Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • 12 لاکھ سے زائد خاندانوں کو راشن دیا، گورنر پنجاب کی وزیراعظم کو بریفنگ

    12 لاکھ سے زائد خاندانوں کو راشن دیا، گورنر پنجاب کی وزیراعظم کو بریفنگ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے

    گور نر نے وزیراعظم کو کورونابحران سے متاثرہ خاندانوں کیلئے اقدامات بارے بتایا، گورنر پنجاب نے وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں 12لاکھ 65ہزار سے زائد غر یب خاندانوں کو راشن فراہم کر چکے ہیں ،پنجاب ڈویلپمنٹ نیٹ ورک میں 60سے زائد فلاحی تنظیمیں کورونا متاثر ین کی مدد کر رہی ہیں

    گورنر پنجاب نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ڈاکٹر ز کیلئے1لاکھ70ہزار پی پی ایزکٹس اور2لاکھ60ہزار میڈیکل کٹس فراہم کر چکے ہیں.فلاحی تنظیموں ‘بزنس کیمونٹی سمیت دیگر افراد کی مدد سے ابتک کورونا بحران کے متاثر ین کیلئے 4.5ارب خرچ کر چکے ہیں

    گورنر پنجاب چودھری سرور کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کی تمام جیلوں میں 46ہزار سے قیدیوں کو کورونا سے بچائو کیلئے حفاظتی سامان دیا ہے ،طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے میڈیکل یونیورسٹیز میں بھی 24گھنٹے کام کر رہے ہیں

    گورنر پنجاب چودھری سرور کا مزید کہنا تھا کہ ہر معاملےمیں کیڑے نکالنا اپوزیشن کی عادت بن چکی ہے،وفاقی حکومت نےبہترین بجٹ دیا جو اپوزیشن کو ہضم نہیں ہو رہا،اپوزیشن کو موجودہ حالات میں اپنا رویہ احتجاجی نہیں، مثبت کرنا چاہیے،کفایت شعاری کی حکومتی پالیسی کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی،کورونا کی وجہ سےامریکا جیسے ممالک بھی معاشی طور پر مشکلات کا شکار ہیں،وزیراعظم کی قیادت میں حکومت ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنا رہی ہے

    قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں کورونا وائرس اور ٹڈی دل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا

    ملاقات میں پنجاب کی سیاسی اور کورونا کی صورتحال پر گفتگو کی گئی،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہور میں کورونا کیسز پر وزیراعظم کو بریفنگ دی، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پنجاب کابینہ کے وزراء کی پرفارمنس رپورٹ بھی وزیراعظم کو پیش کی.

    کرونا مریضوں میں اضافہ، کراچی میں آغا خان ہسپتال سمیت دیگر نے مریض لینے سے انکار کر دیا

    لیاقت نیشنل ہسپتال کا کارنامہ،ٹریفک حادثہ میں جاں بحق خاتون کو کرونا مثبت قرار دیکر لاش ضبط کر لی

    کرونا کے کتنے مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں؟ وہ کونسا صوبہ جہاں وینٹی لیٹرز پر کوئی مریض نہیں؟

    شہبازشریف، احسن اقبال کے بعد مسلم لیگ ن کی ایک اور اہم ترین شخصیت کرونا کا نشانہ بن گئی

    پنجاب میں کرونا کے بعد ٹائیفائیڈ بخار زور پکڑ گیا،10 دن میں 20 ہزار مریض سامنے آ گئے

    گزشتہ روز بجٹ سے متعلق قومی اسمبلی اجلاس کے بعد وزیر اعظم لاہور کے لیے روانہ ہو گئے تھے، لاہور پہنچتے ہی وہ ایئر پورٹ سے اپنی رہائش گاہ زمان پارک چلے گئے تھے۔

  • لاہور میں لاک ڈاؤن ہو گا یا نہیں ؟ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ہونگے بڑے فیصلے

    لاہور میں لاک ڈاؤن ہو گا یا نہیں ؟ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ہونگے بڑے فیصلے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان آج لاہور میں مصروف ترین دن گزاریں گے،

