پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری، 24 گھنٹے میں 1 ہزار سے زیادہ مریض، اموات میں بھی اضافہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، کرونا کے مریضوں اور اموات میں اضافہ ہوا ہے ،پاکستان میں مریضوں کی تعداد 32 ہزار 81 جبکہ اموات کی تعداد 706 ہو گئی ہے
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1140 نئے مریض سامنے ہیں،، پنجاب میں 11 ہزار 869، سندھ میں 12 ہزار 17، خیبر پختونخوا میں 4 ہزار 875، بلوچستان میں 2 ہزار 61، گلگت بلتستان میں 457، اسلام آباد میں 716 جبکہ آزاد کشمیر میں 86 مریض ہیں.
ملک بھر میں اب تک 3 لاکھ 5 ہزار 851 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 10 ہزار 957 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 8 ہزار 555 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں .
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 39 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 706 ہوگئی۔ سندھ میں 200، پنجاب میں 211، خیبر پختونخوا میں 257، گلگت بلتستان میں 4، بلوچستان میں 27 اور اسلام آباد میں 6 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں.
پاک ایران سرحد کے قریب پاک فوج پر دہشت گردانہ حملہ ،آرمی چیف کا ایرانی مسلح افواج کے سربراہ سے رابطہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کا ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل باقری سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایرانی مسلح افواج کے سربراہ سے پاک ایران سرحد کے قریب پاکستانی سیکیورٹی فورسز پرہونیوالے دہشتگرد حملے پر بات چیت ہوئی،
دونوں رہنماؤن کے مابین ٹیلی فونک گفتگو میں سرحد کے اطراف سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں 6 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے،
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ بارڈر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے باہمی تعاون کی ضرورت ہے،سرحد پر اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے بھی دو طرفہ تعاون کی ضرورت ہے،
واضح رہے کہ 8 مئی کو بلوچستان کے علاقہ تربت میں شرپسند عناصر کی طرف سے دہشت گردی کی ایک کارروائی میں ایک میجر سمیت پاک فوج کے 6 جوان شہید ہو گئے تھے. دہشتگردوں نے پاک فوج کے جوانوں کو آئی ای ڈی کا نشانہ بنایا.
آسمان سے اہم پیغام آگیا،سمجھنے والوں کے لیے اشارہ کافی،سنیے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہم ایک دنیا میں سو ئے .اور پھر اچانک جب جاگے ۔ توبن بتائے ۔۔ دنیا ہی بدل چکی تھی ۔ہماری آنکھ ایک الگ دنیا میں کھلی۔سب کچھ رک سا گیا۔۔ اچانک یورپ کی امیگریشن اب کسی کا خواب نہیں رہا اور امریکہ اب سب سے طاقتور ملک نہیں رہا۔
پیرس اب رومانٹک نہیں رہا۔
نیو یارک اب دلچسپ نہیں رہا۔
چین کی دیوار اب ایک قلعہ نہیں ہے۔
مکہ اور مدینہ … نے نمازی کھو دیئے۔۔
اور تمام مساجد ویرانی ہوگئیں
گرجا گھروں اور دیگر عبادت گاہوں نے بھی اپنے دروازے بند کردیئے
مندروں میں تالے پڑ گئے ۔۔
سب موت سے گھبرائے ہوئے تھے
سب کو ایک ساتھ ہی یہ اندازہ ہوا
زمین پر انسان کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔اور یہ صرف ایک سکور بورڈ بن کر رہ گئے۔
مبشر لقمان نے کہا کہ اچانک۔ ساری جنگیں بند ہوگئیں ، قتل و غارت رک گیا۔ قاتل اور مقتول آسمان کے انصاف کے سامنے اشتہاری بن گئے ۔ ایک وائرس کی وجہ سے ۔ جسے آنکھ دیکھ بھی نہیں سکتی ،اچانک۔سکون ، ملنا جھلنا ۔۔ گلے ملنا اور بوسہ دینا ۔۔۔ خطرناک ترین ہتھیاروں میں بدل گئے ،لوگ اپنے پیاروں کے جنازوں میں شامل ہونے اور انہیں غسل دے کر قبروں میں اتارنے سے کترانے لگے۔ موت، ماتم اور تعزیت سب کچھ بدل گیا۔ انسان نے جتنی بھی ترقی کی ہے۔ اس کے باوجود ایسا بھی بھلا کبھی کہاں تھا کہ ہزاروں لوگ مر رہے ہوں اور رابطے، تعزیت اور اظہار افسوس کرنے والا پاس نہ آ سکتا ہو۔کیا ہی عجیب ہوا کہ اپنے پیاروں عزیزوں اور دوستوں سے دور رہنا ہی محبت کا اظہار بن گیا۔۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اچانک۔ ہم نے محسوس کیا کہ طاقت ، خوبصورتی ، دولت اور ہتھیاروں کی کوئی حقیقی قیمت نہیں ہے. اور یہ ہماری سب سے بڑی پریشانی بن گئی کہ اگر ہمارے اندر یہ وائرس چلا جائے تو ۔۔ ہمارے پاس وافر مقدار میں آکسیجن موجود ہو۔وینٹیلٹرز کی اہمیت ٹینکوں ، توپوں جہازوں اور آبدوزوں سے کئی گنا زیادہ بڑھ گئی ۔ زندگی کی تمام سہولتں رک گئیں ، ہوائی اڈے ، اسکول ، یونیورسٹیاں ، اسپورٹس کلب ، ریستوراں یا کیفے بند ہو گئے ۔۔ نہ ائیر پورٹس پر مسافر ہیں نہ سکولوں اور کالجوں میں بچے، بازار ویران ہو گئے۔۔ کھیل کے میدان سنسان ہو گئے۔ اچانک ہمیں احساس ہوا کہ مصروف ترین زندگی بہت زیادہ کام ، بازاروں ، شاپنگ مالز، سینما، اسپورٹس اور سماجی محفلوں کے بغیر بھی زندگی چل سکتی ہے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جسم فروشی شراب خانے ، جوئے خانے بند ہو گئے ۔دنیا ہمارے بغیر زیادہ صاف ،خوبصورت اور پاکیزہ ہوگئی ۔ماحول بہتر ہورہا ہے ، اوزون کا سوراخ بھرنے لگا۔۔ جب ہم گھر وں میں رضا کارانہ طورپر یا خوف سے قید ہوئے تو ہرن اور جنگلی بکرے انتہائی پُر آسائش گلیوں کے گرد دوڑنے لگے ۔۔۔ جیسے انہیں ہم سے آزادی مل گئی ہو ، انسانوں کو اب احساس ہوا کہ جانور چڑیاگھر میں کیسا محسوس کرتے ہونگے؟؟۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آج کل بہت تنہائی ہے۔ وہ جن کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا تھا ۔۔ان کے پاس بھی وقت بے پناہ ہے۔ جب غصہ آتا ہے تو اس کیفیت پر غور کرنے کے لیے بھی فراغت کے کئی پل ہیں۔ پوری دنیا کو جو سوچنے اور غور کرنے کا موقع ملا ہے ۔۔۔شائد اس سے پہلے کبھی نہیں ملا۔ آسمان کا رنگ بدل چکا ہے۔۔ دھوپ اور سورج میں بہت فرق پڑ گیا ہے ،سورج زیادہ چمکدار ہو گیا ہے ۔دنیا بھر میں اربوں افراد گھروں تک محدود ہونے سے ہمارے سیارے زمین کے حرکت کرنے کے انداز پر بھی فرق پڑ رہا ہے۔ اور زمین پہلے کی نسبت بہت کم ہل رہی ہے ۔۔۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ انسانی سرگرمیاں درحقیقت پس منظر میں شور کی طرح ہیں، جس کی وجہ سے یہ سننے میں بہت دشواری ہوتی ہے کہ ہماری زمین میں قدرتی طور پر کیا ہو رہا ہے۔ اور اب ہم زمین کی آواز بھی سن سکتے ہیں۔ جو شائد کہہ رہی ہے کہ اسے بھی سکون درکارہے ۔۔۔۔اسے بھی چھٹی چاہیے اگر انسانوں کو سمجھ نہیں آئے گی تو پھر اسے چھٹی کرنا آتی ہے ،سیزر کے پیچھے ہروقت ایک شخص رہتاتھا جس کا کام ہی یہ تھا کہ جہاں سیزر خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے لگے، یہ شخص اس کے کان میں کہے سیزر تم جتنے بھی طاقتور سہی مگر لافانی نہیں ہو۔ ہمیں قدرت نے بھی کئی بار یہ یاد دہانی کروائی ۔کبھی زلزلوں کبھی طوفانوں اور کبھی ہماری اپنی پیدا کردہ جنگوں سے ۔۔۔ مگر ہم کم ہی سنتے ہیں ۔۔۔ اور پھر سے اس دنیا میں مگن ہو جاتے ہیں ۔۔۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس نادیدہ جرثومے کی مار جھیلنے کے بعد لگتا ہے کہ دنیا ویسی نہیں رہے گی جیسی پہلے تھی ۔ ہم نہ بھی چاہیں تو پھر بھی . پہلے جو لوگ ہانگ کانگ، سنگاپور، فرانس، اٹلی اور امریکہ کے خواب دیکھتے تھے۔اب انہیں اپنا گھر اپنا وطن محبوب اور محفوظ نظر آنے لگا۔اور ہمیں سبق یہ ملا ہے کہ امریکہ دنیا کا سب سے طاقتورملک ہرگز نہیں بلکہ سب سے زیادہ لاچار نظر آتاہے ۔ وبا نے ہماری طرز زندگی، رویوں، عادات و اطوار اور معمولات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ایک حقیر سے وائرس نے ساری دنیا کو تہ و بالا کرکے رکھ دیا ہے۔ حالانکہ دھرتی میں جنبش تک نہیں ہوئی ۔ لیکن ایک وائرس کے زلزلے سے پورا کرہ ٔ ارض لرز کر رہ گیا ہے۔ اس وبا نے سکھایا۔۔ہم فاسٹ فوڈ اور غیرضروری سرگرمیوں کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ ۔ہم گاڑیوں کے بغیر بھی چل سکتے ہیں۔ پلازوں ، سکائی سکریپرز۔انڈرپاسز، اوورہیڈبرجز، سڑکوں، پلوں سے زیادہ اہم اسپتالوں کی تعمیر ہے۔