Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مقبوضہ کشمیرمیں کرفیواورلاک ڈاؤن کا 172 واں روز،مزید4کشمیری شہید

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیواورلاک ڈاؤن کا 172 واں روز،مزید4کشمیری شہید

    سرینگر:مقبوضہ کشمیرمیں کرفیواورلاک ڈاؤن 172ویں روز میں داخل ہوگیا جبکہ وادی میں ادویات اورخوراک کی قلت تاحال برقرار ہے۔مقبوضہ کشمیر میں مزید 4کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا،اطلاعات کےمطابق سخت سردی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کی طرف سے مظالم کا سلسلہ بھی طویل سے طویل اورسخت سے سخت ترہوتا جارہا ہے،

    ذرائع کےمطابق جنت نظیروادی کشمیر میں بھارت کی طرف سے مسلط کردہ غیر انسانی لاک ڈاؤن اور مواصلاتی بندش کے باعث مسلسل 172ویں روز بھی معمولات زندگی بدستور مفلوج ہیں۔ سڑکیں سنسان، وادی میں دکانیں، کاروبار، تعلیمی مراکز بند ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور ایک کروڑ سے زائد افراد دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید ہیں۔

    سری نگر سے آمدہ اطلاعات کےمطابق وادی میں نام نہاد سرچ آپریشن اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہےاور گزشتہ روز بھارتی فوج نے دو کشمیریوں کو شہید کردیا ۔وادی میں خوراک اور ادویات کی قلت بھی برقرار ہے ۔بھارت نے مظلوم کشمیریوں پر ظلم وبربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور ہزاروں کشمیریوں سمیت مقبوضہ وادی کی سیاسی قیادت کو بھی جیلوں میں بند کر رکھا ہے ۔

    سڑکیں سنسان، وادی میں دکانیں، کاروبار، تعلیمی مراکز بند ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ قابض بھارتی فوج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور ایک کروڑ سے زائد افراد دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید ہیں۔وادی میں خوراک اور ادویات کی قلت بھی برقرار ہے ۔وادی میں موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔

    وادی میں موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔ دوسری جانب مودی سرکار کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکام ہےکشمیری کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کرتے رہے۔واضح رہے کہ 5اگست کو مودی سرکار نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کر کے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر دیا تھا اور بھارت نے کشمیریوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

  • ڈیوس:وزرائے اعظم اورسربراہان مملکت میں سب سے کم اخراجات عمران خان کے ہیں‌،عالمی میڈیا بھی معترف

    ڈیوس:وزرائے اعظم اورسربراہان مملکت میں سب سے کم اخراجات عمران خان کے ہیں‌،عالمی میڈیا بھی معترف

    ڈیووس:اسے کہتے ہیں‌ باعمل قائد،ڈیوس آنے والے وزرائے اعظم اورسربراہان مملکت میں سب سے کم اخراجات عمران خان کے ہیں‌، اطلاعات کے مطابق ڈیوس عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے لیئے آنے والے عالمی رہنماوں میں‌ اگرکسی نے کم اخراجات کیے ہیں تووہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان ہیں‌،

    امریکہ ، برطانیہ سمیت مغرب اور یورپ کے اکثروبیشتراخبارات اورالیکٹرانک میڈیا چینلز نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے دورہ کوبہت اہمیت دیتے ہوئے کہا ہےکہ عمران خان نے عالمی رہنماوں کومتاثرکیا ہے،سب سے سادہ اورکفایت شعاری کی ہے تووہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کی ہے ، امریکی ذرائع ابلاغ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اس وقت دنیا کو عمران خان کے ویژن سے سیکھنے کی ضرورت ہے

    ڈیووس میں تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ڈیووس میں دنیا کی اہم شخصیات سے ملنے کا موقع ملتا ہے، انہوں نے ڈیووس میں پاکستان کا مؤقف عالمی قیادت تک پہنچایا، ڈیووس میں قیام بہت ہی مہنگا ہے، میں حکومت کا پیسا اپنے قیام پر خرچ نہیں کرنا چاہ رہا ،ڈیووس میں میرے قیام کو اکرام سہگل اور محمد عمران اٹھارہے ہیں۔ ڈیووس آنے والے وزرائے اعظم میں سب سے سستا دورہ میرا ہوگا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ انسان کی اصل کامیابی مشکل حالات میں پرامید رہنا ہے، آگے بڑھنے کے لیے مشکل حالات میں جینے کا سلیقہ آنا چاہیے، اکثر لوگ برے حالات میں ہمت ہار دیا کرتے ہیں، میں نے وقت سے سیکھا کہ مشکل حالات کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، جب کرکٹ شروع کی تو پہلے ٹیسٹ میچ میں ہی مجھےڈراپ کردیا گیا تھا، جب میری والدہ کو کینسر ہوا تو پتہ چلا کہ پاکستان میں کینسر اسپتال ہی نہیں۔ والدہ کی تکلیف دیکھ کر فیصلہ کیا پاکستان میں کینسر اسپتال بناوَں گا، آج شوکت خانم میں 75 فیصد غریب لوگوں کا علاج ہورہا ہے اور اسپتال پر سالانہ 10ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ جب آپ ترقی کے زینے پر ہوں تو کبھی غرور نہیں کرنا چاہیے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ کامیابی کے لیے پیچھے مڑنے کا کوئی راستہ نہیں، کامیابی کے حصول کےلیے جدوجہد میں کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں، اس کے لیے کوئی پلان بی نہیں ہونا چاہیے، دوسری پوزیشن پر آنے والے کو کوئی انعام نہیں ملتا، بڑے ہدف کو پانے کے لئے آپ کو اپنی کشتیاں جلانا پڑتی ہیں، جب میں سیاست میں آیا تو تب بھی لوگوں نے میرا مذاق اڑایا، جب سیاست میں آیا تو اس وقت دو سیاسی جماعتیں باری باری اقتدار میں آتی تھیں۔

    اپنے وژن کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی کرنے کےلئے پہلے آپ کو بڑے خواب دیکھنے ہوتے ہیں، قائداعظم اور علامہ اقبال بہترین قائدین تھے، قائد اعظم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے، 60کی دہائی میں پاکستان ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے تھا، پاکستان کی اصل طاقت ہمارے ملک کے عوام ہیں، میرا یقین ہے کہ گڈگورننس سے پاکستان ترقی کرے گا، پاکستانیوں کے پاس صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ وسائل بھی ہیں۔ حکومت سرمایہ کاروں کو سہولت دے رہی ہے۔ ماضی میں تعلیم اور انسانوں پر پیسہ خرچ نہیں کیا گیا، ہم نےغربت کے خاتمے کے لیے احساس پروگرام شروع کیا۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے بہتر نظام حکومت ہونا نا گزیر ہے، پاکستان کے نیچے جانے کی وجہ جمہوری اداروں کا غیر مستحکم ہونا ہے، ہمارا سب سے بڑا چیلنج کرپشن کا خاتمہ ہے، کرپٹ اسٹیٹس کو پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔تنقید سے گھبرانے والا نہیں اور نا ہی اپنے نظریے پر سمجھوتہ کروں گا، بیمارمعیشت کواٹھانےکےلیےتکلیف دہ فیصلےکرنے پڑتے ہیں، ٹیومر نکالنا ہے تو آپریشن کے مرحلے سے بھی گزرنا پڑےگا، ہم نے پہلے سال خسارے میں 75 فیصد کمی کی ہے۔

  • پاکستان نے کیا میزائل کا ایک اور کامیاب  تجربہ، دشمن کسی حماقت سے پہلے سو بار سوچے

    پاکستان نے کیا میزائل کا ایک اور کامیاب تجربہ، دشمن کسی حماقت سے پہلے سو بار سوچے

    پاکستان نے کیا میزائل کا ایک اور کامیاب تجربہ، دشمن خبردار رہے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے غزنوی میزائل کا کامیاب تجربہ کرلیا، میزائل 290 کلومیٹر زمین سے زمین تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے غزنوی میزائل کے تجربے کا مقصد دن اور رات کے وقت آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا تھا، جدید میزائل مختلف قسم کے وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، میزائل تجربے کے موقع پر ڈی جی سٹریٹجک پلانز ڈویژن لیفٹننٹ جنرل ندیم ذکی بھی موجود تھے، مذکورہ تجربہ پاک فوج کی اسٹریٹجک کمانڈ فورسز کی تربیتی مشقوں کا حصہ ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ صدر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے کامیاب تجربے پرافسران، انجنیئرز اور قوم کو مبارکباد دی ہے۔

  • بھارت ہم سے7گنا بڑا ہے لیکن کئی بار شکست دی، وزیراعظم عمران خان

    بھارت ہم سے7گنا بڑا ہے لیکن کئی بار شکست دی، وزیراعظم عمران خان

    بھارت ہم سے7گنا بڑا ہے لیکن کئی بار شکست دی،وزیراعظم عمران خان

    باغی ٹی وی : وزیراعظم نے کہا ہے کہ کامیابی کیلئے پیچھے مڑنے کا کوئی راستہ نہیں، نظریات کے بغیر قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، اکثر لوگ مشکل میں ہمت ہار دیتے ہیں، کرکٹ ٹیم سے نکالنے پر واپسی میں تین سال لگے، انسان کی اصل کامیابی برے حالات میں بھی پرامید رہنا ہے۔
    پاکستان بریک فاسٹ میٹ کی تقریب سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کرپٹ سٹیٹس کو پاکستان کا بھی مسئلہ ہے، کرپٹ افراد اداروں کو تباہ کر دیتے ہیں، ہم آہستہ لیکن بتدریج تبدیلی کی جانب بڑھ رہے ہیں، 40 سال سے تنقید کا سامنا کر رہا ہوں، پاکستان کی ترقی کیلئے بہتر نظام حکومت ہونا نا گزیر ہے، سابقہ حکومتوں نے افرادی قوت، تعلیم و صحت پر اب تک کچھ خرچ نہیں کیا۔

    ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    عمران خان کا کہنا تھا نظریات کے بغیر قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، کامیابی کیلئے پیچھے مڑنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، کامیابی حاصل کرنے کیلئے کوئی پلان بی نہیں ہوتا، 60 کی دہائی میں پاکستان بھرپور ترقی کر رہا تھا اور ہم رول ماڈل تھے، ہماری ڈگریوں کی پذیرائی ہوتی تھی، میرا یقین ہے گڈ گورننس کے باعث پاکستان ترقی کرے گا.
    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں ترقی کے بے پناہ مواقع ہیں،یہاں مذہبی اور تاریخی سیاحت کے بے شمار مقامات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہندو مت، بدھ مت اور سکھ مت کے بے شمار اہم مقامات ہیں جب کہ ملک میں کوہ پیمائی بھی سیاحوں کے لیے دلچسپی رکھتی ہے کیونکہ یہاں پر دنیا کی اونچی چوٹیاں موجود ہیں۔

  • ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ، فیصلہ آج ہوگا،پاکستان کوکلین چٹ ملنے کا امکان

    ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ، فیصلہ آج ہوگا،پاکستان کوکلین چٹ ملنے کا امکان

    بیجنگ:ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ، فیصلہ آج ہوگا،پاکستان کوکلین چٹ ملنے کا امکان،تفصیلات کے مطابق ذرایع نے کہا ہے کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں منی لانڈرنگ روکنے کے لیے 22 مطالبات پر اٹھائے جانے والے اقدامات سے مشترکہ گروپ کو نہ صرف آگاہ کیا بلکہ اپنی کارکردگی کی رپورٹ بھی پیش کر دی ہے۔

    گزشتہ روز بیجنگ میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اورٹیرر فنانسنگ کے خلاف کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مذاکرات کے دوران پاکستان نےایف اے ٹی ایف حکام کو گزشتہ ساڑھے چار ماہ کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر حماد اظہر نے بریفنگ میں بتایا کہ کالعدم تنظیموں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، منی لانڈرنگ روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے، ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے کیس رجسٹریشن 451 فی صد اضافے کے ساتھ 827 ہو گئی، اس حوالے سے گرفتاریوں کی تعداد 1104 رہی، جو چھ سو ستتر فی صد زیادہ ہے۔

    پاکستان نے بتایا کہ ٹیرر فنانسنگ کیسز میں سزائیں دینے کے عمل میں 403 فی صد کا اضافہ ہوا جب کہ 196 سزائیں ہوئیں، ٹیرر فنانسنگ کے کیسز میں اکتیس کروڑ بیالیس لاکھ کی برآمدگی ہوئی اور خیبر پختون خوا میں 387 کیسز رجسٹرڈ ہوئے، ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف حکام نے پاکستان کی رپورٹ پر اظہار اطمینان کیا۔

  • پرچی کے بغیر خطاب، عالمی اقتصادی فورم کے صدر بھی عمران خان کے معترف، پاکستانیوں کی خوش قسمتی عمران خان جیسا لیڈرملا،بورگے برینڈے

    پرچی کے بغیر خطاب، عالمی اقتصادی فورم کے صدر بھی عمران خان کے معترف، پاکستانیوں کی خوش قسمتی عمران خان جیسا لیڈرملا،بورگے برینڈے

    ڈیوس:پرچی کے بغیر خطاب، عالمی اقتصادی فورم کے صدر بھی عمران خان کے معترف،کہاکہ پاکستانیوں کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں عمران خان جیسا لیڈرملا،اطلاعات کےمطابق عالمی اقتصادی فورم کے صدربورگے برینڈے
    پاکستانی وزیراعظم کی گفتگوسے بہت زیادہ متاثرہوئے ہیں‌،بورگے برینڈے نے کہا ہے کہ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان کوعمران خان جیسا لیڈرملا ہے، اوردنیا کو بھی عمران خان کے ویژن کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے

    باغی ٹی و ی کےمطابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں موجود ہیں جہاں انہوں نے عالمی اقتصادی فورم سے بھی خطاب کیا۔وزیراعظم کا خطاب تقریباً14 منٹ پر مشتمل تھا جس میں انہوں نے مختلف پہلوؤں پر اختصار کے ساتھ اظہار خیال کیا۔اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان کی معاشی اور خارجہ پالیسی سمیت ماحولیاتی مسائل سے متعلق اہم امور پر بات کی۔

    ڈیوس سے ذرائع کےمطابق پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بعد تقریب کے میزبان اور عالمی اقتصادی فورم کے صدر بورگے برینڈے نے عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر عالمی اقتصادی فورم کے صدر نے وزیراعظم کی جانب سے بغیر اسکرپٹ اور پرچی دیکھے بغیر ملکی نتائج اور عزائم پر مشتمل تقریرکو سراہا۔

     

     

    https://web.facebook.com/ImranKhanOfficial/videos/198325034641845/

     

    عالمی اقتصادی فورم کے صدر بورگے برینڈے کاکہنا تھا کہ گذشتہ سال پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ (ایف ڈی آئی) میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے،جس کی وجہ یقیناً جیسا کہ آپ نے کہا کہ ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری ہے۔انہوں نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ کیا وہ ملک میں سیکیورٹی کی موجودہ بہتر صورتحال کو برقرار رکھ پائیں گے تاکہ بیرونی سرمایہ کاری بالخصوص توانائی کے شعبے میں مزید ترقی ہوسکے۔

    عالمی اقتصادی فورم کے صدر بورگے برینڈے کے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2019 نائن الیون کے بعد سے پاکستان کے لیے سب سے پرامن سال رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان نے امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی تو امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور بم دھماکے شروع ہوگئے، ایسی صورتحال میں تو بیرونی سرمایہ کاری کا سوال ہی نہیں تھا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اس لیے ہم سمجھتے کہ معاشی ترقی کے لیے امن کا ہونا کتنا ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی کی بہتر صورتحال کی وجہ سے ملک میں سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوا ہے اور 2019 میں 2018 کے مقابلے میں سیاحت دگنی ہوگئی ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں ترقی کے بے پناہ مواقع ہیں،یہاں مذہبی اور تاریخی سیاحت کے بے شمار مقامات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہندو مت، بدھ مت اور سکھ مت کے بے شمار اہم مقامات ہیں جب کہ ملک میں کوہ پیمائی بھی سیاحوں کے لیے دلچسپی رکھتی ہے کیونکہ یہاں پر دنیا کی اونچی چوٹیاں موجود ہیں۔

  • امریکی صدر ٹرمپ کا کب ہو گا دورہ پاکستان؟ پہلے جائیں گے کہاں؟

    امریکی صدر ٹرمپ کا کب ہو گا دورہ پاکستان؟ پہلے جائیں گے کہاں؟

    امریکی صدر ٹرمپ کا کب ہو گا دورہ پاکستان؟ پہلے جائیں گے کہاں؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کا دورہ کریں گے تا ہم پاکستان کے دورے سے قبل وہ بھارت جائیں گے اور بھارت سے دوبارہ امریکہ واپس جائیں گے، پاکستان کے لئے انکا دورہ الگ ہو گا.

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ ورلڈاکنامک فورم میں دنیاکے بڑے سرمایہ کار آئے ہیں، صدر ٹرمپ اوروزیراعظم عمران خان کھل کربات کرتے ہیں، وزیراعظم عمران خان اورصدرٹرمپ کی ملاقات مفیدرہی،

    ڈاکٹر معید یوسف کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدرٹرمپ نےکہا تھوڑے وقت کیلئے پاکستان نہیں آنا چاہتا، ٹرمپ نےکہا دورہ بھارت کے بعد واپس امریکا جا کر پاکستان آؤں گا، صدرٹرمپ فروری میں پاکستان نہیں آئیں گے،

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیوس میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کا قومی لباس شلوار قمیض پہن رکھا تھا، وزیراعظم عمران خان نے کالے رنگ کی شلور قمیض اور نیلے رنگ ویسٹ کورٹ پہن رکھی تھی. وزیراعظم نے مشہور پشاوری چپل پہنی ہوئی تھی.

    امریکی صدر سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم کے قومی لباس کو سوشل میڈیا صارفین نے سراہا ہے.

    ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ وزیراعظم عمران خان پاکستان و بیرون ملک جہاں بھی جاتے ہیں قومی لباس ہی زیب تن کرتے ہیں ، وزیراعظم عمران خان گزشتہ برس ماہ جولائی میں امریکی صدر سے ملنے وائیٹ ہاؤس بھی پاکستان کے قومی لباس میں گئے تھے، وزیراعظم نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی،انہوں نے نیلی شلوار قمیض کے اوپر ویسٹ کوٹ بھی پہنا ہوا ہے، وزیراعظم عمران خان صوبہ خیبر پختونخواہ کے مشہور پشاوری چپل پہن کر وائیٹ ہاوس گئے ہیں.

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہو رہی ہے، وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ٹرمپ سے بے تکلفانہ گفتگو کرتے رہے اور گفتگو کرتے ہوئے مسکراتے رہے

    وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کا اعلامیہ جاری.تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مستحکم کرنے پراتفاق ہوا .ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال،اعلامیہ،وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کے حل کےلیےامریکی کردار کی ضرورت پر زوردیا، انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیرجنوبی ایشیا میں پائیدارامن ممکن نہیں،صدرٹرمپ نے مسئلہ کشمیر اورپاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلیےتعاون کی خواہش کااعادہ کیا،ملاقات میں افغان مفاہمتی و امن عمل سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گی،ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی.فریقین کو تناوَکم کرنے کےلیے برداشت کا مظاہرہ اور سفارتی چینل استعمال کرنا چاہیے،

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیڑھ سال کے دوران یہ تیسری ملاقات ہے، انہوں نے ہمیشہ امریکی صدر کے سامنے پاک بھارت تنازعات میں سرفہرست کشمیر ایشو کو اجاگر کیا۔ دو ملاقاتیں امریکہ میں ہوئی تھیں،

    ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں جس پر بھارت سیخ پا ہو گیا تھا.

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی بھی وزیراعظم عمران خان کی مداح نکلیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی بھی وزیراعظم عمران خان کی مداح نکلیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی بھی وزیراعظم عمران خان کی مداح نکلیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کی ملاقات ہوئی ہے.

    ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری بھی شریک تھے،ملاقات میں پاکستان میں تعلیم وتربیت سےمتعلق ایوانکاٹرمپ کے ممکنہ پروگرام پربات چیت کی گئی. ایوانکا ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے پاکستان بارے اقدامات کو سراہا.ملاقات میں امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات و دیگر امور پر بات چیت کی گئی

    وزیراعظم عمران خان کی اردن کےہم منصب سےبھی ملاقات ہوئی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اورباہمی دلچسپی کےامورپربات چیت کی گئی،

    وزیراعظم عمران خان سے امریکی سیکرٹری برائےٹرانسپورٹ کی بھی ملاقات ہوئی.

    وزیراعظم عمران خان سے فیس بک کےچیف آپریٹنگ آفیسرکی ملاقات ہوئی، سربراہ ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس ودیگرارکان بھی ملاقات میں شریک ہوئے، ملاقات میں پاکستان میں فیس بک کےموثراستعمال پرتبادلہ خیال کیا گیا.

    وزیراعظم عمران خان نے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر گلوبل ویکسین الائنس سیٹھ برکلے سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز سیّد ذوالفقار عباس بخاری اور سرمایہ کاری کے بارے میں سفیر عمومی علی جہانگیر صدیقی بھی موجود تھے۔

    وزیراعظم عمران خان نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو پاکستان میں صحت کے شعبہ کے فروغ کیلئے حکومت کی پالیسی اصلاحات کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے گلوبل ویکسین الائنس کی جانب سے بچوں کیلئے مہلک تاہم قابل علاج مرض میں پاکستان کی معاونت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معمول کے قطرے پلانے کے شیڈول میں ٹائیفائیڈ ویکسین کو بھی شامل کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ وزیراعظم نے ملک سے پولیو کے خاتمہ اور حفاظتی ٹیکہ جات کے ہدف کے حصول کیلئے حکومتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معمول کے ٹیکہ جات پروگرام کیلئے مالی اعانت کا طریقہ کار وضع کر رہی ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر گلوبل ویکسین الائنس سیٹھ برکلے نے حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کا اعتراف کیا اور اپنے ادارہ کے مکمل تعاون اور حمایت کا یقین دلای

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیوس میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کا قومی لباس شلوار قمیض پہن رکھا تھا، وزیراعظم عمران خان نے کالے رنگ کی شلور قمیض اور نیلے رنگ ویسٹ کورٹ پہن رکھی تھی. وزیراعظم نے مشہور پشاوری چپل پہنی ہوئی تھی.

    امریکی صدر سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم کے قومی لباس کو سوشل میڈیا صارفین نے سراہا ہے.

    ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ وزیراعظم عمران خان پاکستان و بیرون ملک جہاں بھی جاتے ہیں قومی لباس ہی زیب تن کرتے ہیں ، وزیراعظم عمران خان گزشتہ برس ماہ جولائی میں امریکی صدر سے ملنے وائیٹ ہاؤس بھی پاکستان کے قومی لباس میں گئے تھے، وزیراعظم نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی،انہوں نے نیلی شلوار قمیض کے اوپر ویسٹ کوٹ بھی پہنا ہوا ہے، وزیراعظم عمران خان صوبہ خیبر پختونخواہ کے مشہور پشاوری چپل پہن کر وائیٹ ہاوس گئے ہیں.

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہو رہی ہے، وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ٹرمپ سے بے تکلفانہ گفتگو کرتے رہے اور گفتگو کرتے ہوئے مسکراتے رہے

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیڑھ سال کے دوران یہ تیسری ملاقات ہے، انہوں نے ہمیشہ امریکی صدر کے سامنے پاک بھارت تنازعات میں سرفہرست کشمیر ایشو کو اجاگر کیا۔ دو ملاقاتیں امریکہ میں ہوئی تھیں،

    ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں جس پر بھارت سیخ پا ہو گیا تھا.

  • جنگ شروع ہوئی تو ختم نہیں ہو سکے گی،بھارت کا تذکرہ مناسب نہیں، وزیراعظم

    جنگ شروع ہوئی تو ختم نہیں ہو سکے گی،بھارت کا تذکرہ مناسب نہیں، وزیراعظم

    جنگ شروع ہوئی تو ختم نہیں ہو سکے گی،بھارت کا تذکرہ مناسب نہیں، وزیراعظم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کسی جنگ نہیں بلکہ صرف امن میں شراکت دار بنے گا۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے تو سب کے لیے تباہ کن ہوگا، کل میں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ تباہ کن ہوگی، افغانستان کا مسئلہ حل نہیں ہوا، ایران سے بڑا مسئلہ بنے گا۔

    عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم ایران امریکا اور ایران سعودی عرب مذاکرات کی کوشش کرا رہے ہیں۔ پاکستان انتہائی اہم ممالک کے درمیان واقع ہے۔ بد قسمتی سے بھارت کے ساتھ تعلقات ایسے نہیں جیسے ہونے چاہئیں۔ اس فورم پر بھارت کے ساتھ اپنے معاملات کو تذکرہ کرنا مناسب نہیں۔ جس وقت ہمارے تعلقات بہتر ہوئے دونوں ملک انتہائی تیزی سے اوپر جائیں گے.

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ابھی دہشت گردی کا کوئی وجود نہیں۔ افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ ہمسایہ ملک میں امن صرف افغان حکومت اور طالبان مذاکرات سے قائم ہو گا۔ اس میں رکاوٹیں ہیں لیکن یہ واحد حل ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ریاستیں مسائل کا حل جنگ میں کیوں ڈھونڈ رہی ہیں، جنگ شروع کی جاسکتی ہے لیکن اسے ختم کرنا کسی کے ہاتھ میں نہیں۔ اگر کسی ملک سے شراکت کی تو جنگ کے لیے نہیں امن کے لیے کریں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کسی جنگ کا حصہ نہیں ہو گا کیونکہ امن و استحکام کے بغیر معیشت کو مضبوط نہیں کیا جاسکتا۔ معیشت کے لیے امن کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جب آپ کے معاشرے میں مسلح گروپ ہوں تو یہ ممکن نہیں ہوتا نائن الیون کے بعد پاکستان کو خطرناک ملک قرار دیا گیا۔ جب میں حکومت میں آیا تو یہ طے کیا کہ ہم کسی جنگ کا حصہ نہیں ہوں گے بلکہ مسائل کے حل کا حصہ ہوں گے۔ افغانستان کے امن عمل میں پاکستان امریکا کو طالبان سے مذاکرات کے لیے تعاون کررہا ہے۔ اگر کسی ملک سے شراکت کی تو جنگ کے لیے نہیں امن کے لیے کریں گے۔

    خطاب کے بعد سوال و جواب کے سیشن کے دوران وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ان پر واضح کر دیا کہ اگر ایران کیساتھ جنگ ہوئی تو پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو گی۔ اس موقع پر میزبان نے ان سے پوچھا کہ ٹرمپ کا اس پر رد عمل کیا تھا جس پر وزیراعظم نے بتایا کہ وہ خاموش رہے۔ مشرق وسطی میں کشیدگی کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کررہے ہیں۔ ہم نے تہران اور ریاض میں کشیدگی کم کرانے میں مدد کی۔ ہم کبھی کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت کے صدر پرویز مشرف ہمیں بتایا کرتے تھے کہ صرف چند ہفتوں کی بات ہے، اربوں ڈالرز اور لاکھوں جانیں گنوانے کے بعد ہمیں خیال آیا کہ ہم غلطی پر تھے۔ جب میں نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان میں 10 ارب درخت لگانے کا اعلان کیا جس کے لیے خیبر پختونخوا کے ہمارے تجربے کو استعمال کیا۔ درخت لگانا ہمارے لیے دو معنوں میں ضروری ہے، ایک تو پاکستان میں ماحول کے لیے ضروری ہے اور دوسری آلودگی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کیونکہ لاہور میں آلودگی بڑھ گئی ہے۔ آپ اپنی معیشت کو امن و استحکام کے بغیر مستحکم نہیں کرسکتے، پاکستان نے افغان جنگ میں حصہ لیا اور جب روس افغانستان سے چلاگیا تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معدنیات کا بہت بڑا ذخیرہ ہے جسے کبھی دریافت ہی نہیں کیا گیا، ہمارے پاس سونے، تانبے اور کوئلہ کے بہت بڑے بڑے ذخائر ہیں، پاکستان کے پاس سب سے بہترین زرعی زمین ہے، چین کی مدد سے ہم زرعی پیداوارو کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری لارہےہیں، روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ معیشت کی بحالی پر معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، وقت کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر میں استحکام آرہا ہے۔ حکومت ملی تو ملک تاریخ کے بڑے معاشی بحران کا شکار تھا۔ عوامی رد عمل کے باوجود ہم نے سخت فیصلے کیے، اب ہماری سٹاک مارکیٹ اوپر جاری ہے اور معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ خواہش ہے کمزور طبقے کو مواقع فراہم کروں۔ معاشی حالات کی بہتری کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑے۔ حکومت ملی تو ملک تاریخی خسارے کا شکار تھا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں، 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہم نے اب نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا پروگرام ترتیب دیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیوس میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کا قومی لباس شلوار قمیض پہن رکھا تھا، وزیراعظم عمران خان نے کالے رنگ کی شلور قمیض اور نیلے رنگ ویسٹ کورٹ پہن رکھی تھی. وزیراعظم نے مشہور پشاوری چپل پہنی ہوئی تھی.

    امریکی صدر سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم کے قومی لباس کو سوشل میڈیا صارفین نے سراہا ہے.

    ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ وزیراعظم عمران خان پاکستان و بیرون ملک جہاں بھی جاتے ہیں قومی لباس ہی زیب تن کرتے ہیں ، وزیراعظم عمران خان گزشتہ برس ماہ جولائی میں امریکی صدر سے ملنے وائیٹ ہاؤس بھی پاکستان کے قومی لباس میں گئے تھے، وزیراعظم نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی،انہوں نے نیلی شلوار قمیض کے اوپر ویسٹ کوٹ بھی پہنا ہوا ہے، وزیراعظم عمران خان صوبہ خیبر پختونخواہ کے مشہور پشاوری چپل پہن کر وائیٹ ہاوس گئے ہیں.

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہو رہی ہے، وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ٹرمپ سے بے تکلفانہ گفتگو کرتے رہے اور گفتگو کرتے ہوئے مسکراتے رہے

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیڑھ سال کے دوران یہ تیسری ملاقات ہے، انہوں نے ہمیشہ امریکی صدر کے سامنے پاک بھارت تنازعات میں سرفہرست کشمیر ایشو کو اجاگر کیا۔ دو ملاقاتیں امریکہ میں ہوئی تھیں،

    ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں جس پر بھارت سیخ پا ہو گیا تھا.

  • وزیراعظم عمران خان کی ڈیووس میں عالمی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں،عمران خان پراظہاراعتماد

    وزیراعظم عمران خان کی ڈیووس میں عالمی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں،عمران خان پراظہاراعتماد

    ڈیوس: وزیراعظم عمران خان کی ڈیووس میں عالمی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں،عمران خان پراظہاراعتماد کرکے دنیا کو ایک اہم پیغام دے دیا :وزیراعظم عمران خان نے ڈیووس میں مختلف ممالک کے سربراہان مملکت کے علاوہ عالمی اداروں کے صدور سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ورلڈاکنامک فورم میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں موجود ہیں جہاں ان کے دورے کا دوسرا روز بھی مصروف گزرا۔

    وزیراعظم عمران خان سے یوٹیوب کی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سوزن وجسيكی نے بھی ملاقات کی۔ملاقات میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے، سیاحت کے فروغ اور سرمایہ کاری کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کے ڈیجیٹل وژن پروگرام کی سربراہ تانیہ ایدرس، معاون خصوصی برائے سمندرپار پاکستانی زلفی بخاری اوربیرونی سرمایہ کاری کے اعزازی سفیر علی جہانگیر صدیقی بھی موجود تھے۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے ٹیکنالوجی کمپنی سیمنز کے سی ای او جوئے کائسر سے بھی ملاقات کی جس میں ٹیکنالوجی کے تبادلے، سرمایہ کاری اور مہارت بڑھانے کے لیے تعاون پرگفتگو کی گئی

    باغی ٹی وی کے مطابق ڈیوس میں وزیراعظم عمران خان سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی صدر کرسٹالینا جارجیوا نے ملاقات کی۔ ملاقات میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر اور بیرونی سرمایہ کاری کے اعزازی سفیر علی جہانگیر صدیقی بھی موجود تھے۔

    اس کے علاوہ ذرائع کےمطابق ڈیوس میں وزیراعظم سے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے صدر مساتسوگا آساکاوا نے بھی ورلڈ اکنامک فورم کی سائیڈ لائن پر ملاقات کی۔ وزیراعظم سے ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور بیرونی سرمایہ کاری کے اعزازی سفیر علی جہانگیر صدیقی بھی موجود تھےخیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے گزشتہ روز ڈیووس پہنچے تھے جہاں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