یہاں تک کہ ویڈیو لنک پر تفتیش کرنے کی پیشکش کی گئی لیکن نیب نہیں مانا.

    ن لیگی رہنما عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا نیب کی پیشی کے علاوہ شہباز شریف نے نہ کسی سے ملاقات کی اور نہ ہی کہیں اور گئے، اگر شہباز شریف کو کچھ ہوا تو عمران نیازی اور نیب ذمہ دار ہوں گے، شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن رہائشگاہ پر اپنے آپ کو قرنطینہ کر لیا ہے اور ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے بھی تصدیق کی کہ شہباز شریف کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے، گزشتہ رات شہباز شریف کی کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی،

    واضح رہے کہ ن لیگی رہنما احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، خواجہ سلمان رفیق بھی کرونا کا شکار ہو چکے ہیں، گزشتہ روز تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار، فرخ حبیب، جے یو آئی (ف) کی شاہدہ اختر علی، ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی اسامہ قادری، سینیٹر ثنا جمالی کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا

  • پاک فوج کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی، دو جوان شہید، دو زخمی

    پاک فوج کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی، دو جوان شہید، دو زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے بعد پاک فوج کے 2 جوان شہید ہو گئے جبکہ دو زخمی ہو گئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو حادثہ شمالی وزیرستان کے علاقہ میرانشاہ کے جنوب مشرق میں پیش آیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسزکی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرانے سے دو جوان شہید ہو گئے جبکہ دو جوان زخمی ہوئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر مطابق شہید ہونے والوں میں صوبیدار عزیز اور لانس نائیک مشتاق شامل ہے

    واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے،10 اپریل کو بھی شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر آپریشن کے دوران پاک فوج کے 2 جوان شہید ہو گئے تھے جبکہ پاک فوج کی فائرنگ سے 7 دہشت گرد ہلاک ہو گئے

    قبل ازیں 8 اپریل کو بھی شمالی وزیرستان اور مہمند میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 7 دہشت گرد مارے گئے تھے ۔ذرائع کےمطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان اور مہمند میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس کے نتیجے میں 7 دہشت گرد مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی شمالی وزیرستان کے عدل خیل گاؤں میں کی گئی، دہشت گرد علاقے سے فرار ہوتے ہوئے مارے گئے، دہشت گردوں سے اسلحہ، مواصلاتی آلات برآمد کرلیے گئے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مہمند میں آپریشن کے دوران 3 دہشت گرد مارے گئے، دہشت گردوں سے بھارتی ادویات، لٹریچر اور دیگر سامان برآمد ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ 9 مارچ کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے خفیہ اطلاعات پر ٹانک کے قریب کارروائی میں 2 انتہائی مطلوب دہشت گرد مارے گئے تھے جبکہ کرنل مجیب الرحمان شہید ہوگئے تھے۔

    رواں سال جنوری میں سیکیورٹی فورسز کی شمالی وزیرستان میں کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 2جوان شہید ہوگئے تھے، شہید ہونے والوں میں سپاہی محمد شمیم اور سپاہی اسد خان شامل تھے

    شمالی وزیرستان، دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ، 5 ہلاک،پاک فوج کا ایک جوان شہید

