بھارتی فوج نے کنٹرول لائن بٹل سیکٹر پر سیز فائرکی خلاف ورزی کی ہے۔ بھارتی فوج کی طرف سے بلاجواز فائرنگ کی گئی جس کے نتیجہ میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 22سالہ شہری زخمی ہو گیا ،ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پاک فوج نےبھارتی فائرنگ کاموثرجواب دیا۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ میں شہری آبادی کو مارٹر اوربھاری ہتھیاروں سےنشانہ بنایا گیا۔ جب کہ بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پرسیز فائرکی خلاف ورزی گزشتہ رات کی۔
Category: اہم خبریں
-

پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 2لاکھ 28 ہزار 274 ہو گئی
پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 2لاکھ 28 ہزار 274 ہو گئی
باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق 24گھنٹے میں 93افرادکورونا کے باعث جاں بحق ہوئے اور3 ہزار 191 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔پاکستان میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد4 ہزار 712 ہو گئی ہے اور 2لاکھ 28 ہزار 274 افراد متاثر ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ24گھنٹوں میں 4ہزار736 مریضوں نے کورونا کو شکست دی اور 25 ہزار 527 ٹیسٹ کیے گئے۔ ملک میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 29 ہزار 830 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 90 ہزار 721 ہو گئی ہے جب کہ پنجاب میں 80 ہزار 297 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں 27 ہزار 506، بلوچستان میں 10 ہزار 717، اسلام آباد میں 13 ہزار 292، آزاد جموں و کشمیر ایک ہزار 160 اور گلگت میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار 536 ہو گئی ہے۔کورونا وائرس کے باعث آزاد جموں و کشمیر میں 34، بلوچستان میں 122، گلگت میں 28، اسلام آباد میں 130، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 2، پنجاب میں ایک ہزار 844 اور سندھ میں ایک ہزار 459 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آنے والے دنوں میں پاکستان میں کورونا کیسز اور اموات میں اضافہ متوقع ہے۔ معان خصوصی ظفر مرزا نے بھی خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا کیسزاوراموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز پر بھی مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے گنجان آباد علاقوں میں کورونا وائرس کے کیسز زیادہ ہیں.
ادھر وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے بہترین نتائج مل رہے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے قیام کو 100 دن مکمل ہونے پر وزیر اعظم نے سینٹر کا کا دورہ کیا اور کورونا وائرس کیخلاف ملک بھر میں مربوط اقدامات کو یقینی بنانے میں این سی او سی کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ،وفاقی وزراء ، اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔
-

مبشر لقمان کے ناکارہ گاڑیوں کے خلاف کئے گئے پروگرامز نتیجہ خیز ثابت ہوئے، گاڑیوں کا معیار کچھ بہتر ہوا ہے، قمر الزماں کائرہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما، سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نے یوٹیوب چینل پر بات چیت کی
قمر زمان کائرہ نے ملکی سیاسی صورتحال پر مبشر لقمان کے سوالات کا جواب دیا، وہیں آخر میں مبشر لقمان نے قمر زمان کائرہ کے بیٹے کی کار حادثے میں موت کا تذکرہ کیا اور انکے لئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے سوال کیا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کا جو گھر میں حادثہ ہوا، بیٹا اللہ کو پیارا ہو گیا، اللہ انکی مغفرت کرے، سوال یہ ہے کہ اسکے بعد کم ازکم 28 پروگرام کئے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر، گاڑیوں کی ساکھ کے اوپر، ڈیٹا جمع کر کے دیا، کہ 1 لاکھ 10 ہزار لوگ ان گاڑیوں کے حادثات میں مارے گئے، دہشت گردی میں مرنے والے تو سب نظر آ جاتے ہیں لیکن یہ کمرشل دہشت گردی ہمارے سڑکوں پر ہو رہی ہے اس پر ہمیں نظر نہیں آتا، 18 ایم این ایز، وزیروں، تحریک انصاف ،پی پی، ن لیگ کے اراکین نے وعدہ کیا لیکن آج تک اسمبلی میں کوئی پارٹی، حکومت فیصلہ نہیں کر سکی کہ ہم نے یہ سب سٹینڈرڈ گاڑیان کب بند کرنی ہیں، کب امپورٹڈ گاڑیوں کا فراڈ بند کرنا ہے کہ جن میں کٹس پوری نہیں ہوتیں اور لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں،جب عوام یہ دیکھتی ہے کہ تمام سیاستدان عوام کے مسائل کے لئے اکٹھے نہیں ہو سکتے اپنے مفادات کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں تو پھر معذرت کے ساتھ عوام کا سیاستدانوں پر اعتماد کم ہونا شروع ہو جاتا ہے
شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے
وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی
860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی
کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت
طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف
جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا
کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات
عمران خان کی حکومت کو کس سے خطرہ ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان اور مرتضی علی شاہ کی زبانی
ڈارک ویب کی پراسرار دنیا، اہم انکشافات ، سنئے مبشر لقمان کی زبانی
قاتل گاڑیاں سڑکوں پر، مبشر لقمان نے آواز اٹھائی تو شہریوں نے دعائیں دیں
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ میں آپ کا اور تمام ساتھیوں کا مشکور ہوں، کہ دکھ میں ہمارے لئے دعائین کیں آج بھی دعا کی، اللہ آپ کو جزا دے، آپ کے پروگرام میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں جو بحث ہوئی اسکے نتیجے میں فرق ضرور آیا،اب جو گاڑیاں آرہی ہیں اگر چھوٹی گاڑی سوزوکی بھی آ رہی ہے تو اس میں بھی دو دو ایئر بیگز لگ کر آ رہے ہیں، پریشر بلڈ ہوا ہے، یہ بات درست ہے کہ ڈاکٹر شیرافگن نیازی کا بیٹا ایکسڈینٹ میں فوت ہوا اسوقت ہم نے شور کیا اسمبلی میں بات کی،
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں جو سٹینڈرڈ مینٹین کرنے کا ہے، اداروں کو ریگو لیٹ کرنے والا ہے، انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنے والا ہے وہ بھی ایک پارٹی ہے، ہم ایک ایسے سماج میں ہیں جس میں چیزیں آسانی سے مینج ہو جاتی ہیں،کہ جو گاڑیاں پاس کی جاتی ہین کمرشل گاڑیاں، سواریوں والی، مال گاڑیاں، چھوتی سے بڑی، سوزوکی سے لے کر ٹریلر تک یہ ہر سال پاس ہوتے ہیں ٹیکنکلی،لیکن یہ کبھی ورکشاپ میں نہیں گئے،پیسے دے کر سرٹفکیٹ ایشو ہو جاتے ہیں،جو گاڑیاں امپورٹ ہو رہی ہیں،اس میں یہ بات بھی درست ہے کہ ہمارے ہاں اپنی گاڑیوں کو جب تک خراب نہین ہو جائیں سالانہ مینٹینس نہیں کرواتے،سرٹفکیٹ کا پراسس ہمارے ہاں نہیں ،دوسرا ہمارے ہاں اپنی گاڑیوں کا بھی مسئلہ ہے، بدقسمتی ہے کہ گاڑیاں چیک کے لئے نہیں بھیجتے، بیگز کے، بریک کے حادثات ہوتے ہیں،ان میں جو سسٹم لگے ہوتے ہیں، بعض اوقات ٹائر کی حالت دیکھیں ،جو ہمار نظام ہے ہم خود بھی دھیان ہیں کرتے،
قمر زمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا ریگولیٹر سسٹم اتنا اچھا نہیں، امپورٹڈ گاڑیاں دس دس سال پرانی آ جاتی ہیں انکے اندار وہاں تو چیک ہوتا رہتا ہے لیکن جب یہاں 5 سال پرانی مزید ہوتی ہے تو اس میں زیادہ مینٹنس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم روٹین مینٹنس نہیں کرواتے،اسکو آگاہی کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے، اسکی کاسٹ ہوتی ہے،ہمارا یہ ایک پرابلم ہے اگر گاڑی جس طرح سپر فٹ ہونی چاہئے،استعمال کے لئے اس کے لئے کاسٹ ہے اکثرلوگ اس میں دیر نہیں کرتے جو دیر کرتے ہیں وہ کیئر نہیں کرتے.
مڈٹرم الیکشن اور مائنس ون، اصل حقیقت کیا؟ قمر الزمان کائرہ نے سب بتا دیا
-

مڈٹرم الیکشن اور مائنس ون، اصل حقیقت کیا؟ قمر الزمان کائرہ نے سب بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آجکل اسلام آباد میں سیاسی بہت کچھ ہو رہا ہے، میں نے سوچا کسی سیاسی شخصیت کو بلاؤں جو قدآور ،قابل احترام ہو اور جس کے اوپر لوگوں کا اعتماد بھی ہو، کہ یہ بندہ بات صحیح کرے گا چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے ہو،آج ہمارے ساتھ قمر الزمان کائرہ موجود ہیں
مبشر لقمان نے پہلا سوال کرتے ہوئے کہا کہ قمرالزمان کائرہ صاحب کیا کھچڑی پک رہی ہے اسلام آباد میں کہ وزیراعظم عمران خان کو مائنس ون منہ سے کہنا پڑ گیا،یہ نوبت کیوں آ گئی ہے،جس پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ جو حکومتیں فلسفے اور نظریئے کے تحت نہیں بنتیں اور وہ جماعتیں جو بنگلوں میں پودے اگائے جاتے ہیں وہ زمین میں نہیں اگتے ،اس جماعت کا پرابلم یہ ہے کہ اس میں جولوگ ہین وہ ایک جماعت کی طرح اکٹھے نہیں اسلئے کہ انکا ماضی نہیں وہ الگ الگ جماعتوں سے آئے اور ایک خاص وقت پر آکر ان کو مخصوص اشارے ملے جو ہمارے ملک میں ملا کرتے ہیں اور ان مخصوص اشاروں کے تحت وہ لوگ اقتدار کے لئے الیکشن جیت کر حکومت انجوائے کرنے کے لئے وہ تبدیلی، کسی سماجی بہتری، انصاف کے لئے نہیں بلکہ اقتدار کے لئے اکٹھے ہوئے، کس طرح ملک میں طاقتور لوگ اس طرح کے اشارے دیتے ہیں لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں الیکشن سے قبل ایسا ہوتا ہے،چند شاید پرانے چہرے پی ٹی آئی میں نظر آئیں، الیکشن میں جو انہوں نے سلوگن دیا تھا وہ ٹھیک تھا کہ ہم انصاف لائیں گے، قرضے نہیں لیں گے، پٹرول، چینی سستی کریں گے، یہ نعرے لگتے رہے اور یہ کہ پہلے والے لوٹ کر کھا گئے ہیں ہم دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں گے، لوگوں کو خواب دکھانا تو آسان ہے،لیکن جب اسکی عملی تعبیر کی طرف جائیں تو پھر پتہ چلتا ہے کہ آپ کتنے مجبور ہیں، پی ٹی آئی نے جتنے نعرے مارے تھے، دعوے کئے تھے وہ سب یوٹرن کا شکار ہو گئے اور وہ لوگ جنہوں نے خواب دیکھے تھے آپ جیسے لوگ اور میرے جیسے اور دیگر سب اس خواب میں گئے، طاقتور لوگ بھی ان کے ساتھ تھے ،اس خواب میں بھی لوگ گئے کہ شاید باقی جماعتیں ڈلیور نہیں کر سکیں، خان صاحب آئیں گے تو ڈلیور کر دیں گے لیکن ایسا نہیں ہے،ایک یہ ہے کہ ڈلیور کر نہیں کر سکتے دوسرا اس پر ماضی کی حکومتوں جن کو مورد الزام ٹھہراتے رہے آج بھی دو سال بعد آپ اپوزیشن لیڈر کے طور پر تقریریں کر رہے ہیں،وہ جماعتیں کی پرمارمنس آپ سے کہیں بہتر تھی ان میں ٹیم ورک بہتر تھا، روزگار ،ریونیو بہتر تھا، آپ کے آنے سے سارے حالات خراب ہوئے، میڈیا کے اوپر بھی قدغنیں لگ گئیں، لوگوں کے خواب ٹوٹے، جن لوگوں نے خان صاحب کو ووٹ دئے، اب اسکا ریورس گیئر شروع ہو گیا، میڈیا بھی کب تک برداشت کرتا، کب تک انتظار کرتا، آخر انہوں نے سچ باتیں دکھانی ہیں،ہم تو اپوزیشن کی جماعتیں ہیں اپنی بات کریں گے لیکن جب نیوٹرل آوازوں نے کہنا شروع کیا تو سوکالڈ جو سلیکٹرز ہیں ان میں بھی ڈیبیٹ شروع ہو گئی کہ اگر آپ کی ٹیم مسلسل فیل ہو رہی ہے اسکی فیلڈنگ، بیٹنگ خراب ہے اور آپس میں وہ لڑ رہے ہیں، ٹیم پر کنٹرول نہیں، پھر صرف ٹیم بری رہ نہیں جاتی، چارپانچ میچ جب ہار جاتے ہیں تو صرف ٹیم پر نہیں پھر سیلکٹرز پر بات آتی ہے، مجھے لگتا یوں ہے کہ پاکستان کے لوگوں کا دباؤ، میڈیا کے ذریعے حکومت، ان کے اتحادیوں پر پڑا ہے، جماعت میں جو اختلافات بڑے ہوئے اور سو کالڈ سیلکٹرز کو بھی دباؤ کا سامنا ہے کہ اب ڈلیور تو یہ کر ہینہیں رہے، خان صاحب ماضی کے نعروں کی طرح کہ چھوڑیں گے نہیں پکڑ لیں گے، ڈاکو ہیں، چور ہیں ،فلاض ہیں ،لگا رہے ہیں، بھائی بہت ہو گیا،اب آپ اپنی کارکردگی کی بھی بات کریں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کا طعنہ مجھے بڑا لگ رہا ہے، سچی بات یہ ہے کہ میں نے تحریک انصاف کی کھل کر سپورٹ کی ہے،جس پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ آپ نے ٹھیک کیا، خواب دیکھ کر کیا، کہ باقی جماعتیں توقع پر پوری نہیں اتریں شاید یہ اتریں ،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جتنی آزادی مجھے پیپلز پارٹی کےد ور میں تھی اسکی آدھی بھی آج نہیں ہے،یہ بھی ایک حقیقت ہے
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ یہی بات میں نے کی ہے، لوگ ہماری پرفارمنس دیکھیں گے،لوگوں کو ریلیف دیکھیں گے، تنخواہیں،معیشت، جی ڈی پی اسوقت چلیجنر کتنے بڑے تھے، عالمی بحران ،دہشت گردی تھی،لیکن پبلک میں وہ صورتحال نہیں آج پبلک بھی تنگ ہے،ڈلیور بھی کچھ نہیں،آزادی بھی نہین اور پھر ہر وقت کوئی نہ کوئی مافیا کا ذکر ہوتا ہے، خان صاھب جب کوئی نوٹس لیتے ہیں وہ چیز مہنگی ہو جاتی ہے کوئی چیز سستی نہیں ہوتی، آٹے، دوائی، چینی کا نوٹس لیا وہ سب مہنگے ہوئے، سستے نہیں ہوئے، اسی طرح پٹرول کی صورتحال ہوئی، وزیراعظم اس میں فیل ہوئے،جو انکا نعرہ تھا کہ ہم دیانتداری لائیں گے لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے وہ بھی نظر نہیں آئی، دو سو ارب ڈالر کو جو کہتے تھے واپس لائیں گے وہ بھی نہیں آیا،پاکستان کے اندر لوگوں پر کیسز ہیں، سپریم کورٹ،ہائی کورٹ ثبوت مانگ رہی ہیں،سالوں سے لوگوں کو جیلوں میں رکھا ہوا ہے، انکے خلاف ریفرنس نہیں بن رہے، پھر بھی الزام دے رہے ہیں کہ مافیا ہے، اپوزیشن پہلے ہی بات کر رہی تھی، اسکو بھی موقع ملا، اسکے نتیجے میں خان صاحب کی اپنی ہی سانس اکھڑی ہے،جس پر خان صاحب کو شک ہوا،میں ؤاضح طور پر کہہ دیتا ہوں کہ پیپلز پارٹی نہ مائنس ون فارمولے پر یقین رکھتی ہے نہ سوچ سکتی ہے،اسی لئے مائنس ون کا فارمولا ضیاالحق کے دور کا تھا کہ بھٹو، بے نظیر کو ہٹا دو پی پی قابل قبول ہے، مشرف کے دور میں تھا کہ بے نظیر کو ہٹا دو پی پی قبول ہے، پھر بعد میں کہا گیا کہ آصف زرداری کو ہٹا دو تو پی پی قبول ہے، یعنی آمرانہ ادوار کے آمرانہ فارمولا مائنس ون ہے، پی پی مائنس ون کو نہیں مانتی، جمہوریت میں جماعت کی حکومت ہے انکے اتحادی ہیں،لیکن یہ حکومت فیل ہو چکی ہے،اسمیں کوئی شک نہیں ، اسکے ساتھ ہی مداخلت نہیں ہونی چاہئے عوامی نمائندے ہیں، عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو حق ملنا چاہئے،کہ وہ ایوان کے اندر سے ایک جماعت اکثریت میں نہیں ہیں اور کوئی نیا الائنس بنے جو حکومت بنائی اس کو بنانے دی جائے، اگر یہ نہین ہوتا تو پھر نئے الیکشن کی طرف جایا جائے، اس جماعت کی حکومت اگر عمران خان سے نہین چل سکی، تو اسکی جماعت مین جن ناموں کا ذکر سن رہے ہیں جو یونیفارم سلوائے پھرتے ہین ، انکی کوئی حیثیت ہے کہ وہ جماعت کو چلا سکیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ووٹ ہیں 158،اگر میں میینگل صاحب کو شامل کروں تو 162، بجٹ پاس ہوتا ہے تو ووٹ نہیں لے سکتے، اپوزیشن بھی ڈھیر ہو گئی ہے حکومت کے سامنے، جس پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے اپوزیشن کا الائنس نہیں ہے، اپوزیشن کو بہتر پرفارمنس کرنا چاہئے تھا، اراکین کو اسمبلی میں لانا چاہئے تھا ، سوال یہ ہے کہ اپوزیشن اسلئے اپوزیشن ہوتی ہے کیونکہ وہ اقلیت میں ہوتی ہے اگر اپوزیشن کے 49 اور حکومت کے 50 ووٹ ہوتے تو بجٹ پھر بھی پاس ہو جاتا، حکومت کو اپنی جو اخلاقی برتری تھی، پچاس فیصد ووٹ کا جو گولڈن نمبر ہوتا ہے،حکومت وہ اچیو نہین کر سکی، حکومت کے لئے اب زیادہ مشکل ہے، اپوزیشن بھی نمبر اپنا نہیں دے سکی، اپوزیشن کی ساری جماعتوں نے ایک ریزولیشن سائن کیا جس میں انہوں نے بجٹ کو مسترد کیا،اگر وہ جماعتیں اگر حکومت بنانے کے لئے اکٹھی ہو جائیں تو اور لوگ بھی آ سکتے ہیں،پی تی آئی کا پتہ نہیں پھر کیا حال رہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب سینیٹ کا الیکشن ہو رہا تھا تو اسوقت آپ کے اپنے پیپلز پارٹی کے سینیٹرز نے آپ کی مرضی کے خلاف ووٹ ڈالا یا نہیں، اگر سینیٹرز نے دھوکہ دیا تو کیا پیپلز پارٹی نے انکے حوالہ سے تحقیقات کیں اور انکو بے نقاب کیا کہ وہ کون لوگ تھے جس پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ جو سینیٹ کا الیکشن تھا وہ خان صاحب یا چیئرمین سینیٹ کی محبت میں نہیں تھا وہ ووٹ کیسے پڑے سب جانتے ہیں ، پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم بین السطور ہی باتیں کرتے ہیں،کہ ہمارے ان دوستوں کو چاہئے کہ عوام کے اجتماعی شعور کو کام کر دیں، سلیکٹڈ شعور نے کبھی کام نہین کیا،وہاں پر کیا ہوا، کہ خفیہ بیلٹ میں ووٹ زیادہ پڑے تھے،لیکن جب کھل کر ووٹ دینے کا وقت آیا،اسوقت وہ ووٹ نہیں تھے، وزیراعظم کے ووٹ مین ووٹنگ میں اوپن ڈویژن ہوتی ہے، اگر لیول پلینگ فیلڈ دے دیا جائے اور سوکالڈ سلیکٹرز پیھچے ہٹ جائیں تو پھر خان صاحب کی جماعت کا کیا حال ہے اور پھر کون سے اتحادی ان کے ساتھ رہتے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیا آپ مڈٹرم الیکشن دیکھ رہے ہیں،جس پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ جی یہ حکومت تو فیل ہو گئی اب اس کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا یا شام،یہ اگر جاتی ہے تو پھر نئی حکومت پارلیمان کے اندر سے نہیں بنتی اور اگر مداخلت کر کے کوئی نئی حکومت بنائی گئی کہ کچھ پیپلز پارٹی سے لوگ لئے گئے اور کچھ کہیں سے ،تو یہ اس سے بھی بڑا نقصان ہو گا،جو اسوقت صورتحال ہے اسے بھی بڑا نقصان ہو گا، اگر الائنس کی حکومت آتی ہے اور وہ سسٹم کو بہتری کی طرف لے کر جاتی ہے تو ٹھیک ورنہ اسکے علاوہ کیا چوائس بچتی ہے، الیکشن کے بغیر پھر کچھ نہیں رہتا.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کا جو گھر میں حادثہ ہوا، بیٹا اللہ کو پیارا ہو گیا، اللہ انکی مغفرت کرے، سوال یہ ہے کہ اسکے بعد کم ازکم 28 پروگرام کئے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر، گاڑیوں کی ساکھ کے اوپر، ڈیٹا جمع کر کے دیا، کہ 1 لاکھ 10 ہزار لوگ ان گاڑیوں کے حادثات میں مارے گئے، دہشت گردی میں مرنے والے تو سب نظر آ جاتے ہیں لیکن یہ کمرشل دہشت گردی ہمارے سڑکوں پر ہو رہی ہے اس پر ہمیں نظر نہیں آتا، 18 ایم این ایز، وزیروں، تحریک انصاف ،پی پی، ن لیگ کے اراکین نے وعدہ کیا لیکن آج تک اسمبلی میں کوئی پارٹی، حکومت فیصلہ نہیں کر سکی کہ ہم نے یہ سب سٹینڈرڈ گاڑیان کب بند کرنی ہیں، کب امپورٹڈ گاڑیوں کا فراڈ بند کرنا ہے کہ جن میں کٹس پوری نہیں ہوتیں اور لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں،جب عوام یہ دیکھتی ہے کہ تمام سیاستدان عوام کے مسائل کے لئے اکٹھے نہیں ہو سکتے اپنے مفادات کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں تو پھر معذرت کے ساتھ عوام کا سیاستدانوں پر اعتماد کم ہونا شروع ہو جاتا ہے
شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے
وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی
860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی
کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت
طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف
جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا
کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات
عمران خان کی حکومت کو کس سے خطرہ ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان اور مرتضی علی شاہ کی زبانی
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ میں آپ کا اور تمام ساتھیوں کا مشکور ہوں، کہ دکھ میں ہمارے لئے دعائین کیں آج بھی دعا کی، اللہ آپ کو جزا دے، آپ کے پروگرام میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں جو بحث ہوئی اسکے نتیجے میں فرق ضرور آیا،اب جو گاڑیاں آرہی ہیں اگر چھوٹی گاڑی سوزوکی بھی آ رہی ہے تو اس میں بھی دو دو ایئر بیگز لگ کر آ رہے ہیں، پریشر بلڈ ہوا ہے، یہ بات درست ہے کہ ڈاکٹر شیرافگن نیازی کا بیٹا ایکسڈینٹ میں فوت ہوا اسوقت ہم نے شور کیا اسمبلی میں بات کی، ہمارے ہاں جو سٹینڈرڈ مینٹین کرنے کا ہے، اداروں کو ریگو لیٹ کرنے والا ہے، انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنے والا ہے وہ بھی ایک پارٹی ہے، ہم ایک ایسے سماج میں ہیں جس میں چیزیں آسانی سے مینج ہو جاتی ہیں،کہ جو گاڑیاں پاس کی جاتی ہین کمرشل گاڑیاں، سواریوں والی، مال گاڑیاں، چھوتی سے بڑی، سوزوکی سے لے کر ٹریلر تک یہ ہر سال پاس ہوتے ہیں ٹیکنکلی،لیکن یہ کبھی ورکشاپ میں نہیں گئے،پیسے دے کر سرٹفکیٹ ایشو ہو جاتے ہیں،جو گاڑیاں امپورٹ ہو رہی ہیں،اس میں یہ بات بھی درست ہے کہ ہمارے ہاں اپنی گاڑیوں کو جب تک خراب نہین ہو جائیں سالانہ مینٹینس نہیں کرواتے،سرٹفکیٹ کا پراسس ہمارے ہاں نہیں ،دوسرا ہمارے ہاں اپنی گاڑیوں کا بھی مسئلہ ہے، بدقسمتی ہے کہ گاڑیاں چیک کے لئے نہیں بھیجتے، بیگز کے، بریک کے حادثات ہوتے ہیں،ان میں جو سسٹم لگے ہوتے ہیں، بعض اوقات ٹائر کی حالت دیکھیں ،جو ہمار نظام ہے ہم خود بھی دھیان ہیں کرتے،ہمارا ریگولیٹر سسٹم اتنا اچھا نہیں، امپورٹڈ گاڑیاں دس دس سال پرانی آ جاتی ہیں انکے اندار وہاں تو چیک ہوتا رہتا ہے لیکن جب یہاں 5 سال پرانی مزید ہوتی ہے تو اس میں زیادہ مینٹنس کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم روٹین مینٹنس نہیں کرواتے،اسکو آگاہی کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے، اسکی کاسٹ ہوتی ہے،ہمارا یہ ایک پرابلم ہے اگر گاڑی جس طرح سپر فٹ ہونی چاہئے،استعمال کے لئے اس کے لئے کاسٹ ہے اکثرلوگ اس میں دیر نہیں کرتے جو دیر کرتے ہیں وہ کیئر نہیں کرتے.
ڈارک ویب کی پراسرار دنیا، اہم انکشافات ، سنئے مبشر لقمان کی زبانی
-

وزیراعظم کا نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول آپریشن سینٹر کا دورہ،بریفنگ ،اعلامیہ جاری
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ این سی او سی نے جن مشکل حالات میں کام کیا قوم کو اس پر فخر ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے بہترین نتائج مل رہے ہیں۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں کورونا کی صورت حال پر اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء، معاونین خصوصی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت اعلٰی عسکری حکام بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) اور محکمہ صحت کے حکام نے کورونا کی تازہ صورت حال پر بریفنگ دی۔
اس موقع پر وزیراعظم کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی 100 روزہ کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی جس پر وزیراعظم نے این سی او سی کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم کو ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے نتائج پر بھی بریفنگ دی گئی، جس پر ان کا کہنا تھا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے بہترین نتائج موصول ہو رہے ہیں۔
دوسری طرف نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی)کے خدمت اور قومی کاوش کے 100دن مکمل ہوگئے، این سی و سی نے اِن100دِنوں میں قومی یکجہتی اور وَبا سے نمٹنے کے لئے دِن رات بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے اور معیشت کو بحال رکھنے کی حکمت عملی وضع کی۔
این سی او سی کے مطابق الحمدللہ آج ملک میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد مثبت کیسز سے زیادہ ہوچکی ہے۔ ملک بھر میں ایک لاکھ 25ہزار 94 کورونا مریض مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں۔
-

خان پور میں ٹرین حادثہ ۔شالیمار ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی
خان پور:خان پور میں ٹرین حادثہ ۔شالیمار ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی،اطلاعات کے مطابق خان پورمیں ٹرین حادثے کی اطلاعات ہیں ، یہ بھی بتایا گیا ہےکہ اس حادثے میں شالیمارایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی ہے
تفصیلات کے مطابق رحیم یار خان کے علاقے خان پور کے جٹھہ بھٹہ سٹیشن پر 27 شالیمار ایکسپریس اور ڈاؤن سائیڈ کی مال گاڑی ٹکراگئیں۔ شالیمار ایکسپریس کراچی سے لاہور جا رہی تھی۔
ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثہ آٹو میٹک کانٹا چینج ہونے کے باعث ہیش آیا۔ حادثہ کے باعث دونوں سائیڈ کی ٹریفک کو معطل کر دیا ہے۔
بریکنگ نیوز
ایک اور ٹرین حادثہ
شیخ رشید استعفی دو
👇👇
خان پور :جیٹھہ بھٹہ اسٹیشن پر 27 آپ شالیمار ایکسپریس اور ڈاؤن سائیڈ کی مال گاڑی کو حادثہ
27 آپ شالیمار ایکسپریس کراچی سے لاہور جا رہی تھی
حادثہ کانٹا چینج ہونے کے باعث پیش آیا،
جانی و مالی نقصان کا خدشہ،@MaizaHameed pic.twitter.com/H2fvtRX6op— رفاقت علی خانپوری (@Rafaqat81716949) July 4, 2020
واضح رہے کہ گزشتہ روز شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد میں ایک ٹرین حادثہ ہوا تھا جس میں سکھ زائرین کے 22 افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ حادثہ ویگن ڈرائیور کی جلد بازی کے باعث پیش آیا تھا، ان میں سے 17 سکھ زائرین کی آخری رسومات آج نوشہرہ میں بھی ادا کر دی گئی ہیں۔
-

چیئرمین ایف بی آر کو ایک بار پھر تبدیل کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین ایف بی آر کو ایک بار پھر تبدیل کر دیا گیا
وفاق نے جاوید غنی کو نیا چیئرمین ایف بی آر تعینات کرنے کی منظوری دے دی،حکومت نے چیئر پرسن ایف بی آر نوشین کو عہدے سے ہٹا دیا ،کابینہ نےچیئرمین ایف بی آرکی تعیناتی کی منظوری دی،پی ٹی آئی دور مین جاوید غنی چوتھے چیئرمین ایف بی آر ہوں گے
رواں برس 6 اپریل کو گریڈ 22 کی افسر نوشین جاوید امجد کو چیئر پرسن ایف بی آر تعینات کیا گیا تھا اب انکو ہٹا دیا گیا ہے،
چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی پر مقدمات ہیں، خورشید شاہ کا دعویٰ
شبر زیدی کی بطور چیئرمین ایف بی آر تعیناتی کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی گئی.
قبل ازیں سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کی اعزازی طور پر چئیرمین تقرری فوری طور پر ختم کر دی گئی تھی۔ شبر زیدی پہلے سے ہی غیر معینہ مدت کیلئے رخصت پر تھے۔ چئیرمین ایف بی آرشبر زیدی کی رخصت کی وجہ سے نوشین جاوید امجد قائمقام چیئر پرسن کے طور پر کام کر رہی تھیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کی ایف بی آر کی ناکامی کی وجہ سے سندھ کو 229 ارب روپے کا نقصان ہوا،پی ٹی آئی کی ایف بی آر کی ناکامی کی وجہ سے پنجاب کو 483 ارب روپوں کا نقصان ہوا،
سندھ ریونیو بورڈ نے اس سال 105 ارب روپے سے زائد کا ریونیو اکھٹا کیا، معیشت کی سست رفتاری اور کرونا وائرس کے باوجود سندھ کے ریونیو میں پانچ فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا،سندھ میں کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، سندھ میں 46 ہزار 824 افراد نے کرونا وائرس کو شکست دی، ملک کے ایک لاکھ صحت یاب مریضوں میں سندھ کا تناسب 46 فیصد ہے
-

وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس،این سی او سی کا کام قابل تحسین، وزیراعظم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کا دورہ کیا
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت این سی او سی میں اجلاس ہوا،جس میں وزیراعظم عمران خان کو این سی او سی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی،وزیراعظم عمران خان نے این سی او سی کو خراج تحسین پیش کیا
وزیراعظم کی زیر صدارت این سی او سی میں اجلاس میں وفاقی وزرا،معاونین اور اعلی عسکری حکام اجلاس میں شریک ہوئے،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ این سی او سی کا کام قابل تحسین ہے،
وزیراعظم کو ملک میں کورونا صورتحال پر بریفنگ دی گئی،عیدالاضحیٰ کے ایس او پیز سے متعلق تجاویز پیش کی گئی، اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نتائج پروزیراعظم کو بریفنگ دی گئی،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے بہترین نتائج موصول ہورہے ہیں، دنیا بھر میں سمارٹ لاک ڈاون کے آئیڈیا کو پزیرائی ملی
کورونا پر کافی حد تک کنٹرول ،لیکن خطرہ اب بھی موجود ہے،وزیر اطلاعات
کوروناوائرس سے نمٹنے کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے 100دن مکمل ہو گئے ،
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے حکام کا کہنا ہے کہ کوروناوائرس سے نمٹنے کے لیے دن رات حکمت عملی واضح کی، کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے اور معیشت کو بحال رکھنے کی حکمت عملی بنائی گئی،آج ڈاکٹرز، پیرا میڈکس اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے،کوروناوائرس سے نمٹنے کے لیے ہر پاکستانی ایک ہیرو ہے
کرونا کے خلاف جنگ میں کم وسائل کے باوجود واضح کامیابیاں ملیں، فیاض الحسن چوہان
-

پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری، مزید 68 اموات،نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے 100دن مکمل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کوروناوائرس سے نمٹنے کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے 100دن مکمل ہو گئے ،
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے حکام کا کہنا ہے کہ کوروناوائرس سے نمٹنے کے لیے دن رات حکمت عملی واضح کی، کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے اور معیشت کو بحال رکھنے کی حکمت عملی بنائی گئی،آج ڈاکٹرز، پیرا میڈکس اور سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے،کوروناوائرس سے نمٹنے کے لیے ہر پاکستانی ایک ہیرو ہے،
دوسری جانب پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے،ملک بھر میں کورونا کے مزید 3 ہزار378کیسزرپورٹ ہوئے،ملک بھر میں کورونا کیسز کی تعداد 2 لاکھ 25ہزار283ہوگئی،24گھنٹے کے دوران مزید68 افراد کورونا سے جاں بحق ہوئے،ملک بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد4ہزار619ہوگئی،
ملک بھر میں ایک لاکھ25 ہزار95مریض صحت یاب ہو گئے،گزشتہ 24 گھنٹے میں ریکارڈ11ہزار469کورونا متاثرین صحتیاب ہوئے،مجموعی طور پر 13 لاکھ 72 ہزار 825 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں،
سندھ میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد90ہزار721ہوگئی،پنجاب میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد80ہزار297رپورٹ ہوئی ہے،خیبر پختونخوا میں کورونا سے متاثر افراد کی تعداد27ہزار506ہوگئی،بلوچستان میں کوروناکیسز کی تعداد 10ہزار 717 ہوگئی،اسلام آباد میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 13ہزار292ہوگئی،آزاد جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد ایک ہزار536ہوگئی،گلگت میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد ایک ہزار 536ہوگئی،
پاکستان میں کورونا سے اموات کی تعداد 4619 ہے،سندھ میں اموات1459 ،پنجاب 1844،کے پی میں اموات 1002 ہیں، اسلام آباد 130، بلوچستان 122،جی بی 28،آزادجموں کشمیرمیں اموات34ہیں،
-

ڈارک ویب کی پراسرار دنیا، اہم انکشافات ، سنئے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آپ نے بھی سوچا کہ ڈارک ویب کی پراسرار دنیا ہے کیا، ٹیکنالوجی نے جہاں ہماری زندگی کے پر شعبے کو متاثر کیا وہان غیر قانونی کاموں میں بھی ٹیکنالوجی کا بھر پور فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، انٹرنیٹ تو آپ استعمال کرتے ہیں بلکہ ساری دنیا استعمال کرتی ہے،اکثریت کی رسائی،گوگل فیس بک، یوٹیوب تک ہے لیکن ایسی ٹریفک بھی انٹرنیٹ پر رواں دواں ہے جہاں صرف خاص لوگ ہی پہنچ پاتے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے اندر انڈر ورلڈ آباد ہے جہاں عام فرد کو رسائی حاصل نہیں،ڈارک ویب ورلڈ وائیب ویب کا ایسا حصہ ہے جس تک پہنچنے کے لئے خاص سافٹ ویئر کی ضرورت ہوتی ہے، ڈارک ویب استعمال کرنے والوں کا آئی پی ،لوکیشن خاص براؤزر نیٹ ورک کے ذریعے چھاہئے جاتے ہیں جہاں غیر قانونی کاروبار ہوتا ہے،مگر یہ جاننا دشوار ہے کہ انکو چلا کون رہا ہے،ڈارک ویب استعمال کرنے والوں کی شناخت پوشیدہ رکھی جاتی ہے،جو نہ تو سروس کو یوزر کا آئی پی دیتی ہے نہ یوزرکو سروس کا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جرائم کی یہ وہ دنیا ہے جہاں قانون کے ادارے بھی نہیں پہنچ سکے، انٹرنیٹ کے اس شعبے میں گھناؤنے کاروبار میں پیسے اور کمائی منسلک کر دی ہے، ڈارک ویب کی خصوصی مارکیٹ بھی قائم ہوتی ہین جہاں غیر قانونی کام کئے جاتے ہیں وہاں پر آتشیں اسلحہ، منشیات یا خصوصی فحش فلمیں فروخت کی جاتی ہیں .
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس دنیا میں ایسی بھی مارکیٹس موجود ہوتی ہیں جہاں آپ کو اجرتی قاتل دستیاب ہوتے ہیں،انڈر ورلڈ کی طرح یعنی ڈارک ویب بالکل جدید دنیا کی انڈرورلڈ ہے، اور اس کاروبار سے دنیا کی طاقتور ہستیاں بھی جڑی ہوئی ہیں،ملکی سطح پر ڈارک ویب قائم ہوتے ہیں جو عالمی ڈارک ویب سے جڑے ہوتے ہیں، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ڈارک ویب سے محفوظ ہیں تو ایسا نہیں ہے، یہ آپ کے ارد گرد موجود ہوتے ہیں،زندگی پر اثر انداز ہو رہے ہیں لیکن واقف نہیں ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے ٹی وی پر پروگرام بھی کیا تھا کہ اگر آپ کا ڈیٹا نادرا کے پاس محفوظ ہے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے،آپ کی حساس معلومات، تاریخ پیدائش، خاندان کی معلومات کسی بھی واٹس گروپ میں فروخت کے لئے پیسوں کے عوض دیئے جا سکتے ہیں، مجھ پر کافی تنقید بھی کی گئی،جن لوگوں کو حساس معلومات تک رسائی ہے ان کے پاس کال کا مکمل ڈیٹا تک موجود ہے،ایف آئی اے سائبر کرائم یونٹ سندھ کے ڈائریکٹر فیض اللہ نے بتایا تھا کہ اس ڈیٹا سم کارڈ کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے،جس کے ذریعے جعلساز دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں
رواں برس ایک سائبر سیکورٹی کمپنی نے دعویٰ کیا کہ گیارہ کروڑ پچاس لاکھ صارفین کا موبائل نمبر اور ذاتی ڈیٹا ڈارک ویب کو 20 لاکھ ڈالر میں فروخت کیا گیا، اس پر سندھ ہائیکورٹ نے نادرا و دیگر کو نوٹس جاری کیا، یہ ہمارے ملک کی چھوٹی سی مثال ہے، پوری دنیا سے حساس معلومات کی کس طرح خریدوفروخت ہوتی ہو گی.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ڈارک ویب جرائم کی ایک ایسی دنیا ہے اور ایسے گروہوں کا مسکن ہے جو خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچا کر رکھنا چاہتے ہیں،ایک تحقیق کے مطابق گوگل سرچ انجن کے ڈیٹا بیس میں صرف 16 فیصد ویب صفحات کا اندراج موجود ہے جبکہ باقی ویب سائٹس اب بھی گوگل کی پہنچ سے دور ہیں۔ اس لیے انہیں کسی کے لیے بھی تلاش کافی مشکل ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ڈارک ویب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کو مشکل ضرور بنا دیتی ہیں مگر ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جب سیکورٹی ایجنسیاں ایسی ویب سائٹس تک پہنچنے اور ان کو چلانے یا استعمال کرنے والوں تک پہنچنے میں کامیاب رہی ہیں۔ اس کی ایک مثال ڈارک ویب پر منشیات کا کاروبارکرنے والی بڑی مارکیٹ سلک روڈ کو چلانے والے شخص کی گرفتاری میں کامیابی ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی طرح امریکی ادارے ایف بی آئی نے حال ہی میں ڈارک ویب پر بچوں کے جنسی تشدد کی ویب چلانے والے 2 افراد کو گرفتار کر لیا، ڈارک ویب پر غیر قانونی ، غیر اخلاقی سرگرمیاں جاری ہیں اس کو محفوظ سمجھتے ہوئے ریڈ رومز بنائے گئے ہیں،یورپ، امریکہ ، عرب ممالک کے امرا ذہنی مریض امرا بعض اوقات اپنے ہی ممالک کے نوزائیدہ بچوں پر تشدد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں ،ڈارک ویب پر لائیو آنے کی رقم بہت زیادہ ہے، گزشتہ سال پاکستان میں سہیل پکڑا گیا جو بچوں سے زیادتی کر کے ویڈیو فروخت کرتا تھا، منظم گروہ منشیات، انسانی جانوں کی سمگلنگ کے علاوہ پرتشدد پورن بناتے ہیں اور خاص ناظرین کو پہنچاتے ہیں اس ضمن میں واٹس ایپ گروپ پر بھی کیا گیا، بھارت میں 30 کے گروپ ایسے ملے تو بچوں کی پورن ویڈیو واٹس ایپ پر دیتے تھے
شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے
وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی
860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی
کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت
طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف
جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا
کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات
عمران خان کی حکومت کو کس سے خطرہ ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان اور مرتضی علی شاہ کی زبانی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ڈارک ویب کے لئے جو ایکسپرٹ رکھے ہوتے ہیں وہ پیسوں کے عوض آئی ڈی پاسورڈ دیتے ہیں، رازداری برقرار رکھی جاتی ہے،انڈیا سمیت کئی ممالک میں لوگ پکڑے جا چکے لیکن وہ لوگ مہرے نکلے، عالمی قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ڈارک ویب کو تلاش کر نہ سکے، جو پکڑے گئے وہ مہرے نکلے اور دھندہ اسی زور و شور سے جاری ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ڈارک ویب وہی لوگ استعمال کرتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ وہ جو بھی دیکھیں ان کی پہنچان چھپی رہے،رواں برس اپریل مین پیکرز نے فیس بک کے 267 ملین ڈیٹا صارفین کا ڈارک ویب کو فروخت کیا، اگر فیس بک پر ڈیتا محفوظ نہیں تو اندازہ کر لیں کہ فون میں کتنا محفوظ ہو گا، ٹیکنالوجیز کے برے استعمال ہیں تو اچھے استعمال بھی ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ڈارک ویب خطرناک ہے تو بند کیوں نہیں کی جاتی، ڈارک ویب انڈر ورلڈ کا چوہے بلی کا کھیل ہے، ایک ہی پرائویسی جو معلومات کو محفوظ بناتی ہے وہیں ڈارک ویب کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے،ساؤتھ کوریا میں 338 لوگوں کو گرفتار کیا گیا، قصور ٹیکنالوجی کا نہیں، اسکے استعمال کرنے والا ذین کا ہے، بدلنا ہے تو انسانوں کی سوچ بدلنی ہو گی، دنیا خود بدل جائے گی، بچوں پر ظلم کرنے اور ویڈیو بنانے اور دیکھنے والے لوگوں کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے تا کہ آئندہ کوئی ایسا کرتے ہوئے ہزار بار سوچے.
