باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین کے بعد نیپال کی فوج نے بھارتی فوج پر حملہ کر دیا
نیپالی فوج کے حملے میں دو بھارتی فوجی ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں،دونوں ممالک کے مابین بارڈر پر تصادم کے نتیجے میں ایک بھارتی فوجی کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے، ذرائع کے مطابق زخمی بھارتی کو نیپالی فوج نے گرفتار کر لیا ہے
Breaking: Unbelievable & Unprecedented Nepal Army is firing on Indian at some border posts. There are reports of death of 2 Indians and 1 injured man is allegedly in Nepali Army's custody.
بھارتی میڈیا نے نیپال سرحد پر بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق نیپالی فوج نے اچانک فائرنگ کی جس کے باعث بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے،واقعہ سونبرسہ پولیس سٹیشن کی حدود جانکی نگر بودر میں پیش آیا تا ہم بھارتی میڈیا دوسری جانب بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کو چھپا رہا ہے اور دعویٰ کر رہا ہے کہ نیپالی فائرنگ سے مزدود ہلاک ہوئے ہیں
رپورٹ کے مطابق 25 سالہ بیٹا دکیش کمار سکنہ ناگیشور کی نیپالی فوج کی جانب سے فائرنگ میں ہلاکت ہوئی ہے،زخمی کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،
بھارت نے بھی جوابی فائرنگ کی ہے تا ہم نیپالی فوج کا کوئی نقصان نہیں ہوا، نیپال نے ایک بھارتی شہری کو گرفتار بھی کر لیا ہے
قبل ازیں گزشہ ماہ 30 مئی کو بھی نیپال نے بھارتی فوج کے 15 اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا، سرحدی جھڑپوں میں کچھ بھارتی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں ، نیپا لی فوج نے بھارتی فوجیوں کو گرفتار کیا تو سرحد پر دیگر بھارتی فوج بھاگنے پر مجبور ہو گئی
بھارت اس وقت چاروں طرف سے گھر چکا ہے ہے، ایک طرف چین نے لداخ پر بھارت میں گھس کر بھارتی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے، دوسری جانب نیپا ل نے بھی بھارتی فوجی گرفتار کر لئے ہیں، تیسری جانب ایل او سی کی خلاف ورزی پر پاک فوج نے بھارت کے ایک ماہ میں 4 کواڈ ہیلی کاپٹر مار گرائے ہیں
نیپال نے بھارت کو دھمکی دی تھی کہ اگر بھارت نے کوئی حرکت کی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ لڑیں گے ،نیپال کے نائب وزیراعظم ایشور پوکھریل کا کہنا تھا کہ نیپال کی آرمی ضرورت پڑنے پر لڑے گی۔ ہم ہماری قابلیت، دیانتداری اور ہماری آرمی کی صلاحیت کے تعلق سے کافی پُراعتماد ہیں۔
پوکھریل نیپال کے وزیردفاع بھی ہیں انہوں نے بھارت کی جانب سے سرحدی تنازع کے بعد بھارت کو دھمکی دی ہے کہ اگر بھارت باز نہ آیا تو ہم لڑنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے
نیپال نے بھارتی علاقوں لیپولیک، کالاپانی اور لمپیادھورا کو اپنے علاقہ بتاتے ہوئے اسے اپنے سیاسی نقشہ میں شامل کیا تھا ۔جس کے ساتھ ہی نیپال اور بھارت میں سیاسی اور سفارتی سطح پر تناؤ پیدا ہوگیا۔
واضح رہے کہ نیپال کے وزیراعظم نے نیانقشہ جاری کر دیا جسمیں کالا پانی، لمپیا دھورا اور لیپو کے بھارتی علاقوں کو نیپالی سرحدوں میں شامل کر دیا۔
قبل ازیں بھارت نے پاکستان ،چین کے بعد نیپال سے بھی پنگا لے لیا جس کے بعد نیپال نے مودی سرکار کو آنکھیں دکھائی ہیں، نیپال نے بھارتی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور بارڈر پر مزید فوج تعینات کر دی ہے
نیپال نے اتراکھنڈ میں دھارچولا سے چین کی سرحد پر واقع لپو لیکھ تک رابطہ سڑک بنائے جانے کی مخالفت میں بھارتی سفیر کو طلب کیا ہے،نیپال حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ پردیپ کمار گیاولی نے بھارتی سفیر وی ایم كواترا کو سفارتی خط دیا ہے۔ نیپال حکومت کا کہنا ہے کہ اتراکھنڈ میں جو سڑک بنائی گئی ہے، وہ اس کے علاقے میں ہے ۔
بھارت کی جانب سے نیپال سرحد پر سڑک کی تعمیر سے دونوں ملکوں کے درمیان نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، نیپال نے بھارتی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس کی حدود کے اندر کسی بھی قسم کا کام کرنے سے باز رہے
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے متنازعہ سرحد لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے قریب ایک سڑک کا افتتاح کیا تھا جو ریاست اترکھنڈ کے علاقے دھر چولا کو چین کی سرحد کے قریبی علاقے لیپو لیکھ سے ملاتی ہے۔ لیپو لیکھ کا جنوبی حصہ کلپنی بھارت اور نیپال کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ ہے جبکہ چین اور تبت کے ساتھ اسٹریٹجک اہمیت کا تھری وے جنکشن ہے۔
