باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا نے سپیڈ پکڑ لی، 24 گھنتوں میں 47 ہلاکتیں جبکہ 882 نئے مریض سامنے آئے ہیں
پاکستان میں مریضوں کی مجموعی تعداد 17699 ہو گئی ہے جبکہ 408 اموات ہو چکی ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 7971 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک ملک بھر میں ایک لاکھ 82 ہزار 131 کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ کرونا کے 4315 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں، جبکہ 13384مریض تاحال زیر علاج ہیں۔
کرونا مریضوں کے حوالہ سے سندھ ایک بار پھر آگے نکل گیا، سندھ میں مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں پر 6675 مریض ہیں۔
پنجاب میں مریضوں کی تعداد 6340 ، بلوچستان میں 1136، خیبر پختونخوا میں 2799، اسلام آباد میں 343، آزاد کشمیر میں 66اور گلگت بلتستان میں 340مریض ہیں۔
خیبرپختونخوا میں کرونا وائرس سے 161 ہلاکتیں سندھ میں 118 ،پنجاب میں 106 ،اسلام آباد میں 4 ، بلوچستان میں 16، گلگت بلتستان میں 3 ہلاکتیں ہو چکی ہیں.
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹز کے مطابق کورونا وائرس کے سب سے زیادہ 26.28 فیصد کیسز لاہور میں ہیں، کراچی میں 13.99 فیصد اور پشاور میں 7.27 فیصد مریض ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ اور کراچی میں 24 گھنٹوں میں کورونا کی سب سے زیادہ شرح ہے
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں کورونا کے 622نئےکیسز رپورٹ ہوئے ہیں،کراچی میں کورونا کے 446 نئے مریض سامنے آئے ہیں،ہم نے 3384 نئے ٹیسٹ کئے تھے، اس وقت تک 57761 ٹیسٹ کیے گئے ہیں،
وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ آج 73 مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو چلے گئے، صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 1295 ہے ، آج 6 مریض کورونا کے خلاف جنگ ہار کر زندگی کی بازی ہار گئے، سندھ میں کل کورونا کے باعث مرنے والوں کی تعداد 118 ہے،118 انتقال کرنے والے کل مریضون کا 1.76 فیصد ہے، کل زیرعلاج مریضوں کی تعداد 5262 ہے، 4044 گھروں میں زیرعلاج ہیں،733 آئیسولیشن مراکز جبکہ اسپتالوں میں 485 مریض زیرعلاج ہیں،45 کورونا مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جن میں 16 وینٹی لیٹرز پر ہیں،
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ 28 تا 29 اپریل کو 3 فلائٹس دبئی، شارجہ اور کولمبو سے 483 تارکین وطن کو واپس لائیں، ان سب کے ٹیسٹ کے نتیجہ میں 190 مثبت آئے جو تقریباً 40 فیصد بنتا ہے، 190 مثبت کیسز میں 92 کا تعلق سندھ، 56 پنجاب، 24 کے پی کے اور 18 بلوچستان سے ہے، شہر کراچی میں 446 سامنے آئے ہیں،
وزیراعلیٰ سندھ نے عوام کو درخواست کی ہے کہ خدارہ اپنا احتیاط کریں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان کے کے زیر قیادت موجودہ سعودی حکومت کو حالیہ سعودی تاریخ میں سب سے زیادہ جابرانہ ہونے کا عجیب و غریب مقام حاصل ہے، ہم آئے روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے کارناموں کے بارے سنتے رہتے ہیں جو ہر میدان میں فرنٹ فٹ پر کھیلنے کے عادی ہیں اب انہوں نے ایک فیصلہ کیا اور اس پر تیزی سے عمل جاری ہے
