وزیراعظم سے میاں اسلم اقبال، فخرامام کی ملاقات، وزیراعظم نے کیا حکم دے دیا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی سید فخر امام اور پنجاب کے صوبائی وزیر صنعت میاں اسلم اقبال کی الگ الگ ملاقات ہوئی ہے
پنجاب کے صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ملاتقا میں کورونا کے صنعتی عمل پر اثرات سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا، صنعتیں کھولے جانےاورمستقبل کے لائحہ عمل پرگفتگو کی گئی، میاں اسلم اقبال نے تعمیراتی صنعتیں کھولنے کے فیصلے کوسراہا
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ معیشت اورکم آمدنی والے افرادپرکوروناکے اثرات کاادراک ہے، جن صنعتوں کو کھولنے کی اجازت دی ان کیلئے ایس اوپیزبنائے ہیں، تمام ایس او پیز صوبوں کےساتھ شیئرکیے، کارخانوں میں کام کرنیوالے ورکرزک ی حفاظت کویقینی بنایا جائے
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے وفاقی نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام نے ملاقات کی جس میں گندم کی سمگلنگ کی روک تھام، ٹڈی دل کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات پر گفتگو کی گئی جبکہ آئندہ سال معیاری گندم کی پیداوار حاصل کرنے کے لیے بہتر بیج کے استعمال کے حوالے سے تجاویز پر بھی بات چیت ہوئی۔ فخر امام نے ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے کیے جانے والے اقدامات پر وزیرِ اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت سمگلنگ خصوصاً گندم و دیگر اشیائے خوردونوش کی سمگلنگ کی موثر روک تھام کے لئے پرعزم ہے، ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کے تدارک کے لئے حکومت کی جانب سے آرڈیننس متعارف کرایا جا رہا ہے، ایسی کاروائیوں میں ملوث عناصر اور افراد کے خلاف سخت قانون کا اطلاق یقینی بنایا جا سکے گا۔
عمران خان کا کہنا تھا موجودہ صورتحال خصوصاً ماہ رمضان کے پیش نظر گندم اور دیگر اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد پر گہری نظر رکھی جائے، ملک کے کسی حصے میں خوراک کی کمی درپیش نہ ہو، ماضی میں زرعی شعبے کو نظر انداز کیا گیا۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کو بڑا ریلیف دے دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرضوں میں ایک سال تک کا ریلیف دے دیا ہے
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے کورونا سے پیدا صورتحال کے باعث ریلیف دیا ہے،آئی ایم ایف سے بہت بڑا ریلیف پاکستان کوملنے کی امید ہے، عرایت کا اطلاق پاکستان سمیت 70 ممالک پرہوگا، پاکستان کو قرضوں پر رعایت کا اطلاق یکم مئی سے ہوگا۔کورونا وائرس کی وجہ سےترقی پذیرملکوں کی معیشت پرزیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان سمیت 76 ممالک کو قرضوں میں ریلیف دینے کی منظوری دی ہے
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کرونا وائرس کے خلاف لڑنے والے ترقی پذیر ممالک کی مشکلات میں کمی کے حوالے بات کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ میری پریشانی غربت اور بھوک ہے، دنیا کو ہم جیسے ممالک کے قرضے معاف کرنے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
اقوام متحدہ نے بھی وزیر اعظم عمران خان کی قرضوں سے ریلیف کےلیے مطالبے کی حمایت کی تھی، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کے ترقی پذیر ممالک کے قرضے معاف کرنے کی حمایت کرتے ہیں، وزیر اعظم کا اقدام اسی جذبے کے تحت ہے جیسا سیکرٹری جنرل کا اپنی حیثیت میں ہے۔
سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنی تازہ ویڈیو میں سعودی عرب کی سیاست، بادشاہت کے اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حوالہ سے نئی سازشوں کا انکشاف کیا ہے.
پوری دنیا اسوقت دو مسئلوں میں پھنسی ہوئی ہے ایک کرونا وائرس اور دوسرا معاشی چیلنج ، لیکن ایک ایسا ملک ہے جہاں اس کے علاوہ بھی ایک مسئلہ ہے وہ ہے بغاوت کا ، اس ملک کا نام ہے سعودی عرب، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ہر آنے والی دن ،ہر گزرتے لمحے پریشانی بڑھتی جا رہی ہے ،سعودی ولی عہد نے آرمی کو طلب کیا ہے، آرمی کی گاڑیوں نے حرم کے آس پاس والے علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، شاہی نظام میں دراڑوں کی خبریں آ رہی ہیں.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں کرفیو کرونا وائرس کی وجہ سے نہیں بلکہ بغاوت کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر لگایا گیا ہے، سعودی وزارت صحت کے مطابق سعودی عرب میں کرونا کے 4934 مریض ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 65 ہو چکی ہیں،ریاض میں 118 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ، مدینہ میں 95 اور تبوک میں 22 کیس ہیں ، لہذا یہ تعداد اتنی بڑی پریشانی کو ظاہر نہیں کرتی ہے جتنا وہاں پر کیا جا رہا ہے،پاکستان جیسے ممالک میں اس سے بڑی تعداد میں متاثرہ افراد ہیں ، امریکہ کل لاک ڈاؤن میں نہیں گیا حالانکہ وہاں اموات کی شرح زیادہ ہے اور آج اسپین نے بھی لاک ڈاؤن کو نرم کردیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کی آبادی میں بے تحاشا فرق ہے، وہان کی سختی امریکہ سے بھی زیادہ ہے، جو لاک ڈاؤن چین نے کیا تھا وہی لاک ڈاؤن سعودی عرب میں ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے موجودہ لاک ڈاؤن ولی عہد شہزادہ کے لئے ایک نعمت ہے کیوں کہ باقی دنیا اس بات سے پریشان نہیں ہے کہ حقیقت میں اس شاہی جنگ میں کیا ہو رہا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خود کو جزیرے پر الگ تھلگ رکھا ہے اور تمام شاہی محلوں اور سرکاری مکانات کی سیکیورٹی سعودی فوج کے حوالہ کر دی گئی ہے، 13 شہزادوں کو پہلے گرفتار کیا گیا تھا جب وبا کا دور دور تک نام نہیں تھا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں بغاوت کی ابتدا محمد بن سلمان کی قتل کی سازش سے تیار ہوئی تھی،سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے قتل کی مبینہ سازش کو شاہی خاندان کے کچھ بااثر افراد نے تیار کیا تھا ،بحرین کے ایک ٹی وی چینل پر ولی عہد پر قاتلانہ حملے خبریں بھی چلتی ہیں،یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کعبہ شریف میں نئی حکومت کے قیام کا اعلان کرنے کے منصوبے بنائے گئے تھے۔ اسی لئےسعودی عرب میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے اور شاہی خاندان کے محلات کی سیکورٹی کو تیسری بار تبدیل کیا گیا ہے. سعودی عرب میں کرونا سے بچاؤ کی آڑ میں بغاوت کو کچلنے کے لئے اعلیٰ سطح کا کریک ڈاؤن جاری ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی مخالفت کرنے والوں کو کرونا وائرس کی آڑ میں اٹھایا جا رہا ہے اور انہیں ایک ہوٹل میں منتقل کیا جا رہا ہے جہاں 500 بستروں کا ہسپتال بنایا گیا ہے تا کہ وہیں ان کے خلاف مقدمات کی سماعت ہو سکے اور بغاوت کے خلاف کی جانے والی سازشوں کو روکا جا سکے. کنگ فہد ہسپتال میں بھی 500 بیڈز مختص کئے گئے ہیں، جن پر محمد بن سلمان کو شک ہے ان کو کرونا کے بہانے اٹھایا جا رہا ہے، سعودی فرمانروا شاہ سلمان بوڑھے ہو چکے ہیں اور ان کی طبیعت بگڑ رہی ہے اسی لئے شہزادہ سلمان کو اپنا اقتدار سنبھالے کی جلدی ہے۔ سعودی عرب میں نومبر میں ایک اہم اجلاس متوقع ہے اور محمد بن سلمان بطور بادشاہ اس اجلاس کی صدارت کرنا چاہتے ہیں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شہزادہ سلمان کو دوسرا خوف یہ ہے کہ امریکہ میں اپوزیشن مضبوط ہورہی ہے اور اگر ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات نہیں جیت پاتے ہیں تو نئی امریکی حکومت کی طرف سے شہزادہ سلمان کو حمایت حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔اس لئے وہ جلد از جلد کرنا چاہتے ہیں، رمضان آنے میں ابھی کافی دن باقی ہیں، سعودی وزارت نے ابھی سے اعلان کر دیا کہ رمضان میں عبادات گھر میں ہوں گی، ایک طرف سخت اقدامات کئے جا رہے ہیں دوسری جانب جی ایٹ اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں. بین الاقوامی پروازوں کی آمدورفت بھی معطل ہے، لاک ڈاؤن میں توسیع کی گئی ہے، سب کام سعودی ولی عہد کے حکم پر ہو رہے ہیں، ولی عہد شہزادہ سلمان کے لئے پریشانیوں میں آئے روزاضافہ ہورہا ہے .موجودہ صورتحال میں کرونا کی وبا سب کے سامنے ہے لیکن جب یہ ختم ہو گی تو پھر سامنے آئے گا کہ اس دوران کس کس کو ٹھکانے لگا دیا گیا، سعودی عرب میں پولیس کا رعب ہے لیکن پھر بھی فوج کو طلب کیا گیا ہے، اسوقت محمد بن سلمان کو کسی پر کوئی اعتبار نہیں خاص کر شاہی خاندان کے لوگوں پر،اوران لوگوں پر جنہوں نے گزشتہ دو برسوں میں محمد بن سلمان سے کوئی بھی اختلاف کیا ہے.
لاہور:امریکہ اور چین کے درمیان سرد جنگ جاری دوکروڑ سے زائد ہلاکتیں ہوئیں ، مبشرلقمان نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا ،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے سنیئرتجزیہ نگار،معروف صحافی مبشرلقمان نے دنیا کی دوبڑی عالمی طاقتوں کے درمیان پھر سے سرد جنگ کے شروع ہونے کا انکشاف کردیا ہے
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان نئی سرد جنگ کرونا وائرس کی وجہ سے شروع ہوئی جب چند ماہ قبل چین سے جنم لینے والے اس کرونا وائرس کی وجہ سے ہوئی جس کی وجہ سے اس وقت دنیا میں ایک لاکھ 27 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں،
مبشرلقمان کہتے ہیںکہ ایک طرف امریکہ کو عالمی ادارہ صحت پربھی بہت زیادہ شکایات ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں امریکہ کا کہنا ہےکہ عالمی ادارہ صحت نے اپنی ذمہ داری صیح ادا نہیں کی اورچین میں جاکرصورت حال کا جائزہ نہیںلیا جس کی وجہ سے آج امریکہ کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے
دوسری طرف امریکہ کا کہنا ہے کہ چین میں دوکروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جسے چین نے چپھایا جس کی وجہ سے دنیا اس کے خلاف کامیاب لائحہ عمل تیار نہیں کرسکا ، ادھر امریکہ کا کہ بھی کہنا ہےکہ اس کا سب سے بڑا ثبوت چین میں لینڈ لائن ٹیلی فونز کے کنشنز کا کٹ جانا اورفون کا بند ہونا ہے
مبشرلقمان نے کہاکہ چین میں سیل فون کی تعداد دسمبر2019 میں بڑھ گئی لیکن 2020 کے اوائل میں لاکھوں کی تعداد میں ان موبائل فونز کا بند ہونا اس بات کی علامت ہےکہ اتنے لوگ اب نہیں رہے ،انہوں نے کہا کہ اس دور میں اورخاص کرچین جیسے ملک میں تو سیل فون کےبغیر ایک پل کی زندگی بھی گزارنا ممکن نہیں ، اگروہ ٹیلی فون کنکشن نہیں رہےتو پھریہ واضح ہے کہ اتنی تعداد میں لوگ کرونا سے مرگئے ہیں
یہی وجہ ہےکہ امریکہ نے چین کے ساتھ ساتھ عالمی ادارہ صحت کو بھی اس کا ذمہ دار اورقصوروارٹھہرایا ہے ، امریکہ کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے حقائق جاننے کی کوشش ہی نہیں کی
امریکہ کا کہنا کہ عالمی ادارہ صحت کی سستی کی وجہ سے دنیا اتنے بڑے نقصان کا سامنا کررہی ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اسی وجہ سے عالمی ادارہ صحت کو فنڈز نہیں دیئے جائیں گے
ادھربل گیٹس نے عالمی ادارہ صحت کو فنڈز روکنے پرتشویش ظاہرکی ہے ،ان کا کہنا ہےکہ اگرعالمی ادارہ صحت نے دنیا کے ممالک کےتعاون سے اس موقع پر اس بحران سے نہ نبٹا تو بہت زیادہ نقصان بہت زیادہ ہوسکتا ہے
ادھردیگرعالمی قوتوں نے عالمی ادارہ صحت کے کردار کو لازمی قرار دیا ، ادھرچین کو اس وجہ سے بھی قصوروار ٹھہرایا جارہا ہےکہ چین نے حقائق چھپائے اورجس کی وجہ سے دنیا اس بڑی آفت سے نمٹنے سے محروم رہی
ادھرڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ درست ہے کہ چین میں سوا دوکروڑ افراد مرگئے ہیں ، مبشرلقمان نے کہا کہ اس کا سارے بحران کا ذمہ چین کو ٹھہرایا جارہا ہے ، اس کی ایک وجہ یہ بھی قرار دی جارہی ہے کہ یہ چین کی لیبارٹریز سے پھیلا ہے ،
ادھرعالمی ادارہ صحت اوراقوام متحدہ کے دیگرادارے چین میں سے جنم لینے والے اس بحران کو نہ سمجھے سکے توواقعی یہ ایک بہت بڑاسانحہ ہے ، جس کے بارے میں آنے والے وقتوں میں مزید انکشافات سامنے آئیں گے
اسلام آباد:ملک میں کورونا سے مزید 10 اموات، ہلاکتیں 117 ہوگئیں، مجموعی کیسز 6300 تک جا پہنچے،اطلاعات کےمطابق پاکستان میں کورونا وائرس سے آج مزید 10 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 117 ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 6300 تک پہنچ گئی۔
ملک میں ہونے والی 117 ہلاکتوں میں سے سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں 42 جبکہ 41 ہلاکتیں سندھ میں ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب میں 28 ، بلوچستان میں 2، گلگت 3 اور اسلام آباد میں ایک ہلاکت ہوچکی ہے۔
آج کے کیسز کی صورتحال
آج بروز بدھ ملک میں کورونا کے مزید 316 کیسز سامنے آئے ہیں اور 10 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔آج اب تک سندھ میں 150 کیسز 6 ہلاکتیں، خیبر پختونخوا میں 47 کیسز 4 ہلاکتیں، پنجاب 71، بلوچستان 33، اسلام آباد 9 ، گلگت بلتستان 3 اور آزاد کشمیر سے 3 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
سندھ
سندھ میں آج کورونا وائرس کے مزید 150 کیسز سامنے آئے اور 6 ہلاکتیں بھی ہوئیں جس کی تصدیق صوبائی ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کی۔مرتضیٰ وہاب کے مطابق صوبے میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 1668 ہوگئی ہے اور ہلاکتیں 41 ہوگئی ہیں۔مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں مزید 133 افراد صحت یاب ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 560 ہوگئی ہے۔
پنجاب
پنجاب میں آج اب تک کورونا وائرس کے مزید 71 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 3016 ہوگئی ہے جب کہ ہلاکتیں 28 ہوئیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 701 زائرین، 1091 تبلیغی ارکان، 91 قیدی اور 1133 عام شہری کورونا وائرس میں مبتلا ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ اب تک صوبے میں کورونا سے 508 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔صوبے میں ہونے والی 28 ہلاکتوں میں سے لاہور میں 12، راولپنڈی 7، ملتان 3، رحیم یار خان 2، بہاولپور، جہلم، فیصل آباد اور گجرات میں ایک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔
بلوچستان
بلوچستان میں آج مزید 33 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 281 ہوگئی جب کہ صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 2 ہے۔صوبائی ترجمان لیاقت شاہوانی نے کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آج رپورٹ ہونے والے کیسز مقامی طورپر متاثرہ افراد کے ہیں۔لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ بلوچستان میں کورونا کے 137 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔
محکمہ صحت اور ترجمان حکومت بلوچستان صوبے میں کورونا سے 3 اموات بتارہے ہیں جب کہ وفاقی حکومت کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم 2 اموات بتا رہا ہے۔
اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت سے آج کورونا کے مزید 9 کیسز سامنے آئے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے ہیں۔اسلام آباد میں نئے کیسز کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 140 ہوگئی ہے۔وفاقی دارالحکومت میں اب تک کورونا سے صرف ایک مریض کا انتقال ہوا ہے۔
آزاد کشمیر
آزاد کشمیر سے آج کورونا کے مزید 3 کیسز سامنے آئے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے ہیں۔علاقے میں کیسز کی مجموعی تعداد 46 ہوگئی ہے تاہم اب تک کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی۔واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں بھی کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 24 مارچ سے تین ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن ہے۔
خیبرپختونخوا
خیبرپختونخوا میں بدھ کو 47 نئے کیسز اور 4 اموات سامنے آئیں جس کے بعد کل ہلاکتوں کی تعداد 42 ہوگئی جب کیسز کی مجموعی تعداد 912 ہوگئی۔
صوبے میں مزید 13 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جس کے بعد مہلک وائرس سے جنگ جیتنے والے افراد کی تعداد 191 ہوچکی ہے۔
گلگت بلتستان
گلگت بلتستان میں بدھ کو کورونا کے مزید 3 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد علاقے میں کیسز کی مجموعی تعداد 237 ہو گئی۔دو نئے کیسز استور اور ایک نگر میں سامنے آیا جبکہ گلگت بلتستان میں زیر علاج مریضوں کی تعداد صرف 56 رہ گئی ہے۔
گلگت میں مہلک وائرس سے متاثرہ 178 مریض صحت یاب بھی ہوچکے ہیں جب کہ 3 افراد وفات پاچکے ہیں۔خیال رہےکہ گلگت بلتستان میں اب تک کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں میں وائرس کی تشخیص کرنے والے ڈاکٹر اسامہ بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے بعد ملک بھر میں نافذ جزوی لاک ڈاؤن میں مزید 2 ہفتے کی توسیع کا اعلان کردیا۔ تاہم تعمیراتی صنعت کے ساتھ کیمیکلز مینوفیکچرنگ پلانٹس، ای کامرس، پیپر، سیمنٹ، فرٹیلائزرز، مائنز، منرلز، لانڈری ، ڈرائی کلیننگ اور دیگر انڈسٹریز کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مجھے بہت غصہ چڑھ رہا ہے، میں جب آ رہا تھا اور سڑک پر نکلا تو باہر دیکھا ایسے لگا جیسے عید بقر عید کی شاپنگ ہو رہی ہے، منڈیاں کھلی ہوئی ہیں مجھے لوگ تصویریں بھیج رہے ہیں،وہاں کتنا زیادہ لوگ ہیں، ہر جگہ لوگ جمع ہو رہے ہیں صرف ڈی ایچ اے اور کینٹ میں سختی ہو رہی ہے کہ ایک جگہ لوگ زیادہ جمع نہ ہوں، موٹر سائیکل پر دو سے زیادہ لوگ نہ بیٹھیں ،مجھے نہیں سمجھ آ رہی کہ عثمان بزدار اور انکی کابینہ کو بیٹھی ہے ،یہ لوگ کیا کر رہے ہیں،کیا سوچ کر انہوں نے کھلے عام سب کچھ چھوڑ دیا، یا تو لاک ڈاؤن میں توسیع ہونی ہے یا نہیں ہونی ،اگر توسیع ہونی ہے تو اس میں نرمی کا کیا تک ہے، اس میں کہتے ہیں کہ بہت سارے کاروباروں کو ہم نے اجازت دے دی کہ وہ کھل سکتے ہیں، درزی کی دکان کھلے گی لیکن کپڑے کی دکان بند ہے ،لگتا ہے درزی پرانے کپڑوں کو ہی چھوٹا بڑا کرے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بینک کھول دیئے گئے، اور مختلف چیزیں کھول دی گئیں، پھر کارپوریٹرز کو بھی کھول دیں، ایک ایک آدمی کام کرتا رہے جو بند ہیں ان کو بھی کھول دیں،آپ نے سیکشن 144 لگایا ہوا ہے یعنی 4 افراد ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے، آپ منڈیوں کا حال دیکھ لیں جہاں ہزاروں افراد جمع ہوتے ہیں، ایسے قانون کیوں لاتے ہیں بزدار صاحب جن پر عمل ہی نہیں کروا سکتے،آپ کی طاقت نہیں ان پر عمل کروانے کی تو انکو ہٹا دیں، ایسے قانون لگاتے کیوں ہیں،کسی کو کوئی پرواہ نہیں .
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں ایسی صورتحال پیداہو چکی ہے کہ دس دن ،پندرہ دن مکمل لاک ڈاؤن کرتے،ہم نے انتظار نہیں کیا اور اب مکمل لاک ڈاؤن کی بجائے کچھ کاروبار کھول دیئے اب اگر وبا پھیلتی ہے جو لوگ گھرون میں کام کرنا شروع ہو گئے اور آ جا رہے ہیں، اگر ٹریفک اسی طرح آتی جاتی رہے گی ، ایک بھی اگر مریض میں کرونا ہوا اور وہ کسی منڈی میں چلا گیا تو پھر کیا ہو گا؟ آپ کہتے ہیں کہ ہم نے کسٹرکشن کھول دی ہے، کیسے کھول دی مزدور کیسے جائے گا، مزدور نے تو گاڑی پر جانا ہے اور ٹرانسپورٹ بند ہے،اپنی گاڑی تو ہے نہیں، اوبر بھی بند ہے، اور باقی دکانیں سیمنٹ و دیگر بھی بند ہیں تو کیسے کنسٹرکشن ہو گی، آپ سے دس دن کا صبر نہیں ہو سکا ، دس دن صبر کر لیتے اور اس کے بعد سب کچھ کھولتے تا کہ بیماری کو پھیلنے کا موقع نہ ملتا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں امریکہ میں تھا،وہاں پر بہت سال پہلے کی بات بتا رہا ہوں،کہ وہاں پر سب سے زیادہ ایکسیڈنٹ پارکنگ ایریاز میں ہوتے ہیں گاڑیوں کے اور دو قسم کے ڈرائیور بڑے نقصان دہ ہوتے ہیں، ایک اوور کانفیڈنٹ کیونکہ جو اوور کانفیڈنٹ ہوتا ہے وہ سیدھا گاڑی کو ٹھوک دیتا ہے،اور پارکنگ لاڈ میں اسلئے کہ وہاں پر یہ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن کوئی نہ کوئی گاڑی آ یا جا رہی ہوتی ہے اور حادثہ ہو جاتا ہے،یہ تو امریکہ کی بات ہے، یہاں پر لگ رہا ہے کہ ہم اوور کانفیڈنٹ لوگ ہیں،اوراس کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑ گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہے، کس کے پاس جا کر کریں گے رپورٹ؟ اور کہاں پر رپورٹ کریں گے کیونکہ کوئی سننے کے لئے تیار ہی نہیں ہے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پرویز الہیٰ کا بیان پڑھ رہا تھا پرویز الہیٰ نے کل اجلاس بلا لیا،جو ویڈیو لنک کے ذریعے ہو گا جب خود اپنی بچاؤ کا اتنا زیادہ انتظام کر رہے ہیں تو عوام کو کیوں چھوڑ دیا ہے،اگر اب یہاں سے کرونا پھیلتا ہے ہم نے ٹیسٹنگ ہی نہیں کی پتہ ہی نہیں اور ہم سمجھ رہے ہیں کہ یہ وبا ختم ہو گئی،ابھی بھی وقت ہے کہ کنٹرول کریں، مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ ہر صوبے میں الگ الگ ڈاؤن ہو رہا ہے، سندھ لاک ڈاؤن میں مزید سختی کر رہا ہے بلکہ وزیراعلیٰ سندھ کا بیان آیا ہے کہ جس کو لاک ڈاؤن اچھا نہیں لگتا وہ نیویارک چلا جائے اور وہاں کا لاک ڈاؤن دیکھ لے، سی این این اور دیگر میڈیا بار بار کہہ رہے ہیں کہ یورپ سے وبا ایشیا منتقل ہو سکتی ہے کیونکہ ہم بے احتیاطی کرتے ہیں،ساٹھ فیصد کا ایسا طبقہ ہے جن کا گھروں میں رہنا مشکل ہے، چھوٹے گھر اور زیادہ افراد ہیں، باہر نکلتے ہیں اور لوگوں سے ملتے ہیں اب مفتی منیب الرحمان صاحب نے بھی کہہ دیا کہ مساجد بند نہیں ہوں گی اور نمازیں باجماعت ہوں گی،بھائی پہلے کیوں کر دیا تھا اگر اتنا ہی مسئلہ ہے کسی کو ڈر نہیں لگتا، خیال نہیں،کسی کو نہیں سمجھ آ رہی کہ اٹلی جیسے ملک میں لاشیں دفنانے والا کوئی نہیں تھا، زمین نہیں مل رہی تھی، ایران جیسے ملک نے دس ہزار قبریں بنوا لیں فوری طور پر،نیویارک والوں کو سمجھ نہیں آ رہی کی جنازے کیسے اٹھائیں، برطانیہ میں اجتماعی تدفین شروع ہو گئی ہے، ہم 15 سو وینٹی لیٹر لے کر 22 کروڑ لوگوں کے لئے اوور کنٍیڈنٹ ہوئے پڑے ہیں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وینٹی لیٹر ڈھائی ہزار ہیں جن میں سے 800 چلتے نہیں اور دو سو کا پتہ نہیں، باقی 1500 بچتے ہیں، اس انفراسٹرکچر کے ساتھ ہم اوور کنفیڈنٹ ہوئے ہیں،اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو عقل اور فراست دے،کہ اس کو بہتر کر سکیں، سماجی فاصلے کو اہمیت دیں، لاک ڈاؤن میں مزید سختی کریں، اگر دفعہ 144 لگاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کروا سکتے تو اس کو ہٹا دیں یا اس پر عمل کروائیں، بھائی ریاست ہے اور ریاست کی اپنی ایک مروجہ طاقت ہوتی ہے، اور پھر قانون نافذ کرنے کا مطلب یہ ہے قانون پر عمل کروانا اس کا مذاق اڑانا نہیں
مبشر لقمان نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میں عوام سے درخواست کروں گا،ایک جگہ دیکھا کہ ہنسی مذاق ہو رہا ہے،جپھیاں پڑ رہی ہیں بزنس ہو رہا ہے، اگر خدانخواستہ کسی کو کچھ ہو جائے تو اسکا علاج مشکل ہے، اسلئے نہیں کہ علاج ہو نہیں سکتا بلکہ اسلئے کہ جگہ کم پڑجائے گی، 30 کے قریب ملتان میں ڈاکٹر ہیں جن میں کرونا کی تشخیص ہو چکی ہے،مجھے نہیں پتہ کہ ان کے پاس حفاطتی کٹس تھیں یا نہیں لیکن مریضوں کا علاج کرتے کرتے ان میں کرونا کی تشخیص ہوئی،تو اسکا مطلب ہے کہ جب ڈاکٹر اس سے نہیں بچ سکتے، ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف میں کرونا کی تشخیص ہو رہی ہے تو ہمیں احتیاط کرنی چاہئے، خدا کے لئے اپنے گھر والوں کو سمجھائیں اور اگر آپ کے گھر میں کوئی حکمران طبقے کا آدمی ہے تو اس کو بھی سمجھائیں،
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے آئی ایس آئی سربراہ کی اہم ملاقات، اہم امور پر گفتگو، اہم پیغام بھرپورتعاون کی یقین دہانی ،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان سے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ملاقات کی جس میں اہم امور پر تبادلہ خیالات اور گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم عمران خان کے آفیشل فیس بک پیج کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں اہم قومی سلامتی کے امور پر بھی بات چیت کی گئی۔یاد رہے کہ وزیراعظم اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل فیض حمید کے درمیان رواں سال فروری میں بھی ملاقات ہوئی تھی جس میں سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
اس سے قبل وزیراعظم اور پاک فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کے درمیان گزشتہ سال نومبر میں ملاقات ہوئی تھی جس میں قومی سلامتی کے امور سمیت دیگر اہم ایشوز پر بات چیت ہوئی تھی۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیراعظم عمران خان سے جون 2019ء میں ڈی جی آئی ایس آئی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی ملاقات کی تھی۔
یادرہےکہ دودن قبل آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے بھی ملاقات کرکے حکومت کےخلاف پھیلائے جانے والے پراپیگنڈے کا خاتمہ کردیا تھا ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ افواج پاکستان کرونا وائرس پھیلاو کے دوران حکومتی کارکردگی سے بہت مطمئن ہیں
حکومت اکیلے کرونا چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی وزیراعظم کی سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے وفد سے گفتگو
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان سے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور فوکل پرسن برائے پناہ گاہ نسیم الرحمان بھی موجود تھے،وفد نے کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت خصوصاً وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے کمزور طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی کاوشوں کو سراہا
وزیرِ اعظم عمران خان سے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے وفد کی ملاقات
وفد نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں تعمیرات اور دیگر مختلف صنعتی سرگرمیوں کی اجازت دینے کے حکومتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے کاروباری طبقے کی مشکلات میں کمی آئے گی۔ وفد نے وزیرِ اعظم کو سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے مستحق افراد کو کھانا فراہم کرنے اور تعلیم سمیت دیگر فلاحی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔
وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ کہ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے ملک بھر میں 112 لنگر خانے قائم کیے جا رہے ہیں ۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے سیلانی ویلیفئر ٹرسٹ کی سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار افراد اور فلاحی تنظیمیں ہمارے معاشرے کی اصل طاقت اور اسکا روشن چہرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم نے مشکل کی ہر گھڑی کا نہ صرف استقامت اور جوانمردی کا مقابلہ کیا ہے بلکہ کمزور طبقوں کی فلاح و بہبود کے لئے پوری قوم نے دل کھول کر اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کوئی حکومت اکیلے کورونا جیسے بڑے چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ مخیر حضرات کے عطیات اور فلاحی تنظیموں کی بھرپور معاونت سے حکومت ملک بھر کے تمام طبقوں تک پہنچنے کے لئے پرعزم ہے۔
عوام کی مشکلات کا احساس، کرونا کے ساتھ غربت بڑا چیلنج،وزیراعظم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے پی ٹی آئی کے مرکزی نائب صدر اور سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کی ملاقات ہوئی ہے
حلیم عادل شیخ نے وزیرِ اعظم کو کورونا وائرس کے تناظر میں صوبہ سندھ کی مجموعی صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا، حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ کے عوام مشکل کی اس گھڑی میں وفاقی حکومت کی جانب سے احساس کیش ایمرجنسی پروگرام کے تحت ملنے والی مالی معاونت پر وزیرِ اعظم عمران خان کے مشکور ہیں
حلیم عادل شیخ نے مشکل ترین حالات کے باوجود موجودہ صورتحال میں اربوں روپے کا پیکیج فراہم کرنے پر وزیرِ اعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر تعمیرات اور ایکسپورٹ انڈسٹری کے حوالے سے بروقت فیصلے لینے پر وفاقی حکومت کے مشکور ہیں،صوبے بھر کے نوجوانوں میں کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کا حصہ بننے میں انتہائی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ریلیف فراہم کرنے کی کوششوں میں سندھ کا نوجوان پیش پیش ہوگا اور وزیرِ اعظم کی طاقت بنے گا
حلیم عادل شیخ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف سندھ باب اور اسکی قیادت مشکل کی اس گھڑی میں صوبے کی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور وزیرِ اعظم عمران خان کی کوششوں کا بھرپور ساتھ دے گی.
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ احساس کیش ایمرجنسی پروگرام تمام سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر نہایت شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر چلا یا جا رہا ہے، مشکل کی اس گھڑی میں وفاقی حکومت ملک بھر کی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کر رہی ہے ،عوام کی مشکلات کا مکمل احساس ہے۔ کورونا کے ساتھ ساتھ غربت سے نمٹنا بڑا چیلنج ہے
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے عوام کی معاشی مشکلات کو مد نظر رکھ کر لائحہ عمل تشکیل دیا جا رہا ہے،کورونا ریلیف ٹائیگر فورس میں شمولیت کے حوالے سے نوجوانوں کا جذبہ قابل تحسین ہے،مشکلات کا شکار عوام خصوصاً کمزور اور غریب طبقے کو ریلیف کی فراہمی میں حکومت کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات کا بھی تعاون درکار ہے۔ سیاسی قیادت مخیر حضرات کو متحرک کرنے اور ہر مستحق تک پہنچنے میں کردار ادا کرے.
پاکستان میں کرونا سے 107 اموات ہو گئیں، مریضوں کی تعداد کتنی؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، ہلاکتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوںکی مجموعی تعداد 5 ہزار 988 تک پہنچ گئی جبکہ اموات 107 ہوگئی ہیں.
پاکستان میں کرونا وائرس کے ایکٹو کیسز کی تعداد 4435 ہے، آزاد کشمیر میں 46، بلوچستان میں 240، گلگت میں 234، اسلام آباد میں 140،،خیبر پختونخواہ میں 865، پنجاب میں 2945 اور سندھ میں 1518 مریض ہیں، 1446 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں.
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹوئٹ کے ذریعے مزید 89 کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2945 ہوگئی ہے۔ انہوں نے مزید 4 اموات کی بھی تصدیق کی جس کے بعد پنجاب میں وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے
Punjab's #COVID19 stats as on 14th April: Total confirmed cases: 2,945 Non-Quarantined cases: 1,100 DGK & Multan Quarantine:701 Jail prisoners: 89 Members of Tableeghi Jama'ats: 1,055 Deaths: 28 Critical Patients: 9 Recoveries: 508 Tests Conducted: 43,565#PunjabCoronavirusUpdate
خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے فوکل پرسن زین رضا نے صوبے میں 65 نئے کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں متاثرین کی تعداد 865 ہوگئی ہے۔نئے مریضوں میں سے اکثر تبلیغ کے سلسلے میں سفر کی تاریخ ہے۔ مزید براں انہوں نے مزید 3 مریضوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تینوں مریضوں کی اموات پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں ہوئیں، خیبر پختونخواہ میں ہلاکتوں کی تعداد 38 ہو گئی ہے. جبکہ 175 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں
سندھ کے علاقے حیدر آباد کی مختلف مساجد میں قرنطینہ کیے گئے تبلیغی جماعت کے 91 اراکین کورونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آنے پر اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں کورنا وائرس کے 66 نئے کیسز سامنے آ گئے ،سندھ میں 4لوگ جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد سندھ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد35 ہوگئی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ افسوس ہے اموات کی شرح 2.3ہوگئی ہے،موبائل ٹیم کے ذریعے کچی آبادیوں میں 1700ٹیسٹ کئے،نتائج کل تک آئیں گے،اس وقت 671 مریض گھروں میں آئیسولیشن میں ہیں،58مریض آئیسولیشن مراکزاور227 اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں، آج مزید 8 افراد صحت یاب ہوکر گھروں پر چلے گئے
ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے صوبے میں کورونا وائرس کے مزید 17 کیسز کی تصدیق کی جس کے بعد یہاں متاثرین کی تعداد 248 ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا سے متاثرہ مقامی افراد کی تعداد 100 ہوگئی ہے۔
گلگت بلتستان میں مزید 9 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد گلگت بلتستان میں مجموعی تعداد 233 ہوگئی
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ سندھ کی خواہش پر ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں دو ہفتوں کے لئے توسیع کر دی ہے. وزیراعظم عمران خان کا قومی رابطہ کمیٹی اجلاس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد پاکستان سمیت پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ ہم نے انتہائی مشکل حالات میں لاک ڈاؤن پر عمل کیا۔ غریب طبقے کو اس سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
قبل ازیں سندھ کے وزیر اطلاعات و نشریات ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے پر صوبائی حکومت کو کچھ تحفظات ہیں۔ ہم وفاق کے فیصلے پر عمل درآمد کریں گے لیکن ایس او پیز ہمارے ہوں گے۔کورونا وائرس ے بچنے کے لیے ایس او پیز پر سب کو عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