    وزیراعظم عمران خان گزشتہ شام لاہور پہنچے ہیں،وزیر اعظم عمران خان ایوان وزیر اعلیٰ میں خصوصی اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں لاہور کے مختلف مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز زیر بحث آئے گی۔ وزیر اعظم عمران خان کو صوبائی بجٹ اور انسداد کرونا اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی، اجلاس میں وزرا کی کارکردگی بھی موضوع بحث ہوگی، وزیر اعظم عمران خان گورنر چوہدری محمد سرور اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقاتیں بھی کریں گے

    پنجاب کے ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے سہولیات پر بھی وزیر اعظم کو آگاہ کیا جائے گا، انسداد کرونا کے لیے ایس او پیز پر کتنا عمل ہو رہا ہے، وزیر اعظم کو آگاہی دی جائے گی۔ وزیر اعظم عمران خان گورنر ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔

    گزشتہ روز بجٹ سے متعلق قومی اسمبلی اجلاس کے بعد وزیر اعظم لاہور کے لیے روانہ ہو گئے تھے، لاہور پہنچتے ہی وہ ایئر پورٹ سے اپنی رہائش گاہ زمان پارک چلے گئے تھے۔

    واضح رہے کہ لاہور میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے بعد سخت لاک ڈاوَن کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے

    لاہور میں تمام بڑی مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند کرنے کی تجویز زیر غور ہے،لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکوں پر سختی بھی زیر غورہے،لاہو رمیں لاک ڈاوَن کے دوران میڈیکل اسٹور ز کھلے رہنے کی اجازت ہو گی

    کابینہ کمیٹی کے پیر کو ہونے والے اجلاس میں اراکین سے بھی رائے لی جائے گی،لاہور کو لاک ڈاوَن کرنے کی تجویز اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی زیر غور رہی،کورونا ایڈوائزری گروپ نے بھی لاہور کو لاک ڈاوَن کرنے کی تجویز دی،پنجاب تمام تر سفارشات مرتب کر کے این سی او سی کو منظوری کے لیے پیش کرے گامورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے خط میں پنجاب میں 2 ہفتے لاک ڈاؤن کی تجویز دی تھی

    کرونا مریضوں میں اضافہ، کراچی میں آغا خان ہسپتال سمیت دیگر نے مریض لینے سے انکار کر دیا

    لیاقت نیشنل ہسپتال کا کارنامہ،ٹریفک حادثہ میں جاں بحق خاتون کو کرونا مثبت قرار دیکر لاش ضبط کر لی

    کرونا کے کتنے مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں؟ وہ کونسا صوبہ جہاں وینٹی لیٹرز پر کوئی مریض نہیں؟

    شہبازشریف، احسن اقبال کے بعد مسلم لیگ ن کی ایک اور اہم ترین شخصیت کرونا کا نشانہ بن گئی

    پنجاب میں کرونا کے بعد ٹائیفائیڈ بخار زور پکڑ گیا،10 دن میں 20 ہزار مریض سامنے آ گئے

    لاہور میں پیر سے 2 ہفتے کیلئے لاک ڈاؤن کرنے پر غور کیا جا رہا ہے،ادویات اور گروسری کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہو گی ،لاہور میں لاک ڈاؤن کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے ،لاہور میں کورونا کے ریکارڈ کیسز کے باعث غور شروع کردیا گیا

  • کرونا کی سپیڈ جاری، پاکستان میں اموات 2551 ہو گئیں، مریضوں میں بھی اضافہ

    کرونا کی سپیڈ جاری، پاکستان میں اموات 2551 ہو گئیں، مریضوں میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں‌ کرونا کی سپیڈ جاری ہے، مریضوں اور اموات میں اضافہ ہوا ہے، 24 گھنٹوں میں 88 مریض جان کی بازی ہار گئے ہیں

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6 ہزار 472 نئے مریض سامنے آئے پنجاب میں 50 ہزار 87، سندھ میں 49 ہزار 256، خیبر پختونخوا میں 16 ہزار 415، بلوچستان میں 7 ہزار 866، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 44، اسلام آباد میں 7 ہزار 163 جبکہ آزاد کشمیر میں 574 مریض ہیں.

    پاکستان میں اب تک 8 لاکھ 39 ہزار 19 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 29 ہزار 850 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 50 ہزار 56 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں .

    پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 88 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد کرونا وائرس سے جان بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 2 ہزار 551 ہوگئی ہے پنجاب میں 938، سندھ میں 793، خیبر پختونخوا میں 642، اسلام آباد میں 71، گلگت بلتستان میں 16، بلوچستان میں 80 اور آزاد کشمیر میں 11 مریض جان بحق ہو چکے ہیں

  • وزیر اعظم آفس کے اخراجات میں مزید 21 فیصد کی ریکارڈ کمی،کپتان نے قوم سے کیا گیا وعدہ پوراکردکھایا

    وزیر اعظم آفس کے اخراجات میں مزید 21 فیصد کی ریکارڈ کمی،کپتان نے قوم سے کیا گیا وعدہ پوراکردکھایا

    اسلام آباد:وزیر اعظم آفس کے اخراجات میں مزید 21 فیصد کی ریکارڈ کمی،کپتان نے قوم سے کیا گیا وعدہ پوراکردکھایا،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم آفس کے اخراجات میں مزید21 فیصد کی ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔وزیراعظم آفس کے مطابق بجٹ میں مختص فنڈ میں سے 18 کروڑ کی بچت نے سادگی کی مثال قائم کی ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گِل کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کفایت شعاری میں تمام 34 وفاقی وزارتوں اور 44 ڈویژنز پر بازی لے گیا۔

    انہوں نے کہا کہ 2019 میں وزیراعظم آفس و ہاؤس کے لیے مختص 86 کروڑ 28 لاکھ روپے میں سے 67 کروڑ 92 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے جب کہ آئندہ مالی سال 21-2020 کے لیے بھی لگ بھگ 86 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اورامید یہی کی جارہی ہے کہ اس سال مزید 21 فیصد اخراجات کم ہوں‌گے

    ان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں 41 فیصد کمی کی گئی تھی اور رواں مالی سال وزیراعظم آفس و ہاؤس نے اخراجات میں مزید 21 فیصد تک ریکارڈ کمی کرکے کفایت شعاری کی مثال قائم کی ہے۔

  • راولپنڈی: کینٹ کے علاقہ میں دھماکہ ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی

    راولپنڈی: کینٹ کے علاقہ میں دھماکہ ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی

    راولپنڈی :راولپنڈی: کینٹ کے علاقہ میں دھماکہ ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی ،اطلاعات کے مطابق کینٹ کے علاقہ صدر میں.میں بجلی کے کھمبے میں نصب بارودی مودی مواد دھماکے سے پھٹنے سے دھماکہ جانی نقصانات کی اطلاع ہے ، ادھرپولیس حکام کا کہنا ہےکہ وہ علاقے کو گھیرے میں‌ لے کردھماکے والی جگہ پرپہنچ گئی ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق راولپنڈی صدر کے علاقے میں ہونے والے دھماکے میں ایک ریڑھی والا زخموں.کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا ہے،جبکہ ریسکیوذرائع کے مطابق اس دھماکے میں کئی راہگیرشدید زخمی بھی ہوئے ہیں

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ڈائریکٹر ریسکیو 1122 ڈاکٹر عبد الرحمن موقع پر پہنچ گئے ذرائع کا کہنا ہےکہ بارودی مواد بجلی کے کھمبے میں.نصب تھا ..ریسکیو ٹیمیں امدادی سرگرمیوں.میں.مصروف ہیں‌، ادھر پولیس سول ڈیفنس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی موقع پر پہنچ گیا

  • بھارت ’دفاعی اخراجات‘ کرنے والا تیسرا بڑا ملک،77 کھرب 85 ارب روپے،پاکستان کا دفاعی بجٹ 12 کھرب 90 ارب روپے

    بھارت ’دفاعی اخراجات‘ کرنے والا تیسرا بڑا ملک،77 کھرب 85 ارب روپے،پاکستان کا دفاعی بجٹ 12 کھرب 90 ارب روپے

    اسلام آباد: بھارت ’دفاعی اخراجات‘ کرنے والا تیسرا بڑا ملک،77 کھرب 85 ارب روپے،پاکستان کا دفاعی بجٹ 12 کھرب 90 ارب روپے ، مالی سال 2020-21 کے لئے بھارتی حکومت کے 428 بلین ڈالر کے بجٹ کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے میں ملکی معیشت سب سے بڑے بحران کا شکار ہے