سعودی عرب اسرائیل کی رضا مندی سے جوہری ہتھیار تیار کرنے جا رہا ہے اور امریکہ اس میں سعودی عرب کی مدد کرے گا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر اہم رول کردار ادا کر رہے ہیں اور اس ڈیل کو فیملی بزنس کے لئے استعمال کر رہے ہیں، محمد بن سلمان اور وہ گزشتہ برس ملے تھے،انکی ملاقات کو مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کے حوالہ سے کہا گیا لیکن درحقیقت امن یا پیس ڈیل یہ ایک ڈرامہ تھا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بڑی گیم میں آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں، ایک تو وہ ذاتی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں دوسری طرف وہ اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں،کہ فلسطین کے پاس اگر کچھ بچ بھی گیا تو اس پر قبضہ کرنے کے لئے اسرائیل کی کیسے مدد کی جائے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان کے پاس دشمن کے ساتھ کھیلتے ہوئے دو اہم مسئلے ہیں ایک ایران کے ساتھ مقابلہ کرنا ، دوسری نہ صرف سعودی عرب بلکہ عرب دنیا میں خود کو حکمران کے طور پر منوانا، یمن میں بے گناہ مردو خواتین بچوں کا بے دردی سے قتل عام ، وہاں پر جو بے دردی سے قتل کئے گئے،جمال خشوگی کو بے دردی سے قتل کرنا ، لیکن اس قتل و غارت کے ذریعے اقتدار اور اقتدار کا حصول ،ساری دنیا بے فکر نظر آتی ہے، محمد بن سلمان روایتی ذرائع استعمال کرنے سے مطمئن نظر نہیں آتے ، اب جوہری طاقت بن جانے کی خواہش کے سہارے ٹرمپ انتظامیہ اس سے زیادہ مدد کرنے میں آمادہ نظر آ رہے ہیں،نیو یارک ٹائمز نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے جوہری معاملے کو ترقی دینے کے لئے سعودی عرب کے ساتھ معاہدے پر عمل کر رہا ہے،جوہری بجلی گھروں میں اسی ملین ڈالر کی فروخت کے لئے ٹرمپ انتظامیہ ایسی حکومت کو حساس معلومات اور مواد فراہم کرے گی جس کے حقیقی لیڈر محمد بن سلمان ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان نے خواہس کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے خلاف ہیں اسلئے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا چاہتے ہیں،اس معاملے میں دنیا میں کسی کو پرواہ نہین، اس سب کے پیچھے امریکی صدر کے داماد کے کاروباری مفاد ہیں، جس نے کمپنی کی شکل اختیار کر لی،جو اسکی فیملی کو نیویارک میں ریئل اسٹیٹ میں دیوالیہ ہونے کے بعد اسکو سہارا دے گی،اس دیوالیہ پن کے بعد سعودی عرب کو نیوکلئر ری ایکٹرز کےبارے میں کہا جا رہا ہے، امریکی صدر کے داماد کی حرکتوں نے امریکی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر کے داماد سعودی عرب کو جوہری طاقت بنانے کے لئے کوشاں ہیں، اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے امریکن میڈیا نے اس حوالہ سے دو انتہائی غلط مفروضے پیش کئے ہیں،ایک یہ کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ اسرائیلی قیادت کے مفاد کے منافی ہے، دوسرا یہ کہ خلیجی پیسوں کے شکنجے میں آنے کا نتیجہ ہے،نیویارک ٹائمز کے کالم میں ایک امریکی صحافی نے لکھا کہ سعودی عرب کے حوالہ سے وائیٹ ہاؤس کے جو اقدامات ہیں اس حوالہ سے بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات ضروری ہیں لیکن وہ غلط دعویٰ بھی کرتا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کے جوہری طاقت بننے پر اعتراض کرے گا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے داماد کے امن معاہدے کے پیچھے اصل محرک یہ ہیں،انکا مقصد فلسطینیوں کو انکے تمام جائز حقوق سے محروم کرنا اور اسرائلی قبضے کو قانونی حیثت دینا ہے، اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ انہیں قریبی ذاتی تعلقات کے بارے میں بھی جانا جاتا ہے،اگر اسرائیل ایران کے جوہری معاہدے کو ختم کرنے کے لئے ٹرمپ کو راضی کر سکتے ہیں تو کیا نتین یاہو ٹرمپ کو سعودی عرب کے حوالہ سے نہیں روک سکتے، اب نتین یاہو کو کیا پڑی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے سامنے کھڑے ہو جائے اور کہے کہ ریاض جوہری طاقت حاصل کرنے جا رہا ہے،ایک طویل عرصے سے اسرائیلی دفاعی پالیسی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کوئی ملک جوہری طاقت نہیں بننے دیا جائے گا جس سے اسرائیلی مفادات کو خطرہ ہو گا،یہی وجہ ہے کہ عراق اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف بات ہوتی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب ساری صورتحال یہ بتا رہی ہے کہ اگر سعودی عرب جوہری طاقت بنے گا تو اس سے اسرائیل کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی ، اور سعودی اسرائیل تعلقات اب اگلی سٹیج پر پہنچیں گے. اسرائیل اس بات پر مطمئن ہے کہ جوہری سعودی عرب انکے لئے کوئی خطرہ نہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس عمل میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، اور یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ معاملات کو کنٹرول کرے اور سعودی اسرائیلی دفاعی صلاحیتوں کے برابر نہ پہنچے یعنی یہ ایک یونیک پروگرام ہے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی اس بات کو یقینی بناتے رہے ہیں کہ مشرق وسطی میں کوئی عسکری طور پر مضبوط نہ ہو اور جوہری صلاحیت حاصل نہ کرے۔ اس معاملے کے لئے ، وہ ایران / عراق تنازعہ کو ہوا دے رہے ہیں اور خطے میں کسی بھی مضبوط فوج کے خلاف کاروائی کر رہے ہیں. سعودیہ ایران کو روکنے کے لئے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور وہ جوہری صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس اقدام سے علاقائی امن خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اس خطے میں ایک اور ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوگی اور دفاعی سازوسامان تیار کرنے والوں کا کاروبار ہوگا اور بالادستی حاصل کرنے کے لئے بھاری خریداری کی جائے گی۔ ممالک کے تعلقات قومی مفادات پر منحصر ہوتے ہیں جب امریکہ اسرائیل کو پتہ چلا کہ سعودی جوہری پروگرام ان کے لئے خطرہ ہے تو اسے پیچھے ہٹ جائیں گے جس طرح پاکستان پر 90 کی دہائی میں جوہری پروگرام رول بیک کرنے کے لئے دباؤ بڑھا تھا بلکہ پابندیاں لگائی گئی تھیں اور امداد بھی بند کر دی گئی تھی
اسلام آباد: میرے وطن کے نوجوانوں سیرت رسول ﷺ اوراسلامی تاریخ پرمبنی کتب کا مطالعہ کریں ،وزیراعظم مبلغ دین بن گئے،نصیحت آموزپیغام،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے باعث جاری لاک ڈاؤن کے دوران نوجوانوں کو اسلامی تہذیب اور تاریخ پر مبنی کتاب پڑھنے کی تلقین کر دی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیراعظم عمران خان نے لکھا ہے کہ کورونا وباء کے باعث جاری لاک ڈاؤن کے دوران نوجوان اسلامی تہذیب اور تاریخ کا مطالبہ کریں، اس حوالے سے وزیراعظم نے نوجوانوں کو فراس الخطیب پڑھنے کی تجویز دی۔
بندشوں (لاک ڈاؤن) کےموسم میں ہمارے نوجوانوں کےمطالعےکیلئےایک لاجواب انتخاب۔ یہ کتاب ان تاریخی عوامل کا نہایت خوبصورت مگر مختصر مجموعہ ہے جنہوں نے تمدنِ اسلامی کو اپنے دور کی عظیم ترین تہذیب کی شکل دی اوران عوامل سےپردہ اٹھاتی ہے جو اسکے زوال کی وجہ بنے۔ pic.twitter.com/XdTSLFmIjj
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ میں مزید لکھا ہے کہ فراس الخطیب مسلمانوں کی تاریخ سے متعلق زبردست کتاب ہے، اس میں مسلمانوں کےعروج اور زوال کی وجوہات کی داستان درج ہے۔
ویلڈن وزیراعظم،لاک ڈاؤن کے دوران حکومتی اقدامات پر عالمی ادارے کی تعریف
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم نے کورونا لاک ڈاؤن سے نمٹنے کے اقدامات پر حکومت پاکستان کی تعریف کی ہے،پاکستان میں نچلے طبقے کیلئے حکومت پاکستان کی کاوشوں کی ورلڈ اکنامک فورم میں پذیرائی ہوئی ہے،
ورلڈ اکنامک فورم نےحکومت پاکستان کے اقدامات پر تعریفی ویڈیو جاری کردی،وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر پر ورلڈ اکنامک فورم کی ویڈیو شیئرکردی
وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر پر ویڈیو کے ساتھ پیغام میں کہا کہ ایک تیر کے ساتھ دو شکار، شجرکاری کےساتھ وسیلہ روزگار کا اہتمام نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کیلئے ہے،
واضح رہے کہ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی امین اسلم کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون سے متاثرہ پسماندہ علاقوں کےغریب اور دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے حکومت نے بڑا فیصلہ کیا ہے،65 ہزار افراد کو روزانہ اُجرت کی بنیاد پر فوری روزگار فراہم کیا گیا ہے، یہ مزدور یومیہ 800 اجرت پر 10 بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت شجرکاری میں حصہ لینگے۔
باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق پنجاب میں اسپیشل فلائٹس سےواپس آنےوالے 259 افراد ميں کورونا وائرس کي تصديق ہوئي ہے۔ جس سے کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ مزید خوف بڑھ کیا ہے ۔ محکمہ صحت پنجاب کے مطابق بائيس اسپیشل فلائٹس سےدوہزارچھ سو تيس مسافروطن واپس پہنچے، گيارہ فلائٹس لاہورائیرپورٹ،پانچ ملتان اورچھ فلائٹس مسافروں کوليکرفیصل آباد پہنچيں، لاہورائیرپورٹ اترنےوالی فلائٹس میں سے 154 مسافروں کے ٹيسٹ مثبت آئےہيں۔ فیصل آباد ائیرپورٹ اترنےوالی پروازوں میں57 مسافر ميں کوروناوائرس کي تصديق ہوئي ہے۔ ملتان ائیرپورٹ اترنےوالی پروازوں میں سے 48 مسافروں کےٹيسٹ مثبت آئےہيں۔ سيکرٹري پنجاب کیپٹن ریٹائرڈعثمان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سےآنےوالےافراد کا 48 سے 72 گھنٹےبعد ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ 48 گھنٹےتک بیرون ملک سےآنےوالوں کوقرنطینہ میں رکھاجارہاہے۔ دبئی،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات سےآنےوالی فلائٹس سےکوروناوائرس کےکیسزسامنےآئےہيں۔۔
لاک ڈاؤن کے دوران کیا کام کریں؟ وزیراعظم نے دیا نوجوانوں کو اہم مشورہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نوجوانوں کو کتاب پڑھنے کی تجویز سامنے آئی ہے
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کو ٹوئٹ میں فراس الخطیب کتاب پڑھنے کی تجویز دی
A great read for our youth during lockdown days. An excellent brief history of the driving force that made Islamic civilisation the greatest of its time and then the factors behind its decline. pic.twitter.com/XdTSLFmIjj
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی تاریخ سے متعلق زبردست کتاب ہے،کتاب میں مسلمانوں کےعروج اور زوال کی وجوہات کی داستان درج ہے
واضح رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ ہے، تمام صوبوں مین لاک ڈاؤن کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے، پاکستان میں کرونا کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، چوبیس گھنٹوں میں 990 نئے مریض سامنے آئے ہیں
پاکستان میں کرونا مریضوں کی مجموعی تعداد 16 ہزار817 ہو گئی ہے، کرونا کے پنجاب میں 6340، سندھ 6053، خیبر پختونخوا 2627، بلوچستان میں 1049 مریض ہیں، کرونا سے پاکستان میں اموات کی تعداد 385 ہو چکی ہے جبکہ اب تک 4315 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں.
کرونا سے سب سے زیاد ہ اموات خیبرپختونخوا میں ہوئیں جن کی تعداد 146ہے جبکہ سندھ میں 112، پنجاب 106، بلوچستان 14، گلگت بلتستان 3 اور اسلام آباد میں 4 افراد کی موت ہوئی ہے.
پاکستان میں 24 گھنٹوں میں کرونا کے 990 نئے مریض، اموات میں بھی اضافہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، چوبیس گھنٹوں میں 990 نئے مریض سامنے آئے ہیں
پاکستان میں کرونا مریضوں کی مجموعی تعداد 16 ہزار817 ہو گئی ہے، کرونا کے پنجاب میں 6340، سندھ 6053، خیبر پختونخوا 2627، بلوچستان میں 1049 مریض ہیں، کرونا سے پاکستان میں اموات کی تعداد 385 ہو چکی ہے جبکہ اب تک 4315 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں.
کرونا سے سب سے زیاد ہ اموات خیبرپختونخوا میں ہوئیں جن کی تعداد 146ہے جبکہ سندھ میں 112، پنجاب 106، بلوچستان 14، گلگت بلتستان 3 اور اسلام آباد میں 4 افراد کی موت ہوئی ہے.
پنجاب میں 1921 افراد نے کورونا کو شکست دی ہے، سندھ میں 1222، خیبرپختونخوا میں 645، بلوچستان 183، گلگت بلتستان 248 اور اسلام آباد میں 44افراد صحت یاب ہوئے۔ آزاد کشمیر میں بھی 43افراد نے کورونا کو شکست دی ہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان میں کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس سماعت کیلئے مقرر کر دیا گیا ہے، سپریم کورٹ کا لارجر بنچ 4 مئی کو سماعت کرے گا، عدالت نے اٹارنی جنرل، سیکریٹری ہیلتھ اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں۔ سیکریٹری داخلہ اور چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز سمیت دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کئے جا چکے ہیں۔
مزدوروں کے لئے حکومت کیا کر رہی ہے؟ وزیراعظم نے مزدور ڈے پرپیغام جاری کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے یوم مزدور پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یکم مئی اپنے حقوق کے لیے جانیں نچھاور کرنے و الے محنت کشوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ دن مزدوری کے تقدس اور وقار کی علامت ہے،یہ دن ملک کی معاشی ترقی کے لئے کارکنوں کی اہمیت کا اعتراف ہے،ہمارا مذہب سماجی انصاف اور لوگوں کے حقوق کے احترام کے اصولوں پر زور دیتا ہے،ترقی کے عمل میں محنت کشوں کے حقوق کے اعتراف کا احترام انتہائی ضروری ہے
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت مزدوروں کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور ان کے فلاح و بہبود کے لیے پرعزم ہے، مزدوروں کی فلاح کے لیے مربوط نظام تیار کرنا ترجیح ہے،ملک میں کورونا کے پھیلاؤ نے لوگوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب کیے ہیں،صنعتی شعبہ کی بندش سے مزدور طبقے پر براہ راست اثر پڑا ہے،وبائی بیماری سے مزدور طبقہ زیادہ متاثر ہواہے،مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ان کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے حکومت نے مزدوروں سے متعلق قوانین کوبہتر کرنے سمیت متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یہ دن ہمیں ایک موقع دیتا ہے کہ ہم مزدوروں کی ان کاوشوں کو یاد کر سکیں جو انہوں نے اپنے ممالک کی ترقی، خوشحالی اور فلاح کیلئے کی ہیں۔ پاکستان کی افرادی قوت معاشرے کا اہم ستون ہے اور وہ اپنے ملک کی بحالی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ایک جدید اور صنعتی معیشت کا خواب پرعزم، محنتی اور ہنرمند افرادی قوت کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری افرادی قوت اپنے کام کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک پہچان رکھتی ہے۔ مزدور اور ملازمین ہمارے سماجی شراکت دار ہیں۔ حکومت مزدوروں کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے اور قوم کی سماجی اور معاشی ترقی میں ان کا کردار اہم ہے
عمران خان چھکا لگانے کے لئے تیار،مبشر لقمان کے سیاسی تبدیلیوں بارے اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اسوقت سیاسی طور پرگو نظر نہیں آ رہا لیکن بڑی گرما گرمی ہو رہی ہے،توڑ پھوڑ ہو رہی ہے، ایک طرف آٹا چینی بحران والے ہیں انکی انکوائری شروع ہو چکی ہے،چڑیل کی خبر ہے کہ وزیراعظم نے فیصلہ کر لیا ہے دو آپشن ہے یا تو وہ ایف آئی اے کو کہتے کہ مزید انکوائری کرو، انہوں نے نیب کے حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا اور نیب اب انکوائری کرے گی، آنے والے دنوں میں لگ رہا ہے کہ عید سے چند روز قبل یا عید کے بعد جہانگیر ترین کہیں اور مہمان کے مہمان بننے والے ہیں، یہ ان کے لئے مشکل وقت ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ انکی جیب میں 25 کے قریب ایم این ایز، ایم پی ایز ہیں،کیا وہ ایم این ایز حکومت کا ساتھ چھوڑ کر ، ذاتی مفاد چھوڑ کر جہانگیر ترین کے ساتھ اصولی سیاست کے لئے آئیں گے یہ ایک سوالیہ نشان ہے جس کا آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے اپنے اندر میں توڑ پھوڑ رہی ہے جب سے فردوس عاشق اعوان کو ہٹایا گیا ، تحریک انصاف کے پرانے لوگ خوش ہیں لیکن باقی وزرا میں کھلبلی مچ گئی ہے، آنے والے دنوں میں مزید تبدیلی آنے والی ہے اور کئی وزیر وزارتوں سے ہاتھ دو سکتے ہیں، سننے میں یہ آ رہا ہے کہ ٹیکنوکریٹ کو فوقیت دی جائے گی، ٹیکنوکریٹ جن کے اوپر منحصر ہو کہ وہ اپنے محکمے چلا سکیں، اعظم خان وزیراعظم کے پی ایس ہیں اور وہ اسوقت سٹیبل نہیں ہیں، محلاتی سازشوں کا جو اعظم خان کے اوپر الزام لگتا رہا ہے اب اسکے اوپر جال بننا شروع ہو گیا ہے، ہمارے کچھ دوست ہیں وہ کافی متحرک ہیں،اور اگلے چند دنوں میں ، چند دنوں کا مطلب ایک ماہ میں عید کے بعد اعظم خان چینج ہو جائیں گے اور انکی جگہ کوئی اور آئے گا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جہاں سازشیں ہو رہی ہیں،وہاں ڈیلز بھی ہو رہی ہیں،اب حکومت بضد ہے کہ اٹھارہویں ترمیم پر کرنا ہے، وہ آئین میں ترمیم ہے اسکو آرام سے نہیں بدلا جا سکتا اسکے لئے پی پی، ن لیگ کی بھرپور حمایت چاہئے ہو گی، مسلم لیگ ن اس میں حکومت کی بھرپور حمایت کرے گی لیکن جب یہ مسودہ انکے پاس آئے گا جو چڑیل کے مطابق پہنچ چکا ہے اورا سکے لئے ایک کاروباری شخصیت کا استعمال ہوا ہے ،لاہور کے ایک مشہور بزنس مین جو ابھی نیب کے مہمان رہ کر آئے ہیں،وہ اب استعمال ہوئے ہیں، انہوں نے ن لیگ کی قیادت کو دو مختلف ذریعوں سے بھجوایا، ایک شاہد خاقان عباسی اور سننے میں آیا ہے کہ اسحاق ڈار،ان دونوں کو الگ الگ مسودہ دیا گیا ہے جو دونوں نے الگ الگ میاں صاحب کو دیا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ ن مان جاتی ہے تو اس پر کافی کیسز ختم کروانے کی ڈیل کرے گی، یعنی اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی آرام سے ہو جاتی ہے اور بغیر روک ٹوک کے ہوتی ہے، اس میں تبدیلی ضرور ہو گی وہ صوبوں کے اختیارات لے لئے جائیں گے، ہیلتھ صوبوں کے پاس ہے، صوبوں سے ہیلتھ اور ایجوکیشن وفاقی حکومت لے لے گی،کافی اختیارات واپس لئے جا سکتے ہیں،اب یہ کون مان رہا ہے میاں صاحب تو اسوقت مانیں گے جب کچھ دو اور لو کی بنیاد پر کیا جائے گا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک طرف ہم دیکھیں گے کہ انٹر پول سے رابطہ کیا گیا ہے کہ میاں صاحب کو بلا لودوسری جانب راستے بن رہے ہوں گے، میاں صاحب نے اٹھارہویں ترمیم جو جب پہلے او کے کیا تھا تو انہوں نے ترمیم میں ایک ہی وجہ سے اوکے کیا تھا کیونکہ آصف علی زرداری بڑے ایکسائٹڈ تھے،اٹھارہویں ترمیم میں میاں صاحب کی ایک خواہش تھی جو ایڈ کر دی گئی تھی کہ دو بار وزیراعظم بننے کی جو بات تھی اس کو ختم کر دیا جائے تاکہ میاں صاحب پھر وزیراعظم بن سکیں،اس ایک بات کی وجہ سے انہوں نے پوری اٹھارہویں ترمیم کو من و عن اوکے کر دیا تھا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو وفاق کے پاس نہیں صوبوں کے پاس چلی گئی ہیں اب اس میں بجٹ بنانے میں بڑی پریشانی ہو رہی ہے،وفاق ایک فارمولہ کے تحت صوبوں کو بجٹ دیتا ہے، وسائل دیتا ہے صوبوں کے ریو نیو بورڈ آزاد ہے وہ اپنا پیسہ خود خرچ کرتے ہیں وفاق کو نہیں دیتے،وفاق پیسے دیا جا رہا ہے اور صوبے خرچ کئے جا رہے ہیں،اب سوال یہ ہے کہ صوبے لوکل گورنمنٹ کو نہیں دیتے ،سندھ میں ایم کیو ایم کافی دیر سے واویلا کر رہی ہے یہ آج کی بات نہیں،لیکن سندھ حکومت لوکل گورنمنٹ کو فنڈ نہیں دے رہی، اس وجہ سے کراچی میں نہ کوڑے کی صفائی ہوتی ہے نہ پانی ملتا ہے، پیسے لوگوں تک نہین جا رہے
جب اٹھارہویں ترمیم میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں گی تو ن لیگ کچھ تو مانگے گی، اب ووٹ کتنے ہوں گے، پی ٹی آئی ،ن لیگ، ق لیگ، ایم کیو ایم ، باقی لوگ بھی ملیں گے تو کافی مضبوطی ہو جائے گی، اب پیپلز پارٹی کو بھی لابنگ کرنی پڑے گی اور پیپلز پارٹی بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے ،بہت سارے کیسز کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے، یہ سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا،مزید دو ہفتے کے بعد فرانزک رپورٹ آٹے چینی بحران کی آ جائے گی، آئی پی پیر والے بھی نیب کے نرغے میں آ سکتے ہیں، مئی تبدیلی کا مہینہ تو نہیں ہے،تبدیلی نہ سہی لیکن مئی بہت ساری تبدیلیوں کا مہینہ ضرور ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی اہم ترین شخصٰت میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، اسد قیصر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میرا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے،میں نے خود کو اپنے گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے،پوری قوم سے درخواست ہے کہ وہ احتیاط کریں،
چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے سپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ کیا ہے اور انکی خیریت دریافت کرتے ہوئے انکی صحتیابی کے لئے دعا کی ہے
قبل ازیں پیپلز پارٹی کے سندھ سے اقلیتی نشست پر رکن صوبائی اسمبلی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے
اس حوالہ سے ڈپٹی کمشنر تھرپارکر ڈاکٹر شہزاد طاہر تھہیم نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھرپارکر سے سندھ اسمبلی کی خصوصی نشست پر منتخب پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی رانا ہمیر سنگھ کی کرونا کی رپورٹ مثبت آئی ہے، انہوں نے کرونا کا ٹیسٹ کروایا تھا جس کی رپورٹ میں ان میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے
تھرپارکر سے اقلیتی رکن اسمبلی نے چند روز قبل جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی عبدالرشید کے ساتھ مٹھی میں ایک پروگرام میں شرکت کی تھی، سید عبدالرشید اور انکی اہلیہ میں کرونا وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد اقلیتی رکن اسمبلی نے کرونا کا ٹیسٹ کروایا تھا
واضح رہے کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے خود کو آئسولیٹ کر لیا،ہ اس سے قبل سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی لیکن وہ صحت یاب ہو چکے، وزیراعلیٰ سندھ کے بہنوئی کی کرونا وائرس کی وجہ سے موت ہو چکی ہے
خیبر پختونخواہ سے رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی وہ صحتیاب ہو چکے ہیں، جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے