Baaghi TV

تربت،فتنہ الہندوستان کی بربریت،لیڈی کانسٹیبل شکیلہ شہید،شوہر،بیٹا زخمی

فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیموں کی بربریت، سفاکیت اور درندگی اپنی انتہاء کو پہنچ گئی،تربت میں دہشت گردوں کی سفاکیت ، لیڈی کانسٹیبل شکیلہ اپنے شوہر سنیل اور دو معصوم بچوں کے ساتھ اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے گھر سے نکلی تھیں کہ راستے میں دہشت گردوں کی فائرنگ نے ان کی خوشیوں کو خون میں بدل دیا

بلوچستان کے شہر تربت کے علاقے آبسر میں نامعلوم مسلح افراد کی گاڑی پر فائرنگ سے لیڈی کانسٹیبل شہید ہو گئی ہیں،اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے لیڈی کانسٹیبل کا شوہر اور 5 سالہ بیٹا زخمی ہوئے ہیں،پولیس نے کہا ہے کہ واقعے کے بعد لاش اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

معاون وزیراعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا تھاکہ تربت اور نوشکی میں دہشت گردی کے واقعات، لیڈی کانسٹیبل اور معروف براہوئی ادیب پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں، بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا کھلی بربریت ہے،خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔پروفیسر غمخوار حیات پر حملہ بلوچستان کی علمی، ادبی اور فکری اقدار پر حملہ ہے۔علم و قلم کے دشمن عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔دہشت گرد اساتذہ، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں۔

معاون برائے داخلہ حکومت بلوچستان بابریوسفزئی کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندستان کے دہشت گرد خواتین، اساتذہ اور بلوچستان کے معصوم لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ،بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں۔بلوچستان کے عوام دہشتگردی اور جہالت کے ایجنڈے کو مسترد کرتے ہیں،فتنہ الہندستان کا مقصد بلوچستان میں خوف، جہالت اور بدامنی پھیلانا ہے،تعلیم دشمن عناصر بلوچ نوجوانوں کا مستقبل تاریک کرنا چاہتے ہیں،بلوچستان کے عوام، اساتذہ اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں۔فتنہ الہندوستان نے آج صبح بلوچستان کی دوسری بہادر شہید بیٹی پولیس اہلکار شکیلہ کو نشانہ بنایا،لیڈی کانسٹیبل کو بچوں کے سامنے شہید کرنا کھلی دہشتگردی ہے، بلوچستان پولیس کی بہادر خاتون اہلکار نے وطن پر جان قربان کر دی،شہید لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی،

More posts