نیپال کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت کا یکطرفہ اقدام دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کیخلاف ہے جس میں سرحدی تنازعات مذاکرات سے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
نیپال نے سختی سے کہا کہ نئی دہلی نیپال کی حدود میں کسی بھی قسم کی سرگرمیوں سے باز رہے، کھٹمنڈو میں نیپال کی حکمراں جماعت کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس سڑک کی تعمیر کو نیپال کی خودمختاری خطرے میں ڈالنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
نیپال کی جانب سے بھارت کو لنک روڈ پر مزید تعمیرات سے باز رہنے کی ہدایت دئیے جانے کے بعد نیپال نے سرحد پر مزید فوج تعینات کردی ہے نیپالی وزیرخارجہ پردیپ گیاوالی کا کہنا ہے کہ انہوں نے سرحد پر بھارتی تعمیرات میں مزید پیشرفت کو روکنے کیلئے فوجی چوکیوں میں اضافہ اور مزید فوج تعینات کی ہے۔ لنک روڈ کی ملکیت کا تنازع دونوں ممالک کی جانب سے تاریخی شواہد و سرکاری دستاویزات کو سامنے رکھ کر حل کرنا ہوگا۔
شہبازشریف، احسن اقبال کے بعد مسلم لیگ ن کی ایک اور اہم ترین شخصیت کرونا کا نشانہ بن گئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ جاری ہے، سیاسی شخصیات میں بھی کرونا تیزی سے پھیل رہا ہے
اب خبر آئی ہے کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کرونا ٹیسٹ پازیٹیو آگیا۔ ن لیگی رہنما نے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد خود کو قرنطینہ کر لیا ہے
گزشتہ روز شہباز شریف کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جب کہ اس سے قبل احسن اقبال، مریم اورنگزیب، نہال ہاشمی، انجینئر امیر مقام، خواجہ سلمان رفیق، سیف الملوک کھوکھر کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں
گزشتہ روز تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار، فرخ حبیب، جے یو آئی (ف) کی شاہدہ اختر علی، ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی اسامہ قادری، سینیٹر ثنا جمالی کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا
صوبہ بلوچستان میں 3 وزیر اور 3 اراکین اسمبلی میں کرونا کی تشخیص ہو چکی ہے ،بلوچستان کے صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی، صوبائی وزیر ریونیو سلیم احمد کھوسو، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے کھیل عبدالخالق ہزارہ اور تین اراکین اسمبلی نصراللہ خان زیرے، میر یونس عزیز زہری اور زابد ریکی کرونا کا شکار ہو چکے ہیں
چند روز قبل جمعیت علما اسلام سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی سید فضل آغا کورونا کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسی طر ح نواب ثنا اللہ زہری دور حکومت میں صوبائی وزیر صنعت رہنے والے سردار در محمد ناصر بھی کورونا کا شکار ہوکر وفات پا چکے ہیں
بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی سے رکن قومی اسمبلی اور جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ شاہ زین بگٹی بھی کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور انہوں نے خود کو قرنطینہ کر رکھا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 107 اموات ہوئی ہیں جبکہ 6397 نئے مریض سامنے آئے ہیں
پاکستان میں کرونا مریضوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار 933 ہو گئی ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 2 ہزار 463 ہوگئی ہے
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6 ہزار 397 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں 47 ہزار 382، سندھ میں 46 ہزار 828، خیبر پختونخوا میں 15 ہزار 787، بلوچستان میں 7 ہزار 673، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 30، اسلام آباد میں 6 ہزار 699 جبکہ آزاد کشمیر میں 534 مریض ہیں
ملک بھر میں اب تک 8 لاکھ 9 ہزار 169 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 28 ہزار 344 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 40 ہزار 247 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں .
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 107 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 463 ہوگئی ہے، پنجاب میں 890، سندھ میں 776، خیبر پختونخوا میں 632، اسلام آباد میں 65، گلگت بلتستان میں 15، بلوچستان میں 75 اور آزاد کشمیر میں 10 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چڑیل بڑے دن بعد ایک خبر لے کر آئی ہے، سعودی عرب میں اقتدار کا کھیل جاری ہے اوراسکے مرکزی کردار محمد بن سلمان بری طرح خوف کا شکار ہو چکے ہیں،عالمہ سطح پر ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت اور الیکشن میں متوقع نتائج نے انہیں مزید پریشان کر دیا ہے،کئی شہزادوں نے بھی اپنی رہائی کے لئے انٹرنیشنل فرمز سے لابنگ کر لی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ محمد بن سلمان اور امریکہ کے مابین تعلقات میں تناؤ محسوس کیا جا رہا ہے، رمضان میں امریکہ نے اپنی دو میزائل بیٹریز سعودی عرب سے ہٹا لی تھیں حالانکہ جب پہلے ہی ایران سے پراکسی وار کے نتیجے میں سعودی آئل فیلڈ پر ڈرون حملے بھی ہوئے،اسکی ایک وجہ بتائی جا رہی ہے کہ یو ایس سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپو نے ریاض میں 3 دن گزارے جس کا مقصد یمن میں جنگ کا خاتمہ اور امریکیوں کی رہائی تھی جس میں انہیں خاطر خؤاہ کامیابی نہیں ملی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب محمد بن سلمان کو واشنگٹن کی پالیسی میں تبدیلی نظر آئی تو وہ سعودی عرب میں بھی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہو جائے سعودی عرب میں پالیسی صرف اسی کی چلے گی،دوسری طرف وبا اور تیل کی جنگ نے سعودی عرب کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کو اتنا نقصان وبا نے نہیں پہنچایا جتنا محمد بن سلمان نے روس سے تیل کی قیمتوں کی جنگ شروع کر کے پہنچایا،محمد بن سلمان کو معلوم تھا کہ انکے ارد گرد کوئی ایسا شخص ہے جس پر وہ بھروسہ کر سکتے ہیں، بنیادی طور پر وہ خوف میں مبتلا رہتے ہیں،ایسے ماحول میں وفاداری اور اخلاص پر مبنی تعلقات کی توقعات مشکل معلوم ہوتی ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں کی گرفتاریوں کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی مایوسی کے طور پر دیکھا گیا، ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ کے نائب ڈائریکٹر مائیکل پرک نے کہا ہے کہ تنقید کی لہروں کے باوجود سعودی حکام کا غیر قانونی سلوک بدستور جاری ہے،سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے والد کے بعد بادشاہت کا تاج اپنے سر پر دیکھنا چاہتے ہیں اور سجانا چاہتے ہیں،اور اس کے لئے وہ مستقل طور پر کوشش بھی کر رہے ہیں کہ یہ راستہ خطرات سے خالی نہیں اور محلاتی سازشوں کا نتیجہ خوفناک بھی نکل سکتا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب میں ابھی تک بادشاہت کے قوانین کی بات کی جائے تو محمد بن سلمان اس کے مطابق باشادہ نہیں بن سکتے اس حوالہ سے دو قانون ہیں ، ایک سینئر کا ہونا اور السعود خاندان کی کونسل کا اتفاق ہونا، 34 سالہ محمد بن سلمان اپنے 84 سالہ والد سلمان بن عبدالعزیز کی جگہ بادشاہ بننا چاہتے ہیں،اس لئے سعودی تخت نشینی کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ سعودی عرب کا استحکام داؤ پر لگا رہے ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر محمد بن سلمان منزل اور مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ہر اس شخص کو راستے سے ہٹانا ہو گا جو سنیارٹی کے حساب سے زیادہ مستحق ہے اور بادشاہت کے لئے کھڑا ہو سکتا ہے، کونسل 2007 میں شاہ عبداللہ نے قائم کی تھی تا کہ بادشاہ کے انتقال کے بعد بادشاہت کی منتقلی آرام سے ہو سکے، 23 جنوری 2015 میں سعودی فرماںروا عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات تک آل سعود کا دربار کافی حد تک پرسکون انداز میں کام کرتا رہا،البتہ پہلے مارچ 1975 میں شاہ فیصل کے قتل جیسے ناگوار واقعہ پیش آیا ، عبداللہ کی وفات کے بعد درباد کی صورتحال متزلزل رہی، گزشتہ پانچ برسوں میں گویا آل سعود میں طوفان سا برپا رہا،اور اس میں سعودی عرب کے دو ولی عہد، دو وزیر خارجہ سمیت کئی حکومتی عہدیدار معزول کیے گئے، اور نئے چہرے متعارف کروائے گئے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نومبر 2017 میں 200 سے زائد شہزادے اور تاجر گرفتار کئے گئے چند مہینے پہلے بھی شہزادوں کو گرفتار کیا گیا اور یہ سب جانتے ہیں کہ یہ سب محمد بن سلمان نے کیا اور انہوں نے خاندان میں اثرو رسوخ رکھنے والے افراد کو کمزور کر دیا،اور اپنے پسندیدہ افراد کو اہم اور حساس عہدوں پر براجمان کیا.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان ان اقدامات کی وجہ سے فرمانروائی کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں،اور اب یوں دکھائی دے رہا ہے کہ طوفان تھمنے کی بجائے مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے،اگرچہ سعودی عرب کے حکمران کوشش کر رہے ہیں کہ دربار کی خبریں سامنے نہ آئیں لیکن چڑیل تو چڑیل ہے،اور اس کا اس مقصد میں کامیاب ہونا ضروری ہے اور وہ لے آتی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے حریفوں پر پرتشدد کاروائیاں کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے،کچھ شاہی خاندان کے افراد بھی ایسی جارحانہ کاروائیوں سے محفوظ نہیں ہیں،رواں برس کے شروع کے مہینوں میں انہوں نے 15 ہزار افراد پر مشتمل وسیع تر فیملی کے متعدد افراد کو گرفتار کروایا،اور گرفتاری کا معاملہ بین الاقوامی تحریک کی شکل اختیار کر گیا،شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کی رہائی کے لئے مہم چلائی گئی جو 2018 میں گرفتار کئے گئے تھے انکی گرفتاری کی وجہ نہیں پتہ چل سکے، وہ فلاحی کاموں میں آگے تھے، وہ سابق فرماںروا شاہ عبداللہ کے داماد بھی ہیں انہوں نے سیاست میں آنے کی بھی خواہش نہیں کی،تا ہم انہوں نے امریکی انتخابات کے سلسلے میں ٹرمپ کے ناقد سے ملاقات کی، محمد بن سلمان ٹرمپ کے دوست ہیں،شہزادہ سلمان کو آزاد کروانے کی کوشش کی جار ہی بین الاقوامی طور پر.یہ مہم گرفتار شہزادے کی رہائی کے لئے چلائی جا رہی ہے ،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی سلطنت اس وقت شدید معاشی بحران سے گزر رہی ہے،معاشی طور پر تیل کی قیمت مین کمی ، کرونا وائرس کی وجہ سے معاشی مشکلات ہیں، صحافی جمال خشوگی قتل کیس کی وجہ سے بھی بین الاقوامی طور پر سعودی عرب کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے،اور ان دونوں مہموں کے اقدامات اور نتائج کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ریاض حکومت نے عدالتی اصلاحات منظور کی ہیں، کوڑے مارنے کی سزا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے،18 سال سے کم عمر افراد کی پھانسی ختم کرنے کا معاملہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اگر محمد بن سلمان کے والد شاہ سلمان کے جانشین بنتے ہیں تو ریاست کی سربراہی کرنے والے نئی نسل کے پہلے بادشاہ ہوں گے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بادشاہ بننے کے لئے تنازعات سے بھی گریز نہیں کر رہے،وہ سب بلا خوف و خطر کرتے آئے ہیں کیونکہ وائٹ ہاؤس میں انکے خاص دوست ٹرمپ ہیں، ایم بی ایس کے والد کی صحت خراب ہوتی جا رہی ہے، محمد بن سلمان کی شہزادہ احمد نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا ہے،وہ خاندان کے اہم رکن ہیں، شہزادہ احمد اور نائف شاہی خاندان کے کچھ اہم افراد ہیں اور ولی عہد شہزادہ ان کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں اور وہ ان کے نظریہ کو پسند نہیں کرتے اور ان کے اقدام کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ پھر شہزادہ احمد کا ایم بی ایس کے مقابلے میں تخت نشینی کا دعویٰ ہے ، جو یقینا ان کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ وہ محمد بن سلمان کے نقاد ہیں، عوامی سطح پر بھی محمد بن سلمان کی سیاست پر احمد تنقید کرتے نظر آتے ہیں، محمد بن سلمان نے نہ صرف انہین بلکہ دیگر کئی شہزادوں کو گرفتار کیا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان امریکی بلاک میں اپنی پسند کھو رہے ہیں۔ مائک پومپیو سعودیہ اور ایم بی ایس کی مخالفت میں آواز بلند کررہے ہیں نیز انہوں نے اپنی دو اہم بحری اکائیوں کو ختم کردیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اب یمن کے ساتھ تنازعہ طے کرنا ہے اور جمال خشوگی قتل جیسے معاملات پر پشت پناہی نہیں کی جائے گی۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان جانتا ہے کہ بادشاہ بننے کے اس کے عزائم کو تب ہی پورا کیا جاسکتا ہے جب سعودی قانون سازی میں طے شدہ ضروریات کو سب سے پہلے سنیارٹی اور پھر شاہی کونسل کے ذریعہ انتخاب کو پورا کیا جائے۔ ایم بی ایس کو اس معاملے کا پہلے ہی اندازہ تھا لہذا وہ شاہی کے تمام اہم ممبروں کو ہٹاتا رہا ہے اور شاہی کنبہ کے زیادہ تر افراد کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا اور مختلف معاملات میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اب ان بین الاقوامی حکومتوں اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے ان عہدیداروں کی رہائی کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان نے پچھلے 5 برسوں میں خود کو طاقتور بنایا، خواتین کو آزادی فراہم کی دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنان کو جیل بھجوایا،سعودی شاہی دربار کی خبریں فراہم کرنے والے خاموش ہیں، شہزادہ نائف کو ہارٹ اٹیک کرنے کی ٹویٹ کی گئی اور بعد میں اسے ڈیلیٹ کر دیا گیا ،ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ایک کڑی تھی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی فرمانروا سلمان کی موت کی افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں اگر تیل کی قیمتیں کم رہیں تو یہ صورتحال محمد بن سلمان کے لئے تباہ کن ثابت ہوں گی بالکل انہی شہزادوں کی طرح جن کو وہ راستے سے ہٹا چکے ہیں
لاہور:عثمان بزدار نے نکمے وزرا کوفارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا،وزیراعظم سے منظوری بھی لے لی ،اطلاعات کے مطابق بجٹ کے بعد پنجاب کابینہ میں ردوبدل کی جائے گی، وزیراعلیٰ پنجاب نے کابینہ میں ردو بدل کے حوالے سے رپورٹ وزیراعظم کو بھجوا دی، وزیراعظم کی منظوری کے بعد پنجاب کے اہم وزراء کے قلمدان تبدیل ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کابینہ میں نئے چہرے بھی متعارف کرائے جائیں گے، متعدد وزراء کے قلمدان تبدیل کیے جائیں گے۔ حسین جہانیاں گردیزی کو اہم وزارت دی جائے گی۔ محکمہ سپشلائزڈ ہیلتھ ڈاکٹر یاسمین راشد کے پاس جبکہ پرائمری ہیلتھ کا دوسرا وزیر لایا جائے گا۔دوسری جانب وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے بورڈ آف ریونیو میں نان ٹیکس وصولیوں اور غیر قانونی قبضوں پرمیکنزم نہ بننے پر رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعلی پنجاب کو بورڈ آف ریونیو کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ادارے میں نان ٹیکس وصولیوں کے وسیع امکانات ہیں لیکن اسکا کوئی میکنزم نہیں بن سکا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ قانونی معاملات کو سلجھانے کی ناکافی صلاحیت اور ٹیکس اکٹھا کرنے والےعملہ پر دیگر دفتری ذمہ داریوں کا بوجھ بھی ادارے کی کارکردگی کو متاثر کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے محکمے سے پوچھا ہے کہ ادارے کا میکنزم کیوں نہیں بن سکا؟؟ غیر قانونی قبضوں، سٹے آرڈرز اور کورٹ کیسز کے مقابلے میں اختیارات کا فقدان اورمسائل میں اضافے کا سبب بھی کیوں بن رہ ہیں؟؟ وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ بورڈ آف ریونیو کی استعداد کار میں اضافے کی تجاویز دی جائیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالےسے قصور کے ایک صوبائی وزیرکا نمبربھی لگ سکتا ہے ،اس حوالے سے محکمہ صحت کے ایک معاون محکمے کے وزیرکی کارکردگی بھی زیربحث ہے ، بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ وزیرعلاقے کی ترقی کے حوالے سے بھی سرگرم دکھائی نہیں دیتے
لاہور: کورونا کا پھیلاؤ بڑھ گیا، 15 روز کیلئے کرفیوکی تجویزدے دی گئی ، اگلے 24 گھنٹے اہم ،اطلاعات کے مطابق یوایچ ایس کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنا ہے تو 15 روز کیلئے سخت کرفیو لگانا ضروری ہے، طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کسی نہ کسی صورت میں ہماری زندگی کا حصہ رہے گا۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہاکہ کورونا وائرس کے باعث ملک میں ہر گھنٹے میں 4 لوگ مر رہے ہیں، ہم کمرشل بنیادوں پر نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کیلئے کورونا کا علاج دریافت کر رہے ہیں، اس سلسلے میں پہلے مریض پر آئی جی جی طریقہ اپنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد کورونا پیسیو امیونائزیشن ہے، پلازمہ کے لیے اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ کر رہے ہیں، 100 میں سے 5 فیصد لوگوں کو ہسپتال جانا پڑے گا اور انہیں وینٹی لیٹر بھی لگ سکتا ہے، وینٹی لیٹر دو دھاری تلوار ہے لیکن اس کا نقصان زیادہ ہے،اعدادو شمار کے مطابق وینٹی لیٹرز پر جانیوالے 80 فیصد افراد کی اموات ہوئی۔
پروفیسر جاوید اکرم نے مزید کہا کہ عام لوگ بلاضرورت کورونا ٹیسٹ کروا کر لیبارٹری والوں کی تجوریاں نہ بھریں اگر کسی کو علامات ظاہر ہوں تو گھروں میں ہی خود کو دوسرے الگ کر لیں۔
اس موقع پر ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا تھاکہ کورونا کا صحت یاب ہونے والامریض دو ہفتے کے بعد اپنا پلازمہ عطیہ کرسکتا ہے، جس کے بعد کمزوری سمیت کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، شہری مریضوں کو بچانے کیلئے پلازمہ عطیہ کریں۔
ڈاکٹر فرید جواد کا کہنا تھاکہ کورونا کی ویکسین اتنی جلدی ممکن نہیں کیونکہ ایڈز کی بھی ویکسین نہیں بن سکی، احتیاط ہی واحد حل ہے۔