    دنیا بھر میں فوج اور دفاعی معاملات پر ہونے والے اخراجات سے متعلق سویڈن کے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک نے 2019 میں ریکارڈ 1.9 کھرب ڈالر فوجی اخراجات کیے۔

    گزشتہ ایک دہائی کے دوران 2019 میں عالمی سطح پر ریکارڈ فوجی اخراجات کیے گئے جن میں چین اور بھارت بھی پہلی مرتبہ شامل ہوگئے ہیں۔یعنی امریکا اور چین کے بعد بھارت دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے جس نے گزشتہ سال سب سے زیادہ فوجی اخراجات کیے۔

    دنیا بھر میں ہونے والے ان اخراجات کا 2018 سے موازنہ کیا جائے تو سالانہ 3.6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو 2010 سے سب سے زیادہ اخراجات ہیں۔ممالک کی انفرادی بات کی جائے تو امریکا اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے، جس نے 2019 میں اکیلے 732 ارب ڈالر خرچ کیے جو 5.3 فیصد اضافہ ہے۔

    چین اور بھارت نے 2019 میں بالترتیب 261 ارب ڈالر اور 71.1 ارب ڈالر خرچ کیا جو 5.1 فیصد اور 6.8 فیصد اضافہ ہے۔ بھارت کے اخراجات پاکستان اور چین دونوں حریف ممالک کے ساتھ کشیدگی کے باعث بڑھ گئے ہیں۔

  • خطے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت :  دفاع کیلئے 12 کھرب 90 ارب روپے مختص

    خطے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت : دفاع کیلئے 12 کھرب 90 ارب روپے مختص

    اسلام آباد: خطے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت : دفاع کیلئے 12 کھرب 90 ارب روپے مختص،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے مالی سال 21-2020 کا بجٹ پیش کردیا ہے جس میں دفاعی بجٹ کے لیے 12 کھرب 90 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    قومی اسمبلی میں وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے مالی سال 21-2020 کا بجٹ پیش کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں کفایت شعاری کے اصولوں پر کاربند ہے، ہم افواج پاکستان کے مشکور ہیں کہ انہوں نے حکومت کی کفایت شعاری کی کوششوں میں بھرپور تعاون کیا ہے۔

    خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے دوران مالی مشکل حالات میں حکومت نے 70 کھرب 13 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے اور کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا۔

    واضح رہے کہ 30 جون تک چلنے والے رواں مالی سال 20-2019 کے دوران حکومت نے دفاعی بجٹ کو گزشتہ مالی سال کے برابر ہی رکھا تھا جس کی بڑی وجہ ملک کو درپیش معاشی مشکلات تھیں۔

    جاری مالی سال کے دوران دفاع کے لیے بجٹ 1152 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جس میں آئندہ مالی سال کے لیے 138 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اور اس کے لیے 1290 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ مالی سال 19-2018 کے بجٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے دفاع کے لیے سال 17-2018 کے مقابلے میں 19.4 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 11 کھرب (1100 ارب) روپے تجویز کیے تھے۔

    اس سے قبل سال 18-2017 کے بجٹ میں 9 کھرب 20 ارب (920 ارب) روپے دفاع کے لیے رکھے گئے تھے اور 19-2018 میں اس میں ایک کھرب 80 ارب (180ارب) روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔

  • مالی سال 2020-21ء کا وفاقی بجٹ پیش کردیا گیا ، حکومت کا نیا ٹیکس عائد نہ کرنےکا اعلان

    مالی سال 2020-21ء کا وفاقی بجٹ پیش کردیا گیا ، حکومت کا نیا ٹیکس عائد نہ کرنےکا اعلان

    مالی سال 2020-21ء کا وفاقی بجٹ پیش کردیا گیا ، حکومت کا نیا ٹیکس عائد نہ کرنےکا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے 70 کھرب 13 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا جس میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا۔

    قومی اسمبلی میں مالی سال 21-2020 کی بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے صنعت حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز اور مسرت کی بات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں اگست 2018 میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا، ہم نے ایک مشکل سفر سے ابتدا کی اور معیشت کی بحالی کے لیے اپنی کاوشیں شروع کی تاکہ وسط مدت میں معاشی استحکام اور شرح نمو میں بہتری لائی جاسکے، ہماری معاشی پالیسی کا مقصد اس وعدے کی تکمیل ہے جو ہم نے نیا پاکستان بنانے کے لیے عوام سے کر رکھا ہے اور ہر گرزتے سال کے ساتھ ہم اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے قریب ہوتے جارہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 سال کے دوران ہمارے رہنما اصول رہے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے، سرکاری اداروں میں زیادہ شفافیت لائی جائے، احتساب کا عمل جاری رکھا جائے اور ہر سطح پر فیصلہ سازی کے عمل میں میرٹ پر عمل درآمد کیا جائے۔

    حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے عوام کی صلاحیت پر پورا اعتماد ہے اور مطلوبہ اہداف کے حصول میں ان کے تعاون کی اشد ضرورت ہے، تحریک انصاف سماجی انصاف کی فراہمی، معاشرے کے کمزور طبقات کے حالات بہتر کرنے کے اصول پر کاربند ہے اور پسے طبقے کے لیے کام کرنے کا عزم رکتھی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے سے قبل میں ایوان کو یہ بتانا چاہوں گا کہ گزشتہ حکومت سے ورثے میں ہمیں کیا ملا، جب 2018 میں ہماری حکومت جب آئی تو ایک معاشی بحران ورثے میں ملا، اس وقت ملکی قرض 5 سال میں دوگنا ہوکر 31 ہزار ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا، جس پر سود کی رقم کی ادائیگی ناقابل برداشت ہوچکی تھی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب روپے جبکہ تجارتی خسارہ 32 ارب روپے کی حد تک پہنچ چکا تھا اور برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا اور ڈالر کو مصنوعی طریقے سے مستحکم رکھا گیا تھا جس سے برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوا۔
    انہوں نے بتایا کہ آبی وسائل کے لیے مجموعی طور پر 69 ارب روپے، خوراک وزراعت کے لیے 12 ارب روپے، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدامات کیلئے 6 ارب روپے، سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 20 ارب روپے، قومی شاہراہوں کے لیے 118 ارب روپے، شعبہ صحت کے لیے 20 ارب روپے اور تعلیم کے لیے 30 ارب روپے مختص کی گئے ہیں۔
    شناختی کارڈ کے بغیر خریداری کی حد ایک لاکھ روپے کرنے کی تجویز کردی گئی ،

    عام دکانداروں سے سیلز ٹیکس کی شرح 12 فیصد کی تجویز ہے۔ درآمدی سگریٹ اور تمباکو پر ڈیوٹی 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔ شناختی کارڈ کے بغیر خریداری کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے جبکہ کورونا اور کینسر کی تشخیص کے آلات کی درآمد پر ڈیوٹی معاف کر دی گئی ہے۔ کیفین والی مشروبات پر شرح 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد جبکہ ڈبل کیبن گاڑیوں پر بھی ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔

    وزارت صحت کیلئے مجموعی طور پر چودہ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں وزارت صحت کیلئے مجموعی طور پر چودہ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پمز میں دو سو بیڈ پر مشتمل حادثات اور ایمرجنسی سینٹر بنانے کا منصوبہ، کوئٹہ میں الرجی سینٹر اور اسلام آباد میں دو سو بیڈز پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر کا منصوبہ، وزیراعظم کے پروگرام صحت سہولت پروگرام کیلئے چار ارب روپے، ای پی آئی پروگرام کیلئے دو ارب بیس کروڑ روپے، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں بہبود آبادی، ہیپاٹائٹس اور ٹی بی پروگراموں کیلئے فنڈز مختص کرنیکی تجویز دی گئی ہے۔

    ہائیر ایجوکیشن کمیشن کیلئے ترقیاتی بجٹ کا حجم 29 ارب 47 کروڑ روپے تجویز

    نئے بجٹ میں 94 جاری منصوبوں کیلئے ساڑھے چوبیس ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایچ ای سی کیلیے پانچ ارب روپے مالیت کے 23 نئے منصوبے، 15.8 کروڑ روپے مالیت کا پاک یو کے نالج گیٹ وے کا منصوبہ، سمارٹ یونیورسٹیز فیز ون کیلئے ساڑھے 46 کروڑ روپے، سی پیک کنسورشیم آف یونیورسٹیز کے تحت اکیڈمک تعاون منصوبہ اور شمالی وزیرستان میں یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ منصوبے کی فیزیبلٹی سٹڈی کیلئے 75لاکھ روپے کے فنڈز بجٹ میں مختص کرنے کی تجویز جبکہ چترال اور تربت میں یونیورسٹیاں قائم کرنے کے منصوبے بھی نئے بجٹ میں شامل کر لیے گئے ہیں۔