اور دولت کی حوس سے زیاد انسانوں کی بقا اہم ہے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پہلی بار سب انسانوں کو احساس ہوا کہ ہماری زندگی میں ہماری فیملی، ہمارے گھر والوں، والدین، بہن، بھائیوں اور بیوی بچوں کی اہمیت کس قدر زیادہ ہے۔اس وبا نے یہ بھی احساس دلایا ہے کہ حکومتیں اپنی عوام کے لیے اگر کچھ کرنا چاہیں تو کیا کچھ کرسکتی ہیں۔۔ اور انہیں کرنا کیا چاہیے ،ابھی تو کورونا نے صرف انسانی رویے، سماجی آداب، ریاستی نظام اور اقتصادی انفراسٹرکچر پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں، جب یہ طوفان تھمے گا تو پوری دنیا کا نقشہ بدل چکا ہوگا۔ قطع نظراس کے کہ یہ وبا قدرتی ہے یا اس کے پیچھے انسان ہے لیکن میرے خیال میں یہ آسمانوں سے ایک پیغام ہے جوہمیں کہتاہے کہ انسانوں کے بغیر زمین ، پانی ، آسمان اور ہوا سب ٹھیک ہے ۔ دنیا آپ کے بھی بغیر جاری ہے ۔ اور جب آپ زندگی میں واپس آجائیں گے تو ، کبھی بھی یہ مت بھولنا کہ آپ مہمان ہیں … آپ اس زمین کے مالک نہیں ہیں ۔آپ صرف اور صرف مہمان ہیں۔ اور اگر آپ قدرت کے ساتھ حد سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کریں گے تو پھر قدرت کچھ بھی کر سکتی ہے
جماعت اسلامی کیخلاف پروگرام پر انکی طرف سے کیا ردعمل آتا ہے؟ مبشر لقمان نے بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ایسی ہین جن کے بارے میں ہم دعوے کر سکتے ہیں کہ انہوں نے میڈیا کو کبھی تھریٹ نہیں کیا، ان میں سے ایک پیپلز پارٹی اور دوسری جماعت اسلامی ہے
اپنی یوٹیوب ویڈیو میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہ پیپلز پارٹی پر مجھے حیرانی ہے کہ وہ دو جماعتیں جن کے بارے میں دعوے کے ساتھ کہتے تھے کہ جن کی وجہ سے کبھی کسی رپورٹر کو تکلیف نہیں ہوئی ایک پی پی ہے اور وہ چھوٹی جماعت نہیں، چار بار حکومت میں آ چکی ہے، زرداری تک ہم نے بڑے بڑے پروگرام کئے الزام لگائے، سما میں خورشید شاہ پر سولو پروگرام کیا وہ اسوقت لیڈر آف دی اپوزیشن تھے،اب پوری ان کی لمبی داستان سنائی اور پھر پروگرام ری پیٹ کر دیا جب انکا جواب آیا، خورشید شاہ کے اوپر پہلے بھی پروگرام کر چکا تھا،جب پی پی عوامی تحریک کے ساتھ ملکر چیئرنگ کراس پر دھرنے کے لئے آئی تھی، زرداری صاحب بھی آئے تھے،خورشید شاہ بھی آئے تھے تو میں خود وہاں پر گیا، خورشید شاہ نے بڑی خندہ پیشانی اور کشادہ دلی سے ہاتھ ملایا اور انہوں نے کہا کہ مجھے دکھ ہے، میں نے کہا کہ جو دکھ ہے وہ ضرور بتائیں لیکن انہوں نے اس دن کی مناسبت سے بات کی میرے پروگرام کے بارے میں بات نہیں کی، اب ایک بات تو ہے کہ میرے پروگرام میں الزام تھے انکے پاس جواب نہیں تھا یا انہوں نے بردباری کا مظاہرہ کیا جو لیڈر آف اپوزیشن سے توقع کی جاسکتی ہے، دوسری بات زیادہ مناسب ہے، انہوں نے بردباری کا مظاہرہ کیا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جماعت جس نے ہمیں کبھی تھریٹ نہیں کیا،ہم نے پی پی پر پروگرام کئے وہ ہمیں سمجھاتے رہے ہیں، زرداری صاحب کہتے تھے کہ بڑا بولتا ہے، بڑی باتیں کرتا ہے، ہم سے بھی کبھی پوچھ لیا کرویہ بات انہوں نے ضرور کی ہے انہوں نے کبھی تھریٹ نہیں کیا اور ہی کبھی کسی طرح کا احتجاج کیا،ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہر کسی کو کوئی نہ کوئی کام پڑتا ہے زرداری صاحب کو یا پی پی کے کسی وزیر ، اعتزاز احسن صاحب ،سلمان تاثیر، بڑے لوگ گواہ ہیں پی پی والے لوگوں کے کام بھی کرتے ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جماعت ،جماعت اسلامی ہے، جماعت اسلامی کے پڑھے لکھے لوگ ہیں،میں نے ایک پروگرام کیا جس میں میں نے کہا کہ قاضی حسین احمد نے یہ غلط کیا یا اسلامی جمعیت طلبا غلط کر رہی ہے، یونیورسٹی میں بدمعاشی ہو رہی ہے،تو اس پر سب سے پہلے جماعت اسلامی کی طرف سے لیٹر آتا ہے جس میں سب سے پہلے لکھا ہوتا ہے کہ محترمی ومکرمی گزارش یہ ہے کہ آپ نے فلاں تاریخ کو پروگرام میں الزامات لگائے ہم اس کا تفصیلی جواب دینا چاہتے ہیں ہمیں بھی موقع دیں یہ پڑھا لکھا اپروچ ہے اسکے بعد انکو بھی موقع ہمیشہ ملتا ہے، جب وہ اس طرح ریکوئسٹ کرتے ہیں، تو کوئی انکار نہیں کر سکتا ،اور موقع دینا پڑتا ہے.
