پاکستان میں 24 گھنٹے میں کرونا کے 342 نئے مریض، مجموعی تعداد کتنی ہو گئی؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میںکرونا کے مریضوں میں مزید اضافہ ہوا ہے
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 5716 ہو گئی ہے،پاکستان میں 24گھنٹے میں 342نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں،24گھنٹے میں 3مریض جاں بحق،کل تعداد96ہوگئی،کورونا وائرس سے 1378 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں
پنجاب میں کورونا وائرس کےسب سے زیادہ2826کیسز رپورٹ ہوئے،سندھ 1452،خیبرپختونخوا800اوربلوچستان میں 231 کیسز رپورٹ ہوئے،گلگت بلتستان233،اسلام آباد131اور آزاد کشمیر میں43کیسز رپورٹ ہوئے
سندھ میں 31،پنجاب میں 24،گلگت بلتستان میں 3 مریض جاں بحق ہوئے،بلوچستان میں 2 اور اسلام آباد میں ایک مریض جان کی باز ی ہار گیا،خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ 35 اموات ہوئیں،پاکستان میں لوکل ٹرانسمیشن کے کیسز53فیصد ہے،
قبل ازیں اسلام آباد میں وزارت سمندر پار پاکستانیز میں کورونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آنے پر سیکرٹریٹ کے کوہسار بلاک کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ وزارت سمندر پار پاکستانیز کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں تمام ملازمین کو فوری طور پر کوہسار بلاک خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق سیکرٹریٹ کا کوہسار بلاک 14 اپریل سے 16 اپریل تک بند رہے گا۔ وزارت سمندر پار پاکستانیز کے ملازمین کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد مشکل میں ہیں اور انہوں نے اس وقت سعودی عرب میں اپنے بچاؤ کے لئے آرمی کو طلب کر لیا ہے
کرونا وائرس بھی اگرچہ سعودی عرب میں پھیلا ہوا ہے لیکن وہان ہلاکتوں اور مریضوں کی تعداد کم ہے، سعودی عرب میں ابھی تک کرونا وائرس سے 60 کے قریب ہلاکتیں ہوئی ہیں جو زیادہ نہیں، سعودی عرب کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سعودی آرمی کو شہروں میں تعینات کر دیا گیا ہے، کسی کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں.
آرمی کی گاڑیوں نے حرم کے آس پاس کے علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے،حرم کے ساتھ والے علاقے سعودی آرمی نے بالکل بند کر دیئے ہیں مکمل طور پر سعودی فوج کا کنٹرول ہے.
واضح رہے کہ سعودی عرب میں بغاوت کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان چند روز قبل انکشاف کر چکے ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دنیائے اسلام کے مرکزومحورسعودی عرب میں قائم شاہی نظام حکمرانی میں دراڑوں کی خبریں پھر سے عرب بہار کا پیغام دے رہی ہیں سعودی عرب میں تمام گورنرہاوس اور شاہی محل کی سکیورٹی آرمی کےحوالےکر دی گئی،13 شہزادوں کو فوری گرفتار کر لیا گیا داخلہ سمیت اہم 3 شہزادوں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا،ریاض اورجدہ سمیت تمام شاہی محل فوج کے مکمل کنٹرول میں دے دیئےگئے
سعودی عرب میں بغاوت کی شروعات شہزادہ محمد بن سلمان کو قتل کرنے کی کوشش سے شروع ہونی تھی اور پھر خانۂ کعبہ میں ایک نئی حکومت کا اعلان کیا جانا تھا۔بغاوت کے شروع ہوتے ہی بحرین کے نیوز چینل پر شہزادہ محمد بن سلمان کے انتقال کے ٹکرز چلنے شروع ہوگئے تھے لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ ٹکرز ہٹا دیے گئے۔شہزادہ محمد بن سلمان کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں کہ وہ بھی زخمی ہے۔
سعودیہ میں بغاوت کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید کے بارے میں بھی اطلاعات آئیں کہ انھیں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے ابو ظہبی کے امریکن اسپتال میں داخل کیا گیا ہے لیکن بعد میں ذرائع کے مطابق محمد بن زید کے کیس میں کرونا کے بجائے زہر خورانی کی تشخیص ہوئی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مبینہ طور پر بغاوت کو کچلنے کے لیے ایک اعلی سطح کا کریک ڈاؤن ہوا تھا جہاں سعودی پولیس نے غداری کے الزام میں دو روز قبل شاہی شہزادوں کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا ۔عرب میڈیا کا دعوی ہے کہ سعودی حکومت نے مزید 20 شہزادوں کو گرفتار کیاہے انہوں نے کہا کہ اس سارے کریک ڈاؤن کے پیچھے محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے یہ بات تو کنفرم ہے اور اتنا بڑا کریک ڈاؤن انہی کے حکم سے ہو رہا ہے .
