Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • میرے اور  مہاتیر محمد کے مسائل میں یکسانیت ہے ، وزیر اعظم

    میرے اور مہاتیر محمد کے مسائل میں یکسانیت ہے ، وزیر اعظم

    میرے اور مہاتیر محمد کے مسائل میں یکسانیت ہے ، وزیر اعظم کی ٹویٹ

    باغی ٹی وی :وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ کرتےہوئے اپنے مسائل کو تشبیہ دے کر بیان کیا ہے اور یہ تشبیہ ان کی اپنے ہم منصب کے ساتھ ہے انہوں نے کہا ہےکہ ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد اور مجھے ایک طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ مہاتیر محمد مسلم امہ کے سب سے زیادہ تجربہ کار مدبر سیاستدان ہیں، وہ بھی پول مافیا جیسی مشکلات کا مقابلہ کررہے ہیںانہوں نے کہا کہ پول مافیا نے ملائیشیا کو دیوالیہ،مقروض اور ریاستی اداروں کو تباہ کردیا ہے۔واضح رہے کہ عمران خان بھی ملک میں معیشت کی بحالی اور کرپشن کے خاتمے سمیت ادارو‌ں کی اصلاحات سمیت کافی پلان کو اپنے انتخابات کا ایجنڈہ بنا کر آئے ہیں.اور اب اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کوشاں بھی ہیں جس میں ان کو کافی مشکلات کا سامنا بھی ہے .

  • وزیر خارجہ تین روزہ اہم دورہ امریکہ مکمل کرکے وطن واپس ، کیا سمیٹی کامیابی

    وزیر خارجہ تین روزہ اہم دورہ امریکہ مکمل کرکے وطن واپس ، کیا سمیٹی کامیابی

    وزیر خارجہ تین روزہ اہم دورہ امریکہ کامیابی کے ساتھ مکمل کرکے واپس وطن روانہ

    باغی ٹی وی : امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر ڈاکٹر اسد مجید اور سفارت خانے کے سنیر حکام نے وزیر خارجہ کو الوداع کیا،وزیر خارجہ کا یہ دورہ ء امریکہ دو مرحلوں پر مشتمل تھا

    پہلے مرحلے میں وزیر خارجہ نیویارک گئے جہاں ان کی سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ،صدر سیکورٹی کونسل اور صدر جنرل اسمبلی کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور پاکستان کے خدشات کو بار_دگر باور کروایا
    وزیر خارجہ نے اپنے دورہ ء امریکہ کے دوسرے مرحلے میں امریکی سینٹ کے سینیئر اراکین ، وزیر خارجہ مائیک پومپیو، امریکی مشیر برائے قومی سلامتی اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں؛

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    کشمیر کے لیے ‏‎آخری گولی،آخری سپاہی،آخری حد تک جائیں گے،ترجمان پاک فوج

    بھارت سن لے، جنگیں اسلحہ سے نہیں جذبہ حب الوطنی سے لڑی جاتی ہیں، ترجمان پاک فوج

    وزیر خارجہ نے ان ملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے ، افغان مفاہمتی عمل ،خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں اور اپنے حالیہ دورہ ء ایران و سعودی عرب سے آگاہ کیا -امریکی حکام کی طرف سے قیام امن کیلئے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا جانا پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہےوزیر خارجہ نے واشنگٹن میں پاکستان کانگریشنل کاکس اور پاکستانی کمیونٹی سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں اور پاک امریکہ تعلقات کو آگے بڑھانے اور اسے مزید مستحکم بنانے میں ان کے کردار کی تعریف کیوزیر خارجہ نے بین الاقوامی میڈیا سے بھی گفتگو کی اور اپنے دورہ ء امریکہ کے اغراض و مقاصد اور امریکی حکام سے ہونیوالی اہم ملاقاتوں کی تفصیلات پر روشنی ڈالی.خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں وزیر خارجہ کے اس دورہ ء امریکہ کو اہم سفارتی کامیابی سمجھا جا رہا ہے اسی لئے سفارتی حلقوں میں وزیر خارجہ کے اس دورے کو بہت پذیرائی مل رہی ہے

  • وزیر خارجہ کا قطر کا مختصر دورہ،قطری نائب وزیراعظم و ہم منصب سے ملاقات، کیا ہوئی بات؟ اہم خبر

    وزیر خارجہ کا قطر کا مختصر دورہ،قطری نائب وزیراعظم و ہم منصب سے ملاقات، کیا ہوئی بات؟ اہم خبر

    وزیر خارجہ کا قطر کا مختصر دورہ،قطری نائب وزیراعظم و ہم منصب سے ملاقات، کیا ہوئی بات؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خطے میں محاذ آرائی کسی فریق کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوگی۔ معاملات کو سفارتی کوششیں بروئے کار لاتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے سلجھانے کی کوشش کرنے چاہیے۔

    ان خیالات کا اظہار وزیر خارجہ شاہ محمود نے امریکہ سے واپسی پر قطر میں قیام کے دوران دوحہ میں قطری ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی سے ملاقات کے دوران کیا، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، افغان امن عمل اور خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں وزرائے خارجہ کے مابین مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی پر قابو پانے کیلئے، سفارتی کاوشیں بروئے کار لانے کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے اپنے قطری ہم منصب کو خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور قیام امن کیلئے پاکستان کی طرف سے جاری کاوشوں سے بھی آگاہ کیا۔

    قطری ڈپٹی وزیراعظم نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ قطر کو سراہتے ہوئے افغان امن عمل سمیت خطے میں قیام امن کیلیے پاکستان کی مصالحانہ کاوشوں کی تعریف کی۔

    وزیر خارجہ نے قطری ہم منصب کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی کے نہتے 80 لاکھ کشمیری گزشتہ 5 ماہ سے مسلسل لاک ڈاؤن، قید و بند کی صعوبتوں سمیت طرح طرح کے بھارتی مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ قطر کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان، قطر کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے مابین کثیر الجہتی تعاون کو بڑھانے کا متمنی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمان بھارتی استبداد سے نجات حاصل کرنے کیلئے اقوام عالم بالخصوص مسلم امہ کی طرف دیکھ رہےہیں۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں محاذ آرائی کسی فریق کے لیے سود مند نہیں ہوگی، معاملات کو سفارتی کوششیں بروئے کار لاتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے سلجھانے کی کوشش کرنے چاہیے۔ افغانستان میں امن کیلئے پاکستانی مخلصانہ، مصالحانہ کوششوں کو عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے، افغان طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی بحالی سے 40 سالہ طویل محاذ آرائی کے خاتمے، خطے میں قیام امن کی راہ ہموار ہونے کے روشن امکانات بن رہے ہیں۔

    وزیر خارجہ نے قطری ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی کو خطے میں کیے گئے اپنے حالیہ دوروں اور مختلف وزرائے خارجہ سے ہونے والے ٹیلیفونک رابطوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خطے میں تناؤ اور کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق رائے کا پایا جانا خوش آئند بات ہے. پاکستان، فریقین کو محاذ آرائی سے بچنے اور سفارتی ذرائع بروئے کار لا کر،مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا تاکہ خطے کا امن، خطرات سے دو چار نہ ہو.

    وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی قطر کے دورے کے بعد پاکستان واپس روانہ ہو گئے انہیں پاکستانی سفیر اور قطری حکام نے الوداع کیا.

    کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

    ‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

    یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

    کشمیر کے لیے ‏‎آخری گولی،آخری سپاہی،آخری حد تک جائیں گے،ترجمان پاک فوج

    بھارت سن لے، جنگیں اسلحہ سے نہیں جذبہ حب الوطنی سے لڑی جاتی ہیں، ترجمان پاک فوج

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تین روزہ اہم دورہ امریکہ کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد وطن روانہ ہو گئے، وزیر خارجہ کی نیویارک میں سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ،صدر سیکورٹی کونسل اور صدر جنرل اسمبلی کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں

    وزیرخارجہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر پاکستان کے خدشات ظاہر کئے،وزیر خارجہ نے امریکی سینٹ کے سینیئر اراکین ، وزیر خارجہ مائیک پومپیو، امریکی مشیر برائے قومی سلامتی اور دیگر اہم شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں, وزیرخارجہ نےملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے،افغان مفاہمتی عمل ،خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں اور اپنے حالیہ دورہ ایران و سعودی عرب سے آگاہ کیا.

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کی طرف سے قیام امن کیلئے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا جانا پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے،وزیر خارجہ نے واشنگٹن میں پاکستان کانگریشنل کاکس اور پاکستانی کمیونٹی سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں اور پاک امریکہ تعلقات کو آگے بڑھانے اور اسے مزید مستحکم بنانے میں ان کے کردار کی تعریف کی.

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ کے دورے سے قبل عمان کا بھی دورہ کیا، عمران سے قبل سعودی عرب اور ایران کا بھی دورہ کیا

  • ایم کیو ایم پھر نہ مانی، جہانگیر ترین کو بھی ہوئی ناکامی، اگلے مذاکرات کب ہوں گے؟ اعلان کر دیا

    ایم کیو ایم پھر نہ مانی، جہانگیر ترین کو بھی ہوئی ناکامی، اگلے مذاکرات کب ہوں گے؟ اعلان کر دیا

    ایم کیو ایم پھر نہ مانی، جہانگیر ترین کو بھی ہوئی ناکامی، اگلے مذاکرات کب ہوں گے؟ اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی بنائی گئی حکومتی کمیٹی نے ایم کیو ایم مرکز کا دورہ کیا، خالد مقبول صدیقی کو کابینہ میں واپسی کی پیشکش کی لیکن وہ نہ مانے جس کے بعد مذاکرات کے اگلے دور پر اتفاق کے بعد حکومتی کمیٹی اور اتحادی جماعت نے پریس کانفرنس کی

    ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادرآباد پر پاکستان تحریک انصاف کا اعلی سطحی وفد وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ایم کیو ایم پاکستان کے صدر دفتر میں ملاقات کی۔تحریک انصاف کے وفد میں جہانگیر ترین،وفاقی وزیر اسد عمر،ارباب شہزاد،سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیدر فردوس شمیم نقوی،اراکین سندھ اسمبلی خرم شیر زمان،حلیم عادل شیخ،جمال صدیقی،حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن ارباب شہزاد اور دیگر بھی موجود تھے جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی،سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان،ڈپٹی کنوینرزنسرین جلیل،کنور نوید جمیلو اراکین رابطہ کمیٹی ملاقات میں موجود تھے۔ایم کیو ایم پاکستان کے رکن رابطہ کمیٹی و ممبر قومی اسمبلی سید امین الحق اراکین رابطہ کمیٹی فیصل سبزواری،ابو بکر صدیقی،ارشاد ظفیر،شکیل احمد،زاہد منصوری،راشد سبزواری و دیگر نے پی ٹی آئی کے وفد کا استقبال کیا

    سہ پہر چار بجے سے شروع ہونے والی ملاقات بغیر کسی وقفے کے چھ بجے تک جاری رہی۔بعد ازاں نماز مغرب کے بعد میڈیا نمائندگان سے پی ٹی آئی کے وفد کے سربراہ پرویز خٹک اور ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مشترکہ گفتگوکی۔

    کنوینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا اہم وفد آج ایم کیو ایم کے مرکز آیا ہے جو جسے ہم نے دل سے خوش آمدید کہا وفد بہت یقین کے ساتھ آیا اور ہم نے امیدوں کے ساتھ ان کا انتظار کیا ہماری گفتگو مثبت رہی ہے اور ہم نے پی ٹی آئی کی حکومت کی حمایت کی تھی اور اس وعدے کو نبھاتے آئے ہیں ہم نے اتحاد کرتے وقت انہیں شہری سندھ کے تمام مسائل سے آگا ہ کیا تھا،ہم نے اپنا نکتہ نظر پی ٹی آئی کے سامنے رکھا تھا جس پر اتفاق ہواجو بعد میں تیرہ نکاتی معاہدوں کی شکل میں سامنے آگیا۔ہم نے کوئی بھی معاہدہ اپنی ذات کیلئے نہیں کیا بلکہ خالصتاعوام کے مفاد میں کئے گئے نکات تھے کیونکہ گیارہ سال سے سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ معاشی دہشت گردی کی جارہی تھی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے دھوکہ دیا گیا اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے ان پر قبضہ کر لیا گیا ہم نے باور کیا ہے کہ سندھ کے شہری علاقے نزاع کے عالم میں ہیں انہیں آئی سی یو سے نکالا جائے ہم صرف سندھ کے شہری عوام کا نہیں بلکہ پاکستان بھر کی عوام کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ کراچی نے وفاق کو 65فیصد سے ذائد ٹیکس دیا ہے ہمیں اسی میں سے ہمارا جائز حصہ دے دیا جائے۔

    وفاقی وزیر دفاع اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان اوروفاقی حکومت کے درمیان کوئی ناراضگی نہیں ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا وفاقی کابینہ سے علیحدہ ہونے کے فیصلے کے بعد جو غلط فہمیاں پھیلادی گئی تھیں مختلف معاملات پر بات کرنے کے علاوہ ہم ان ابہام کو بھی دور کرنے آئے تھے ایم کیو ایم کے پیش کردہ تمام نکات پر سحر حاصل گفتگو ہوئی ہے جس پر ہم کافی نکات پر ہم میں انفاق رائے ہوگیا ہے اور جلد اسلام آباد میں دوسرا سیشن ہوگا جس کے بعد آپ خوش خبریاں سنیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں ہم نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے وفاقی کابینہ میں واپس آنے کی درخواست کی ہے اور ایم کیو ایم ہماری اتحادی ہے اور رہے گی ہم اپنا ٹرن اوور ایک ساتھ مکمل کریں گے۔ میڈیا نمائندگان کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے باور کیا کہ جمہوریت کے استحکام اور اتحادیوں کی شکایات کو دور کرنے کیلئے رابطوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    مذاکراتی کمیٹی کے رکن جہانگیر ترین نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ہم جھوٹے وعدے نہیں کررہے عملی کام کرکے دکھائیں گے۔

  • میری قوم کے جوانوں ! میں  تمھارے مستقبل کی جنگ لڑرہا ہوں،نئی نسل کوکرپشن اورمافیا سے بچانا چاہتا ہوں ، عمران خان

    میری قوم کے جوانوں ! میں تمھارے مستقبل کی جنگ لڑرہا ہوں،نئی نسل کوکرپشن اورمافیا سے بچانا چاہتا ہوں ، عمران خان

    اسلام آباد:میری قوم کے جوانوں !میں تمھارے مستقبل کی جنگ لڑرہا ہوں،نئی نسل کوکرپشن اورمافیا سے بچانا چاہتا ہوں ، اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کرپشن اور مافیا کو ختم کرنے کے لیے آخری حد تک لڑائی لڑوں گا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے وفد نے ملاقات کی، جس میں درپیش چیلنجز،مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات سمیت ڈیجیٹل میڈیا سیکٹرمیں نوجوانوں کے لیے مواقع اور دیگر ایشوز پر گفتگو کی گئی۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان مشکل معاشی صورت حال سے نکل آیا ہے، نوجوانوں کے لیے آسان اقساط میں کاروبار کے لیے قرض دیں گے، کرپشن مافیا کو ختم کرنے کے لیے آخری حد تک لڑائی لڑوں گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے پوٹینشل موجود ہے، پاکستان کو عالمی سطح پر بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا اب بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

    وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے دور میں ڈیجیٹل میڈیا بہترین کردار ادا کرسکتاہے، پاکستان کے درست تشخص کے لیے ڈیجیٹل میڈیا مؤثر ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے کشمیریوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کریں، اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کا کردار اہم ہے۔

  • ہم مستحکم معیشت چھوڑ کرگئے،عمران خان کی حکومت نے معشیت تباہ کی ، اسحاق ڈارکا دعویٰ

    ہم مستحکم معیشت چھوڑ کرگئے،عمران خان کی حکومت نے معشیت تباہ کی ، اسحاق ڈارکا دعویٰ

    اسلام آباد:نوازشریف حکومت نے کوئی قرض نہیں لیا سب جھوٹ ہے،پی ٹی آئی نے ملکی معیشت تباہ کردی،سابق وزير خزانہ اسحاق ڈار کہتے ہيں کہ ن ليگ اچھی بھلی معيشت چھوڑ کر گئی تھی، جسے تباہ کر ديا گيا، نت نئے تجربے نہ کئے جائيں،کرنسی روکنے کیلئے ہم نے ڈالر اوپن مارکیٹ میں نہیں بیچے،

    ان خیالات کا ااظہار میاں نواز شریف کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے معروف تجزیہ نگار اور ممتاز صحافی مبشرلقمان کےساتھ لندن سے براہد راست گفتگو میں کیا ،باغی ٹی وی کے مطابق مبشرلقمان سے گفتگوکرتے ہوئے نواز شریف کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہاکہ موجودہ حکومت نے اسٹاک ایکسچینج کو اربوں کا نقصان پہنچایا، موجودہ حکومت اب تک 50 ارب کا نقصان پہنچا چکی ہے، ڈالر مہنگا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، اچھی بھلی معیشت کو ان لوگوں نے آکر تباہ کردیا ہے، بین الاقوامی ادارے ملکی معیشت کی بہتری بتارہے تھے۔

    باغی ٹی وی کےمطابق مبشر لقمان سے بات کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے موجودہ حکومت کی معاشی صورت حال کچھ اس طرح بیان کی کہ 2013 میں دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ، 2013 کا الیکشن جیت کر کٹھن سفر شروع کیا ، اسٹیٹ بینک کے ریزور پونے تین ارب ڈالرز کے قریب رہ گئے تھے ، ہم نے اسے سنبھالہ ، ستمبر 2016 آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کیا اور ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان جی 20 کا ممبر بن جائے گا ،

    اسحاق ڈار نےکہ پاکستان کا 40 سال کے نقصان کون لیگ نے کم کرکے معیشت کوسنبھالہ،اسحاق ڈار کہتے ہیںکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے 24 بلین ڈالرز تک پہنچ گئے ، ریونیو جوکہ پاکستان کا ریونیو کا ہدف بڑھ گیا تھا ،

    پاکستانی روپے کی قدر بہترہوگئی تھی ، جی ڈی پی گروتھ 5.8 پرچلی گئی تھی ، اور اس میں بہتری چاہتے تھے اوراسے اوپرلے کرجانا چاہتے تھے،اس دوران نوازشریف کو نااہل کردیا گیا ، کرنسی ڈیولیوایشن ایک نقصان دہ تجربہ ہوتا ہے، اسی وجہ سے ڈاکٹر مہاتیر محمد کوبھی گھر جانا پڑا تھا ، پاکستان تحریک انصاف نے اسٹاک مارکیٹ کا بیڑہ غرق کردیا ،

    جی ڈی پی کی قدر کم ہوگئی ، مہنگائی بڑھ گئی ، لوگوں کوایک کروڑ نوکریاں دینےکے بات کرنے والے اب پریشان ہیں ، اس موجودہ حکومت نے غربت ختم کرنے کی بجائے پھرغربت کی لکیر سے نیچے لے گئے ہیں ، دوائیوں کی قیمتیں دوگنی ہوگئی ہیں ، ملک کو بہتر کرنے کی بجائے نقصان پہچا دیا گیا ہے،پاکستان کا بیڑہ غرق کردیا ہے ،

    سابق وزیر خزانہ نے عالمی مالیاتی اداروں سے کئے گئے وعدوں اورمعاہدوں سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کسی سے پیسے نہیں لیے، ہم نے کسی سے قرضہ نہیں مانگا، تحفے میں رقم ملی، حکومت کے موجودہ اقدامات غیرسنجیدہ ہیں، دنیا میں جاکر کرپشن کی بات کرو گے تو کون آکر سرمایہ کاری کرے گا، مقامی سرمایہ کار بھی ملک میں سرمایہ کاری کیلئے تیار نہیں۔

    کرنسی کی ڈی ویلوایشن کم کرنے کی جو غلطی اس حکومت نے کی ہم نے اس انداز سے نہیں کیا، مبشرلقمان نے ایک سوال کیا کہ آپ کہتے تھے کہ ہمیں خستہ حال معیشدت ملی ہے، تووہ تو دورپیپلزپارٹی کا تھا جس کی معاشی پالیسی حفیظ شیخ چلارہے تھے

    آپ پرالزام ہےکہ آپ نے ڈالرکو استحکام تھا اس کو عارضی اورفیک انداز سے مستحکم شو کررہے تھے ، اسحاق ڈار نے کہا کہ ایسے نہیں ہے، عالمی ادارے نے بھی یہ تصدیق کی تھی کہ اس دور میں معشیت بہترہورہی تھی

    اگرڈالرکوڈی ویلوایشن کرنے سے بیلنس بڑھنا تھا تو اب تو بہت زیادہ بہتر ہوجانا چاہیے تھا ،ڈی ویلوایشن کے باوجود نقصان میں جارہے ہیں ،مہنگائی بڑھ گئی ، ادویات کی قیمتوں میں زیادتی کرکے عوام کے ساتھ زیادتی کردی.میاں صاحب نے پیپلزپارٹی کا سہارا لینے کے لیے 18 ویں ترمیم سائن کرکے بہت غلطی کی اس کا نقصان یہ ہوا کہ صوبوں کا ریونیو وفاق کو نہ مل سکا تو بوجھ وفاق پرپڑگیا

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ آپ تو نواز شریف کے معاملات کو اس حد تک مانیٹر کرتے تھے اور50 سے زائد اداروں کے خود سربراہ بنے ہوئے تھے تو ڈار نے جواب دیا کہ میں نے انگریز دور کی پالیسیوں اورکمپنی قوانین کو نئے حالات سے مطابق ڈھالا ۔ڈار نے تسلیم کیا کہ میں اگران اداروں کا سربراہ تھا تواس کا فائدہ بھی تو ہوا ہے

  • سی پیک کے معاہدے ریاست کی بجائے پسندیدہ کمپنیوں کوکیوں دیئے گئے؟اسحاق ڈار نے انکشاف کردیا

    سی پیک کے معاہدے ریاست کی بجائے پسندیدہ کمپنیوں کوکیوں دیئے گئے؟اسحاق ڈار نے انکشاف کردیا

    لاہور:سی پیک کے معاہدے ریاست کی بجائے پسندیدہ کمپنیوں کوکیوں دیئے گئے؟اسحاق ڈار نے انکشاف کردیا ، باغی ٹی وی کےمطابق کرپشن الزامات پرپاکستانی عدالتوں کومطلوب مفروراہم شخصیت، ن لیگ کی حکومت کے وزیرخزانہ اورمیاں نواز شریف کے کارخاص اسحاق ڈار نے آج معروف صحافی مبشرلقمان سے پاکستان کی معاشی صورت حال پر سیرحاصل گفتگوکی،

    باغی ٹی وی کےمطابق ایک موقع پر مبشرلقمان نے اسحاق ڈار سے سوال کیا کہ آپ پرتوالزام ہےکہ آپ نے پاکستان کی اہم پورٹ گوادرکی ترقی کے تمام ٹھیکے اپنے چاہنے والوں کے دیے دیئے تھے اوریہ معاہدے ریاست پاکستان کی بجائے اپنے پسندیدہ لوگوں کی کمپمنیوں سے کرائے ہیں‌تواسحاق ڈار نے اس بات کا نہ صرف اقرار کیا بلکہ وضاحت بھی پیش کی

    ذرائع کےمطابق اس موقع پر اسحاق ڈار نےیہ تسلیم کیا کہ اس بات میں کوئی جھوٹ نہیں‌کہ وہ معاہدے ریاست کی بجائے پرائیویٹ اداروں سے کئے گئے تھے ، اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نےکہاکہ ان کی حکومت یہ نہیں چاہتی تھی کہ ان سی پیک پرآنے والے اخراجات کا بوجھ حکومت پر پڑے

    اسحاق ڈار کے اس جواب کے بارے میں جب مبشر لقمان نےیہ دریافت کیا کہ این ایل جی بھی کا معاہدہ بھی تو حکومت سے کیا گیا تھا پھردہرا معیارکیوں،اس پراسحاق ڈار کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے ، بس اتنا کہا کہ این ایل جی ایک کامیاب منصوبہ تھا اس لیئے حکومت کو اس منصوبے کی ذمہ داری سونپ دی گئی

  • اسحاق ڈار نے ملک کی معاشی صورت حال پراسد عمرسے مناظرہ کرنے سے  انکارکردیا

    اسحاق ڈار نے ملک کی معاشی صورت حال پراسد عمرسے مناظرہ کرنے سے انکارکردیا

    اہور:اسحاق ڈار نے ملک کی معاشی صورت حال پراسد عمرسے مناظرہ کرنے انکارکردیا،اطلاعات کےمطابق پاکستان کے معروف صحافی اورکھرا سچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کے ساتھ پاکستان کی معاشی صورت حال پرگفتگوکرتے ہوئے میاں نواز شریف کے وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے اسد عمر سے مناظرہ کرنے سے انکارکردیا

    باغی ٹی وی کے مطابق معروف صحافی مبشرلقمان کی طرف سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ عمران خان کی حکومت کے پہلے وزیرخزانہ اسدعمرسے آمنے سامنے بیٹھ کر ملکی معیشت پر گفتگوکرنے کےلیے تیارہیں‌تو اسحاق ڈار نے پہلے تواثبات میں گفتگوشروع کی لیکن ساتھ ہی بتا دیا کہ وہ اسد عمر کے ساتھ نہیں کسی اورماہرمعاشیات سے بات کرسکتے ہیں‌

    باغی ٹی وی کےمطابق مبشرلقمان نے ن لیگ کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے مناظرے کا اس وقت پوچھا جب وہ بار بار اس حکومت کو معاشی عدم استحکام کا ذمہ دارقراردے رہے تھے،ایک موقع پر مبشرلقمان نے اسحاق ڈارکومعاشی مناظرے کی طرف لانے کے لیے یہ دلیل پیش کی کہ چونکہ وہ سابق وزیرخزانہ اورپاکستان تحریک انصاف کا چہرہ ہیں آپ ان سے معاشی حالات کے بارے میں آمنے سامنے بات کریں لیکن اسحاق ڈار نے انکار کردیا

  • مبشرلقمان !آپ نے قومی اداروں اوراہم اثاثوں کوگروی رکھ دیا تھا:ہاں گروی رکھا تھا ، اسحاق ڈار نے تسلیم کرلیا

    مبشرلقمان !آپ نے قومی اداروں اوراہم اثاثوں کوگروی رکھ دیا تھا:ہاں گروی رکھا تھا ، اسحاق ڈار نے تسلیم کرلیا

    لاہور:یہ بات سچ ہے کہ آپ نے قومی اداروں اوراہم اثاثوں کوگروی رکھ دیا تھا، مبشرلقمان ، جی گروی رکھا تھا ، اسحاق ڈار نے تسلیم کرلیا ، باغی ٹی وی کےمطابق آج لندن سے براہ راست معروف اینکرمبشرلقمان کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے میاں‌ نواز شریف کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ بعض مجبوریا ں ہوتی ہے،

    باغی ٹی وی کےمطابق مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اس سے تو کسی ملک کی سلامتی داوپرلگ جاتی ہے تو اسحاق‌ ڈارنے اسلامی اورغیر اسلامی اصطلاحات کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ موٹروے اوردیگراداروں کوگروی رکھ ہم نے ان اداروں کوبرقراررکھنے اوربراہ راست ملکی خزانے پربوجھ پڑنے سے بچایا

    مبشرلقمان نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کوگروی رکھنے کیبات کی توپھرڈار نے تسلیم کیا کہ ہم نے اگرگروی رکھا ہے تو اس کا فائدہ دیتے ہیں ۔ لوگوں کو روزگارملتا ہے، معیشت مضبوط ہوتی ہے ، اسحاق ڈار ایک ہی موقع پر متضاد جوابات دینے کی کوشش کرتے رہے جسے مبشرلقمان متشابہات سے الگ کرتے رہے

  • ن لیگ کا "لندن پلان” کیا ہے ، اسحاق ڈار نے مبشر لقمان کو صاف صاف بتا دیا

    ن لیگ کا "لندن پلان” کیا ہے ، اسحاق ڈار نے مبشر لقمان کو صاف صاف بتا دیا

    لاہور:ن لیگ کا "لندن پلان” کیا ہے ، اسحاق ڈار نے مبشر لقمان کو صاف صاف بتا دیا ،باغی ٹی وی کےمطابق آج لندن سے پاکستان مسلم لیگ کے اہم رہنما سابق وزیرخزانہ اورمیاں محمد نواز شریف کے کارخاص اسحاق ڈار نے معروف اینکر،ممتاز صحافی مبشر لقمان سے ملکی سیاسی حالات پر اہم نشت کرتے ہوئے اہم انکشافات کیئے ہیں

    باغی ٹی وی کےمطابق ایک موقع پر جب مبشرلقمان نے نواز شریف کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے دوستانہ انداز میں سوال کیاکہ جناب ڈار صاحب ہیں توآپ ٹیکنوکریٹس لیکن نوازشریف اورن لیگ کے اہم فیصلے کے حوالے سے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں ،مبشرلقمان نے باتوں باتوں میں‌سوال کرہی دیاکہ لندن پلان کیا ہے؟

    کوئی پلان نہیں ہے، ان کی صحت کا حقیقی مسئلہ ہے ، انہوں نے کہا ہے کہ ایسے ہی کلثوم نواز کے بارے میں بھی یہی قیاس آرائیاں کی جاتی تھیں ، وہی مسئلہ نواز شریف کا ہے ،مبشرلقمان نے کہا کہ اگر یہ ٹھیک ہے تو پھرمیاں صاحب کی میڈیکل رپورت میں پلیٹلیٹس کا تو کوئی ذکر نہں ، جو بیان کیا جاتا ہے اس کا میڈیکل رپورٹس میں ذکر نہیں

    مبشرلقمان نے اس کے جواب میں ایک خوبصورت سوال کیا کہ جب کلثوم نواز کے بارے میں یہ چہہ میگوئیاں کی جارہی تھیں کہ وہ تو بیمار ہیں لیکن پاکستان میں ان کے خاندان والے سیاست چمکارہےتھے ، اس پراسحاق ڈار نے جواب دیا کہ یہ بات تو حقیقت ہے کہ انسانی فطرت یہی ہےکہ اپنے ہی اس موقع پرساتھ ہوتے ہیں لیکن چونکہ میاں صاحب پارٹی کے سربراہ تھے توان کا یہاں موجود ہونا لازمی تھا