پیپلز پارٹی بمقابلہ اے آروائی ،مبشر لقمان اصل حقیقت منظر عام پر لے آئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں تین چار دن سے دیکھ رہا ہوں بڑی عجیب سی لڑائی سوشل میڈیا پر آ رہی ہے،اور یوٹیوب پر خاص طور پر، ٹویٹر پر لوگ رائے دے رہے ہیں ایک طرف اے آر وائی اور دوسری طرف پی پی ہے، میں اے آر وائی کو اچھی طرح جانتا ہوں، پیپلز پارٹی سے سالوں کا بھی تعلق ہے،تو مجھے اس لڑائی میں بڑی حیرانگی ہوئی، میں بتا سکتا ہوں کہ میری نہ آے آر وائی میں بات ہوئی نہ پی پی میں کسی سے، میں اسکے بغیر بتا سکتا ہوں کہ ہوا کیا ہو گا یا وجہ کیا ہو گی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وجوہات تو سامنے آہی گئیں، ایک لکھا ہوا لیٹر ہے جو رپورٹر کو دیا گیا،اور کہا گیا کہ اس طرح تحقیق کرو، اس پر سعید غنی نے ری ایکٹ کر لیا،پہلی بات میں سعید غنی صاحب کو بتا دیتا ہوں کہ اے آر وائی سے لکھا ہوا کبھی کچھ نہیں آیا،اور یہ بڑی عجیب سی بات ہے کہ کوئی انکا لیٹر اس طرح دے رہا ہے، میں نہیں مانتا کہ اے آر وائی سے کوئی لیٹر گیا ہو، یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ کسی ڈائریکٹر نیوز کا میسج گیا ہو اور آپ کو کسی نے اسکا پرنٹ دے دیا ہو،میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ غلط ہیں لیکن ایک سٹائل ہوتا ہے اخبار کا ادارے کا ،ہمیں ہر ایک کے ورکنگ سٹائل کا پتہ ہے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اے آر وائی کے متعلق میں ایک بات بتاؤں یہ اے آروائی حتی الامکان اپنے رپورٹر یا ملازمین ،اینکرز کے ساتھ کھڑا ہے ، اے آر وائی فیملی کو ساتھ لے کر چلتا ہے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ کسی طرف سے لڑائی شروع ہوئی تو وہ بطور فیملی ساتھ کھڑے ہوئے ،بڑا ٹائم دیکھا ہے بطور چینل ایم کیو ایم کو دیکھا جب دفاتر پر پتھراؤ ہوا، آگ لگی، لوگ پکڑ لئے جاتے تھے، جب میں اے آروائی میں تھا تو مسلم لیگ ن نے اسکا بائیکاٹ کیا ہوا تھا کئی سال تک وہ ہمارے چینل پر نہیں آئے اسکے باوجود ن لیگ کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ تھی، ہم انکی پریس کانفرنس میں جاتے تو وہ کسی کو روکتے نہیں تھے، ڈی ایس این جی یا رپورٹنگ ٹیم کو نہیں روکتے تھے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب دوسری بات یہ کہ پیپلز پارٹی پر مجھے حیرانی ہے کہ وہ دو جماعتیں جن کے بارے میں دعوے کے ساتھ کہتے تھے کہ جن کی وجہ سے کبھی کسی رپورٹر کو تکلیف نہیں ہوئی ایک پی پی ہے اور وہ چھوٹی جماعت نہیں، چار بار حکومت میں آ چکی ہے، زرداری تک ہم نے بڑے بڑے پروگرام کئے الزام لگائے، سما میں خورشید شاہ پر سولو پروگرام کیا وہ اسوقت لیڈر آف دی اپوزیشن تھے،اب پوری ان کی لمبی داستان سنائی اور پھر پروگرام ری پیٹ کر دیا جب انکا جواب آیا، خورشید شاہ کے اوپر پہلے بھی پروگرام کر چکا تھا،جب پی پی عوامی تحریک کے ساتھ ملکر چیئرنگ کراس پر دھرنے کے لئے آئی تھی، زرداری صاحب بھی آئے تھے،خورشید شاہ بھی آئے تھے تو میں خود وہاں پر گیا، خورشید شاہ نے بڑی خندہ پیشانی اور کشادہ دلی سے ہاتھ ملایا اور انہوں نے کہا کہ مجھے دکھ ہے، میں نے کہا کہ جو دکھ ہے وہ ضرور بتائیں لیکن انہوں نے اس دن کی مناسبت سے بات کی میرے پروگرام کے بارے میں بات نہیں کی، اب ایک بات تو ہے کہ میرے پروگرام میں الزام تھے انکے پاس جواب نہیں تھا یا انہوں نے بردباری کا مظاہرہ کیا جو لیڈر آف اپوزیشن سے توقع کی جاسکتی ہے، دوسری بات زیادہ مناسب ہے، انہوں نے بردباری کا مظاہرہ کیا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جماعت جس نے ہمیں کبھی تھریٹ نہیں کیا،ہم نے پی پی پر پروگرام کئے وہ ہمیں سمجھاتے رہے ہیں، زرداری صاحب کہتے تھے کہ بڑا بولتا ہے، بڑی باتیں کرتا ہے، ہم سے بھی کبھی پوچھ لیا کرویہ بات انہوں نے ضرور کی ہے انہوں نے کبھی تھریٹ نہیں کیا اور ہی کبھی کسی طرح کا احتجاج کیا،ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہر کسی کو کوئی نہ کوئی کام پڑتا ہے زرداری صاحب کو یا پی پی کے کسی وزیر ، اعتزاز احسن صاحب ،سلمان تاثیر، بڑے