    مختلف ٹیکسز کے ذریعے 5 ہزار 464 روپے وصولیوں کا تخمینہ

    وفاقی بجٹ میں آئندہ مالی سال میں مختلف ٹیکسز کے ذریعے 5 ہزار 464 روپے وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ایف بی آر کے ٹیکسز سے 4 ہزار 963 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف تجویز جبکہ ڈائریکٹ ٹیکسز سے 2 ہزار 43 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔ انکم ٹیکس کی مد میں 2 ارب تین کروڑ روپے سے زائد، ورکرز ویلفئیر فنڈ سے تین ارب روپے سے زائد کے ٹیکسز، ان ڈائریکٹ ٹیکسز کی مد میں 2 ہزار 920 ارب سے زائد، کسٹمز ڈیوٹیز کی مد میں 640 ارب اور سیلز ٹیکس کی مد میں ایک ہزار 919 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    فیڈرل ایکسائز کی مد میں 361 ارب روپے، موبائل ہینڈ سیٹ لیوی کی مد میں پانچ ارب 80 کروڑ روپے، گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس سے 15 ارب روپے اور قدرتی گیس ڈویلپمنٹ سرچارج سے 10 ارب روپے وصولی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ پٹرولیم لیوی کی مد میں ساڑھے چار سو ارب روپے وصول کئے جائیں گے۔

    آٹو رکشا، موٹر سائیکل رکشا اور 200 سی سی موٹر سائیکلوں پر ایڈوانس ٹیکس ختم

    وفاقی وزیر حماد اظہر نے بتایان کہ آٹو رکشا، موٹر سائیکل رکشا اور 200 سی سی تک کی موٹر سائیکلوں پر ایڈوانس ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ بھاری فیسیں وصول کرنے والے تعلیمی اداروں پر 100 فیصد سے زائد ٹیکس عائد کر دیا گیا ے۔ دو لاکھ روپے سے زائد سالانہ فیس لینے والے تعلیمی اداروں کو 100 فیصد سے زائد ٹیکس دینا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں کو بھی بجٹ میں مدنظر رکھا گیا۔ ایک سال میں بیرونی محصولات پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔

    وفاقی بجٹ 21-2020ء کے اہم نکات درج ذیل ہیں

    ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4 ہزار 963 ارب روپے رکھنے کی تجویز

    سول اخراجات کی مد میں 476 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    احساس پروگرام کے لیے 208 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    نیا پاکستان ہاؤسنگ کے لیے 30 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    آئندہ مالی سال کا وفاقی ترقیاتی بجٹ 650 ارب روپے رکھنے کی تجویز

    دیگر گرانٹس کی مد میں 890 ارب روپے رکھنے کی تجویز

    صوبوں کو گرانٹ کی مد میں 85 ارب روپے فراہم کرنے کی تجویز

    پنشن کی مد میں 470 ارب روپے رکھنے کی تجویز

    سبسڈیز کی مد میں 210 ارب روپے رکھنے کی تجویز

    وفاقی بجٹ خسارہ 3 ہزار 437 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز

    مجموعی بجٹ خسارہ 3 ہزار 195 ارب روپے تجویز

    اخراجات کا تخمینہ 7 ہزار 137 ارب روپے لگایا گیا ہے

    وفاقی حکومت کا خالص ریونیو کا تخمینہ 3 ہزار 700 ارب روپے ہے

    این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے لیے 2 ہزار 874 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 1610 ارب روپے رکھنے کی تجویز

    دفاعی بجٹ 1290 ارب روپے رکھنے کی تجویز

    قومی اقتصادی سروے کی رپورٹ

    اس سے قبل قومی اقتصادی سروے رپورٹ میں کورونا وائرس سے متعلق خصوصی باب بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق وبا کے باعث ملک کی 56.6 فیصد آبادی سماجی اور معاشی لحاظ سے غیر محفوظ ہو گئی جبکہ ملک میں خواتین لیبر فورس کم ہو جائے گی۔

    سروے رپورٹ کے مطابق خواتین اور بچوں کے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ وائرس کے باعث دوکروڑ 71 لاکھ افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔

    جزوی لاک ڈاؤن میں زرعی اور غیر زرعی شعبے میں 1 کروڑ 55 لاکھ افراد بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں ایک کروڑ 91 لاکھ افراد کی بیروزگار ہو سکتے ہیں۔

    ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ میں زیادہ افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ وائرس سے اوورسیز پاکستانیز کے بیروزگاری سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، سکولوں کالجزکی بندش سے خواتین کے بیروزگارہونے کا خدشہ ہے۔

    کورونا وائرس کے باعث ملک میں خواتین لیبر فورس کم ہو جائے گی۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کو دھچکا لگا۔ بجٹ خسارہ 9.4 فیصد تک پہنچنے کاخدشہ ہے جبکہ ملکی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

    ایک سال میں بھینسوں کی تعداد میں 12 لاکھ کا ہوا، بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ سے بڑھ کر 4 کروڑ 12 لاکھ ہو گئی۔ ایک سال میں بھیڑوں کی تعداد میں 3 لاکھ کا اضافہ ہوگیا۔ بھیڑوں کی تعداد 3 کروڑ 9 لاکھ سے بڑھ 3 کروڑ 12 لاکھ ہوگئی۔

    بکریوں کی تعداد میں 21 لاکھ کا اضافہ ہو گیا، بکریوں کی تعداد 7 کروڑ 61 لاکھ سے بڑھ کر 7 کروڑ 82 لاکھ ہوگئی، گھوڑوں، اونٹوں اورخچروں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

    گھوڑوں کی تعداد 4 لاکھ اور خچروں کی تعداد 2 لاکھ برقرار ہے، ملک میں اونٹوں کی تعداد 11 لاکھ ہے، مویشیوں کی تعداد 18 لاکھ کا اضافہ ہوا، مویشیوں کی تعداد 4 کروڑ 78 لاکھ سے بڑھ کر 4 کروڑ 96 لاکھ ہو گئی۔ ایک سال میں پولٹری کی تعداد میں 12کروڑ 20 لاکھ کا اضافہ ہوا۔

    پولٹری کی تعداد ایک ارب 32 کروڑ 10 لاکھ سے بڑھ کر ایک ارب 44 کروڑ 30 لاکھ ہو گئی، گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہو گیا۔ گدھوں کی تعداد 54لاکھ سے بڑھ کر 55لاکھ ہوگئی۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے قبل اقتصادی ترقی کی شرح کا تخمینہ 3.3فیصد تھا، وباء کے بعد اقتصادی ترقی منفی 0.4 فیصد ہو گئی، کورونا سے زرعی، خدمات اور صنعتی شعبے کی ترقی متاثر ہوئی، سرمایہ کاری بھی متاثر ہوئی، تعلیمی اداروں میں جانے والے 4 کروڑ بیس لاکھ طلباء وطالبات براہ راست متاثر ہوئے۔

    بڑے صنعتی شعبوں کی شرح نمو 5.4 فیصد کم ہوئی، معدنیات کے شعبے میں شرح نمو منفی 8.8 فیصد رہی، جولائی تا اپریل ٹیکس آمدن 3300 ارب روپے رہی، جولائی تا اپریل ٹیکس آمدن میں 10.8 فیصد اضافہ ہوا، نان ٹیکس آمدن جولائی تا مارچ 30 فیصد بڑھی، نان ٹیکس آمدن جولائی تا مارچ 1095 ارب روپے رہی۔

  • قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری، وزیراعظم ایوان میں موجود،معاشی چیلنج کا مقابلہ کرینگے ، حماد اظہر

    قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری، وزیراعظم ایوان میں موجود،معاشی چیلنج کا مقابلہ کرینگے ، حماد اظہر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسپیکراسد قیصرکی زیرصدارت قومی اسمبلی کابجٹ اجلاس جاری ہے

    وزیراعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود ہیں،بجٹ2020-21 کاتخمینہ 7ہزار706ارب ہے،مشیرخزانہ حفیظ شیخ،شاہ محمود قریشی بھی اسمبلی ہال میں موجود ہیں