  • ٹرمپ پر آئین سے انحراف کا الزام ، الٹی گنتی شروع،سنیے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    ٹرمپ پر آئین سے انحراف کا الزام ، الٹی گنتی شروع،سنیے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ امریکہ میں نسلی امتیاز اور تشدد کے خلاف تحریک شروع ہوئی جو اب زور پکڑ چکی ہے اور اب حالات یہاں‌ تک پہنچ چکے ہیں کہ اپوزیشن کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی کے لوگ بھی ان پر تنقید کر رہے ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ کولن پاول جن کا تعلق ری پبنلکن پارٹی سے ہے نے مظاہروں کے بعد ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ آئین سے انحراف کر رہے ہیں،کولن پاؤل کوئی عام شہری نہیں ہیں وہ وزیر خارجہ رہے ہیں،امریکن آرمی کے سربراہ بھی رہے ہیں لیکن وہ بھی ان افراد میں شامل ہو گئے ہیں جو مظاہروں کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے رویئے، اور انکے فوج بھیجنے کی دھمکی پر نہ صرف مذمت کر رہے ہیں بلکہ تنقید کا بھی نشانہ بنا رہے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کولن پاؤل نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں انکو ووٹ نہیں دیں گے،سی این این کو ایک انٹرویو میں انکا کہنا تھا کہ صدر نے آئین سے انحراف کیا اور جھوٹ بولتے ہیں ،ایسی باتیں کرتے ہیں کہ لوگ ان سے جواب طلبی نہیں کرتے،کول پاؤل نے امریکی صدر کے بیان کو امریکی ڈیمو کریسی کے لئے خطرہ قرار دیا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کول پاؤل نے اس سال کے آخر میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں کہا کہ میں یقینی طور پر ٹرمپ کی حمایت نہیں کر سکتا،میرے سماجی اور سیاسی خیالات بائیڈن کے بہت قریب ہیں میں نے انکے ساتھ 40 سال کام کیا،وہ اب صدارتی امیدوار ہیں، انکو ووٹ دیں گے،کولن پاؤل کو ایک اعتدال پسند ری پنلکن کے طور پر دیکھا جاتا ہے، 2016 کے انتخابات میں بھی انہوں نے ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیا تھا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسکے علاوہ امریکن آرمی کے ان اعلیٰ اہلکاروں کی بھی انکو حمایت ہے جنہوں نے ٹرمپ پر نقطہ چینی کی تھی، ٹرمپ بھی خاموش رہنے والی چیز نہیں ہیں، انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کول پاؤل اتنے قابل نہیں ہیں جتنا سمجھا جاتے ہیں،ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ کولن پاؤل ایک سخت آدمی ہیں،اور مشرق وسطیٰ میں جنگ میں پھنسانے کے پوری طرح کے ذمہ دار ہیں ،ٹرمپ نے 1990 سے 1993 تک ہونے والی خلیجی جنگ اور 2003 میں عراق پر امریکی حملے کی جانب اشارے دیئے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ پر تنقید ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب نسل پرستی کے خلاف نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں مظاہرے جا ری ہیں،امریکہ بھر میں حفاظتی انتظامات میں نرمی کی جا رہی ہے کیونکہ کشیدگی بھی کم ہو گئی ہے، نیویارک میں ایک ہفتہ سے جاری کرفیو ختم کر دیا گیا ہے،لیکن ٹرمپ پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے، سابق صدر اوباما، سابق وزیر دفاع و دیگر بھی تنقید کرنے والوں میں شامل ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں امریکی انتخابات مین ڈیموکریٹک کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے بھی ٹرمپ پر تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے تشدد پر اکسانے، نفرت کی آگ بھڑکانے اور ایک دوسرے سے دور کرنے کے لئے اپنے الفاظ کا سنگدلی سے استعمال کیا،سابق وزیر خارجہ کونڈلیزا رائس نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ وہ کچھ عرصے کے لئے ٹویٹ کرنا بند کر دیں،اور امریکی عوام سے گفتگو کریں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فرانس تک مظاہرے ہو رہے ہیں، جرمنی میں بھی احتجاج ہو رہا ہے،مائیکل جون نے بھی اس تحریک کو سپورٹ کرنے اور نسلی امتیاز کے خاتمے کے لئے 100 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے،مائیکل جون کا کہنا ہے کہ نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنے والے گروپس کو 10 کروڑ ڈالر کا عطیہ دیں گے،اور اس رقم کے ذریعے نسل پرستی سے نمٹنے میں مدد کی جائے گی،میں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں‌جو ہمارے ملک میں رنگ، نسل پرستی کے خلاف کھڑے ہیں اور تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں،بہت برداشت کر لیا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک اخبار کے چیف ایڈیٹر کے عہدے سے استعفیٰ کے بعد اب نیو یارک ٹائمز کے ایک ایڈیٹر نے ری پبلکن سینیٹر کے کالم کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا ہے جس میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لئے فوج بھیجنے کی حمایت کی گئی تھی، سابق صدر ٹرمپ کی دھمکی کی حمایت پر آرٹیکل شائع کرنے پر انہیں استعفیٰ دینا پڑا،پہلے تو نیو یارک ٹائمز نے اس مضمون کی حمایت کی تھی،2016 سے اخبار کے ایک ایڈیٹر نے قبول کر لیا کہ آرٹیکل شائع ہونے سے قبل انہوں نے اسے پڑھ لیا تھا لیکن بعد میں ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ یہ آرٹیکل ان کے معیار پر پورا نہیں اترتا اخبار کی ویب سائٹ پر آرٹیکل کے خلاف تقریبا 800 کے قریب کارکنان نے دستخط کئے اور کہا کہ آرٹیکل پر جو کچھ لکھا گیا وہ گمراہ کن ہے،مخالفت کے اظہار میں چند صحافی ڈیوٹی پر ہی نہیں گئے،سینیٹر نے فوج کی طاقت کے استعمال کے بارے میں جو کچھ لکھا وہ ایک گروپ کے خلاف ہے،اور آرٹیکل ایسے وقت میں شائع ہوا جب امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف مظاہرے اور ہزاروں لوگ سڑکوں پر تھے، اس آرٹیکل میں مظاہرین کو فسادی کہا گیا

    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ نیو یارک ٹائمز کے چیئرمین نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ہمیں ایڈیٹوریل میں ایک رکاوٹ کا سامنا رہا،اور یہ حالیہ چند برسوں سے مختلف تجربہ ہے،ایڈیٹنگ میں غلطیاں کی گئیں اور ان الزامات کی تصدیق نہیں کی گئی جس کی وجہ سے بڑی سطح پر سوال اٹھ گئے،سینیٹر کا وہ بیان جس میں کہا گیا کہ چند شہروں میں ہونے والے تشدد کا نقصان پولیس کو بھگتنا پڑا بڑھا چڑھا کرپیش کیا گیا جس سے چیلنج کیا جانا چاہئے تھا اور آرٹیکل کی ہیڈ لائن جسے سینیٹر نے خود نہیں لکھا اس کا استعمال نہیں کیا جانا چاہئے تھا،

    ان تمام رد عمل کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ امریکہ مین تحریک اب زور پکڑ چکی ہے،اور اب یہ مجبور کر دے گی کہ انسانوں کو نسلی امتیاز، تشدد سے چھٹکارا مل جائے،اللہ کرے ایسا ہی ہو اور یہ ہماری زندگیوں مین ہو کہ ہر چیز سے اوپر انسان کا کردار اور افکار ہو،