لوگ گواہ ہیں پی پی والے لوگوں کے کام بھی کرتے ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جماعت ،جماعت اسلامی ہے، جماعت اسلامی کے پڑھے لکھے لوگ ہیں،میں نے ایک پروگرام کیا جس میں میں نے کہا کہ قاضی حسین احمد نے یہ غلط کیا یا اسلامی جمعیت طلبا غلط کر رہی ہے، یونیورسٹی میں بدمعاشی ہو رہی ہے،تو اس پر سب سے پہلے جماعت اسلامی کی طرف سے لیٹر آتا ہے جس میں سب سے پہلے لکھا ہوتا ہے کہ محترمی ومکرمی گزارش یہ ہے کہ آپ نے فلاں تاریخ کو پروگرام میں الزامات لگائے ہم اس کا تفصیلی جواب دینا چاہتے ہیں ہمیں بھی موقع دیں یہ پڑھا لکھا اپروچ ہے اسکے بعد انکو بھی موقع ہمیشہ ملتا ہے، جب وہ اس طرح ریکوئسٹ کرتے ہیں، تو کوئی انکار نہیں کر سکتا ،اور موقع دینا پڑتا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ہوا مجھے ایسے لگتا ہے کہ شاید یہ دو افراد ہیں، ایک اے آروائی میں ہو شاید اور دوسرا پی پی میں ہو،جن کا آپس میں تعلق اس سٹیج پر پہنچ چکا ہے کہ ایک طرف چینل اور دوسری جانب سیاسی پارٹی، اب اسکو یہیں ختم کرنا چاہئے، اور اگر یہ کہا گیا کہ انکا جو لیٹر ہے جو تحقیقات کے لئے جاری ہوا یہ ہمیں ٹارگٹ کر رہے ہیں تو یہ صحیح نہیں اسکی وجہ یہ ہے ہم یہ کرتے ہیں،ایک مثال دیتا ہوں کہ دنیا ٹی وی کا کام ہے ہمارے پاس بڑی رپورٹس آئیں کہ دانش سکول جو ہے وہاں پر تعلیم نہیں بچے ڈربوں کے اندر پڑ رہے ہیں اس حال میں ہیں اور دانش سکول میں لوگوں نے جانور باندھے ہوئے اسوقت میں دنیا ٹی وی میں اینکر تھا میں نے تمام رپورٹر کو میسج بھیجا کہ دانش سکول کے بارے میں مکمل ڈیٹا اکٹھا کرو،کہ کیا صورتحال ہے اور اگر کہیں نظر آتا ہے کہ سکول میں تعلیم نہیں طلبا نہیں وہاں جانور بندھے ہوئے تو جا کر اسکی ویڈیو بنائیں اور ہمیں دیں، تو یہ ہم جب ایک خاص شو کرتے ہین اسکی تیاری کرتے ہیں، ثبوت چاہئے ہوتے ہیں، اسکا یہ مطلب نہیں کہ میں کوئی ایجنڈا لے کر رپورٹر کو پابند کر رہا ہوں کہ تم یہ کرو ،کسی جماعت کا خاص کر کے ٹارگٹ کرو،کہ اچھائی بھی برائی نظر آئے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہم پر یہ الزام بھی لگتا تھا کہ آپ پنجاب پر کیوں کرتے ہیں تو میں کہتا تھا کہ میں لاہور میں بیٹھا ہوا ہوں،اور 62 فیصد پاکستان کی آبادی ہے، ہماری بیوروکریسی سب سے بڑی، فنڈز سب سے زیادہ، یہ شکایت شہبازشریف کو بھی تھی اور عثمان بزدار کو بھی ہے.اسکی وجہ یہ ہے کہ میں نے ہو سکتا ہے پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا لیکن اگر بزدار کی کرپشن نظر آتی ہے تو برملا اظہار کروں گا اور نہیں چھوڑوں گا ہم نے پنجاب حکومت کو بہت آڑے ہاتھوں لیا کہ انہوں نے ڈاکٹرز کو کیوں ماسک نہین دیئے کٹس کیوں نہیں دیں، ان کی ایس او پیز میں کیا کمزوریاں ہیں، اسکا یہ مطلب نہین کہ ہم کسی صوبے کے خلاف ہیں، آج پنجاب توکل سندھ پرسوں کے پر بھی بات ہو گی، بلوچستان، وفاق پر بات ہو گی، میں اگر پنجاب پر کرتا ہوں اور کہا جاتا ہے کہ پہلے سندھ پر کرو، میں سندھ میں جاتا ہوں تو کہا جاتا ہے کہ پہلے بلوچستان پر کرو، اس طرح تو کہیں نہیں ہوتا،کہیں سے تو ہمیں کام شروع کرنا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جو رپورٹرز ہیں، اینکرز ہیں انکا کام ہے کہ وہ ہر ہفتے سب سامنے لے کر آئیں اور اسے آپ کی تصحیح ہو، عوام کو بھی پتہ چلے یہی جاب ہے عوام کو باخبر کرنا، سیاسی جماعت سب کو خندہ پیشانی سے لیتی ہیں اور جائز ہو تو تدارک کرتی ہیں اگر ناجائز ہو تو اسی فورم پر آکر جواب دیتی ہیں جو انکا حق ہے،لیکن اگر ہم آپس میں لگ جائیں گے تو نقصان صرف عوام کا ہو گا نہ چینل کا نقصان ، نہ پارٹی کا ،میں درخواست کروں گا کہ بجائے جلتی پر تیل ڈالنے کے جس کی بھی غلطی ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اے آر وائی اور پی پی کو آپس میں بیٹھنا چاہئے، یہ دو افراد کی کوئی چیز ہے جس کی وجہ سے سب سوشل میڈیا پر آیا، اگر جائز بھی ہو تو تب بھی، جب ایکسڈینٹ ہوتا ہے تو 99 فیصد ایک ڈرائیور کی غلطی ہوتی ہے، ان کو بیٹھنا چاہئے اور معاملے کو ختم کرنا چاہئے، سوشل میڈیا ،مین سٹریم میڈیا سے اس کو ختم ہونا چاہئے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسکی ضرور ت ہوئی تو میں خود اے آر وائی کی منیجمنٹ میرے گھر کی بات ہے میں انکو کال کر سکتا ہوں، میں بلاول کو بھی کال کر سکتا ہوں میں اسکے لئے کردار ادا کر سکتا ہوں، دونوں اپنی اپنی فیلڈ میں انتہائی قابل قدر ہیں، پی پی کا ملکی سیاست میں بڑا رول ہے اس ملک کے لئے،اے آر وائی کا ملکی میڈیا میں انتہائی رول ہے،ان دونوں کو ہم ایک پیج پر دیکھنا چاہتے ہیں،
لاہور میں کورونا کے پیش نظر 21 رمضان یوم شہادت حضرت علی ؓ کا مرکزی جلوس نہیں نکالا جائے گا۔ کورونا کے پیش نظر 21 رمضان کا مرکزی جلوس نہیں نکالا جائے گا۔ پنجاب حکومت نے پولیس کی سفارشات پر جلوس انتظامیہ کو مطلع کر دیا۔ سول سیکرٹریٹ میں شیعہ علما اور جلوس انتظامیہ کے ساتھ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں شیعہ علما کو 21 رمضان کا جلوس نہ نکالنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔وبائی مرض کے خطرے کے پیش نظر جلوس کو نہ نکالنے کے لئے ہدایات جاری کی گئیں۔ یوم شہادت حضرت علی ؓ کا مرکزی قدیمی جلوس بھی نہیں نکالا جائے گا۔ ہرسال 21رمضان یوم شہادت علی ؓ کا قدیمی مرکزی جلوس اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ اختتام پزیر ہوتا ہے۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ پنجاب، کمشنر لاہور سیف انجم، ڈی سی دانش افضال، ایڈیشنل آئی جی رائے طاہر، سی سی پی او ذوالفقار حمید، ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید،مرکزی جلوس کے شیعہ علما آغا شاہ حسین قزلباش، توقیر بابا سمیت دیگر نے شرکت کی۔
کرونا وائرس،ایک دن میں 28 ہلاکتیں، مریضوں میں بھی اضافہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں کرونا مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،پاکستان میں کرونا مریضوں کی تعداد 30 ہزار 941 ہو گئی ہے جبکہ ایک دن میں 28 افراد جاں بحق ہونے کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 667 ہوگئی۔
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1476 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں 11 ہزار 568، سندھ میں 11 ہزار 480، خیبر پختونخوا میں 4 ہزار 669، بلوچستان میں 2 ہزار 17، گلگت بلتستان میں 442، اسلام آباد میں 679 جبکہ آزاد کشمیر میں 86 مریض ہیں
پاکستان میں کورونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 28 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 667 ہوگئی۔ سندھ میں 189، پنجاب میں 197، خیبر پختونخوا میں 245، گلگت بلتستان میں 4، بلوچستان میں 26 اور اسلام آباد میں 6 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مریضوں کا 462 ہسپتالوں میں قائم قرنطینہ مراکز علاج جاری ہے، ان ہسپتالوں میں 7295 بیڈز کا بندوبست کیا گیا ہے
پاکستان میں اب تک 2 لاکھ 94 ہزار 894 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 11 ہزار 367 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 8 ہزار 212 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔
اسلام آباد : امیدیں دم توڑگئیں ، مایوسیاں بڑھ گئیں :کورونا کی ویکسین 2021 تک تیار نہیں ہوسکتی، عالمی ادارہ صحت نے خبر سناکر دنیا والوں کو ہلا کررکھ دیا ،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح کیا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے کورونا وائرس کی وبا سے بچاؤ کی ویکسین 2021 تک تیار نہیں ہوسکتی۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ حال ہی میں امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے بائیو ٹیک کمپنی موڈرینا کو تیار کردہ ویکسین کی آزمائش کے دوسرے مرحلے کی اجازت دی ہے۔ایف ڈی اے نے چند دن قبل ہی موڈرینا کو اپنی تیار کردہ ویکسین کے دوسرے آزمائشی مرحلے شروع کرنے کی اجازت دی تھی، موڈرینا وہ پہلی کمپنی تھی جس نے مارچ میں انسانوں پر اپنی ویکسین کی آزمائش شروع کی تھی۔
مذکورہ کمپنی نے ویکسین کے انسانی ٹرائل کے پہلے مرحلے کو حال ہی میں مکمل کیا تھا جس کا مقصد اس ویکسین کے محفوظ ہونے اور مقدار کے بارے میں سمجھنا تھا اور اب دوسرے مرحلے میں محققین اس کی افادیت اور مضر اثرات کو 600 افراد پر دیکھیں گے۔
امریکا کی اسی کمپنی کے علاوہ ایک اور امریکی کمپنی کا بھی انسانی ٹرائل جاری ہے جب کہ برطانیہ اور جرمنی کی کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کا انسانی ٹرائل بھی جاری ہے، تاہم باقی تینوں کمپنیوں کے یہ ابتدائی ٹرائل ہیں اور ان تمام ویکسین کے ٹرائلز مجموعی طور پر تین آزمائشی مراحل پر مشتمل ہوں گے۔
امریکی کمپنی موڈریکا کی ویکسین ایم آر این اے 1273 کا دوسرا آزمائشی مرحلہ شروع ہوتے ہی عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے، دنیا میں کوئی بھی کورونا سے بچاؤ کی ویکسین 2021 کے آخر تک سامنے نہیں آ سکتی۔
عرب نشریاتی ادارے العربیہ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ترجمان کے مطابق نئی ویکسین کی آزمائش کے تین مرحلے ہوتے ہیں، جس کے بعد مزید دو اور مرحلے بھی ہوتے ہیں اور ان تمام مراحل کو مکمل کرنے میں ڈیڑھ سال کا وقت لگ جائے گا اور یوں کوئی بھی ویکسین 2021 کے اختتام سے قبل دستیاب نہیں ہوگی۔
عالمی ادارہ صحت کے عالمی وبا کے الرٹ اور ریسپانس سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر ڈیل فشر نے امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کی آزمائش کا دوسرا اور تیسرا مرحلہ پہلے مرحلے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے اور اس میں بہت وقت لگتا ہے۔ڈاکٹر ڈیل فشر کے مطابق پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے میں بہت سارے لوگوں پر ویکسین کو آزمایا جاتا ہے اور ساتھ ہی اس دوران رضاکاروں کی صحت اور ویکسین کے نتائج کو بھی مانیٹر کیا جاتا ہے جو کہ ایک تھکا دینے والا مرحلہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے عہدیدار کے مطابق پہلے اور دوسرے مرحلے کی کامیابی کے بعد ویکسین کی آزمائش کا تیسرا اور سب سے اور بڑا مرحلہ شروع ہوتا ہے اور تیسرے مرحلے میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں پر ویکسین کو آزمایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں لوگوں کو ویکسین دینے، ان کی صحت مانیٹر کرنے اور دوا کے رد عمل جانچنے میں نہ صرف بہت بڑی ٹیم اور فنڈز کی ضررت ہوتی ہے بلکہ اس میں کافی وقت بھی لگتا ہے۔
ڈاکٹر ڈیل فشر نے بتایا کہ اگر تینوں آزمائشی پروگرام کامیاب بھی گئے اور ویکسین کے نتائج بھی بہتر ثابت ہوئے تو ویکسین کا چوتھا مرحلے اس کی تیاری کا ہے جو کہ خود ایک بہت بڑا چیلنج ہے، جس کے بعد آخری مرحلہ اس ویکسین کی تقسیم اور دور دراز علاقوں تک ترسیل کا ہے اور ان سب مراحل کو طے کرنے میں ڈیڑھ سال کا وقت لگ سکتا ہے۔
انہوں نے واضح طور پر ویکسین کی دستیابی کے حوالے سے کسی مہینے یا تاریخ کا ذکر نہیں کیا، تاہم بتایا کہ اگر تمام مراحل توقعات کے مطابق طے کیے گئے تو بھی ویکسین کی فراہمی 2021 کے آخر سے قبل ناممکن ہوگی۔تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی ویکسین کے تجربے اور تحقیق کے لیے بہت سارے وسائل فراہم کرکے ٹیم ورک کے طور پر کام کیا جائے تو ایک سال کے اندر ویکسین کی دستیابی ممکن ہو سکے گی یعنی پھر بھی دنیا کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین 2021 کے وسط تک ہی مل پائے گی۔
ملک میں کورونا سے مزید اموات ہو گئیں
باغی ٹی وی :ملک میں کورونا سے مزید 21 اموات ہو گئیں جس کے بعد تعداد 639 تک پہنچ گئی، کورونا مریضوں کی تعداد 29 ہزار 465 ہو گئی ہے، 8 ہزار 23 افراد تندرست ہوئے۔
پنجاب میں 11 ہزار 93، سندھ میں 10ہزار 771 افراد متاثر ہوئے، خیبر پختونخوا 4 ہزار 509، بلوچستان میں ایک ہزار 935 کیس رپورٹ ہوئے، اسلام آباد 641، گلگت بلتستان 430 اور آزاد کشمیر میں 86 افراد کورونا کا شکار ہوئے۔
سندھ میں کورونا کے اب تک 10,771 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پنجاب 11 ہزار 93، خیبرپختونخوا 4,509، بلوچستان 1,935، اسلام آباد 641، آزاد کشمیر 86 اورگلگت بلتستان میں 430 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ 234 اموات ہوئی ہیں۔ سندھ میں 180، پنجاب میں 192، بلوچستان 24، اسلام آباد 05 اور گلگت بلتستان میں کورونا سے 4 افراد جاں بحق ہوئے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے 155 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 12 ہزار 982 ٹیسٹ کیے گئے جبکہ کُل 2 لاکھ 70 ہزار 25 ٹیسٹ لیے جا چکے ہیں.
پاکستان میں کورونا وائرس کو سامنے آئے 2 ماہ سے زائد عرصہ بیت چکا ہے، ابتدا میں کیسز میں اضافے کی رفتار سست تھی لیکن اب اس میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں رپورٹ ہوا جس کے ایک ماہ بعد یعنی 25 مارچ تک کیسز کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
ملک میں کورونا وائرس سے پہلی موت 18 مارچ کو خیبرپختونخوا میں ہوئی اور تادم تحریر اموات کی تعداد 618 ہو گئی ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل ہیلتھ ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا،
اجلاس میں چیئرمین نیشنل ہیلتھ ٹاسک فورس ڈاکٹر نوشیروان برکی، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، صوبائ وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد، صوبائ وزیر صحت خیبر پختونخواہ تیمور سلیم جھگڑا، اور سینئر افسران کی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت۔ وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کوویڈ-19 ڈاکٹر فیصل بھی اجلاس میں شریک تھے ۔
صوبائ وزراء صحت نے اپنے صوبوں میں کورونا وائرس کی صورتحال، ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حفاظت و سہولت کے اقدامات، کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافے کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔
وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کوویڈ-19 ڈاکٹر فیصل نے ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں میں کورونا وائرس کے متاثرین کے اعدادوشمار، شرح اموات، کیسز کے تناسب کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان دوسرے ممالک کی نسبت کورونا وائرس سے کم متاثر ہوا ہے۔
شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ مارچ کی نسبت کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ لیبز کی تعداد کو 4 سے بڑھا کر 63 تک لے جایا جا چکا ہے۔ صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے ہوم قرنطینہ کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کہ اس حوالے سے جلد باضابطہ لائحہ عمل کا اعلان کر دیا جائے گا ۔
وزیراعظم نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے عوام الناس میں بھرپور آگاہی اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بحیثیت فرد اور بحیثیت ذمہ دار شہری، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اگر کوئ فرد کورونا وائرس سے متاثر ہو گیا ہے تو اس کے ساتھ نہایت ذمہ داری سے پیش آئیں ۔ وزیراعظم نے کورونا وائرس کے متاثرین کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھنے کے واقعات کی رپورٹ کے حوالے سے نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ طرز عمل ناقابل برداشت ہے اور خوف کا موجب بنتا ہے۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام اگر کوروناوائرس کی علامات محسوس کریں تو فوری اور بلا خوف ٹیسٹ کے لیے رجوع کریں ۔ اس ضمن میں عوام میں غیر ضروری ہچکچاہٹ اور خوف کے تاثر کو زائل کرنے کے حوالے سے وزیر اعظم نے ایک جامع اور بھرپور عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا اور اس حوالے سے جلد ایک مربوط حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی ۔
وزیراعظم نے دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی کم شرح کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی پاکستان میں حالات دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت قابو میں ہیں۔ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور عوام میں اعتماد اجاگر کرنے سے صورتحال میں نمایاں بہتری آسکتی ہے