    وزیرصنعت حماداظہروفاقی بجٹ پیش کررہےہیں، حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ہماری معاشی پالیسیاں عوامی فلاح کیلئے ہیں ، تحریک انصاف کا دوسرابجٹ پیش کرنااعزازہے،احتساب کاعمل جاری رکھاجائے گا،ہمارابنیادی مقصد معیشت کی بحالی ہے ،جب ہم نےحکومت سنبھالی توملک دیوالیہ ہونےکےقریب تھا،حکومت سنبھالی تو20ارب ڈالرکرنٹ اکاوَنٹ خسارہ تھارواں سال ایف بی آرکےریونیومیں17فیصداضافہ ہوا،

    حماد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر کی انتہائی سطح پر تھا،بجٹ خسارہ 2300ارب کی انتہا پر پہنچ چکا تھا ,2 سال کے دوران کرپشن کا خاتمہ ،احتساب رہ نما اصول رہے،مشکل سفر سے ابتدا کی معیشت کی بحالی کیلئے اقدامات کیے،ماضی کے بھاری قرضوں کی ادائیگیوں کی وجہ سے 5ہزار ارب کا بوجھ پڑا،10لاکھ پاکستانیوں کوبیرون ملک نوکریوں کےمواقع پیداکیےگئے،

    حماد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ رواں سال ایف بی آرکےریونیومیں17فیصداضافہ ہوا،دوسالہ دورحکومت کے دوران5000ارب کا سود ادا کیا، 74فیصداندرونی قرضوں کوطویل المدت قرضوں میں تبدیل کیاگیا،ہم نے بجٹ فنانسنگ کیلئے اسٹیٹ بینک سے قرضے لینابندکردیئے،بیرونی سرمایہ کاری پاکستان میں لانےکیلئےآسان کاروبارپالیسی کااجراکیا،

    بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شورشرابہ کیا جاتا رہا ، اجلاس میں کرونا سے بچاؤ کے لئے سماجی فاصلے کا خیال رکھا گیا، اراکین اسمبلی نے ماسک بھی پہن رکھے تھے

    وفاقی کابینہ اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن بارے بڑا فیصلہ کر لیا

     

  • وفاقی کابینہ اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن بارے بڑا فیصلہ کر لیا

    وفاقی کابینہ اجلاس، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن بارے بڑا فیصلہ کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے سرکاری ملازمین کو وفاقی بجٹ میں ٹھینگا دکھانے کا فیصلہ کر لیا،وفاقی کابینہ نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ تنخواہیں اور پنشن گزشتہ سال کی سطح پر برقرار رہیں گی، وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا، جس میں بجٹ کی منظوری دی گئی،وفاقی کابینہ اجلاس میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ کیاگیا

    مالی سال 21-2020 کا بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، وفاقی وزیر حماد اظہر بجٹ پیش کریں گے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی بجٹ کا حجم 7600 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ سود اور قرضوں کی ادائیگی پر 3235 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ دفاع کے لیے 1402 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ٹیکس آمدن کا ہدف 4950 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ سود اور قرضوں کی ادائیگی پر 3235 ارب روپے خرچ ہوں گے۔

    پنشن کے لیے 475 ارب روپے رکھے جائیں گے۔ بجٹ تجاویز کے مطابق وفاقی وزارتوں اور محکموں کے لیے 495 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، وفاقی حکومت سبسڈی پر 260 ارب روپے خرچ کرے گی۔ وفاق کا ترقیاتی بجٹ 650 ارب روپے رکھا جائے گا

    کورونا اور دیگر قومی آفات سے نمٹنے کےلیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے 364 ارب روپے ،ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے لیے 179 ارب روپے ،توانائی منصوبوں کے لیے 80 ارب روپے ،آئندہ مالی سال آبی منصوبوں کے لیے 70 ارب ،فزیکل پلاننگ کے لیے 35 ارب روپے ،سماجی شعبوں کے منصوبوں کے لیے 249 ارب روپے ،صحت اور آبادی کے لیے 20 ارب روپے،تعلیم اور ہائیر ایجوکیشن کے لیے 35 ارب روپے ،ایس ڈی جیز کے لیے 24 ارب روپے ،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 40 ارب روپے،ضم شدہ قبائلی اضالاع کے لیے 48 ارب روپے ،سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کےلیے 20 ارب روپے،خوراک و زراعت کےلیے 12 ارب روپے ،موسمیاتی تبدیلی کےلیے 6 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے