Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان گرے لسٹ سے نکلے گا یا نہیں؟ ایف اے ٹی ایف اجلاس ہو گا کل

    پاکستان گرے لسٹ سے نکلے گا یا نہیں؟ ایف اے ٹی ایف اجلاس ہو گا کل

    پاکستان گرے لسٹ سے نکلے گا یا نہیں؟ ایف اے ٹی ایف اجلاس ہو گا کل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے بارے ایف اے ٹی ایف کا حتمی اجلاس کل پیرس میں شروع ہو گا، اجلاس میں شرکت کے لئے پاکستانی حکام کا وفد پیرس روانہ ہو گیا.اجلاس 21 فروری تک جاری رہے گا جس کے آخر میں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اعلان کیا جائے گا.

    پاکستان کو اجلاس میں شریک 39 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل فیٹف تنظیم میں کسی بھی خطرناک فیصلے سے بچنے کیلئے 3 ووٹ درکار ہیں تاہم پاکستان کو ان کے مقابلے میں سعودی عرب، ترکی، ملائشیا، چائنا، گلف کو آپریشن کونسل، امریکہ، یورپی یونین کی سفارتی حمایت حاصل ہوگئی ہے، توقع ہے کہ سعودی عرب، ترکی، ملائشیا، چائنا، کینیڈا، امریکہ، برطانیہ، روس، سنگاپور، اٹلی، جاپان، فرانس، جرمنی، یونان، ارجنٹینا، آسٹریلیا کی حمایت ملنے کی صورت میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا متفقہ فیصلہ ہو جائے گا

    وفاقی وزیراقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد پیرس روانہ ہو گیا جس میں ڈائریکٹر جنرل فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ بھی شامل ہیں، وفد پیرس جائزہ مکمل ہونے تک قیام کرے گا،

    ایف اے ٹی ایف اجلاس میں اگر پاکستان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا تو پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے اور کمپلا ئنٹ ممالک کی صف میں شامل کر لیا جائے گا اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو پاکستان کے ذ مہ بقیہ 22 شرائط میں سے 12 شرائط پر عمل درآمد کیلئے ستمبر 2020 تک کی ڈیڈ لائن د ی جائیں گی،بقیہ 12 شرائط پر عمل درآمد کیلئے پاکستان کو مزید 2 جائزہ سیشن کا سامنا کرنے کا پابند کر دیا جائے گا جن میں پہلا فیٹف جائزہ جون 2020 میں اور دوسرا فیٹف جائزہ ستمبر 2020 میں مکمل کر کے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جا سکتا ہے.

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اورٹیرر فنانسنگ کے خلاف کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مذاکرات کے دوران پاکستان نےایف اے ٹی ایف حکام کو گزشتہ ساڑھے چار ماہ کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

    وفاقی وزیر حماد اظہر نے بریفنگ میں بتایا کہ کالعدم تنظیموں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، منی لانڈرنگ روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے، ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے کیس رجسٹریشن 451 فی صد اضافے کے ساتھ 827 ہو گئی، اس حوالے سے گرفتاریوں کی تعداد 1104 رہی، جو چھ سو ستتر فی صد زیادہ ہے۔

    پاکستان نے بتایا کہ ٹیرر فنانسنگ کیسز میں سزائیں دینے کے عمل میں 403 فی صد کا اضافہ ہوا جب کہ 196 سزائیں ہوئیں، ٹیرر فنانسنگ کے کیسز میں اکتیس کروڑ بیالیس لاکھ کی برآمدگی ہوئی اور خیبر پختون خوا میں 387 کیسز رجسٹرڈ ہوئے، ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف حکام نے پاکستان کی رپورٹ پر اظہار اطمینان کیا۔

    پاکستان 650 صفحات پر مشتمل رپورٹ پہلے ہی ایف اے ٹی ایف کو بھجوا چکا ہے، یہ رپورٹ 16 فروری سے شروع ہونے والے پیرس اجلاس میں زیر غور لائی جائے گی۔ پیرس اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے حوالے سے ووٹنگ ہو سکتی ہے۔

    پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو بھجوائے جانے والے جوابی رپورٹ میں منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات، دہشت گردوں تک رقوم روکنے کے طریقہ کار، دہشت گردوں تک اثاثوں اور زیورات کی منتقلی روکنے کے اقدامات کے حوالہ سے بتایا گیا ہے.

    پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو جواب میں کہا ہے کہ دہشت گردوں تک رقوم پہنچانے کے 700 کیسز کی تحقیقات کیں، کالعدم تنظیموں تک رقوم پہنچانے والے 190 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی، دہشت گردوں تک رقوم پہنچانے پر 170افراد زیر حراست ہیں، کالعدم تنظیموں کی ایک ہزار سے زائد جائیدادیں ضبط کیں

    پاکستان کوایف اے ٹی ایف نے 150سوالات پرمشتمل سوال نامہ بھیجا تھا،سوال نامے میں مدارس سے متعلق کیے گئے قانونی اقدامات کی تفصیلات پوچھی گئیں، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف درج مقدمات کی نقول مانگی گئی ہیں،ایف اےٹی ایف نے پاکستان سے کالعدم تنظیموں سے منسلک افراد کوسزادلوانے کا مطالبہ بھی کیا ہے،

    8 کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی ،کتنے مقدمات، کتنی گرفتاریاں اور کیا سزائیں دی گئیں؟ رپورٹ سامنے آ گئی

    ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے 40 اہداف کے حصول پر پیشرفت کاجائزہ لینے کے بعد سوالنامہ بھیجا، پاکستان نے 40 اہداف میں سے 36 پرپیشرفت دکھائی، 4 اہداف کےحصول پرطریقہ کاروضع کردیا گیا،

    پاکستان نے مالیاتی اداروں کا ڈیٹا خفیہ رکھنے کا ہدف پورا کیا، پاکستان نے 9 اہداف پر بڑی پیش رفت کی، بے نامی داروں کے خلاف کارروائی میں بھی بہتری کی گئی، رپورٹ میں منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات شامل کیے گئے۔

    وفاقی وزیر برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان 2020 میں گرے سے وائٹ لسٹ میں آجائے گا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال بالخصوص  آخری 4 ماہ میں ہونے والی پیشرفت کا اعتراف کیا گیا، تاہم اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان کو دیا گیا ایکشن پلان کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے،

    ایف اے ٹی ایف کا ایک بار پھر ڈومور، کالعدم تنظیموں کیخلاف کیا کیا؟ رپورٹ طلب

    ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کی کوششوں کا اعتراف، ڈومور بھی کہہ دیا

    حماد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ تمام ریگولیٹری اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر کوشش کر رہے ہیں، وفاقی اور صوبائی محکمے بھی مل کر کام کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط مانتا جا رہا ہے،وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، پاکستان سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لئے فنڈنگ کی روک تھام، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالنے اور ذمہ دار ممالک کی صف میں لانے کے لئے بنائی جانے والی کو آرڈی نیشن کمیٹی کا چیئرمین حماد اظہر کو بنایا گیا ہے.

    واضح رہے ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معانت کی روک تھام کے لیے بنائی گئی عالمی تنظیم ہے۔اس تنظیم نے 18 اکتوبر کو 4 ماہ کی مہلت دہتے ہوئے پاکستان پر زور دیا تھا کہ فروری 2020 تک ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کرے کیونکہ اس وقت تک پاکستان ’گرے لسٹ‘ میں ہی موجود رہے گا

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی،کن ممالک نے کی پاکستان کی حمایت؟

  • پی آئی اے کیس، حکومت ارشد ملک کو بچانے میدان میں آ گئی، سپریم کورٹ میں جمع کروایا جواب

    پی آئی اے کیس، حکومت ارشد ملک کو بچانے میدان میں آ گئی، سپریم کورٹ میں جمع کروایا جواب

    پی آئی اے کیس، حکومت ارشد ملک کو بچانے میدان میں آ گئی، سپریم کورٹ میں جمع کروایا جواب
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے سی ای او پی آئی اے تقرری کیس میں سندھ ہائیکورٹ میں درخواست کو بدنیتی قراردیتے ہوئے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروا دیا

    وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ ارشد محمود کی تعیناتی کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی تھی ،ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سی ای او پی آئی اے نے غیرقانونی کاموں کیخلاف سخت ایکشن لیا، ارشدمحمود ملک نے جعلی ڈگری اورغیرقانونی تقرریوں والوں کیخلاف بھی ایکشن لیا،سی ای او کی تعیناتی کے بعد پی آئی اے کے ریونیو میں 44 فیصداضافہ ہوا اور75 فیصد آپریشنل لاسز میں کمی آئی ۔

    وفاقی حکومت کے جواب میں مزید کہا گیا کہ ارشد محمود ملک نے بطورڈپٹی چیئرمین کامرہ میں ریکارڈ16 تھنڈر طیارے بنائے،بطور چیئرمین جے ایف تھنڈربلاک 3 بھی بنایا۔

    قبل ازیں آڈیٹر جنرل نے قومی ایئر لائن کے سی ای او کو ہٹانے کی سفارش کردی،آڈیٹر جنرل نے اپنی سفارشات میں کہا کہ ایئرمارشل ارشد ملک کو سی ای او کے عہدے سے برطرف کیا جائے،ایئرمارشل ارشد ملک کی پی آئی اے میں تقرری غیر قانونی ہے،ارشد ملک کی غیر قانونی تقرری کی تحقیقات غیرجانبدار ادارے سے کرائی جائے،ارشد ملک نے تقرری کے 8 ماہ کے دوران 30 لاکھ روپے الاؤنس وصول کیا،سی ای او پی آئی اے سے تمام الاوَنس واپس لئے جائیں،بورڈ آف ڈائریکٹر نےغیرملکی سی ای او کی طرح اس تقرری میں بھی غلطی کی،

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ اگر قواعد و ضوابط کے مطابق ائیر مارشل ارشد ملک انٹرویو بورڈ میں پیش ہوتے تو انہیں پاک فضائیہ سے مستعفی ہونا پڑتا۔ پی آئی اے نے آڈیٹر جنرل کے عملے سے تعاون نہیں کیا اس لیے نہیں بتایا جاسکتا کہ ارشد ملک نے کتنا مالی فائدہ ناجائز طور پر اٹھایا تاہم ایک تخمینے کے مطابق 8 ماہ کے دوران یہ فائدہ تقریباً 30 لاکھ روپے ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ قواعد کے مطابق پی آئی اے میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کی مدت ملازمت ختم ہونے سے تین ماہ قبل اخبارات میں اس عہدے کے لیے درخواستیں طلب کی جانی چاہییں لیکن ائیر مارشل ارشد ملک کے کیس میں بالکل الٹ کیا گیا۔

    انہیں 26 اپریل 2019 کو پہلے ایک حکم نامے کے ذریعے تین سال کی مدت کے لیے چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا اور اس کے بعد اخبار میں جو اشتہار دیا گیا اس میں وار کورس، شپنگ، نیول ایوی ایشن اور ملٹری آپریشنز یا ایسے ہی کسی متعلقہ تجربے کو شامل کیا گیا تاکہ دیگر امیدواروں کے مقابلے میں ائیر مارشل ارشد ملک کو ناجائز فائدہ پہنچایا جاسکے۔

    واضح رہےکہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت بھی ارشد ملک کو بحال کرنے کی استدعا مسترد کر چکی،سپریم کورٹ میں سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کی کام پر بحالی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ۔

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی آئی اے کو قانون کے مطابق آنا چاہئے،معلوم نہیں کوئی ایئر مارشل پی آئی اے کو کیسے چلائے گا؟ بہتر ہے ایئرمارشل پیک اپ کرلیں ۔چیف جسٹس نے حکومت کو طریقہ کار کے مطابق نیا پی آئی اے سربراہ تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔

    چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں یہ موصوف خود ڈیپوٹیشن پر آئے اور10 بندوںکو ساتھ لائے ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے پاکستان ایئر فورس کو ہی دے دیں حکومت کیوں چلا رہی ہے ؟،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ جب سے یہ آئے ہیں 100 فیصد کرایہ بڑھا دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سی ای او کی تقرری کا اشتہاردیاگیا تھا ،

    جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ دیکھنا ہوگا اشتہارکو کوئی خاص ڈیزائن دے کر تو جاری نہیں کیا گیا،پرانے اشتہارات کا بھی جائزہ لیں گے ۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ اخبار میں خبر لگی ہے سی ای او نے کسی کموڈورکو 70 کروڑ کا بزنس دیا،جس کمپنی کو بزنس دیاگیا وہ 2 ماہ پہلے رجسٹرڈ ہوئی ۔

    چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ عوام کے اثاثوں کے ساتھ کھلواڑنہیں ہوسکتا ،پی آئی اے قوم کا اثاثہ ہے اس کیساتھ کھلواڑ نہیں ہونے دیں گے ،سی ای او کو عارضی انتظامات کے تحت لایاگیا تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ارشد محمود کو طریقہ کار کے مطابق پی آئی اے میں سی ای او کنفرم کردیاگیاتھا،چیف جسٹس نے کہا کہ چیئرمین پی آئی اے کو قانون کے مطابق آناچاہئے،پی آئی اے کسی کی جاگیر نہیں قوم کا اثاثہ ہے

    عدالت نے سی ای او پی آئی اے ارشد محمود کو کام پر بحال کرنے کی استدعا مستردکردی،عدالت نے پی آئی اے کے بورڈآف ڈائریکٹرز کو کام کرنے کی اجازت دے دی،عدالت نے سندھ ہائیکورٹ سے مقدمے کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

    پی آئی اے کے ماہانہ خسارے میں کتنی کمی آئی، چیئرمین پی آئی اے کی وزیراعظم کو بریفنگ

    پی آئی اے نے 10 کروڑ 65 لاکھ روپے مالیت کا کھانا ضائع کردیا، یہ انکشاف آڈیٹرجنرل نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے،

    پی آئی اے کا ایک اور کارنامہ، وزیراعظم سٹیزن پورٹل میں شکایت درج

    واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسرائیرمارشل ارشد ملک کو کام کرنے سے روک دیا تھا، اس درخواست میں پی آئی اے کےاثاثوں کے حوالے سے بھی اہم اعتراضات اٹھائے گئے تھے، جس پرعدالت نے کہاکہ پی آئی اے میں خریدو فروخت پالیسی سازی اور ایک کروڑ سے زائد کے اثاثے بھی فروخت نہیں کرسکتے،یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ عدالت نے پی آئی اے میں نئی بھرتیوں،ملازمین کو نکالنے اورتبادلوں سے بھی روک دیا

    یاد رہے کہ ارشد ملک کے خلاف ساسا کے جنرل سیکٹری صفدر انجم نے عدالت سے رجوع کیا تھا،جس میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ائیر مارشل ارشد ملک تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے، درخواست گزارنے یہ بھی اعتراض کیا کہ ائیر مارشل ارشد ملک کا ائیر لائن سے متعلق کوئی تجربہ نہیں ہے

  • ترک صدر کے کامیاب دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم کی بڑی غلطی

    ترک صدر کے کامیاب دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم کی بڑی غلطی

    ترک صدر کے کامیاب دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم کی بڑی غلطی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے دو روزہ دورہ پاکستان کیا اور واپس روانہ ہو گئے،

    دو روزہ دورے کے دوران ترک صدر کا پر تپاک استقبال کیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے خود گاڑی ڈرائیو کی، گارڈ آف آنر دیا گیا، ایوان صدر میں عشائیہ دیا گیا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ہوا، ترک وزراء کی اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے ملاقاتیں ہوئیں لیکن اس دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان ایک بڑی غلطی کر گئے.

    ترک صدر رجب طیب اردوان دو روز تک پاکستان میں رہے، ترک صدر اور ان کے ساتھ آنے والے وفود کی حکومتی سطح پر تو ملاقاتیں ہوئیں لیکن کسی اپوزیشن رہنما سے ترک صدر کی ملاقات نہیں کروائی گئی، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے جب ترک صدر نے خطاب کیا تو اپوزیشن جماعتوں کے اراکین بشمول بلاول زرداری، رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی، مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسعد محمود، مولانا عبدالغفور حیدری سب موجود تھے لیکن ایوان میں ترک صدر آئے، خطاب کیا بعد ازاں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے ایوان صدر چلے گئے.

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاک ترک بزنس کونسل کی تقریب سے بھی خطاب کیا، بعد ازاں وزیراعظم عمران خان سے ون ٹو ون ملاقات بھی ہوئی، 12 اہم معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاری پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے سیاحت کے شعبہ میں ترک صدر کو سرمایہ کرنے کی دعوت دی،ترک صدر کی اہلیہ نے بھی تقریب سے خطاب کیا .

    ترک صدر نے کیا کشمیر ، ایف اے ٹی ایف بارے اہم اعلان، کہا وفا کے پیکر پاکستانیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے

    اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

    اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی دکھانی ہوگی، وزیراعظم

    کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

    وزیراعظم اور ترک صدر کی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اہم خبر

    ترک صدر کے پہنچنے سے قبل پارلیمنٹ میں ایسا کیا کام کیا گیا کہ وزیراعظم بھی حیران رہ گئے

    ترک خاتون اول کا اسلام آباد میں تقریب سے خطاب ،کیا اہم اعلان

    ترک صدر کا اپنی قومی زبان میں خطاب، نماز جمعہ ایوان صدر میں کی ادا

    ترک صدر کا خطاب سننا اعزاز کی بات، اسد عمر نے مزید کیا کہا؟

    دو روزہ دورہ پاکستان کی یادیں واپس لیے ترک صدر وطن روانہ،کس نے کیا الوداع؟

    ترک صدرسے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی ملاقات اور مصافحہ نہ ہونے پر جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت نے قومی قیادت اور پارٹی قائدین کو طیب اردگان سے ملنے کا موقع نہ دیکر تعصب اور تنگ نظری کا مظاہرہ کیاحالانکہ یہ قومی روایت ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد معزز مہمان سے قومی قائدین اور پارٹی قیادت کا باقاعدہ تعارف اور مصافحہ جاتا ہے۔حکومت کو خطرہ تھا کہ کوئی اس کی نااہلی اور کرپشن کو بے نقاب نہ کردے .

  • پاکستانیوں کی خوش قسمتی ہےکہ ایک ایماندارلیڈرملا،مل کرعالم اسلام کے لیے کام کریں‌گے ، طیب اردوان،ترکی ہماری جان ،ہمارا ایمان، عمران خان

    پاکستانیوں کی خوش قسمتی ہےکہ ایک ایماندارلیڈرملا،مل کرعالم اسلام کے لیے کام کریں‌گے ، طیب اردوان،ترکی ہماری جان ،ہمارا ایمان، عمران خان

    اسلام آباد:پاکستانیوں کی خوش قسمتی ہےکہ ایک ایماندارلیڈرملا،مل کرعالم اسلام کے لیے کام کریں‌گے ، ان خیالات کااظہارترک صدر طیب اردوان نے عمران خان کے ساتھ پریس کانفرنس کرنے سے پہلے ایک اہم اجلاس میں کیا ادھر وزیراعظم پاکستان نے طیب اردوان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ترکی ہماری جان ،ہمارا ایمان،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا کے خلاف ترکی کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں ترک صدر رجب طیب اردوان کوخوش آمدید کہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ترک صدرکی پارلیمنٹ سے تقریرکو پسند کیا ہے، ترک صدر اگر آج یہاں الیکشن لڑے تو کلین سویپ کرلیں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں کے لیے آواز بلندکرنے پر ترک صدر کا شکرگزار ہوں، کشمیری 6 ماہ سے ایک جیل میں بند ہیں، سیاسی رہنما قیدوبندمیں ہیں، کشمیر متنازع علاقہ ہے، کشمیری نوجوانوں کو جیلوں میں رکھاگیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آج جو ایم او یوز دستخط ہوئے اس کے ذریعے پاک ترک تعلقات کا نیا دور آرہا ہے، آج جو معاہدے ہوئے اس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا، پاکستان جن علاقوں کوترقی دینا چاہتا ہے ان کو زیادہ فائدہ ہوگا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف، پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے پرترک صدر کے مشکور ہیں، کوئی بھی مسئلہ ہوتا ہے تو ترکی ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اس پر شکرگزار ہیں۔

    وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ہم ترکی کی عالمی ہر سطح پر مکمل حمایت کرتے ہیں اور ایف اے ٹی ایف میں انقرہ نے ہماری حمایت کی جس پر ان سے اظہار تشکر کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیاست کے علاوہ میڈیا کے ذریعے ثقافتی مسائل کا بھی مقابلہ کریں گے اور ترک فلم انڈسٹری سے فائدہ اٹھائیں گے، ترک فلم انڈسٹری کی فلمیں اور ڈرامے مقامی میڈیا پر نشر کیے جائیں گے جو اسلامو فوبیا کی حوصلہ شکنی پر مبنی ہوں گے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترکی سیاحت سے سالانہ 35 ارب ڈالر کماتا ہے اور سستے گھر بنانے میں تجربہ رکھتا ہے اس لیے دونوں شعبوں میں اس سے استفادہ کریں گے۔

    اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ بہترین استقبال پر پاکستانی حکومت اور عوام کا مشکور ہوں، پاکستان ہمارا بھائی ہے، ہر مشکل میں ساتھ کھڑے ہوں گے، پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں بھرپور ساتھ دیں گے۔

    طیب اردوان نے وزیراعظم عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کے لیے خوشی کا مقام ہےکہ انہیں ایک ایمانداروزیراعظم ملا ہے، ترکی پاکستان کے ساتھ مل کرکشمیر،عالم اسلام کی بہتری اوراسلام فوبیا کے خلاف کام کرے گا، طیب اردوان نے مزید کہا کہ میں پاکستانیوں کی محبت کو کبھی بھی بھول نہیں‌سکتا

    ادھر ترک صدر کے خراج تحسین کے جواب میں عمران خان نے کہاکہ مسلمانان پاکستان کے ترکوں سے تعلقات صدیوں پرانے ہیں تحریک خلافت سے لے کرآج تک پاکستانیوں‌کے دل ترکی لیے دھڑکتے ہیں، طیب اردوان کی قیادت میں ترکی بہت تیزی سے کامیابی کا سفر طئے کررہا ہے

    انہوں نے کہا تین سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے پر دلی مسرت ہے اور تعلیم، مواصلات، صحت، ثقافت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ سے متعلق معاہدے پاک ترک قریبی تعلقات کا مظہر ہیں۔

    رجب طیب اردوان نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدامات پر وزیراعظم عمران خان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاع، عسکری تربیت کے شعبوں میں تعاون گہری دوستی کا عکاس ہے،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے، خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کا کردار بہترین ہے۔

    بعد ازاں ترک صدر رجب طیب اردوان اپنا دورہ پاکستان مکمل کرکے وطن واپس روانہ ہوگئے۔

    خیال رہے کہ ترک صدر طیب اردوان 2 روزہ دورے پر 13 فروری کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے تھے جہاں انہوں نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی جبکہ انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کیا۔

  • پاکستان اور ترکی کے درمیان عسکری تربیت سمیت 12 مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور ترکی کے درمیان عسکری تربیت سمیت 12 مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط

    اسلام آباد : پاکستان اور ترکی کے درمیان عسکری تربیت سمیت 12 مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط،اطلاعات کےمطابق ترک صدر طیب اردوان کے دورے کے موقع پر پاکستان اور ترکی کے درمیان عسکری تربیت سمیت 12 مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہوئے۔

    پاکستان اور ترکی کی اسٹریٹجک تعاون کونسل کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور ترک صدر طیب اردوان نے ترکی کی نمائندگی کی۔اجلاس کے بعد باہمی تجارت کا حجم بڑھانے، ریلوے، ٹرانسپورٹ، پوسٹل سروسز، انفرااسٹرکچر، سیاحت، ثقافت اور خوراک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے 12 ایم او یوز پر دستخط کیے گئے۔

    پاکستان ٹیلی وژن اور ترک ٹی وی ٹی آر ٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کی طرف سے پی ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر منظور جبکہ ریڈیو کے شعبہ میں ڈی جی پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ثمینہ وقار نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔

    سیاحت اور ثقافت کے شعبے میں بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ ترکی حلال ایکریڈیٹیشن ایجنسی اور پاکستان نیشنل ایکریڈیٹیشن کے درمیان حلال اشیاءکی منظوری اور اس تناظر میں باہمی تعاون بڑھانے کیلئے یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ترکی ایرو اسپیس انڈسٹریز اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مابین دستخط ہوئے۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے یادداشت پر دستخط کیے۔

    پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت میں سہولت کاری کی مفاہمتی یادداشت اور دونوں ملکوں کے درمیان پوسٹل سروسز کے شعبہ میں تعاون کی مفاہمت کی یادداشت پر وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے دستخط کیے۔ریلوے کے شعبہ میں مفاہمت کی یادداشت پر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے دستخط کیے۔ عسکری تربیت کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے دستخط کیے۔

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاک ترک اکنامک فریم ورک سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط کئے۔ بعد ازاں دونوں رہنماﺅں نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔

  • وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان کی ون آن ون ملاقات ، دنیا کاعمران اوراردوان کی ملاقات پردھیان

    وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان کی ون آن ون ملاقات ، دنیا کاعمران اوراردوان کی ملاقات پردھیان

    اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان کی ون آن ون ملاقات ، دنیا کاعمران اوراردوان کی ملاقات پردھیان،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ترک صدر طیب اردوان کی ون آن ون ملاقات ہوئی ، جس میں دو طرفہ امور،مسلم امہ کے مسائل ،خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر کا استقبال کیا ، جس کے بعد وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان کی ون آن ون ملاقات ہوئی، ملاقات میں دو طرفہ امور،مسلم امہ کے مسائل ،خطے کی صورتحال زیر غور آئی۔

    اس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان سے تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا پاکستان کی ہر ممکن مدد کےلئے تیار ہیں ، میں اور عمران خان اکنامک اسٹریٹجی فریم ورک کا تاریخی معاہدہ کرنےجارہےہیں۔

    ترک صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کیساتھ مختلف سطح پر تعلقات کو فروغ دے رہےہیں اور تجارت سمیت دیگر امور پر تعلقات کو آگے بڑھا رہےہیں ، مضبوط سیاسی اور تجارتی روابط کا دونوں ممالک کو فائدہ ہونا چاہیے، پاکستان اور ترکی کا تجارتی حجم تعاون اپنی صلاحیت سے کہیں کم ہے۔

    انھوں نے کہا تھا ہم جانتے ہیں پاکستان میں آگے بڑھنےکی صلاحیت موجود ہے، اعلیٰ سطح پر دوروں سے تعاون کے نئے امکانات سامنے آتے ہیں، ترک تاجروں کو سی پیک پر بریفنگ دینےکی ضرورت ہے ، ترک سرمایہ کاروں کی سی پیک سےآگاہی کیلئے ہم مدد کو تیار ہیں۔

    رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترکی صحت کےشعبے میں مغرب کے کئی ممالک سے بہت آگےہے، پاکستان کیساتھ دفاعی شعبے میں تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے اور ٹرانسپورٹیشن ،صحت ، توانائی، تعلیم پرتعاون کررہےہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ترک سرمایہ کار پاکستان کےبنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری پر دلچسپی رکھتے ہیں، ہیلتھ کیئر کیلئے دنیا ترکی کا رخ کرتی ہے، ترکی نے جدید اسپتال تعمیر کئے ہیں ، ہیلتھ کیئر کیلئے پاکستانی عوام ترکی آسکتے ہیں۔

  • پاکستان برادر ملک  ترکی کے ساتھ بھائی کی طرح کھڑا ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    پاکستان برادر ملک ترکی کے ساتھ بھائی کی طرح کھڑا ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    پاکستان برادر ملک ترکی کے ساتھ بھائی کی طرح کھڑا ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    باغی ٹی وی :پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان ترکی کے ساتھ بھائی کی طرح کھڑا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان خیالات کا اظہار ترک وزیر دفاع ہولوسی اقر سے ملاقات میں کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں دفاعی تعاون کو فروغ دینے پر بھی بات چیت کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ترک وزیر دفاع کے درمیان ملاقات میں باہمی دلچسپی اور علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں رہنماؤں نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے بھی غور کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان ترکی کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان ترکی کے ساتھ بھائی کی طرح کھڑا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ترک وزیر دفاع ہولوسی اقر نے علاقائی امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ترک وزیر دفاع نے پاکستان کے ترکی کے ساتھ کھڑا ہونے کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ترکی بھی پاکستان کے ساتھ اسی طرح کھڑا رہے گا۔

  • کشمیر ترکی کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کے لیے ہے،ترک صدرطیب اردوان کے بیان سے بھارت میں‌ زلزلہ

    کشمیر ترکی کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کے لیے ہے،ترک صدرطیب اردوان کے بیان سے بھارت میں‌ زلزلہ

    نئی دہلی :کشمیر ترکی کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کے لیے ہے،ترک صدرطیب اردوان کے بیان سے بھارت میں‌ زلزلہ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے دورے پرآئے ہوئے برادراسلامی ملک ترکی کے صدرطیب اردوان کے کشمیرپربیان سے بھارت میں اس وقت زلزلہ برپا ہے اورفوجی جرنیلوں سے لیکرمودی کے یاروں تک سب بے چین دکھائی رے ر ہے ہیں

    باغی ٹی وی کےمطابق بھارتی میڈیا اس وقت سکتے کے عالم میں ہے، بھارتی میڈیا نے ترک صدر طیب اردوان کے بیان کو بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی قراردیتے ہوئے کہا ہےکہ اس بیان کے بعد کشمیریوں‌کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں اوراب وہ بھارت کے کسی بھی چکمے میں نہیں آئیں گے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مودی نے آج شام دہلی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ اوراعلیٰ حکومتی عہدیداروں کا اجلاس طلب کرلیا ہے اورترک صدر کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پربحث کی جائے گی ،

    باغی ٹی وی کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں اس وقت ترک صدر طیب اردوان اورعمران خان کے حق میں نعرے گونج رہے ہیں اورکشمیری اپنے گھروں سے باہرنکل آئے ہیں‌ اورکشمیربنے گا پاکستان،کشمیریوں کی جان عمران خان اوراردوان کے نعروں سے کشمیرکی بلندوبالا پہاڑیاں گونج اٹھی ہیں

    ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ترکی کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کے لیے ہے۔

    رجب طیب اردگان نے اپنے دورے کے دوران پاکستانی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے کہا کہ ‘ مسئلہ کشمیر تنازعہ جبر سے نہیں بلکہ انصاف اور مساوات کی بنیاد پر حل کیا جاسکتا ہے۔’ان کا یہ بیان جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت دفعہ 370 کی منسوخی کے چھ ماہ سے زائد عرصے کے بعد سامنے آیا ہے۔

  • ترکی اور پاکستان کے مابین تجارتی حجم کہاں تک لے کر جائیں گے؟ ترک صدر کا بڑا اعلان

    ترکی اور پاکستان کے مابین تجارتی حجم کہاں تک لے کر جائیں گے؟ ترک صدر کا بڑا اعلان

    ترکی اور پاکستان کے مابین تجارتی حجم کہاں تک لے کر جائیں گے؟ ترک صدر کا بڑا اعلان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک ترک بزنس فورم کی تقریب ہوئی جس میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم عمران خان شریک ہوئے، تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، بعد ازاں قومی ترانہ پڑھا گیا.

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان آیا، گزشتہ روز صدر عارف علوی کے ساتھ ہمارا اجلاس اور ملاقات ہوئی، آج پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کیا اور آج ابھی بزنس فورم کی تقریب میں وزیراعظم کے ساتھ موجود ہیں، ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں،یہ اجلاس دونوں ممالک کے لئے بہترین ثابت ہوں گے.

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے مزید کہا کہ پاکستان میرا دوسرا گھر ہے،ترکی پاکستان میں انویسٹمنٹ کرے گا ، ترکی کی کمپنیاں پاکستان میں آئیں گی اور یہاں کام کریں گی، ہم انویسٹرز کو ترکی کی شہریت دینے کے لئے تیار ہیں، پاکستان اور ترکی کا باہمی تجارتی حجم اپنی صلاحیت سے کہیں کم ہے اسے بڑھانا ہو گا، پاکستانی ترکی پر اعتماد کریں اس سے انکا مستقبل بھی بہتر ہو گا،

    ترک صدر نے کیا کشمیر ، ایف اے ٹی ایف بارے اہم اعلان، کہا وفا کے پیکر پاکستانیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے

    اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

    اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی دکھانی ہوگی، وزیراعظم

    کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

    وزیراعظم اور ترک صدر کی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟ اہم خبر

    ترک صدر کے پہنچنے سے قبل پارلیمنٹ میں ایسا کیا کام کیا گیا کہ وزیراعظم بھی حیران رہ گئے

    ترک خاتون اول کا اسلام آباد میں تقریب سے خطاب ،کیا اہم اعلان

    ترک صدر رجب طیب اردوان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں مزید اضافہ ہو گا،ہمیں دو طرفہ تجارتی حکم ایک ارب ڈالر اور پھر 5 ارب ڈالر تک لے کر جانا ہے، ترکی کو بھی مشکل حالات کا سامنا تھا لیکن ہم نے محنت کی، عز م وہمت سےمشکلات پرقابو پایا، عمران خان کی زیرقیادت بزنس میں آسانی کیلئے اقدامات کیےگئے، تمام ترمشکلات کےباوجود ترقی کاسفر جاری ہے ترک حکومت کےاقدامات سےسیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا،ترک کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھاناچاہتی ہیں،

    ترک صدرطیب اردوان نے مزید کہا کہ دونوں ملک صحت، تعلیم، توانائی کے شعبے میں تعاون کر رہے ہیں،اعلیٰ سطح تذویراتی کونسل کا آج چھٹا اجلاس ہو گا،

    قبل ازیں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترک مہمانوں‌ کو انکے دوسرے گھر میں خؤش آمدید کہتے ہیں، پاکستانی وفد بھی جلد ترکی کا دورہ کرے گا، دونوں رہنماؤں‌ نے دو طرفہ تجارتی تعلقات کے مزید فروغ کے لئے اقدامات کئے ہیں، پاک ترک بزنس فورم کا اجلاس دو روز سے جاری تھا، دونوں ملکوں کے مابین تاریخی اور گہرے تعلقات ہیں، ہم تجارت کو مزید بڑھائیں گے، جس سے دونوں ملکوں کی معیشت مضبوط ہو گی.پاکستانی تاجر ترک صدر رجب طیب ایردوان کے آنے والے دورہ پاکستان سے فائدہ اٹھائیں۔

  • مولانا فضل الرحمان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کروائیں گے،وزیراعظم کا بڑا اعلان

    مولانا فضل الرحمان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کروائیں گے،وزیراعظم کا بڑا اعلان

    مولانا فضل الرحمان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کروائیں گے،وزیراعظم کا بڑا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں‌پرچی والا پارٹی سربراہ نہیں، کرپٹ لوگوں سے پیسے نکلوانا عدالت کا کام ہے، بطور وزیراعظم مجھے پیمرا سے انصاف نہیں ملا، آدھی قیمت پر گیس فراہم کی جا رہی ہے

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان پر آرٹیکل 6 لگنا چاہئے وہ کس کے اشارے پر حکومت گرانے آئے تھے،

    صحافیوں سے غیر رسمی ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے خود کہا کہ وہ کسی ایجنڈے کے تحت حکومت گرانے آئے تھے اور انہیں جمہوری حکومت گرانے کا کہا گیا تھا۔جمہوری حکومت کیخلاف سازش پر آرٹیکل 6لگنا چاہئے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ فضل الرحمان کو کس نے یقین دہانی کرائی۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے میں فضل الرحمان کے خلاف کارروائی کاآغاز کردیا جائے گا۔دنیامیں کوئی ایسی جماعت نہیں ہے جس میں گروپ بندی نہ ہو۔ انہوں نے کہا حکومت کہیں نہیں جارہی اس حوالے سے اپوزیشن کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی،اتحادیوں کے تحفظات دور کردیئے گئے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا فوج کو پتہ ہے میں محنت کررہا ہوں کرپشن نہیں اورفوج اس لئے میرے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ میں کرپشن نہیں کررہا۔حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔خفیہ اداروں کو شریف خاندان اور زرداری کی سازشوں کا پتہ ہے دونوں اسی لئے فوج کیخلاف سازش کررہے ہیں۔ فوج کا ڈر انہیں ہوتا ہے جو کرپشن کرتے ہیں۔ملٹری انٹیلی جنس کو سب معلوم ہوتا ہے کہ کون کیا کررہا ہے۔ دنیا میں کسی بھی وزیراعظم سے کم تنخواہ میری ہے.