مشر لقمان نے کہا کہ نومبر کے اندر جی 8 کا اجلاس سعودی عرب کے اندر ہونے جارہا ہے . محمد بن سلمان کا خیال ہے کہ وہ اس کی نمائندگی کریں کیونکہ ان کے والد کافی علیل ہیں. ان کا خیال ہے کہ شاہ سلمان ان کو اس اجلاس سے پہلے سعودی عرب کا بادشاہ مقرر کردیں.محمد بن سلمان کو یہ بھی خوف لاحق ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے بعد ان کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے اور شائد کامیابی حاصل نہ کر سکیں.اور ڈیموکریٹک کی فتح کی صورت ان کی حمایت میں کمی آسکتی ہے
دوسری طرف سعودی وزارت صحت کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ مملکت میں اب اس مہلک وائرس سے وفات پانے والوں کی تعداد 65 ہوگئی ہے۔آج کرونا وائرس سے جان کی بازی ہارنے والوں میں دو سعودی شہری ہیں۔ ان میں ایک کی عمر51 سال اور دوسرے کی 95 سال تھی۔باقی چار متوفیٰ غیرسعودی ہیں۔ان کی عمریں 42 سے 67 سال کے درمیان تھیں۔
سعودی وزارت صحت نے سوموار کو ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ دارالحکومت الریاض میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ 118کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔اس کے بعد مدینہ منورہ میں 113، مکہ مکرمہ میں 95 اور جدہ میں 80 کیسوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
تبوک میں اس مہلک وائرس کے 22،عرعر،خلیص اور طائف میں آٹھ، آٹھ کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ الہفوف میں سات ،خمیس مشیط میں پانچ اور سبت العلایہ،الخرج، نجران اور ظہران میں ایک ایک کیس کا اندراج کیا گیا ہے۔
شمالی وزیرستان میں پاک فوج کا ایک اور جوان پاک مٹی پر ہوا قربان، دو دہشت گرد ہلاک
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان کےعلاقے دتہ خیل میں دہشتگردوں کی موجودگی پرسیکیورٹی فورسزنے آپریشن کیا ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسزنےعلاقے کوگھیرے میں لے کرآپریشن کیا،دہشت گردوں کی فائرنگ سے تبادلے میں نائک عادل شہزاد نے جام شہادت نوش کیا۔شہید ہونے والافوجی جوان مانسہرہ کارہائشی تھا،32 سال کاشہید عادل شہزاد مانسہرہ کے گاؤں کریڑ کا رہائشی تھا،
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشتگرد بھی مارے گئے،
واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے،10 اپریل کو بھی شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر آپریشن کے دوران پاک فوج کے 2 جوان شہید ہو گئے تھے جبکہ پاک فوج کی فائرنگ سے 7 دہشت گرد ہلاک ہو گئے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف آپریشن خفیہ اطلاع پر کیا گیا.دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران پاک فوج کے دو جوانوں سپاہی مومن شاہ اور محمد ساجد نے جام شہادت نوش کیا تھا،شہید سپاہی مومن شاہ کا تعلق ڈی آئی خان اور شہید ساجد کا ایبٹ آباد سے ہے
قبل ازیں 8 اپریل کو بھی شمالی وزیرستان اور مہمند میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 7 دہشت گرد مارے گئے تھے ۔ذرائع کےمطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان اور مہمند میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس کے نتیجے میں 7 دہشت گرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی شمالی وزیرستان کے عدل خیل گاؤں میں کی گئی، دہشت گرد علاقے سے فرار ہوتے ہوئے مارے گئے، دہشت گردوں سے اسلحہ، مواصلاتی آلات برآمد کرلیے گئے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مہمند میں آپریشن کے دوران 3 دہشت گرد مارے گئے، دہشت گردوں سے بھارتی ادویات، لٹریچر اور دیگر سامان برآمد ہوا ہے۔
واضح رہے کہ 9 مارچ کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے خفیہ اطلاعات پر ٹانک کے قریب کارروائی میں 2 انتہائی مطلوب دہشت گرد مارے گئے تھے جبکہ کرنل مجیب الرحمان شہید ہوگئے تھے۔
رواں سال جنوری میں سیکیورٹی فورسز کی شمالی وزیرستان میں کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 2جوان شہید ہوگئے تھے، شہید ہونے والوں میں سپاہی محمد شمیم اور سپاہی اسد خان شامل تھے
امریکہ. سپر پاور نہیں رہے گا.؟ مبشر لقمان کی زبانی سنیں اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ امریکہ شاید زیادہ دیر تک سپر پاور نہ رہے بہت لوگوں کا یہ خیال ہے جو میں کہہ رہا ہوں، امریکہ کے تھنک ٹینک بھی کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کرونا وائرس کے آگے بے بس ہو چکا ہے، پہلے مذاق اڑاتا رہا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرونا کو چینی وائرس کہتا رہا پھر یورپ کا مذاق اڑاتا رہا لیکن اب اسکو جب امریکہ میں ہلاکتیں زیادہ ہوئیں تو وہ پریشان ہو گئے، اسوقت امریکہ میں ہلاکتون نے تباہی مچا دی، امریکہ نے ہلاکتوں مین اٹلی کو پیچھے چھوڑ دیا، ایک دن میں 1700 ہلاکتیں ہوئیں، مرنے والوں کی مجموعی تعداد 30 ہزار سے زائد ہو گئی ہے.
جمعہ کے روز امریکہ میں 2018 ہلاکتیں ہوئیں جو کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں، وبا کے متاثرین کی تعداد 5 لاکھ سے زائد ہیں،اب امریکہ میں حالات کنٹرول میں نہیں ہے،بڑی تعداد میں اموات کی وجہ سے اجتماعی قبروں میں تدفین کی جا رہی ہے یعنی ایک قبر میں کئی لاشیں دفن کی جا رہی ہیں، بیس بیس لاشیں ایک قبر میں دفن کر رہے ہیں،سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے اعلان کیا کہ وبا نے امریکہ میں ایمرجنسی نافذ کر دی، امریکی حکومت دیگر ممالک کی نسبت بہت دیر سے اس حوالہ سے کام کر رہی ہے،جیسے پاکستان کر رہا ہے نہ سماجی فاصلہ ہے اور جو ہے وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے، امریکہ میں طبی مراکز میں اشیا کی قلت ہو گئی ہے، جب وہ اقدامات کرنا چاہ رہے ہیں تو بیماری پھیل چکی ہے، امریکہ کی 50 ریاستوں میں وبا پھیل چکی ہیں، امریکہ میں ہلاکتیں سب سے زیادہ ہیں، ان حالات کے پیش نظر اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی تک دو کروڑ مزید امریکی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، پچھلے ہفتے تک ایک کروڑ امریکی نوکریوں سے فارغ ہو چکے ہیں، ساٹھ لاکھ افراد نے جو بے روزگار ہوئے انہوں نے خود کو رجسٹر کروایا، چند ہفتے میں امریکہ کی تاریخ میں بدترین معاشی بحران ہو گا، تین کروڑ پچاس لاکھ لوگ بے روزگار ہوں گے اور امریکہ میں شرح بے روزگاری 15 فیصد تک ہو گی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ میں میڈیکل سامان ،دوائیوں کی قلت ہو چکی ہے، بہت ساری ویڈیوز آ رہی ہیں کہ ان کے ہسپتال خالی پڑے ہیں،وہاں کوئی مریض نہیں، رش نہیں، سب خالی ہے، میڈیا کیا چلا رہا ہے، میڈیا قبریں تو نہیں بنا سکتا ہیں تو وہ دکھا رہا ہے، امریکی ہسپتالوں میں داخل نہیں ہونے دے رہے، ہر مریض کو داخل نہیں کرتے صرف جو سیریس ہو اس کو ہسپتال میں داخل کرتے ہیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ وبا ختم ہو گی تو امریکہ شاید اکیلی سپر پاور نہ رہے امریکہ کی وہ صورتحال نہیں رہی، اس کو مار پڑ چکی، وہ اپنے ہی مسائل میں الجھتا چلا جائے گا، دوسری جانب نیو یارک میں وبا کے کیسز بڑی تعداد میں سامنے آئے ہیں، ہر پندرہ سیکنڈ میں ایمرجنسی کال آتی ہے، کونسا ایسا انفراسٹرکچر ہو سکتا ہے جو ان کو سنبھالے، اتنی زیادہ کالز آ رہی ہیں کہ حکام نے کالز سننا بند کر دی ہیں واٹس ائپ اور ٹیکسٹ میسج کئے جا رہے ہیں، جس میں کہا جا رہا ہے کہ اگر آپ کا مریض مرنے والا ہو تو تب اسکو ہسپتال لے کر آئیں اس سے پہلے مریض کو ہسپتال نہ لایا جائے. ہسپتال مریضوں کو نہیں لے رہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب لوگ امریکہ میں مر رہے ہیں تو لوگ انہیں دفنانے کے لئے آگے نہیں بڑھ رہے، دوسری جانب لوگ بھوک سے مر رہے ہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہر آنے والا دن امریکیوں کے لئے خوفناک ثابت ہو گا، جب نوکریاں نہ ہوں، بے روزگاری ہو، اور آگے سمجھ نہ آ رہی ہو کہ کیا کرنا ہے،اسے ہیجان کی کیفیت آئے گی، اتنے لوگ پاکستان ، انڈیا، بنگلہ دیش اٹلی و دیگر ممالک سے لوگ امریکہ بھاگ کر جاتے تھے کہ شاید وہاں بہتر زندگی ہے بہتر سیکورٹی ہے لیکن اسوقت لگ نہیں رہا کہ دنیا میں کوئی ایسی جگہ ہو جو کرونا سے محفوظ ہو،فضائی آپریشن پر پابندی کی وجہ سے کوئی سفر بھی نہیں کر سکتا،امریکہ میں وبا سے ہلاک ہونے والوں میں پاکستانی بھی شامل ہیں، سو سے زائد پاکستانی نیو یارک میں کرونا وائرس کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، امریکی ڈاکٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ بہت جلد امریکہ مین کیسز کم ہو جائیں گے ،لاک ڈاؤن کی وجہ سے کیس کم ہوں گے، سماجی فاصلے کو کم نہ کیا جائے اگر وبا کم ہو جاتی ہے اور نارمل زندگی شروع ہو جاتی ہے تو پھر بھی سماجی فاصلے کو قائم رکھیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی زندگی کا بڑا اعلان کر دیا،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ملک کو دوبارہ کھولنے کے حوالہ سے نئی ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لائیں گے جس میں بہترین ڈاکٹرز، اقتصادی ماہرین ہوں گے اور ملک کو کھولنے کے لئے ایک تاریخ دیں گے. ہمیں امید ہے کہ کسی حتمی تاریخ کا فیصلہ کر لیں گے لیکن کب تک فیصلہ کریں گے یہ پتہ نہیں کیونکہ ہمیں جب تک یہ پتہ نہ چلے کہ ہم کب تک صحتیاب ہوں گے اسوقت ہم اعلان نہیں کریں گے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ سارا کچھ ہمیں پھر شروع سے کرنا پڑ جائے،دوسری طرف ڈبلیو ایچ او کہہ رہی ہے کہ اگر دنیا کو بچانا ہے تو لاک ڈاؤن کو ختم کرنے میں محتاط رہے ورنہ بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی، آنے والے دن امریکہ کے لئے اہم ہیں.
وزیراعظم اور آرمی چیف کی ملاقات، ڈی جی آئی ایس آئی بھی تھے شریک
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی شریک تھے،ملاقات میں کورونا وائرس سے متعلق اقدامات، قومی سلامتی اور ایل اوسی کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا
وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن کے دوران پاک فوج، سکیورٹی اداروں، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی کارکردگی کی تعریف کی، اور کرونا کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے جذبے کو سراہا.
وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی ملاقات میں کورونا سے نمٹنے کیلئے امداد اور ریلیف کی تقسیم پر بھی بات چیت کی گئی ۔
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کرونا وائرس ،لاک ڈاؤن کے حوالہ سے قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا،وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں صوبائی وزرائے اعلی، وفاقی وزراء، چیئرمین این ڈی ایم اے، عسکری اور سول اداروں کے اعلی حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں کورونا کے باعث ملکی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی
اجلاس میں ملک میں کرونا وائرس کے پھیلائو کی روک تھام کیلئے کئے گئے اقدامات کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور اس چیلنج سے پیدا ہونے والے اثرات میں کمی لانے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوا۔کمانڈاینڈآپریشن سینٹرنےملک کی مجموعی صورتحال کی روشنی میں اپنی سفارشات کمیٹی میں پیش کیں
اجلاس میں وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ کی لاک ڈاون میں توسیع کرنے کی درخواست منظور کی ہے، لاک ڈاؤں میں توسیع کا اعلان کل ہو گا، قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس کل دوبارہ ہو گا جس میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر کے اعلان کیا جائے گا
وزیرا عظم نے کرونا سے لڑنے کے لیے سمندر پار پاکستانیوں سے مدد کی اپیل کردی
باغی ٹی وی :وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے بیرون ملک پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کرونا کے لیے فنڈ جمع کرائیں. انہوں نے کہا "سمندر پارپاکستانی ہمیشہ سےپاکستان کیلئےقوت کاذریعہ ہیں۔اپنےان ہم وطنوں سے میری اپیل ہےکہ وقت کی پکارپرلبیک کہتے ہوئےکروناسےپھوٹنےوالےسنگین حالات میں پاکستان کی مددکیلئے”وزیراعظم کروناریلیف فنڈ”میں درج ذیل طریقےسےدل کھول کرحصہ ڈالیں
سمندر پارپاکستانی ہمیشہ سےپاکستان کیلئےقوت کاذریعہ ہیں۔اپنےان ہم وطنوں سے میری اپیل ہےکہ وقت کی پکارپرلبیک کہتے ہوئےکروناسےپھوٹنےوالےسنگین حالات میں پاکستان کی مددکیلئے"وزیراعظم کروناریلیف فنڈ"میں درج ذیل طریقےسےدل کھول کرحصہ ڈالیں https://t.co/qeOB6qWC93#Pakistanis4Pakistanis
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ختم ہو ا جس میں کورونا کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں صوبائی وزرائے اعلی، وفاقی وزراء، چیئرمین این ڈی ایم اے، عسکری اور سول اداروں کے اعلی حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں کورونا کے باعث ملکی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی
اجلاس میں ملک میں کرونا وائرس کے پھیلائو کی روک تھام کیلئے کئے گئے اقدامات کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور اس چیلنج سے پیدا ہونے والے اثرات میں کمی لانے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوا۔کمانڈاینڈآپریشن سینٹرنےملک کی مجموعی صورتحال کی روشنی میں اپنی سفارشات کمیٹی میں پیش کیں
اجلاس میں وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ کی لاک ڈاون میں توسیع کرنے کی درخواست منظور کی ہے، لاک ڈاؤں میں توسیع کا اعلان کل ہو گا، قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس کل دوبارہ ہو گا جس میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر کے اعلان کیا جائے گا
پاکستان نے کووڈ 19 کے خلاف میڈیسن تیار کر لی یہ کارنامہ پاکستان کی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی نے سر انجام دے کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے دنیا کے 7 ارب 70 کروڑ انسانوں کی نظریں پاکستان پرہیں
باغی ٹی وی : پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے کورونا کے خلاف میڈیسن تیار کر لی ہے اینٹی باڈی سیرل ہیومن اینٹی باڈی سیرل تیار کی جسے آئی وی آئی جی کا نام دیا گیا ہے اور اس علاج کو امینو تھراپی کا نام دیا گیاہے
اس وبا کی میڈیسن کے لیے دنیا کی چھ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں دوڑ میں تھیں کہ وہ یہ میڈیسن تیار کر لیں اور دنیا کے لیے ایک بڑا کارنامہ۔سر انجام دے کر لاکھوں اربوں ڈالر کما لیں لیکن یہ میڈیسن تیار کرنے کا اعزاز پاکستان نے اپنے نام کر لیا ہے
پاکستان کے شہر قائد کی مشہور یونیورسٹی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے یہ کارنامہ بفضل خدا سرانجام دے کر دنییا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹر عبدالصمد پاکستان کے اکلوتے ویکسنالوجسٹ اور ان کی ٹیم نے یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے اب 7ارب 70 کروڑ لوگوں پر مشتمل دنیا کی نظریں پاکستان ہیں اور ان کے لیے یہ ایک خوشخبری ایک معجزہ ہے اور کورونا میں مبتلا 215 پندرہ سے زائد ممالک کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے
اس معجزاتی میڈیسن کے لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک امریکہ جاپان برطانیہ چین جرمنی فرانس سپین اٹلی سارے ممالک کوشش کر رہے تھے یہاں تک کہ چین وہ ممالک ہے جس نے کورونا کو سب سے پہلے ختم کیا ہے ان سے بھی ابھی تک یہ میڈیسن دریافت نہیں ہو سکی
یہ میڈیسن کورونا وائرس کے تندرست مریضوں کے خون کے پلازمہ سے تیار کی جائے گی پاکستان میں 500 سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں ان صحت یاب ہوئے مریضوں کے ایک بلڈ بیگ سے کئی مریض صحت یاب ہو سکیں گے پاکستان میں آنے والے دنوں میں کووڈ 19 کا انشاءاللہ خاتمہ ہو جائے گا یا نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا دنیا کی نظریں اس وقت ڈاؤ یونیورسٹی پر ہیں
یاد رہے کہ یہ میڈیسن ہے ویکسین نہیں ہے ویکسین وہ ہوتی ہے جو بیماری لگنے سے روکے جبکہ میڈیسن وہ ہوتی ہے جو بیماری کو ختم کرے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ختم ہو گیا، اجلاس میں کورونا کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں صوبائی وزرائے اعلی، وفاقی وزراء، چیئرمین این ڈی ایم اے، عسکری اور سول اداروں کے اعلی حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں کورونا کے باعث ملکی معاشی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی
اجلاس میں ملک میں کرونا وائرس کے پھیلائو کی روک تھام کیلئے کئے گئے اقدامات کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور اس چیلنج سے پیدا ہونے والے اثرات میں کمی لانے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوا۔کمانڈاینڈآپریشن سینٹرنےملک کی مجموعی صورتحال کی روشنی میں اپنی سفارشات کمیٹی میں پیش کیں
اجلاس میں وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ کی لاک ڈاون میں توسیع کرنے کی درخواست منظور کی ہے، لاک ڈاؤں میں توسیع کا اعلان کل ہو گا، قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس کل دوبارہ ہو گا جس میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر کے اعلان کیا جائے گا
اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے وزیر ریلوے شیخ رشید کی ریلوے کھولنے کی تجویز کو مسترد کر دیا، شیخ رشید نے 15 اپریل سے ریلوے چلانے کی تجویز دی، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرونا کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے ایسی صورتحال میں ریلوے آپریشن شروع نہیں کر سکتے.
واضح رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں کل 14 اپریل تک لاک ڈاون کا حکومت نے اعلان کر رکھا ہے تا ہم پاکستان میں مریضوں اور ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ سے لاک ڈاوں میں توسیع کا امکان ہے.
پنجاب کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے گزشتہ روز کہا تھا کہ کہ صوبہ پنجاب میں لاک ڈاؤن کو مزید بڑھانے کا فیصلہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائیگا۔ متاثرہ علاقوں کے لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں کی جائیگی۔ جی ٹی روڈ بیلٹ پر کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ لاہور کے بعض علاقوں کو کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے پر مکمل سیل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سبزی منڈیوں میں افراد کے تشخیصی ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں۔
بلوچستان حکومت نے لاک ڈاؤن میں مزید 2ہفتوں کی توسیع کردی،بلوچستان میں21اپریل تک لاک ڈاؤن برقراررکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے. اب کرونا وائرس سے احتیاطی تدابیر کے طور پر بلوچستان میں لاک ڈاؤن 21 اپریل تک جاری رہے گا، لاک ڈاؤن کے دوران مارکیٹس، شاپنگ مال، تعلیمی ادارے، پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گی
ملک کے مختلف شہروں میں کورونا سے بچاؤ کیلئے لاک ڈاؤن جاری ہے، لاہور سمیت پنجاب بھر میں جگہ جگہ فوج اور پولیس تعینات ہے، حکومت کی جانب سے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت بھی جاری کی جا رہی ہیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی لاک ڈاؤن پر بھرپور طریقے سے عملدرآمد ہو رہا ہے
کو رونا کے خلاف جنگ میں پاکستانی سائنسدانوں کی اہم کامیابی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کو رونا کے خلاف جنگ میں پاکستانی سائنسدانوں کی اہم کامیابی، ڈاؤ یونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم نے کورونا کے صحتیاب مریضوں کے خون سے حاصل شدہ اینٹی باڈیز سے انٹرا وینیس امیونو گلوبیولن( آئی وی آئی جی ) تیار کرلی جس کے ذریعے کورونا متاثرین کا علاج کیا جاسکے گا.
وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں اسے ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا ہے ۔
ڈاؤ کالج آف بائیو ٹیکنا لوجی کے پرنسپل پروفیسر شوکت علی کی سربراہی میں ریسرچ ٹیم نے دنیا میں پہلی مرتبہ کورونا کے علاج کےلیے امیونوگلوبیولن کاموثر طریقہ اختیار کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے ۔امریکی ادارے ایف ڈی اے سے منظورشد ہ یہ طریقہ علاج محفوظ، لورسک اورکورونا کے خلاف انتہائی موثر ہے ۔اس طریقہ علاج میں کورونا سے صحت یاب مریض کے خون میں نمو پانے والے اینٹی باڈیز کو علیحدہ کرنے کے بعد شفاف کرکے امیونو گلوبیولن تیار کی جاتی ہے یہ طریقہ علاج پلازما تھراپی سے بالکل ہی مختلف ہے
واضح رہے کہ ہائپر امیو نو گلوبیولن کے طریقہ علاج کو امریکا کے وفاقی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈ منسٹریشن نے عمومی حالات کےلیے منظور کیا ہے جبکہ پلازما تھراپی کی اس کےبعض ضمنی اثرات کے باعث ہنگامی حالات میں ہی اجازت دی جاتی ہے ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر کی زیرنگرانی کام کرنے والی ل ٹیم نے شبانہ روز محنت کے بعد ہائپر امیو نو گلوبیولن( آ ئی وی آئی جی )تیار کی ۔ڈاؤ یونیورسٹی کی ٹیم ابتدائی طور پرمارچ 2020 میں خون کے نمونے جمع کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی بعد ازاں اس کے پلازمہ سے اینٹی باڈیزکو کیمیائی طور پر الگ تھلگ کرنے ، صاف شفاف کرنے اور بعد میں الٹرا فلٹر تکنیک کے ذریعے ان اینٹی باڈیز کو مرتکز کرنے میں کامیاب ہوگئی اس طریقے میں اینٹی باڈیز سے باقی نا پسندیدہ مواد جن میں بعض وائرس اور بیکٹیریا بھی شامل ہیں انہیں ایک طرف کرکے حتمی پروڈکٹ یعنی ہائپر امیونوگلوبیولن تیار کرلی جاتی ہے.
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ دنیا میں پہلی مرتبہ پاکستان میں کورونا سے صحت یا ب مریض کے خون سے یہ امیونوگلوبیولن تیار کی گئی ہے جو کورونا بحران میں امید کی کرن تصور کی جارہی ہے ان ماہرین کے مطابق یہ طریقہ غیرمتحرک مامونیت (پے سو امیونائزیشن) کی ہی ایک قسم ہے مگر اس میں مکمل پلازمہ استعمال کرنے کے بجائے اسے شفاف کرکے صرف اینٹی باڈیز ہی لیے جاتے ہیں اس محفوظ اورموثر طریقہ کار کو اس سے پہلے بھی بڑے پیمانے پر دنیا میں پھیلنے والے وبائی امراض سارس،مرس،اور ابیولا میں موثر طورپر استعمال کیاجاچکاہے جبکہ تشنج،انفلوئنزا اور رےبیز کی شفاف اینٹی باڈیز دنیا میں تجارتی سطح پر فروخت کےلیے بھی دستیاب ہوتے ہیں ریسرچ ٹیم نے کوووڈ نائینٹین کے صحتیاب مریضوں کی جانب سے کم مقدار میں عطیہ کیے گئے خون کو شفاف کر کے اینٹی باڈیز علیحدہ کیے جو کورونا کو غیرموثر کرچکے تھے انکی لیبارٹری ٹیسٹنگ اور حیوانوں پر اس کا سیفٹی ٹرائل کرکے حاصل ہونے والی ہائپر امیونوگلوبیولن کو کامیابی کے ساتھ تجرباتی بنیادوں پر انجیکشن کی شیشیوں (وائلز) میں محفوظ کرلیا۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرمحمد سعید قریشی نے ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کے معالجین کو ریسرچ ٹیم کے ساتھ مل کر اس نئے طریقہ علاج کے ٹرائل کے لیے اخلاقی اور قانونی حکمت عملی وضع کرنے کا ٹاسک سونپ دیاہےمشترکہ ٹیم کے دیگر اراکین میں ڈاکٹر شوبھا لکشمی،سید منیب الدین،میر راشد علی،عائشہ علی ،مجتبی خان،فاطمہ انجم اور ڈاکٹر صہیب توحید شامل ہیں۔یہ کامیابی کورونا سے ہونے والے جانی نقصان کو روکنے کے لیے بین الاقوامی طور پر کی جانے والی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔ ایک ہفتہ قبل ہی دنیا کی چھ بڑی ویکسین بنانے والی کمپنیوں نے اس عمل کو شروع کرنے کے لیے اشتراک کا اعلان کیا تھا۔تاہم ڈاؤ یونیورسٹی نے اس عمل میں سبقت لیتے ہوئے مقامی کورونا وائرس کی قسم کے خلاف انٹراوینس امیونوگلوبیولن تیار کر لی ہے۔
حالیہ دنوں کی ریسرچ نے مقامی کورونا وائرس کی قسم میں کچھ جینیاتی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ایسی صورت میں مقامی وائرس کے خلاف بنائی گئی آئی وی آئی جی بہت موثر اور مفید ثابت ہوگی۔ ڈاؤ یونیورسٹی نے نئے کورونا وائرس کے خلاف کی جانے والی کوششوں میں اہم کردار ادا کا جینیاتی سیکوینس معلوم کیا، انسانی جین میں ایسی تبدیلیوں کا پتہ لگایا یا جو کرونا وائرس کے خلاف مزاحمت فراہم کرسکتی ہیں، اور اب صحتیاب مریضوں کے خون سے حاصل شدہ اینٹی باڈی سے انٹرا وینس امینوگلوبیولن تیار کرلی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان سال 2020 کے مسلم مین آف دی ایئرقرار
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اردن کے رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز سنٹر نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو سال 2020 کا مسلم مین آف دی ایئر قرار دیا ہے۔جبکہ حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق مسلسل چھٹی بار دنیا کے پانچ سو بااثر مسلم شخصیات کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں۔
میرواعظ عمر فاروق مقبوضہ کشمیر کے بڑے عالم دین اور سیاسی رہنما ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سائنسدانوں ، فنکاروں اور بادشاہوں تک دنیا کے سب سے زیادہ بااثر500 مسلمانوں کی فہرست رواں ہفتے جاری کی گئی جس میں دنیا کے بااثر مسلمانوں کو 13کیٹیگریز میں رکھا گیا ہے ۔ فہرست میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو "سال کی بہترین شخصیت ” قراردیا گیا ہے جبکہ امریکی کانگریس کی خاتون راشدہ طالب کو "سال کی بہترین خاتون ” قراردیاگیا ہے۔
حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق اس وقت سرینگر میں اپنی رہائش گاہ میں نظر بند ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر 10.5 ملین فالوورز کے ساتھ ٹویٹر پر دنیا کے چھٹے مقبول رہنما بن گئے ہیں۔
رائل اسلامی اسٹریٹجک اسٹڈیز سنٹر اردن میں رائل البیت انسٹی ٹیوٹ برائے اسلامی فکر کے ساتھ ایک خودمختار تحقیقی ادارہ ہے۔ قاہرہ میں امریکی یونیورسٹی میں صحافت کے پروفیسر پروفیسر ایس عبد اللہ شلیفر نے کہاکہ اگر ‘دی مسلم’ 500 ” 1992میں شائع ہوتی اورمیں اس وقت چیف ایڈیٹر ہوتا تو میں نے عمران خان کو کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کی وجہ سے مین آف ائر نامزد کیا ہوتا ۔ آر آئی ایس ایس سی نے ایک امریکی کانگریس کی خاتون راشدہ طلاب کو بھی ، سال 2020 کی مسلم وومن قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس 2019 کی مسلم دنیاکی بااثر شخصیات کی درجہ بندی میں وزیراعظم عمران خان سمیت پاکستان کی 19 مسلم شخصیات شامل کی گئی تھیں، یہ درجہ بندی کے حوالے سے اردن کے شاہی تعلیمی مرکز کی جانب سے 500 با اثر مسلم شخصیات کی فہرست شائع کی گئی ہے جس میں مولاناتقی عثمانی، مولانا طارق جمیل اور جاوید احمد غامدی بھی شامل تھے،
اردن کے شاہی تعلیمی مرکز کی جانب سے 500 با اثر مسلم شخصیات کی فہرست کے مطابق مولانا تقی عثمانی چھٹے نمبر پر وزیراعظم عمران خان اس فہرست میں 29ویں اور مولانا طارق جمیل 40 ویں نمبر پر ہیں۔ ڈاکٹر قدیر خان، ڈاکٹر عرفان صدیقی اور ڈاکٹر عطا الرحمان کے نام بھی فہرست میں درج ہیں۔
اردن کے شاہی تعلیمی مرکز کی جانب سے 500 با اثر مسلم شخصیات کی فہرست میںوزیراعظم عمران خان کی ذاتی زندگی اور شوکت خانم ہسپتال کا بھی ذکر کیا گیا وزیراعظم کی 22 سالہ سیاسی جدوجہد، کرکٹ میں کامیابیوں، شوکت خانم اسپتال اور تعلیم کے لیے بنائی گئی یونیورسٹی کا کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔عمران خان کے متعلق درج ہے کہ انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کیے اور حکومتی اخراجات میں کفایت شعاری اپنائی۔
اردن کے اس تحقیقی ادارے کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق دیگر پاکستانیوں میں سابق وزیراعظم نوازشریف، جمیعت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، ڈاکٹر فرحت ہاشمی، ڈاکٹرطاہر القادری، جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق، جاوید غامدی، بلقیس ایدھی، منیبہ مزاری، شرمین عبید چنائی، ملالہ یوسفزئی، مولانا الیاس عطاری اورعابدہ پروین شامل ہیں