    وبا، ایک ڈرامہ نہیں، پوری فلم ہے، سنیے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

  • دہشت گردوں کے مالی وسائل کی روک تھام کے حوالے سے جامع پالیسی مرتب،وزیرداخلہ کی وزیراعظم کو بریفنگ

    دہشت گردوں کے مالی وسائل کی روک تھام کے حوالے سے جامع پالیسی مرتب،وزیرداخلہ کی وزیراعظم کو بریفنگ

    دہشت گردوں کے مالی وسائل کی روک تھام کے حوالے سے جامع پالیسی مرتب،وزیرداخلہ کی وزیراعظم کو بریفنگ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیر داخلہ نے وزیر اعظم کو وزارت داخلہ اور اسکے مختلف محکموں کی گذشتہ بیس ماہ (اگست 2018 تا اپریل 2020) کی کارکردگی رپورٹ پیش کی۔

    وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بتایا کہ اس دوران نیشنل انٹرنل سیکیورٹی کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کا احیا کیا گیا۔ اس حوالے سے ماہرین پر مشتمل چودہ اعلی سطح کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو مختلف امور سے متعلق ایک ماہ میں اپنی سفارشات پیش کریں گی۔

    وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ملک میں سرمایہ کاری اور سیاحت کے فروغ کے لیے وزیر اعظم کے وژن کے مطابق 175 ممالک کے لیے الیکٹرانک ویزہ متعارف کرایا گیا جس سے پاکستانی ویزے کا حصول نہایت سہل ہو گیا ہے۔ ملک سے دہشت گری کا مکمل قلع قمع کرنے خصوصا” دہشت گردوں کے مالی وسائل کی روک تھام کے حوالے سے جامع پالیسی مرتب کی گئی۔

    وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سمگلنگ کے ناسور سے نمٹنے کے لئے اعلی سطحی اسٹیرنگ کمیٹی کی جانب سے جامع پالیسی اور مفصل حکمت عملی مرتب کرکے اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے تاکہ ملکی معیشت اور صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والے اس عفریت کی موثر روک تھام کی جا سکے۔

    وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے وزیراعظم کو بتایا کہ اسلام آباد میں قبضہ مافیا سے تقریبا 100 ارب روپے مالیت کی 15000 کنال اراضی واگزار کروانے کے لئے تجاوزات کے خلاف ریکارڈ 70 آپریشن کئے گئے۔

    وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ نادرا کی جانب سے ملکی اور قومی مفاد میں دیگر سرکاری اداروں کو ہر ممکنہ معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ ان میں معیشت کو دستاویزی شکل دینے، ٹیکس بیس میں اضافے اور ٹیکس وصولی کے معاملات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نادرا کی جانب سے نیا پاکستان ہاوسنگ پروگرام میں بھی معاونت فراہم کی جا رہی ہے ۔

    معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر بھی ملاقات میں شریک تھے

  • ایل او سی ،سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر سینئر بھارتی سفارتکار دفتر خارجہ طلب

    ایل او سی ،سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر سینئر بھارتی سفارتکار دفتر خارجہ طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایل او سی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر پاکستان نے سینئر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا یے

    ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ بھارتی فوج ایل او سی، ورکنگ باؤنڈری پر سول آبادیوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں، 2020 میں بھارت نے 1296 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کی، رواں برس ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیزیوں میں 7 شہری شہید جبکہ 98 شدید زخمی ہوئے، ایل او سی پر کشیدگی بڑھا کر بھارت مقبوضہ کشمیر سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔

    واضح رہے کہ  بھارت کی جانب سے ایل او سی پر ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جس کے نتیجے میں دو بچے اور دو خواتین زخمی ہوئی ہیں، پاک فوج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کرتے ہوئے سویلین آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ جندروٹ سیکٹر میں کی گئی۔ بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں میں 26 سالہ مس نسرین سکنہ سندھارا گاؤں ، 24 سالہ رابعہ، 7 سالہ مومنہ سکنہ ڈیرہ شیر خان زخمی ہوئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے بعد پاک فوج نے بر وقت جواب دیتے ہوئے دشمن کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ھارتی فوج نے ایک بار پھر بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    رواں سال ایل او سی پر بھارتی جارحیت میں مزید اضافہ ہو چکا ہے ،مودی نےآرایس ایس کے انتہا پسندنظریہ اورتشددکی پالیسی کو سرحد پار تک پھیلا دیا،ایل اوسی پرجنگ بندی کی خلاف ورزیوں کابھارتی ٹریک ریکارڈ بدسے بدتر ہوتاجارہا ہے ،

  • بھارت کی کشمیر سمیت پاکستان پر مسلسل جارحیت اور حکومت پاکستان کی خاموشی سوالیہ نشان

    بھارت کی کشمیر سمیت پاکستان پر مسلسل جارحیت اور حکومت پاکستان کی خاموشی سوالیہ نشان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی مسلسل جاری ہے ، گزشتہ شب بھارتی طیارے کراچی کے ساتھ ،یا کراچی سائڈ پر بارڈ کی طرف بڑھ رہے تھے تو پاکستان ایئر فورس نے دفاع کیا اور بھارتی طیاروں کو مار بھگایا ،لائن آف کنٹرول پر بھی بھارت کی جانب سے مسلسل دراندازی کا سلسلہ جاری ہے، بھارت نے جاسوسی کے لئے پچھلے دو ماہ میں ڈرون بھیجے جن کو پاک فوج نے گرایا، رواں برس تقریبا 5 سے زائد بھارتی ڈرون پاک فوج گرا چکی ہے، بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جارحیت کے دوران سول آبادی کو نشانہ بنایا جاتا ہے جس کا پاک فوج منہ توڑجواب دیتی ہے

    پاکستان نے امریکہ و بھارت کے دباؤ میں آ کر کشمیر کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو پابند سلاسل کر دیا، انکی کروڑوں کی املاک قبضے میں لے لیں،ادارے بند کر دیئے پھر بھی انڈیا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہ ہو سکے،بھارت کی جانب سے آئے روز نہ صرف دھمکیاں دی جاتی ہیں بلکہ لائن آف کنٹرول پر بھی مسلسل جارحیت جاری ہے، ایسے میں پاکستان کی حکومت نے کس کو خوش کرنے لئے ایسے افراد کو جیلوں میں ڈالا جو نہ صرف محب وطن پاکستانی بلکہ کشمیریوں کے ہیرو ہیں اور کشمیری دوران احتجاج انکے نام کے لگاتے ہیں

    مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی فوج کی جارحیت جاری ہے ،پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے مسلسل آپریشن جاری ہے، سو سے زائد کشمیری نوجوانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں، صرف آج کے روز بھی 5 کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو بھی مسلسل جاری ہے، بھارتی فوج سرچ آپریشن کے دوران کشمیریوں کی آبادیاں بھی جلا دیتی ہے جس کی وجہ سے کئی گھرنے بے گھر ہو جاتے ہیں، جلانے سے قبل بھارتی فوج کے اہلکار کشمیریوں کے گھروں کو لوٹتے ہیں لیکن کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں.

    بھارتی وزرا کی جانب سے پاکستان کو مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں جسکا زبانی جواب پاکستان کی طرف سے بھی دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، ترجمان دفتر خارجہ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھارت کو 27 فروری یاد دلاتے رہتے ہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کو ایک طرف بھارت سے دھمکیاں مل رہی ہیں اور دوسری جانب وہ لوگ جو کشمیر پر آواز اٹھاتے تھے، بھارت ان سے خوفزدہ تھا، محض الزامات کی بنیاد پر موجودہ حکومت نے انہیں جیلوں میں ڈال دیا، امریکہ و انڈیا کی جانب سے ان پر لگائے گئے الزامات ثابت نہیں ہو سکے .انکے اربوں روپے کے منصوبوں ،رفاہی کاموں کو بند کر دیا گیا، سکولز، کالجز، ڈسپنسریز، ایمبولینسز حکومت نے تحویل میں لے لیں اور وہ بند کر دیں کیونکہ حکومت کے پاس اخراجات نہیں ہیں، معیشت کا رونا رونے والی حکومت ان اداروں کو نہیں چلا سکتی جو محب وطن جماعت چلا رہی تھی

    انتہائی افسوس کی بات، قدرتی آفات میں سے پہلے پہنچنے والے، اور متاثرین کی مدد کرنے والوں کو جیلوں میں بند کر دیا، اب کرونا میں صورتحال دیکھ لیں ، حکومتیں عوام کی مدد کی بجائے دست و گریبان ہیں، ٹائیگر فورس بھی بنائی گئی لیکن عملا وہ کہیں نظر نہیں آئی، اگر ان لوگوں کو پابند سلاسل نہ کیا جاتا تو شاید حکومت کو اس ٹائیگر فورس کی ضرورت نہ پڑتی، قدرتی آفات میں انکا کام دنیا مان چکی ہے، اقوام متحدہ نے بھی انکی تعریف کی تھی

    ایک ایسا ادارہ ،جماعت جس نے پاکستان کی فلاح و بہبود کے لئے بے شمار کام کیا،بیواؤں، غریبوں کی امداد کی جاتی تھی، فری ایجوکیشن، حادثات میں بھی سب سے پہلے پہنچتے تھے، اس کو بند کیا گیا، حکومت کس کو خوش کرنے کے لئے کر رہی ہے؟ ایسے لگتا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو شاید ان بیواؤں کی دعا یا بددعا ہی لگے گی کیونکہ حکومت نے ہزاروں بیواؤں سے انکا راشن، امداد چھین لی، ہزاروں مستحق طلبا تعلیم سے محروم کر دیئے گئے، اور اس سب کا ذمہ دار موجودہ حکومت ہے جو بیرونی خوشنودی کے لئے ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے

    یہ بات واضح ہے کہ پاکستان جو بھی کرتا جائے گا بیرونی طاقتیں کبھی خوش نہیں ہوں گی، ہمیشہ ڈور مور کی آواز آئے گی، محب وطن افراد کو پابند سلاسل، انکے املاک پر قبضے، جائیدادیں ضبط، بینک اکاؤنٹ سیز، دہشت گردی کے الزامات اور مقدمات، پھر سزائیں، اب اس سے بھی آگے مزید ڈومور ہو گا اور اس ڈو مور کا پاکستان کو ہمیشہ نقصان ہی ہوا ہے فائدہ نہیں ہوا

    ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ایک آزاد، خود مختار ملک ہے، پاکستان جرات کا اظہار کرے اور دنیا کو بتائے کہ محب وطن افراد کو ہم پابند سلاسل نہیں کر سکتے، کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، کشمیر کے لئے اٹھنے والی آواز کو ہم بند نہیں کر سکتے، ہزاروں بیواؤں کے گھر کا چولہا جلنے کے لئے ضروری ہے کہ انکا کام جاری رہنا چاہیے، پاکستانی شہریوں کو پاکستان میں آزادی سے رہنے کا حق حاصل ہے

    پاکستان سفارتی میدان میں کھڑاہو گا، جراتمندانہ فیصلے کرے گا تو دنیا بات مانے گی ورنہ ڈومور چلتا رہے گا،مودی ہزاروں انسانوں کا قاتل، سانحہ احمد آباد کا ذمہ دار، پاکستان کو دولخت کرنے کا اعتراف کرنے والا آج بھارت کا وزیراعظم ہے، یہ وہی مودی ہے جس پر ایک وقت میں امریکہ نےپابندی لگائی تھی لیکن بعد میں ختم کر دی، مودی اگر مسلمانوں کا قتل عام کرے تو وہ پھر بھی امن پسند اور اگر پاکستان میں محب وطن شہری غریبوں ، مظلوموں کی مدد کریں تو وہ دہشت گرد، یہ کہاں کا انصاف ہے،

    پاکستان نے بھارت کو خوش کرنے کے لئے اقدامات کئے لیکن بھارت ابھی بھی خوش نہیں ہے کیونکہ اگر وہ خوش ہوتے تو پاکستان کے ساتھ انکے تعلقات اچھے ہوتے، پاکستان نے ابھینندن کو رہا کیا، اسکو چائے پلائی، کرتارپور راہداری کا افتتاح کیا اسکے بدلے میں مودی سرکار نے بھارتی جیلوں سے پاکستانی قیدیوں کی لاشیں بھجوائی،ابھینندن کی رہائی کے 3 روز بعد ایک پاکستانی قیدی کی لاش بھارت سے آئی تھی ،اس سب کے باوجودہ وہ ہمارے بارڈر پر ہیں،کشمیر میں مظالم کر رہے ہیں، دھمکیاں دے رہے ہیں،امریکہ ثالثی کی بات کرتا ہے لیکن کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کی بات نہیں کرتا ،وہ آپس میں ملے ہوئے ہیں

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر پابندی لگا دی

    پاکستان ایٹمی ملک ہے ،ایٹمی ملک ہونے کے ناطے پاکستان پر ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فیصلے اپنی مرضی سے کرے، کسی دباؤ کا شکار نہ ہو،غلامیاں ختم کرنے کا وقت ہے،اب بھی اگر پاکستان نے صحیح فیصلے نہ کئے تو پھر تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی

    پاکستان کو چاہئے کہ کشمیریوں کے حقیقی وکیل اور ہیرو محب وطن پاکستانی افراد کو رہا کیا جائے

  • طیارہ حادثہ،ابتدائی رپورٹ اسمبلی میں پیش، تحقیقاتی کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ،پائلٹس کی ڈگریاں بھی ہوں گی چیک

    طیارہ حادثہ،ابتدائی رپورٹ اسمبلی میں پیش، تحقیقاتی کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ،پائلٹس کی ڈگریاں بھی ہوں گی چیک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے،‏مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے اظہار خیال‏ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی کچھ ممبران اس پر بحث کررہے ہیں، کل تک تمام متعلقہ وزرا کی ایوان میں حاضری یقینی بنائیں،

    خواجہ آصف‏ کا کہنا تھا کہ وزارت صحت،خوراک،وزیرہوا بازی موجود رہیں تاکہ بحث مکمل کریں،سوالوں کے جواب دیں ،بصورت دیگر تقاریر لاحاصل ہونگی اور ہم تقاریر کرکے چلے جائیں گے،

    ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے کہا کہ تمام وزرا ایوان میں رہیں ،اپنی وزارتوں سے متعلق جواب دیں گے، قومی اسمبلی‏وزیر ہوا بازی موجود ہیں،وزیر خوراک بھی ایوان میں پہنچ رہے ہیں،

    ‏وفاقی وزیرہوا بازی غلام سرورخان نے طیارہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ ایوان میں پیش کردی

    وفاقی وزیرہوا بازی غلام سرورخان کا کہنا تھا کہ ‏میرا وعدہ ہے کہ فری فیئر انکوائری ہوگی، تحقیقات جاری ہیں ،احتساب ہو اور حساب ہو تاکہ ان واقعات پر قابو پایا جاسکے، ایسا بہت کم ہوتاہےکہ طیارہ حادثے میں کوئی بچ جائے،طیارہ حادثے میں 97 افراد انتقال کرگئے،طیارہ حادثےمیں معجزانہ طور پر دو افراد بچ گئےجو صحتیاب ہورہےہیں،95 افراد کی میتوں کی شناخت ہوگئی ہے،82خاندانوں کودس لاکھ روپےفی کس دیا گیا،

    وفاقی وزیرہوا بازی غلام سرورخان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں طیارہ گرا وہاں کے لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا، طیارہ حادثہ،کچھ خاندانوں نےامداد لینے سے انکارکیا،طیارہ آبادی پر گرا ، جس سے کئے گھر متاثر ہوئے، 5 گھرانوں کےلوگوں کو پی آئی اے نے ہوٹل میں ٹھہرایا ہوا ہے، ماڈل کالونی کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتاہوں، ماڈل کالونی کےلوگوں کےگھر،گاڑیاں تباہ ہوئیں، حکومت وقت کی ذمےداری ہےانکی معاونت کی جائے، طیارہ حادثے کی صاف شفاف انکوائری ہوگی، 22جون کو انکوائری رپورٹ ایوان میں پیش کی جائیگی،طیارے حادثے کےنقصانات کا سروے ہورہاہے، انشاءاللہ نقصانات کا ازالہ ہوگا،

    وفاقی وزیرہوا بازی غلام سرورخان کا مزید کہنا تھا کہ چیزیں ٹھیک حساب اور احتساب سےٹھیک ہوں گی، ہم سب لوگ اس کے ذمےدار ہیں، لیکن چیزوں کو ٹھیک بھی کرناہے،ماضی میں ہونے والے طیارہ حادثات کی رپورٹ سے بھی ایوان کو آگاہ کیا جائےگا، طیارے حادثوں کی انکوائری رپورٹ سامنے نہیں آسکیں، اےٹی آر طیارے کے حادثے کی انکوائری رپورٹ بھی سامنے نہیں لائی گئی، ایئر بلو حادثے کی بھی مبہم رپورٹ سامنے آئی، حادثات کی کچھ تو وجہ ہے، کوئی تو ذمے دار ہے، کسی کو تو حساب دیناہوگا،

    وفاقی وزیرہوا بازی غلام سرورخان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے82خاندانوں کےلیےسہولیات فراہمی کی حقیرکوشش کی،پچھلے ادوار میں پائلٹس کی جعلی ڈگریاں بھی سامنے آئیں، کتنا بدقسمت ہےیہ ملک کہ ہر معاملے پر دو نمبری کی گئی ، ہم نے پی آئی اے سے کسی ملازم کو نہیں نکالا، پوری دنیا کی ایوی ایشن انڈسٹریز کو 350بلین ڈالرز کا نقصان ہوا، انٹرنیشنل پائلٹس کی ایسوسی ایشن کو درخواست کی کہ ایک پائلٹ اور ایک ٹیکنیشن دیا جائے، بیرون ملک پھنسے 56ہزار846پ اکستانیوں کو پاکستان واپس لائے، حالیہ ادوار میں کئی حادثے ہوئے ، کسی ذمے دار کا تعین نہ ہوا، نہ کسی کو سزا ہوئی، طیارے کا وائس اور ڈیٹا باکس دونوں ڈی کوڈ ہوچکےہیں، ائیر بلیو کا طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر گرا ،کسی ایک واقعے کی نہ مکمل تحقیقات ہوئیں نہ رپورٹس آج تک آئیں ،

    وفاقی وزیرہوا بازی غلام سرورخان کا مزید کہنا تھا کہ 31 جہازوں کا فلیٹ ہےلیکن پی آئی اے کی موجودہ صورت پر ہم شرمندہ ہیں ، کسی تو ذمے دار ٹھہرانا ہوگا، کسی کے گریبان تک تو ہاتھ ڈالنا ہوگا ، ہم سب لوگ اس کے ذمے دار ہیں لیکن ہمیں چیزوں کو ٹھیک بھی کرنا ہے، خرم دستگیر کےتحقیقات کے حوالے سے مطالبات منظور کرتا ہوں

    وفاقی وزیرہوا بازی غلام سرورخان کا مزید کہنا تھا کہ ‏ہم نے پی آئی اے سے کسی ملازم کو نوکری سے نہیں نکالا ، میں ایک اورپوائنٹ شامل کررہاہوں کہ تمام پائلٹس کی ڈگریاں،لائسنس بھی چیک کئے جائیں گے، رکشا ، ٹیکسی ، بس، ٹرک چلانے کیلیے بھی تربیت اور لائسنس کی ضرورت ہوتی ہےاورچیک کیاجاتا ہے،ماضی میں حکومتوں نے سیاسی بنیادوں پر پی آئی اے میں بھرتیاں کیں ، 6 ارب روپے کورونا کی وجہ سے پی آئی اے کو نقصان ہوچکاہے،

    ‏طیارہ حادثہ تحقیقاتی بورڈ کی تحقیقات کو صاف و شفاف رکھنےاوراس کی ساکھ کیلیے کمیٹی میں توسیع کا اعلان‏ کر دیا گیا،وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثہ تحقیقاتی کمیٹی میں انٹرنیشنل پائلٹ ایسو سی ایشن کا نمائندہ شامل کیا جائےگا،تحقیقاتی کمیٹی میں نمائندہ نامزد کرنے کیلیے انٹرنیشنل پائلٹ ایسوسی ایشن کو لکھ دیا ہے، ترکش ائیر لائن کے پاس اے 320 طیارے کا فضائی بیڑے ہے ، ترکش ایئر لائن کا نمایندے بھی تحقیقاتی کمیٹی میں شامل کیا جائے گا

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    طیارے کا کپتان جہاز اڑانے کے قابل نہیں تھا،مبشر لقمان کھرا سچ سامنے لے آئے

    اگلی سپر پاور چین ہو گا، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے اہم انکشافات

    سول ایوی ایشن اتھارٹی ،طیارہ حادثات میں مرنیوالوں کا قاتل کون؟ ہم نہیں چھوڑیں گے، مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    وہ قوم جو ہر سال 200 ارب جلا ڈالتی ہے، سنیے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کی زبانی

    جہازکریش، حقائق مت چھپاؤ ، جواب دو، مبشر لقمان کا پالپا کو کھلا چیلنج

    کاش. پی آئی اے والے یہ کام کر لیتے تو PK8303 کا حادثہ نہ ہوتا، سنیے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    ماشاء اللہ، پی آئی اے کے پائلٹ ماضی میں کیا کیا گل کھلاتے رہے ؟سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    سول ایوی ایشن نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ دی،پائلٹ کوذمہ دار ٹھہرانے کا لیٹر کیوں جاری کیا گیا؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    وفاقی وزیرہوا بازی غلام سرورخان کا مزید کہنا تھا کہ ‏سول ایوی ایشن کے کمرشل اور آپریشنل امور تقسیم کرنا چاہتے ہیں، بلوچستان کیلئے ابھی تک کوئی فلائٹ آپریشنل نہیں ہوئی ، بلوچستان کا شکوہ درست ہے ، بین الاقوامی آپریشن شروع کرنے کیلئے وزیراعظم سے این سی سی کے آئندہ اجلاس جلد بلانے کی درخواست کی ہے، سول ایوی ایشن کی دو حصوں میں تقسیم قانون سازی کے ذریعے ہوگی،بین الاقوامی پروازیں 15 جون سے شروع کرنے کی تجویز ہے، انٹرنیشنل پروازوں سے متعلق صوبوں سے مشاورت کریں گے

  • مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مولانا طارق جمیل کو اللہ نے بڑے حادثے سے بچا لیا

    مولانا طارق جمیل کے حوالہ سے خبرین آ رہی تھیں کہ وہ گھر میں گر کر زخمی ہو گئے ، تا ہم اب مولانا طارق جمیل نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ کیا ہے، مولانا طارق جمیل نے مبشر لقمان کو ٹیلی فون کال کی ہے جس پر مبشر لقمان نے قارئین کو آگاہ کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ الحمدللہ مولانا طارق جمیل صاحب نے تھوڑی دیر پہلے مجھے کال کی۔اور بتایا کہ اللہ تعالی کے فضل وکرم سے وہ بالکل ٹھیک ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ رب کائنات نے انہیں بڑے حادثے سے بچا لیا ہے۔اور ہم سب پر کرم فرمایا۔اللہ تعالی انکا سایہ ہم پر سلامت رکھے۔ آمین

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ بہت بہت شکریہ مبشر لقمان صاحب آپ نے ہمیں بتا دیا اور یہ بہت ہی گڈ نیوز ہے. باقی اللہ تعالی آپ کو عزت دے ہماری دعا ہے اور اللہ پاک طارق جمیل صاحب کو اور ہم سب کو صحت دے اور کرونا جیسی وباء سے بچاے آمین

    صارفین نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا شکریہ ادا کیا اور مولانا طارق جمیل کی صحتیابی کے لئے دعا بھی کی،

    مولانا طارق جمیل نے کوئی غلط بات نہیں کی، رحمت ہی رحمت رمضان ٹرانسمیشن میں مبشر لقمان نے مزید کیا کہا؟

  • پاکستان میں کرونا کی سپیڈ جاری،ایک دن میں 5 ہزار سے زائد مریض،85 اموات

    پاکستان میں کرونا کی سپیڈ جاری،ایک دن میں 5 ہزار سے زائد مریض،85 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا تیزی سے پھیلاؤ جاری ہے، مریضوں اور اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں 83 اموات ہوئی ہیں جبکہ 5385 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد پاکستان میں مریضوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 13 ہزار 702 ہو گئی ہے، پاکستان میں اموات کی مجموعی تعداد 2255 ہو گئی ہے

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 ہزار 385 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں 43 ہزار 460، سندھ میں 41 ہزار 303، خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 527، بلوچستان میں 7 ہزار 31، گلگت بلتستان میں 974، اسلام آباد میں 5 ہزار 963 جبکہ آزاد کشمیر میں 444 مریض سامنے آئے

    پاکستان میں کرونا کے اب تک 7 لاکھ 54 ہزار 252 افراد کے ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں. گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 23 ہزار 799 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 36 ہزار 308 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں

    پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 83 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 2 ہزار 255 ہوگئی۔ سندھ میں 696، پنجاب میں 807، خیبر پختونخوا میں 610، اسلام آباد میں 57، گلگت بلتستان میں 14، بلوچستان میں 62 اور آزاد کشمیر میں 9 مریض جان کی بازی ہار گئے

  • وبا، ایک ڈرامہ نہیں، پوری فلم ہے، سنیے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    وبا، ایک ڈرامہ نہیں، پوری فلم ہے، سنیے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ وبا کا خطرہ بڑھ گیا ہے،کیا سندھ اسمبلی بن ہونی چاہئے، متاثرہ اراکین اسمبلی کیا کرونا پھیلا رہے ہیں، سندھ میں لاک ڈاؤں کا پورے ملک میں ڈھنڈورہ پیٹنے والی حکومت خود سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھ رہی، خدشہ کے پوری کی پوری سندھ اسمبلی وبا کی لپیٹ میں آ چکی ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے وبا کے خلاف اقدامات کرنے پر تعریفوں کے پل باندھے جاتے تھے، مراد علی شاہ خود بھی وفاقی حکومت کے خلاف لاک ڈاؤن کے حوالہ سے بڑے اچھل اچھل کر تنقید کرتے نظر آتے تھے اور شروع میں تو دعوے کئے گئے کہ سندھ میں تو پنجاب سے بھی زیادہ وبا سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے گئے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وبا کے خلاف کام کرنے سے کہا جا رہا تھا کہ اس سے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی ماضی کی تمام ناکامیاں اور نااہلیاں دھل گئیں،مگر اب یہ دھلے دھلائے سب سے زیادہ بیمار ی کا باعث بن رہے ہیں اور بیماری پھیلا رہے ہیں،یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ سندھ اسمبلی وبا کا نیا ایپک سنٹر نہ بن جائے، سندھ اسمبلی کے اجلا س سے قبل ایس او پیز کے تحت 50 فیصد سے زائد اراکین اور ملازمین کے کرونا کے ٹیسٹ کی رپورٹ ملی ہی نہیں،اور کئی مثبت اراکین اسمبلی اجلاس میں شریک ہوئے، اب نیگٹو اراکین میں وبا کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اراکین سندھ اسمبلی کے وبا کے نمونے سندھ اسمبلی میں ہی لئے گئے،مگر سندھ اسمبلی اجلاس کے بعد بھی اراکین اور اسمبلی سٹاف کو رپورٹ نہیں ملیں،حیران کن طور پر ٹیسٹ رپورٹ نہ ملنے کے باوجود اراکین اسمبلی اجلاس میں شریک ہوئے،جس سے وبا دوسروں کو منتقل ہوا، اب پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا، اب سندھ اسمبلی سیشن میں یہ شرکت کر رہے ہیں، ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی شاہانہ اشعر کو بھی کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ دوران اجلاس ملی، سیکرٹری سندھ اسمبلی نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ اراکین اسمبلی اور اسٹاف کو ٹیسٹ کی رپورٹ ملی ہی نہیں، خدشہ ہے کہ اسمبلی اجلاس میں شریک دیگر اراکین اور ملازمین وائرس کا شکار نہ ہوں، اندازہ نہ لگائیں 50 فیصد اراکین کے ٹیسٹ ہوئے اور کئی کی رپورٹ نہیں ہوئی، جبکہ باقی 50 فیصد کے ٹیسٹ ہی نہیں ہوئے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سندھ اسمبلی میں 50 فیصد اراکین اسمبلی کے ٹیسٹ پازیٹو ہیں، یا 70 فیصد یا پھر پوری اسمبلی، اب اس بارے میں بات نہیں ہو سکتی،اب سارا ملبہ محکمہ صحت پر ڈالا جا رہا ہے کہ انہوں نے وقت پر ٹیسٹ نہیں کئے، محکمہ صحت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ تھا جس کی وجہ سے اراکین اسمبلی وبا کا شکار ہو گئے، لیکن کیا یہ اراکین اسمبلی اتنے غریب تھے کہ اپنے ٹیسٹ خود نہیں کروا سکتے تھے،اور جو مثبت تھے یا ان میں علامات تھیں تو کیا انہوں نے احتیاط کیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے حالات بھی کچھ اچھے نہیں ہیں کیونکہ شیخ رشید او رشاہد خاقان کے ٹیسٹ پازیٹو آئے ہیں،قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی نے کئی اراکین کو متاثر کر دیا ہو گا، سپیکر قومی اسمبلی تو کرونا کا شکار ہو کر صحتیاب ہو چکے ہیں،پہلے ہی کئی اراکین اسمبلی کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں، اگر ایس او پیز کو فالو کرنے کا کہا جا رہا ہے اور سیاسی شخصیات جو ایس او پیز کو فالو نہیں کر رہیں اور دوسروں کو بھی وبا سے متاثر کر رہی ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ کیا اسمبلی کو بند کر دیا جائے،اور تمام مثبت اراکین اسمبلی کو گھروں کی بجائے انہی جگہ پر قرنطین ہونا چاہئے جہاں انہوں نے عوام کو رکھا ہوا ہے تا کہ انہیں پتہ چلے کہ وہاں رہا کیسے جاتا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے، وبا کے متاثرین تیزی سے بڑھ رہے ہیں،یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہیں، دنیا بھر میں 70 لاکھ 91 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں، امریکہ آج بھی عالمی وبا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، امریکہ میں جاری مظاہروں کے بعد یہ تعداد مزید تیزی سے بڑھ سکتی ہے، امریکہ کے بعد برطانیہ میں کرونا کے سب سے زیادہ مریض ہیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، خدشہ ہے کہ انڈیا وبا سے متاثر ہونے والا سب سے بڑا ملک ہو گا،لاک ڈاؤن ختم کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وبا ختم ہو گئی ہے لیکن ہمارے رویوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب تک ہم پر سختی نہ کی جائے ہم نہین مانیں گے، نتیجہ آپ کے سامنے ہے، ملک میں تیزی سے وبا پھیل رہی ہے، اگر اب بھی بطور قوم احتیاط نہ کی تو نتایج اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ،آمین