دوسری جانب کورونا کے بڑھتے کیسز پر قابو پانے کیلئے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے ہسپتالوں کو کورونا مریضوں کیلئے کھولنے کا فیصلہ کرلیا، ہر پرائیویٹ میڈیکل کالج کم سے کم 150 بیڈ کورونا کے مریضوں کیلئے مختص کرے گا۔
آصف زرداری کی موت کی افواہ پھیلانے میں 25 لوگ ملوث، 11 کہاں مقیم ہیں؟ ایف آئی اے نے پتہ لگا لیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کا اجلاس چیئر پرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے حوالے سے چلنے والی جعلی اور من گھڑت ویڈیوز اور افواہوں کے معاملات کے علاوہ 28جنوری 2020کو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی سی ایل پنشنرز کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کی اختیار کی گئی اسپیشل رپورٹ پر عملدرآمد کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ جب تک سزاؤں پر عملدرآمد اور جرمانوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا لوگ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے بعض نہیں آئیں گے۔ صدر پاکستان ملک کا سب سے بڑا عہدہ ہے اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف پورے رمضان کے مہینے میں جعلی اورمن گھڑت افواہوں کا سلسلہ چلتا رہا لوگوں نے ویڈیو بنا کر نامناسب الفاظ استعمال کرتے ہوئے ویڈیو چلائیں جو انتہائی افسوناک اور قابل مذمت ہے۔ من گھڑت خبروں سے عوام میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی سابق صدر آصف علی زرداری نہ صرف اس ملک میں جانی پہچانی شخصیات ہیں بلکہ بین الااقوامی سطح پر بھی انہیں ایک خاص مقام حاصل ہے اُن کی عزت کو مجروح کیا گیا ہے اس طرح لوگوں کی عزتوں کو اچھالنا انتہائی افسوسناک اور قابل سزا جرم ہے۔
ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ ایسے اقدامات اٹھائے کہ لوگ اسطرح کی جعلی اور من گھڑت افواہوں سے بعض رہیں اور اس حوالے سے اگر قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے تو کمیٹی کو آگاہ کیا جائے، کمیٹی ہر ممکن اقدام اٹھائے گی تا کہ اسطرح کے واقعات مستقبل میں نہ ہو سکیں۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ ملک کی مقبول ترین سابق وزیراعظم کے خلاف بھی الزامات لگائے گئے ہیں وہ بھی ناقابل برداشت ہیں اسطرح سے الزام بازی نہیں ہونی چاہئے۔
جس پر سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ سابق صدر کے بارے میں جو غلط افواہیں پھیلائی گئی ہیں وہ قانونی اور مذہبی لحاظ سے نا قابل برداشت ہیں ہمارا مذہب بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ایف آئی اے اس حوالے سے اقدامات اٹھا رہا ہے ادارے کی بجٹ اور دیگر معاملات میں معاونت کر کے مذید بہتری لائی جا سکتی ہے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ وقار احمد چوہان نے کمیٹی کو بتایا کہ جب یہ معاملہ کمیٹی کو ریفر ہوا تو کام شروع کر دیا تھا اس معاملے میں تین طرح کے لوگ ملوث تھے اور اس حوالے سے 25 لوگوں کے اکاؤنٹ ملوث تھے پی ٹی اے کے ذریعے ٹیوٹر کو اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست بھیج دی گئی ہے 25میں سے11 لوگوں کی شناخت کی گئی اور جس بندے نے گندے الفاظ استعمال کئے تھے وہ کراچی کا رہائشی تھا اور اب کینیڈا میں رہائش پذیر ہے۔
چیئرپرسن کمیٹی نے ہدایت کی کہ جب بھی وہ آدمی پاکستان آئے تو اُس فورا گرفتار کیا جائے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 11میں سے پانچ لوگ بیرون ممالک رہائش پذیر ہیں۔ وقار احمد چوہان نے کمیٹی کو بتایا کہ جعلی اور من گھڑت افواہوں کے حوالے سے قانون کے مطابق کام کیا جاتا ہے عدالت شامل ہونے کی وجہ سے کیس کے حل میں دیر ضرور ہو تی ہے عدالت میں چالان بھیجتے ہیں اور ایک سال سے زائد عرصہ بھی لگ جاتا ہے۔ جس پر چیئر پرسن کمیٹی نے آئند اجلاس میں ڈی جی سائبر کرائم ونگ کو طلب کرتے ہوئے سائبر کرائمز ونگ میں کام کرنے والے ملازمین کی کولیفیکیشن طلب کر لی۔
پی ٹی سی ایل ملازمین کی پنشن کے حوالے سے چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالدنے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کو حل کرنے کی بجائے حیلے بہانے استعمال کئے جا رہے ہیں پنشن کے معاملے کو حل کرانے کیلئے پانچ برس گزر چکے ہیں مگر ابھی تک معاملہ لٹکا ہو ا ہے ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات پر عملدرآمد نہ کر کے پورے ہاؤس کا استحقاق مجروح کیا جا رہا ہے اس معاملے کو جلد سے جلد حل کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 1129 کو اہل قرار دیا ہے اور باقی بی ایس ایس کے ملازمین کو علیحدہ رکھنے کا فیصلہ دیا ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ کل 40ہزار ملازمین میں سے 21ہزار بی ایس ایس کے ہیں اور اصل ٹی این ٹی کے 17ہزار ملازمین تھے۔ سیکرٹری آئی ٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ پنشن کے معاملے کے حوالے سے سینیٹ کی اس قائمہ کمیٹی نے بہت کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر اعظم خان سواتی نے بھی سینیٹ اجلاس میں اس معاملے کے حل کی یقین دہانی کرائی تھی۔
چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ ٹرسٹ کی جو ذمہ داری ہے وہ پوری نہیں کر رہا ہے اگر ملازمین کو فائدہ نہیں دے سکتا تو اسے بند کر دینا چاہئے۔ آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو فائنل رپورٹ دی جائے کہ کب تک پنشنرز کا مسئلہ حل کر دیا جائے گا۔
چیئرپرسن کمیٹی خالد نے کرونا وباء کی وجہ سے تدریسی عمل بند ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے کہ کوئی ایساطریقہ کار نکالا جائے کہ ہمارے بچوں کی تدریس کا عمل جاری رہے اور وہ کرونا سے بھی محفوظ رہ سکیں۔
سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ پرائیویٹ اسکولز گزشتہ کئی ماہ سے بند ہیں مگر بچوں کے والدین سے پوری سکول فیس وصول کی جا رہی ہے۔ آن لائن کلاسز کا انتظام پورے ملک میں نہیں ہو سکتا ملک کے بے شمار علاقوں میں نیٹ ورک موجود نہیں ہیں اور نہ ہی والدین کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ اسطرح کی سہولیات اپنے ہر بچے کو فراہم کر سکیں۔ پرائیو یٹ سکولوں کو اپنی فیسیں کم کرنی چاہئے اور حکومت کو چاہئے کہ ملک میں نیٹ ورک پھیلانے کے لئے اقدامات اٹھائے۔
جس پر قائمہ کمیٹی نے آئند اجلاس میں وزارت تعلیم،ایچ ای سی، اور پیرا کے حکام کو طلب کر لیا تا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر ایسے طریقہ کار نکالا اور لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ ملک میں ایک موثر اور محفوظ تدریس کا عمل شروع کرایا جا سکے۔
قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز کلثوم پروین اور گیان چند کے علاوہ سیکرٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی، ڈی جی سائبر کرائم ونگ وقار احمد چوہان، ڈی جی پی ٹی اے ناصر احمد اوردیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
SENATOR MRS. RUBINA KHALID, CHAIRPERSON SENATE STANDING COMMITTEE ON INFORMATION TECHNOLOGY AND TELECOMMUNICATION PRESIDING OVER A MEETING OF THE COMMITTEE AT PARLIAMENT HOUSE ISLAMABAD ON JUNE 11, 2020.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے 34 فیصد بھارتیوں کی امداد کا اعلان کر دیا جن کے پاس ایک ہفتے سے زیادہ کا راشن نہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کامیابی سے 9 ہفتوں میں 120 ارب روپے مستحقین میں تقسیم کیے،کورونا سے متاثرہ ایک کروڑ خاندانوں کو شفاف طریقے سے امداد فراہم کی گئی،
وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ میں بھارتی عوام کی غربت سے متعلق اخباری رپورٹ کا حوالہ بھی دیا،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت میں 34 فیصد گھرانے اضافی امداد کے بغیر ایک ہفتہ بھی نہیں گزار سکتے،وزیراعظم نے بھارت کو اپنے کامیاب کیش ٹرانسفر پروگرام کا طریقہ کار فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی
Acc to this report, 34% of households across India will not be able to survive for more than a week without add assistance. I am ready to offer help & share our successful cash transfer prog, lauded internationally for its reach & transparency, with India.https://t.co/CcvUf6wERM
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ شفافیت اور عوام تک رسائی کی وجہ سے کیش ٹرانسفر پروگرام کو عالمی سطح پرسراہا گیا
واضح رہے کہ بھارت میں کرونا وائرس نے تباہی مچا دی ہے، بھارت میں غربت کے باعث لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں، دنیا میں سب سے زیادہ فٹ پاتھ پر سونے والے بھی انڈیا میں پائے جاتے ہیں۔ جہاں فٹ پاتھون پر پورے پورے خاندان بستے ہیں۔ ۔ غربت کے ہاتھوں دنیا میں سب سے زیادہ خود کشیاں انڈیا میں ہوتی ہیں۔
کرونا بحران کے دوران لاک ڈاؤن میں مودی کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا،
اب وزیراعظم عمران خان نے بھارتیوں کی مدد کی پیشکش کی ہے، مودی سرکار پاکستان کو دھمکیاں دے رہی تھی، دیکھتے ہین اب کیا جواب آتا ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں عدم حاضری پر نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت میں توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ نیب نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کا مکمل ریکارڈ حاصل کرلیا، عدالت نواز شریف کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کا حکم دے، نواز شریف کی طلبی کے لیے بیرون ملک اخبار میں اشتہار دیا جا سکتا ہے، نواز شریف ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں رہائش پذیر ہیں۔
سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور ملزم عبدالغنی مجید بھی احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ یوسف رضا گیلانی نے کورونا کے باعث مستقل حاضری سے استثنی کی درخواست دے دی اور کہا کورونا وائرس کی وجہ سے بار بار عدالت پیش نہیں ہوسکتا۔
جج احتساب عدالت نے استفسار کیا آصف زرداری کہاں ہیں ؟ جس پر وکیل فاروق نائیک نے کہا آصف زرداری کراچی میں ہیں، طلب نہ کیا جائے، آصف زرداری پیش ہوئے تو عدالت میں جگہ نہیں رہے گی۔ نیب نے کہا ایک مرتبہ تو آصف زرداری کو پیش ہونا پڑے گا۔ عدالت نے سابق صدر آصف زرداری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔
یوسف رضا گیلانی کی مستقل حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا گیا،عدالت نے دفتر خارجہ کو برطانیہ میں پاکستانی سفارتحانے کے ذریعے وارنٹس کی تعمیل کا حکم بھی دیا
توشہ خانہ ریفرنس پر سماعت کے دوران نیب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے یوسف رضا گیلانی سے غیر قانونی طور پر گاڑیاں حاصل کیں، آصف زرداری نے گاڑیوں کی صرف 15 فیصد ادائیگی کی، اور اس کی رقم جعلی اکاونٹس کے ذریعے ادا کی گئی۔
نیب کے مطابق آصف زرداری کو بطور صدر، لیبیا اور یو اے ای سے بھی گاڑیاں تحفے میں ملیں، آصف زرداری نے گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کیں۔
نیب کی جانب سے نواز شریف کے حوالہ سے عدالت کو بتایا گیا کہ سال 2008 میں وہ کسی بھی سرکاری عہدے پر نہیں تھے، اس کے باوجود نوازشریف کو بغیر کوئی درخواست دیئے توشہ خانے سے سرکاری گاڑی مہیا کی گئی۔
واضح رہے کہ رواں برس ماہ جنوی میں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں سابق صدرآصف زرداری،نوازشریف،یوسف رضا گیلانی کےخلاف بدعنوانی ریفرنس کی منظوری دی گئی تھی
ملزمان پرتوشہ خانہ سےتحائف کی گاڑیاں اونےپونےداموں تقسیم کرنےکاالزام ہے،توشہ خانہ کی گاڑیوں سے متعلق نواز شریف اوریوسف رضا گیلانی سے پوچھ گچھ کی جاچکی ہے،
واضح رہے کہ نیب توشہ خانہ کیس میں تحفوں کے ذاتی استعمال سے متعلق تحقیقات کررہا ہے ،اس حوالہ سے نیب نے نواز شریف سے جیل میں بھی تحقیقات کی تھییں اور اس کے لئے عدالت سے اجازت لی تھی،.
تفتیشی افسر راحیل اعظم ڈپٹی ڈائریکٹرنیب نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ نوازشریف سے بطورملزم تفتیش کی اجازت دی جائے،گاڑی 1997 میں سعودی عرب نے وزیراعظم پاکستان کو تحفے میں دی تھی ، مرسڈیزبینز یوسف رضاگیلانی نے غیر قانونی طورپر2008میں نوازشریف کو دی جیل میں نوازشریف سےتفتیش کی اجازت دی جائے .نیب نے جیل میں نواز شریف سے تحقیقات کی تھی.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی سپیڈ جاری ہے، کرونا کے مریضوں اور اموات میں اضافہ ہوا ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 101 مریض کرونا کے باعث جان کی بازی ہا رگئے جس کے بعد پاکستان میں اموات کی مجموعی تعداد 2356 ہو گئی
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 ہزار 834 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں 45 ہزار 463، سندھ میں 43 ہزار 709، خیبر پختونخوا میں 15 ہزار 206، بلوچستان میں 7 ہزار 335، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 18، اسلام آباد میں 6 ہزار 236 جبکہ آزاد کشمیر میں 488 مریض ہیں
پاکستان میں اب تک 7 لاکھ 80 ہزار 825 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 26 ہزار 573 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 38 ہزار 391 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں .
پاکستان میں کرونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 101 اموات ہوئیں جس کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد 2 ہزار 356 ہوگئی ہے۔ سندھ میں 738، پنجاب میں 841، خیبر پختونخوا میں 619، اسلام آباد میں 62، گلگت بلتستان میں 14، بلوچستان میں 73 اور آزاد کشمیر میں 9 مریض جان کی بازی ہا رچکے ہیں
واضح رہے کہ ن لیگی رہنما احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، خواجہ سلمان رفیق بھی کرونا کا شکار ہو چکے ہیں، گزشتہ روز تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار، فرخ حبیب، جے یو آئی (ف) کی شاہدہ اختر علی، ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی اسامہ قادری، سینیٹر ثنا جمالی کا بھی کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا