پاکستان میں 24 گھنٹوں میں کرونا کے 2 ہزار سے زائد نئے مریض، اموات میں بھی اضافہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا نے سپیڈ پکڑ لی، 24 گھنٹوں میں2 ہزار سے زیادہ مریض سامنے آگئے. پاکستان میں مریضوں کی تعداد 34 ہزار سے بڑھ گئی
نینشل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے 24 گھنٹوں میں 2255 نئے کیسز رپورٹ ہو گئے جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 34 ہزار ر 336 ہو گئی، پنجاب میں 13 ہزار 225، سندھ میں 12 ہزار 610، خیبر پختو نخوا میں 5 ہزار 21 اور بلوچستان میں 2 ہزار 158 ،اسلام آباد میں 759، گلگت بلتستان 475 اور آزاد کشمیر میں 88 مریض ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے 24 گھنٹوں کے دوران مزید 31افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد 737 تک پہنچ گئی۔ سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں ہوئیں جن کی تعداد 267 ہے۔ سندھ میں 218، پنجاب 214، بلوچستان 27، گلگت بلتستان 4 اور اسلام آباد میں 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 257 افراد صحت یاب ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 8812 ہو گئی۔ پنجاب میں 4531، سندھ 2229، خیبرپختونخوا میں 1305، بلوچستان 256، گلگت بلتستان 331 اور اسلام آباد میں 92افراد صحت یاب ہوئے۔ آزاد کشمیر میں بھی 68 افراد کورونا کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔
لندن :دنیا والو ! تمہیں بُری خبردے رہا ہوں کہ ہوسکتا ہے کہ کرونا کی ویکسین کبھی تیارنہ ہوسکے اوردنیا مرتی جائے ، برطانوی وزیراعظم نے دنیا کوڈرا دیا ،اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کیخلاف جنگ میں سب سے برا منظر نامہ یہ ہوسکتا ہے کہ شاید اس کی ویکسین کبھی تیار نہ ہوسکے، لہٰذا ہمیں اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی بنانی ہوگی۔
کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ ویکسین کی بڑے پیمانے پر تیاری میں مزید ایک سال سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم کبھی ویکسین نہ بناسکیں۔برطانیہ میں لاک ڈاؤن میں سلسلہ وار نرمی کا منصوبہ بتاتے ہوئے بورس جانسن نے خدشہ ظاہر کیا کہ وبا کی بدترین صورتحال یہ ہوسکتی ہے کہ شاید ہمارے پاس کورونا کی ویکسین کبھی موجود نہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے دوسرے مرحلے میں خطرناک حد تک پھیلنے کا خدشہ ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے برطانیہ میں کورونا ویکسین پر ہونے والی تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ ویکسین کی بڑے پیمانے پر تیاری اور کورونا کے علاج کے لیے ایک سال سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ویکیسن یادواؤں کے ذریعے باقاعدہ علاج ہی کورونا کا طویل المدتی حل ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف سب کو مل کر لڑنا ہوگا، برطانیہ کو کورونا وبا کے سب سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے اور جس طرح کے چیلنجز کا آج برطانیہ کو سامنا ہے اس طرح کا کبھی نہیں رہا۔
خیال رہے کہ برطانیہ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 26 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ 32 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔دنیا بھر میں کورونا سے 43 لاکھ سے زائد افراد متاثر اور 2 لاکھ 91 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
جہانگیرترین کی وزیراعظم کے ساتھ صلح کی کوشش کا کیا بنا؟ مبشر لقمان نے کیا انکشاف
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین اور وزیراعظم عمران خان میں صلح کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چڑیل نے خبر دی ہے کہ جہانگیر ترین کی عمران خان سے صلح کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئی،اور جہانگیر ترین اب اسکی پرائس پے کریں گے، اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے اور کچھ ہونا نہیں ہے، اس میں انکو وکٹا مائزیشن ہونی ہے، کوئی نہ کوئی انکی پارٹی میں کررہا ہے، اعظم خان اور انکی لابی کو الزام دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے کان بھر کے انکو جہانگیر ترین، عاطف خان، شہرام جو پی ٹی آئی کے پرانے ہیں انکے خلاف کیا، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اندر کی بات کیا ہے، اعظم خان واقعی سٹرانگ ہیں یا نہیں ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مونس الہیٰ کے اوپر جو عمران خان پرسنل ہوئے ہوئے ہیں یہ میں نہیں کہہ رہا، چڑیل کہہ رہی ہے،مونس الہیٰ کے اوپر نیب ایکٹ کرنے لگی ہے، شوگر رپورٹ میں مونس الہی کا نام ہے، وہ نام کی حد تک تو ٹھیک ہے،لیکن حقیقت میں اس فیکٹری کی اونر شپ جس میں انکی فیکٹری کے شیئر ہیں اسکا تعلق نہیں،وہ شیئر ہولڈر ضرور ہیں لیکن وہاں بتانے والا نہیں کہ یہ کرے وہ کرے، یہ مونس الہی کا موقف ہے، حکومت میں بہت سے لوگ اس موقف سے متفق نہیں ہیں، اسی لئے چودھری برادران نے نیب کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے،پاکستان کی سیاست میں کیا ہو رہا ہے آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا
وزیراعظم عمران خان نے جہانگیرترین کوزرعی ٹاسک فورس کی صدارت سے ہٹادیا،جہانگیرترین کوشوگراسکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ کے تناظرمیں ہٹایاگیا، چینی بحران کی رپورٹ آںے کے بعد ایف آئی اے نے بھی ان کے دفتر پر چھاپہ مارا تھا اور ریکارڈ قبضے میں لے لیا تھا.
واضح رہے کہ چینی بحران پر وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر قائم کی گئی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 6 گروپوں نے مل کر ایک مافیا کی شکل اختیار کر رکھی ہے اور یہ چینی کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے،انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 6 گروپوں کے پاس چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 فیصد حصہ ہے اوریہ آپس میں ہاتھ ملا کر مارکیٹ پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ چینی کی پیداوار پر چند لوگوں کا کنٹرول اور ان میں سے بھی زیادہ تر سیاسی بیک گراؤنڈ والے لوگ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ پالیسی اور انتظامی معاملات پر کس طرح اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
جہانگیر ترین کے گروپ کی 6 شوگر ملز چینی کی مجموعی ملکی پیداوار کا 19 اعشاریہ 97 فیصد پیدا کرتی ہیں۔ مخدوم خسرو بختیار کے رشتہ دار مخدوم عمر شہریار کے ” آر وائی کے” گروپ کی 6 شوگر ملز ہیں اور یہ 12 اعشاریہ 24 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔ المعز گروپ کی 5 شوگر ملز 6 اعشاریہ 80 فیصد اور تاندلیانوالہ گروپ کی 3 شوگر ملز 4 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں۔
سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی کے اومنی گروپ کی 10 شوگر ملز ہیں اور وہ 1 اعشاریہ 66 فیصد چینی پیدا کرتے ہیں، شریف فیملی کی 9 شوگر ملز 4 اعشاریہ 54 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں،مذکورہ بالا 6 گروپوں کی 38 شوگر ملز چینی کی مجموعی پیداوار کا 51 اعشاریہ 10 فیصد پیدا کرتی ہیں جبکہ باقی 51 شوگر ملز 49 اعشاریہ 90 فیصد چینی پیدا کرتی ہیں
جیل میں صفائی شروع، اے سی لگ رہے ہیں، کونسی بڑی شخصیت گرم موسم میں جائیگی جیل؟ مبشر لقمان کا اہم انکشاف
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد شہباز شریف وطن واپس آ گئے لیکن انکے آنے کی ٹائمنگ غلط تھی اب ان کے لئے جیل میں کمرہ تیار ہو رہا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے آنے کی ٹائمنگ غلط ہو گئی ہے،شہباز شریف کے عید کے قریب اندر جانے کے لئے تیاری ہو چکی ہے، اس ضمن میں نیب نے جیل کی صفائی شروع کر دی ہے، سنا ہے کہ اے سی لگایا جا رہا ہے، پہلے کولر تھا تو انکو بڑی تکلیف تھی اب اے سی لگ رہا ہے، گرمی بھی آ رہی ہے، آج 37 ٹمپریچر تھا، شہبا زشریف صاحب وہ عنقریب جیل میں جائیں گے، مزید 3 سے چار لوگ جیل میں جائیں گے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چڑیل نے خبر دی ہے کہ جہانگیر ترین کی عمران خان سے صلح کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئی،اور جہانگیر ترین اب اسکی پرائس پے کریں گے، اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے اور کچھ ہونا نہیں ہے، اس میں انکو وکٹا مائزیشن ہونی ہے، کوئی نہ کوئی انکی پارٹی میں کررہا ہے، اعظم خان اور انکی لابی کو الزام دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے کان بھر کے انکو جہانگیر ترین، عاطف خان، شہرام جو پی ٹی آئی کے پرانے ہیں انکے خلاف کیا، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اندر کی بات کیا ہے، اعظم خان واقعی سٹرانگ ہیں یا نہیں ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مونس الہیٰ کے اوپر جو عمران خان پرسنل ہوئے ہوئے ہیں یہ میں نہیں کہہ رہا، چڑیل کہہ رہی ہے،مونس الہیٰ کے اوپر نیب ایکٹ کرنے لگی ہے، شوگر رپورٹ میں مونس الہی کا نام ہے، وہ نام کی حد تک تو ٹھیک ہے،لیکن حقیقت میں اس فیکتری کی اونر شپ جس میں انکی فیکٹری کے شیئر ہیں اسکا تعلق نہیں،وہ شیئر ہولڈر ضرور ہیں لیکن وہاں بتانے والا نہیں کہ یہ کرے وہ کرے، یہ مونس الہی کا موقف ہے، حکومت میں بہت سے لوگ اس موقف سے متفق نہیں ہیں، اسی لئے چودھری برادران نے نیب کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے،پاکستان کی سیاست میں کیا ہو رہا ہے آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا
مولانا کر رہے ہیں حکومت کے خلاف بہت بڑی تیاری،کن وزراء کا چاہتے ہیں استعفیٰ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان حکومت کے خلاف ایک بار پھر تحریک چلانے کی تیاری کر رہے ہیں اور اس تحریک میں وہ کئی وزراء کے استعفے مانگیں گے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن جو تحریک چلانے والی تھی کرونا کی وجہ سے بچت ہو گئی ہے، وہ کرونا کی وجہ سے لوگوں کو اکٹھا نہیں کر سکتے، عید کے بعد بات چلی گئی ہے گرمی بہت ہو گئی ہے اور لوگوں کا اکٹھا ہونا مشکل ہو گیا ہے، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان وہ لوگ قادیانی ایشو کے اوپر بڑی تیاری کر رہے ہیں کہ اس پر ان وزرا کا استعفیٰ ضرور لیں جنکی وجہ سے اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کا نام آیا تھا، وفاقی وزیر مذہبی امور کو ذاتی طور پر لوگ پریشرائز کر رہے ہیں کہ ان چھ وزیروں کے نام بتائیں کہ جو اقلیتی کمیشن میں قادیانیوںکا نام ڈلوانے کی کوشش کرتے رہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک بات تو ہے اور اچھی خبر ہے کہ آنے والا بجٹ ،اسکو بجٹ کہنا مذاق ہے لیکن پاکستان کے پاس ڈالر بہت بڑھ گئے ہیں، تیل کی قیمتوں کی وجہ سے،پاکستان میں ڈالراچھے خاصے ہیں، حکومت نے پچھلے مہینے کنسٹرکشن انڈسٹری کو بہت بڑا ریلیف دیا تھا لیکن اب پتہ چلا کہ ریئل اسٹیٹ کے بغیر کنسٹرکشن انڈسٹری کچھ نہیں کر سکتی، اب کہا جا رہا ہے کہ آنے والے بجٹ میں ریئل اسٹیٹ انڈسٹری کے لئے بہت ساری مراعات آ رہی ہیں ،انکو بھی کافی چھوٹ دی جائے گی اور نہیں پوچھا جائے گا کہ کہاں سے پیسہ لائے کہاں سے ہاؤسنگ سکیم بنائیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج مئی کی 12 تاریخ ہے ، میں اسلئے تاریخ بتا رہا ہوں جب انٹرنیٹ پر چیزیں چلتی ہیں تو اکثر دو سال یا تین سال بعد سوشل میڈیا پر چیزیں آ رہی ہوتی ہے اور لوگوں کو پتہ نہیں چلتا پھر صفائی دی جا رہی ہوتی ہے کہ میں نے تب کہا تھا.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج میری تفصیلی بات ہوئی ہے، سلیم مانڈی والا سے جو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ہیں ، شہباز شریف کا کڑا وقت شروع ہو چکا ہے، چڑیل بڑی خبریں لے کر آئی ہے شہباز شریف اور جہانگیر ترین کے حوالہ سے، ساتھ ہی لگتا ہے کہ مونس الہیٰ پر بھی مشکل وقت آنے والا ہے لیکن خسرو بختیار بچ گئے ہیں. آئی پی پیز کے اوپر کیا ہو رہا ہے،کہتے ہیں کہ آئی پی پیز پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ، ڈاکہ اور چوری ہے اس پر ہو گا کیا، سب سامنے آ چکا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آج میری سلیم مانڈوی والا سے دوپہر کو بات ہوئی ہے،اور وہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ہیں، پی پی کے سینئر رہنما ہیں، ان کو جو لوگ جاتے ہیں وہ انکی شرافت کی قسم بھی کھاتے ہیں،انتہائی شریف اور پڑھے لکھے خاندان سے انکا تعلق ہے، سلیم مانڈوی والا کی آج صبح ہی آصف علی زرداری سے بات ہوئی جو سابق صدر پاکستان کے اور پیپلز پارٹی کے ہیں، انہوں نے بتایا کہ زرداری صاحب بڑا ہنس رہے تھے کہ انکے متعلق جو فیک پروپیگنڈہ ہو رہا ہے سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا ہے انکی صحت، بیماری کے حوالہ سے، میں نے پوچھا آپ بتائیں کہ آپ کوکسی نے بتایا ہے یا آپ کی خود زرداری صاحب سے بات ہوئی ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں میری اپنی زرداری صاحب سے بات ہوئی ہے، میں نے کہا کہ کوئی انکی سٹیمنٹ دے دیں یا کوئی ویڈیو دے دیں تا کہ لوگوں کو تسلی ہو جائے ، تو انکا کہنا تھا کہ زرداری صاحب کے بارے میں لوگ باتیں کرتے رہے ہیں ماضی میں بھی کیں اور اب بھی کر رہے ہین اور اگر زرداری صاحب انکا جواب دینے لگ جائیں تو ہر ایک کو جواب ہی دیتے رہیں اس سے جو وہ کام کر رہے ہیں اسی میں وقت لگے گا، کام میں وقت نہیں لگا سکیں گے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری نے ہمیشہ میڈیا کو انٹرسٹ کیا ہے، میڈیا ہمیشہ ان سے انٹرسٹڈ رہا ہے، کچھ لوگ ہوتے ہیں جو میڈیا کے لئے بڑے چارمنگ اور فرینڈلی ہوتے ہیں، آصف علی زرداری جب بھی میڈیا پر آتے ہیں تو انکی کی گئی بات اور انٹرویو کئی سال تک کوٹ ہوتا ہے اور ایک ایک جملے پر لمبی چوڑی بحث چلتی ہے،وہ ایک عزت والے سیاستدان ہیں، جو ان کو جانتا ہے یا ان سے واقف ہے وہ انکو ماننے کو تیار ہے کہ وہ دوستوں کے دوست ہیں اورا نتہائی زیرک سیاستدان ہیں،ٹائمنگ سیاست میں آصف زرداری سے زیادہ کسی کی اچھی نہیں ہے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ٹائمنگ سے یاد آیا کہ شہباز شریف کے آنے کی ٹائمنگ غلط ہو گئی ہے،شہباز شریف کے عید کے قریب اندر جانے کے لئے تیاری ہو چکی ہے، اس ضمن میں نیب نے جیل کی صفائی شروع کر دی ہے، سنا ہے کہ اے سی لگایا جا رہا ہے، پہلے کولر تھا تو انکو بڑی تکلیف تھی اب اے سی لگ رہا ہے، گرمی بھی آ رہی ہے، آج 37 ٹمپریچر تھا، شہبا زشریف صاحب وہ عنقریب جیل میں جائیں گے، مزید 3 سے چار لوگ جیل میں جائیں گے، چڑیل نے خبر دی ہے کہ جہانگیر ترین کی عمران خان سے صلح کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئی،اور جہانگیر ترین اب اسکی پرائس پے کریں گے، اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے اور کچھ ہونا نہیں ہے، اس میں انکو وکٹا مائزیشن ہونی ہے، کوئی نہ کوئی انکی پارٹی میں کررہا ہے، اعظم خان اور انکی لابی کو الزام دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے کان بھر کے انکو جہانگیر ترین، عاطف خان، شہرام جو پی ٹی آئی کے پرانے ہیں انکے خلاف کیا، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اندر کی بات کیا ہے، اعظم خان واقعی سٹرانگ ہیں یا نہیں ہیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مونس الہیٰ کے اوپر جو عمران خان پرسنل ہوئے ہوئے ہیں یہ میں نہیں کہہ رہا، چڑیل کہہ رہی ہے،مونس الہیٰ کے اوپر نیب ایکٹ کرنے لگی ہے، شوگر رپورٹ میں مونس الہی کا نام ہے، وہ نام کی حد تک تو ٹھیک ہے،لیکن حقیقت میں اس فیکتری کی اونر شپ جس میں انکی فیکٹری کے شیئر ہیں اسکا تعلق نہیں،وہ شیئر ہولڈر ضرور ہیں لیکن وہاں بتانے والا نہیں کہ یہ کرے وہ کرے، یہ مونس الہی کا موقف ہے، حکومت میں بہت سے لوگ اس موقف سے متفق نہیں ہیں، اسی لئے چودھری برادران نے نیب کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے،پاکستان کی سیاست میں کیا ہو رہا ہے آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے وفاقی وزراء کو ریڈ نوٹس جاری کئے گئے ہیں کہ اپنی کارکردگی بتائیں ،میں نے کہا تھا کہ 15 مئی کے بعد وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں ہوں گی ، کافی جھٹکے لگ سکتے ہیں، جس نے اپنی پوزیشن محفوظ کر لی ہے وہ خسرو بختیار ہیں،انکا نام شوگر بحران رپورٹ میں بھی ہے پھر بھی وہ بچ جائیں گے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آئی پی پیز پر شور ہو گا ،پہلے کی کرپشن پر آنکھیں بند ہو جائیں گی اور آگے کے لئے اچھا بچہ بننے کو کہا جائے گا، آئی پی پیز میں بہت لوگ شامل ہین سب کو اندر نہیں ڈال سکتے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن جو تحریک چلانے والی تھی کرونا کی وجہ سے بچت ہو گئی ہے، وہ کرونا کی وجہ سے لوگوں کو اکٹھا نہیں کر سکتے، عید کے بعد بات چلی گئی ہے گرمی بہت ہو گئی ہے اور لوگوں کا اکٹھا ہونا مشکل ہو گیا ہے، جے یو آئی وہ لوگ قادیانی ایشو کے اوپر بڑی تیاری کر رہے ہیں کہ اس پر ان وزرا کا استعفیٰ ضرور لیں جنکی وجہ سے اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کا نام آیا تھا، وفاقی وزیر مذہبی امور کو ذاتی طور پر لوگ پریشرائز کر رہے ہیں کہ ان چھ وزیروں کے نام بتائیں کہ جو اقلیتی کمیشن میں قادیانیوںکا نام ڈلوانے کی کوشش کرتے رہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک بات تو ہے اور اچھی خبر ہے کہ آنے والا بجٹ ،اسکو بجٹ کہنا مذاق ہے لیکن پاکستان کے پاس ڈالر بہت بڑھ گئے ہیں، تیل کی قیمتوں کی وجہ سے،پاکستان میں ڈالراچھے خاصے ہیں، حکومت نے پچھلے مہینے کنسٹرکشن انڈسٹری کو بہت بڑا ریلیف دیا تھا لیکن اب پتہ چلا کہ ریئل اسٹیٹ کے بغیر کنسٹرکشن انڈسٹری کچھ نہیں کر سکتی، اب کہا جا رہا ہے کہ آنے والے بجٹ میں ریئل اسٹیٹ انڈسٹری کے لئے بہت ساری مراعات آ رہی ہیں ،انکو بھی کافی چھوٹ دی جائے گی اور نہیں پوچھا جائے گا کہ کہاں سے پیسہ لائے کہاں سے ہاؤسنگ سکیم بنائیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھاشا ڈیم کی اب منظوری ہوئی ہے اسے کنسٹرکشن انڈسٹری میں 16 ہزار کے قریب لوگوں کو نوکریں ملیں گی، کئی انڈسٹریاں ایک دم حرکت میں آئیں گی اور چلنا شروع ہو جائیں گی، کرونا وائرس کے باوجود اچھی خبریں آ رہی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فی الحال جو بڑی خبر ہے وہ یہ کہ آصف زرداری صحتیاب ہیں، انکے بارے میں سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ غلط ہے
راولپنڈی:چینی سفیر کی جی ایچ کیو آمد، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان میں تعینات چینی سفیر یاؤجنگ نے ملاقات کی ہے جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سیکیورٹی اور کورونا وبا کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چین کی جانب سے فوری میڈیکل سپلائی کی فراہمی پر سفیر یاؤجنگ سے اظہار تشکر کیا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چینی میڈیکل ماہرین کی پاکستان آمد اور تعاون کو بھی سراہا۔ اس موقع پر چینی سفیر یاؤجنگ نے ہر فورم پر پاکستان کی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔اس ملاقات میں پاکستان اوربھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے متعلق بھی اہم بات چیت ہوئی ہے
تحفظ ختم نبوت پر ہمارا سب کچھ قربان،پنجاب اسمبلی میں قرارداد متفقہ طور پر منظور
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قرارداد تحفظ ختم نبوت و ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لی۔
سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا ایمان کا کا حصہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ہماری جان بھی قربان ہے۔جب تک قادیانی اپنے آپ کو کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے تب تک ان کو اقلیت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
قرارداد پاکستان مسلم لیگ ق کے حافظ عمار یاسر صوبائی وزیر معدنیات نے ایوان میں ہیش کی.
قرارداد میں کہا گیا کہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"اے مسلمانوں ! حضرت محمد رسولﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول ہیں، اور نبیوں کی مہر ہیں اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے۔ (یعنی مہر لگ گئی اور یہ راستہ ہمیشہ کیلئے بند ہو گیا ، یہاں سے اب کسی اور نبوت کے اجراء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا) ۔ (سورۃ الاحزاب آیت 40)۔
جامع ترمذی اور سنن ابوداؤد میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ "میری امت میں سے تیس افراد ایسے اٹھیں گے جو کذاب (انتہائی جھوٹے) ہوں گے۔ ان میں سے ہر شخص اپنے بارے میں یہ گمان کرتا ہو گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا”۔
حضرت محمد رسولﷺ کی عظمت اور فضیلت کا پہلو اس اعتبار سے ہے کہ نبوت آپ پر کامل ہو گئی ہے، رسالت کی آپ پر تکمیل ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم قرآن و حدیث شریف میں حضورﷺ کےضمن میں خاص طور پرتکمیل اکمل جیسے الفاظ بکثرت استعمال ہوئے ہیں۔
جیسا کہ قرآن شریف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "آج کے دن ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا ہے۔ اور آپ پر اپنی نعمتوں کا اتمام فرما دیا ہے”۔
یہ ایوان وفاقی کابینہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جنہوں نے قادیانیوں کو اس بنا پر اقلیتی کمیشن میں شامل نہیں کیا ۔ قادیانی نہ آئین پاکستان کو مانتے ہیں نہ اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں۔ یہ ایوان اعادہ کرتا ہے کہ آئے روز ناموس رسالت ﷺپر کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ کبھی حج فارم میں تبدیلی کر دی جاتی ہے، کبھی کتب میں سے خاتم النبیین ﷺ کا لفظ نکال دیا جاتا ہے لیکن آج تک ان سازشیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی،پاکستان ایک اسلامی ملک ہے لیکن ہمیں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی بھیک مانگنی پڑتی ہے۔ یہ ہم سب کیلئے شرم کا مقام ہے۔ یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے،
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ جو لوگ ان سازشوں میں ملوث ہیں ان کو بے نقاب کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اقلیتی کمیشن میں ہندو، سکھ اور مسیحی بیٹھے ہیں ہم نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے۔ ہم اقلیتوں کو آئین میں دیئے گئے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے ہیں۔ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اگر قادیانیوں کا سربراہ یہ لکھ کر بھیج دے کہ وہ آئین پاکستان کو مانتے ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں تو ہمیں ان کے اقلیتی کمیشن میں بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا کہ ختم نبوت کا معاملہ ہمارے لئے ریڈ لائن ہے، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالتﷺ، تحفظ ناموس اصحابِ رسول، تحفظ ناموس اہل بیت اطہار اور تحفظ ناموس امہات المومینین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی چیز نہیں، اس پر ہمارا سب کچھ قربان ہے۔اس پر کسی کو ابہام نہیں ہونا چائیے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی درخواست پر وفاقی حکومت کی بڑی استدعا کی سپریم کورٹ نے مسترد
سپریم کورٹ میں سفری پابندیوں کیخلاف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی درخواست پر سماعت ہوئی
سپریم کورٹ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو عدالت آنے کی اجازت دیدی،عدالت نے وفاقی حکومت کی ان کیمرا سماعت کی استدعا مسترد کردی
دوران سماعت جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ہم نے ڈاکٹر صاحب سے ایٹم بم کا فارمولہ نہیں پوچھنا، ایسی کوئی وجہ نہیں کہ سماعت ان کیمرا کی جائے،
جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کی رضا مندی سے 2009 میں فیصلہ دیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو 10 سال تک کہیں چیلنج نہیں کیا گیا،ڈاکٹر قدیر خان نے 10سال بعد لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ،مطمئن کریں ڈاکٹر قدیر اسلام آباد ہائیکورٹ میں دوبارہ کیوں نہیں گئے،
وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلنے والے کیس کے حقائق کو درخواست میں تفصیل سے لکھا ہے،جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ وکلا کی ذمہ داری ہے کہ قوم کے ہیرو کا تمسخر نہ بنائیں، جسٹس یحییٰ خان نے کہا کہ عدالت سے غیر مناسب حکم کےلیے اصرار نہ کریں، درخواست پر اپنے موکل سے مشاورت کر کے موقف بتا دیں،
واضح رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک بھر میں آزادانہ نقل و حرکت سمیت ان کے بنیادی حقوق پر عمل درآمد کے لیے 23 دسمبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرلیا تھا۔ ایڈووکیٹ زبیر افضل رانا کے توسط سے عدالت عظمی میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ آزادانہ نقل و حرکت سمیت بنیادی حقوق، معقول پابندیوں کی آڑ میں کسی کی پسند یا ناپسند پر کم یا سلب نہیں کیے جاسکتے۔
ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے لاہور ہائی کورٹ کے 25 ستمبر 2019 کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمی میں اپیل دائر کی تھی جس میں ان کی اسی طرح کی ایک درخواست کو اس بنیاد پر مسترد کردیا گیا تھا کہ ان کے تحفظ کے لیے ریاست کی جانب سے خصوصی سیکیورٹی اقدامات کا معاملہ ان کے دائرہ کار میں نہیں۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اپیل میں کہا کہ میری 84 سال عمر ہے اور اکثر بیمار رہتا ہوں، میرے ساتھ جو سلوک کیا جارہاہے وہ کے آر ایل کے کسی سائنسدان کے ساتھ نہیں کیا گیا، قانون کے مطابق ہر شہری کو آزادانہ نقل وحرکت ،اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے۔
ایٹمی سائنس دان نے کہا ہے کہ مجھے کینسر کے مرض کی تشخیص ہو چکی ہے ایسی حالت میں پابندیاں جان لیوا ہو سکتی ہیں، حکومتی ادارے گمراہ کن پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ میری جان کو خطرہ ہے ، ایک عمر رسیدہ شخص کو اسکول کالج اور یونیورسٹیوں میں کیا خطرہ پیش آسکتا ہے، میری سکیورٹی کا یہ مطلب ہرگز نہیں نقل وحرکت پر پابندی عائد کر دی جائے۔
قبل ازیں رواںبرس ماہ جولائی میں پاکستان کے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا حکومت کے نام خط لکھا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے چند غیرقانونی اور بلاجواز رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ حسب معمول حکومت کی طرف سے جھوٹ کا پلندہ پیش کیا جا رہا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مجھے کیا خطرہ پیش آ سکتا ہے؟ جب میں نیوکلیئر پروگرام اور ایٹم بم بنانے میں مصروف تھا اس وقت دنیا کے اخبارات میں میری تصاویر شائع ہو رہی تھیں، میرے فوٹو شائع کیے جا رہے تھے، فلمیں بنائی جا رہی تھیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ میں اس وقت انگلینڈ، فرانس، جرمنی، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، مصر، سوڈان، نائجیریا، مالی (ٹمبکٹو)، تھائی لینڈ، جاپان، روس، ازبکستان، قازقستان، مراکو، کینیا، شام وغیرہ کے سفر کر رہا تھا۔ اس وقت ان کو میری جان کی فکر نہ تھی اور نہ ہی کسی نے مجھے مارا۔ نہ ہندوستانیوں نے، نہ امریکنوں نے اور نہ ہی اسرائیلیوں نے، اس وقت میرے ساتھ میرے رفقائے کار ہوتے تھے نہ گارڈ، نہ بندوقیں، نہ فوجی، نہ رینجرز۔ ایٹمی دھماکوں کے 6 برس بعد تک میں دنیا میں سفر کرتا رہا، اس وقت سب کو علم تھا کہ میں کون ہوں.
ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہا کہ اب جبکہ میں 83 سال سے زیادہ عمررسیدہ ہو چکا ہوں، چلنا پھرنا مشکل ہے، ملک میں ہی ہوں اور باہر جانے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں ہے تو اس دروغ گوئی سے مجھے پریشان کیا جا رہا ہے۔ درحقیقت ان کو اپنی بدمعاشیوں کے راز فاش ہونے کا خطرہ ہے مگر میں محب وطن پاکستانی ہوں، میں نے اور میری بیوی بچوں نے ملک کی خاطر خاندانی زندگی قربان کر دی ہے۔ میں جان دے دوں گا ملک سے کبھی غداری نہ کروں گا۔ میں ایک عام انسان کی طرح اپنی بقیہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔
پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری، 24 گھنٹے میں 1 ہزار سے زیادہ مریض، اموات میں بھی اضافہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، کرونا کے مریضوں اور اموات میں اضافہ ہوا ہے ،پاکستان میں مریضوں کی تعداد 32 ہزار 81 جبکہ اموات کی تعداد 706 ہو گئی ہے
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1140 نئے مریض سامنے ہیں،، پنجاب میں 11 ہزار 869، سندھ میں 12 ہزار 17، خیبر پختونخوا میں 4 ہزار 875، بلوچستان میں 2 ہزار 61، گلگت بلتستان میں 457، اسلام آباد میں 716 جبکہ آزاد کشمیر میں 86 مریض ہیں.
ملک بھر میں اب تک 3 لاکھ 5 ہزار 851 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 10 ہزار 957 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 8 ہزار 555 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں .
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 39 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 706 ہوگئی۔ سندھ میں 200، پنجاب میں 211، خیبر پختونخوا میں 257، گلگت بلتستان میں 4، بلوچستان میں 27 اور اسلام آباد میں 6 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں.